سر ورق / افسانہ / لہو کا رنگ … محمد ابرار گجر

لہو کا رنگ … محمد ابرار گجر

لہو کا رنگ

محمد ابرار گجر

علی، زیدی اور اکمل چھت پر بڑے جوش و خروش سے پتنگ اڑانے میں مصروف تھے-
علی ڈورکو پکڑے ہوئے لیڈ کر رہا تھا اور مسلسل بول رہا تھا،
"یار زیدی چھوڑ ڈور جلدی چھوڑ—- چھوڑ—-”
اکمل ساتھ کھڑا اوپرکی طرف منہ اٹھائے ہوئے آسمان میں چیل کی طرح  اڑتی ہوئی دوسری پتنگوں میں سے ایک پتنگ کی طرف دیکھتے ہوئے  جذباتی لہجے میں بول رہا تھا،
"آج اس کو نہیں چھوڑنا— پیچا لگا اور کاٹ دے اس کو، علی کاٹ دے”

گلی کے اس پار والے چوبارے سے دوسرے پتنگ بازوں کے ٹولے میں سے تیز ہوا کو چیرتی ہوئی  ایک پتلی سی مگر زوردار آواز آئی-
"اوئے بچا لے اپنی گڈی کو،
دوسرا بولا-
"یہ نہیں بچتی آج”
سب نے قہقہہ لگایا،
ادھرسے علی بولا-
"اوئے تو پیچا تو لگا پھر تجھے بتاتا ہوں کس کی کٹتی ہے-

اتنے میں صحن میں  چولہے کے قریب بیٹھی ہوئی روٹیاں پکاتے ہوئے  خالہ نے آواز دی-
علییییی آ روٹی کھا لے  ہر وقت گڈیاں اڑاتا رہتا ہے-
پیچا لگ چکا تھا ایک دوسرے کی ڈور کو کاٹنے کی کوشش جاری تھی- اسی دوران علی کو پتنگوں کے بیچ میں سے غباروں کے ساتھ اڑتا ہوا پاکستان کا جھنڈا نظر آیا جو کہ اڑتے ہوئے زمین کی طرف گر رہا تھا-

اس نے پیچا لگے ہوئے پتنگ کی ڈور وہیں چھوڑی اور تقریبآ دو میٹر اونچی چھت سے بھاگتے ہوئے زمین پر پڑی ہوئی کپاس کی لکڑیوں پر چھلانگ لگائی اور جھنڈے کا پیچھا کرتے ہوئے آخراس کو دبوچ لیا اوراسے چوم کرواپس گھر کی طرف بھاگتا ہوا آیا-
ساتھ میں اور بھی گلی کے کئی بچے شامل ہو گئے تھے-
علی جھنڈے کو لے کر گھر پہنچا تو سفینہ (علی کی خالہ زاد) بھاگتے ہوئے لمبی بانس کی سوٹی لے کر آئی اور علی کے ساتھ جھنڈے کو بانس میں فٹ کرنے لگ گئی-
خالہ نے علی کے قریب آ کر کہا-
"پتر تو پتنگیں اڑا بنٹے کھیل، جو کھیلنا چاہتا کھیل مگر تو روٹی تو ٹیم سے کھا لیا کر-
” روز مسیت سے آ کر گڈی اڑانے لگ جاتا ہے پہلے کچھ کھا تو لیا کر-

علی نے رسی کے ساتھ جھنڈے کو بھاندتے ہوئے جواب دیا،
"خالہ روز تو اسکول چلا جاتا ہوں، آج تو چھٹی ہے، چھٹی کے دن بھی پتنگ نہ اڑاؤں تو نہر سے مچھلیاں پکڑنے جاؤں؟
"ادھر بھی میری کنڈی میں تو ڈڈواور کچھوے ہی آتے ہیں- (اس نے خالہ کی طرف چراتی ہوئی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا اور سفینہ کی طرف دیکھ کر دبی سی ہنسی میں دونوں منه پر ہاتھ رکھ کر ہنس پڑے)

خالو جان وارد ہوئے اور حقے کا لمبا کش لگاتے ہوئے کہا،
"آج کونسا گڈا کاٹ لائے ہو نواب صاحب ذرا ہمیں بھی دکھاؤ-
"آج گڈا نہیں، اسکو لایا ہوں”
"زمین پر گر رہا تھا مگر نہیں گرنے دیا اور نہ کبھی گرنے دوں گا” (اس نے پر امید اور جوشیلی نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا)

خالو جان علی کے جواب سے حیران ہوئے اورپھر ذرا جھک کر اس کے قریب ہو کر کہا،
"اگر کبھی آندھی اور طوفان آ گیا تو؟’
"تو کیا خالو جان؟
"تو یہ گر بھی سکتا ہے”
"نہیں خالو جان! اس آندھی اور طوفان کو میں روک لوں گا اور اسکو نہیں گرنے دوں گا”
خالو جان نے علی کے سر پہ ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا-
"بیٹا اس طوفان کو روکنے کے لئے خود بھی گرنا پڑھ جاتا ہے”
"تو پھر کیا ہوا،
"کونسا بندہ مر جاتا ہے”
"آپکو عزیز بھٹی شہید کا نہیں پتہ اور راشد منہاس کا نہیں پتہ ؟
"وہ گر  کر مرے تھے کوئی؟
"تو اور کیا ہوا تھا؟
"وہ تو شہید ہوئے تھے، اور شہید کا مطلب زندہ، جو شہید ہوتا ہے اس کی لمبی عمرہوتی ہے، وہ کبھی مرتا ہی نہیں، میں بھی کبھی نہیں مروں گا،”

خالو جان نے نم آنکھوں سے کہا-
"یار تو نکا سا ہے ابھی، اور باتیں اتنی بڑی بڑی کرتا ہے،”
"بڑوں سے بڑی باتیں ہی کرتے ہیں خالو جان،”
"تو نے تو مجھے بھی اپنی باتوں کے آگے چھوٹا کر دیا ہے،”
"آپ کو بڑا کس نے کہا؟ بڑا تو یہ ہے،” (جھنڈا بانس میں فکس ہو گیا تھا، اس نے جھنڈا اونچا کرتے ہوئے  بھاگتے اور شرارت میں ہنستے ہوئے کہا)

"وہ بھاگتا ہوا چھت پر گیا اور جھنڈے کی فاؤنڈیشن بنا کر بانس کو اس میں گاڑھ دیا جو اپنی پوری آب و تاب سے لہراںے لگا اور چھٹی کے دن دوستوں کے ساتھ پتنگ بازی شروع کرنے سے پہلے جھنڈے کو سلیوٹ کیا جاتا،
اسکول میں اسمبلی کی طرح قومی ترانہ پڑھا جاتا اور پھر پتنگ بازی شروع ہو جاتی تھی، علی ابھی دس گیارہ سال کا تھا مگر اس کو جھنڈے سے بیحد پیارتھا،
وہ بچپن میں ہی بہت پھرتیلا اور تیز تھا، دیواروں چھتوں کو پھلانگنا اور دوڑ لگانا تو اس کے نارمل مشاغل تھے، وہ پانچ سال کی عمر سے لے کر میٹرک تک خالہ کے گھر رہا تھا،”

شام ڈھل چکی تھی، بارش ہو رہی تھی، بادل گرج رہے تھے، بجلی کی لہریں پوری کڑک اور چمک کے ساتھ زمین کو چھو رہی تھیں،
ایسے میں علی بار بار کمرے سے صحن میں جاتا اور اوپر جھنڈے کی طرف دیکھتا پھر واپس برآمدے میں آ جاتا-
وہ برآمدے میں آ کر کھڑا ہوا تو پاس کھڑی سفینہ نے اسے کہا-

"تم کل ابا سے وہ والی باتیں کیوں کر رہے تھے؟”
"کون سی وہ والی؟”
"وہ مرنے والی اور شہیدوں والی اور کون سی،”
"ایسی الٹی سیدھی باتیں کر کے آپ کو کیا ملتا ہے؟”
"یہ الٹی سیدھی باتیں نہیں ہیں، یہ سب سچی باتیں ہیں، اور مجھے جیسی آئیں گی ویسی ہی کروں گا، نہیں تو اورکون سی کروں پھر؟”
"آپ یہ باتیں بھی تو کر سکتے ہیں نا،
"یہ بارش کتنی پیاری ہے، یہ چڑیا بیچاری گھر کیسے جائے گی بارش میں، وہ دیکھو جگنو بارش میں نہا رہا ہے، آؤ ہم بھی نہائیں،”
اس کو سفینہ نے کھینچا اور بارش میں نہانے لگ گئے-

دس سال بعد

علی فوج میں سیکنڈ لیفٹننٹ بھرتی ہو چکا تھا،
مقام- فوجی چھائونی-
ایمرجنسی سائرن بجا، پریڈ کرتے ہوئے جوان فورا بھاگتے ہوئے ایمرجنسی ہال میں پہنچے-

کپٹن میپ پر چھڑی سے پر جوش بتاتے ہوئے،
"دشمن بھاری نفری اور اسلحہ کے ساتھ اس جگہ پر موجود ہے، اس کی کوشش ہے جلد سے جلد بارڈر کراس کر کے سید پور کا یہ علاقہ اپنے قبضے میں لے لیا جائے، مگر ہمارے جوان اس جگہ پر موجود ہیں، وہ کبھی بھی دشمن کو آگے نہیں بڑھنے دیں گے، انشاء الله،
اب ہمارا مشن یہ ہے کہ ہماری ٹائیگر فورس بارڈر کراس کر کے دشمن پر حملہ کرے، اسے یہاں سے بھاگ جانے پر مجبور کر دے، اس چوٹی پر اپنا جھنڈا لہرا دیا جائے، تا کہ دشمن آگے بڑھنے کی جرات بھی نہ کر سکے، اور انکی توپوں کے گولے انہیں پر برسا دیئے جایئں،”

سب نے کہا، یس سر!

"اور ذہن نشین کر لو یہ چھوٹی پہاڑی والا علاقہ بہت خطرناک ہے، ہمارا اصل مشن بھی اسی علاقے کو دشمن سے خالی کروانا ہے کیوں کہ اس پر قبضہ کرنے سے دشمن کی کمر ٹوٹ جائے گی،
تم میں سے ایک دستہ آگے جائے گا اپنی پوزیشن سمبھالے گا اور اسی طرح صورت حال کو دیکھتے ہوئے دوسرا اور تیسرا دستہ حملہ آور ہو گا، دشمن کو ناکوں چنے چبوا کر ہتھیار ڈالنے پر مجبور کر دے گا،
سب نے  کہا ‘یس سر!
لیکن علی چپ رہا، کیپٹن نے مڑ کر علی کی طرف دیکھا، اور کہا-
"علی——–”
"علی کھڑا ہو کر بولا ”
"سر سب سے پہلے  میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ مطلوبہ جگہ پر جا کر حملہ کروں گا، اور انشاء الله ہمیں دوسرے دستے کی ضرورت نہیں پڑے گی،”

کیپٹن سرفراز اور کیپٹن نوید ایک ہی وقت میں ایک ہی آواز میں بولنے لگے،
"سر——–”
"لیکن انکی آواز کو روکتے ہوئے علی کو حکم مل گیا، اور نعرہ تکبیر بلند ہوا،”

رات ہونے تک سب جوان اپنے مشن کے قریب پہنچ چکے تھے،

"علی نے اپنے جوانوں کے ساتھ دشمن پر ایسا وار  کیا کہ کچھ دشمن ڈر کر بھاگ گیا، اور کچھ پھنس گیا،  مگر بہت دیرتک لڑنے کے بعد علی کے بازو اور سینے پر تین گولیاں لگ گئیں،
اس کے باوجود علی مقابلہ کرتے ہوئے آگے بڑھتا گیا اور دشمن کی چوکی پر قبضہ کر لیا،
"بلیڈنگ بہت زیادہ ہو چکی تھی، علی جان چکا تھا کہ اس کی شہادت کا وقت آ گیا ہے، اس نے بازو پر لگا ہوا جھنڈا کھولا اور دشمن کی چوکی پر لہرا دیا، اور سلیوٹ کرتے کلمہ پڑھتے ہوئے علی نے آخری سانس لی،”

دشمن کی توپیں بند ہو چکی تھیں اور علی جیت چکا تھا-

فوجی آفس، فون کی گنٹھی-
"ہیلو! سر ہم نے دشمن کے علاقہ میں قبضہ کر لیا ہے، اور اپنا فلیگ دشمن کی چوکی پر گاڑھ دیا ہے، مگر سر——-سر وہ کپٹن علی کامیاب آپریشن کے بعد شہید ہو گئے ہیں سر-

آج علی کی منگنی بھی تھی، بنیر پر کوا بولتا جا رہا تھا-
علی کی ماں نے کوے کی طرف دیکھتے اور ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوے کہا-
"خیر خیر ہمیں پتہ ہے آج پرونے آ رہے ہیں،” اتنے میں ایک کبوتر آ کر بھی بیٹھا اور گٹگوں گٹگوں کرنے لگ گیا-

مہمان آ گئے، خالہ خالو اور سفینہ کی دونوں بہنیں مٹھائی کی سجی ہوئی ٹوکریاں لے کر علی کے گھر پہنچے، علی کے خاندان والے بھی اکٹھے تھے، اور خوشی سے سب کے چہرے کھل رہے تھے،

خالو جان، "بھئی آج ہم تو بہت خوش ہیں،”
خالہ جان، "من کی مراد جو پوری ہو گئی ہے،” (سب ہنسے)
علی کے ابا، "او بھئی ایویں منڈے کی تعریفیں ہی نا کرتے جو، میری تی رانی بھی تو لاکھوں میں ایک ہے،”

اچانک موبائل کی رنگ بجی، علی کے ابا نے کال پک کی،
اسلام و علیکم!
وعلیکم اسلام!
"کیپٹن علی غلام محمد دشمن کے ساتھ لڑتے ہوے شہید ہو چکے ہیں،”

"إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ،
علی کو الله پاک نے شہادت نصیب کر دی ہے، (وہ رکتے ہوئے مگر رعب دارلہجے میں بولا اور اس کے ہاتھ سے موبائل گر چکا تھا)

ماں کا کلیجہ ممتا کی محبت نے جنجھوڑ ڈالا تھا، نم اور جذباتی آنکھوں کے ساتھ سب نے شہید کے ماں باپ کو مبارک دی،
علی کی ماں نے مٹھائی کی ٹوکری اٹھائی اور سب کوکہنے لگی-
"لو کھاؤ مٹھائی کھاؤ میرے بیٹے کی منگنی ہے آج، ستر حوروں سے، اس کے سر پر الله نے شہادت کا سہرا بھی سجا دیا  ہے،
میرے بیٹے کی خواہش پوری ہو گئی میں خوش ہوں، میں خوش ہوں، میں خوش ہوں، ”

سب کا عجیب سا حال تھا، جوش و جذبہ، آنسو، دکھ اور خوشی نے ملکر سب کے چہروں کی عجیب کیفیت بنا دی تھی، اچانک بادل چھا گئے تھے، دھوپ چھاؤں میں بدل چکی تھی، نیم کے درخت پر چڑیاں چونک رہی تھیں،

کیپٹن علی غلام محمد کو فوجی اعزاز میں لا کر سپرد خاک کر دیا گیا، کئی سالوں بعد سفینہ کی شادی علی کے چھوٹے بھائی مبشر سے کر دی گئی تھی مگر سفینہ کو مبشر کے چہرے پر علی کا چہرہ ہی نظر آتا تھا،

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں* روما رضوی ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے