سر ورق / ناول / بلاوا خورشید پیر زادہ قسط نمبر9

بلاوا خورشید پیر زادہ قسط نمبر9

بلاوا

خورشید پیر زادہ

قسط نمبر9

کمرے میں کافی دیر تک سناٹا چھایا رہا- انسپیکٹر نے ہی کچھ دیر بعد یہ خاموشی توڑی-

”رونے سے کچھ نہیں ہوگا روہن- مگر شروتی جاتے جاتے تمہاری آستین میں پل رہے ایک زہریلے ناگ سے چھٹکا دلا گئی – اس نے تو سوچا بھی نہیں ہوگا کہ راجو مجھے فون کردے گا اور یہ اس طرح پھنس جائے گا- اس نے تو چپ چاپ لاش ٹھکانے لگوا دینی تھی اور تمہارا دوست ہونے کا ڈھونگ بھی کرتا رہتا- پھر کبھی ڈستا- اگر یہ باہر آتے ہوئے کنڈی بند کرنی نہ بھولتا تو شاید میں تمہاری بات پر یقین کرکے معاملے کو پوسٹ مارٹم ہونے تک یونہی چھوڑ دیتا- اور پوسٹ مارٹم میں تو شاید ثابت ہو ہی جائے گا کہ اس نے خودکشی ہی کی ہے- اور وجہ بھی میں یہی مانتا کہ تمہارے کمرے میں ذلیل ہوکر نکلنے کے بعد اس کے پاس کوئی راستہ ہی نہیں بچا ہوگا- مگر تمہارے کنڈی بند کرنے اور صبح راجو کو دروازہ کھلا ملنے پر ہی مجھے پہلی بار یہ شک ہوا تھا کہ ہو سکتا ہے کہ کسی نے اس کا خون کر دیا ہو- ایک بات اور- عام طور پر خودکشی کرنے والے سبھی لوگ کوئی نہ کوئی خط چھوڑ کر ضرور جاتے ہیں- وہ بھی ہمیں وہاں نہیں ملا- اس سے بھی میرے اسی خیال کو تقویت ملی کہ ہو نا ہو اس کا خون کیا گیا ہے- اس کے بعد ا س کے کمرے میں شروتی کے کپڑوں کا ملنا‘ نہایت ہی باریک نائٹی کا پہننا‘ جو کہ اس کی فطرت سے میل نہیں کھاتی تھی‘ اس کا اسے عمر کوٹ لے کر آنا- اور پھر تمہارے کمرے میں بیٹھے ہوئے مجھے فینسی لائٹ کے ساتھ کیمرہ لگا دکھائی دینا- ان سب باتوں نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا تھا کہ شروتی کو بلیک میل کیا جا رہا تھا- اور بہت پہلے شک ہو گیا تھا کہ اسی بندے میں گڑبڑ ہے- مگر جب تک کہ اس نے کورا کاغذ میرے ہاتھ سے نہیں چھینا تھا مجھے یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ گتھی اتنی آسانی سے سلجھ جائے گی-“

 ”خیر روہن- اب تم جا سکتے ہو- اگر انسانیت کے ناطے تم اس کی ضمانت کروانا چاہتے ہو تو کورٹ میں درخواست لگوا دینا- نا چاہو تو بھی کم سے کم اس کے گھر والوں کو تو اطلاع کر ہی دینا-“ ”انسپیکٹر آنندنے کہا اور نتن کو اٹھا کر لے گیا-

٭٭٭٭٭٭٭

”اب یوں منہ لٹکائے کیوں بیٹھے ہو یار‘ جو کچھ ہوا اس کا ہم سب کو افسوس ہے- مگر ہم کر بھی کیا سکتے تھے- غنیمت ہے کہ اس نتن کی اصلیت بے پردہ ہوگئی- دوستی کے نام پر کلنک تھا وہ-“ امان نے روہن کے پا س بیٹھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا-

”سوری یار- میری وجہ سے تمہیں یہ دن دیکھنا پڑا- تھانے تک آنا پڑا- میں معافی چاہتا ہوں-“روہن نے کندھے پر رکھا امان کا ہاتھ پکڑ لیا-

”ابے یار— دیکھا شیکھر- اب یہ ہمیں بھی نتن جیسا سمجھ رہا ہے- یہ بات کہہ کر تو تم نے ہمیں گالی سی دے دی ہے- ہمارا کیا گھس گیا– سچائی ہی سامنے آئی نا- چل چھوڑ- تمہیں اسپیشل چائے پلواتا ہوں اصلی دودھ والی- ساری ٹینشن دور ہوجائے گی-ابے راجو- سالے چغل خور- “ امان نے راجو کو آواز لگائی- مگر راجو وہاں ہوتا تو ملتا-

”لگتا ہے ڈر کے مارے بھاگ گیا- ویسے کام بندے نے ایک نمبر کا کر دیا – اگر وہ پولیس کو نہ بلاتا تو ہم تو یہی سمجھتے رہتے کہ شروتی-“ بات کو پوری کئے بنا ہی امان آگے بولا- ”اور نتن صاف صاف بچ جاتا— پھر جانے کیا تگڈم کھیلتا تمہارے ساتھ- خیر تم بیٹھو- میں چائے بنا کر لاتا ہوں-“ امان اٹھنے لگا تو شیکھر کھڑا ہوگیا-

”تم لوگ باتیں کرو- آج میں اپنے ہاتھ کا کمال دکھاتا ہوں-“ اور شیکھر کچن کی طرف چلا گیا-

”اب کیا سوچا ہے-“ امان واپس ا س کے پاس بیٹھتے ہوئے بولا-

رویندر کا دماغ بہت زیادہ خراب تھا- پاس ہی صوفے پر لیٹا ہوا وہ اپنے چہرے کو رومال سے ڈھکے ہوئے تھا-

”اب کرنے کو بچا ہی کیا ہے- شروتی کے بابا کو تو بتانا ہی پڑے گا-“ روہن کی آنکھیں بھر آئیں-”پھر وہی زندگی کاٹنی ہے یار- صبح کالج- شام کو گھر-

”کیوں- اپنی نیرو کو بھول جائے گا کیا- اس کو ایسے ہی تڑپتے رہنے دے گا اب؟-“ امان کو لگا جیسے وہ نیرو کو بھول ہی چکا ہے-

”اب کیا رہ گیا ہے یار- اب تو سب صاف ہو ہی گیا ہے کہ یہ نتن کی سازش تھی- خواب بھی اسی کی وجہ سے آتے ہوں گے-“ روہن نے یونہی منہ لٹکائے ہوئے کہا-

رویندر اس کی بات سنتے ہی اچھل پڑا-

”ابے یار مجھے گدھا کہتا ہے- خود تم نے کبھی دماغ کا استعمال کیا ہے کہ نہیں- یا وہ ہے ہی نہیں تیرے اندر- نتن نے سازش تمہارے خواب کے بارے میں بتانے کے بعد شروع کی تھی- شروتی کی بات سازش ہوسکتی ہے- اس کے سپنوں کی بات جھوٹی ہو سکتی ہے- ہو کیا سکتی ہے- جھوٹی ہی تھی- مگر تمہارے خواب تو کسی کی سازش نہیں تھے نا- وہ تو سچ ہی ہیں- اور جو گھر تم نے سپنے میں دیکھا تھا- ویسا ہی گھر تم نیرو کا بتا رہے ہو- اب تو یہ صاف ہو گیا نا کہ یہی وہ لڑکی ہے جس کا تمہارے ساتھ جنم جنم کا تعلق ہے- کہاں سے سوچ رہے ہو تم؟-“

”ہاں یار میرا تو کل سے دماغ ہی خراب ہے- دراصل صبح یہ سب دیکھنے کے بعد کچھ اور سوچ ہی نہیں پایا- جو کل رات کو سوچ رہا تھا وہی اب تک سوچ رہا ہوں – اس کا مطلب کہ نیرو واقعی ہے-“ روہن کی آنکھوں میں ہلکی سی چمک آگئی-

”نہیں نہیں- نیرو کہاں ہے-“ رویندر منہ ٹیڑھا کرتے ہوئے بولا-” میں نے تمہیں کل ہی کہا تھا کہ مجھے نتن کے دل میں کھوٹ لگ رہا ہے- مگر تم نے میری بات سنی ہی نہیں- نتن کی کہانی میں اتنی دلچسپی لینے کی جو بات انسپیکٹر کہہ رہا تھا وہی بات تم سے میں کرنا چاہتا تھا- انفیکٹ وہ مجھے مارکیٹ میں جب کہانی بتا رہا تھا تبھی مجھے شک ہو گیا تھا کہ نتن جھوٹ بول رہا ہے- اور جھوٹ بھی اپنی مرضی سے- مگر یہاں سنتا کون ہے میری- چلی گئی نا بیچاری شروتی-“ رویندر کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں-

”چھوڑو یار- جو ہوا- سو ہوا-“ امان نے رویندر کو چپ کرانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا-

”ایسے کیسے چھوڑ سکتے ہیں امان صاحب-“ کمرے میں انسپیکٹر آنندداخل ہوا تو تینوں چونک کر کھڑے ہوگئے-

”آیئے انسپیکٹر صاحب-“ امان اس کا استقبال کرتا ہو ابولا-

”خط پڑھ کر میرا دماغ خراب ہوگیا ہے- اس لئے مجھے یہاں آنا پڑا-“ انسپیکٹر نے مسکراتے ہوئے کہا-

”ارے جب چاہیں آجائیں- آپ کا ہی گھر ہے- مگر آپ تو کہہ رہے تھے کہ خط نہیں ملا تھا- صرف ایک کورا کاغذ ہی تھا جو آپ ہمارے سامنے پڑھ رہے تھے اور نتن نے چھین کر نگل لیا تھا-“ امان نے متجسس ہوکر پوچھا-

تبھی کمرے میںٹرے اٹھائے ہوئے شیکھر اندر آیا- انسپیکٹر کو بیٹھے دیکھ کر ایک بار اس کے قدم ٹھٹھک گئے- پھر چپ چاپ آکر میز پر ٹرے رکھ دی-

”شکریہ- بڑی دیر سے خواہش ہو رہی تھی – راجو بھاگ گیا کیا؟-“ انسپیکٹر نے ایک کپ اٹھاتے ہوئے شیکھر کے چہرے کی طرف دیکھ کر کہا-

”جی- اس نے سوچا ہوگا کہ-“ اس سے پہلے کہ امان اپنی بات پوری کرتا- انسپیکٹر بول پڑا-

”فکر مت کرو- شام تک واپس آجائے گا- ویسے تم سب کو تو خوشی ہو رہی ہوگی کہ نتن کی اصلیت کا پتہ لگ گیا-“

”جی بالکل-“ اس بار روہن بولا-”مگر وہ خط کے بارے میں آپ کیا کہہ رہے تھے-“

”ہوں- دراصل جو خط شروتی نے لکھا تا وہ ہمیں نتن کی تلاشی لیتے ہوئے س کی جیب سے ملا- یہ لو- پڑھو ذرا خط کو- اس کی کاپی ہے-“ انسپیکٹر نے خط روہن کو پکڑا دیا- چھوٹے چھوٹے حروف لکھے ہوئے تھے- شاید کاغذ شروتی کے پاس کم تھا-روہن خط کو بلند آواز سے پڑھنے لگا-

”روہن- صبح جب آپ سو کر اٹھیں گے تو میں آپ کو اس دنیا میں نہیں ملوں گی- نہایت ہی شرمناک حرکت کی ہے میں نے آپ کے ساتھ- اس وقت میرا دل بھی ر و رہا تھا- پلیز مجھے معاف کر دینا- سب میری مجبوری تھی- مجبوری بھی ایسی کہ بتا نہیں سکتی- ورنہ میرے بابا جیتے جی مر جائیں گے- مگر یہ حقیقت ہے کہ میں آپ سے بے انتہا پیار کرتی ہوں- اور اب آپ کی نظروںکا سامنا نہیں کر سکتی- اس لئے دنیا چھوڑ کر جا رہی ہوں- ہو سکے تو میرے بابا کے پاس چلے جانا- جیتے جی میں نے کوئی ایسا کام اپنی مرضی سے نہیں کیا جو ان کی آن کو ٹھیس پہنچائے- مرنے کے بعد کوئی مجھے بدنام کر سکتا ہے- ہو سکے تو ان کو سنبھال لینا- کہتے ہیں کہ بھگوان کی مرضی کے بغیر تو پتہ بھی نہیں ہلتا- تو پھر میرے ساتھ ایسا کیوں ہوا- کیا اس میں بھگوان کی مرضی شامل تھی- مگر ایسا سوچنا بھی میرے لئے گناہ ہے- پتہ نہیں کن گناہوں کی سزا ملی ہے مجھے- میں نے تو کبھی کسی کی طرف نظر اٹھا کر بھی نہیں دیکھا- کسی کے بارے میں سوچا تک نہیں ‘ سوائے آپ کے- پھر مجھے آپ کے سامنے ہی ذلیل کیوں ہونا پڑا- سوچتی ہوں بھگوان نے پیار بنایا ہی کیوں- اور بنایا تو ہر بار ادھورا کیوں چھوڑ دیا- پیار کرنے والے ہمیشہ جدائی کی آگ میں کیوں جھلستے رہے ہیں- میری دعا ہے کہ اس جنم میں نیرو کا پیار آپ کو مل جائے- اور اگلے جنم میں مجھے میرا ادھورا پیار- اگر واقعی کوئی دوسرا جنم ہوتا ہے تو-میں تمہاری ہوچکی ہوں- اب اگلا جنم ہو یا نہ ہو- میری روح تمہاری منتظر رہے گی- شروتی-“

سب کی آنکھیں نم ہوچکی تھیں سوائے انسپیکٹر کے-

”تم شروتی سے کتنی بار ملے تھے روہن؟-“

”جی بس دو بار- ایک بار اس کے گھر پر اور ایک بار رات کو-“ روہن نے رومال سے اپنی آنکھیں پونچھتے ہوئے کہا-

”تمہارے بیچ کچھ باتیں بھی ہوئی تھیں کیا— میرا مطلب ہے کوئی رومانی – پیار بھری باتیں-“ انسپیکٹر نے پوچھا-

”نہیں- جو بھی ہوئی تھیں‘ یا تو کل دن میں ہوئی تھیں- “ روہن کچھ دیر رک کر بولا-”یا پھر رات میں-“ رات کو اس نے شروتی کے ساتھ جو سلوک روا رکھا تھا اسے یاد کرکے روہن سسک پڑا-

”کول ڈاﺅن یار- زندگی میں سب کچھ ہوتا رہتا ہے- تمہاری جگہ کوئی بھی شریف انسان ہوتا تو وہ بھی یہی کرتا- تمہیں کیا پتہ تھا کہ وہ مجبوری میں یہ سب کر رہی ہے- مگر یہ ایک ہی بات میری سمجھ میں نہیں آئی ابھی تک- میں وہی جاننے آیا ہوں-“ انسپیکٹر نے دھیمے لہجے میں کہا-

”کیا؟-“ روہن بولا-

میں نے کبھی پیار کیا نہیں ہے- مگر جہاں تک میرا خیال ہے پیار تو دھیرے دھیرے ہوتا ہے- خاص طور پر اتنا پیار کہ کوئی کسی کی نظروں سے گر جانے پر خودکشی ہی کر لے- اس کے پاس اور بھی راستے تھے- نتن کیمرے میں دیکھ ہی لیتا کہ شروتی نے اپنی طرف سے پوری کوشش کی – پھر وہ جیسے چل رہا تھا ویسے ہی چلنے دے سکتی تھی- جان دینا تو آخری ہتھیار ہوتا اور وہ تو کبھی بھی کر سکتی تھی- اگر کوئی راستہ نہ بچا ہوتا تو؟-“ انسپیکٹر نے کہا- ”اور سب سے خاص بات شروتی کو پیار کب ہوگیا روہن سے- اگر وہ اس سے کبھی گھلی ملی ہی نہیں- وقت نہیں گزارااس کے ساتھ-“

اس بار امان خود کو بولنے سے نہیں روک پایا-

”آپ سچ کہہ رہے ہیں انسپیکٹر صاحب- پیار کئے بنا پتہ ہی نہیں چلتا کہ یہ ہوتا کیا ہے- اتنا چھوٹا سا نام ہے پیار- مگر اس میں رنگ اتنے بھرے ہوئے ہیں کہ آدمی صرف اپنے پیار کو سمجھ سکتا ہے- دوسرے کے پیار کو نہیں– – کبھی کبھی ہم سالوں ساتھ رہتے ہیں اور پتہ ہی نہیں چلتا کہ ہمیں پیار ہوگیا ہے- جدا ہونے کے بعد ہمیں احساس ہوتا ہے کہ اس کے بنا جینا کتنا مشکل ہے— تب ہمیں پتہ چلتا ہے کہ ہمیں تو پیار ہوگیا تھا—- کبھی کبھی پہلی نظر میں ہی ہمیں پیار ہو جاتا ہے اور ہم سمجھ جاتے ہیں کہ یہی پیار ہے- بولنا چاہتے ہیں- مگر کبھی بول ہی نہیں پاتے- — جانے کیوں اس کے سامنے کبھی زبان ہی نہیں کھلتی- اور جب کھلتی ہے تو الگ ہونا ہماری مجبوری بن جاتا ہے— یک طرفہ پیار بھی ہوتا ہے- ہم پاگل ہوکر کسی کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور لاکھ جتن کرکے بھی اس کو احساس ہی نہیں کرا پاتے کہ وہ ہمارے لئے کیا ہے- اس کے لئے سب کچھ چھوڑ دیتے ہیں — اپنی منزل— ماں باپ کے سپنے- سب کچھ بھول کر صرف ایک ہی چیز یاد رہتی ہے- اس کا نام- اپنا سب کچھ برباد کرنے کے بعد بھی ہمیں کبھی پچھتاوا نہیں ہوتا کہ اس نے ہمارے پیار کو توجہ نہیں دی- اور چھوڑ کر چلی گئی— کبھی کبھی اس کی نفرت سے بھی ہمیں پیار ہوجاتا ہے— اور ہم سامنے والے پر اس کی نفرت کے باوجود اس پر جان لٹانے کو تیار رہتے ہیں—- پتنگا کیا شمع سے نکلنے والی آنچ کو محسوس کرکے جھلستا نہیں ہوگا- مگر پھر بھی وہ اس میں جان دیئے بغیر مانتا نہیں- یہ بھی پیار ہی ہے— شروتی کا پیار روہن کی نفرت سے ہی پیدا ہوا ہوگا- اس کی ایسی نفرت جس نے روہن کی ہستی کو اس کی نظروں میں کہیں اونچا کر دیا- اس نے خود کو سونپنے میں کوئی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کی لیکن اس نے شروتی کو ہاتھ تک نہیں لگایا- وہ یہاں آئی مجبوری میں تھی مگر روہن کی انسانیت دیکھ کر وہ اس پر مر مٹی- اس نے دونوں طرح کے لوگ دیکھ لئے- نتن جیسے بھی اور پھر روہن جیسے بھی- تو اسے روہن سے پیار کیوںنہ ہوتا-پیار-“ امان بنا رکے بولے ہی چلے جا رہا تھا کہ انسپیکٹر نے اسے روک دیا-

”تم نے پیار میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے کیا- یا تم کوئی لو پروفیسر ہو-“

”نہیں انسپیکٹر صاحب پیار کا کوئی پروفیسر یا استاد کیسے ہو سکتا ہے- پیار ہی پیدا کرتا ہے اور پیار ہی جان لے لیتا ہے- پیار ہی سب کچھ سکھاتا ہے اور پیار ہی سب کچھ بھلانے پر مجبور کرتا ہے- پیار ہی آدمی کو کھڑا کرتا ہے اور پیار ہی گرا دیتا ہے- ساری دنیا اس کی غلام ہے- ساری دنیا اسی کی وجہ سے چل رہی ہے- پیار ہی سب کا استاد ہے- “ امان نے گہری سانس لیتے ہوئے کہا-

”اف- میں تو تمہیں ایویں ہی سمجھ رہا تھا یار- تم تو کمال ہو- میرا نام انسپیکٹر آنندہے- مجھے تم سے مل کر بڑی خوشی محسوس ہو رہی ہے-“ انسپیکٹر نے اپنا ہاتھ امان کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا- اور امان نے دونوں ہاتھوں سے اس کا ہاتھ تھام لیا-

”اب میں چلتا ہوں- جلدہی پھر ملوں گا تم سے- مجھے بھی پیار کرکے دیکھنا ہے یار- ہا ہا ہا-“ انسپیکٹر نے کہا اور باہر نکل گیا-

٭٭٭٭٭٭٭

”ارے شینو- آج کالج نہیں جانا کیا؟-“ امی نے نیچے سے آواز لگائی-

”جا رہی ہوں امی- بس ریتو آجائے ایک بار-“ نیرو نے اوپر سے ہی آواز لگا کر جواب دیا اور پردہ ہٹا کر سامنے سڑک کی طرف دیکھا- ریتو کا گھر سامنے والی گلی میں کچھ گھر چھوڑ کر ہی تھا- اسے جب ریتو آتی ہوئی دکھائی نہیں دی تو سیڑھیوں سے تیزی سے اترتی ہوئی نیچے آئی اور ریتو کے گھر فون ملایا-”نمستے چاچی-“

”نمستے بیٹا-“ دوسری طرف سے ریتو کی امی نے جواب دیا-

”ریتو ابھی تک نہیں آئی- میں اس کا انتظار کر رہی ہوں-“ نیرو بولی-

”بس ابھی نکلی ہے بیٹی- دیکھو پہنچ گئی ہوگی-“ ادھر سے جواب ملا ہی تھا کہ دروازے کی بیل بج اٹھی-

”لگتا ہے آگئی- اچھا چاچی- “ نیرو نے فون رکھا اور اپنی کتابیں اٹھا کر باہر کی طرف نکل گئی-

ریتو دروازے پر ہی کھڑی اس کا انتظار کر رہی تھی-

”کر دیا نا آج بھی لیٹ- کیا کر رہی تھیں اب تک تم-“ نیرو نے باہر نکلتے ہی ریتو سے شکایتی لہجے میں کہا-

”ارے میں آئی تھی یار- تمہیں پتہ ہے وہ دونوں آج پھر چوراہے پر کھڑے تھے- میں واپس چلی گئی- خواہ مخواہ آج پھر بحث کھڑ ی کر دیتے- کوئی بھروسہ نہیں اس بندر کا- “ ریتو نے نیرو کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے منہ بنا کر کہا-

”کون دونوں؟— کس کی بات کر رہی ہو تم-“ نیرو نے حیرت سے پوچھا-

”ارے وہی یار – جن کا فون گم گیا تھا بس میں- آج پھر یہاں آئے ہوئے تھے- پتہ نہیں کیا مسئلہ ہے ان کے ساتھ؟-“ ریتو نے جواب دیتے ہوئے کالج کے سامنے والی سڑک پار کرنے کے لئے دونوں طرف نظر دوڑائی-“ اوہ – وہ کھڑے ہیں دونوں- چل سیدھی چل-“

دونوں نے تیزی سے سڑک پار کی اور کالج میں گھس گئیں-

٭٭٭٭٭٭٭

”نیرو کو نظر بھر دیکھنے سے ہی میری تھکن اتر گئی یار-“ روہن نے سینے پر ہاتھ رکھتے ہوئے رویندر سے کہا-

”تم تھکن اتارنے آئے تھے یا بات کرنے- اگر تم یونہی پچاس گز دور کھڑے ہوکر اس کے خود تیرے پاس چل کر آنے کا انتظار کرتا رہا نا تو اس جنم میں بھی بیچاری یونہی چلی جائے گی- میں نے کہا تھا نا کالج کے گیٹ پر کھڑا ہونے کے لئے— تب تو تم ڈر گئے تھے-“ رویندر اس کو کھینچتے ہوئے گیٹ کی طرف لے گیا-

”مگر یار یہ اچھا نہیں لگتا- سمجھا کر- امان نے بولا ہے نا گوری کو – وہ بات کر لے گی-“ روہن نے اس کو واپس کھینچ لیا-”چل واپس چلتے ہیں-“

٭٭٭٭٭٭٭

”ارے شینو تم اب آئی ہو- تمہیں کوئی پوچھ رہا تھا-“ ان کو دیکھ کر ایک لڑکی پاس آتے ہوئے بولی-

”کون؟—- اور تم کلاس سے باہر کیا کر رہی ہو- کلاس میں نہیں گئیں کیا-“ نیرو نے سامنے سے آتی ہوئی لڑکی کو دیکھ کر پوچھا-

”گئی تھی یار- صرف ایک منٹ لیٹ تھی- مس نے نکال دیا- تم بھی مت جانا- کوئی فائدہ نہیں ہے اب-“ لڑکی نے جواب دیا-

نیرو اور ریتو کا منہ لٹک گیا- ساتھ والے پارک میں بیٹھتے ہی نیرو نے پوچھا- ”کون پوچھ رہا تھا مجھے؟-“

”پتہ نہیں یار- کوئی انجان لڑکی تھی- پہلے نیرو کرکے پوچھا- پھر شینو کرکے- نیرو بھی تمہارا ہی نام ہے کیا؟-“ لڑکی نے جواب دے کر سوال کیا-

”نہیں- میرا نام شیو ہی ہے-“ نیرو نے کہتے ہوئے پوچھا-”کالج کی نہیں تھی کیا؟“

”کالج کی ہوتی تو میں پہچان نہ لیتی- کوئی باہر سے آئی تھی- تمہارا گھر بھی پوچھ رہی تھی- میں نے بتا دیا- شاید اس شہر کی ہی نہیں تھی وہ- “

”کون ہو سکتی ہے؟“ نیرو دماغ پر زور دے کر سوچنے ہی لگی تھی کہ ایک اور لڑکی سامنے سے ان کی طرف آرہی تھی-

”ہیلو-“

”ہیلو سونا- کیا حال ہیں؟-“ ریتو اور نیرو نے لگ بھگ ایک ساتھ ہی پوچھا-

”میں تو ٹھیک ہوں- وہ ملی کیا-“ سونا نے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے کہا-

”کون؟-“ ریتو نے پوچھا-

”پتہ نہیں ایک خوبصورت سی لڑکی صبح صبح شینو کو پوچھتی پھر رہی تھی- “ سونا نے جواب دیا-

نیرو اپنی انگلی کو دانتوں تلے دبا کر ناخن کترنے لگی اور اپنی آنکھوں کو سوچنے کے انداز میں سکڑ لیا-

”حد ہے یار- کون ہو سکتی ہے؟- “

”تم چھوڑو نا- جو کوئی بھی ہوگی- گھر کا پتہ چل گیا ہے نا اسے-“ ریتو نے نیرو کے سر پر ہاتھ مارا-

”شینو ذرا ادھر تو آنا-“ کالج کے اندر کی طر ف سے آتی ہوئی شلپا نے ان سے تھوڑا دور کھڑے ہوکر نیرو کو پکارا-

”آرہی ہوں-“ نیرو نے کاپی کتاب اٹھائی اور شلپا کے پاس آکر کھڑی ہوگئی-”اب تم بھی یہ مت کہنا کہ مجھے کوئی ڈھونڈ رہی تھی-“

”ہاں- مگر تمہیں کیسے پتہ؟-“ شلپا نے پلٹ کر کہا-

”بس پتہ لگ گیا-ہر کسی سے اس نے یہ بات پوچھی ہے شاید- چلو چھوڑو – کوئی اور بھی کام تھا کیا؟-“

”ہاں- تمہارے پاس وقت تو ہے نا-“ شلپا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر کہا-

”ہاں بول- یہ پیریڈ تو خالی ہی سمجھ- “ نیرو نے کہا اور اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگی-

”تمہارا نام نیرو بھی ہے نا-” شلپا نے یہیں سے بات شروع کی-

”کتنی بار کہوں یار کہ کوئی مجھے نیرو نہ کہا کرو- میرا نام شینو ہے شینو-“ نیرو چڑ سی گئی-

”غصہ کیوں کر رہی ہو— تمہیں پسند نہیں ہے تو اپنی کاپی پر کیوں لکھا ہوا ہے-“ شلپا نے کاپی پر لکھے نام کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا-

”اوہ— یہ کس نے لکھ دیا؟-“ نیرو نے جھٹ سے پین نکالا اور جھٹ سے نام کو مٹانے لگی- ”میرے ساتھ ایسا مذاق مت کیا کرویار-“

”میں نے کیا کیا ہے شینو- میں نے تو صرف لکھا ہوا دکھایا ہے -وہ لڑکی بھی پہلے نیرو ہی پوچھ رہی تھی- جب میری سمجھ میں نہیں آیا تو اس نے شینو کہا- تمہارا گھر پوچھ رہی تھی- مگر مجھے پتہ ہی نہیں تھا- خیر مجھے تم سے کوئی اور بات کرنی ہے-“ شلپا نے اس کا ہاتھ پکڑ کے ایک کونے میں ایک ساتھ بٹھاتے ہوئے کہا-

”بولو-“ نیرو کا موڈ خراب ہوگیا تھا-

”دیکھو مجھے پتہ ہے تمہیں یہ سب پسند نہیں ہے- پھر بھی سن لینا پوری بات- بیچ میں اٹھ کر مت بھاگنا-“ شلپا نے تمہید باندھتے ہوئے کہا-

”ایسی بھی کیا ہے – بولو نا-“ نیرو نے تجسس سے اس کی طرف دیکھا-

”وہ- وہ- بات یہ ہے کہ کوئی صرف تمہارے لئے سینکڑوں میلوں دور سے آیا ہے – صرف تمہارے لئے- پوری بات سن لو گی نا؟-“

”کون آیا ہے- کیا کہہ رہی ہو تم- اب پہیلیاں مت بھجواﺅ– جو بولنا ہے ایک ساتھ بول دو-“ نیرو بات جاننے کے لئے بے چین سی ہوگئی-

”روہن- وہ بہت پیار کرتا ہے تم سے- — سن تو-“ نیرو یہ بات سن کر اٹھ کے بھاگنے ہی والی تھی کہ شلپا نے اس کا ہاتھ پکڑ کر واپس کھینچ لیا- ”میں نے پہلے ہی کہا تھا کہ تم پوری بات سن لینا ایک بار- پھر جو تمہاری مرضی-“

”کوئی اور بات کرلو- مگر یہ بکواس باتیں مجھے پسند نہیں- کیا ہوتا ہے یہ پیار ویار- سینکڑوں میل دور سے کسی کو مجھ سے پیار ہوگیا- اس کو کوئی خواب آیا تھا کیا میرے بارے میں-“ نیرو نے تنک کر پوچھا‘

”ہاں- اس کو تمہارے خواب ہی آتے ہیں- تبھی تو آیا ہے وہ یہاں پر- پتہ ہے کہ تمہیں یہ سب اچھا کیوں نہیں لگتا— اس لئے کہ تمہارے سینے میں دل نہیں ہے- اس لئے-“ شلپا نے وضاحت کرتے ہوئے کہا-“

”ہا ہا ہا- میرے سینے میں دل نہیں ہے- کیا مذاق ہے یار- پھر میں زندہ کیسے ہوں- یہ کیا دھڑک رہا ہے میرے سینے میں-“ نیرو نے دایاں ہاتھ سینے پر رکھ کر اپنی دھڑکن کو محسوس کیا-”آج تو فرسٹ اپریل بھی نہیں ہے- پھر کیا ارادے ہیں تمہارے-“ نیرو اب تک ہنس رہی تھی-

” تم میری بات کو سیرئیس کیوں نہیں لے رہی ہو؟-“ شلپا نے نیرو کے دونوں شانے پکڑتے ہوئے کہا-

”یار کیا سیرئیس لوں تیری باتوں کو- کون سی صدی میں جی رہی ہو تم- اب بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی کہ میرے سینے میں دل نہیں ہے- سینکڑوں میل دور بیٹھے کسی کو میرے بار ے میں خواب آتے ہیں- ا س کو مجھ سے پیار ہوگیا ہے- ہونہہ-“ نیرو اس کی باتوں سے چڑتی ہوئی بولی-

”یار میرا مطلب احساسات سے ہے- تم ایک بار اس سے مل لو بس- تمہیں سب سمجھ میں آجائے گا-“ شلپا نے زور دے کر کہا-

”کس سے مل لوں- کہاں مل لوں-“ نیرو نے بے بسی سے کہا-

”آﺅ میرے ساتھ- ایک بار کالج کے گیٹ تک آﺅ-“ شلپا نیرو کو اٹھا کر تقریباً زبردستی کھینچتی ہوئی کالج کے گیٹ پر لے آئی- نیرو نے جیسے ہی روہن اور رویندر کو اپنی طرف آتے دیکھا وہ سن سی ہوکر رہ گئی-وہ اپنا ہاتھ چھڑا کر واپس بھاگتی ہوئی اندر آئی اور زو ر زور سے ہنسنے لگی-

”کیا ہوا- تم بھاگ کیوں آئیں-“ شلپا اس کے پیچھے پیچھے آئی اور غصے سے اس کو دیکھنے لگی-

”یہ-“ نیرو اب بھی زور زور سے ہنس رہی تھی-”ان کو آتے ہیں میرے خواب- ارے تمہیں بے وقوف بنا رہے ہیں- ان کو ہم بس میں ملے تھے- کراچی سے آتے ہوئے- تب سے پیچھے پڑے ہیں- ہا ہا ہا-“

٭٭٭٭٭٭٭

”کیا ہوا- اس سے بات ہوئی کیا؟-“ امان گھر پر جیسے روہن اور رویندر کا ہی انتظار کر رہا تھا-”بات بنی یا نہیں-“

روہن نے صوفے پر لیٹتے ہوئے نا میں سر ہلا دیا-

”گیٹ تک آئی تھی -واپس بھاگ گئی- ایک اور لڑکی تھی ا س کے ساتھ-“ روہن نے سیدھا لیٹتے ہوئے کشن پر سر ٹکا دیا-

”میں نے تو بولا اس کو- سیدھی بات کرنی چاہئے تھی- جناب تو گیٹ کے پاس کھڑے ہونے سے بھی ڈر رہے تھے- ایسے بات تھوڑے ہی بنتی ہے یار-“ رویندر غصے سے بولا-

امان رویندر کی طرف دیکھ کر مسکرایا- ”بن جائے گی گی- مگر صبر تو کرنا پڑے گا نا- یہ کام اتنی جلدی نہیں ہونے والا- ایک منٹ- میں گوری سے بات کرتا ہوں-“ امان نے فون نکالتے ہوئے کہا- ”ہیلو-“

”ہاں امان بولو- “ دوسری طرف سے گوری کی آواز آئی-

کیا رہا—- کیا بات ہوئی شینو سے-“ امان سیدھے مطلب کی بات پر آتے ہوئے بولا-

” وہ میں آج کل کالج نہیں جا رہی- میں نے شلپا کو بولا تھا بات کرنے کے لئے- سب سمجھا بھی دیا تھا اس کو- اس کا نمبر دیتی ہوں تم ابھی اس سے بات کرلو-“ گوری نے جواباً کہا-

”ہوں- لاﺅ دو نمبر-“ امان نے کہتے ہوئے نمبر نوٹ کرنے کے لئے روہن کا فون اٹھا لیا- گوری نے امان کو شلپا کا نمبر لکھوا دیا-

”ایک منٹ امان- سنو- کیا اس بات کے لئے شیکھر فون نہیں کر سکتا کیا شلپا کو-“

”ہاں اس سے بھی کروا سکتا ہوں- مگر کوئی خاص وجہ ہے کیا-“ امان نے پوچھا-

”نہیں بس ایسے ہی- وہ- وہ اس سے بات بھی کرنا چاہتی ہے-“ گو ری نے ٹالتے ٹالتے بھی بات کہہ ہی دی-

”ٹھیک ہے میں ابھی اس کو بول دیتا ہوں- وہ بات کر لے گا شلپا سے-“ امان مسکرایا اور فون کاٹ دیا-

”میں شیکھر کو لے کر آتا ہوں- شلپا نے بات کی ہے نیرو کے ساتھ- وہی بتائے گی کیا پوزیشن ہے-“ امان یہ کہتے ہوئے باہر نکل گیا-

٭٭٭٭٭٭٭

”کیا بات ہے بے- تم سیٹنگ کر بھی آئے اور مجھے بتایا تک نہیں-“ امان نے دوسرے کمرے میں گھستے ہی بستر پر سوئے ہوئے شیکھر کو پکڑ کر زور سے ہلایا-

شیکھر ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھا- ”کیا— کیا ہوا؟-“

”لو- یہ لو تمہاری شلپا کا نمبر اس کو تم سے بات کرنی ہے- اور ہاں – یہ پوچھنا مت بھولنا کہ نیرو کا کیا رسپونس رہا-“ امان نے شیکھر کا فون اٹھا کر شلپا کا نمبر ڈائل کی اور فون شیکھر کو پکڑا دیا- شیکھر نے فون کاٹا اور امان کو گھورنے لگا-

”جا رہا ہوں بھئی- کرلو اکیلے اکیلے میں باتیں-“ امان ہنستا ہوا باہر نکل گیا-

شلپا کے بارے میں سوچتے ہی شیکھر کے دل کی دھڑکن بڑھ گئی- آخر کیا بات کرنی ہے اس کو- سوچتے ہوئے شیکھر نے دروازہ اندر سے بند کیا اور ری ڈائل کرکے فون کان سے لگا لیا-

”ہیلو-“ شلپا کی میٹھی سی آواز فون پر ابھری-

”ہائے شلپا-“ شیکھر نے شلپا کا لفظ لمبا کھینچتے ہوئے کہا-”میں شیکھر-“

”اوہ- ہائے- آپ کے پاس میرا نمبر کہاں سے آیا-“ شلپا کی زبان لڑکھڑا گئی-

”مجھے تو یہی بتایا گیا ہے کہ آپ کو مجھ سے کوئی خاص باتیں کرنی ہیں- اس لئے میں تو سمجھاکہ آپ نے ہی دیا ہوگا-“ شیکھر نے آرام سے بستر پر لیٹتے ہوئے کہا-

”نہیں تو- میں نے تو کوئی– مطلب— مجھے تو-“ شلپا نے کئی طرح سے اپنی بات پوری کرنے کی کوشش کی- مگر کر نہیں پائی- کینٹین کے آئینے کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے آپ کو یوں دیکھنے لگی جیسے شیکھر اس کو دیکھنے ہی آرہا ہو-

”پھر تو سوری کہ میں نے آپ کو ڈسٹرب کیا- آئندہ ایسی غلطی نہیں کروں گا-“ شیکھر نے اس کی نا سن کر روٹھ جانے کا ناٹک کیا-

”نہیں — نہیں– میرا مطلب تھا—- ہاں— مجھے — مجھے کرنی تھی بات— وہ-“ شلپا کے منہ سے بے تکے جملے نکل رہے تھے-

”وہ کیا-“ شیکھر مسکراتے ہوئے بولا-

”وہ- تم واپس کب جا رہے ہو؟-“ شلپا کو اور کچھ سوجھا ہی نہیں-

”کہو تو آج ہی واپس چلا جاتا ہوں-“ شیکھر نے آنکھیں بند کرکے شلپا کا سلونا چہرہ یاد کیا-

”نہیں- نہیں- میرا مطلب ہے کہ-“ شلپا پھر رک گئی-

”بولو بھی اب- بول بھی دو یار-“ شیکھر کے دماغ پر مستی سوار ہو رہی تھی-

”کک کیا-“ شلپا ہڑبڑاہٹ کے ساتھ بولی-“

”اور کچھ نہیں تو آئی لو یو ہی بول دو-“ یہ کہتے ہوئے شیکھر ہنسنے لگا-

”کیسے– مطلب–“ شلپا کی حالت فون پر ہی خراب ہوگئی-

”مطلب میں ہی الجھی رہو گی یا کوئی کام کی بات بھی کرو گی-“ شیکھر نے پھر اس کو چھیڑا-

”کیا بات— کرنی ہے— میری سمجھ میں نہیں آرہا-“ شلپا کی سانس اکھڑنے لگی تھی- اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ کیا بولے اور کیا نہیں-

”ارے وہی یار- وہ نیرو نے کیا جواب دیا- روہن کے بارے میں-“ شیکھر کے اس سوال کو سنتے ہی شلپا کا دھیان خود پر سے ہٹ کر نیرو پر چلا گیا- اور اس کے ساتھ ہی وہ سنبھل بھی گئی-

”اوہ- بہت مشکل ہے شیکھر- میں نے ا س کو سمجھانے کے لئے کیا کیا نہیں کیا مگر اس سے اس بارے میں بات کرنا ہی بیکار ہے- پہلی بات تو وہ مانتی ہی نہیں کہ پیار محبت جیسی کوئی چیز بھی موجود ہے- دوسرا یہ کہ روہن کے بارے میں وہ سمجھتی ہے کہ وہ بس میں ملنے کے بعد سے ہی اس کے پیچھے پڑا ہے- خواب والی بات اس کو ڈرامے سے زیادہ کچھ نہیں لگی-“

”تمہاری طرف سے کچھ امید ہے ابھی یا نہیں؟-“ شیکھر نے بھی سنجیدہ ہوکر پوچھا-

”مجھے نہیں لگتا کہ اس پر کوئی اثر ہوگا- مگر تم کہو تو میں ایک بار اور کوشش کروں-“ شلپا نے شیکھر کی بات کو توجہ سے سنتے ہوئے کہا-

”نہیں – ابھی رہنے دو- اگر ضرورت ہوئی تو میں بتا دوں گا- بائی دی وے شکریہ اس بات کے لئے-“

”یہ کیسی بات کر رہے ہو- “ شلپا نے بات پوری بھی نہیں کی تھی کہ شیکھر نے جان بوجھ کر فون کاٹ دیا-

اس کو یقین تھا کہ اگر کوئی خاص بات ہوگی تو ریٹرن کال ضرور آئے گی- اور اس کا یقین صحیح نکلا-

”فون کیوں کاٹ دیا تھا- “ شلپا نے شکایتاً کہا-

”میں سمجھا بات پوری ہوگئی ہے- سوری-“ شیکھر نے کہا-

”نہیں— ہاں— میرا مطلب تھا کہ -“ شلپا پھر اٹکنے لگی-

”کیا بات ہے- بولو بھی- “

”وہ ایک بار مل سکتے ہو کیا؟-“ شلپا نے گھبراہٹ میں جلدی سے کہا اور جواب کو دل کی گہرائی تک اتارنے کے لئے اپنی آنکھیں بند کرلیں-

” ہاں کیوں نہیں- مگر کہاں؟-“ شیکھر کا دل مچل اٹھا-

”کہیں بھی- جہاں تم کہو-“ شلپا کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا-

”اوکے ٹھیک ہے میں بعد میں فون کرکے بتاتا ہوں- اور کچھ-“ شیکھر نے فون کو چومتے ہوئے کہا- شلپا کو بھی اپنے کان میں چومنے کی آواز سنائی دی-

”آئی لو یو- -“ شلپا نے جھٹ سے کہا اور جواب سننے سے پہلے ہی فون کاٹ دیا-

٭٭٭٭٭٭٭

”امی کوئی لڑکی آئی تھی کیا-“ نیرو نے گھر کے اندر گھستے ہی دروازہ بند کرتے ہوئے پوچھا-

”نہیں تو- کسی کو آنا تھا کیا-“ امی نے پلٹ کر پوچھا-

”نہیں- مگر کالج میں کوئی مجھے پوچھ رہی تھی- اس لئے-“ نیرو نے روانی میں جواب دیا اور اوپر سیڑھیاں چڑھنے لگی-

”ار ے کھانا تو کھا لو بیٹی – تم صبح بھی ایسے ہی نکل گئی تھیں-“ امی نے نیچے سے آواز لگائی-

”آرہی ہوں امی- ذرا کپڑے بدل لوں-“ نیرو نے جواب دیا اور اوپر کمرے میں گھس گئی-

اندر گھستے ہی اس کی نگاہ میز پر پیپر ویٹ کے نیچے پھڑپھڑاتے ہوئے کاغذ پر جاکر جم گئی- اس نے جلدی سے کاغذ اٹھایا اور یونہی پڑھنے لگی- مگر جیسے جیسے وہ پہلی لائن سے دوسری اور دوسر ی سے تیسری لائن پر پہنچی- اس کے ہاتھ پیر جمنے لگے اور وہ اس میں لکھے الفاظ کے جال میں الجھتی چلی گئی-

”نام بدل لینے سے تقدیر نہیں بد ل جاتی نیرو- اور خاص طور پر تب‘ جب تقدیر کی وہ گھڑی صدیوں پرانی محبت کا گلا گھونٹ کر ایک دوسرے کے لئے پیاسی دو روحوں کے ایک ہوچکے لہو میں ڈبو کر ساتویں آسمان سے بھی اوپر لکھی گئی ہو-“ نیرو اچنبھے سے کاغذ کے اس ٹکڑے کو دیکھتی رہی- پھر تیزی سے نیچے کی طرف بھاگی-

”امی کون گیا تھا اوپر- کون آیا تھا گھر میں-“ نیرو کا چہرہ غصے سے تمتما رہا تھا-

”بتا تو رہی ہوں – کوئی نہیں آیا- میں تو صبح سے ہی یہاں ہوں- کیا ہو گیا-“ امی نے بے فکری والے انداز یں بیٹھے بیٹھے ہی کہا-

بنا کچھ بولے ہی نیرو باہر نکلی اور دوسری گلی پر لگے گیٹ کی کنڈی دیکھی- مگر وہاں تو تالا لگا ہوا تھا-

”ان کی اتنی ہمت ہوگئی کہ دیوار پھلانگ کر چوروںکی طرح گھر میں گھسنے لگے ہیں-“ بڑبڑاتی ہوئی نیرو نے کاغذ کے ٹکڑے ٹکڑے کر دیئے اور ڈسٹ بن میں پھینک دیئے پھر واپس اوپر چلی گئی-

———————-

”کک کون ہے- کون ہے؟-“ نیرو باتھ روم کے دروازے کے سامنے کھڑی ڈر کے مارے سوکھے پتے کی طرح کانپنے لگی- دروازے کو دوبارہ چھو کر دیکھنے کی اس کی ہمت تک نہیں ہوئی- ”امی ی ی ی ی “ اچانک نیرو کی چیخ سے پورا گھر دہل گیا-

نیرو کی چیخ سن کر امی بدحواسی میں دوڑی دوڑی اوپر آئی تو دیکھا کہ نیرو باتھ روم کے دروازے کے ساتھ کھڑی کانپ رہی ہے-

”کیا ہوا شینو— کیا ہوا بیٹی؟-“ کسی انہونی کے خیال سے اوپر دوڑی چلے آنے والی امی کو جب نیرو صحیح سلامت کھڑی نظر آئی تو ان کو تھوڑی تسلی ہوئی- پاس آتے ہی انہوں نے نیرو کو بانہوں میں لے کر خود سے چپکا لیا-

”وہ— وہ– باتھ روم میں کوئی ہے-“ نیرو امی سے چپکی ہوئی بولی-

”چپ کر – ڈرپوک کہیں کی- کون ہوگا-“ کہتے ہوئے امی نے زور سے دروازے کو اندر دھکیلا تو وہ کھل گیا- اندر کوئی نہیں تھا-

”دیکھو- کوئی بھی تو نہیں ہے-“

”مگر کوئی تھا امی- یہاں ضرور کوئی آیا تھا- دروازہ بھی نہیں کھلا تھا ابھی-“ نیرو نے ڈرتے ڈرتے آنکھیں کھول کر باتھ روم کے اندر جھانکا-

”پاگل- تمہیں پتہ تو ہے کہ دروازہ تھوڑا جام ہے- کچھ زور لگانے سے کھلتا ہے- چلو جاﺅ – کپڑے بدل لو- میں تمہارے ساتھ ہی نیچے چلوں گی- امی نے اس کی ڈھارس بندھاتے ہوئے کہا-

”نہیں-میں نیچے ہی بدل لوں گی- چلو-“ اپنے کپڑے اٹھا کر نیرو امی کے ساتھ نیچے چلی گئی-

٭٭٭٭٭٭٭

”امی-“ نیرو نے کھانا کھاتے ہوئے کہا-

”ہاں بیٹا- بولو-“

” میرا نام پہلے نیرو تھا نا-“

”بلاوجہ پرانی باتیں کیوں دوہرا رہی ہو- تمہیں منع کیا ہے نا کسی کو بھی وہ نام بتانے سے-“ امی نے تھوڑا نروس ہوتے ہوئے کہا-

”میں نے کسی کو نہیں بتایا امی- لیکن پھر بھی- بتایئے نا- آپ سب کو کیوں اس نام سے الرجی ہے-“ نیرو کے دل میں رہ رہ کر کاغذ پر لکھے الفاظ کوند رہے تھے-

”کہہ دیا نا کوئی بات نہیں ہے- ہمیں وہ نام پسند نہیں تھا بس- تمہارا نام شینو ہی ہے- اور کچھ نہیں- اب بے سرو پا باتیں چھوڑو اور کھانا کھا کر پڑھائی کرلو-“ امی نے کہا اور اٹھ کر باہر چلی گئیں- مگر اس سے نیرو کی بے چینی کم نہیں ہوئی- الٹا نام کے پیچھے چھپی سچائی جاننے کے لئے اس کی جستجو اور بڑھ گئی- ریتو کے آنے کے بعد دونوں پڑھنے کے لئے اوپر چلی گئیں-

٭٭٭٭٭٭٭

رات کے تقریباً بارہ بجے ریتو نے کتابیں بستر کے ساتھ لگی میز پر رکھ کر لائٹ بند کی اور بستر پر لیٹے اسے مشکل سے آدھا گھنٹہ ہی ہوا تھا کہ اچانک کمرے میں کسی کی موجودگی کا احساس کرکے اس کی آنکھ کھل گئی- کھڑکی کے سامنے کمرے میں ایک سایہ ابھر آیا تھا اور اس کے پیچھے روشنی کا ایک ہالہ سا تھا اس لئے وہ سائے کے لہراتے ہوئے کپڑوں کے علاوہ کچھ بھی نہیں دیکھ پائی- نیرو ڈر کے مارے اتنی سہم گئی تھی کہ اس کی چیخ بھی نہ نکل سکی- بستر پر بیٹھ کر نیرو پیچھے دیوار سے چپک گئی- وہ کچھ سمجھ پاتی اس سے پہلے ہی سائے نے بولنا شروع کر دیا-

”گھبراﺅ مت نیرو- تمہیں کسی طرح کی تکلیف نہیں ہوگی- نا ہی میرا مقصد تمہیں ڈرانا ہے- تمہیں لگ رہا ہوگا کہ تم جاگ رہی ہو- مگر ایسا نہیں ہے- دراصل میں تمہارے خواب میں ہوں- ہاں- تم خواب ہی دیکھ رہی ہو- اب میری باتیں دھیان سے سننا- میرا مقصد صرف تمہیں تمہاری حقیقت سے آگاہ کرنا ہے- ایسی حقیقت جس کو سن کر تمہاری آنکھیں بھر آئیں گی- — تم چاہو تو مجھ سے سوال بھی کر سکتی ہو- ٹھیک ہے نا؟-“

”آں— ہاں-“ نیرو کے ماتھے پر پسینہ چھلک آیا-اس کے پاس ہاں بولنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا-

”ایک لڑکی تھی پریا درشنی اور ایک لڑکا تھا دیو—- دونوں ایک دوسرے سے بہت محبت کرتے تھے– محبت بھی ایسی کہ مر کر بھی ان کی روحیں ایک دوسرے کے لئے تڑپتی رہیں—- جنم جنم—- پریا کا پیار آج بھی اپنے دیو کا انتظار کر رہا ہے— اور دیو کو اپنی پریا کی تلاش میں در در بھٹکنا پڑ رہا ہے—- دیو کی تلاش آخر کار پوری ہوئی— اس کو پتہ چل چکا ہے کہ اس کی پریا اس جنم میں کون ہے— مگر پریا کا دل اس جنم میں اس کی روح کے ساتھ نہ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے پیار کو نہیں پہچان پا رہی— تم سن رہی ہو نا؟-“

”ہاں– ہاں-“ بڑی مشکل سے نیرو کے گلے سے آواز نکل پائی-

”تمہیں پتہ ہے وہ دونوں کون ہیں؟-“ سائے نے پھر سوال کیا-

”نن– نہیں-“ نیرو ایک دم سمٹتی ہوئی بولی-

”جاننا نہیں چاہوگی؟-“

”نہیں— م م م — ہاں-“ نیرو کی دھڑکنیں دھیرے دھیرے تیز ہوتی جا رہی تھیں اور ا س کے دماغ نے کام کرنا بند کر دیا تھا-

”تو سنو— اس جنم میں اس لڑکے کا نام روہن ہے اور لڑکی کا نام ہے نیرو- یعنی تم-“ کہہ کر سایہ نیرو کے جواب کا انتظار کر نے لگا-

نیرو کے منہ سے کوئی لفظ نہیں نکل پایا- ساتھ رکھی میز پر اس کا ہاتھ کچھ ڈھونڈنے لگا-

”تم سن رہی ہو نا-“ سائے کی آواز کمرے میں گونج اٹھی-

نیرو نے آﺅ دیکھا نہ تاﺅ- پیپر ویٹ ہاتھ میں آتے ہی اس نے زور سے اس کو سائے کی طرف دے مارا- نشانہ ایک دم ٹھیک تھا- — مگر — سایہ نیرو کے ہاتھ کی حرکت دیکھ کر سنبھلتے ہوئے ایک طرف کو جھک گیا- اور آواز اس کے پیچھے سے آئی-

”اوئے ماں– مار ڈالا رے-“ ٹارچ اس کے ہاتھ سے چھوٹ کر فرش پر جا گری اور وہ اپنا سر دونوں ہاتھوں میں دبا کر وہیں بیٹھ گیا- سایہ تیزی سے گھوم کر اپنا سر پکڑکر بیٹھے آدمی پر جھکا اور زبردستی اس کو اٹھانے کی کوشش کرنے لگا-

”جلدی بھاگ یار- — ورنہ پھنس گئے سمجھو-“

”ابے تجھے بھاگنے کی پڑی ہے- یہاں سر پھٹ گیا ہے میرا – رک ایک منٹ- بیچ میں پردہ نہ ہوتا تو میں تو گیا تھا کام سے-“ وہ اٹھنے کی کوشش کرتے ہوئے بولا-

نیرو کو آواز جانی پہچانی سی محسوس ہوئی- اس نے ہمت دکھاتے ہوئے جھٹ سے لائٹ آن کر دی-

”تم م م م م-“ نیرو نے اپنی آواز کو بڑی مشکل سے دباتے ہوئے کہا-

روہن اور رویندر دونوں اس کے سامنے مجرموں کی طرح سر جھکا کر ہاتھ باندھے کھڑے تھے- حیران پریشان نیرو کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا بولے اور کیا نہیں- وہ عجیب سی نظروں سے بستر کے پاس کھڑی انہیں گھورتی رہی-

آخرکار یہ خاموشی روہن نے ہی توڑی-

”تمہارا ہی پلان تھا نا یہ- اب بھگتو-“ نظریں چراتے ہوئے اس نے نیرو کو پل بھر کے لئے دیکھا اور پھر نظریں جھکا لیں-

نیرو بس خاموشی سے کھڑی انہیں گھورتی رہی- پیپر ویٹ اگرچہ سیدھا رویند کے سر پر نہیں لگا تھا- پھر بھی پیپر ویٹ کے آدھے سائز کا گومڑ اس کے سر پر ابھر آیا تھا-

رویندر اپنا گومڑ سہلاتا ہوا روہن پر برس پڑا- ”ابے ایسے کرتے ہیں کیا بھوتوں کی ایکٹنگ—تم تو ایسے بول رہے تھے جیسے کسی اسٹیج پر ڈرامے کے ڈائیلاگ بو ل رہے ہو- دو گھنٹے کی ریہرسل کی ایسی کی تیسی کروا دی تم نے- پھر پلان میں کیا کمی تھی- تم نے ہی تو کہا تھاکہ اگر میں نیرو کے سپنے میں آسکوں تو بات بن سکتی ہے-“

”چل چھوڑ- اب کھسک لے یہاں سے-“ روہن نے نیرو کی طرف دیکھتے ہوئے دھیرے سے کہا اور رویندر کو کھڑکی کی طرف گھما دیا-

رویندر نے جیسے ہی کھڑکی سے باہر پیر رکھا- نیرو لگ بھگ چلاتے ہوئے بولی-

”اے-“ اور رویندر نے اپنا باہر نکالا ہوا پیر واپس کھینچ لیا-

”سوری – بھا— بھا– نیرو جی- آئندہ ایسی غلطی نہیں ہوگی- میں کان پکڑتا ہوں-“

”مرنا ہے کیا— زینے سے اتر کر جاﺅ-“ نیرو نے غراتے ہوئے کہا-

”جی— مگر -“ رویندر نیرو کی طرف دیکھنے لگا-

”آج کے بعد گھر میں اس طرح قدم رکھے تو بچ کر نہیں جانے دوں گی- شور مچا دوں گی میں- چلو اب- میرے پیچھے پیچھے آﺅ- – آواز مت کرنا-“ نیرو نے کہا اور کمرے سے باہر نکل گئی-

دروازے سے باہر نکلتے ہوئے روہن نے مڑ کر نیرو کی جانب دیکھا- دل میں ایک کسک سی اٹھی- جیسے واپس اندر چلا جائے- نیرو کو اس کی اور اپنی کہانی سنانے کے لئے- اس کو ہمیشہ کے لئے اپنا بنانے کے لئے- مگر نیرو کی آنکھوں میں جھلک رہا ہلکا سا غصہ اس کو احساس دلا رہا تھا کہ نیرو نے انہیں صرف وقتی طور پر بخشا ہے معاف نہیں کیا- نیرو نے بنا آواز کئے دروازے کی کنڈی لگائی اور واپس اوپر آکر اپنا پیٹ پکڑ کر بری طرح ہنسنے لگی اور ہنستی ہی رہی- جانے کتنی دیر تک-

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے