سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 52 سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 52 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 52

سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ کا آغاز ہوا تو ہم نے سب سے پہلے جس شخصیت کا تذکرہ کیا ، وہ ہمارے بڑے بھائیوں جیسے عزیز ترین دوست خان آصف تھے، اس کی وجہ یہ بھی تھی کہ خان صاحب ہی ہمیں ڈائجسٹ انڈسٹری سے متعارف کرانے والے پہلے شخص تھے، ہماری عمر کا ایک بڑا حصہ خان صاحب کے ساتھ گزرا اور پھر ایک روز بالکل اچانک ہمیں اطلاع ملی کہ خان صاحب اب اس دنیا میں نہیں رہے، ہم لاہور میں تھے جب معراج رسول صاحب نے فون کرکے ہمیں ان کے انتقال کی خبر دی، کیسی عجیب بات ہے کہ ہم ان کے جنازے میں بھی شریک نہ ہوسکے، اس سے بھی زیادہ عجیب بات یہ بھی ہے کہ ہمارے پاس خان صاحب کی کوئی تصویر تک نہیں ، اس الف لیلہ میں جب ہم خان آصف کے حوالے سے لکھ رہے تھے تو اس کمی کا شدت سے احساس ہوا، ہم نے فوری طور پر اپنے اور خان صاحب کے دیگر احباب سے رابطہ کیا لیکن حیرت انگیز طور پر ہر طرف سے ایک ہی جواب ملا، کوئی تصویر نہیں ہے۔

خان صاحب بہت اچھے شاعر اور ایک باکمال ادیب تھے، وہ صاحب اُسلوب تھے، تحریر کے حوالے سے مولانا ابوالکلام آزاد ان کا آئیڈیل تھے، خان صاحب نے بہت لکھا، اخبارات، رسائل، کتابیں، ان کی تحریروں سے بھری پڑی ہیں لیکن حیرت انگیز طور پر انھوں نے کبھی اپنی تصویر شائع کی نہ کرائی، وہ خود ایک طویل عرصہ داستان ڈائجسٹ جیسے اعلیٰ درجے کے میگزین کے ایڈیٹروپبلشر رہے لیکن اپنے پرچے میں بھی کبھی اپنی کوئی تصویر شائع نہیں کی، ہمیں یاد ہے کہ ایک مرتبہ جب ان سے تقاضا کیا گیا کہ جناب اپنی کوئی تصویر اشاعت کے لیے دیں تو وہ خاصے پریشان ہوئے کیوں کہ ان کے پاس کوئی تصویر ہی نہیں تھی۔

یہ بہت پرانی بات ہے ، غالباً 1983 ءکا واقعہ ہے ، ہم نئے نئے جاسوسی ڈائجسٹ میں گئے تھے، اس وقت جاسوسی ڈائجسٹ کے مدیر احمد سعید المعروف

 

شافع صاحب تھے، ادارے کی سرپرستی میں ایک اور ویکلی میگزین بھی نکلتا تھا جس کا نام ”محور“ تھا، اس کی ایڈیٹر شاہدہ نفیس صدیقی تھیں جن کے شوہر نفیس صدیقی صاحب پاکستان پیپلز پارٹی کے ایک اہم رہنما تھے جو اس وقت جیل میں تھے، ایم آر ڈی کی ضیا مخالف تحریک چل رہی تھی، محترمہ بے نظیر بھٹو ابھی پاکستان نہیں آئیں تھیں، اسی تحریک میں شمولیت کی وجہ سے نفیس صدیقی گرفتار ہوئے تھے۔

 ہمیں نہیں معلوم معراج صاحب سے نفیس صدیقی یا شاہدہ نفیس صدیقی کے مراسم کب اور کیسے ہوئے اور معراج صاحب نے کیوں محور کی سرپرستی قبول کی کیوں کہ نظریاتی طور پر معراج صاحب پیپلز پارٹی کے نظریات سے کبھی متفق نہیں رہے، وہ ہمیشہ پیپلز پارٹی پر تنقید کرتے رہے، ہمارا اندازہ ہے کہ یہ تعلق اور سرپرستی یقیناً شافع صاحب کی وجہ سے ہوئی ہوگی کیوں کہ شافع صاحب ترقی پسندانہ رجحان رکھتے تھے اور پیپلز پارٹی کے زبردست فین تھے ، ان کے علاوہ اقلیم علیم صاحب بھی پیپلز پارٹی کے حامی تھے، دیگر رائٹرز میں احمد اقبال بھی پیپلز پارٹی کے حامیوں میں شامل رہے مگر بعد میں جب بے نظیر حکومت ختم ہوئی تو اقبال صاحب کے نظریات میں بھی ہم نے تبدیلی دیکھی، انھیں شاید ذوالفقار علی بھٹو کے مقابلے میں بے نظیر بھٹو اور ان کے شوہر جناب آصف علی زرداری کے نظریات سے اختلاف رہا ہوگا۔

محور کا سارا کام جاسوسی ڈائجسٹ کے آفس ہی میں ہوتا تھا اور شافع صاحب اس پرچے کے عملی مدیر کی حیثیت سے کام کیا کرتے تھے ، شاہدہ نفیس صدیقی بھی دفتر میں آتی تھیں لیکن کم کم ، ان کے علاوہ نادرہ گیلانی ، ناصر رضا، احمد صغیر صدیقی اور بہت سے لکھنے والے محور کے لیے اپنے قلم کے جوہر دکھاتے تھے، برادرم ضیا شہزاد بھی ان دنوں ادارے سے وابستہ تھے اور محور کے کام میں شافع صاحب کے معاون تھے، ان کے جانے کے بعد یہ ذمے داری ہمارے سر آگئی تھی۔

خان صاحب بھی نئے نئے جاسوسی ڈائجسٹ میں وارد ہوئے تھے اور جاسوسی ڈائجسٹ میں ائمہ ءکرام پر لکھ رہے تھے، شافع صاحب نے انھیں بھی محور میں کھینچ لیا اور ان سے کرکٹ کے حوالے سے لکھنے کی فرمائش کی، کرکٹ بھی خان صاحب کا پسندیدہ موضوع تھا اور وہ کرکٹ میچ کی خاطر تو اپنا دفتر بھی بند کردیا کرتے تھے یعنی پانچ روزہ ٹیسٹ دیکھنے کے لیے ، پانچ روز داستان ڈائجسٹ کا دفتر بند رہتا تھا۔

اس زمانے میں عمران خان پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان تھے، 1983 ءکا ورلڈ کپ پاکستانی ٹیم نے ان کی قیادت میں کھیلا اور اسی ورلڈ کپ میں پہلی بار عمران خان نے بالنگ کے بعد بیٹنگ میں بھی اپنی شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا، عمران خان ہمارے خان صاحب کے ہیرو تھے چناں چہ طے یہ ہوا کہ خان صاحب ہفت روزہ محور میں عمران خان پر لکھیں گے، اس سلسلے وار کرکٹ کتھا کا عنوان ”پرنس آف پیس“ {{”Prince of pace” رفتار کا شہزادہ تجویز ہوا اور شافع صاحب نے خان صاحب سے تصویر کی فرمائش بھی کردی جو حیرت انگیز طور پر خان صاحب کے پاس نہیں تھی، نئی تصویر کھنچوانے کے لیے خان صاحب خدا معلوم کیوں تیار نہیں تھے، چناں چہ اپنی ایک پرانی بلیک اینڈ وائٹ تصویر جو کالج میں گریجویشن کی ڈگری وصول کرتے ہوئے لی گئی تھی ، لاکر شافع صاحب کو پیش کردی جس پر شافع صاحب نے خاصہ منہ بنایا مگر خان صاحب بضد تھے کہ نئی تصویر کے بجائے نوجوانی کی یہی تصویر لگائی جائے، اس طرح شاید پہلی بار خان صاحب کی تصویر ہفت روزہ محور میں شائع ہونا شروع ہوئی، ہمارے پاس محور کے وہ شمارے موجود تھے جو گردش وقت کی نذر ہوگئے۔

خان صاحب کی تصویر کے لیے ہماری بے چینی اور بے قراری بڑھتی جارہی تھی کہ ایک روز جب ہم عزیزم ابراہیم جمالی کی لائبریری میں بیٹھے تھے تو ہماری نظر خان آصف کی بعض کتابوں پر پڑی، ہم چونکے کیوں کہ ہمیں معلوم ہی نہیں تھا کہ خان صاحب کی اتنی ساری کتابیں شائع ہوچکی ہیں، ان کی پہلی کتاب ”امام اعظم“خود انھوں نے شائع کی تھی اور ہمارے پاس موجود ہے، اس کے بعد جاسوسی ڈائجسٹ میں شائع ہونے والے ائمہ کے سوانح خود ہماری کوششوں سے شائع ہوئے اور اس کا دیباچہ بھی ہم نے لکھا، افسوس کہ اس کتاب کے مارکیٹ میں آنے سے پہلے ہی خان صاحب اس دنیا سے رخصت ہوگئے تھے، اب جو اتنی ساری کتابیں ہم نے جمالی صاحب کی لائبریری میں دیکھیں تو ان سے پوچھا کہ بھائی یہ کس نے شائع کی ہیں؟ انھوں نے بتایا کہ مکتبہ القریش کے محمدعلی صاحب نے۔

ہم نے تمام کتابوں کو ایک ایک کرکے دیکھا تو ایک کتاب ”دلوں کے مسیحا“ میں خان صاحب کا کچھ کلام اور ان کی سب سے بڑی صاحب زادی کا لکھا ہوا پیش لفظ بھی شامل تھا، ہمارے لیے یہ بات مزید حیرانی کا باعث تھی، پیش لفظ پڑھتے ہوئے ہماری آنکھوں میں نمی آگئی تھی اور ایک عجیب سی خوشی کا احساس بھی ہورہا تھا ،نمی کا سبب خان کی یاد تھی اور خوشی کا احساس اس بچی کی تحریر کو پڑھتے ہوئے ہورہا تھا جسے ہم نے بہت چھوٹا سا دیکھا تھا ، خان صاحب نے اس کا نام اسما رکھا تھا۔

پہلی بار ہم نے اسما کو خان آصف کے چھوٹے بھائی اطہر شاہ خان کی شادی کے موقع پر دیکھا تھا، اُس وقت خان صاحب عزیز آباد سے نارتھ ناظم آباد شفٹ ہوچکے تھے، اسما کے علاوہ خان صاحب کے دو بیٹے بھی تھے، حیرت انگیز طور پر خان صاحب نے اپنے بھائی کے ولیمے میں ڈائجسٹ انڈسٹری سے متعلق کسی بھی اپنے واقف کو مدعو نہیں کیا تھا اور یہ بات ہمارے لیے حیرت کا باعث تھی، ہمارے علاوہ کوئی بھی ایسا نہیں تھا جس کا ڈائجسٹ یا اخبار وغیرہ سے کوئی تعلق ہو، مہمانوں کی اکثریت رام پور کے احباب و رشتے داروں پر مشتمل تھی، ولیمے کے لیے خصوصی طور پر ایک عمدہ قسم کی بچھیا گھر پر ہی ذبح کی گئی اور بچھیا کا قورمہ ولیمے کی خصوصی ڈش کے طور پر پیش کیا گیا اور اس سلسلے میں خان صاحب نے ہم سے کہا کہ کوئی بہت ہی عمدہ قسم کا ماہر باورچی مہیا کریں ، ہماری رہائش ناظم آباد میں تھی اور ناظم آباد بس اسٹاپ نمبر 2 گویا اعلیٰ درجے کے باورچیوں کا گڑھ تھا، چناں چہ ہم نے ایک بہت ہی ماہر باورچی کا انتظام کردیا تھا۔

ہم نے خان صاحب سے پوچھا کہ قورمہ بکرے یا چکن کا کیوں نہیں، رواج تو یہی ہے، خان صاحب نے ہمیں بتایا کہ ہم رام پور کے پٹھان ہیں اور رام پور میں قورمہ بچھیا کا ہی پسند کیا جاتا ہے، ساجد امجد بھی پکے رام پوری ہیں، ان کی پہلی بیٹی کی شادی میں ہم شریک تھے ، قورمہ چکن کا تھا تو ہم نے ساجد سے کہا ”یار! یہ کیا غیر رام پوری حرکت کی ہے، قورمہ بچھیا کا کیوں نہیں بنوایا “

ساجد مسکرائے اور یہی جواب دیا کہ اب روایات بدل رہی ہیں، ہم اب کراچی میں ہیں ، رام پور میں نہیں۔

خان صاحب کی کتابیں جو مکتبہ القریش سے شائع ہوئیں اور ان میں ان کی صاحب زادی اسما کا پیش لفظ بھی شائع ہوا تو ہم نے خیال کیا کہ یقیناً مکتبہ القریش کے محمد علی کا رابطہ یقیناً خان صاحب کی فیملی سے ہوگا اور یقیناً انھوں نے یہ کتابیں ان کی اجازت سے شائع کی ہوں گی، محمد علی سے ہمارے ہمیشہ بہت اچھے تعلقات رہے،جب ہم ادارے میں تھے تو یہ ممکن ہی نہیں تھا کہ محمد علی کراچی آئیں اور ہم سے ملاقات نہ ہو، انھوں نے ڈائجسٹوں کے بہت سے سلسلہ وار ناول شائع کیے،اس حوالے سے بھی ہم ان سے تعاون کرتے رہے، ہم لاہور جاتے تو محمد علی سے ضرور ملاقات ہوتی لہٰذا ہم مطمئن ہوگئے کہ اب خان صاحب کی تصویر ضرور حاصل ہوسکے گی، دراصل ان کے انتقال کے بعد ہمارا کوئی رابطہ ان کی فیملی سے نہیں رہا، پہلے بھی نہیں تھا، کبھی ان کے گھر جانا ہوتا تو ہم خان صاحب کے ساتھ ڈرائنگ روم تک محدود رہتے یا وہ ہمیں ساتھ لے کر کسی قریبی ہوٹل کا رخ کرتے۔

چند سال پہلے روزنامہ جنگ کی میگزین ایڈیٹر نے بھی ہم سے رابطہ کرکے پوچھا تھا کہ خان صاحب کی فیملی کہاں ہے لیکن ہمیں نہیں معلوم تھا ، ہم نے اپنے طور معلوم کرنے کی کوشش کی تو معلوم ہوا کہ ان کے چھوٹے بھائی کا بھی انتقال ہوچکا اور رہائش بھی اب نارتھ ناظم آباد میں نہیں، ہمارے علم میں یہ بھی آیا تھا کہ خان صاحب کے انتقال کے بعد ان کے ایک صاحب زادے کو اے آر وائی میں جاب دے دی گئی تھی، چناں چہ وہاں سے بھی معلومات حاصل کرنے کی کوشش کی مگر ناکامی ہوئی، وہ اب اے آر وائی میں نہیں تھے۔

ہم نے ابراہیم جمالی سے محمد علی کا فون نمبر لیا اور بڑے اعتماد سے ایک بار انھیں فون کیا، رمضان کا مہینہ تھا اور افطار سے کچھ پہلے کا وقت تھا ، محمد علی نے کال اٹینڈ کی اور جب ہم نے تعارف کرایا تو وہ فوراً پہچان گئے اور بڑی گرم جوشی کا مظاہرہ کیا، ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ نے خان صاحب کی کتابیں شائع کی ہیں اور ہمارا اندازہ ہے کہ آپ کا ان کی فیملی سے رابطہ رہا ہے، مجھے ان کا فون نمبر چاہیے۔

محمد علی نے بتایا کہ وہ کسی افطار پارٹی میں آئے ہوئے ہیں اور افطار کا وقت قریب ہے ،میں بعد میں آپ کو فون کرتا ہوں، ان کی بات معقول تھی، ہم نے فون بندکردیا مگر اس کے بعد ان کا فون نہیں آیا، ہم نے سوچا ممکن ہے بھول گئے ہوں یا کوئی مصروفیت رہی ہو چناں چہ دوسرے روز پھر فون کیا مگر انھوں نے کال اٹینڈ نہیں کی، کئی روز تک ہم انھیں مسلسل کال کرتے رہے مگر رابطہ نہ ہوسکا، اب ہمیں حیرت ہونے لگی کہ آخر ایسی کیا وجہ ہے کہ یہ بندہ کال ہی اٹینڈ نہیں کر رہا جب کہ وعدے کے مطابق اخلاقاً اسے خود ہمیں فون کرنا چاہیے تھا، ماضی میں محمد علی سے بہت اچھے اور خوش گوار مراسم رہے، البتہ جب ہم نے ادارہ جے ڈی پی چھوڑا تو اس کے بعد پھر کبھی رابطہ ہوا تو اسی طرح کہ ہم لاہور گئے تو محمد علی نے ایک کھانا ہمارے ساتھ ضرور رکھا۔

انسانی دماغ کبھی کبھی منفی سمت بھی چل پڑتا ہے، ہمیں خیال ہوا کہ شاید وہ ہمیں خان صاحب کی فیملی کا نمبر یا پتا نہیں دینا چاہتے، اسی لیے کال ریسیو کرنے سے گریز کر رہے ہیں، پھر یہ سوچا کہ لاہور جائیں گے تو اردو بازار جاکر ملاقات کرلیں گے مگر سوئے اتفاق اس کا موقع نہ ملا، ایک روز ہم نے عمران احمد قریشی سے شکایت کی کہ محمد علی سے رابطہ مشکل ہورہا ہے حالاں کہ وہ بہت معقول اور معاملت کا کھرا بندہ ہے، عمران نے بھی ہماری بات کی تائید کی اور وعدہ کیا کہ اس حوالے سے محمد علی سے بات کریں گے، بعد میں انھوں نے بتایا کہ ان کی بات ہوئی تھی اور وہ آپ کو فون کریں گے لیکن محمد علی کا فون نہ آیا، اب ہماری حیرت مزید بڑھ گئی اور کچھ نئے شکوک و شبہات جنم لینے لگے جن میں سرفہرست یہی تھا کہ شاید ان کے اور خان صاحب کی فیملی کے درمیان مراسم کسی وجہ سے بہتر نہیں رہے، شاید اس لیے وہ ہمیں ان کا نمبر دینے سے ہچکچا رہے ہوں، بہر حال یہ معما ہنوز پراسرار ہے، اس حوالے سے بھائی امجد جاوید سے بھی ذکر ہوا تھا کیوں کہ وہ بھی محمد علی سے رابطہ میں رہتے ہیں لیکن شاید انھوں نے بھی کوئی پیش رفت نہیں کی، پھر دوبارہ لاہور جانا ہو تو ملاقات کا موقع مل سکے۔

خان آصف کی تصویر کے حصول کی تمام امیدیں دم توڑ چکی تھیں، اچانک گزشتہ دنوں کراچی کے مشہو ر شاعر جناب عارف شفیق کی ایک پوسٹ نظر سے گزری، جس میں خان آصف ، عارف شفیق اور برادرم خواجہ رضی حیدر استادہ نظر آئے، ہم گویا خوشی سے اچھل پڑے اور فوراً تصویر پر قبضہ کرلیا، یہ تصویر یقیناً 80 ءکے اواخر یا 90 ءکی دہائی کی ہے، درست بات تو خود عارف شفیق ہی بتاسکیں گے، بہر حال اس بار یہ تصویر بھی اس قسط کے ساتھ شیئر کی جارہی ہے لیکن خان صاحب کی فیملی کے بارے میں تاحال ہمیں کچھ نہیں معلوم ہے کہ وہ کہاں ہیں اور کس حال میں ہیں۔

خواجہ رضی حیدر بھی ہمارے بڑے بھائیوں جیسے ہیں، یہ الگ بات کہ اب ان سے ملاقات نہیں ہوتی، خواجہ صاحب سے ملاقاتیں ناظم آباد سے شروع ہوئیں، ایک زمانے میں وہ بھی ناظم آباد ہی میں رہتے تھے، پان کھانے کا شوق ان کا اور ہمارا مشترک تھا اور وہ پان لینے کے لیے خاص طور پر ناظم آباد 2 نمبر اسٹاپ پر آیا کرتے تھے، اس زمانے میں ان کے پاس ہنڈا 125 ہوا کرتی تھی، ہمارے بزرگ دوست اور استاد نیاز الدین احمد خان سے ان کے مراسم تھے، نیاز صاحب ہی نے خواجہ صاحب سے تعارف کرایا، وہ ان دنوں روزنامہ حریت سے وابستہ تھے ، اس کے علاوہ تحریک پاکستان اور بانی پاکستان کے حوالے سے ان کے تحقیقی مضامین بھی ان کی شہرت کا باعث تھے لیکن حیرت انگیز طور پر ہمیں یہ نہیں معلوم تھا کہ وہ ایک اعلیٰ درجے کے منفرد شاعر بھی ہیں ،یہ انکشاف بھی ایک عجیب ناگوار طریقے سے ہوا۔

ایک روز ہم خان آصف صاحب کے دفتر میں نیاز صاحب کے ہمراہ بیٹھے تھے اور مختلف موضوعات پر گفتگو جاری تھی کہ اچانک احمد جاوید نمودار ہوئے، ان کے ہمراہ خواجہ رضی حیدر تھے، احمد جاوید کی اچانک آمد چونکا دینے والی تھی کیوں کہ ان دنوں وہ کراچی چھوڑ چکے تھے اور کے پی کے میں کوئی جاب کر رہے تھے، ان کی دوسری شادی بھی ہوچکی تھی، سال میں ایک مرتبہ کراچی آتے تھے تو معمول کے مطابق کراچی کے تمام قریبی دوستوں سے بھی ملاقات کرتے، ہمارے ساتھ خان صاحب اور نیاز صاحب بھی خوشی سے اچھل پڑے تھے، اس طرح محفل مزید گرم ہوئی اور حسب معمول جاوید سے تازہ کلام کا تقاضا بھی ہوا، سب جانتے تھے کہ وہ بہت اچھے شاعر ہیں لیکن جاوید نے خود کچھ سنانے کے بجائے خواجہ صاحب سے فرمائش کی کہ آپ کچھ سنائیں، ہم جاوید کو سننے کے لیے بے قرار تھے، ہم سے یہ غلطی ہوئی کہ ہم نے درمیان میں لقمہ دے دیا ”بھائی آپ سنائیں، ہم ایک سال سے آپ کو سننے کے لیے بے چین ہیں“

خواجہ صاحب نے ہماری بات کو محسوس کیا اور کچھ سنانے سے انکار کرتے ہوئے ،جاوید سے فرمائش کی کہ آپ ہی سنائیں،جاوید اور نیاز صاحب دونوں نے ہی ہماری حماقت سے پیدا ہونے والی صورت حال کو محسوس کرتے ہوئے صورت حال کو سنبھالنے کی کوشش کی اور ہمیں کچھ تنبیہی نظروں سے دیکھتے ہوئے خواجہ صاحب کی تعریف کی اور کہا کہ میں خاص طور سے خواجہ صاحب کو سننے کے لیے کراچی آیا ہوں، اس صورت حال میں ہم تھوڑے سے خجل ہوئے،بہر حال خواجہ صاحب نے ایک غزل سنائی اور پھر ہم کو احساس ہوا کہ خواجہ صاحب واقعی ایک غیر معمولی شاعر ہیں، اس غزل کا ایک شعر آج تک ہمیں یاد ہے

گزشتہ عمر سے منسوب اک شناسائی

پس ہجوم کھڑی فرصتوں کو روتی ہے

ان دنوں ہمارے دوست راشد نور روزنامہ نوائے وقت میں ہفتہ وار کراچی کی ادبی ڈائری لکھا کرتے تھے اور اس میں اس ہفتے کا سب سے اچھا شعر بھی دیا کرتے تھے، ہم نے انھیں یہ شعر سنایا ، انھوں نے فوراً اس ہفتے کی ادبی ڈائری میں اسے شامل کرلیا، بہر حال بعد ازاں جب بھی خواجہ صاحب سے ملاقات ہوتی تو اب ہم ان سے خصوصی طور پر تازہ کلام سننے کی فرمائش کرتے، درحقیقت اس کے بعد ہی خواجہ صاحب سے ہمارے تعلقات میں بے تکلفی آئی، ان دنوں وہ قائداعظم اکیڈمی میں جاب کر رہے تھے جہاں ڈپٹی ڈائریکٹر کے عہدے تک ترقی کی مگر بعض وجوہات کی بنا پر ڈائریکٹر بننے سے پہلے ہی ریٹائر کردیا گیا، گزشتہ دور حکومت میں جو چند اچھے کام ہوئے ان میں ایک نمایاں کام یہ بھی ہے کہ خواجہ صاحب کو دوبارہ ان کی جاب پر بحال کیا گیا اور ڈائریکٹر قائداعظم اکیڈمی کا عہدہ بھی دیا گیا جس کے وہ حقیقی معنوں میں سب سے زیادہ مستحق تھے ۔

ماہنامہ سرگزشت میں مشہور شخصیات کے بائیوگرافیکل انٹرویوز کا سلسلہ شروع ہوا تو اس کی ابتدا ڈاکٹر مبشر حسن صاحب سے ہوئی، یہ انٹرویو علی سفیان آفاقی نے کیا تھا، اسی سلسلے کو مزید بڑھانے کے لیے ہم نے انور سن رائے سے بھی تعاون کی درخواست کی تھی اور انور نے سب سے پہلے خواجہ خیر الدین کا انٹرویو کیا تھا جو سرگزشت میں شائع ہوا، خصوصی ہدف انور کو جناب ہاشم رضا مرحوم کا دیا گیا تھا، انور نے اس سلسلے میں کچھ ریکارڈنگز بھی کی تھیں لیکن پھر وہ اپنی مصروفیت کی وجہ سے وقت نہ نکال سکے تو ہم نے اس حوالے سے خواجہ رضی حیدر صاحب سے درخواست کی کہ حضرت یہ بھاری پتھر اب آپ کو اٹھانا ہے، خواجہ صاحب راضی بھی ہوگئے اور ہم سمجھتے تھے کہ وہ اس کام کے لیے انور سے بھی زیادہ موزوں تھے لیکن افسوس کہ یہ کام پایہ ءتکمیل کو نہ پہنچ سکا اور بالآخر ہاشم رضا جیسے نابغہ ءروزگار اس جہان فانی سے کوچ کرگئے، ان کے سینے میں دفن سیکڑوں راز ، راز ہی رہ گئے، کہا جاتا ہے کہ جب پیر صاحب پگارا کے والد حضرت پیر صبغت اللہ راشدی شہید کو انگریزوں نے پھانسی دی تو ہاشم رضا صاحب وہاں ڈپٹی کمشنر تھے اور انھیں معلوم تھا کہ پیر صاحب شہید کو کہاں دفن کیا گیا ہے، پاکستان بننے کے بعد بھی ہاشم رضا صاحب نہایت اہم عہدوں پر فائز رہے، وہ تحریک پاکستان اور پاکستان کی ابتدائی تاریخ کے عینی مشاہدین میں شامل افراد میں سے ایک تھے۔

ایک اعتراض

موجودہ آپ بیتی اور جگ بیتی پر ہمارے ایک بہت قریبی دوست امتیاز احمد اور امتیاز متین یعنی دونوں امتیاز تھوڑے سے جز بز ہوئے، چناں چہ ان کی خدمت میں ہماری گزارش یہ ہے کہ ہم اس الف لیلہ کو کسی مسلسل کہانی کے طور پر بیان نہیں کر رہے، بس جو واقعہ یاد آجاتا ہے، لکھ ڈالتے ہیں، مزید یہ کہ اکثر واقعات میں جزئیات نگاری سے قصداً گریز ضروری ہے، کوشش یہ ہوتی ہے کہ صرف وہی باتیں اور واقعات زیر بحث آئیں جو ضروری آگہی کے لیے مناسب ہیں، زیادہ جزئیات نگاری یا ایک مربوط کہانی کا انداز کسی تنازع کو جنم دے سکتا ہے، یہ سب انسانوں کی باتیں اور انسانوں کے قصے ہیں اور انسان بہر حال معصوم عن الخطا نہیں ہوتے، خوبیوں کے ساتھ خامیاں بھی جڑی ہوئی ہیں، ہم صرف ایسی خامیوں پر ضرور بات کرتے ہیں جن کی وجہ سے متعلقہ شخص کو خود نقصانات اٹھانا پڑے اور جو ہمارے خیال میں کسی کی زندگی پر بری طرح اثر انداز ہوئیں ،مزید یہ کہ یہ سلسلہ جب کتابی شکل میں آئے گا تو ایک بار ہمارا ارادہ ہے کہ اسے ری رائٹ کے مرحلے سے بھی گزارا جائے گا ، بہت سی باتیں اور واقعات جو پہلے لکھتے ہوئے ذہن میں نہیں آئے، اس میں شامل ہوں گے، فی الحال تو اسے پابندی سے لکھنا ہی مشکل ہوتا جارہا ہے کیوں کہ ہماری مصروفیات میں اچانک ہی اضافہ ہوگیا ہے، صحت کے تقاضے اپنی جگہ ہیں ، اکثر لوگوں کو اب یہ بھی شکایت ہوگئی ہے کہ نئی قسط خاصی تاخیر کے بعد آتی ہے، اپنے قارئین اور احباب سے درخواست ہے کہ اس ناگوار صورت حال پر درگزر سے کام لیں۔

ہمارے عزیز دوست امتیاز احمد اگرچہ کوئی ادبی شخصیت نہیں ہیں لیکن ادب ، ڈرامہ، فلم اور موسیقی کا اعلیٰ مذاق رکھتے ہیں اور یہی وجہ تھی کہ ہماری ان سے دوستی ہوئی اور پھر ان کے ساتھ گزرا وقت بھی بڑا یادگار رہا، یہاں اس یادگار وقت کا تذکرہ نہیں ہوسکتا، یہ کام بھی اسی صورت میں ہوگا جب یہ سرگزشت کتابی شکل میں شائع ہوگی۔

ہ

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ست رنگی دنیا..  میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد … قسط نمبر 20         

                ست رنگی دنیا                 ٭                 میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد                 ”آندھیاں غم کی …

ایک تبصرہ

  1. Avatar
    ملکہ افروز روہیلہ

    بہت دلچسپ اور عمدہ قسط تھی خان آصف صاحب کا ذکر خیر وہ ہمارے پسندیدہ ادیب تھے اخبار جہاں میں پڑھا ڈائجسٹوں میں پڑھا ملاقات کا شرف صرف ایک با قائد اعظم رائٹرز گلڈ کے ایک پروگرام میں ہوا جب روہیلہ کے حوالے سے انہوں نے بہت گرمجوشی سے ہمیں ویلکم کہا اور بتایا کہ ان کا تعلق بھی روہیلکھنڈ سے ہے اللّٰہ ان کی مغفرت فرمائے بہت نفیس خوبصورت انسان تھے آپ نے اپنی اس قسط میں ان کے بارے میں خوب لکھا ہے ان کی فیملی کے بارے میں بھی آگے معلومات کر کے لکھیے گا

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے