سر ورق / ڈراما / ٹیلی اسکرپٹ کیسے لکھتے ہیں؟ ۔۔ میرے تجربات ۔۔۔ اقبال حسن

ٹیلی اسکرپٹ کیسے لکھتے ہیں؟ ۔۔ میرے تجربات ۔۔۔ اقبال حسن

ٹیلی اسکرپٹ کیسے لکھتے ہیں؟

میرے تجربات

اقبال حسن

 ون لائنر/ سٹوری لائن

ہمارے ہاں جب بھی کوئی رائٹر کسی پروڈکشن کمپنی یا چینل سے رابطہ کرتا اور بتاتا ہے کہ اس کے پاس انفرادی ڈرامے یا سیریل کی کہانی ہے تو وہاں سے فرمائش کی جاتی ہے کہ آپ اس کا ،،ون لائنر،، بھجوا دیں۔ یہ فرمائش تیکنیکی طور پر بالکل غلط ہوتی ہے۔ ون لائنر کا مطلب ون لائنر ہی ہوتا ہے یعنی ایک سطرمیں کہانی کا بنیادی خیال۔ جب دوسرے سرے پر بیٹھا شخص آپ سے ون لائنر کی فرمائش کر رہا ہوتا تو درا صل اس کا مقصد یہ ہوتا ہے کہ آپ اسے ،،سٹوری لائن،، بھجوائیں تو جب بھی ون لائینر کی فرمائش کی جائے آپ دو چار صفحات پر مشتمل مکمل کہانی بھجوائیں۔ون لائنر کی مثال یوں دی جا سکتی ہےیک شخص نے پہلی اور دوسری بیوی سے چھپ کر تیسری شادی کر لی اور اس کی زندگی مسائل کا شکار ہو گئی۔

بات ایک سطر میں بیان ہو گئی۔ اگر یہ سطر کسی کو دلچسپ لگتی ہے تو وہ آپ سے پوری کہانی کا تقاضہ کرے گا لیکن یہاں ایسے ماں کے لعل بہت کم ہیں جن کی سمجھ میں یک سطری بات آ سکے تو مصنف کو ان کی فرمائش پر،،ون لائنر،، کی جگہ سٹوری لائن ہی بھجوانا پڑتی ہے۔ اس سٹوری لائن میں کیا ہونا چاہئے۔ اصولا ایک سٹوری لائن کو دو سے پانچ صفحوں پر مشتمل ہونا چاہئے (جبکہ یہاں ہمیشہ اسے ایک ہی صفحے پر مشتمل ہونے پر اصرار کیا جاتا ہے) سٹوری لائن میں کہانی کے ضروری واقعات، کرداروں کا تعارف اور اگر ہو سکے تو آپ جسے زور دار سینز سمجھتے ہوں ان کو شامل ہونا چاہئے۔ اس سے ایک فائدہ یہ بھی ہوگا کہ آپ کی سٹوری لائن پڑھنے والے /والی کو آپ کے طرز تحریر کا بھی اندازہ ہو جائے گا اور اسے (جیسا کہ یہاں دستور ہے) آپ سے نمونے کی دو چار قسطیں نہیں مانگنا پڑیں گی۔

سٹوری لائن کسی بھی کہانی کی طرح تین حصوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ تعارف، درمیانی حصہ اور اختتام۔ آپ تجارتی پیمانے پر ایک کام کرنے جا رہے ہیں یعنی آپ کو اپنا سکرپٹ بیچنا ہے تو اب یہ آپ کی ذمہ داری ہے کہ اپنی سٹوری لائن کو زیادہ سے زیادہ قابل قبول بنانے کے لئے اس میں وہ حصے ضرور شامل کریں جن میں ،،ڈرامے،، کا عنصر زیادہ سے زیادہ پایا جاتا ہو کیونکہ آپ جو کچھ لکھنے کا ارادہ کررہے ہیں، وہ ایک ،،ڈرامہ،، ہے تو اگر یہ سٹوری لائن اس تاثر سے خالی ہوگی تو قابل قبول نہیں ہوگی چاہے اپنا اصل سکرپٹ آپ نے الفریڈ ہچکاک کی طرح ہی کیوں نہ لکھا ہو!

یاد رکھنے کی ایک بات۔ اپنی سٹوری لائن ہمیشہ زمانہ حال میں لکھیں یعنی احمد بینک سے نکلتا ہے۔ اسے دو لڑکے لوٹ لیتے ہیں۔ احمد پولیس سٹیشن جاتا ہے وغیرہ۔ دوسری اہم بات اپنی سٹوری لائن میں Conflict یعنی کرداروں کے حوالے سے ٹکراو کی کیفیت کو خوب اچھی طرح نمایا ں کریں تاکہ آپ کی سٹوری لائن پڑھنے والا (اگر وہ آج کل کے بہت سے سکرپٹ ایڈیٹرز کی طرح محض شوقیہ فنکار نہیں ہے) فورا اپنے ذہن میں وہ ممکنہ واقعات یا سینز ترتیب دینے لگے جو ایسی سٹوری لائن پر لکھے ہوئے ڈرامے میں پیش آ سکتے ہیں اور اسے آپ کی کہانی پسند آ جائے ،یاد رکھیں آپ کی کہانی میں ،،ٹکراو¿،، یا conflict یا کرداروں کی کش مکش جتنی زیادہ اور شدید ہوگی، اتنا ہی آپ کا سکرپٹ قابل قبول ہوگا۔ اب کسی کہانی میں یہ کش مکش محض انسانی کرداروں کے درمیان ہوتی ہے یا اس میں دوسرے عناصر یعنی مٹی، پانی، آگ ہوا بھی شامل ہو سکتے ہیں؟ یہ ایک علیحدہ موضوع ہے پر جس پر ایک مضمون آگے چل کر تحریر کیا جائے گا۔ ڈرامہ کے پنڈتوں نے ابتدائی طور پر 36 قسم کے Conflicts کی بات کی تھی جنہیں اب کم کرکے (یعنی بہت سوں کا ایک دوسرے میں مدغم کرکے) 9 پرلے آیا گیا ہے۔ عورت اور مرد کے درمیان کش مکش، دو عورتوں یا دو مردوں کے درمیان کش مکش، ایک عورت اور دو مردوں کے درمیان کش مکش یا اس کا الٹ ،انسان کی سمندر یا پانی سے کش مکش، آگ سے کش مکش، طوفان اور انسان کی کش مکش وغیرہ۔ عموماً انسانوں کے درمیان کش مکش یا ٹکراو یا Conflict ایک اچھی اور ایک بری طاقت کے درمیان دکھایا جاتا ہے اور یہ ٹکراو¿ آپ انسانوں سے تعلق رکھنے والی ہر کہانی میں دیکھ سکتے ہیں۔ مختصراً ہم کہہ سکتے ہیں کہ Conflict ہر ڈرامائی کہانی کا وہ ضروری عنصر ہے جس کے بغیر کسی کہانی میں ڈرامائی تاثر پیدا ہو ہی نہیں سکتا۔

یاد رکھنے کی ایک اور بات۔ جتنا آپ کا Conflict شدید ہوگا، اتنا ہی آپ کا لکھا ہوا ڈرامہ یا فلم دلچسپی سے بھرپور ہوگی۔ Conflict میں شامل کرداروں کا اصرار بھی بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ یاد رکھیں کسی بھی ایک کردار کا کسی نکتہ نظر پر ،،بودا،، اصرار کہانی کو یک طرفہ بنا دے گا۔ ہمیشہ وہ Conflict دکھانے کی کوشش کریں جو کسی بھی زمینی حقیقت سے جڑا ہوا ہوا۔

اب ایک آخری بات۔ اپنی کہانی میں جہاں آپ الجھن کا شکار ہوں اور کوئی انجام آپ کی سمجھ میں نہ آ رہا ہو، وہاں Chance سے اپنی کہانی کو منطقی انجام تک پہنچانے کی کوشش نہ کریں کیونکہ چانس اساطیری کہانیوں میں تو ممکن ہے جب حمام گرد باد میں پھنسے شہزادے کو زندگی کی کوئی امید نہیں رہتی اور تب اس پر عاشق سبز پری ساری رکاوٹیں عبور کرتی اسے وہاں سے صاف بچا کے لے جاتی ہے۔ آپ موجودہ دور کے انسانوں کی کہانی لکھ رہے ہیں تومسائل کا حل موجودہ دور ہی میں تلاش کریں اور ایسا حل جو قابل قبول بھی ہو۔ یہ بھی یاد رہے کہ بہت سی مالی مشکلات میں پھنسے آدمی کی کروڑ روپے کی لاٹری نکلوا کر اسے ان مشکلات سے نہ نکلوائیں۔یہ بھی نا قابل قبول ہے۔ انجام حقیقت سے قریب ہونا بیحد ضروری ہے۔

اور اب سب سے آخری اور اہم ترین بات۔ مسائل یا Issues پر لکھنے کی کوشش کریں۔ شادی اور طلاق اور پھر شادی اورپھر طلاق کا موضوع بہت پرانا ہو چکا۔ غریب ملکوں میں ہر گلی کے ہر گھر سے ایک نئی کہانی پھوٹتی ملتی ہے، ان کہانیوں کو استعمال کریں۔ شادی سے کہیں بلند مقاصد زندگی میں ہمارے منتظر ہیں، ان کو کیسے حاصل کیا جائے، اس راستے میں حائل رکاوٹوں کو کیسے دور کیا جائے اور مقاصد حاصل کرنے کے بعد اپنی زندگی کو گزشتہ تلخیوں کی روشنی میں کیسے ترتیب دیا جائے۔ یہ ہمارا روز کا مشاہدہ بھی ہے اور ہمارے گرد بہت سے لوگ ان سے گزرتے بھی رہتے ہیں۔ انسان ،،اپنی کہانی،، بہت دلچسپی اور شوق سے دیکھتا ہے تو ایسی ہی کہانیاں لکھنے کی کوشش کریں

ٹیلی ڈرامے کی کہانی

کسی بھی سکرپٹ میں منظر نامے، مکالمے اور ایکشنز وغیرہ کے ساتھ ایک ضروری عنصر ،،کہانی،، کا بھی ہوتا ہے۔ یوں تو آپ چاہیں تو اپنے گرد پھیلی ہوئی سیکڑوں کہانیوں میں سے انتخاب کر سکتے ہیں۔ غیر ملکی ادب سے بھی استفادہ کر سکتے ہیں اور اپنی کہانی بھی لکھ سکتے ہیں۔ ہمارے ہاں موضوعات مغرب سے کہیں زیادہ دستیاب ہیں کیونکہ کہانیاں غربت اور جہالت میں سے زیادہ اچھی طرح پیدا ہوتی، پنپتی اور انتہائی شاندار موڑ بھی اختیار کرتی ہیں لیکن چونکہ ہمیں چند ایک کو چھوڑ کر باقی موضوعات پر لکھنے کی ،،اجازت،، نہیں ہے تو جو مل رہا ہے، اسی پر قناعت کیجے۔ اس میں سب سے آسان موضوع گھریلو تنازعات ہیں اور آج کل یہی لکھاریوں کے فیشن میں ہیں۔ ان سے ہٹ کر اگر کوئی موضوع کوئی برت لیتا ہے اور چینل ،،رسک،، لے لیتا ہے تو وہ سپر ہٹ ہو جاتا ہے۔ حال ہی میں نجی چینلز پر ایسے سیریلز چلے جن میں ،،نیا پن،، تھا تو لوگوں نے انہیں ہاتھوں ہاتھ لیا۔

کسی کی یا اپنی لکھی ہوئی روایتی کہانی کے علاوہ کہانی لکھنے کا ایک طریقہ اور بھی ہوتا ہے۔ اس کے لئے آپ کو سب سے پہلے ،،موضوع یا ایشو،، سوچنا ہوتا ہے۔ پھر آپ اس موضوع یا ایشو کے حوالے سے کردار سوچتے ہیں۔ آپ کا موضوع کیا ہے، یا کس ایشو پر لکھنا چاہتے ہیں، آپ اسی کو ذہن میں رکھ کر چند کردار تخلیق کریں۔ مثلاً آپ ایک ایسے خاندان کی کہانی لکھنا چاہتے ہیں جس کا جدی پشتی تعلق کسی مزار سے ہے اور ساتھ ہی وہ جاگیر دار بھی ہے (جو کہ کم از کم پاکستان میں ضرور ہوتا ہے) جب اتنا کچھ ہے تو پھر وہ سیاست دان بھی ہوگا۔ چلیں تو پہلا کردار مل گیا۔ ایک جاگیردار جو سیاستدان بھی ہے۔ اب اس کے مزارعوں، گھر، سیاسی سرگرمیوں، عوامی رابطوں، منفی اور مثبت سرگرمیوں کے مقامات اور ان کے حوالوں سے کردار تخلیق کرتے جائیں، اس ،،خود کار،، طریقے سے کہانی خود بخود اپنی ،،کچی،، صورت میں ابھرتی چلی جائے گی۔ کردار سے کہانی ترتیب دینا مشکل بھی ہے اور آسان بھی۔ جب اس کی مشق ہو جائے تو اس سے زیادہ دلچسپ کام ایک لکھاری کے لئے اور کچھ نہیں۔ شروع میں البتہ کچھ دقت ہو سکتی ہے لیکن ذرا سی مشق سے یہ مرحلہ آسان ہو سکتا ہے۔ جب آپ کردار تخلیق کرلیں تو ان کرداروں کا ہمارے بڑے کردار سے تعلق، ان کے حلیے، ان کی عادات، ان کی نیکی، لالچ، اچھائی،برائی سبھی کچھ کاغذپر احتیاط سے لکھتے چلے جائیں اور ایک ڈھیلی ڈھالی صورت میں، صیغہ حال میں انہیں جوڑتے چلے جائیں۔ مثلا جاگیردار کا بیٹا جو باپ کے نقش قدم پر چلتا ہے اور علاقے میں کسی بھی حوالے سے بدنام ہے، وہ ملازم جو قتل کے الزام کے باوجود اس خاندان کے پروں تلے محفوظ ہے۔ وہ ماں جس کا بچہ قتل کر دیا گیا اور وہ انصاف ڈھونڈ رہی ہے۔ مزار کا وہ فقیر جس میں روحانی قدریں پائی جاتی ہیں۔ سیاست دان کا کوئی شہری کروڑ پتی دوست جو اس سیاست دان کی بیوی کا ماضی کا کلاس فیلو اور عاشق رہا ہے، وغیرہ۔ دیکھا آپ نے، اس قسم کے تعارف سے کہانی نے جنم لینا شروع کر دیا۔ اب آپ ان کرداروں کو ذہن میں رکھ کر اس کہانی کو جوڑتے چلے جائیں۔ اس کا میں نے ذاتی طور پر کتنی ہی مرتبہ تجربہ کیا ہے۔ میری آج کل چلنے والی ڈرامہ سیریل ،،رائیگاں،، کی کہانی اسی طرح ترتیب دی گئی تھی کہ پہلے کردار سوچے گئے، پھر ان کا باہمی تعلق پیدا کیا گیا اور اس ربط سے کہانی کی جو ،،کچی یا ،،را،، صورت پیدا ہوئی اس سے تانا بانا بن لیاگیا۔(یہ مضمون چار سال پہلے لکھا گیا تھا جب یہ سیریل آن ائیر تھا۔اسے یو ٹیوب پر دیکھ سکتے ہیں)

کبھی یوں بھی ہوتا ہے کہ آپ کو کسی کے افسانے یا ناول پر لکھنا پڑ جاتا ہے۔یہاں ایک اچھا سکرپٹ رائیٹر بھی امتحان میں پڑ سکتا ہے۔افسانوں یا ناولوں میں ،،منظر نامے،، پر بہت سا قلم گھسایا جاتا ہے یعنی ماہا باغ میں تھی،پھول کھلے ہوئے تھے، ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی،کوئل کوک رہی تھی،اور ماہا کا جی مچل رہا تھا کہ وغیرہ وغیرہ…اب یہاں مشکل یہ ہے کہ آپ کے دیکھنے والے کو اس منظر یا ماہا کے جی وغیرہ مچلنے میں کوئی دلچسپی نہیں ہے۔وہ وہاں ،،واقعات،، دیکھنے کو بیٹھا ہے چنانچہ ناول یا افسانے پر ترتیب دی گئی کہانی کے کرداروں سے کام لینا اور ،،فروعات،، کو چھوڑتے جانا ہی ڈرامہ رائیٹر کی کامیابی ہے۔چونکہ ا±سے متعدد قسطوں پر مشتمل ڈرامہ لکھنا ہے اور کاغذ کا پیٹ اس چابکدستی سے بھرنا ہے کہ وقت بھی پورا ہو جائے اور ،،بھرتی،، کا کام بھی نہ دکھائی دے تو ایک رائٹر کیا کرے گا/گی؟ یاد رہے کسی سین کو لمبا کرنے کے لیے ،،بکواسیات،، سے گریز کریں یعنی تم بیٹھو میں چائے بناتی ہوں یا منے کے ابا پچھلے سال یہ گلدان ہانگ کانگ سے لائے تھے وغیرہ۔کوئی ایک جملہ بھی اس ،،مقصد،، کے علاوہ نہیں ہونا چاہیے جس کے لیے وہ سین لکھا جا رہا ہے۔اگر واقعی چائے پیتے دکھانا ناگزیر ہے تو آپ اپنا سین ہی دو یا تین کرداروں کے چائے پینے سے اوپن کریں اور فوراً کام کی بات پر آجائیں۔اب یہ سوال کیا جا سکتا ہے کہ اس کے باوجود بھی وقت پورا نہ ہو رہا ہو اور سکرپٹ کی مطلوبہ ،،لمبائی،، حاصل نہ ہو رہی ہو تو کیا کریں؟ تب آپ سکرپٹ لکھنے سے پہلے ایک مشق کریں۔آپ تمام ایسے اہم کرداروں کو ایک علیحدہ کاغذ پر لکھ لیں۔کہانی آپ کے ذہن میں ہے۔یہاں کرداروں میں سے کردار نکالیں (لیکن یہ کہانی سے باہر نہ ہوں اور دلچسپ ہوں) مثلاً ناول میں ایک مالی بار بار دکھایا جا رہا ہے اور وہ اہم کردار ہے تو اس کے حوالے اس کا خاندان پیدا کر دیں۔بیوی یا بچے۔وہاں کے مسائل کو لے کر ،،سائیڈ،، میں ایک چھوٹی کہانی چلا دیں جس کا تعلق گو ہماری ،،مرکزی،، کہانی سے نہ ہو لیکن وہ دلچسپ بھی ہو۔اسے ایک ،،فالتوٹریک،، کہہ سکتے ہیں لیکن یاد رہے اسے مرکزی کہانی سے پوری طرح مربوط ہونا چاہیے اور کہیں بھی ایسا کچا پن دکھائی نہ دے کہ دیکھنے والا اسے ،،فالتو،، قرار دے۔یہ سب کیسے کرنا ہے؟یہیں سکرپٹ رائٹر کا اصل امتحان ہوتا ہے۔اگر کہانی لمبی ہو اور وقت کم تو پھر بھی یہی کریں۔کہانی میں ،، تلخیص،، کا گھونگھٹ نکالیں اور ،،فالتو،، کرداروں کو قلم زد کرتے جائیں۔مقصد حاصل ہو جائے گا۔کہانی بہت طویل موضوع ہے اور وقت کا متقاضی بھی اور نیٹ پر اسے مفصل نہیں لکھا جا سکتااس لیے معذرت خواہ ہوں لیکن میں نے ممکنہ طور پر پیش آنے والی الجھنوں پر روشنی ڈالنے کی کوشش کی ہے، امید ہے نئے لکھنے والے بات کی تہہ تک پہنچ گئے ہوں گے

سی کوئینس،سائی نوپسس اور سین

آج ہم سین اور سی کوئینس کے درمیان فرق سمجھنے کی کوشش کریں گے اور یہ بھی جانیں گے کہ سانی نوپسس کسے کہتے ہیں۔یاد رہے کہ ،،سی کوئینس،، بھی ایک سین ہی ہوتا ہے لیکن سین سے مختصر۔سی کوئینس کو سین میں کیسے انسرٹ کیا جاتا ہے، اس کا ذکر آگے چل کر ہوگا۔

لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ سائی نوپسس کو سمجھ لیا جائے۔

 اس کو واضح کرنے کے لئے آپ کو ایک مختصر سین کے ذریعے سمجھایا جائے گا۔ فرض کریں آپ درج ذیل سین لکھ رہے ہیں۔

احمد: میں لاہور جانا چاہتا ہوں

ماں: کیوں؟

احمد: مجھ سے ثمینہ نے کہا ہے کہ وہ مجھے وہاں اچھی نوکری دلوا سکتی ہے

ماں: لیکن تمہیں کسی کی نوکری کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہاں کی جائیداد کس کی ہے؟

اس سین کے سائی نوپسس میں آپ فقط اتنا لکھیں:

احمد جائیداد کا مالک ہونے کے باوجود لاہور جا کر نوکری کرنا چاہتا ہے۔ ماں مخالفت کرتی ہے۔

یاد رکھیں، یہ اتنا مختصر نہیں ہوگا۔ ہو سکتا یہ سین تین چار پانچ صفحات پر مشتمل ہو تو آپ اس سین کے اہم اور ضروری واقعات اپنی سائی نوپ سس میں اسی لحاظ سے بیان کریں گے۔ اگر سکرپٹ ایڈیٹر کو آپ کے سائی نوپسس پسند آ جاتےہیں تو وہ آپ سے مکمل سکرین پلے کی فرمائش کر سکتا ہے۔ یہ طریقہ در اصل مصنف اور پروڈکشن کمپنی دونوں کا وقت بچانے کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ چہ جائیکہ کوئی دس بارہ گھنٹے لگا کر آپ کا پورا سکرپٹ پڑھے، اسے سائی نوپسس دیکھ کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ آپ کیا لکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارے ہاں کسی زمانے میں ٹیلی وڑن میں یہ طریقہ رائج تھا کہ مصنف اگلی قسط کے سائی نوپسس لکھ کر دیا کرتا تھا جن میں سکرپٹ ڈپارٹمنٹ کہانی یا پالیسی کے مطابق اگر چاہتا تو تبدیلیاں کر دیا کرتا تھا۔ اب یہ طریقہ رائج نہیں ہے۔ بس یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ آپ کے مکمل سکرپٹ کے اہم نکات سائی نوپ سس میں ویسے ہی بیان ہونے چاہئیں جیسے سٹوری لائن میں ہوتے ہیں تاکہ آپ کے مکمل سکرپٹ کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا

جائے۔

سین کیا ہوتا ہے؟ اس کی لمبائی کتنی ہونی چاہئے؟

سین کے لغوی معنی سبھی جانتے ہیں۔ ٹیلی وڑن میں سین کہانی کی بصری صورت کے بہت سے حصوں میں سے ایک کو کہتے ہیں۔ کہانی کو دکھانے کے بہت سے حصے جن کا تعلق کہانی کے آنے والے واقعات سے ہوتا ہے، اسی کا ایک حصہ سین کہا جا تا ہے۔ یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے۔ سین کی طوالت کتنی ہونا چاہئے کیونکہ آپ ٹیلی وڑن کے لئے جو بھی لکھتے ہیں اس کے لئے ایک وقت مقرر کیا جاتا ہے تو آپ کا لکھا ہوا ڈرامہ بھی ایک مخصوص وقت میں ختم ہونا ضروری ہے۔ عموماً یہ وقت پچیس سے پچاس منٹ کا ہوتا ہے۔ اس کا حساب ایک سین کے لئے اوسطاً تین منٹ کا نکال کر کر سکتے ہیں۔ یعنی پچیس منٹ کے لئے کم و بیش آٹھ سے نو اور پچاس منٹ کے لئے سترہ سے بیس سینز لکھ سکتے ہیں۔ اگر آپ ہاتھ سے لکھتے ہیں اور آپ کی لکھائی درمیانی درجے کی ہے تو بیس بائیس فل سکیپ صفحات لکھیں اور پچاس منٹ کے لئے چالیس سے بیالیس صفحات۔ اگر کمپیوٹر پر ان پیج میں لکھتے ہیں تو پچیس منٹ کے لئے پندرہ سے اٹھارہ صفحات اور پچاس کے لئے کم از کم تیس صفحات ہونے چاہئیں (سنگل سپیس میں)۔ شرط یہ ہے کہ آپ 16 کا فونٹ استعمال کر رہے ہوں۔ یہ باتیں مجھے آخر میں لکھنا تھیں لیکن ذہن میں آ گئیں تو اسی وقت لکھ دیں۔ سین کے بارے میں چند ضروری باتیں:

سین کا تعلق ہر صورت میں کہانی سے ہونا چاہئے

سین کہانی کو مسلسل آگے بڑھانے والا ہو

سین کی طوالت بیزار کن نہ ہو

سین میں پہلے سے کہی باتیں ہرگز نہ دہرائی جائیں

ایک کامیاب سین وہ ہے جسے دیکھتے ہوئے ناظر کہانی میں ڈوبا رہے اور اگلے سین کا انتظار کرے۔

یاد رہے کہ ڈرامہ انسان کی لکھی ہوئی چیز ہے، جو انسانوں کے لئے لکھی جاتی ہے، اس واسطے اس کے کسی سین میں ،،ہوائی،، باتیں نہ ہوں تو بہتر ہے۔ آپ کا ڈرامہ دیکھنے والا آپ کے کرداروں سے ایک ذہنی اور قلبی تعلق قائم کر لیتا ہے۔ اسے کسی صورت ٹھیس نہ پہنچائیں اور کسی پسندیدہ کردار سے ایسی کوئی بات نہ کہلوائیں جو اس کے کردار سے میچ نہ کرتی ہو۔سین لمبا کرنے کے لیے ،،تم نے یہ سوٹ کہاں سے لیا؟ہماری ملازمہ بہت چھٹیاں کرتی ہے یا پڑوسن حرام کی کمائی پر حج کرکے آئی ہیں،، وغیرہ قسم کے جملے ہرگز نہ لکھیں اور فوراً مطلب کی بات شروع کروا دیں۔

،،ڈرامائیت،، پیدا کرنے کے چکر میں کسی بڑے کردار کو کبھی چھوٹا نہ کریں

مثلاً ہم ایک ایسے ایماندار آدمی کی کہانی لکھ رہے ہیں جسے بےحد مجبوری کے عالم میں رشوت لینا پڑ جاتی ہے تو اس کا پس منظر دکھانا ضروری ہے۔ آپ اسے اس کے گھر سے لے کر چلیں گے اور کچھ ایسے سینز تخلیق کریں گے جن سے دو باتیں ابھر کر سامنے آئیں۔ وہ شریف آدمی ہے اور اس کو مالی مجبوریاں ہیں۔ ان دونوں باتوں کے لحاظ سے آپ کو کہانی میں سین ڈویڑننگ کرتے وقت اس کا گھر، گھر کے کردار اور اس مجبوری کو اچھی طرح واضح کرنا ہوگا تو آپ کو اس کے گھر کے (ایک یا ایک سے زیادہ، ضرورت کے مطابق سینز لکھنا ہوں گے) تو، آپ جب اپنی کہانی کو سینز میں توڑیں گے تو آپ کا پہلا سین اس کے گھر کا بھی ہو سکتا ہے جس میں مندرجہ بالا باتوں سے دیکھنےوالے کو واقف کروایا جائے گا، چنانچہ آپ لکھیں گے:

سین نمبر ایک

ان یا آوٹ ڈور/احمد کا گھر/رات یا دن

کردار:

جب پہلے سین میں آپ اپنا مقصد واضح کر چکیں تو پھر دوسرا سین شروع کریں۔ ہو سکتا ہے پہلے سین میں یہ واضح ہو جائے کہ وہ گھر سے سفر پر جا رہا ہے جہاں اس کو نوکری ملنے کی امید ہے۔ آپ چاہیں تو ،،آوٹ ڈور،، میں ایک میوٹ یعنی خاموش سین رکھ کر اس کی سفر کی تفاصیل واضح کر دیں (جیسے ریل یا بس کا سفر)ورنہ اسے اگلے سین میں انٹرویو کرنے والے شخص کے روبرو کر دیں، تو دوسرا سین یوں ہوگا۔

سین نمبر دو

ان ڈور۔دن۔ممنون حسین کا آفس

کردار: ممنون۔احمد۔ممنون کی سیکریٹری وغیرہ

اب آپ اسی طرح اپنی کہانی کے مطابق سینز بناتےچلے جائیں گے یہاں تک کہ آپ کی کہانی انجا م کو پہنچ جائے۔ یاد رہے اس بات کا بہت سختی سے خیال رکھیں کہ کوئی سین فالتو نہ ہو یعنی ایسا نہ ہو جس کا کہانی سے کوئی تعلق نہ ہو۔ مثلا آپ ،یونہی، اپنے کردار کو کسی چائے والے سے باتیں کرتا دکھا دیں کہ یار میں یہاں نوکری کی تلاش میں آیا ہوں۔ ہاں، اگر آپ کو آگے چل کر اس چائے والے سے کوئی کام لینا ہو تو الگ بات ہے۔

ایک ضروری بات۔ یاد رہے کہ ابھی آپ نے اپنی کہانی کو سینز میں بانٹنا شروع کیا ہے۔ اسے لکھنا شروع نہیں کیا توابھی آپ سینز کی ڈویڑننگ کر رہے ہیں۔ یہ scene divisioning ہے۔ اگلہ مرحلہ screenplay کا ہوگا جہاں سے آپ کا اصل سکرپٹ عدم سے وجود میں آنا شروع ہو گا۔ امید ہے کہ ان دونوں کے درمیان فرق واضح ہوگیا ہوگا۔

ایک اور یاد رکھنے کی بات۔ جب کبھی ڈرامے کا آغاز کریں تو کوشش کریں کہ آپ کا پہلا ہی سین دیکھنے والے کو مسحور کر دے۔ اسے ٹی وی کی زبان میں hook کرنا کہتے ہیں۔ اب یہ کیسے کیا جاسکتا ہے، اس کی مثال کچھ یوں سمجھ لیں:

آپ کے ڈرامے میں ایک ایسا سین ہے جس میں دو موٹر سائیکل سوار لڑکے عورتوں سے پستول کی نوک پر زیورات وغیرہ چھینتے ہیں۔ کوشش کریں کہ یہ سین سب سے پہلے آ جائے۔ یہ آپ کے ناظر کو چینل تبدیل کرنے پر کبھی آمادہ ہی نہیں کر سکتا کیوں کہ وہ یہ جاننے کا متمنی رہے گا کہ ،،پھر کیا ہوا؟،، تو، آپ کی دانست میں آپ کے ڈرامے کا جو سب سے زور دار سین ہو، اسے پہلے لکھیں۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ میرا یہ سین تو آٹھویں نمبر پر تھا، میں اسےسب سے پہلے کیسے دکھا سکتا ہوں؟ اپ کا سوال بجا ہے۔ اس کے لئے ہم ،،فلیش بیک،، کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں۔ یعنی وہ واقعہ جو کبھی ماضی میں گزر گیا اور کسی خاص کردار کو یاد آیا۔ فلیش بیک کےسلسلے میں ایک بےحد ضروری بات یہ بھی ہےکہ آپ جس کردار کا فلیش بیک دکھا رہے ہیں، اس کا اس سین میں موجود ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ بات ناقابل قبول ہے کہ زید اپنے فلیش بیک میں مسلسل بکر کو دکھا رہا ہے اور خود موجود ہی نہیں ہے! اپنی زندگی کا کوئی واقعہ یاد کریں لیکن کسی دوسرے کی یاد داشت کے سہارے! یہ نا ممکن ہے تو یہی تیکنیک فلیش بیک میں بھی استعمال کریں۔ فلیش بیک کے ساتھ ایک دوسری اصطلاح ،،فلیش فارورڈ،، کی بھی استعمال ہوتی ہے۔ یہ وہ واقعہ یا واقعات ہوتے ہیں جو کسی بھی کردار کے حوالے سے کسی عمل کے رد عمل میں پیدا ہو سکتے ہیں۔ مثلا ایک آدمی جرم کرنے کا سوچتا ہے اور فلیش فارورڈ میں خودکو جیل میں دیکھتا ہے وغیرہ۔

کسی بھی سین کے اختتام پر ،،کٹ ٹو،، یا ،،ڈزالو،، لکھا جاتا ہے۔ آپ ایسےہی لکھیں لیکن ضروری نہیں کہ آپ کا ڈائریکٹر یا ایڈیٹر اسی پر عمل ہی کرے تو آپ سین ختم کرنے کے لئے کچھ لکھیں ضرور تاکہ دو سینز کا وقفہ واضح ہو جائے لیکن اس کے ساتھ کیا کرنا ہے، یہ ڈائریکٹرپر چھوڑ دیں۔

جب آپ کہانی کے مطابق سینز کو مختلف واقعات کے حوالے سے ترتیب دے چکیں یعنی scene divisioning کر چکیں تو اسے ایک دو تین مرتبہ نہیں، دس بیس تیس مرتبہ غور سے دیکھیں۔ اچھی طرح غور کریں کہ آپ نے جو سین جہاں رکھا ہے، واقعی وہی اس کی جگہ بنتی ہے۔ اگر نہیں بنتی تو جگہ تبدیل کردیں۔ پھر غور کریں۔ پھر دیکھیں اور پھر غور کریں یہاں تک کہ آپ مطمئن ہو جائیں۔ اپنے سکرپٹ کو اپنی لکھنے والی میز پر ایڈٹ کرنے سے آپ کے سکرپٹ میں نکھار پیدا ہو جائے گا اور وہ بہت ہی قابل قبول ہو گا۔ اس معاملے میں سستی یا کام چوری کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے۔ یہ کام اتنا ضروری ہے کہ آپ اس میں گھنٹوں نہیں ہفتوں صرف کر سکتےہیں۔ ایک مرتبہ آپ اپنے سینز کی ترتیب سے مطمئن ہو جائیں تو پھر لکھنا شروع کر دیں۔ اب آپ مکمل سکرپٹ لکھ رہے ہیں یعنی اصل عمارت کی تعمیر کر رہے ہیں۔ اس دوران بھی اس امر کا خصوصی طور پر خیال رکھیں کہ سبھی سینز اپنی ترتیب کے مطابق ہیں۔ اکثر فائنل سکرپٹ لکھتے وقت کوئی خیال آجاتا ہے جسے آپ سکرپٹ میں شامل کرنا ضروری سمجھتے ہیں تو اس خیال کو فی الحال الگ سے لکھ کر رکھ لیں اور جب سکرپٹ مکمل کر چکیں تو پھر اس کی مناسب جگہ تلاش کریں اوراگر وہ اچھا لگتا ہے تو لکھ دیں ورنہ نہ لکھیں۔

سی کوئینس کیا ہوتی ہے؟

سی کوئینس کے لغوی معنی ہم سبھی جانتے ہیں۔ سی کوئینس بھی ایک سین ہی کو کہا جاسکتا ہے لیکن یہ چھوٹے چھوٹے واقعات کا ایسا تسلسل ہوتا ہے جو کہانی کو آگے بڑھاتا ہے اور انہتائی مختصر وقفے کا ہونے کے باوجود کہانی میں سس پنس کے عنصر کو بڑھاوا دیتا ہے۔ اس کی مثال کچھ یوں سمجھ لیں۔

آپ کے ایک کردار کی زندگی خطرے میں ہے۔ کچھ لوگ اسے مارنا چاہتےہیں تو اپ اس بات کو لمبے چوڑے سینز میں لکھنےکے بجائے یوں لکھیں:

سی کوئیس 1:احمد پورچ میں آتا، کارسٹارٹ کرتا اور گیٹ سے نکل جاتا ہے (کٹ)

    2: قاتل ری والور چیک کرتا اور جیب میں رکھتا ہے (کٹ)

    3: احمد کی کار ٹریفک سے گزررہی ہے (کٹ)

    4: قاتل اپنی گاڑی میں بیٹھتا ہے (کٹ)

    5:احمد گاڑی پارک کرتا ہے (کٹ)

    6: قاتل کار سے اترتا اور تیزی سے عمارت کی سیڑھیاں چڑھتا ہے (کٹ) وغیرہ۔

سی کوئنس کے بارے میں ڈرامے کے پنڈت کہتے ہیں کہ دراصل یہ ایک ہی سین ہوتا ہے جسے مزید سینز میں توڑ دیا جاتا تاکہ طوالت سے بھی بچا جا سکے اور جو دکھانا مقصود ہو اس کی ترسیل بھی ہو جائے۔

سینز کے حوالے سے ایک اور ضروری اور آخری بات:

0 سین مختصر لکھیں

0 جامع جملوں یا ایکشنز سے بات واضح کرنے کی کوشش کریں

0 کسی سین کو کبھی نہ دہرائیں

0 جملوں کے بجائے تاثرات سے کام لینے کی کوشش کریں

امید ہے مندرجہ بالا اصولوں پر عمل کرکے آپ ایک اچھا سکرپٹ لکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

ٹیلی ڈرامے کے سکرپٹ کی چند اصطلاحات:

اصولاً تو مجھے یہ اصطلاحات اس پروگرام کے آخر میں لکھنا چاہئیں تھیں، لیکن کچھ دوستوں کا اصرار ہے کہ چونکہ وہ سکرپٹ لکھنے کی کوشش شروع کر چکے ہیں تو میں ان کا ذکر پہلے کردوں۔سکرپٹ کے تعلق سے باقی پوسٹیں یہاں لگتی رہیں گی۔فی الحال یہ معلومات پیش خدمت ہیں:

ایکشن: سین کی تفاصیل، کردار، آوازیں الغرض سبھی وہ کچھ جو کسی سین میں شامل ہو سکتا ہے۔

ایریل شاٹ: یہ ایک ایسا شاٹ ہوتا ہے جو ہوائی جہاز یا ہیلی کاپٹر سے لیا جا تا ہے۔ اگر آپ کوئی ایکٹی وٹی کسی بلند و بالا عمارت پر ہوتی دکھا رہے ہیں تو یہ شاٹ جہاز وغیرہ سے لیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ایریل شاٹ ہم کسی بلند عمارت یا ا ±ونچی کرین سے نہیں لے سکتے۔ ویسے بھی اس کی دو چار کمروں میں ریکارڈ ہونے والے ہمارے ڈراموں میں کوئی ضرورت یا گنجائش نہیں ہو تی۔

بیٹ (beat) یہ اصطلاح اس وقت استعمال ہوتی ہے جب ہمارا کوئی کردار بولتے بولتے اچانک خاموش ہو جائے اور اپنا جملہ دوبارہ شروع کرے۔ اسے ہمارے ہاں ،،پاز ،،بھی کہا جاتا ہے لیکن درست اصطلاح بیٹ ہی ہے۔

بی۔ جی۔ یا بیک گراو ¿نڈ: یہ اصطلاح تو عام زندگی میں بھی اس قدر رائج ہے کہ سبھی جانتے ہیں لیکن ایک سکرپٹ میں اس کا استعمال پس منظر کے لئے ہوتا ہے۔ اس کا استعمال یوں سمجھیں کہ بیک گراو ¿نڈ میں دو آدمی لڑ رہے ہیں اور ہمارا کوئی کردار ان سے لاتعلق کوئی ایکٹی وٹی کر رہا ہے۔

کلوز آن یا کلوز اپ: یہ اصطلاح اس وقت استعمال ہوتی ہے جب آپ کا کیمرہ کسی خاص چیز کو اچھی طرح واضح کرکے اس کے گرد کی تفاصیل کو نظر انداز کرتا اور اسی پر مرکوز ہو جاتا ہے جیسے کسی انسان کا چہرہ، انگلی، ناک یا ہونٹ یا کسی عمارت کا کوئی خاص حصہ وغیرہ۔

زوم ان: کیمرہ حرکت کرتا ہوا کسی چیز یا فرد کو قریب لانے کو کہتے ہیں۔

زوم آو ¿ٹ: زوم ان کے مخالف عمل کو کہتے ہیں۔

ڈزالو: ایک سین کا بتدریج یوں مدغم ہونا کہ اس سے دوسرا سین برامد ہو جائے ڈزالو کہا جاتا ہے۔اسے ،،ڈزالو ٹو،، بھی لکھ سکتے ہیں۔

ڈولی: ایک پہیوں والی ایسی گاڑی (ٹھیلہ) جس پر کیمرہ رکھ کر اسے چلایا جاتا ہے اور ساتھ ہی سین بھی شوٹ کیا جاتا ہے۔

اسٹبلشنگ شاٹ (establishing shot) یہ شاٹ یہ بتانے کے لئے استعمال ہوسکتا ہے کہ ہم کونسی خاص جگہ دکھانے جا رہے ہیں اور اسے عموماً پلے کے شروع میں ہی استعمال کرتے ہیں۔ مثلاً آپ اپنا سین کراچی دکھانے کے لئے استعمال کررہےہیں تو آپ مزار قائد دکھا کر شروع کر سکتے ہیں، دیکھنے والا سمجھ جائےگا کہ بات کراچی کی ہو رہی ہے وغیرہ۔

ایکسٹریم لانگ شاٹ: یہ شاٹ اس وقت استعمال کیا جاتا ہے جب کوئی چیز یا فرد یا کچھ اور بہت دور سے دکھانا مقصود ہو۔ آپ چاہیں تو اسے فقظ XLS بھی لکھ سکتے ہیں۔ آپ کا ڈائریکٹر سمجھ جائے گا کہ آپ کیا چاہتےہیں۔

فیڈ ان: یہ اصطلاح عموماً سکرپٹ کے شروع میں لکھی جاتی ہے اور اس کا مطلب ہوتا ہے کہ یہاں سے آپ کا ڈرامہ شروع ہو تا ہے۔ فیڈ آو ¿ٹ عموماً آخر میں لکھا جاتا ہے لیکن یہ ضروری بھی نہیں۔ آپ سکرپٹ کے درمیان بھی اسے ضرورت کے مطابق استعمال کر سکتے ہیں۔

فریز: یہ اصطلاح وہاں استعمال ہوتی ہے جہاں آپ چلتے ہوئے کردار یا چیزکو روک دیتےہیں۔ میں اکثر یہ اصطلاح استعمال کرتا ہوں لیکن ضروری نہیں کہ آپ بھی کریں۔ بس اتنا یاد رہےکہ جہاں آپ کسی چلتی ہوئی چیز کو روک دیں گے وہی فریز کہلائے گا۔

انسرٹ: جب آپ کسی سین کے دوران کچھ اور دکھانا چاہیں (چیز، فرد وغیرہ) اور پھر سے سین وہیں سے شروع کر نا چاہیں تو اسے انسرشن کہتےہیں۔ مثلاً آپ ایک پریشان تاثرات والی خاتون کو کمرے میں ٹہلتے دکھا رہے ہیں اور اسی دوران وقت بھی دکھانا چاہتےہیں تو آپ لکھیں گے ،،انسرٹ گھڑی جس پر دو بج کر دس منٹ ہوئےہیں،،۔ پھر کٹ بیک ٹو لکھیں گے یعنی کٹ بیک اسی کردار پر جو آپ پہلے دکھا چکےہیں۔

انٹر کٹ: دو کرداروں کے درمیان یا اشیا کے حوالے سے یہ اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔ مثلا کمرے میں دو کردار پہلے سے موجود ہیں، تیسرا کردار آتا اور کوئی پریشان یا حیران کر دینے والی بات کرتا ہے تو پہلے سے موجود دونوں کرداروں کو تاثرات کے حوالے سے باری باری سکرین پر دکھایا جائے گا تاکہ ان کا رد عمل واضح ہو سکے۔ اسے انٹرکٹنگ کہتے ہیں۔ ضروری نہیں یہ کردار انسانی ہی ہوں۔ کوئی چیز یا کوئی جانور وغیرہ بھی ہو سکتا ہے۔

آف کیمرہ یا آف سکرین: عموماً یہ اصطلاح وہاں استعمال کی جاتی ہےجہاں آپ کو آواز کا سورس دکھانا مقصود نہ ہو جیسے کوئی کردار سو رہا ہے اور فون کی گھنٹی بجنے لگتی ہے یا دروازے پر کوئی دستک دینے لگتا ہےتو اسے آپ آف کیمرہ گھنٹی یا دستک کی آواز لکھیں گے۔ آف سکرین بھی لکھ سکتےہیں۔

پوائنٹ آف ویو یا پی۔ او۔ وی(POV): کسی کردار کو جب کسی شئے کا دکھانا مقصود ہو تو یہ اصطلاح لکھی جاتی ہے۔ جیسے جنگل میں شیر کسی شکاری کو دیکھ رہا ہے یا اس کے الٹ وغیرہ۔ کسی انسان کا تیزی سے اس طرف بڑھتی ٹرین وغیرہ کو دیکھنا۔ آپ کو سکرپٹ میں فقط ،،فلاں کا پی او وی،، لکھنا ہے۔

پش ان: جب کیمرہ تیزی سےکسی کردارکی طرف چل رہا ہو تو یہ اصطلاح لکھتے ہیں۔

سٹاک شاٹس: یہ پرانے شاٹس ہوتے ہیں جو کسی فلم لائبریری میں بھی ہو سکتےہیں اور انہیں آپ کسی خاص مقصد کے لئے استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ مثلاً آپ جنگ ستمبر دکھا رہے ہیں تو ظاہر ہے آپ جنگ تو اب شوٹ نہیں کر سکتے، اس واسطے آپ کو پہلے سے پڑے ہوئے شاٹس کا ہی استعمال کرنا ہوگا۔ بعض اوقات جب آپ کوئی ڈاکیو منٹری لکھ رہے ہوتے ہیں تو ایسے شاٹس اپنے سکرپٹ میں تجویز کر سکتے ہیں۔

سپر یا سپر امپوز: ایک شاٹ کے اوپر دوسرے شاٹ کو ،،چڑھا،، کر دوسرا شاٹ شروع کرنے کےلئے یہ اصطلاح استعمال ہوتی ہے۔

ٹائم کٹ: اس اصطلاح کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ دو آدمی ایک ہوٹل میں گئے۔ گفتگو شروع کی، پھر کھانا کھاتے دکھائے گئے۔ ایک نے بل دیا اور وہ باہر نکل گئے۔ اس اصطلاح سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ وہ ایک دوسرے کے قریب آ ئے یا جس مقصد کے لئے وہاں گئے تھے وہ پورا ہو گیا مثلا کسی خاص موضوع پر گفتگو وغیرہ۔ یہ وقت بچانے کے لئے استعمال ہوتا ہے اور بجائے لمبی چوڑی گفتگو اور مختلف شاٹس لینے کے اسے استعمال کر لیتے ہیں۔

ٹریکنگ شاٹ: دو مختلف کرداروں یا چیزوں کے چلتےہوئے جو شاٹس لئے جاتے ہیں، یہ اصطلاح ان کے لئے استعمال ہوتی ہے۔ مثلا موٹر سائیکلوں پر جاتے دو افراد جو گفتگو کر رہے ہوں۔ یا ایک کار میں بیٹھے افراد دوسری کار کے برابر سے گزرتے ہوئے کسی ایکٹی وٹی میں مصروف ہوں وغیرہ۔

وائس اوور: یہ اصطلاح اس صورت میں استعمال ہوتی ہے جب بولنےوالے سین کے دوران دکھائی نہ دے رہے ہوں۔ اسےفلموں یا ڈراموں میں کم ہی استعمال کیا جاتا ہے لیکن بہر حال یہ

ایک اصطلاح ہے جس کا علم آپ کو ہونا ضروری ہے۔

کریڈیٹس: یہ وہ تفاصیل ہوتی ہیں جو کسی ڈرامے یا فلم کے آخر میں دکھائی جاتی ہیں اور جن میں ادکاروں اور متعلقہ ٹیم کے افراد کے نام دئیے جاتے ہیں۔انہیں اوپننگ کریڈیٹس بھی لکھ سکتے ہیں جبکہ یہ تفاصیل کسی پروجیکٹ کے شروع میں دکھائی جائیں۔عموماً انہیں کلوزنگ کریڈیٹس یا فقط کریڈیٹس ہی کہتے ہیں۔

ان اصطلاحات کے علاوہ بھی ٹی وی یا فلم کی دنیا کی اور بہت سی اصطلاحات ہیں لیکن چونکہ ان کا جاننا اس لئے ضروری نہیں کہ وہ نئے لکھنے والوں کی کوئی مدد نہیں کر سکتیں، تو انہیں چھوڑ دیا گیا ہے۔میرےخیال میں یہ بھی بہت زیادہ ہیں لیکن بہر حال آپ ایک ڈرامہ نگار بننے جا رہے ہیں تو آپ کو ان کا علم ہونا ضروری ہے 🙂

ٹیلی ڈرامہ اور مکالمہ

ڈرامہ فلم کی طرح ویژول آرٹ کی صنف میں آتا ہے یعنی وہ صنف جسے دیکھا جاتا ہے ۔ آپ اسے ایسا بصری فن بھی کہہ سکتے ہیں جس میں ،،کچھ کرکے دکھایا جاتا ہے،، اور لاطینی زبان میں ڈرامہ ،،کچھ کرکے,, دکھانے کو ہی کہتے بھی ہیں ۔ چونکہ ڈرامے یا فلم میں بہت سی جزئیات کرداروں کے عمل، رد عمل اور حرکات سے واضح کی جاتی ہیں تو مکالمے کی اہمیت کم رہ جاتی ہے لیکن اب ایسا بھی نہیں کہ سبھی کچھ مکالمات کے بغیر ہی واضح بھی کیا جائے ۔ ایک سکرپٹ کی تحریر کے دوران، ایک اچھا سکرپٹ رائٹر خود اندازہ کر لیتا ہے کہ اسے کہاں مکالمے کی ضرورت ہے؟ بلا سبب مکالمہ لکھنا سکرپٹ کے حُسن کو گہنا سکتا ہے اور اچھا بھلا ٹیلی سکرپٹ ایک ریڈیو سکرپٹ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اس کے لئے آپ اپنا ایک چھوٹا سا امتحان خود بھی لے سکتے ہیں ۔ اپنے
لکھے ہوئے سکرپٹ کو بلند آواز سے دو صورتوں میں پڑھیں اور برابر کے کمرے میں ایک دوست کو متعین کردیں کہ وہ یہ سکرپٹ سنتا رہے ۔ آپ ڈائیلاگ یا مکالمے بولیں اور مثلا وہاں تک آ جائیں جہاں ایک کردار دوسرے کردار کو کوئی چیز دیتا ہے ۔ آپ بلند آواز سے یہ بھی کہیں:

،،اسلم یہ گھڑی مجھے دو،، ۔ پھر اپنے دوست سے پوچھیں کہ اس نے کیا سنا ۔ ظاہر ہے اس نے یہی سنا کہ ایک کردار نے دوسرے کو گھڑی دی تو وہ یہی بتلائے گا ۔ آپ اس امتحان میں فیل ہو گئے! اب اسی صورتحال کو یوں لیتے ہیں ۔

،،اسلم۔ ،،یہ،، مجھے دو،،۔

اپنے ساتھی سے پوچھیں کہ ڈرامے کے اس سین میں کیا ہوا؟ اگر وہ کہے کہ اُسے علم نہیں ہو سکا کہ ایک کردار نے دوسرے کو کیا،،چیز،، دی تو آپ کامیاب ٹھہرے ۔ جب آپ بصری طور پر اپنے دیکھنے والے کو ایک چیز دکھا رہے ہیں تو اس کا تذکرہ کرنے کی یوں ضرورت نہیں کہ آپ کا ڈرامہ دیکھنے والا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ الف نے بے کو کیا چیز دی؟ اسے کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ہم اکثر ڈراموں میں دیکھتے ہیں جہاں کردار ڈنکے کی چوٹ کوئی چیز دوسرے کو دیتے ہوئے اس کا نام لے رہے ہوتے ہیں ۔ یہ بالکل غلط ہے ۔

اب آئیے مکالموں کی طرف ۔ اس سلسلے میں ایک کلیہ تو یہ اچھی طرح سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ معاشرہ مختلف طبقات پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر طبقے کی اپنی زبان ہوتی ہے ۔ (ہم زبان کی بنیادی اہمیت کے انکار کے بغیر یہ بات کہہ رہے ہیں ۔ مثلا پاکستان کی زبان اردو ہے لیکن پیشوں اور تعلیمی لحاظ سے ہر زبان اپنے خانوں میں بٹی ہوئی ہوتی ہے) تانگے یا رکشہ والا علیحدہ زبان بولتا، علیحدہ لہجہ اختیار کرتا اور علیحدہ تاثرات کا اظہار کرتا ہے۔ چنانچہ آپ ریڑھی پرآلو چھولے بیچنے والے کے منہ میں پروفیسر کی زبان نہیں ڈال سکتے۔ ابھی اگلے روز ہم ایک ڈرامہ دیکھ رہے تھے جس میں ایک جاہل اور ان گھڑ سی خاتون سے مصنف نے لفظ ،،قد غن،، کہلوایا تھا جو سرا سر غلط ہے کیونکہ اس طبقے کی عورت ایسے الفاظ نہیں بولتی اور اگر بولتی ہے تو ڈرامہ دیکھنے والا حیرت میں مبتلا ہو جاتا اور اس فن کا طالب علم ہکا بکا رہ جاتا ہے ۔ جہاں بغیر مکالمے کے کام چلتا ہو، وہاں مکالمہ ٹھونسنے کی بالکل بھی کوشش نہ کریں ۔ یہ کام ریڈیو والوں پر چھوڑ دیں جہاں ہر بات مکالمے سے واضح کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ چلیں، اسے ایک مثال سے سمجھتے ہیں ۔ فرض کیجئے دروازے پر دستک ہوتی ہے ۔ الف دروازہ کھولتا ہے ۔ دروازے پر بے کھڑا ہے جس نے سر پر گھڑا اٹھا رکھا ہے ۔ پہلے تو آپ الف کے چہرے کے تاثرات سے کام لیں گے اور پھر فقط اتنا کہلوا کر بات واضح کر دیں گے ۔
،،یہ ۔ یہ کیا ہے،،
یاد رکھیں کہ آپ کا ناظر تمام صورت حال کا شاہد بھی ہے چنانچہ مکالمہ بازی کا شوق آپ یہ کہہ کر بھی پورا کر سکتے ہیں کہ:
،،یہ تم نے سر پہ گھڑا کیوں اُٹھا رکھا ہے؟،،
دیکھا آپ نے دونوں میں کتنا فرق ہے ۔ ،،یہ تم نے سر پہ گھڑا کیوں اُٹھا رکھا ہے،، والے جملے کا سارا تاثر الف کے چہرے پر پیدا ہونے والے تاثرات سے پورا ہو گیا تھا تو صرف یہ لکھنا کافی ہوتا کہ ،،یہ۔یہ کیا ہے؟،،۔ یاد رکھیں تاثرات سے پیدا ہونے والی شدت کی جگہ لمبے سے لمبا مکالمہ کبھی نہیں لے سکتا تو بصری آرٹ ہونے کی وجہ سے آپ زیادہ سے زیادہ تاثرات سے کھیلیں اور مکالموں کو وہیں استعمال کریں جہاں ان کی اشد ضرورت ہو۔ یہاں ایک دلچسپ بات اور بھی عرض کرنا ضروری ہے ۔ ہمارا یہ ایشائی خطہ زیادہ باتیں کرنے والے افرادکی وجہ سے مشہور ہے جبکہ مغرب میں ،،ٹو دی پوائنٹ،، بات کی جاتی ہے تو اسی لئے اس کا اثر ہمارے ڈراموں اور فلموں میں بھی ملتا ہے ۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا ۔ اب ایک مثال اور لیتے ہیں ۔ ایک ماں پردیس سے آنے والے باپ کو بتاتی کہ اس کے بیٹے نے کسی ایسی جگہ شادی کر لی ہے جہاں والدین کسی قیمت پر نہیں چاہتے تھے ۔ اسے دو طرح سے لکھا جا سکتا ہے ۔
،،دیکھو۔آخر وہی ہوا ناجس کا مجھے اور تمہیں ڈرتھا ۔ اسلم نے ان کمینوں میں شادی کر لی ۔ میں تو کہتی ہوں ہمیں ایسی اولاد کو فورا عاق کر دینا چاہئے۔ دو دن میں صاحب زادے کے دماغ ٹھکانے آ جائیں گے،،۔وغیرہ۔

دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے ۔

،،اسلم نے وہیں شادی کرلی جہاں ہم نہیں چاہتے تھے،،۔

دیکھا آپ نے؟ بات کی ترسیل بھی ہو گئی اور مکالمہ بھی مختصر ہو گیا۔ یہاں کردار نے ،،مجھے اور تمہیں،، کو ،،ہم،، سے تبدیل کر دیا اور دیکھنے والا سمجھ گیا کہ ماں باپ دونوں اس شادی کے خلاف تھے ۔ یہ محض ایک مثال تھی ۔ سکرپٹ لکھتے وقت ایک رائٹر کو مکالمے کی بنت ایسے کرنا چاہئے کہ کم الفاظ کے استعمال سے زیادہ معلومات دیکھنے والے تک پہنچ سکیں۔ سکرپٹ کو ،،کِرپس،، کرنے کے لئے یہ سب بہت ضروری ہوتا ہے۔اُوپر کے پہلے مکالمے میں خاتون کردار نے ایک بیکار کتھاسنائی ہے۔ ایک ایسی کتھا جسے ڈرامے کی زبان میں verbosity کہا جاتا ہے ۔ آج کل چلنے والے وہ سیریلز جو بہ آسانی تیرہ قسطوں میں ختم کئے جا سکتے ہیں، اسی verbosity کا سہارا لے کر تیس یا اس سے زیادہ تک پہنچا دئیے جاتے ہیں ۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کردار بکواس کرتے رہتے ہیں،ناظر آواز بند کردیتا ہے اورکہانی وہیں کھڑی رہتی ہے۔ آخر میں یاد رکھنے کی چند باتیں:

0 مکالمہ مختصر لکھیں
0 اختصار کی کمی تاثرات سے پوری کریں
0 مکالمے کی زبان کردار کے پس منظر کے مطابق لکھیں
0 پہلے سے گزرے کسی واقعہ کی ترسیل کم و بیش انہی الفاظ میں کرنے سے گریز کریں
0 آسان ترین اور روزمرہ کی زبان لکھیں اور اپنی افلاطونی بگھارنے کی ہرگز کوشش نہ کریں
0 مجھے تم سے محبت ہے، مجھے پیار ہو گیا ہے جیسے گھٹیا اور بازاری جملوں سے اجتناب کریں اور اس اظہار کے لئے تاثرات سے کام لیں جو زیادہ طاقتور ذریعہ ہو تے ہیں ۔

آخری بات ۔ مکالمہ جتنا مختصراور جامع ہوگا، لفاظی کی گنجلک سے پاک ہوگا، اس کی ترسیل دیکھنے والوں میں اسی قدر سہولت سے ہوگی اور آپ ایک کامیاب سکرپٹ رائٹر ٹھہریں گے
#

سی کوئینس،سائی نوپسس اور سین

آج ہم سین اور سی کوئینس کے درمیان فرق سمجھنے کی کوشش کریں گے اور یہ بھی جانیں گے کہ سانی نوپسس کسے کہتے ہیں۔یاد رہے کہ ،،سی کوئینس،، بھی ایک سین ہی ہوتا ہے لیکن سین سے مختصر۔سی کوئینس کو سین میں کیسے انسرٹ کیا جاتا ہے، اس کا ذکر آگے چل کر ہوگا۔
لیکن اس سے پہلے ضروری ہے کہ سائی نوپسس کو سمجھ لیا جائے۔

اس کو واضح کرنے کے لئے آپ کو ایک مختصر سین کے ذریعے سمجھایا جائے گا۔ فرض کریں آپ درج ذیل سین لکھ رہے ہیں ۔

احمد: میں لاہور جانا چاہتا ہوں
ماں: کیوں؟
احمد: مجھ سے ثمینہ نے کہا ہے کہ وہ مجھے وہاں اچھی نوکری دلوا سکتی ہے
ماں: لیکن تمہیں کسی کی نوکری کرنے کی کیا ضرورت ہے؟ یہاں کی جائیداد کس کی ہے؟

اس سین کے سائی نوپسس میں آپ فقط اتنا لکھیں:

احمد جائیداد کا مالک ہونے کے باوجود لاہور جا کر نوکری کرنا چاہتا ہے ۔ ماں مخالفت کرتی ہے ۔

یاد رکھیں، یہ اتنا مختصر نہیں ہوگا۔ ہو سکتا یہ سین تین چار پانچ صفحات پر مشتمل ہو تو آپ اس سین کے اہم اور ضروری واقعات اپنی سائی نوپ سس میں اسی لحاظ سے بیان کریں گے ۔ اگر سکرپٹ ایڈیٹر کو آپ کے سائی نوپسس پسند آ جاتےہیں تو وہ آپ سے مکمل سکرین پلے کی فرمائش کر سکتا ہے ۔ یہ طریقہ در اصل مصنف اور پروڈکشن کمپنی دونوں کا وقت بچانے کے لئے استعمال ہوتا ہے ۔ چہ جائیکہ کوئی دس بارہ گھنٹے لگا کر آپ کا پورا سکرپٹ پڑھے، اسے سائی نوپسس دیکھ کر اندازہ ہوجاتا ہے کہ آپ کیا لکھنا چاہتے ہیں۔ ہمارے ہاں کسی زمانے میں ٹیلی وژن میں یہ طریقہ رائج تھا کہ مصنف اگلی قسط کے سائی نوپسس لکھ کر دیا کرتا تھا جن میں سکرپٹ ڈپارٹمنٹ کہانی یا پالیسی کے مطابق اگر چاہتا تو تبدیلیاں کر دیا کرتا تھا ۔ اب یہ طریقہ رائج نہیں ہے ۔ بس یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ آپ کے مکمل سکرپٹ کے اہم نکات سائی نوپ سس میں ویسے ہی بیان ہونے چاہئیں جیسے سٹوری لائن میں ہوتے ہیں تاکہ آپ کے مکمل سکرپٹ کو دیکھنے کی خواہش کا اظہار کیا
جائے ۔

سین کیا ہوتا ہے؟ اس کی لمبائی کتنی ہونی چاہئے؟

سین کے لغوی معنی سبھی جانتے ہیں ۔ ٹیلی وژن میں سین کہانی کی بصری صورت کے بہت سے حصوں میں سے ایک کو کہتے ہیں ۔ کہانی کو دکھانے کے بہت سے حصے جن کا تعلق کہانی کے آنے والے واقعات سے ہوتا ہے، اسی کا ایک حصہ سین کہا جا تا ہے۔ یہاں ایک اہم سوال پیدا ہوتا ہے ۔ سین کی طوالت کتنی ہونا چاہئے کیونکہ آپ ٹیلی وژن کے لئے جو بھی لکھتے ہیں اس کے لئے ایک وقت مقرر کیا جاتا ہے تو آپ کا لکھا ہوا ڈرامہ بھی ایک مخصوص وقت میں ختم ہونا ضروری ہے ۔ عموماً یہ وقت پچیس سے پچاس منٹ کا ہوتا ہے ۔ اس کا حساب ایک سین کے لئے اوسطاً تین منٹ کا نکال کر کر سکتے ہیں ۔ یعنی پچیس منٹ کے لئے کم و بیش آٹھ سے نو اور پچاس منٹ کے لئے سترہ سے بیس سینز لکھ سکتے ہیں ۔ اگر آپ ہاتھ سے لکھتے ہیں اور آپ کی لکھائی درمیانی درجے کی ہے تو بیس بائیس فل سکیپ صفحات لکھیں اور پچاس منٹ کے لئے چالیس سے بیالیس صفحات ۔ اگر کمپیوٹر پر ان پیج میں لکھتے ہیں تو پچیس منٹ کے لئے پندرہ سے اٹھارہ صفحات اور پچاس کے لئے کم از کم تیس صفحات ہونے چاہئیں (سنگل سپیس میں) ۔ شرط یہ ہے کہ آپ 16 کا فونٹ استعمال کر رہے ہوں ۔ یہ باتیں مجھے آخر میں لکھنا تھیں لیکن ذہن میں آ گئیں تو اسی وقت لکھ دیں۔ سین کے بارے میں چند ضروری باتیں:
سین کا تعلق ہر صورت میں کہانی سے ہونا چاہئے
سین کہانی کو مسلسل آگے بڑھانے والا ہو
سین کی طوالت بیزار کن نہ ہو
سین میں پہلے سے کہی باتیں ہرگز نہ دہرائی جائیں
ایک کامیاب سین وہ ہے جسے دیکھتے ہوئے ناظر کہانی میں ڈوبا رہے اور اگلے سین کا انتظار کرے۔
یاد رہے کہ ڈرامہ انسان کی لکھی ہوئی چیز ہے، جو انسانوں کے لئے لکھی جاتی ہے، اس واسطے اس کے کسی سین میں ،،ہوائی،، باتیں نہ ہوں تو بہتر ہے۔ آپ کا ڈرامہ دیکھنے والا آپ کے کرداروں سے ایک ذہنی اور قلبی تعلق قائم کر لیتا ہے ۔ اسے کسی صورت ٹھیس نہ پہنچائیں اور کسی پسندیدہ کردار سے ایسی کوئی بات نہ کہلوائیں جو اس کے کردار سے میچ نہ کرتی ہو۔سین لمبا کرنے کے لیے ،،تم نے یہ سوٹ کہاں سے لیا؟ہماری ملازمہ بہت چھٹیاں کرتی ہے یا پڑوسن حرام کی کمائی پر حج کرکے آئی ہیں،، وغیرہ قسم کے جملے ہرگز نہ لکھیں اور فوراً مطلب کی بات شروع کروا دیں۔

،،ڈرامائیت،، پیدا کرنے کے چکر میں کسی بڑے کردار کو کبھی چھوٹا نہ کریں
مثلاً ہم ایک ایسے ایماندار آدمی کی کہانی لکھ رہے ہیں جسے بےحد مجبوری کے عالم میں رشوت لینا پڑ جاتی ہے تو اس کا پس منظر دکھانا ضروری ہے ۔ آپ اسے اس کے گھر سے لے کر چلیں گے اور کچھ ایسے سینز تخلیق کریں گے جن سے دو باتیں ابھر کر سامنے آئیں ۔ وہ شریف آدمی ہے اور اس کو مالی مجبوریاں ہیں ۔ ان دونوں باتوں کے لحاظ سے آپ کو کہانی میں سین ڈویژننگ کرتے وقت اس کا گھر، گھر کے کردار اور اس مجبوری کو اچھی طرح واضح کرنا ہوگا تو آپ کو اس کے گھر کے (ایک یا ایک سے زیادہ، ضرورت کے مطابق سینز لکھنا ہوں گے) تو، آپ جب اپنی کہانی کو سینز میں توڑیں گے تو آپ کا پہلا سین اس کے گھر کا بھی ہو سکتا ہے جس میں مندرجہ بالا باتوں سے دیکھنےوالے کو واقف کروایا جائے گا، چنانچہ آپ لکھیں گے:

سین نمبر ایک
ان یا آؤٹ ڈور/احمد کا گھر/رات یا دن
کردار:

جب پہلے سین میں آپ اپنا مقصد واضح کر چکیں تو پھر دوسرا سین شروع کریں ۔ ہو سکتا ہے پہلے سین میں یہ واضح ہو جائے کہ وہ گھر سے سفر پر جا رہا ہے جہاں اس کو نوکری ملنے کی امید ہے ۔ آپ چاہیں تو ،،آؤٹ ڈور،، میں ایک میوٹ یعنی خاموش سین رکھ کر اس کی سفر کی تفاصیل واضح کر دیں (جیسے ریل یا بس کا سفر)ورنہ اسے اگلے سین میں انٹرویو کرنے والے شخص کے روبرو کر دیں، تو دوسرا سین یوں ہوگا۔

سین نمبر دو
ان ڈور۔دن۔ممنون حسین کا آفس
کردار: ممنون۔احمد۔ممنون کی سیکریٹری وغیرہ

اب آپ اسی طرح اپنی کہانی کے مطابق سینز بناتےچلے جائیں گے یہاں تک کہ آپ کی کہانی انجا م کو پہنچ جائے ۔ یاد رہے اس بات کا بہت سختی سے خیال رکھیں کہ کوئی سین فالتو نہ ہو یعنی ایسا نہ ہو جس کا کہانی سے کوئی تعلق نہ ہو ۔ مثلا آپ ،یونہی، اپنے کردار کو کسی چائے والے سے باتیں کرتا دکھا دیں کہ یار میں یہاں نوکری کی تلاش میں آیا ہوں ۔ ہاں، اگر آپ کو آگے چل کر اس چائے والے سے کوئی کام لینا ہو تو الگ بات ہے ۔

ایک ضروری بات ۔ یاد رہے کہ ابھی آپ نے اپنی کہانی کو سینز میں بانٹنا شروع کیا ہے۔ اسے لکھنا شروع نہیں کیا توابھی آپ سینز کی ڈویژننگ کر رہے ہیں ۔ یہ scene divisioning ہے۔ اگلہ مرحلہ screenplay کا ہوگا جہاں سے آپ کا اصل سکرپٹ عدم سے وجود میں آنا شروع ہو گا۔ امید ہے کہ ان دونوں کے درمیان فرق واضح ہوگیا ہوگا ۔

ایک اور یاد رکھنے کی بات ۔ جب کبھی ڈرامے کا آغاز کریں تو کوشش کریں کہ آپ کا پہلا ہی سین دیکھنے والے کو مسحور کر دے ۔ اسے ٹی وی کی زبان میں hook کرنا کہتے ہیں ۔ اب یہ کیسے کیا جاسکتا ہے، اس کی مثال کچھ یوں سمجھ لیں:

آپ کے ڈرامے میں ایک ایسا سین ہے جس میں دو موٹر سائیکل سوار لڑکے عورتوں سے پستول کی نوک پر زیورات وغیرہ چھینتے ہیں ۔ کوشش کریں کہ یہ سین سب سے پہلے آ جائے۔ یہ آپ کے ناظر کو چینل تبدیل کرنے پر کبھی آمادہ ہی نہیں کر سکتا کیوں کہ وہ یہ جاننے کا متمنی رہے گا کہ ،،پھر کیا ہوا؟،، تو، آپ کی دانست میں آپ کے ڈرامے کا جو سب سے زور دار سین ہو، اسے پہلے لکھیں ۔ آپ پوچھ سکتے ہیں کہ میرا یہ سین تو آٹھویں نمبر پر تھا، میں اسےسب سے پہلے کیسے دکھا سکتا ہوں؟ اپ کا سوال بجا ہے ۔ اس کے لئے ہم ،،فلیش بیک،، کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں ۔ یعنی وہ واقعہ جو کبھی ماضی میں گزر گیا اور کسی خاص کردار کو یاد آیا ۔ فلیش بیک کےسلسلے میں ایک بےحد ضروری بات یہ بھی ہےکہ آپ جس کردار کا فلیش بیک دکھا رہے ہیں، اس کا اس سین میں موجود ہونا ضروری ہے کیونکہ یہ بات ناقابل قبول ہے کہ زید اپنے فلیش بیک میں مسلسل بکر کو دکھا رہا ہے اور خود موجود ہی نہیں ہے! اپنی زندگی کا کوئی واقعہ یاد کریں لیکن کسی دوسرے کی یاد داشت کے سہارے! یہ نا ممکن ہے تو یہی تیکنیک فلیش بیک میں بھی استعمال کریں۔ فلیش بیک کے ساتھ ایک دوسری اصطلاح ،،فلیش فارورڈ،، کی بھی استعمال ہوتی ہے۔ یہ وہ واقعہ یا واقعات ہوتے ہیں جو کسی بھی کردار کے حوالے سے کسی عمل کے رد عمل میں پیدا ہو سکتے ہیں ۔ مثلا ایک آدمی جرم کرنے کا سوچتا ہے اور فلیش فارورڈ میں خودکو جیل میں دیکھتا ہے وغیرہ۔

کسی بھی سین کے اختتام پر ،،کٹ ٹو،، یا ،،ڈزالو،، لکھا جاتا ہے ۔ آپ ایسےہی لکھیں لیکن ضروری نہیں کہ آپ کا ڈائریکٹر یا ایڈیٹر اسی پر عمل ہی کرے تو آپ سین ختم کرنے کے لئے کچھ لکھیں ضرور تاکہ دو سینز کا وقفہ واضح ہو جائے لیکن اس کے ساتھ کیا کرنا ہے، یہ ڈائریکٹرپر چھوڑ دیں۔

جب آپ کہانی کے مطابق سینز کو مختلف واقعات کے حوالے سے ترتیب دے چکیں یعنی scene divisioning کر چکیں تو اسے ایک دو تین مرتبہ نہیں، دس بیس تیس مرتبہ غور سے دیکھیں ۔ اچھی طرح غور کریں کہ آپ نے جو سین جہاں رکھا ہے، واقعی وہی اس کی جگہ بنتی ہے ۔ اگر نہیں بنتی تو جگہ تبدیل کردیں ۔ پھر غور کریں ۔ پھر دیکھیں اور پھر غور کریں یہاں تک کہ آپ مطمئن ہو جائیں ۔ اپنے سکرپٹ کو اپنی لکھنے والی میز پر ایڈٹ کرنے سے آپ کے سکرپٹ میں نکھار پیدا ہو جائے گا اور وہ بہت ہی قابل قبول ہو گا ۔ اس معاملے میں سستی یا کام چوری کی بالکل بھی اجازت نہیں ہے ۔ یہ کام اتنا ضروری ہے کہ آپ اس میں گھنٹوں نہیں ہفتوں صرف کر سکتےہیں ۔ ایک مرتبہ آپ اپنے سینز کی ترتیب سے مطمئن ہو جائیں تو پھر لکھنا شروع کر دیں ۔ اب آپ مکمل سکرپٹ لکھ رہے ہیں یعنی اصل عمارت کی تعمیر کر رہے ہیں ۔ اس دوران بھی اس امر کا خصوصی طور پر خیال رکھیں کہ سبھی سینز اپنی ترتیب کے مطابق ہیں ۔ اکثر فائنل سکرپٹ لکھتے وقت کوئی خیال آجاتا ہے جسے آپ سکرپٹ میں شامل کرنا ضروری سمجھتے ہیں تو اس خیال کو فی الحال الگ سے لکھ کر رکھ لیں اور جب سکرپٹ مکمل کر چکیں تو پھر اس کی مناسب جگہ تلاش کریں اوراگر وہ اچھا لگتا ہے تو لکھ دیں ورنہ نہ لکھیں ۔

سی کوئینس کیا ہوتی ہے؟

سی کوئینس کے لغوی معنی ہم سبھی جانتے ہیں ۔ سی کوئینس بھی ایک سین ہی کو کہا جاسکتا ہے لیکن یہ چھوٹے چھوٹے واقعات کا ایسا تسلسل ہوتا ہے جو کہانی کو آگے بڑھاتا ہے اور انہتائی مختصر وقفے کا ہونے کے باوجود کہانی میں سس پنس کے عنصر کو بڑھاوا دیتا ہے۔ اس کی مثال کچھ یوں سمجھ لیں۔

آپ کے ایک کردار کی زندگی خطرے میں ہے ۔ کچھ لوگ اسے مارنا چاہتےہیں تو اپ اس بات کو لمبے چوڑے سینز میں لکھنےکے بجائے یوں لکھیں:

سی کوئیس 1:احمد پورچ میں آتا، کارسٹارٹ کرتا اور گیٹ سے نکل جاتا ہے (کٹ)
2: قاتل ری والور چیک کرتا اور جیب میں رکھتا ہے (کٹ)
3: احمد کی کار ٹریفک سے گزررہی ہے (کٹ)
4: قاتل اپنی گاڑی میں بیٹھتا ہے (کٹ)
5:احمد گاڑی پارک کرتا ہے (کٹ)
6: قاتل کار سے اُترتا اور تیزی سے عمارت کی سیڑھیاں چڑھتا ہے (کٹ) وغیرہ۔
سی کوئنس کے بارے میں ڈرامے کے پنڈت کہتے ہیں کہ دراصل یہ ایک ہی سین ہوتا ہے جسے مزید سینز میں توڑ دیا جاتا تاکہ طوالت سے بھی بچا جا سکے اور جو دکھانا مقصود ہو اس کی ترسیل بھی ہو جائے۔

سینز کے حوالے سے ایک اور ضروری اور آخری بات:
0 سین مختصر لکھیں
0 جامع جملوں یا ایکشنز سے بات واضح کرنے کی کوشش کریں
0 کسی سین کو کبھی نہ دہرائیں
0 جملوں کے بجائے تاثرات سے کام لینے کی کوشش کریں

اُمید ہے مندرجہ بالا اصولوں پر عمل کرکے آپ ایک اچھا سکرپٹ لکھنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔

پیس (PACE) کیا چیز ہے؟ ٹیلی ڈرامے میں اس کی کیا اہمیت ہے؟

کسی زمانے میں جب کہ ایک ہی چینل دستیاب تھا اور دیکھنے والے اُسی پر اکتفا کرنے پر مجبور تھے تو انہیں کچھ ایسا کام بھی برداشت کرنا پڑتا تھا جسے وہ دیکھنا نہیں چاہتے تھے لیکن اب ایسا ممکن نہیں اور ذرا سی ناپسندیدگی پر وہ چینل تبدیل کر دیتے ہیں ۔ اس کی کیا وجہ ہے؟ بہت سی وجوہات میں سے ایک پر یہاں بات کی جا رہی ہے ۔

یاد رکھیں آپ جب بھی ٹی وی ڈرامہ لکھیں، اس بات کا بطور خاص خیال رکھیں کہ واقعات کی رفتار قدرتی طور پر مناسب ہو ۔ نہ اتنی تیز کہ لوگ پچھلے واقعات کا تعلق آنے والے واقعات سے نہ جوڑ سکیں اور نہ ہی اتنی سست کہ وہ جماہیاں لینے لگیں اور کسی دوسرے کام میں مشغول ہو جائیں ۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو پھر آپ ایک ناکام سکرپٹ رائٹر ہیں ۔ ہم مثال کے طور پر ایک پچاس منٹ دورانیہ کا ٹیلی پلے لیتے ہیں ۔ یہاں سے کچھ ایسی تیکنیکی باتیں شروع ہوتی ہیں جن کا علم رائٹر یا پھر پروڈیوسر یا ہدایت کار کو ہوتا ہے۔ ان کا مجموعی تبصرہ دیکھنے والے کی طرف سے یہ آتا ہے کہ ،،بہت اچھا ڈرامہ تھا،، ۔ لیکن یہ ڈرامہ ،،اچھا،، کیسے بنا ۔ اس پوسٹ میں آپ کو یہی بتانے کی کوشش کی جائے گی ۔ آپ کا ناظر ایک ،،سین،، تین سے چار منٹ تک برداشت کر سکتا ہے اور اگر بیحد دلچسپ ہو تو پانچ سے چھے منٹ تک، اس سے زیادہ نہیں۔چنانچہ آپ کو اپنے پچاس منٹ دورانیہ کےسکرپٹ میں ہر پانچ چھے منٹ کے بعد ایک ،،واقعہ،، ڈالنا ضروری ہوتا ہے لیکن شرط یہ ہے کہ یہ واقعہ کہانی کو آگے بڑھانے میں بھرپور کردار ادا کرے ۔ اگر آپ نے ایک مرتبہ کی کہی یا دکھائی ہوئی بات کو دوبارہ کہا یا دکھایا تو وہیں آپ کے سکرپٹ کا بیڑہ غرق ہو جائے گا۔ پچاس منٹ کے سکرپٹ میں کم از کم چودہ اور زیادہ سے زیادہ سترہ سینز ہو سکتے ہیں اور کم از کم آٹھ ایسے واقعات جو کہانی کو آگے بڑھاتے بھی ہوں ۔ یاد رکھیں جتنا کہانی کا پیس تیز ہوگا، اتنی دلچسپی سے اسے دیکھا بھی جائے گا ۔ ہم نے ایسے سکرپٹس بھی دیکھے ہیں جن میں مصنف نے چار چار مرتبہ واقعات کی تکرار کی تھی! مثلا اگر آپ اپنے سکرپٹ میں ایک مرتبہ دکھا چکے ہیں کہ کچھ آدمی بینک لوٹنے کا پروگرام بنا رہے ہیں تو دوسری مرتبہ آپ اسے حوالے کے طور پر تو پیش کر سکتے ہیں لیکن دوبارہ وہی باتیں اور وہی منصوبہ سازی نہیں دکھا سکتے ۔ اس سے کہانی کا پیس سست ہو جائے گا اور دوسرے بات کو دہرایا جائے گا جو دیکھنے والوں کے لئے کسی صورت قابل قبول نہیں ہوگا کیونکہ وہ یہ بات پہلے سے جانتے ہیں اور کچھ ،،نیا،، دیکھنے کے متمنی ہیں۔ اگر مجبوراً ایسا کرنا بھی پڑ جائے مثلا کوئی نیا آدمی اس پروگرام میں شامل ہوتا ہے تو شروع سے طوطا مینا کی کہانی ہرگز نہ سنائیں بلکہ سین وہیں سے شروع کریں جہاں سے کوئی نئی تجویز سامنے آ رہی ہو۔ کسی کو یہ جاننے کے بعد کہ آپ کا کردار بینک لوٹنا چاہتا ہے، گزشتہ تفاصیل میں کوئی دلچسپی نہیں ہوگی چنانچہ اس سے احتراز کریں ۔ اپنی کہانی کو جب آپ سینز میں بانٹ رہے ہو ں (یعنی ڈرامے کی زبان میں scene divisioning کر رہے ہوں) تو وہیں سے کہانی کو آگے بڑھانے میں مدد دینے والے واقعات کو ترتیب دیتے چلے جائیں ۔ کوئی ایسا واقعہ جو دیکھنے والوں کے علم میں تو ہے لیکن کوئی کردار اس سے واقف نہ ہو، اسے بیان کرنے کے لئے Mute کرنے کا سہارا کبھی نہ لیں ۔یعنی دو کردار بندروں کی طرح فقط ہونٹ ہلا تے ہوئے مختلف تاثرات کا اظہار کر رہے ہوں اور ناظر کو یہ ،،سمجھانے،، کی کوشش کی جا رہی ہو کہ ان کے درمیان کیا گفتگو ہوئی ہوگی ؟یہ ایک انتہائی فرسودہ اور نا قابل قبول طریقہ ہے اور پیس کا دشمن بھی ۔ تو پھر آپ کیا کریں؟آپ جاننے والے کردار سے نہ جاننے والے کردار کو محض یہ کہلوانے پر اکتفا کرکے سین کٹ کر دیں کہ ،،میں تمہیں ساری بات بتاتا ہوں یا بتاتی ہوں!،، ۔ یاد رکھیں آپ کے واقعات جتنی مناسب رفتار سے چلیں گے اور آپ چھوٹے سینز میں جتنی زیادہ سے زیادہ معلومات اپنے دیکھنے والے کو پہنچائیں گے، اتنا ہی آپ کا شمار ایک اچھے سکرپٹ رائٹر میں ہوگا ۔تو ایک سکرپٹ رائٹر کیا کرے کہ اُس کی کہانی کے واقعات مناسب اور قدرتی ،،رفتار یا پیس،، سے چلتے رہیں اور اُس کا دیکھنے والا بھی نہ اُکتائے؟ یہ کام کرنے کے لیے آپ کو ایک مرتبہ پھر سین ڈویژنگ کی طرف واپس جانا پڑے گا۔آپ کو اپنے ناظر کو ساتھ رکھنے کے لیے دو کام کرنے ہوں گے۔ ایک تو آپ سینز کا دورانیہ کم رکھیں گے اور دوسرے کہانی میں واقعات تواتر کے ساتھ ڈالیں گے۔یہ طے ہو چکا کہ کچھ لوگ ایک بینک کو لوٹنے کی منصوبہ سازی کر رہے ہیں۔بار بار یہ بات نہ دہرائی جائے۔جب طے ہو گیا کہ وہ ،،کیا کرنے،،جا رہے ہیں تو اب اس بات کو مد نظر رکھیں کہ وہ یہ سب ،،کیسے،، کریں گے؟ اب آپ کو پے در پے ایسے واقعات ڈالنے ہوں گے جو ان کے منصوبے کو آگے بڑھاتے محسوس ہوں۔اُن کی اس سلسلے میں کی جانے والی کوششوں کا احاطہ کیجے مثلا وہ کن راستوں کا تعین کرتے ہیں جہاں سے فرار ہو سکیں۔بینک کے کسی ملازم کو اپنے ساتھ کیسے ملاتے ہیں۔اسلحہ فراہم کرتے ہیں۔دیکھنے والے کو ان سبھی معاملات میں بہت دلچسپی ہوگی اور وہ اُکتاہٹ محسوس نہیں کرے گا۔آج کل بہ وجوہ سیریلز تیرہ سے بڑھ کر تیس اور بعض اوقات پینتیس قسطوں تک پہنچ گئےہیں لیکن چونکہ کہانی میں اتنی گنجائش نہیں ہوتی تو رائیٹربیچارہ بیس بائیس قسطوں کے بعد ہانپ جاتا ہے اور پھر یہاں سے لفاظی اور ری پیٹیشن شروع ہوتی ہے جو پیس کی دشمن ہے اورناظر کو اُکتاہٹ کا شکار کر دیتی ہے۔ڈرامہ رائیٹنگ میں اس کا بھی شافی علاج موجود ہے لیکن لکھنے والے، سکرپٹ اپروو کرنے والے اور بسا اوقات ہدایات دینے والے بھی چونکہ ،،کام سیکھے،، ہوئے ہیں تو وہ سکرپٹ کی ان باریکیوں کو نہیں سمجھتے ورنہ سیریل پچاس قسطوں کا بھی ہو، ناظر کو بور نہیں کر سکتا لیکن اسے سمجھنےکے لیے ڈرامے کو سبقاً سبقاً پڑھنا ضروری ہے جس کی تکلیف کوئی نہیں کرتا اور میں یہاں لکھوں گا نہیں کیونکہ یہ اسباق صرف نئے لکھنے والوں کے رہ نمائی کے لیے ہیں اور ان کا کوئی تجارتی مقصد نہیں 😉

تو مختصراً ہم اپنے بات ان الفاظ پر ختم کرتے ہیں کہ ،،پیس،، کسی سکرپٹ میں لکھے سینز اور واقعات کی وہ رفتار ہے جو کہانی کو بوجھل نہ کرے اورکہانی
کےقدرتی انداز میں آگے بڑھنے کا تاثر قائم کرے

ٹیلی ڈرامہ اور مکالمہ

ڈرامہ فلم کی طرح ویژول آرٹ کی صنف میں آتا ہے یعنی وہ صنف جسے دیکھا جاتا ہے ۔ آپ اسے ایسا بصری فن بھی کہہ سکتے ہیں جس میں ،،کچھ کرکے دکھایا جاتا ہے،، اور لاطینی زبان میں ڈرامہ ،،کچھ کرکے,, دکھانے کو ہی کہتے بھی ہیں ۔ چونکہ ڈرامے یا فلم میں بہت سی جزئیات کرداروں کے عمل، رد عمل اور حرکات سے واضح کی جاتی ہیں تو مکالمے کی اہمیت کم رہ جاتی ہے لیکن اب ایسا بھی نہیں کہ سبھی کچھ مکالمات کے بغیر ہی واضح بھی کیا جائے ۔ ایک سکرپٹ کی تحریر کے دوران، ایک اچھا سکرپٹ رائٹر خود اندازہ کر لیتا ہے کہ اسے کہاں مکالمے کی ضرورت ہے؟ بلا سبب مکالمہ لکھنا سکرپٹ کے حُسن کو گہنا سکتا ہے اور اچھا بھلا ٹیلی سکرپٹ ایک ریڈیو سکرپٹ میں تبدیل ہو سکتا ہے۔
اس کے لئے آپ اپنا ایک چھوٹا سا امتحان خود بھی لے سکتے ہیں ۔ اپنے
لکھے ہوئے سکرپٹ کو بلند آواز سے دو صورتوں میں پڑھیں اور برابر کے کمرے میں ایک دوست کو متعین کردیں کہ وہ یہ سکرپٹ سنتا رہے ۔ آپ ڈائیلاگ یا مکالمے بولیں اور مثلا وہاں تک آ جائیں جہاں ایک کردار دوسرے کردار کو کوئی چیز دیتا ہے ۔ آپ بلند آواز سے یہ بھی کہیں:

،،اسلم یہ گھڑی مجھے دو،، ۔ پھر اپنے دوست سے پوچھیں کہ اس نے کیا سنا ۔ ظاہر ہے اس نے یہی سنا کہ ایک کردار نے دوسرے کو گھڑی دی تو وہ یہی بتلائے گا ۔ آپ اس امتحان میں فیل ہو گئے! اب اسی صورتحال کو یوں لیتے ہیں ۔

،،اسلم۔ ،،یہ،، مجھے دو،،۔

اپنے ساتھی سے پوچھیں کہ ڈرامے کے اس سین میں کیا ہوا؟ اگر وہ کہے کہ اُسے علم نہیں ہو سکا کہ ایک کردار نے دوسرے کو کیا،،چیز،، دی تو آپ کامیاب ٹھہرے ۔ جب آپ بصری طور پر اپنے دیکھنے والے کو ایک چیز دکھا رہے ہیں تو اس کا تذکرہ کرنے کی یوں ضرورت نہیں کہ آپ کا ڈرامہ دیکھنے والا اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ الف نے بے کو کیا چیز دی؟ اسے کہنے کی کوئی ضرورت نہیں۔ہم اکثر ڈراموں میں دیکھتے ہیں جہاں کردار ڈنکے کی چوٹ کوئی چیز دوسرے کو دیتے ہوئے اس کا نام لے رہے ہوتے ہیں ۔ یہ بالکل غلط ہے ۔

اب آئیے مکالموں کی طرف ۔ اس سلسلے میں ایک کلیہ تو یہ اچھی طرح سمجھ لینے کی ضرورت ہے کہ معاشرہ مختلف طبقات پر مشتمل ہوتا ہے اور ہر طبقے کی اپنی زبان ہوتی ہے ۔ (ہم زبان کی بنیادی اہمیت کے انکار کے بغیر یہ بات کہہ رہے ہیں ۔ مثلا پاکستان کی زبان اردو ہے لیکن پیشوں اور تعلیمی لحاظ سے ہر زبان اپنے خانوں میں بٹی ہوئی ہوتی ہے) تانگے یا رکشہ والا علیحدہ زبان بولتا، علیحدہ لہجہ اختیار کرتا اور علیحدہ تاثرات کا اظہار کرتا ہے۔ چنانچہ آپ ریڑھی پرآلو چھولے بیچنے والے کے منہ میں پروفیسر کی زبان نہیں ڈال سکتے۔ ابھی اگلے روز ہم ایک ڈرامہ دیکھ رہے تھے جس میں ایک جاہل اور ان گھڑ سی خاتون سے مصنف نے لفظ ،،قد غن،، کہلوایا تھا جو سرا سر غلط ہے کیونکہ اس طبقے کی عورت ایسے الفاظ نہیں بولتی اور اگر بولتی ہے تو ڈرامہ دیکھنے والا حیرت میں مبتلا ہو جاتا اور اس فن کا طالب علم ہکا بکا رہ جاتا ہے ۔ جہاں بغیر مکالمے کے کام چلتا ہو، وہاں مکالمہ ٹھونسنے کی بالکل بھی کوشش نہ کریں ۔ یہ کام ریڈیو والوں پر چھوڑ دیں جہاں ہر بات مکالمے سے واضح کرنے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ چلیں، اسے ایک مثال سے سمجھتے ہیں ۔ فرض کیجئے دروازے پر دستک ہوتی ہے ۔ الف دروازہ کھولتا ہے ۔ دروازے پر بے کھڑا ہے جس نے سر پر گھڑا اٹھا رکھا ہے ۔ پہلے تو آپ الف کے چہرے کے تاثرات سے کام لیں گے اور پھر فقط اتنا کہلوا کر بات واضح کر دیں گے ۔
،،یہ ۔ یہ کیا ہے،،
یاد رکھیں کہ آپ کا ناظر تمام صورت حال کا شاہد بھی ہے چنانچہ مکالمہ بازی کا شوق آپ یہ کہہ کر بھی پورا کر سکتے ہیں کہ:
،،یہ تم نے سر پہ گھڑا کیوں اُٹھا رکھا ہے؟،،
دیکھا آپ نے دونوں میں کتنا فرق ہے ۔ ،،یہ تم نے سر پہ گھڑا کیوں اُٹھا رکھا ہے،، والے جملے کا سارا تاثر الف کے چہرے پر پیدا ہونے والے تاثرات سے پورا ہو گیا تھا تو صرف یہ لکھنا کافی ہوتا کہ ،،یہ۔یہ کیا ہے؟،،۔ یاد رکھیں تاثرات سے پیدا ہونے والی شدت کی جگہ لمبے سے لمبا مکالمہ کبھی نہیں لے سکتا تو بصری آرٹ ہونے کی وجہ سے آپ زیادہ سے زیادہ تاثرات سے کھیلیں اور مکالموں کو وہیں استعمال کریں جہاں ان کی اشد ضرورت ہو۔ یہاں ایک دلچسپ بات اور بھی عرض کرنا ضروری ہے ۔ ہمارا یہ ایشائی خطہ زیادہ باتیں کرنے والے افرادکی وجہ سے مشہور ہے جبکہ مغرب میں ،،ٹو دی پوائنٹ،، بات کی جاتی ہے تو اسی لئے اس کا اثر ہمارے ڈراموں اور فلموں میں بھی ملتا ہے ۔ خیر یہ تو جملہ معترضہ تھا ۔ اب ایک مثال اور لیتے ہیں ۔ ایک ماں پردیس سے آنے والے باپ کو بتاتی کہ اس کے بیٹے نے کسی ایسی جگہ شادی کر لی ہے جہاں والدین کسی قیمت پر نہیں چاہتے تھے ۔ اسے دو طرح سے لکھا جا سکتا ہے ۔
،،دیکھو۔آخر وہی ہوا ناجس کا مجھے اور تمہیں ڈرتھا ۔ اسلم نے ان کمینوں میں شادی کر لی ۔ میں تو کہتی ہوں ہمیں ایسی اولاد کو فورا عاق کر دینا چاہئے۔ دو دن میں صاحب زادے کے دماغ ٹھکانے آ جائیں گے،،۔وغیرہ۔

دوسری صورت یہ ہو سکتی ہے ۔

،،اسلم نے وہیں شادی کرلی جہاں ہم نہیں چاہتے تھے،،۔

دیکھا آپ نے؟ بات کی ترسیل بھی ہو گئی اور مکالمہ بھی مختصر ہو گیا۔ یہاں کردار نے ،،مجھے اور تمہیں،، کو ،،ہم،، سے تبدیل کر دیا اور دیکھنے والا سمجھ گیا کہ ماں باپ دونوں اس شادی کے خلاف تھے ۔ یہ محض ایک مثال تھی ۔ سکرپٹ لکھتے وقت ایک رائٹر کو مکالمے کی بنت ایسے کرنا چاہئے کہ کم الفاظ کے استعمال سے زیادہ معلومات دیکھنے والے تک پہنچ سکیں۔ سکرپٹ کو ،،کِرپس،، کرنے کے لئے یہ سب بہت ضروری ہوتا ہے۔اُوپر کے پہلے مکالمے میں خاتون کردار نے ایک بیکار کتھاسنائی ہے۔ ایک ایسی کتھا جسے ڈرامے کی زبان میں verbosity کہا جاتا ہے ۔ آج کل چلنے والے وہ سیریلز جو بہ آسانی تیرہ قسطوں میں ختم کئے جا سکتے ہیں، اسی verbosity کا سہارا لے کر تیس یا اس سے زیادہ تک پہنچا دئیے جاتے ہیں ۔نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ کردار بکواس کرتے رہتے ہیں،ناظر آواز بند کردیتا ہے اورکہانی وہیں کھڑی رہتی ہے۔ آخر میں یاد رکھنے کی چند باتیں:

0 مکالمہ مختصر لکھیں
0 اختصار کی کمی تاثرات سے پوری کریں
0 مکالمے کی زبان کردار کے پس منظر کے مطابق لکھیں
0 پہلے سے گزرے کسی واقعہ کی ترسیل کم و بیش انہی الفاظ میں کرنے سے گریز کریں
0 آسان ترین اور روزمرہ کی زبان لکھیں اور اپنی افلاطونی بگھارنے کی ہرگز کوشش نہ کریں
0 مجھے تم سے محبت ہے، مجھے پیار ہو گیا ہے جیسے گھٹیا اور بازاری جملوں سے اجتناب کریں اور اس اظہار کے لئے تاثرات سے کام لیں جو زیادہ طاقتور ذریعہ ہو تے ہیں ۔

آخری بات ۔ مکالمہ جتنا مختصراور جامع ہوگا، لفاظی کی گنجلک سے پاک ہوگا، اس کی ترسیل دیکھنے والوں میں اسی قدر سہولت سے ہوگی اور آپ ایک کامیاب سکرپٹ رائٹر ٹھہریں گے

ٹیلی ڈرامے میں مکالمے کے ،،سکیل،، کی اہمیت اور ساخت
ٹیلی ڈرامے کی زبان میں Stress اور Pause سے کیا مراد ہوتی ہے؟

سکیل کے لغوی معنوں سے سبھی واقف ہیں۔ٹیلی ڈرامے میں جیسے کوئی جملہ بولا جاتا ہے، ویسے ہی لکھا بھی جاتا ہے ۔ اصولاً تو ٹیلی پلے کے لکھاری کی کوشش یہی ہونا چاہئے کہ اپنے سکرپٹ میں ،،سنانے،، کی بجائے ،،دکھانے،، پرزور رکھے کیونکہ یہ ایک بصری میڈیم ہے ۔ دکھانے کے ساتھ ساتھ چونکہ ناظر کو سنانا بھی ہوتا ہے تو مکالمہ اپنی جگہ انتہائی اہمیت اختیار کر جاتا ہے۔ اساتذہ کہتے ہیں کہ جملہ چھوٹا اور جامع ہونا چاہئے یعنی کم الفاظ میں زیادہ بات کی ترسیل کا حامل ہونا چاہئے اور یہ بات بہت حد تک درست بھی ہے ۔ مثالاً اسے یوں لیتے ہیں کہ اگر آپ تاریک اور بجلی چمکنے کے ساتھ ساتھ بادلوں کی گڑگڑاہٹ والی رات دکھا رہے ہیں تو اگر آپ کا کوئی کردار کہتا ہے کہ ،،اُف کتنی بھیانک رات ہے۔بادلوں کی گڑگڑاہٹ اور بجلی کی چمک نے برا حال کر رکھا ہے،، تو…….آپ کا کردار بکواس کر رہا ہے لیکن چونکہ یہ جملے آپ نے لکھے ہیں تو آپ بھی وہی کچھ کر رہے ہیں !! جب آپ نے رات کی کیفیت دکھا دی تو پھر آپ کا کردار اگر ضرورتاً اتنا ہی کہہ دے کہ ،،موسم بہت خراب ہے،، تو ان چار لفظوں میں ساری کیفیت کا بھرپور اظہار یوں ہو جائے گا کہ ناظر اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہے کہ موسم کیسا ہے؟ تمہیداً یہ بات کرنے کے بعد ہم اپنے اصل موضوع کی طرف لوٹتے ہیں ۔ ہم ایک دی ہوئی سچو ایشن کو نظر میں رکھتے ہیں ۔ مثال کے طور پر سین یہ ہے کہ ایک لڑکا ایک لڑکی سے وعدہ کر رہا ہے کہ خواہ اسے کتنی ہی دیر اس کا انتظار کرنا پڑے (ظاہر ہے ہمارے مقبول میعار کے مطابق شادی کے لئے) وہ اس کا انتظار کرے گا۔ سچو ایشن بتاتی ہے کہ یہ جملہ ادا کرتے وقت ماحول کیا ہوگا تو اس ماحول کو نظر میں رکھنا بہت ضروری ہے ۔ یہاں چونکہ پڑھنے والے دوستوں کو جملہ بول کر نہیں دکھایا جا سکتا تو ہم اس ،،زور،، اور وقفے کو سمجھنے کی کوشش کریں گے جو جملے کے حوالے سے ڈرامے کی دنیا میں stresses & pauses کے نام سے جانے جاتے ہیں ۔ مکالمہ ہے:

،،خواہ کتنی ہی دیر ہو جائے میں تمہارا انتظار کروں گا،،

آپ پہلے یہ مکالمہ سادہ طور سے بول کر دیکھئے جیسے محض اردو پڑھ رہے ہوں۔ دوسری مرتبہ اپنی طرف سے اسے ڈرامائی انداز میں بول کر دیکھئے ۔ شاید اب بھی بات نہیں بنی تو غور کیجئے کہ اس جملے میں ،،زور،، پیدا کرنے کا مقام کونسا بنتا ہے؟ ہم آپ کو بتاتے ہیں ۔ اس جملے میں ،،کتنی ہی،، پر زور ہوگا ۔ اب یہ جملہ ،،کتنی ہی،، پر زور دے کر بولئے تو آپ دیکھیں گے کہ جملہ بالکل ہی تبدیل ہو کر سنائی دے گا اور کردارکے عزم کا اظہار پختہ صورت میں دکھائی دے گا۔اسی کو ڈرامے کی زبان میں Stress کہتے ہیں۔اب آتے ہیں Pauseکی طرف۔پاز کسی جملے یا ڈرامے کی زبان میں ،،لائن،، کے درمیان ایک ڈرامائی خاموشی کو کہتے ہیں۔مثلاً ایک کردار دوسرے کو یہ بتا رہا ہے کہ اگر اُس کی اغوا شدہ بچی کو واپس نہ کیا گیا تو وہ کچھ بھی کر سکتا ہے۔جملہ ہے:

دلاور، یاد رکھنا کہ اگر شام تک میری بچی گھر نہ آئی تو (پاز) تو ہو سکتا ہے تم بھی اپنی اولاد سے محروم ہو جاؤ۔
یہاں ایک دو لمحوں کی خاموشی یا پاز ایک بھرپورڈرامائی تاثر پیدا کر سکتا ہے۔
تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ کسی ایک یا دو تین الفاظ پر stress یا ایک جملے کو
خاموشی کے وقفے(Pause) سے جوڑ کر ڈرامائی تاثر پیدا کیا جا سکتا ہے!

ویسے تو جملہ بولنا فنکار کا کام ہے لیکن جملہ کی ایسی constructionکرنا ادیب کی ذمہ داری ہے جس میں فنکار اپنے لئے وہ جگہ تلاش کرلے جہاں وہ اسے پر اثر انداز میں بول سکے۔ ہم نے ایسے سکرپٹ بھی دیکھے ہیں جہاں چار چھے جملوں کی لمبی عبارت میں فنکار کے لئے کوئی گنجائش نہیں چھوڑی جاتی تو اس کا دھیان رکھنا بہت ضروری ہے۔ یاد رہے کہ ایک دی ہوئی سچو ایشن میں بہت سے ایسے مقامات آتے ہیں جہاں فنکار کو اتار چڑھاؤ سے کام لینا پڑتا ہے اور یہی کسی مکالمے کا ،،سکیل،، کہلاتا ہے ۔ ایک اچھا فنکار جس موڈ اور مزاج میں کوئی مکالمہ بولتاہے تو باقی کی لائنوں میں اسے برقرار رکھتا ہے ۔ یہ اس لئے بتانا ضروری ہے کہ کئی مرتبہ ایسا ہوتا ہے کہ ایک طویل سین بوجوہ دو تین یا اس سے زیادہ قسطوں میں ریکارڈ کرنا پڑ جاتا ہے یا کام کے درمیان وقفہ آ جاتا ہے تو آرٹسٹ اگر وہی ،،سکیل،، برقرار نہیں رکھے گا جس کے مطابق اس نے بولنا شروع کیا تھا تو جب ایڈٹ ہو کر کام سامنے آئے گا تو مضحکہ خیز صورت حال پیدا ہو جائے گی ۔ اگر آپ ڈرامے دیکھنے کے شوقین ہیں تو آپ نے کتنی ہی مرتبہ یہ فرق محسوس کیا ہوگا ۔ یہ خرابی اکثر وہاں پیدا ہوتی ہے جہاں مصنف لمبے لمبے تقریری مکالمے لکھ دیتا ہے ۔ جیسا کہ ہم نے شروع میں عرض کیا اگر مکالمہ مختصر اور جامع ہوگا تو فنکار کے کسی آزمائش میں پڑنے کا بہت کم امکان ہوگا۔ تو آخری بات یوں کہی جا سکتی ہے کہ جملہ چھوٹا ہو، مختصر ہو اور گنجلک نہ ہو اور سب سے بڑھ کر یہ کہ اتنی آسان زبان میں ہو کہ پروفیسر صاحب اور ویگن ڈرائیور دونوں کی سمجھ میں آسانی سے آ جائے۔یہ کل والی مکالمے کی پوسٹ کے حوالے سے چند وہ باتیں تھیں جو درج ہونے سے رہ گئی تھیں۔اب ساتھ ہی ایک نیا موضوع بھی نمٹا دیتے ہیں اور یہ موضوع ،،سچو ایشن،، کے تعلق سے ہے۔

ٹیلی ڈرامے میں ،،سچو ایشن،، کی تلاش:

جب آپ کسی کہانی کو ڈرامائی شکل میں ڈھال رہے ہوں تو یہ بات یاد رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے کہ آپ اس میں جلدی جلدی ایسے حالات یا سچوایشنز پیدا کریں کہ دیکھنے والے کی توجہ کو مسلسل جذب کئے رکھیں یاد رہے کہ ایک مرتبہ دیکھنے والے کو اگر یہ احساس ہوگیا کہ آپ محض وقت گزاری کے لئے اُسے کچھ دکھا رہے ہیں تو پھر آپ کے پاس ایسا کوئی ذریعہ نہیں ہوگا کہ اسے چینل تبدیل کرنے سے روک سکیں ۔ سچوایشن کیا ہوتی ہے؟ اس کا سادہ سا جواب تو یہ ہو سکتا ہے کہ کرداروں کے درمیان (کردار محض انسانی ہونا ضروری بھی نہیں) ایسے حالات جن کا بظاہر کوئی حل دکھائی نہ دے رہا ہو اور جس کے حوالے سے دیکھنے والا خود کو دماغ لڑانے کے باوجود بھی بے بس محسوس کرے اور اپنی انسانی جبلت کے تحت مسئلے کا حل دریافت کرنے کے لئے بے چین رہے ۔ کہانی کی ڈرامائی تشکیل کرتے وقت ایسے کئی مواقع آ سکتے ہیں جب آپ سکرپٹ میں ایسی صورتحال پیدا کر سکتے ہیں جس کا حوالہ اُوپر دیا گیا ہے ۔ اس کے لئے آپ کو سکرپٹ میں ،،جگہ،، تلاش کرنا ہوگی ۔ آپ کی غفلت یا سکرپٹ پر بہت زیادہ غور و خوض نہ کرنے سے آپ ان جگہوں یا مواقع سے خود کو محروم کر سکتے ہیں ۔ ہم ایک سچو ایشن کو مثال کے طور پر پیش کرتے ہیں ۔ ایک لڑکا ایک ایسی لڑکی سے شادی کرنا چاہتا ہے جس کے باپ کو کوئی رشتہ پسند ہی نہیں آتا ۔ وہ دونوں اس صورت حال سے واقف ہیں لیکن اس کے باجود لڑکا کوشش کرتا ہے ۔ اب نتیجہ کیا نکلا، اس کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ ہم ناکامی کی صورت میں لڑکے اور لڑکی کی گفتگو دکھا سکتے ہیں جس میں لڑکا لڑکی کو اپنی ناکامی کی اطلاع دیتا اور دل گرفتہ دکھائی دیتا ہے لیکن اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم ایک زور دار سچوایشن سے اپنے دیکھنے والوں کو محروم کر دیں گے ۔ سوچیں صرف سادہ لفظوں میں اپنی ناکامی سے مطلع کرنا اور ایک بھرپور سین کی صورت میں، جس میں لڑکی کے باپ کا لب و لہجہ، انکار کا انداز، وجوہ، ممکنہ تمسخر، اس تمسخر کے نتیجے میں لڑکے یا اُس کے ساتھ جانے والی اس کی ماں کا رد عمل، لڑکی کی ماں کی بے بسی جو اس رشتہ پر آمادہ ہے لیکن شوہر کی وجہ سے مجبور ہے وغیرہ کتنافرق پیدا کر سکتی ہیں ۔ یہ سب ڈرامائی صورت احوال ہے اور اگر آپ ڈرامہ ہی لکھ رہے ہیں تو اس صورت حال کو استعمال نہ کرنا زیادتی ہوگی ۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ ،،جگہ،، یا سچو ایشن کیسے ڈھونڈی جائے اور مسلسل کیسے ڈھونڈی جائے کہ جب آپ کا کام سکرین پر چلے تو دیکھنے والا ایک لمحے کے لئے بھی اپنی توجہ ہٹانے سے خود کو قاصر پائے؟ اس کے لئے کوئی شارٹ کٹ نہیں ہے ۔ اپنی کہانی کا بھرپور مطالعہ اور اس مطالعے کے نتیجے میں وہ مقامات تلاش کرنا آپ کا کام ہے جہاں آپ کسی سچوایشن کو پا سکتے ہیں ۔سچو ایشن بہت طوالت کا متقاضی موضوع ہے، اس لیے اس پر شاید بعد میں مزید بھی لکھا جائے۔ابھی اسی کو سمجھنے کی کوشش کریں۔

نوٹ: بہت سے دوستوں نے ان باکس پر اپنے سوالات کے ساتھ یلغار کر رکھی ہے۔میرے لیے فرداًفرداً جوب دینا ناممکن ہے۔ویسے بھی یہاں سوالات کریں گے تو بہت سوں کو جوابات مل جائیں گے تو درخواست ہے کہ اس سلسلے میں جو بھی پوچھنا ہو یہیں پوچھ لیا کریں۔شکریہ۔

ٹیلی ڈرامے میں ٹریٹ منٹ Treatment کیا ہوتا ہے؟

یہ ایک دلچسپ موضوع ہے اور ہمارے ہاں اس کئی تعریفیں بھی ملتی ہیں۔آخر ٹریٹ منٹ کسے کہتے ہیں؟کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ سکرین پر ہدایت کار جو کچھ، جیسے بھی دکھا رہا ہوتا ہے، وہ ٹریٹ منٹ ہوتا ہے۔اگر یہ درست ہے تو پھر سکرین پر دکھائے جانے والے کرداروں کی حرکات کو ایکشنز کہنا غلط ہے یا درست؟ کہانی کو سینز کی صورت میں توڑنا ٹریٹ منٹ ہے؟ کسی حد تک یہ جواب درست ہے لیکن درست ترین جواب یہ ہے کہ ،،آپ کیاکہنا چاہتے ہیں اور کیسے کہنا چاہتے ہیں؟،،۔ اب اس ،،کیا،، اور ،،کیسے،، کو آپ کاغذ پر کیسے پھیلاتے ہیں کہ دیکھنے والا اس میں محو و مگن ہو جائے، اصل میں ٹریٹ منٹ کی روح یہی ہے۔اس پھیلاؤ کو ایسے سنبھالنا کہ طویل ترین ہونے کے باوجود دیکھنے والا اُکتاہٹ کا شکار نہ ہو، اصل ٹریٹ منٹ ہے۔بعض اوقات ایک کہانی میں کئی کہانیاں چل رہی ہوتی ہیں۔یہاں کہانیوں، کرداروں،ٹکراؤ یا conflict میں توازن، اچھے کردار جن کے ساتھ آپ کے دیکھنے والے نے ایک رشتہ قائم کر لیا، برے کردار جن سے ہر کوئی نفرت کر رہا ہے، کیسے سکرین پر دکھائی دیں، کیا کہیں،کیا عمل کریں کہ جن کا رد عمل کہانی کو مزید دلچسپ بنائے؟

ان سب حقیقتوں میں ،،توازن،، یا بیلینس برقرار رکھنا اچھا ٹریٹ منٹ ہے۔یہ نہ ہو کہ آپ کو ایک کردار سے اُنسیت ہو جائے اور آپ دوسروں کی پروا کیے بغیر اُس کے تابڑ توڑ سینز لکھتے جائیں!
بہت ہی آسان لفظوں میں ٹریٹ منٹ کو یوں بیان کیا جا سکتا ہے کہ یہ کرداروں کے ٹکراؤ،اُس کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات و واقعات اوراُنہیں پیش کرنے کا طریقہ اور سب سے بڑھ کر کہانی کے مقصد کو واضح کرنا یعنی تھیم کو کھول کر سینز اور کرداروں کے ذریعے بتانا ہے۔ہمارے ہاں چونکہ محدود اور مخصوص موضوعات پر ڈرامہ لکھنا رواج پا چکا ہے تو انسان اپنی زندگی میں جن مختلف حالات سے گزرتا یا اُن کا بہ نظر غائر مطالعہ کرتا ہے، وہ بہت کم کسی کہانی کا حصہ بنتے ہیں۔کہنے کا مقصد یہ ہے کہ زندگی کے کسی ایک خاص پہلو پر ڈرامہ لکھتے ہوئے آپ بہت کامیاب رہ سکتے ہیں اگر آپ بذات خود اُن سے دو چار رہے ہوں۔مثلا فوج کی نوکری، پولیس کی نوکری، کسی بینک میں کام کرنے کا تجربہ وغیرہ۔اس سے آپ کو ان تینوں شعبوں کا ماحول، وہاں کام کرنے والے کرداروں کی عادات اور ان کے زندگی کے بارے میں رویوں یا تجربوں کو لکھنے میں بہت آسانی ہو سکتی ہے (آپ نے دیکھا ہوگا کہ ساس بہو کے جھگڑوں والے سیریلز خواتین مردوں کی نسبت بہت سہولت سے لکھ لیتی ہیں) اس کی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مردوں کو خاندانی جھگڑوں سے خواتین کی نسبت کم دلچسپی ہوتی ہے اور وہ ان جھگڑوں اور سازشوں وغیرہ کو خواتین کے مقابلے میں اتنی چابکدستی سے نہیں لکھ سکتے۔کہانی میں دلچسپی پیدا کرنے کے لیے اس میں ایک مسلسل ٹکراؤ یا conflictکی فضا برقرار رہنا بہت ضروری ہے۔اپنے کرداروں اور بالخصوص مرکزی کرداروں کو مشکلات سے دو چار کریں۔مزید کریں اور یہاں تک کریں کہ ان مشکلات کا کوئی حل کم از کم دیکھنے والے کی سمجھ میں نہ آ سکے۔بس یہی وہ نکتہ ہے جہاں آپ کامیاب سکرپٹ رائٹر کہے جا سکتےہیں۔حالات کو اس نہج پر پہنچا دینا کہ خلاصی کی کوئی صورت دکھائی نہ دے آپ کے دیکھنے والے کو اپنی جگہ سے ہلنے نہیں دے گا اور وہ مسلسل اس تجسس کا شکار رہے گا کہ فلاں کردار اس مشکل سے کیسے نکلے گا؟یہاں ایک اور تجربہ بھی کیا جا سکتا ہے۔مشکلات کا حل دینے سے پہلے مزید مشکلات پیدا کیجئے۔اپنے کردار کو مزید دشواریوں سے دو چار کیجئے اور دیکھنے والے کے تجسس کو مزید ہوا دیجئے۔یاد رکھیے، آپ اپنے کرداروں یا کردار کو جس قدر مشکلات میں گھرا ہوا دکھائیں گے، آپ کا دیکھنے والا اُسی قدر تجسس میں مبتلا ہوگا۔وہ ہار مان لے گا کہ کم از کم اُس کی سمجھ میں کردار کا مشکلات سے نکلنے کا ہر دروازہ بند ہو چکا ہوگا لیکن پھر ایک اچھے سکرپٹ رائٹر کی طرح آپ دلیل کے ساتھ اور قابل قبول زمینی حقیقت سے جُڑا ہوا ایک ایسا حل پیش کیجئے جسے انسانی عقل آسانی سے تسلیم کر لے۔یہ وہ مقام ہے جہاں ہالی وڈ جیسے ادارے کے رائٹرز بھی ٹھوکر کھا جاتے ہیں۔آپ نےاکثر امریکن فلموںمیں دیکھا ہوگا کہ جب آتش فشاں پھٹ رہے ہوتے ہیں یا قاتلوں کا ایک گروہ ایک خوبصورت جوڑے کا تعاقب کر رہا ہوتا ہے تو کوئی ہوائی غبارہ، جہاز یا ہیلی کاپٹر رسی لٹکا کر اُنہیں اُچک لیتا ہے اور دشمن منہ تکتے رہ جاتے ہیں! یہ غیر فطری حل ہے لیکن چونکہ آپ ہمارے انہیں پرانے دھرانے موضوعات پر لکھنے جا رہے ہیں تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔اپنے کرداروں، کہانی کے واقعات،مشکلات اور مصیبتوں میں گھرے کرداروں کو اُن کی عادات، سمجھ بوجھ اور واقعات کے ذریعے پیدا ہونے والے رد عمل سے مشکلات سے نکالیے۔یاد رکھیں، اتفاقات کی بھرمار کسی بھی سکرپٹ کو تباہ کر دیتی ہے۔اتفاقات ہو سکتےہیں، اسی دنیا میں ہوتے ہیں لیکن ایک کہانی کار کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ قدم قدم پر اُن کا سہارا لے۔تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ کہانی کی تھیم کو واقعات،کرداروں اور اُن کے منفی یا مثبت رویوں سے برتنے کا دوسرا نام سکرپٹ کا ٹریٹ منٹ کہلایا جا سکتا ہے۔

ٹیلی پلے کے سکرپٹ کی صورت کیسی ہونی چاہئے؟

جو الفاظ آپ سب سے پہلے اپنے سکرپٹ میں لکھیں گے ان کا کوئی اردو ترجمہ میری نظر سے نہیں گزرا، اس لئے انگریزی پر ہی قناعت کیجے: پہلے الفاظ یہ ہوں گے۔

فیڈ ان:

اس کا مطلب یہ ہوگا کہ سکرین پر ایکٹی وٹی شروع ہو چکی ہے

اب آپ یہ الفاظ لکھیں گے

آؤٹ ڈور یا ان ڈور۔دن۔مقام

(یعنی کمرہ، ڈرائینگ روم، خواب گاہ یا بازار میں کوئی دکان وغیرہ ۔ ان ڈور یا آؤٹ ڈوراس مقام کو واضح کر دے گا جہاں آپ کا پلے شوٹ ہو رہا ہوگا یعنی آپ اگر آؤٹ ڈور لکھ رہے ہیں تو ظاہر ہے کہ کسی کی خواب گاہ آؤٹ ڈور نہیں ہو سکتی وغیرہ)۔

اس کے عین نیچے آپ اس سین میں کام کرنے والے کرداروں کے نام بھی لکھیں گے جیسے
نجمہ۔جواد۔ (زیادہ ہونے کی صورت میں مزید نام بھی)

(اس سے ڈرامہ کو عملی صورت میں پیش کرنے والوں کو پہلی ہی نظر میں اندازہ ہو جائے گا کہ اس سین میں کون کون سے کردار ہوں گے اور وہ اپنا شیڈول سہولت سے بنا سکیں گے)

عام زندگی میں جب بھی کوئی کردار کچھ کرتا ہے تو وہ اس کا ،،ایکشن،، ہوتا ہے ۔ ایکشن کرتے وقت سچوایشن کو مد نظر رکھنا بہت ضروری ہوتا ہے ۔ مثلاً اگر کوئی استاد تعلیم دے رہا ہے تو اس کا لہجہ آواز لگا کر مالٹے بیچنے والے جیسے نہیں ہوگا اور نہ ہی ایکشن ۔

اگر کردار کی عمر بھی لکھ دیں گے تو جو بھی اس پلے کی کاسٹنگ کر رہا ہے، یعنی کس کردار کے لئے کیسا ایکٹر ہونا چاہئے اس کو سہولت ہو سکتی ہے ۔ اسی طرح اگر آپ اپنے کسی خاص کردار کی کوئی خاص عادت یا پیشہ بھی لکھ دیں گے تو سبحان اللہ ۔ اب سکرپٹ میں دو باتیں ایک ساتھ چلیں گی، یعنی کردار کا مکالموں کی ادائیگی اور ساتھ ہی ایکشن۔

ایکشن کے لئے ضروری نہیں کہ ہمارا کردار میدان جنگ میں پینترے بدل بدل کر دشمنوں پر فائرنگ کر رہا ہو۔ ایکشن ان سینز میں بھی ہوسکتا ہے بلکہ ہوتا ہے جو کسی بیڈ روم میں ریکارڈ کئے جاتے ہیں ۔
اس کو یوں سمجھا جا سکتا ہے کہ ایک میاں بیوی میں بچے کے ،،فلاں،، کالج میں داخلےکے لئے بحث ہو رہی ہے ۔ اس سین کو لکھنے کی دو صورتیں ہو سکتی ہیں ۔ آپ انہیں بٹھا کر جملے بلوا دیں اور سین کو ،،لپیٹ،، دیں لیکن اس طرح سکرین پر ایکٹی وٹی دکھائی نہیں دے گی اور یہ بالکل ریڈیو ڈرامہ محسوس ہوگا ۔ بصری میڈیم میں جب تک چہل پہل نہ ہو، سکرین پر رونق دکھائی نہیں دیتی۔ چونکہ بحث ہوتی ہی وہیں ہے جب دو لوگ کسی بات پر متفق نہ ہو رہے ہوں۔ جب اتفاق نہ ہو رہا ہو تو آوازوں کا اُونچا نیچا ہونا، جسمانی زبان (باڈی لینگویج) سے مختلف کیفیات کا اظہار کرنا لازمی ہے تو آپ جب سین لکھیں گے تو اس کی صورت یہ ہوگی۔

نجمہ فریم ان ہوتی اور تلخی سے بولتی ہے:
،،فریم ان،، ہونے کا مطلب ہے کہ نجمہ کہیں باہر تھی اور اب کیمرے کے سامنے آئی اور آتے ہی اس نے بولنا شروع کر دیا۔اسی طرح کوئی کردار کیمرے کے سامنے سے ہٹ جائے تو اس کے لیے ،،فریم آؤٹ،، کی اصطلاح لکھتے ہیں۔

نجمہ: تمہارے بھائی نے بھی اسی کالج سے پڑھا تھا ۔ کیا ہوا؟ کیا کر لیا اس نے زندگی میں؟
جواد جو کھڑکی کے قریب کھڑا ہے۔گھومتا ہے۔

جواد کا رد عمل (ظاہر ہے یہ رد عمل خوشی بھرے تاثرات تو نہیں ہوں گے) جواد قدرے بلند آواز میں بولتا ہے۔

جواد: ہر وقت میرے گھر والوں کی مثالیں دینے مت بیٹھ جا یا کرو ۔

جواد غصےمیں بھرا کمرے سے جانے لگتا ہے ۔ نجمہ تیزی سے اس کے قریب جاتی ہے ۔

نجمہ: میری بات سنو۔دیکھو میرا یہ مطلب نہیں تھا (آگے اگرچاہیں تو مزید لکھ سکتےہیں)

جواد رکتا اور کرسی پر بیٹھ کر سر دونوں ہاتھوں میں تھامتا ہے ۔

جواد: سارا دن کام کی بک بک اور گھر آتے ہی تمہاری باتیں۔ میں پاگل ہو جاؤں گا کسی دن۔

نجمہ کا رد عمل:
مسکراتی اور جواد کے قریب بیٹھتی ہے ۔نرم لہجے میں بولتی ہے۔

نجمہ: اچھا چلو۔کوئی اور بات کرو

اس سین میں جملوں کے ساتھ آپ نے تقریبا وہ تمام ضروری ،،ایکشنز،، لکھ دئیے جو کسی دی ہوئی سچوایشن میں قدرتی رنگ میں پیش آ سکتےہیں ۔

آپ کسی سین کو دو طرح سے ختم کر سکتےہیں ۔ یا تو آپ ،،کٹ ٹو سین نمبر،، لکھیں یعنی آپ تجویز کر رہے ہیں کہ اس سین کے بعد اگلا سین شروع ہو گا یا ،،ڈزالو ٹو سین نمبر،، بھی لکھ سکتے ہیں لیکن اس سلسلے میں حتمی رائے پروڈیوسر کی ہی ہوگی تو آپ بلا تکلف کٹ ٹو سین نمبر لکھ دیا کریں ۔ لیکن ٹھہرئیے، ضروری نہیں کہ آپ ہمیشہ ایسا ہی کریں ۔ کبھی کبھی آپ کو ،،ڈزالو ٹو،، کی ضرورت بھی پیش آتی ہے لیکن اس کی مثال یہاں یوں نہیں دی جا سکتی کہ وہ آپ کو آپ کا تجربہ سکھاتا ہے۔

جب آپ کا ٹیلی پلے ختم ہو جائے تو آپ ،،کریڈیٹس،، ضرور لکھیں ۔ اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اب ان لوگوں کےنام وغیرہ دکھائے جائیں گے جنہوں نے ڈرامہ کی طوالت کے وقت کےبرابر لوگوں کو انٹرٹین کیا ہے یا ان کا وقت برباد کیا ہے۔

ایک بات یاد رہے۔دنیا میں لوگ اپنی سہولت کے مطابق سکرپٹ کو کوئی شکل دیتے ہیں۔ہمارے ہاں وہ پیٹرن اپنایا گیا ہے جو بی بی سی کا ہے ورنہ امریکن اور انداز سے لکھتے ہیں۔اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں جب ٹیلی وژن آیا تو ہدایت نامہ بی بی سی سے لیا گیا تھا لیکن وہ آپ کا مسئلہ نہیں ہے۔فی الحال آپ اپنا سکرپٹ اسی انداز میں لکھیں جس کا یہاں نمونہ دیا گیا ہے۔

ایک مرتبہ پھر سمجھیں:

فیڈان

سین نمبر

کردار

وقت

مکمل سکرپٹ

اختتام پر کریڈیٹس (یعنی ٹیم کے افرادکے نام وغیرہ)

یاد رہے ہر سین کےشروع میں ،،فیڈ ان،، نہیں لکھیں گے کیونکہ ڈرامہ شروع ہو چکا ہے۔

جب کریڈیٹس ختم ہو جائیں تو آپ ،،فیڈ ٹو بلیک یا فیڈ آؤٹ،، لکھ دیں ۔ اس کا مطلب یہ ہوگا کہ تماشہ ختم 🙂

یہاں ٹیلی ڈرامے کے سلسلے میں جو تحریریں لگائی گئیں وہ مختصر ترین تھیں۔ان کوتفصیل سے اور طالب علمانہ انداز میں پڑھنےکے لیے آپ بازار سے کتابیں خرید سکتے ہیں تاکہ آپ کو اس کے دیگر پہلوؤں کا بھی اندازہ ہو سکے۔اگر آپ کو روشنی،آواز اور اداکاری کے بارے میں بھی ابتدائی نوعیت کی معلومات ہوں گی تو آپ اپنا کام زیادہ بہتر طور پر کر سکیں گے۔یاد رہے ڈرامہ لکھنا محض جملہ بازی نہیں ہے کہ آپ کو جملے بنانا آ گئے تو آپ ڈرامہ رائٹر بن گئے۔

اب ایک ضروری بات۔یہ تحریریں صرف نئے لکھنے والوں کی رہنمائی کے لیے یہاں لگائی جا رہی ہیں۔کوشش ہوگی کہ اس سلسلے میں مزید کچھ بات بھی کی جا سکے اور پچیس منٹ،پچاس منٹ کے ساتھ ساتھ ،،سوپ سیریل،، پر بھی بات ہو لیکن وہ اتنا ضروری نہیں اور بعد میں بھی لکھا جا سکتا ہے۔فی الحال آپ ان تحریروں کی روشنی میں اپنا پہلا سکرپٹ لکھنے کی کوشش کریں۔

جاری ہے ۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ڈرامہ شرط ۔ عرفان مغل ۔ قسط نمبر 4 (ویڈیو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے