سر ورق / یاداشتیں / اردو کہانی کا سفر قسط نمبر 9 اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر قسط نمبر 9 اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر قسط نمبر 9 تحریر اعجاز احمد نواب

لگ بھگ 45 سالوں تک ڈائجسٹوں عمران سیریز اور ناولوں کے چہروں پر بلاشرکت غیرے راج کرنے والے ذاکر حسن جولائی 1942 میں متحدہ ہندوستان کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے.. میٹرک تک تعلیم حاصل کی اور اس کے بعد پینٹرز کے شعبہ سے بسلسلہ روزگار منسلک ہوگئے، وہ دور پاکستان فلم انڈسٹری یعنی لولی ووڈ کا سنہری دور تھا نہ کمپیوٹر نہ پینا فلیکس.. ہر جمعہ کو دوتین نئی فلمیں ریلیز ہوتیں لوہے کے بہہہہہہت بڑے بڑے بورڈ سینماؤں کے فرنٹ پر آویزاں ہوتے جن پر فلم کی پوری کاسٹ اور مکمل منظر بنے ہوتے اور یہ سب کچھ پینٹر اپنے ہاتھوں اور برش سے بناتے.. سینماؤں کی فوٹو گیلریوں میں بے شمار بلیک اینڈ وائٹ فلموں کی ہاتھ سے تیار کردہ رنگین تصاویر لگائی جاتیں اس کے علاوہ پبلک مقامات پر سینکڑوں کے حساب سے کپڑے پر فلم اشتہار بنا کر پیچھے لکڑی کی پھٹیاں لگا کر مشہوری کے لئے رکھ دی جاتیں، ذاکر صاحب بھی بطور پینٹر فلمی شعبے سے وابستہ ہوگئے، جہاں رفتہ رفتہ آپ کا فن نکھرتا چلا گیا، جلد ہی بلا کی خوبصورت لکھائی اور مہارت سے تصویریں بنانے والے اس ہیرے پر کچھ جوہریوں کی نظر پڑ گئی،مرزا منظور احمد الیٹ کراچی، غلام محمد آکاس لاہور اور عبدالمجید شاہین سکھر جیسے جوہریوں نے اس ہیرے کو تراش خراش کر کوہ نور بنا دیا،لیکن ذاکر حسن کے فن سی صحیح آگاہی ڈائجسٹ کی دنیا کو اس وقت ہوئی، جب شکیل عادل زادہ نے سب رنگ کی کہانیوں کے بلیک اینڈ وائٹ اسکیچز ذاکر صاحب کے سپرد کئیے.. اور پھر جب جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز کے محترم معراج رسول صاحب نے جاسوسی اور سسپنس کے سرورق ذاکر صاحب سے بنوائے تو ہر طرف دھوم مچ گئی، اور پھر معراج صاحب نے ذاکر حسن کو اپنے ادارے کے ڈائجسٹوں کے سرورق بنانے کے لئے مستقل کردیا،، یوں سمجھیں کہ ذاکر صاحب کے لئے شہرت کے در اسی وقت وا ہوئے جب معراج رسول کی نگاہوں کا ہما ان کے سر پر بیٹھا، لیکن معراج رسول صاحب کو بھی ذاکر سے بہتر مصوّر نہ پہلے ملا نہ بعد میں، جن کی بنائی تصویریں بولتی تھیں، اس کے بعد تو ذاکر صاحب کو مدیران ڈائجسٹ نے گھیر لیا، ہر ڈائجسٹ کی یہ خواہش تھی کہ سرورق ذاکر کا ہو، ان سے بہتر چوائس ہی کوئی نہ تھی،
انہوں نے کتنی کتابوں ناولوں ڈائجسٹوں کے سرورق (ٹائیٹل) بنائے یہ کوئی نہیں جانتا شاید ذاکر بھائی خود بھی نہیں جانتے تھے، خود میں نے جو تین میں ہے نہ تیرہ میں جس کو کوئی جانتا ہی نہیں.. سو سے زیادہ سرورق ذاکر صاحب سے بنوائے، پچاس کے لگ بھگ اپنے ڈائجسٹ مسٹر میگزین کے اپنے ناولز تیری یادوں کے گلاب، آشیانہ اور ناگن( کا دو بار) لتا سنگیت رفیع سنگیت انوار صدیقی صاحب کا واحد ناول جو میں نے شائع کیا درخشاں ایم اے راحت کے ناول بھرم تتلی پازیب شاہکار وش کنیا جادو بگولے درندہ اور بے شمار….
تقریباً 45سال سسپنس جاسوسی مظہر کلیم ایم اے کی عمران سیریز کتابیات پبلی کیشنز کے سلسلے وار ناول مکتبہ القریش کے ناول علی میاں پبلیکیشنز کی مطبوعات سرگزشت، آداب عرض، ہمیشہ ذاکر کا سرورق، مون ڈائجسٹ کے بے شمار سرورق خوفناک ڈائجسٹ سولہ سترہ برس چھپتا رہا، ڈر ڈائجسٹ کراچی ایک عرصہ تک رضیہ بٹ کے ناول جو پہلے ماورا پبلشرز سے چھپتے تھے ذاکر کے رنگوں سے سجے ہوتے تھے.. ان کے علاوہ خلیجی ممالک اور ہندوستان کے کے بے شمار کتب و جرائد کے سرورق ذاکر کی انگلیوں کے ہنر کے محتاج تھے،
آپ کے والد محترم محسن حسن کاتعلق دہلی سے تھا، ذاکر حسن بھی ایک آدھ بار دہلی گئے، آپ کے ایک شاگرد بھی بہت مشہور تھے ان ہاتھ میں ذاکر صاحب کی جھلک تھی، اس کا نا م شاھد تھا انہوں نے بھی ان گنت ڈائجسٹ ناولز کے ٹائٹلز بنائے، ذاکر صاحب کے سگے بیٹے کا نام بھی شاھد ہی ہے، جو کہ ذاکر صاحب کا ہاتھ بٹاتے تھے، خوش آئند بات ہے کہ ان کے بیٹے شاھد نے کافی عرصہ سے ذاکر صاحب کے ہاتھ سے بنے ڈیزائن سکین کر کے محفوظ کرنے شروع کر دئیے تھے، ذاکر صاحب بلاشبہ پرائیڈ آف پرفارمنس اور صدارتی ایوارڈ کے حقدار ہیں آج سے سولہ برس قبل 2003 میری مرتب کردہ ایک کتاب 100نام ور پاکستانی میں ذاکر صاحب کا نام شامل کا تھا اور اس کتاب کی ایک سے زائد کاپیاں ذاکر صاحب کو پیش کیں…
اس سے پہلے میں بیان کر چکا ہوں کہ.. ذاکر صاحب سے پہلی ملاقات ان کے گھر واقع نزد مزار بی بی پاک دامن ہوئی اس کے بعد بھی ایک دو ملاقاتیں وہیں اور پھر انہوں نے وہیں کہیں گھر تبدیل کر لیا تھا وہاں بھی میں ان کے گھر گیا، اس کے بعد انہوں نے شبستان (یا کوئی اور نام تھا سینما کا) اس کی بیسمنٹ میں اپنا سٹوڈیو بنا لیا پھر ایک آدھ اور سینما بھی انہوں نے تبدیل کیا تھا اور آخر کار وہ کیپیٹل سینما میکلوڈ روڈ میں آگئے، اور پھر زندگی کے آخری لمحات تک وہیں رہے،………… میرا کتابوں کی اشاعت کا کام چھوٹی کہانیوں اور شعر و شاعری جنرل بکس کا تھا جس کی بنا پر ذاکر صاحب کے حوالے سے میرے پاس کوئی خاص کام نہ ہوتا، ہاں البتہ سال ڈیڑھ سال میں کوئی نہ کوئی ایسا افسانوی یا شعری مجموعہ آجاتا جس کے سرورق کے لیے ذاکر صاحب کے سرورق کی ضرورت پڑ جاتی تاہم PTCL نمبر پر فون کرکے انہیں ڈیزائن کی ضرورت سمجھا دی جاتی اور وہ ڈیزائن تیار کر کے بزریعہ TCS سے بجھوا دیتے،
1998 مِیں، مَیں نے پہلا باقاعدہ ناول ناگن لکھا بلکہ اس کا پارٹ ون لکھا،، اس کا ٹائیٹل بنانا تھا، 1998 ہی میں مسٹر میگزین کے ڈیکلریشن کے حصول کے لئے بھاگ دوڑ بھی کر رہا تھا امید تھی کے عنقریب مل جائے گا لہذا ایک دن میں نے ذاکر صاحب سے از سر نو تعلقات بنانے تجدیدِ ملاقات کے لئے لاہور جانے کا پروگرام بنایا،
کیونکہ ڈائجسٹ ذاکر صاحب کے بغیر مکمل ہی نہیں ہو سکتا تھا، اور پھر ڈائجسٹ کے اندر کہانیوں کی مناسبت سے بلیک اینڈ وائٹ اسکیچز (خاکے) بنانے کے لئے بھی اچھے لیکن مناسب نرخ والے مصور کی تلاش تھی.،لہزا دو روزہ دورہ لاہور ترتیب دیا گیا، ان ہی دنوں ایک بہترین اردو کمپوزر کی تلاش نے مجھے ندیم صدیقی سے ملوا دیا، ندیم صدیقی اس وقت دوست پبلی کیشنز اسلام آباد ( معروف شاعر احمد فراز کے پبلشر) میں ملازم تھے تاہم شام کو مری روڈ ناز سینما کے سامنے گلی میں ایک پرنٹنگ پریس نیو آرٹ مین پرنٹرز میں پارٹ ٹائم کام کرتے تھے پریس کے مالک وقار صاحب نوائے وقت کے رپورٹر انوار فیروز کے صاحبزادے ہیں..

 

دسمبر کی کسی ابتدائی صبح، میں اور ندیم صدیقی بزریعہ ڈائیوو موٹر وے علی الصبح قبل طلوع آفتاب لاہور پہنچ گئے، اور بادشاہی مسجد میں فجر کی ادائیگی کے بعد مشرقی سیڑھیاں اتر کر حضرت اقبال پر فاتحہ خوانی کے بعد ہمارے قدم خراماں خراماں بغیر ہماری مرضی کے ٹہلتے ٹہلتے مشہور محلے کے پھجے کے پائے کھانے پہنچ گئے،،
ندیم صدیقی کوئی عام کمپوزر نہیں طوفانی رفتار کے اردو کمپوزر ہیں 120+ سپیڈ ہے ان کی ان کے دادا نزر احمد عارف صدیقی مرحوم ماہنامہ ھلال( ISPR) کے کاتب تھے, اور والد محترم اعجاز احمد صدیقی روزنامہ نوائے وقت راولپنڈی کے ہیڈ کاتب ریٹائرڈ ہیں، اور خود ندیم احمد صدیقی کمپوزر ہیں یوں ان کی تیسری پیڑھی اس شعبے میں ہے،
ناشتہ وغیرہ کرنے کے بعد ہم رکشے میں سوار ہو کر سب سے پہلے سنگ میل پبلی کیشنز لوئر مال پہنچے، اس لئے کہ ذاکر صاحب نے فون پر بتایا تھا کہ وہ ساڑھے گیارہ بارہ بجے اپنے آفس یعنی سٹوڈیو پہنچتے ہیں، اور سنگ میل کا شوروم پورے نو بجے کھل جاتا تھا، ندیم صدیقی کی فرمائش پر آج انہیں سنگ میل پبلی کیشنز پر متعارف کروانا تھا، تاکہ کمپوزنگ کے لئے کوئی کتاب مل سکے، حسب توقع سنگ میل کے روح رواں جناب اعجاز صاحب آچکے تھے، اور پورے جوش و خروش سے کام میں مصروف تھے، ہمارے ساتھ ان کے تعلقات ایک عشرہ سے تھے، اشرف بک ایجنسی راولپنڈی ان کی مطبوعات کے ڈیلر ہیں، اعجاز صاحب نے انتہائی گرم جوشی سے پر تپاک خیر مقدم کیا، چائے کا دور چلا تو تو میں نے عرض کی کہ یہ ندیم صاحب ہیں بہت اچھے اردو کمپوزر ہیں، ان کی خواہش آپ کے ادارے کے ساتھ کام کرنے کی ہے،… تھوڑی سی پس و پیش کے بعد اس شرط پر آمادہ ہوئے کہ پہلے امتحان لوں گا، اور کسی پرانے مسودہ کے شکستہ لیکن انتہائی مشکل اردو کے چند صفحات ندیم صاحب کے حوالے کر کے انہیں ایک کمپیوٹر پر بٹھا دیا، جو ندیم صاحب دوتین منٹوں ہی میں تیار کر کے لے آئے اور اعجاز صاحب( سنگ میل پبلی کیشنز) کے ہاتھ لا کر دے دئیے،
اتنی تیز رفتاری پر اعجاز صاحب حیران ہوئے اور کمپوز شدہ اوراق کو انتہائی باریک بینی سے پڑھنے بلکہ اس میں سے غلطیاں یا غلطی تلاش کرنے لگے، لیکن ایک بھی غلطی نا پا کر بڑے خوش ہوئے اور ندیم صدیقی صاحب کو سنگ میل پبلی کیشنز کی مطبوعات کی کمپوزنگ کے لئے منتخب کر لیا گیا، اور اسی وقت ایک پچاس ساٹھ سالہ پرانا چھپا ہوا لغات کشوری کا بوسیدہ ضخیم نسخہ ندیم صدیقی کو کمپوزنگ کے لئے دے دیا، وہ دن اور آج کا دن ندیم صدیقی سنگ میل کے ساتھ بھی منسلک ہیں اور سیکڑوں کتب کمپوز کر چکے ہیں، اس وقت مارکیٹ میں موجود جو کتابیں ندیم صدیقی کے ہاتھ کی ہیں ان میں رضیہ بٹ کے تقریباً پچاس ناول سلمی کنول کے ناول، مجموعہ انتظار حسین، معین الشعراء مجموعہ مستنصر حسین تارڑ، اور احمد ندیم قاسمی کی تمام کتابیں شامل ہیں، دوست پبلی کیشنز اسلام آباد سے شائع ہونے والی جاوید چوہدری کی زیرو پوائنٹ نمب1اور نمبر 2 بھی شامل ہیں مسٹر میگزین کے تمام 55شماروں کے علاوہ انوار صدیقی کی درخشاں ایم اے راحت کی نواب سنز پبلی سے چھپنے والے سارے ناول بھی ندیم صدیقی کی انگلیوں کی حرکت کی مرہون منت ہیں، سنگ میل پبلی کیشنز پر ہی تھوڑی دیر بعد مستنصر حسین تارڑ تشریف لائے ان سے چند منٹ باتیں کیں ، محترم مستنصر تارڑ صاحب کی باتیں آئندہ کسی موقع پر الگ سے بیان ہوں گی،
میرا خیال ہے اس وقت ساڑھے بارہ دوپہر کا وقت ہو گا جب ہم رکشہ سے کیپیٹل سینما میکلوڈ روڈ پر اترے، اور ذاکر صاحب کی تلاش میں ادھر ادھر ٹامک ٹوئیاں مارنے لگے، سینما اس وقت ویران تھا، اور کہیں کوئی ایسی جگہ نظر نہیں آرہی تھی جہاں دفاتر ہوں سینما پر جہازی سائز کے بورڈ لگے تھے صائمہ کی بولڈ تصویر نے آدھا سینما گھیر رکھا تھا، سینما کے ایک کارنر پر کھوکھا بنا تھا جہاں سے گولڈ لیف خریدی اور اسی سے پوچھا تو جواب میں زبان کے بجائے گردن اور ہونٹوں کے امتزاج سے لاعلمی کا اظہار کیا گیا، پھر غور کرنے پر پتہ چلا کہ سینما کے دائیں ہاتھ سے اینٹوں سے بنا ایک کچا پکا راستہ سینما کے پیچھے کی طرف جا رہا ہے،
آخر ایک چوکیدار ٹائپ شخص سینما کے پاس منڈلاتے دکھائی دیا، استفسار پر اس نے بتایا کہ ذاکر کو تو وہ نہیں جانتا لیکن، اسی راستے سے آگے بڑھ کر سینما کے عقب میں عمارت ہے وہاں پتہ کریں،، لہذا ہم آگے بڑھ گئے،کیپیٹل سینما کے دائیں پہلو سے سو میٹر بعد سینما کی بلڈنگ ختم ہو گئی، اور دائیں ہاتھ ہی ایک پرانی بوسیدہ تین منزلہ مارکیٹ نما عمارت نظر آئی، جو ایل شکل میں تھی اور اسکے سامنے یا یوں سمجھیں کہ کیپیٹل سینما کے بالکل عقب میں ایک وسیع پارکنگ یا میدان خالی تھا، اور عقب میں بائیں جانب بے شمار اونچے اونچے درخت تھے، سردیوں کی دوپہر کی اس کچی دھوپ میں یہاں ہر طرف مکمل خاموشی چھائی تھی البتہ درختوں کے کے درمیان سے کائیں کائیں کی اونچی آواز خاموشی کے سینے پر مونگ دل رہی تھی،
ایک مزدور لڑکا نظر آیا اس سے معلومات حاصل کیں تو سیڑھڑیوں کی طرف اشارہ کرکے کہنے لگا اوپر چلے جاؤ، میں اور ندیم صدیقی دونوں بڑھ کر زینے طے کرنے لگے دوسری منزل یا فرسٹ فلور پر پہنچے تو بوسیدگی، ویرانی اور خاموشی سوا ہو گئی، پہلو بہ پہلو کمرے بنے تھے جن کے سامنے راہداری اور رکاوٹ کے لئے سیمنٹ کی ریلنگ تھی، آگے بڑھے تو ایک کمرے میں زندگی کا احساس ابھرادیکھا تو جوتے بنانے کا ،،کارخانہ، تھا انہوں نے کہا مزید اوپر چلے جائیں، گھومتے زینے مزید اوپر لے گئے یہاں بھی معاملہ مختلف نہ تھا، کچھ اکثر کمروں کے دروازے بند، لیکن پرانے ٹائپ کی چھوٹی چھوٹی 3×4کی سلاخوں والی کھڑکیاں کھلی تھیں، جن کے آگے لکڑی کے دو چھوٹے چھوٹے دروازے لگے ہوئے تھے، جو کُھلے ہوئے تھے اور اندر میز ٹوٹی کرسیاں الماری اور کاٹھ کباڑ تھا اور پھر ایک آفس کی پیشانی پر لکھا نام دیکھ کر میں چونک پڑا… رنگیلا پروڈکشنز.. غور کیا تو کچھ اور اسی طرح کے غیر مانوس اور معروف نام بھی لکھے تھے، اتنے میں ندیم صدیقی نے آکر بتایا کہ اس فلور پر صرف جوتوں کے ڈبے بنانے والی دوکان ہے اور ذاکر صاحب آخری فلور پر ہیں اور ہم مزید زینے آہستہ آہستہ طے کرنے لگے، کیونکہ تھک سے گئے تھے اوپر پہنچے تو یہاں بھی کسی فلم پروڈکشنز کی لکھائی کی باقیات دکھائی دیں اور میں چشم تصور میں دیکھنے لگا، کہ جب لولی ووڈ، گولڈن ایرا، تھا، تو یہاں تو رونقیں لگی ہوں گی، لوگ آجارہے ہوں گے،
فلموں کی باتیں اور اردو پنجابی فلموں کا بزنس ہوتا ہو گا لیکن اب تو یہ اجڑے دیا کا منظر پیش کررہا تھا ، اور یہاں کی ویرانیاں لولی ووڈ پر نوحہ کناں تھیں
لکڑی کے سفید فریم میں شیشہ اور شیشے پر جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز آرٹ ورک لکھا تھا، آفس کے دو حصے تھے پہلے کمرے میں دو لڑکے تھے ذاکر صاحب کا پوچھا تو بتایا کہ اگلے حصے میں ہیں، دروازے سے داخل ہوئے تو سامنے کھڑکی تھی جس سے سینما اور میکلوڈ روڈ نظر آرہا تھے، ذاکر صاحب گھٹنوں پر پرانا کپڑا ڈالے اور میز کی ٹیک کے ساتھ رانوں پر کینوس اور ناک کے آخری کنارے پر چشمہ ٹکائے کسی ناول کے سرورق کو آخری ٹچ دے رہے تھے، بڑے ہی پیار اور تپاک سے ملے، دہلی کے ہونے کی وجہ سے ٹکسالی اردو اور لاہوری ہونے کے باعث مزیدار ٹھیٹ پنجابی ان زبان پر خوب جچتی تھی، مسٹر میگزین کے ٹائٹلز کا ذکر کیا، تو بہت سارے ریفرینسز دکھاتے رہے اور میں نے انہیں پہلے تین شماروں کے ڈیزائن سمجھا دئیے، ناگن کے سرورق کا آئیڈیا بھی ان کے گوش گزار کیا، اور آخر میں عرض کی کہ جناب بلیک اینڈ وائٹ اسکیچز کے لئے کوئی بندہ دیں، یہ سنتے کہنے لگے لو ہاتھ ملاؤ، ابھی گلزار شاہد میرے پاس سے آٹھ کر گیا ہے، کام ڈھونڈ رہا ہے ، گلزار شاہد میں سوچ میں پڑ گیا اور پھر مجھے سب کچھ یاد آگیا وہ جو الف لیلہ ڈائجسٹ کے اسکیچز اور سرورق بناتا تھا ارے ہاں بھئ وہی ….. اور پھر بولے شاہد سے یاد آیا شااا…. ہد چائے لاؤ بیٹا…. ان کے اپنے بیٹے کا نام بھی شاہد تھا(ان کے شاگرد کا نام بھی شاہد اور جس آرٹسٹ کا ذکر کر رہے تھے اس کا نام بھی شاہد تھا لیکن گلزار شاہد کو تو میں کسی اور حوالے سے بھی جانتا تھا ؟؟؟؟ جاری ہے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر نمبر 13 . اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر نمبر 13 تحریر اعجاز احمد نواب وزیر آباد شہر کئی حوالوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے