سر ورق / یاداشتیں / اردو کہانی کا سفر… قسط نمبر 8 …اعجاز احمد نواب 

اردو کہانی کا سفر… قسط نمبر 8 …اعجاز احمد نواب 

اردو کہانی کا سفر

        قسط نمبر 8

   اعجاز احمد نواب

                              ایم سی پرائمری سکول مکھا سنگھ اسٹیٹ راول پنڈی میں شاید پانچویں جماعت میں پڑھتا تھا، کہ جنوری کی ایک  ُُکرسٹل کلئیر، دن آدھی چھٹی کے بعد جب تختی لکھنے کا عمل ختم ہوا تو، ماسٹر جی اپنی ساری جماعت دھوپ میں لے آئے اور اپنی کرسی کا مہنہ بچوں کی طرف اور تمام بچوں کے مہنہ سورج کی طرف کر کے بیٹھ گئے، اور باری باری سب طلباء سے پوچھنے لگے کہ بڑے ہو کر کیا بنو گے،  اب ہر بچے کا ماسٹر صاحب نے خود ہی ایک نام رکھا ہوا تھا، وہ بچوں کو اصل نام کے بجائے اسی نام سے پکارتے تھے ، جس کا پہلے سے نام نہ رکھا ہو اس کا اسی وقت اس بچے کی شکل اور حلیہ دیکھ کر  فی البدیہہ رکھ لیتے تھے،  ایک ہمارا کلاس فیلو تھا اس نے لنڈے کا بڑا سا پھٹا پرانا اوور کوٹ پہن رکھا تھا، اس سے مخاطب کر کے بولے او گڈریے کھڑا ہو جا وہ بیچارا مسکین شکل رونی صورت بنا کر کھڑا ہو گیا، بتا کہ بڑا ہو کر کیا بنے گا؟ ماسٹر جی.. میں پائلٹ بنڑساں..

اڈانڑیں کبوتر  تے گلاں جہاز اڈان آلیاں بے جا بھوتنی دیا..

اس کے بعد کمزور منحنی سا لڑکا شیدا جس نے عینک پہنی ہوئی تھی، ماسٹر جی اس کو مخاطب ہوئے اوئے او.. چپاکو.. توں دس اوئے  وڈا ہو کے کہیہ بنڑ سیں،

استاد جی میرا ابا کہندا میرا پتر وڈا ہو کے تھانیدار بنڑ سی..  ساری کلاس دے بستے پھرول کے گاچی چوری کر کے کھا جانا ایں.. تے بنڑ سی تھانیدار… چل پیشاں ہو کے بے جا

   جیدا ماسٹر جی کی کرسی کے ساتھ ہی بیٹھا آستین کے ساتھ بار باراپنی بہتی ناک شوں شوں کر کے پونچھ رہا تھا، ماسٹر جی نے ایک چپت اس کی گدی پر رسید کی.. اؤئے شُڑُلّ کھلو جا.. دس پڑھ لکھ کے کہیہ بنڑ سیں.. پھر اس کو قدرے غور سے دیکھتے ہوئے اوئے توں بشیرے تندور آلے دا

 نِکا ایں نا.. جی استاد جی جیدا گردن زور سے ہلاتے ہوئے بولا .. تیرے کولوں پچھنڑ دا کوئی فیدہ نئیں  توں ساری زندگی پیڑے ای بنڑاسیں تے روٹیاں ای چھنڈ سیں

        اوئے جازے.. توں بڑا پِچھے ہو کے چھپ کے بیٹھا ایں.. کھلو جا ذرا.. دس وڈا ہو کے.. کےکرسیں.  میں بھی کانپتی ٹانگوں اور لرزیدہ بدن کے ساتھ کھڑا ہو گیا اور حواس مجتمع کر کے جواب دیا کہ… ماسٹر جی میں پبلشر بنڑ ناں ساں .. میرا جواب سن کر ماسٹر جی یکلخت خاموش ہوگئے  اور کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں تزبزب سے سوال کیا، اے کیہ ہوندا اے….. سر جی میں وڈا ہو کے کتاباں چھاپ ساں

میرا غیر متوقع جواب پا کر ماسٹر صاحب پہلے حیران ہوئے اور پھر روایتی سٹائل میں کہنے لگے، لکھائی تک  آپنڑی…… جیویں .. . گاں موتری.. ہوندی اے.. تے کتاباں لکھ سے ……..                                          لیکن اس واقعہ کے ٹھیک دس سال بعد میں دو  چھوٹی     چھوٹی کتابیں شائع کر کے پبلشر کے عہدے پر فائز ہو گیا،

…. یہ 1984 کی بات تھی، جب ہوا کے دوش پر لہراتا ایک  فلمی گانا بھارت سے ہوتا ہوا  پاکستان کی فضاؤں میں داخل ہوا اور پھر ہر سمت اسی کا راج ہو گیا، آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے

 تو بات بن جائے…. ہاں بات بن جائے،

نازیہ حسن کے اس گیت نے مقبولیت کے کافی ریکارڈ تہس نہس کیے، یہ نازیہ حسن زوہیب حسن کے کیسٹ البم ڈسکو دیوانے کا گانا تھا، اس کے بعد ان دونوں بہن بھائی کا دوسرا البم بوم بوم اور پھر تیسرا کیسٹ  ینگ ترنگ ہر طرف دھوم مچاتا چلا گیا،  پھر ایک اردو فلم ایورنیو پکچرز نے سنگدل کے نام سے بنائی جس میں نازیہ حسن کے دو عدد گانے شامل کئے گئے، اسی اثناء میں سلمی’  آغا کی بھارتی فلم نکاح کے گیت اور پھر پاکستانی فلم بوبی کے گیتوں کی ہر طرف گونج اٹھی،  میں نے ان گیتوں پر مشتمل تمام کیسٹیں بازار سے خریدیں اور ٹیپ ریکارڈر پر لگا کر اور سن کر ان کے گانے قلم لے کر ایک رف کاپی پر لکھنے شروع کردیئے، یہ کوئی آسان کام نہیں تھا، ایک ایک بول اور شعر کو درجنوں بار ریورس اور فاروڈ کرنا پڑتا تب کہیں جا کر گانا سمجھ میں آ تا.. پھر یہ تمام گانے جمع کرکے ایک کاتب کو دئیے جس نے بٹر پیپر( آج کل اس کا متبادل ٹریسنگ پیپر ہے جس پر کمپیوٹر سے شفاف ٹرانسپیرنٹ پرنٹ نکلتا ہے) پر لکڑی کے قلم سے پکی روشنائی کے ساتھ لکھے پھر اس کے ایک ایک لفظ کو پڑھ کر پروف ریڈنگ میں نے خود کی،

اس کتاب کا نام.. نازیہ، زوہیب اور سلمی’ آغا کے گانے رکھا ،

اس کے ساتھ دوسری کتاب شہنائی کا مسودہ بھی تیار کیا  جو کہ شادی بیاہ کے گیتوں پر مشتمل تھی، لیکن 1985 مارچ میں ضیاء دور میں غیر جماعتی الیکشن ہوئے جس کے نتیجے میں محمد خان جونیجو وزیراعظم بنے تھے، اسی الیکشن میں پہلی مرتبہ راولپنڈی سے شیخ رشید احمد اور چوہدری نثار علی خان بھی پہلی پہلی مرتبہ رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے.. اس الیکشن کا یہاں ذکر اس لئے کیا کہ انتخابات والی رات پاکستان ٹیلی ویژن نے الیکشن نشریات کے دوران  مسرت نزیر کے شادی بیاہ کے گیتوں پر مشتمل پروگرام نشر کیا، چٹا ککڑ بنیرے تے،.. مہندی نی مہندی اج رل کے لاون آئیاں نی، متھے تے چمکن وال میرے بنڑےدے اور میرا لونگ گواچا. اور دیگر گیتوں پر مشتمل یہ پروگرام بے انتہا مقبول ہوا، مجھے یقین تھا کہ یہ پروگرام پھر نشر ہو گا  میرا اندازہ درست نکلا اگلی ہی شام یہ پروگرام پھر نشر ہوا میں نے ٹی وی کے پاس ایک ٹیپ ریکارڈر پہلے سے ہی تیار رکھا ہوا تھا  لہذا یہ پروگرام بھی ریکارڈ کرکے اور پھر اس کو سن سن کر لکھا اور یہ تمام گیت بھی تیار کرکے شادی بیاہ کے گیتوں کی کتاب شہنائی میں شامل کر دیئے، اپنے ایک دوست اور استاد جناب امتیاز علی پروپرائیٹر مکتبہ امتیاز لاہور کی مدد سے لاہور سے ہی یہ دونوں کتب ہزار ہزار کی تعداد میں چھپوائیں.

       یہ بڑا مشکل اور پیچیدہ سا عمل ہے، اگر کسی کو یقین نہ آئے تو  اپنی پسند کے کوئی سے صرف دس گانے سن کر لکھیں تو بخوبی اندازہ ہو جائے گا، کہ پوری کتاب کے لئے کیا پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں،

   ان مذکورہ گیتوں پر مبنی یہ اولین کتابیں تھیں، اس لئے بک سٹالوں پر ہاتھوں ہاتھ فروخت ہو گئیں، لہذا فوری طور دوسرا اور پھر تیسرا ایڈیشن چھاپنا پڑا

         یہاں یہ بات  نوجواں نسل کے لئے دلچسپی سے خالی نہیں کہ  صرف بیس  سال پہلے تک  نہ فیس بک نہ یو ٹیوب نہ وٹس ایپ نہ موبائل(تقریباً) تھا  لہذا بے شمار  ایسے موضوعات پر کتابیں جو اس وقت دھڑا دھڑ فروخت ہوتی تھیں اب ان کی فروخت کی شرح صفر فی صد رہ گئی ہے، جن میں فلمی گانوں کی کتابیں سر فہرست ہیں

   تو بات میں کر رہا تھا پہلی دو کتابوں کی اشاعت کی جن کی کامیابی کے بعد میرا حوصلہ بڑھ گیا،  اور میں نے فلمی گانوں پر مشتمل مزید کتابیں شائع کرنے کا پروگرام بنا لیا، اور کام شروع کردیا ان دنوں برصغیر میں چار گلوکاروں کا طوطی بولتا تھا اِدھر مہدی حسن اور ملکہ ترنم کا اور اُدھر لتا اور محمد رفیع (مرحوم) کا  میں نے ان چاروں کے فلمی گیتوں پر مشتمل ضخیم یعنی موٹی تازی کتابیں چھاپنے کا پروگرام بنا لیا

پھر میں نے سوچا کہ ان عظیم الشان گلوکاروں کے شایان شان کتابوں کے سرورق بھی اچھوتے سب سے ہٹ کر غیر معمولی اور خوبصورت ہونے چاہئیں.. ان زمانے میں

ڈائجسٹوں کا ہر طرف راج تھا اور ڈائجسٹوں کے چہروں پر جناب ذاکر حسن کا راج تھا،، میں نے فیصلہ کر لیا کہ رفیع لتا نورجہاں اور مہدی حسن کی سرورق تصاویر ذاکر صاحب سے ہی بنوانی ہیں،  لیکن مشکل یہ تھی کہ مجھے پتہ ہی نہیں تھا، کہ، ذاکر صاحب ہوتے کہاں ہیں پھر ایک دن لاہور کے مشہور اشاعتی ادارہ رابعہ بک ھاؤس کے مالک محترم سعید اے شیخ صاحب  تشریف لائے، اور اپنی چھپی ہوئی کتابوں کے ٹائٹلز پر مبنی فوٹو البم برائے حصول آرڈرز سامنے رکھ دی اور.. ہم (میں اور میرے بھائی)  مختلف کتابوں کے سرورق طائرانہ نگاہوں سے دیکھتے جاتے اور فوٹو البم کے اوراق پلٹتے جاتے.. جہاں کوئی ٹائٹل پسند آتا، اسے رک کا قدرے غور سے دیکھا جاتا، اور سعید شیخ صاحب فوراً ہی اس کتاب کا موضوع مصنف /مؤلف/مرتب کا نام اور قیمت وغیرہ بتادیتے، جس کتاب پر دل و دماغ دونوں کو گواہی اور کم از کم دو بھائیوں کی رائے متفق ہو جاتی،اس کا آرڈر لکھوا دیا جاتا،قریب قریب یہی طریقہ کار ان وقتوں اور جزوی طور پر اب بھی کتاب کے سلسلے میں پبلشر اور ہول سیل ڈیلر کے درمیان ہوتا ہے،  محترم بزرگوار حاجی سعید اےشیخ  بہت ہی سینئر پبلشر اور بک سیلر ہیں ان وقتوں میں  ہم نئے اور رابعہ بک ھاؤس لاہور پرانے اور منجھے ہوئے تھے، میں نے ان کو اپنی دونوں کتب شہنائی اور نازیہ زوہیب سلمی’ آغا کے گانے دکھائے، اور باتوں باتوں میں انہیں بتایا کہ آئندہ چار فلمی گانوں پر مشتمل کتابیں چھاپنے کا پروگرام ہے.. ٹائٹل ذاکر صاحب سے بنوانا چاہتا ہوں، لیکن مجھے پتہ ہی نہیں کہ وہ کہاں ہوتے ہیں.. وہ کہنے لگے کہ ذاکر تو میرا بڑا اچھا دوست ہے، میں تمھیں اس سے ملوا سکتا ہوں… اندھا کیا چاہے دو آنکھیں..میں بڑا خوش ہوا انہیں کہا کہ چند دنوں تک لاہور آؤں گا اور آپ سے ملوں گا پھر آپ مجھے ذاکر صاحب کے پاس لے چلئے گا، اس پر شیخ صاحب فرمانے لگے کہ لاہور آؤ تو کہیں ہوٹل وغیرہ میں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں میرا آفس ہے وہاں رات بسر کر سکتے ہو..  میرا اشرف بک ایجنسی کا مال وغیرہ لانے کے لیے اکثر یعنی اوسطاً مہینے میں ایک بار لاہور کا ضرور چکر لگتا تھا، چند ہی دنوں بعد لاہور جانے کا پروگرام بن گیا، دن بھر اردو بازار سے مختلف پبلشرز سے ملاقاتیں کیں مال خریدا، کتابوں کے بیوپاری جب بھی لاہور یا کراچی جاتے ہیں،  تو کتابیں پسند کر کے اپنی دوکان کے نام کا بل بنوا کر ادائیگی کردیتے ہیں یا اگر کھاتہ چلتا ہے تو اپنے کھاتے میں لکھوا کر سابقہ بل میں سے کچھ ادائیگی کر کے اپنا مال اپنے سامنے گتے کے خالی کارٹن یا باردانہ( بوری) یا پلاسٹک کے توڑے میں پیک کروا کر خود آگے نکل جاتے تھے اور ہیں.. اور پھر متعلقہ پبلشر یا ہول سیلرز شام تک تمام تاجران کتب کا مال اکھٹا کرتے رہتے ہیں اور پھر شام کو ہتھ ریڑھی /ریڑھا/کھوتی ریڑھی /یا چنگچی لوڈر گاڑی والے آتے ہیں اور مال لوڈ کر کے ٹرک اڈے پر متعلقہ شہروں اور قصبات  میں بک کروا دیتے ہیں، اور بلٹی /بلٹیاں لاکر پبلشر کے حوالے کردیتے ہیں، یوں یہ سلسلہ روزانہ کی بنیاد پر جاری رہتا ہے بہرکیف… میں بات کررہا ہوں 1986 کی… جب میں اردو بازار لاہور میں اپنے پہلے دن کی تمام مصروفیات نمٹا کر مغرب سے ذرا پہلے رابعہ بک ھاؤس کے دفتر واقع بخشی مارکیٹ پرانی انار کلی نزد کچہری روڈ پہنچ گیا گراؤنڈ فلور پر مین گیٹ ہے اس سے اندر پہنچا تو کھلا احاطہ سا پایا، جس کے چاروں اطراف دوکانیں بنی تھیں، جن میں زیادہ تر سائیکلوں کی دوکانیں تھیں اور درمیان میں بڑا سا صحن تھا جہاں سائیکلوں اور دیگر سامان کے ڈھیر تھے.. جب کہ ان دوکانوں کے اوپر چھوٹے چھوٹے کمرے تھے جن میں دفاتر اور گوادم تھے ان کا راستہ مارکیٹ کے اندر سے تنگ سیڑھیوں کی شکل میں اوپر جاتا تھا، سیڑھیاں پرانے زمانے کی اینٹوں کی تھی جن کہ اگلی کناری پر لکڑی لگی ہوتی ہے، میں نہیں جانتا کہ اب یہ مارکیٹ موجود ہے کہ نہیں، لیکن غالب امکان یہی ہے کہ نئی بلڈنگ پلازہ بن گیا ہو گا.. میں نے پچھلے بیس سالوں سے یہ جگہ نہیں دیکھی.. سیڑھیاں چڑھتے ہی اوپر بائیں ہاتھ شاید سیڑھیوں کے ساتھ ہی رابعہ بک ھاؤس کا دفتر مل گیا کھلا ہوا تھا محترم سعید اے شیخ صاحب میز کے پیچھے دھری کرسی پر تشریف فرما کسی کتاب کی کاپیوں( ماسٹر پرنٹ) کو الٹ پلٹ کر دیکھ رہے تھے،  ایسا کوئی بھی پبلشر اس وقت کرتا تھا جب کسی کتاب کو ری پرنٹ( اشاعت ثانی)  کے لئے پریس پہنچانے کا آخری وقت آگیا ہو، یا بالکل نئی کتاب پریس جا رہی ہو… شاید 6×12 کاآفس تھا دروازے کے ساتھ تین سیٹر صوفہ اس کے سامنے میز، اور پیچھے

یعنی مزید اندر آفس ٹیبل اور کرسی اورٹیبل کے دائیں طرف پرانا کالے رنگ کا ٹیلی فون  پڑا تھا جبکہ بائیں طرف سب سے پیچھے واش روم کا دروازہ نظر آرہا تھا،

          جناب سعید شیخ صاحب.. کتابوں کی دنیا کی جانی مانی معتبر شخصیت ہیں، سیکڑوں کے حساب سے اعلی’ پائے کی کتابیں شائع کی ہیں مقبول جہانگیر کی مہماتی اور شکاریات کے موضوع پر انگریزی کتابوں کے تہلکہ خیز تراجم رحیم گل کی تن تارارا خلیل جبران کی کتب کے تراجم  کے علاوہ لغات وڈکشنریز ان کے ادارہ رابعہ بک ھاؤس کی پہچان ہیں  اپنے آفس میں وہ مجھ سے بڑی شفقت سے پیش آئے، چائے منگوائی اور پھر کافی دیر گپ شپ لگاتے رہے.. رات ہو گئی کھانا منگوایا  نو بجے کے قریب وہ جانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے، مجھے کہہ گئے کہ صبح چار ساڑھے چار آجاؤں گا، کچہری روڈ پر ان کا نسیم بک ڈپو کے نام سے اچھا خاصا بک سٹال بھی تھا جہاں ڈائجسٹ ناول رسائل کے ساتھ ساتھ اخبارات بڑی تعداد میں فروخت ہوتے تھے، یہی اخبارات اخبار مارکیٹ سے لے کر وہ صبح سویرے اپنے بک سٹال تک پہنچاتے تھے، یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ ان کے سگے بھائی نسیم اے شیخ اخبار مارکیٹ (اسپتال روڈ) میں نسیم نیوز ایجنسی کے نام سے بہت بڑا کاروبار کرتے تھے، بے شمار اخبارات رسائل وجرائد کے ایجنٹ تھے اس دور میں سسپنس جاسوسی پاکیزہ سرگزشت کے ڈَسٹری بیوٹرز برائے لاہور تھے،… الغرض وہ چلے گئےاور میں نے اندر سے کنڈی لگا لی اور وہاں اکیلا صوفے پر بیٹھاچائے کے ساتھ سگریٹ پھونکتا اور کوئی ناول پڑھتا رہا ، پھر نہ جانے کب نیند کی وادی میں اتر گیا،تقریباً ایک بجے کے قریب برقی رو بند ہوگئی جس سے پنکھا بند ہو جانے کی وجہ سے  گرمی ہو گئی اور آنکھ کھل گئ چند لمحات تو یاد ہی نہ رہا کہ کہاں ہوں حواس بحال ہوئے تو سب کچھ یادآیاسمجھ آگئی کہ بجلی بند ہو گئی ہے ، ہمت کر کے اٹھا اور دروازہ کھول دیا، تو گھپ اندھیرے کے ساتھ  بھیانک سناٹے نے استقبال کیا، ریلنگ سے جھانک کر نیچے مارکیٹ کے صحن میں دیکھا تو چاروں اور ہو کا عالم دیکھ کر جھرجھری سی لے کر رہ گیا، وہ جگہ جہاںدن کو سائیکلیں ہی سائیکلیں تھیں، کان پڑی آواز سنائی نہ دیتی تھی. چیونٹی باندھنے کی جگہ نہ تھی وہاںاس وقت قبر کا اندھیرا اور سناٹے رقصاں تھے، میرے دل کی دھڑکن تیز ہونے لگی، میں زیرِ لب آیت الکرسی کا ورد کرنے لگا، اور اس کے بعد.. ، سگریٹ ہونٹوں میں دبا کر دیا سلائی کو جیسے ہی رگڑ دکھائی تو تیلی کا دماغ ذرا سی گرمی پہنچتے ہی بِھّنا کر جل اٹھا، سگریٹ کی ٹمٹماھٹ اور دھویں کی سنگت بھی گہری رات کی تنہائی اندھیرے اورخوف میں کمی واقع کرتی ہے، کہ.. سنا ہے کہ جن بھوت چڑیلیں آگ کے قریب نہیں پھٹکتے، تاہم دوسرا تیسرا کش لگاتے ہی بجلی آگئی، جس سے بلب اور پنکھا چل پڑےگو باقی سناٹے اور خاموشی میں کوئی خاطر خواہ فرق نہ پڑا تھا لیکن پھر بھی اکا دکا روشنیاں ہونے سے پہلے کی نسبت خاصا فرق پڑ گیا تھا، میں دروازہ بند اورسگریٹ گُل کر کے پھر صوفے پر لیٹ گیا اور آنکھیں موند لیں، تھوڑی ہی دیر گزری تھی کہ دروازہ زور سے کھٹکایا جانے لگا، ہڑبڑا کر اٹھا دروازہ کھولا تو باہر حاجی( سعید شیخ) کھڑے تھے، اور صبح کا اجالا پھیلا ہوا تھا

حاجی صاحب ویسپا چلا رہے تھے اور میں اپنا بریف کیس سنبھالے عقبی نشست سے لاہور کی زندگی لاہور کی سڑکوں پر بہتی دیکھ رہا تھا، حاجی صاحب ساتھ ساتھ مجھے مختلف معلوماتی باتیں بھی بتا رہے تھے لیکن تانگوں کی ٹَپ ٹَپ ٹَپ ٹَپ رکشوں کی ٹراں ٹراں میں کان پڑی آواز سنائی نہ دے رہی تھی . لیکن میں سر ہلا ہلا کر اور ہوں ہاں کرتے ہوئے برابر حاجی صاحب کو سب کچھ سمجھ آنے کی رسید دے رہا تھا،

بی بی پاک دامن… مزار کے قریب ذاکر حسن کی رہائش گاہ تھی لب سڑک… دروازے کے ساتھ سڑک سے دو تین سیڑھیاں چڑھ کر بیٹھک تھی، جس کا دروازہ اندر کی جانب کھلتا تھا لیکن آگے صوفہ لگا ہونے کے باعث دروازہ نصف تک کھلتا تھا، دروازہ کسی بچے نے کھولا اور ہمیں بیٹھک میں بٹھا دیا،

چند منٹ بعد ذاکر صاحب آگئے پینٹ شرٹ میں ملبوس  برائے نام مونچھیں مناسب قد سمارٹ جسم…. سعید اےشیخ صاحب سے بے تکلفی سے ملے اور پھر میرے ساتھ مصافحہ کیا، حاجی صاحب نے میرا تعارف کروایا، اور پھر میں نے مدعا بیان کیا کہ مجھے  چار ٹائٹل بنوانے ہیں، فلمی گانوں کی کتابوں کے لئے  لتا رفیع نورجہاں اور مہدی حسن کی تصاویر بنوانی ہیں ساری بات سن کر ذاکر صاحب کہنے لگے  کہ بھئ میرے پاس کام کا بہت رش ہے جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز والوں کا کام ہی ختم نہیں ہوتا دوسرے ڈائجسٹ بھی ہیں سب رنگ کے اسکیچز عمران سیریز وغیرہ  لیکن بحرحال آپ شیخ صاحب کے ساتھ آئے ہیں  آپ کا کام میں کروں گا ضرور لیکن تین  چار ماہ لگ جائیں گے، لیکن ابھی میں آپ سے صرف دو تصویریں پکڑوں گا، لتا اور رفیع کی تصویریں مجھے دے جائیں تین ماہ بعد یہ کام مکمل کر کے نورجہاں اور مہدی حسن کی تصاویر بنا دوں گا میں نے نرخ پوچھے تو بولے.. ابے کام تو شروع کرنے دے.. لیکن میرے اصرار پر کہنے لگے، کہ ساڑھے سات سو روپے ایک پورٹریٹ کے ہوں گے دونوں کے پندرہ سو، ریٹ سن کر میں دل ہی دل میں خوش ہوگیا ریٹ میری توقع سے کم ہی تھا، میرا خیال تھا کہ کم از کم ایک ھزار روپے تو ضرور تقاضہ کریں گے…. میں نے فوراً پانچ سو کا نوٹ نکالا اور ذاکر صاحب کو پکڑا دیا، اور رسید بنا کر دینے کا تقاضہ کیا، انہوں نے بلا اعتراض ادھر آدھر دیکھااور سائیڈ ٹیبل سے آرٹ پیپر کا ایک ٹکڑا پھاڑا اور اس پر

لتا/ رفیع فی سکیچ/ 750=1500روپے

پیشگی                             500روپے

_____________________

بقایا                                 1000روپے

نیچے دستخط کر کے تاریخ ڈال دی

میں نے مطمئن ہو کر رسید  اپنے پرس میں رکھ لی

         تین مہینے بعد میں پھر شیخ صاحب کو لے کر بی بی پاک دامن ذاکر صاحب کے گھر پہنچ گیا، لیکن پتہ چلا کہ ابھی انہوں نے کام شروع ہی نہیں کیا، اس کے مزید چند ماہ بعد لاہور کا چکر لگا تو اب کی بار میں اکیلا ہی رکشہ کروا کر ان گھر پہنچا( وہ گھر میں ہی کام کرتے تھے،)  تو پتہ چلا کہ اب وہ وہاں نہیں رہتے، مکان تبدیل کر لیا ہے، میں نے دائیں بائیں لوگوں سے معلومات لیں تو پتہ چلا کہ ہیں اسی ہے اسی علاقے میں، لیکن یہ کسی کو پتہ نہیں تھا کہ کس جگہ ہیں، قصہ مختصر تقریباً دو گھنٹے کی محنت شاقہ اور بھاگ دوڑ سے میں نے ذاکر صاحب کے گھر کا سراغ لگا لیا، لیکن اس وقت میری امیدوں پر اوس پڑ گئی، جب انہوں نے معزرت خواہانہ انداز سے نفی میں سر ہلا دیا.

      اس کے بعد آپ یقین کریں کہ میں نے نصف درجن چکر کاٹے، دو سال جوتیاں چٹخائیں، لیکن مری مراد نہ بھر آئی، بعد ازاں انہوں نے میکلوڈ روڈ پر کسی سینما کی بیسمنٹ میں آفس بنا لیا، میں وہاں بھی پہنچا، پھر وہ جگہ بھی انہوں نے چھوڑ دی اور دوسرے سینما کی

بلڈنگ میں جا بسے،.. آخر کار میری ہمت جواب دے گئی اور میں نے جانا چھوڑ دیا لیکن جب مجموعی طور پر تین سال گزر گئے. تو ایک روز بعد دوپہر سخت گرمی میں جب میں اپنی دوکان واقع کمیٹی چوک راولپنڈی میں قیلولہ کی غرض سے لیٹا ہوا `ٹارزن اور درندے `پڑھ رہا تھا کہ زور سے السلام علیکم کی آواز سنائی دی، تو میں اچھل پڑا یہ ذاکر صاحب کی آواز تھی، جو میری دوکان پر پہنچ چکے تھے، ان کے ہاتھ بڑے سائز کا سخت گتے سے بنا ہوا لفافہ نما پیکٹ تھا،  میں نے سب بھائیوں اور ابا جی سے ان کا تعارف کروایا اور بتایا کہ یہ وہ صاحب ہیں جن کا  فن ڈائجسٹوں اور ناولوں کے چہروں پر جادو کی طرح چھایا ہوتا ہے خاص طور پر ابا جی بڑے خوش ہوئے جو گزشتہ تیس سالوں سے لائبریری چلاتے تھے اور ذاکر سے غائبانہ طور پر واقف تھے، لو بھئی اعجاز میاں… پیکٹ میرے ہاتھ میں تھما کر ذاکر صاحب بولے میں ذرا جلدی میں ہوں اسلام آباد میں چار بجے کسی آرٹ گیلری میں تصویری نمائش میں مہمان خصوصی کے طور پر مدعو ہوں، نکالو تین ہزار روپے

ان کی یہ بات سن کر میری سٹی گم ہو گئی  عرض کیا کہ حضور میرے تو صرف ایک ہزار باقی ہیں، ہیں… وہ کیسے  ذاکر صاحب بھی پریشان ہوگئے تو میں نے فٹا فٹ اپنا ڈرائیونگ لائسنس( موٹر سائیکل کا) نکال کر کھولا جس پرگتے اور ریگزین کی جلد بنی ہوئی تھی اور اوپر ٹِچ بٹن لگا تھا جلد کے دونوں اطراف گتے پر چھوٹی چھوٹی پاکٹ بنی تھیں، انہی میں سے ایک پاکٹ سے انگلی کی مدد سے ذاکر صاحب کے ہاتھ کی لکھی رف رسید نکالی، اور ان کے ہاتھ میں تھما دی، جسے وہ کافی دیر تک دیکھتے رہے اس دوران ان کا چہرہ متغیر رہا، آخر ہنس پڑے اور رسید کے چار چھ ٹکڑے کرتے ہوئے کہنے لگے، یار تم نے میرا دوہزار روپے کا نقصان کر دیا، چلو نکالو ھزار روپیہ میں ان کی گفتگو کا مفاہمتی وائینڈ اپ سن کر کِھل اٹھا، اور ھزار روپیہ اِدھر اُدھر سے اکھٹا کر کے ان کو دیا

اچھا اب یوں ہے کہ.. وہ پیسے جیب میں رکھ کر اور چائے کی چُسکی لینے کے بعد Wills کا سگریٹ سلگا کر گاڑھا دھواں چھوڑتے ہوئے گویا ہوئے، اب میں نے اسسٹنٹ رکھ لئے ہیں اور آفس بھی کیپیٹل سینما بلڈنگ میں بنا لیا ہے، اور رنگ بھرنے کے لئے سپرے گن بھی لے لی ہے، اب جو ٹائٹل بنوانا ہو  دے دو، آئندہ وقت پر کام ہو جایا کرے گا

 (جاری ہے)

                         بہ احترامات فراواں

                                      اعجاز احمد  نواب

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ست رنگی دنیا..  میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد … قسط نمبر 20         

                ست رنگی دنیا                 ٭                 میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد                 ”آندھیاں غم کی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے