سر ورق / افسانہ / *سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں۔۔۔ روما رضوی

*سسکیاں*

روما رضوی

ریل کی سیٹی تهی یا ہارن اس کے  بجتے ہی ہجوم میں ایک ہلچل سی پیدا ہوگئ …سروں پہ سامان رکهے قلی اور  اپنے قدموں کی رفتار تیز کرتے مسافر سب ہی تقریباً دوڑتے ہوئے ٹرین میں چڑھ گئے…مختلف اجناس فروخت کرتے چهابیاں سر پہ اٹهائے مختلف سودے بیچنے والے  بهی تیزی سے ٹرین سے اتر رہے تهے بس ایک افراتفری کا سا عالم تها جو ٹرین چلنے کے دس منٹ بعد تک بهی جاری نظر آرہا تها ….
وہ جس ڈبے میں موجود تهی وہاں خواتین کی تعداد مردوں سے زیادہ تهی…ہلکے پھلکے جهٹکوں اور کچھ ہچکولوں کے ساتھ …اب مسافر بهی نشستوں پہ براجمان ہوچکے تهے…سامان کی ترتیب درست کرتے اور برتھ پہ قبضہ کرتے ہوئے  مرد حضرات  و خواتین کی تکرار میں بهی کمی آگئ تهی …شور بهی لگتا تها کہ اسٹیشن چهوٹنے کے ساتھ ساتھ کم ہوچلا تها …
"باجی تهوڑا سا ادهر کو بیٹهنے دو میرا اشٹیشن جلدی آنے والا ہے” ہاتھ میں گٹهڑی اٹهائے سیاہ آنکھوں والی گول مٹول خاتون نے بلا تکلف برابر بیٹهتے ہوئے کہا…
"ارے یہ میری بکڈ سیٹ ہے….”  یہ سن کہ بهی موٹی خاتون بیٹهنے سے باز نہ آئی ..
"کہا نا بس کچھ دیر کی بات ہے چند گھنٹوں کی ”
وہ اخلاقاً خاموش ہوگئ..
سامنے کی سیٹ پہ بیٹهی چند برقع پوش خواتین نقاب میں ہاتھ ڈال کہ مونگ پهلیوں سے محظوظ ہو رہی تهیں …نقاب کے باوجود انکے چلتے ہوئے جبڑے مونگ پهلیوں کو پیستے اور عجییب سی آواز پیدا کرتے محسوس کئیے جاسکتے تهے۔۔.اس پورے کمپارٹمنٹ میں … صرف وہ یا یہ ساتھ بیٹهی خاتون تنہا سفر کر رہی تهیں. .ورنہ  ہر ایک کے ساتھ کوئی نہ کوئی سر جوڑے کهاتا یا باتیں کرتا نظر آرہا تھا  …
ساتھ موجود خاتون نے خاصی جگہ گهیر کے اسے کنارے سے لگا دیا تها …وہ رات کے انتظار میں تهی کہ جب نیند آئے تو بالائی نشست پہ سو سکے گی ..
اب تقریباً شام ڈهل چکی تهی اور رات نمایاں تهی
"آپکا اسٹیشن اب تک نہیں آیا …؟ ”
"بس چند گهنٹے اور..میں تو  رحیم یار خان پہ اتروں گی… ”
خاتون نے اعتماد سے کہا …اور تم کہاں جاوگی ..؟
"میں.. لاہور!!” وہاں پڑهتی ہوں اور ہوسٹل میں ہی رہتی ہوں” عادتاً تفصیل ہی بتا دی
"اچها اچھا ماشاءاللہ … لڑکیوں کو پڑهانا بہت ضروری ہے کسی کی مجبوری نہیں رہتی …مرد کی زبردستی نہیں سہنی پڑتی.. خود عزت کی روٹی  کما کها لیتی ہیں..
کماتی میں بهی ہوں… پر…کس قدر زلت سے بتا نہیں سکتی”.اسکی آنکهیں کرب سے سکڑ گئیں…
"خیر!! تمہیں اس سے کیا …موج کرو ماں باپ کے روپے پیسے پر..ہمیں تو اپنے ماں باپ بهی خود پالنے ہوتے ہیں …یہاں تک کہ شادی کے بعد شوہر کا گهر بهی خود ہی چلانا  پڑتا ہے…”
میری  ایک نصیحت مانوں گی… کبهی اپنے آپ کو رشتوں کا مجبور نہ کرنا … یہ رشتے بہت خودغرض ہوتے ہیں صرف ضرورت کے … غرض سے بندهے ہوئے ..
یہ کیوں کہا…ضرور بتاوں گی ..سن سکو گی؟
۔

اس نے جواب کا انتظار کئے بنا بات جاری رکھی۔۔۔

"ہاں تو میں کہہ رہی تھی ماں نے میری شادی کی تو میں صرف پندرہ سال کی تهی …ساس نے جہاں کام پہ رکھوایا وہاں صاحب نے روپے  پیسے سے خوب مدد کی …لیکن میں پندرہ سال کی عمر میں ہی تیس سال کی عورت بن گئ…
جب ساس کو پتا چلا کہ میں …پیٹ سے ہوں تو مجهے مار مار کے ادهه موا کردیا… صاحب کے گهر سے زبان بندی کے نام پہ  روپیہ پیسہ بٹورا ..اور مجهے ماں باپ کے گهر پهینک آئ…
جب مجهے ماں باپ کی ہمدردی کی ضرورت تھی ..وہ بهی منہ موڑ گئے…  ایک بچہ گود میں تها … اور  میں بے سہارا … میں نے اسے بچانے کا فیصلہ کیا … ننهی گردن میں دم کہاں تها جو میری مضبوط گرفت کا مقابلہ کرتی …
سردیوں کی راتیں تھیں…جگہ جگہ کوڑے کے ڈهیر سلگ رہے تهے… میرے ہاتھوں سے پہینکی گٹهڑی پہ کسی کا دهیان تک نہیں گیا…بس ایک دم شعلوں میں اضافہ ہوا اور
لکڑیوں کے چٹخنے کی آواز… سنائی دی ..میں نے بس ایک سسکی لی او اسکو بچا لیا….” وہ خاموش ہوئ…اور سناٹے میں ٹرین ایک جھٹکے سے رک گئ…
رحیم یار خان آچکا تها…۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

آخر میں کہاں ہوں … احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر67 آخر میں کہاں ہوں احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت) …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے