سر ورق / افسانہ / تشنگی۔۔۔ رابعہ الرباء

تشنگی۔۔۔ رابعہ الرباء

تشنگی

رابعہ الرباء

نجانے کیوں مجھے لگتا ہے اُس حسن میں جادو نہیں، حسن وہ تلوار نہیں جو اندر کو کاٹ دے، بوٹی بوٹی کر دے، چیتھڑے اُڑا دے، خون بکھیر دے، روح کو دھڑکا دے، جسم کو فنا کر دے، مجھے لگتا ہے….کیونکہ میں نے بڑے بڑے حسین دیکھے جن کو دیکھ کر دل میں لالچ آتے ہیں۔ مگر جس قدر جلدی یہ لالچ، یہ ہوس پیدا ہوتا ہے اتنی ہی جلد یہ نشہ اُتر بھی جاتا ہے۔ میں نجانے کس دائمی نشے کی کھوج میں ہوں، جو نشہ اترے نہیں، میرے پورے وجود کو ہر وقت کاٹتا رہے۔ میرے ساتھ زیادتی کرے مگر اپنا حق سمجھ کر کرے۔ مجھے مار ڈالے مگر اس کو علم بھی نہ ہو کہ میں مر رہا ہوں، میرا سانس روک دے مگر یہ سمجھ کر کہ مجھے سانس دے رہا ہے، میرے وجود کو، میری روح کو، میرے بدن کو خون سے بھر دے کہ مجھے اس کا احساس ہوتا رہے، جیسے زخم پہ پانی کا، نمک کا، لمس کا، دوا کا احساس ہوتا ہے۔ یونہی مجھے اس کا احساس پل پل….ہر پل ہوتا رہے، اور ہر احساس اتنا ہی مختلف ہو جتنا پہلا قطرہ…. یہ قطروں سے بھرا وجود ہی میرے لئے حُسن ہے۔ جس کے ہر قطرے کا لطف الگ ہو، دکھن الگ ہو، کسک الگ ہو، چبھن الگ ہو، یہ ہے حُسن میرے نزدیک….!

مگر مجھے یہ آگ ابھی ملی نہیں….کہ جس پہ ننگے پیر چلوں…. برہنہ بدن لیٹ جاﺅں یہ سمجھ کر کہ میرے سب زخم بھر جائیں گے اور وہ اپنی آغوش میں سُلا لے گی۔

یہ تشنگی قطرہ قطرہ ہر پل میرے سوراخ بڑھا رہی ہے مگر میں بھی اس کے ساتھ وفا کئے چلا جا رہا ہوں کیونکہ کم از کم اس تشنگی میں وہ حسن ہے جو مجھے بھاتا ہے۔ میری کرچیاں کر دیتا ہے مجھے بکھیر دیتا ہے کہ میں سمٹ بھی نہیں پاتا مگر….!

مجھے اب بھی یہی لگتا ہے نہیں، ایسا نہیں ہو سکتا، نجانے کیوں مجھے یقین نہیں ہو رہا کہ یہ سب ممکن ہو سکتا ہے۔ میں کرچی کرچی بکھر رہا ہوں، ٹوٹ رہا ہوں کسی بم کے پھٹنے کے بعد کا منظر میرے اندر ہے کہ میرے ہی لوتھڑے، میرے ہی چیتھڑے خون آلود ہو کر میرے ہی اندر بکھرے پڑے ہیں۔ لیکن کسی رسکیو ٹیم کو اجازت نہیں ملی کہ وہ آئے اور سمیٹ لے کیونکہ ابھی ضروری سرکاری کارروائی ہونی ہے۔ میرے اندر ہر طرف خون ہی خون ہے کہ جس خون کو دیکھ کر ہر آنکھ پُرنم ہو جاتی ہے مگر میری آنکھ پتھرا گئی ہے۔

میں چاہتا ہوں وہ مجھے توڑ پھوڑ دینے والی،مجھے مار ڈالنے والی ہستی اک بار میرے سامنے آجائے، صرف اک بار میں اُسے باہوں میں سمیٹ لوں اور میرے بدن کا ہر مسام اس سے یہ التجا کرے کہ خدارا یا مجھے دفنا دو یا سمیٹ لو….!

مجھ پر یہ ظلم نہ کرو…. کہ میری خواہش تو پوری ہو جائے مگر میں پچھتاتا رہ جاﺅں….!

مجھے وہ نازک ہاتھ نہیں بھاتے جو بدن کو چھوئیں تو سرد لہریں بکھیر دیں۔مجھے ان تشنہ انگلیوں کی تلاش ہے۔ جس کی پوریں بدن کو سوئیوں کی طرح چیڑتی چلی جائیں اور اپنے نشان چھوڑ جائیں اور مجھے لگتا ہے اس کے ہاتھ ایسے ہی ہوں گے مجھے خون خون، زخم زخم کر دینے والے…. میرے بدن کو زخموں سے بھر دینے والے…. جن سے خون سسکیوں کی طرح رِستہ چلا جائے گا…. آہوں کی طرح سانس لے گا تو سارا وجود کھچاﺅ محسوس کرتا ہو گا۔ ابھی اُن ہاتھوں کے لمس سے میں واقف نہیں مگر میرا دل گواہی دیتا ہے۔ ان کی صداقت کی گواہی….نجانے کیوں دیتا ہے۔

زندگی جن اذیتوں اور تنہائیوں میں گزاری ہے میں نے، اس کے بعد…. شاید میں ان اذیتوں کا عادی وتمنائی ہو گیا ہوں کہ لگتا ہے جیسے اب اس کے بغیر گزر بسر ہو ہی نہیں سکتی۔ ان کے بغیر میں جی ہی نہیں سکتا۔

وہ مجھے صرف خوابوں خیالوں کی حد تک یاد ہیں میں نے ان کی محبت کو پہلی عورت کی باتوں میں محسوس کیا ہے۔ مگر میں ان کے محبت بھرے لمس کا ہمیشہ پیاسا رہا ہوں۔ پہلی عورت کا لمس مجھے تسکین تو دیتا ہے، سکون تو دیتا ہے مگر وہ لمس جو مجھے مضبوط سینے سے لگا کر طاقت دے سکتا تھا میں اس کی حسرت میں ہی رہا ہوں عورت کا لمس نرمی….اور مرد کا طاقت دیتا ہے مگر میں….میں اس تضاد سے نہیں بنا۔

میری ان حسرتوں نے مجھے بجری سے بنی دیوار بنا دیا ہے جو جتنی بھی مضبوط ہو مگر اندر سے ریزہ ریزہ، ذرہ ذرہ، حصہ حصہ ہی رہتی ہے، اور ہر ذرہ ہر حصہ اپنی علیحدہ شناخت رکھتا ہے، اور اپنا دُکھ خود اُٹھاتا ہے۔ وہ سیمنٹ میں مل جانے کے باوجود اکیلا رہتا ہے۔

پہلی عورت بتاتی ہے کہ میں ہوبہو اُن جیسا ہوں، ظاہر ہے وہ میرا نطفہ، میری ماں کا محور تھا۔ مگر اس پہلی حکومت نے مجھے جذبوں میں، عادتوں میں ان جیسا بننے نہ دیا جہاں میرے ورثہ نے سر اُٹھایا۔ اُس نے اِس پَھن کو مسل دیا۔ وہ مجھے کیا بنانا چاہتی تھی مجھے معلوم نہیں!

مگر یہ دوسری عورت کہتی ہے ”میں موجود میناروں سے مختلف ہوں تو شاید وہ مجھے ایسا ہی بنانا چاہتی تھی۔ مگر اس کو بھی پہلی عورت کا بنایا بت ہی پسند آیا۔ جہاں میرا موروثی پَھن نکلتا اُسے بھی وہاں بھلا نہ لگتا تھا۔ وہ بھی مجھے ویسا ہی کیوں دیکھنا چاہتی تھی….!

مگر میں پھر بھی ان دونوں عورتوں کی گرفت میں اتنی بُری طرح جکڑا ہوا ہوں کہ نکلنا بھی چاہوں تو بے بس و لاچار ہو جاتا ہوں۔ یوں لگتا ہے جیسے میں کسی پیڑ کو زمین سے جُدا کرنے جا رہا ہوں اور احساسِ جُرم مجھے….دَبا دیتا ہے۔

کیا یہ احساسِ جُرم تھا یا ان دونوں عورتوں کا بوجھ تھا۔ جنہوں نے مجھے گرفتار کر رکھا ہے۔ ایک نے مجھے کوکھ میں گرفتار رکھا اس کے بعد اپنی آغوش اور بانہوں کے شکنجے میں رکھا اور دماغ پر کالے ماضی کا راج رہا۔ اسی لئے مجھے معلوم ہی نہ ہو سکا کہ جمہوریت کا مزہ کیا ہے، آزادی کسے کہتے ہیں، میری زبان اور ذہن پہ ہمیشہ اُس نے بوٹوں والی حکومت قائم رکھی اسی لئے مجھے معلوم نہیں کہ ووٹوں والی حکومت کیا ہوتی ہے….؟

میں تو ووٹ دینے کے قابل بھی نہیں رہا کیونکہ میں کسی کو بھی ووٹ دوں میرے حاکم وہی رہیں گے۔

دوسری عورت نے مجھے اپنے خیالات کے دھاگوں سے بنائے جال میں گرفتار کیا ہوا ہے یہ اُن دھاگوں کا جال ہے جو بظاہر تو نازک لگتے ہیں مگر جب میں انہیں توڑتا ہوں تو ان میں مزید الجھ جاتا ہوں اور نکلنے کا کوئی رستہ دکھائی ہی نہیں دیتا۔

میں سانپوں کے اس جوڑے کی طرح کچھ پَل آزادانہ گزارنا چاہتا ہوں جو تنہائی میں ایک دوسرے کو ڈستے ہی رہیں۔ مگر کسی پر کسی کا زہر اثر نہ کرے۔ مگر اچانک کوئی انہیں بیدار کر دے، جگادے، اس گہری نیند سے، اس نشے سے کہ جس میں وہ ایک دوسرے کو ڈستے رہے تھے۔

شاید….کبھی سوچتا ہوں کہ مجھے اس چھلاوے کی تلاش ہے کہ جس سے نفرتیں، دشمنیاں جنم لیتی ہیں۔ مگر یہ شعور کے ناہونے کی دلیل ہے اور نکلا تو میں شعور کی تلاش میں تھا لیکن کھو شاید لاشعور کے رستے پرگیا ہوں۔ یہ بھی ممکن ہے کہ مجھے تحت الشعور کی منزل پہ اس خلیج کے بعد قدم رکھنا ہے۔

مگر میں ان دونوں عورتوں کے درمیانی فاصلے، رستے اور منزلوں سے نکلوں تو کہیں اور کا سفر کروں۔ میں تو خود ان دونوں کی تلاش کے سفر میں اتنا مگن ہو جاتا ہوں کہ کبھی کبھی خود کی نفی کردیتا ہوں۔

کیا کمال لوگ تھے، کیا خوب باتیں کرتے تھے، کسی کی بھی تحریر اُٹھا لو…. ان میں سے ہر بندہ خدا عورت کی زبان میں شاعری کر رہا ہے….! ہائے کون جانے کہ یہ عورت کی زبان سے ان کے اظہار سے شعر کا مطلب زندگی ہے، زیست ہے، تخلیق ہے، وجود ہے، موجود کا احساس ہے اور ناموجود کی امید، ناموجود کا پیام ہے۔ اُف اگر یہ سب اس چکر میں گرفتار ہیں تو میرا اصل چکر بھی تو یہی ہے۔ ان دو عورتوں کا چکر….!

وہ دوسری عورت جو کچھ دن کے بعد میرے کمرے میں بھی آجائے گی، میرے خیالوں کے دھاگوں والی عورت اور پھر اس کے وجود کے حصے میرے گھر کو بھر دیں گے۔ شاید اس کی یہ مستقل موجودگی مجھے ناگوار بھی گزرے، مگر پہلے والی عورت کے ہاتھوں مجبور ہو کر مجھے اس ناگواری کو گوارہ کرنا پڑے گا۔ کیونکہ پہلے والی عورت نے مجھے ایسا بنا دیا ہے اور دوسری بھی یہی چاہتی ہے۔

مگر پھر بھی کبھی کبھی سوچتا ہوں کہ میں خود کہاں ملوں گا خود سے۔ تو یہ سوچ مجھے صفر کر دیتی ہے۔ نفی کے سارے درجے پار کرنے کے بعد بھی مجھے مثبت کا کوئی جواب ہی نہیں ملتا۔ تب مجھے معلوم ہوتا ہے کہ میں نے اسی اصل کو جان کر، پہچان کر اس کے و جود کو ہی کچل کر مسل کر رکھ دیا ہے تاکہ اس کو یہ معلوم نہ ہو جائے کہ مجھے علم ہو گیا ہے کہ میرا وجود دو کی نفی کے بعد بھی مثبت رپورٹ نہیں دیتا۔ اس لئے میرے پاس اپنے وجود کی پہچان کا فقط ایک ہی رستہ رہ جاتا ہے اس کے وجود سے انکار…. اور پھر میں کر دیتا ہوں۔

جب یہ چال چلتا ہوں تو سارے کا سارا الزام، ساری تہمت ابلیس پہ لگا دیتا ہوں۔ مگر تنہائی میں کبھی کبھی اس کی خوشامد بھی کرتا ہوں تو کبھی اس سے معافیاںمانگتا ہوں تو وہ ہنستا ہے مجھ پر، قہقہے لگاتا ہے اورمجھے لگتا ہے کہ اس کے قہقہوں میں ایک آواز اک صدا آرہی ہے۔ ”بس…. اسی لئے تو میں نے تیرے وجود سے انکار کیا تھا۔“

اس کے یہ جملے بھی مجھے اشراف کی منزل سے جب نہیں گراتے تو میں خود پہ فخرکرنے لگتا ہوںتب اس متکبر کی چادر ہاتھ آجاتی ہے۔ اس کی پکڑ میں آجاتا ہوں۔ اس کی سزا کے نرالے انداز مار دیتے ہیں کہ وہ بظاہر قید بھی نہیں کرتا مگر اندر سے زنجیریں پہنا دیتا ہے۔

مگر میں آزاد ہونا چاہتا ہوں، بالکل ویسا آزاد کہ جب پہاڑ روئی کے گالوں کی طرح اُڑیں گے، جب کسی کو کسی کی خبر نہ ہو گی، کسی کو کسی کی پہچان نہ رہے گی کہ ہر کوئی اپنے وجود کی پکڑ میں ہو گا۔ میں اتنا آزاد ہونا چاہتا ہوں لیکن میں صرف یہ سوچ ہی سکتا ہوں شاید….کیونکہ میرے وجود پر وہ ایمرجنسی نافذ ہے کہ جو نہ تو اعلانیہ ہے اور نہ ہی بازنجیر و سلاسل، شاید اسی لئے میرے اعصاب شل ہو چکے ہیں۔ میرا وجود بھی تنفس سے بے خبر ہوتا جا رہا ہے۔ میرے جذبوں کو بھی کاربن ڈائی مِل رہی ہے۔ آکسیجن یاتازہ ہوا سے میرے پھیپھڑے ناآشنا ہو کر داغ دار ہو چکے ہیں، سکڑ گئے ہیں کہ اب لگتاہے اگر میں کُھلی فضا میں چلا گیا تو دم گھٹنے سے مر جاﺅں گا۔

میرا وجود اب بھی بے جان سا ہوتا ہے۔ جیسے روح کے بغیر ہو، روح تو وجود کو زندہ رکھتی ہے مگر میری روح مر چکی ہے۔ وجود کو زندہ چھوڑ کر، میرا وجود مرتا نہیں یہ اس عورت کی طرح سفر کر رہا ہے جو نہ محبوبہ ہوتی ہے نہ بیوی، مگر ایک دھار تلوارِ الفت پر ننگے پیر کسی آس میں چلے جاتی ہے کسی بے نام تعلق کے سبب، کسی بے نام کشش کے سہارے، کوئی بے نام رجائیتِ حسرت لئے، مگر اس کے بعد اس کا سفر انتظار میں بدل جاتا ہے۔ جس کے لمحے صدیوں پر محیط ہوتے ہیں اور عمارت کی بنیادیں تک ہلا کر رکھ دیتے ہیں۔

پھر جب یہ گھڑیاں ختم ہوتی ہیں تو تاج سروری بھی خاک کفِ پا بن چکا ہوتا ہے۔ میں یہ ساری منزلیں پار کر چکا ہوں۔ مجھے یہ دعویٰ تو نہیں میرا قیاس ہے کہ میں ان تمام مدارج سے گزر چکا ہوں اسی لئے خالی پیپا بن گیا ہوں یا بوجھ تلے دب گیا ہوں۔

عورت مرد کے وجود کی کائنات بدل دیتی ہے کیونکہ وہ Refined شے سے بنی ہے مرد کی طرح اللہ نے اُسے مٹی اُٹھا کر نہیں بنا دیا۔ شاید سچ ہو، ایسا ہی ہو….!

ہاں جب وہ قہقہہ لگاتی ہے تو اس کے قہقہے کی کھنک میں مجھے پوری کائنات ہنستی دیکھائی دیتی ہے۔ ہر شے جاندار لگتی ہے۔ خوشنما، بہار رنگ، جس کی ہنسی میں اتنی بہار ہے۔ اس کے وجود کا عالم کیا ہو گا یہی امید…. فقط اک یہی کلی ہے جو شاید میرے آنگن میں کِھل اُٹھے اور میرے وجود کو گلستان میں بدل دے۔

لیکن پھر بھی میرا یہ انتظار محبوبہ عورت یا ترسے مرد کا سا نہیں۔ دھیرے بہتی ندی کا سا ہے جس کو یہ علم ہے کہ وہ سمندر سے یا تو مل جائے گی یا پھر کسی مٹی میں کسی زمین میں فنا ہو جائے گی بصورت دیگر دونوں حصوں میں بٹ جائے گی۔ یہاں طوفان کا کوئی شائبہ نہیں ہوتا کیونکہ کہیں کوئی بند، کوئی رکاوٹ، کوئی ڈیم کا ڈنڈا راج نہیں۔ صرف فطرت کا، صرف قدرت کا چلن ہے میرے انتظار میں۔ شاید یوں بھی میرا وجود طوفانوں کے ستم کے قابل نہیں….!

یہ فطری بہاﺅ ہی تو مقدر کو سکندر کئے ہوئے ہے لیکن کبھی کبھی خیال کا خالق اسے بدل دیتا ہے کہ میرے وجود کو کانٹوں کی تمنا ہونے لگتی ہے، خود اذیتی کی خواہش….زندگی کے احساس کے لئے….!

زیست ہو نہ ہو مجھے زیست کی خواہش تو ہوتی ہے۔ اسی بہاﺅ میں میرا انتظار ختم ہو گیا اور آج وہ میرے پھولوں والے کمرے میں گل داﺅدی بنی بیٹھی ہے…. وہ خاموش ہے۔ اس کی آنکھیں جھکی ہوئی ہیں مگر مسکراتی معلوم ہوتی ہیں۔ لیکن میرا دل چاہتا ہے وہ قہقہے لگائے جس کی کھنک چھنک میں، میں جاندار ہو جاﺅں، جاگ اُٹھوں….!

اس کے ہاتھ، اس کے بازو بہت گداز ہیں اور میرا بدن سانس لینے لگا ہے اس کے لب و رخسار سرخ و گرم ہیں۔ اس کے بدن میں حدت ہے۔ وہ بھرپور زندگی ہے۔ بھرپور وجود اور پھر اس نے مجھے زندگی دے ہی دی۔ لیکن میں بدلے میں درد دے سکا۔ وہ درد کہ جس میں تکمیل انسانیت ہے۔ کیا کرتا تکمیل انسانیت کے تقاضوں میں درد فطرت کا لازمی جزو ہے۔ میں تو اس قدرت کا بہتا پانی ہوں اور ہنور دلی دور است (ابھی تکمیل مقصد میں دیر ہے) کا مرتب نہیں ہونا چاہتا۔ بس جو ہو رہا ہے۔ ہونے دو کا قائل ہو چکا ہوں۔

میرا دل اب ہر کام کو چاہتا ہے لیکن پھر بھی میں بہت کچھ نہیں کر پاتا۔ صرف سوچ کی، تصور کی حد تک ہی کر پاتا ہوں۔ پہلے والی عورت نے مجھے جمہوریت کی بے باکی سے نوازا ہی نہیں، دوسری بھی….!

میں نے بھی تو کالے کوٹ کی تعلیم حاصل کر کے کالاکوٹ نہیں پہنا، مجھے لگتا ہے مجھے صرف نوکری کرنا تھی سو کر لی، جس نوکری میں نوکر ہوں صرف….اپنا بھی نوکر…. کیونکہ غلامی سے دم گھٹنے لگتا ہے۔ سو میرا بھی گھٹتا ہے۔ مگر میری مجبوری بھی ہے کہ اس زیست کو زیست کرنے کے لئے جتنے کاغذوں کی ضرورت ہوتی ہے اس غلامی ضمیر کی بدولت ہی نصیب ہو سکتے ہیں۔

بہت سے دن بہت سی راتیں میں نے بھرپور زندگی کے ساتھ گزارے مگر اب پھر سے وہی پہلے والی کیفیت نمودار ہونے لگی ہے۔ پھر سے وہی بے ثباتی، وہی تمنائیں، وہی حسرتیں، وہی آزوئیں، وہی مردہ وجودی، وہی مردہ بدنی….!

گورکی کا ”ماں“، ”اداس نسلیں“، ”آگ کا دریا“، ”تھریسا“، ”ایسی بلندی ایسی پستی“، ”ٹوبہ ٹیک سنگھ“، ”سوراج کے لئے“، ”قتل و خون کی سرخیاں“، ”یوم استقلال“، ”انقلاب پسند“، ”1919ءکی ایک بات“، ”لاجونتی“، ”گڈریا“، ”وار اینڈ پیس“، ”خیمنی“، ”گوربا چوف“، ”کینیڈی“ کیا کیا کو نہیں پڑھا مگر پھر بھی…. وہی…. دماغ…. ذہین خلاﺅں میں، جسم مردہ….جو بھی تھا میں اپنے محور سے باہر ہو گیا ہوں شاید…. پھر سے اپنے محور سے باہر…. اور محور کی کھوج میں….!

اب دل چاہتا ہے کہ ان سے جا ملوں۔ پل بھر کے لئے ہی سہی، ایک مرتبہ یہ کوٹ پہنوں تو سہی، کئی دن اس بے قراری و جنگ ِنفس میں گزر گئے۔ کئی بار وہ کھنکتی، چہکتی آواز اور آنکھوں والی منتظر نظر آئی مگرمیری روش….!

لیکن حقیقتاً جس قانون کی خلاف ورزی میں جان بوجھ کے کر رہا تھا۔ مجھے معلوم تھا۔ مگر اطمینان تھا کہ کالے کوٹ والا تو نہیں ہوں۔ اس لئے نہ کوئی پوچھنے والا نہ کہنے والا مجھے تو، اور اس میری ذاتی آمریت میں نہ ہی کسی کالے کوٹ والے کو علم ہو گا۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ اس کے جذبوں کی کرچیوں کو میں نے ایک مرتبہ بھی سمجھتے ہوئے، جانتے ہوئے بھی محسوس نہیں کیا۔ کیونکہ مجھ پر آجکل سرخ کی بجائے کالے رنگ کا نشہ سوار ہے۔ یہی شاید میرے شعوری سفر کا نیایا پرانا راستہ ہے….!

لیکن وہ تو یہ جانتی ہے مگر پہلی عورت یہ نہیں جانتی کہ میں اس دوسری کے سرخ گلابی و عنابی احساسات کی سچی چاندنیوں پر قدم رکھ کر آگے بڑھ رہا ہوں ورنہ شاید وہ کوئی نئی وزارت یا محکمہ تشکیل دے کر مجھے اس کی نگرانی میں سونپ دے، شاید وہ مجھ پر پابندی لگا دے۔ اس دوسری والی نے ابھی تلک میرے گناہوں اور میری غیرقانونی حرکات پر پردہ ڈالا ہوا ہے۔

آج دفتر کے لئے تیار ہوا تو کالا کوٹ پکڑ کر گاڑی میں رکھ لیا۔ دوپہر کو کھانے کا وقفہ ہوا تو کالاکوٹ پہنا اور نکل کھڑا ہوا۔ یہاں اور بھی بہت سے کالے کوٹ والے جمع تھے۔ آج پھر میرا بدن سانس لینے لگا۔ میری روح شانت ہوئی اور وصل بدن میں مصروف….!

سورج تیزی بکھیر رہا تھا۔ مگر مجھے پورن ماشی کا احساس تھا۔ بہت سے سخت جسم دوسرے جسموں سے ٹکڑا رہے تھے۔ بہت سے کالے کندھے کندھوں سے لگ رہے تھے۔ اک سیلاب کا سا سماں تھا۔ مجھے خود میں طاقت کا سا گماں ہورہا تھا۔ سچی آزادی کا، عقاب کا سا، شاہین کا سا نہیں تو کم از کم چڑیا اور طوطے یا کبوتر کا سا، جیسے میرے پَر لگ گئے ہوں۔ جیسے باد سرسر و سموم میں سے مجھے شمیم و نسیم کی وادی میں منتقل کر دیا گیا ہو۔ لیکن کچھ ہی دیر بعد عجب شور شرابا، چیخ و پکار شروع ہو گئی، گہرے سرمئی رنگوں والے ٹھپ ٹھپ بوٹوں والے، لمبی لمبی Refined شاخِ اشجار لئے، ان کالے کوٹوں والوں کو بتا رہے تھے کہ میں تم سے زیادہ طاقتور ہوں، میں وقت کا جلاد ہوں شاخِ شجر ہوا تو کیا ہوا۔ سرکار کا غلام سہی مگر معاف کرنا میرا قصور صرف یہ ہے کہ میرے کپڑے تمہاری طرح مکمل کالے نہ ہوسکے گہرے سُرمئی ہو کر رُک گئے۔

اس سارے منظر کو میں کسی تماشائی کی طرح دیکھ رہا تھا۔ جیسے عوام جنگی جہاز کو دیکھتی ہے۔ کبھی آگے، کبھی پیچھے، کبھی دائیں، کبھی بائیں کو نکل جاتا مگر ہر طرف ہر کوئی مصروف تھا۔ کچھ چہرے مطمئن تھے اور کچھ انتقامی مگر میں سپاٹ، بالکل سپاٹ تھا۔

اچانک میرے سر پر کچھ شدید سا لگنے کا احساس ہوا اور میرا ہاتھ اوپر کو اُٹھا اور بھیگ سا گیا…. پھر جب ہلکی سی آنکھ کھلی تو وہی دماغ و ذہن، محور کی تلاش….!

لیکن میں سڑک پر گِرا پڑا تھا اور سر سے بہا خون پورب کی ہلکی ڈھلوان کو بہہ کر عین میرے پیروں کے زاویے پر ایک درمیانی فاصلے سے رُک چکا تھا۔ شاید دکھن کا احساس ہوا اور اچانک سے لگا کہ میرے کالے پینٹ کوٹ اور دوسری جانب سرخ خون کی لکیر مل کر کچھ بنا رہے ہیں۔ کوئی علامت….!

اس کے بعد مجھے جب ہوش آیا تو میں ہسپتال میں پڑا تھا۔

٭٭٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اپنی جڑوں کی جانب.. سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، ہند

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 38 اپنی جڑوں کی جانب.. سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    اتنا دلکش و پُراسرار کیسے لکھ لیتی ہیں
    شکشہ دے دیں
    زبسلامتی ہو خوش رہیں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے