سر ورق / ناول / دام عشق۔۔۔ ابن آس محمد۔۔قسط نمبر 4،5،6

دام عشق۔۔۔ ابن آس محمد۔۔قسط نمبر 4،5،6

ابن آس محمد کے قلم سے فیس بک پر پہلا ناول
” دام عشق ”
………..
چوتھی قسط
……………..
بے سبب عشق کی کہانی۔
ایک ہوس پرست وحشی کا عشق طولانی
اس کی وحشت اسے جنونی عشق کی طرف لے جا رہی تھی۔
دامِ عشق میں لا رہی تھی۔
…………………………….
کمرے میں یاسمین کی دبی دبی چیخیں اور لذت آمیز سسکیاں گونج رہی تھیں۔
عورت کی چیخیں سن کر مرد کا دل پسیج جاتا ہے،مگر وہ محبوب علی خان تھا،اس کے اندر کا جانوران سسکیوں اور چیخوں پر اور وحشی ہو جایا کرتاتھا۔
کمرے میں صرف یاسمین نہیں چلا رہی تھی،تیز پاپ موسیقی بھی چیخ رہی تھی،ایسے موقعوں پر محبوب تیز ہیجان انگیز میوزک آن کردیا کرتا تھا۔
وہ شیف تھا،ریسٹورینٹ چلا رہا تھا۔جب ریسٹورنٹ میں ہجوم ہوتا تو ڈائننگ ہال میں موسیقی کی لے تیز کردی جاتی تھی۔
وہ جانتا تھا کہ دھیمی موسیقی میں کھانے کی رفتار دھیمی ہوجاتی ہے،ہلکی موسیقی سنتے ہوئے ڈرائیونگ کرتے ہوئے گاڑی کی رفتار تیز نہیں ہوتی،اور تیز موسیقی میں کھانے والا بھی تیز ہو جاتا ہے،جلدی جلدی ہاتھ چلا تا ہے، گاڑی چلانے والا،گاڑی کی رفتار بھی تیز کر دیا کرتا ہے۔
کمرے میں گونجنے والی تیز موسیقی اور یاسمین کی چیخیں اور سسکیاں اس کی رفتار تیز کرنے کا سبب بن رہی تھیں۔
یاسمین کی چیخوں کا ایک بنیادی سبب اس کے سر سے اٹھنے والی درد کی ٹیسیں بھی تھیں۔وحشی نے اس زور سے اس کے بال پکڑ رکھے تھے کہ یاسمین اپنا سر بھی نہیں ہلا پارہی تھی اور درد کے مارے چلا رہی تھیں۔
سسکیوں کا سبب کچھ اور تھا۔
جب درد سوا ہو گیا تو اس نے چلاتے ہوئے کہا:
”تم انسان نہیں..جانور ہو جانو ر…وحشی….میرے با ل چھوڑو….اور دانت ہٹاؤ میرے کاندھے سے….“
محبوب نے ہانپتے ہوئے اس کے بال چھوڑ دیے،دانت ہٹا لیے ا س کے کاندھے سے،اوراسے بھی چھوڑ دیا۔
دونوں اپنی سانس بحال کرنے لگے۔
محبوب نے چند لمحوں بعد ہاتھ بڑھا کر پلیر سے ابھرنے والی پاپ موسیقی کی چیخوں کا والیوم کم کردیا۔
کمرے میں سکون ہو گیا۔تب اسے لگا تیز موسیقی بے سکونی کا سبب ہوتی ہے۔
طوفان تھما،اور وہ انسان کے جامے میں آیا،تو یاسمین بستر سے اتر چکی تھی،پاجامے میں آچکی تھی۔اپنی چست جینز فربہ ٹانگوں پہ کھینچ تان کے چڑھا چکی تھی اوراب اس کے بیڈ کے قریب کھڑی تھی،اپنی تنگ کرتی اوپری بدن پہ نیچے اُتارنے کی سعی کر رہی تھی۔
اس کی برہنہ پیٹھ محبوب کی آنکھوں کے سامنے تھی۔
محبوب بستر پر بیٹھاتھا۔ا س کی گوری گوری کمر پر چپکے ہوئے سیاہ بریزر کی پٹی کو دیکھ رہاتھا۔
وہ کرتی منڈھ کر پلٹی تو محبوب نے ہزارہزار کے کچھ نوٹ اس کی طرف بڑھادیے۔اپنی حلال کی کمائی،حرام کاری کی نظر کردی۔
وہ اپنی پتلون پہن چکاتھا۔بستر پہ بیٹھا مسلسل ا س کی طرف دیکھ رہا ہے۔ابھی اس نے شرٹ نہیں پہنی تھی۔
یاسمین نے کچھ کہے بغیر نوٹ تھامے تو محبوب نے اس کی آنکھوں میں گھورتے ہوئے کہا:
”یہ بہت محنت سے کمائے ہوئے پیسے ہیں…. منٹوں میں ہزاروں لے جاتی ہو…“
یاسمین تلخی سے بولی:
”حلال کمانے والوں کو کیا معلوم،جسم بیچ کر کمانے میں کتنی محنت ہوتی ہے… کسی روز کسی کے نیچے آو تو حلال حرام سب نکل جائے گا….“
محبوب ہنس پڑا،مسکراتے ہوئے بولا:
”اتنی تلخ کیوں ہو تم….؟جسم بیچتی ہو،اور نخرے دیکھو…“
یاسمین اسی تلخی سے بولی:
”لکھنے والا لفظ بیچتا ہے،سوچنے خیالات بیچتا ہے،اور مذہب بیچنے والا تو خدا بھی بیچ دیتا ہے….میں تو صرف جسم بیچتی ہوں…لوگ اپنا ٹیلنٹ بیچتے ہیں،اپنا خون بیچتے ہیں،گردے بیچتے ہیں،رشتے بیچتے ہیں،بچے بیچتے ہیں،بیٹیاں تک بیچ دیتے ہیں…. میں تو صرف جسم بیچتی ہوں….تم نے ایک بار کہا تھا نا کہ جسم کوئی چیز نہیں ہوتی…اصل چیز روح ہے… مگرلوگ کوڑیوں میں روح کا سودا کر دیتے ہیں …. اور تم… تم کھانا بیچتے ہو نا…. محنت سے بناتے ہو،ٹیلنٹ سے سجاتے ہو…اور ٹکے ٹکے کے لوگوں کے سامنے جھک جھک کر اس کے دام وصول کرتے ہو…. پھر بھی اپنی کمائی کو حلال اور میری کمائی کو حرام کہتے ہو…. حرام تو تم کماتے ہو… کسی بھوکے کو کھلاتے ہو اور کہتے ہو پیسے دو…. میں بھی بھوکے کو سیر کرتی ہوں،اور کہتی ہوں پیسے دو…. لاؤ اور پیسے دو…میں نے کہا تھا نا،کچھ پیسے زیادہ دے دینا….“
محبوب نے کھسیا کر ہنستے ہوئے کچھ اور نوٹ نکال کر ا س کی طرف بڑھا دیے۔سکون دینے والی نے چند جملوں میں طبیعت صاف کردی تھی۔وہ اس سے بحث کرنا بھی نہیں چاہتا تھا،بات بدل کر بولا:
”صرف تم ہو جو مجھے جھیل پاتی ہو….مگر کم کم آتی ہو….آتے ہی چلی جاتی ہو….“
یاسمین نے نوٹ لے کر اپنی جینز کی جیب میں اُڑس لیے۔ہاتھوں سے بال سمیٹ کر اس میں ربڑ باندھنے لگی اور جواب میں اس کو گھورتے ہوئے بولی:
”درندوں سے کم کم ملنے میں عافیت ہے …. بھیڑیے کے بھٹ سے جتنی جلدی نکل جاؤ اتنا اچھا ہوتا ہے…. پیسے اچھے دیتے ہو….،ورنہ میں تھوکتی بھی نہیں تم پر ….“
محبوب استہزائیہ انداز میں مسکراتے ہوئے بولا:
”آج تو تشدد نہیں کیا….کنٹرول کیے رکھا خود پر….“
یاسمین نے تلخی سے کہا :
”تمہیں کنٹرول ہی تو نہیں ہے خود پر…. شولڈر پر ایسے کاٹا ہے جیسے کتا ہڈی بھنبھوڑتا ہے….شکر ہے کسی کو تم سے محبت نہیں ہو ئی….بیڈ پر ہی ماردیتے بے چاری کو….“
محبوب اس کی طرف دیکھتے ہوئے مسکراتا رہا۔ہنستے ہوئے بولا:
”مجھے معلوم ہی نہیں،محبت کس چڑیا کا نام ہے…. اورپیار کیا بلا ہے،مجھے کیا علم…میں تو صرف یہ جانتا ہوں کہ عورت ہاتھ لگے تو بستر تک لے جاؤ،ورنہ کوئی اور لے جائے گا….تم نہیں لے جاؤ گے تو وہ کسی دوسرے کے ساتھ چلی جائے گی…“
”یہی فرق ہے عورت اور مرد میں…عورت ہر کسی کے ساتھ نہیں جاتی…. یہ مرد ہی ہے جو ہر عورت کے پیچھے دم ہلاتے ہوئے چلا جاتاہے….اور ہمیشہ جاتا رہے گا….دم ہلانے والا دُم ہلاتا رہے گا۔۔۔۔“
”تم بھی تو ہر مرد کے پاس چلی جاتی ہو….“
یاسمین ہنسنے لگی۔ہنس ہنس کر دوہری ہو گئی۔پھر اس کا مذاق اڑاتے ہوئے بولی:
”تمہیں معلوم ہے میں کیا کرتی ہوں…؟“
”کیا کرتی ہو…؟“ محبوب نے مزے لیتے ہوئے پوچھا:
”تم جیسے حرام زادوں کو جہنم تک پہنچانے کا سبب ہوں میں….“
محبوب اسے گھورتا رہا،پھر ذرا غصے سے بولا:
”اب آؤ گی نا…ایسا کچلوں گا کہ کہیں جانے کے قابل نہیں رہو گی …“
یاسمین نے اس کے کاندھے پر ہاتھ مار کر گراتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا:
”بستر میں عورت سے پیار کیا جاتا ہے محبوب….”ہتھیا چار“ نہیں….عورت کو سمیٹا جاتا ہے،پھینٹا نہیں جاتا….“
وہ سنگھار میز کے سامنے کھڑی ہو کر بال بنانے لگی۔بال بنا کر پلٹی اور بیڈ کے کنارے بیٹھ کرفرش پر رکھے اپنے شوز اٹھا کرپہننے کے لیے جھکی تو محبوب نے کہا:
”کچھ پیو گی….گلاس بناؤں….؟“
یاسمین جوتے پہن کر سیدھی ہوگئی
”نہیں…. ابھی ڈرائیو بھی کرنی ہے مجھے….سالے پولیس والے روک کر منھ سونگھتے ہیں….بہانے سے کس(kiss) کرنے کی کوشش کرتے ہیں….“
کہتے ہوئے اس کے سامنے جا کر کھڑی ہوگئی۔اس کو دیکھتی رہی۔جانے کیا سوچتی رہی۔محبوب نے کہا:
”کیا دیکھ رہی ہو…کیا سوچ رہی ہو….؟“
”کچھ نہیں…“ یاسمین نے سر جھٹک کر جواب دیا۔
وہ ایک بار پھر بیڈ کے کنارے بیٹھ گئی۔ اپنے پرس میں سے چھوٹا شیشہ نکال لیااور میک اپ درست کرنے لگی۔ہونٹوں پر لپ اسٹک کی تہہ جماتے ہوئے ہاتھ روک کر اچانک بولی:
”تم جیسے مرد اسی وقت نارمل ہو تے ہیں جب انہیں پیار ہوتا ہے …تم جیسے درندوں کو پیار نہ ہو تو وہ عورت کو چیرنے پھاڑنے لگتے ہیں….“
محبوب خاموش رہا۔کوئی جواب نہیں دیا۔اسے لپ اسٹک لگاتے دیکھتا رہا۔
وہ رخسار وں پر پفنگ کر کے کھڑی ہو گئی۔پرس اٹھا کر کاندھے پہ ڈالا اور بغیر کچھ کہے دروازے کی طرف بڑھی تو محبوب چپ نہ رہ سکا:
”اتنی جلدی کیوں جا رہی ہو…صبح چلی جانا…. دن نکلنے میں وقت ہی کتنا رہ گیا ہے…“
یاسمین دروازے کے قریب پہنچ چکی تھی،وہیں رک گئی۔دروازے کے ہینڈل پہ ہاتھ رکھا اور پلٹ کر بولی:
”کام ختم….پیسہ ہضم …میں تمہاری بیوی نہیں جو صبح تک تمہارے ساتھ لپٹ کر سوؤں….جو عورت بغیر پیسے لیے صبح تک بستر میں بے مقصد چمٹ کے سوتی رہے اور خوش بھی نظر آئے اسے بیوی کہتے ہیں…. میں تمہاری بیوی نہیں….ہوتی بھی تو تم جیسے درندے کو پہلی ہی رات چھوڑ کر اپنے گھر چلی جاتی…. میں تو تمہاری زندگی میں کبھی کبھی آنے اور جانے والی ایک زندہ لاش ہوں ….“
اس نے ہنڈل گھمایا۔دروازہ کھولا اور باہر نکل گئی۔
جاتے جاتے جوتا مار گئی کہ اس کی زندگی میں صرف آنے اور جانے والی عورتیں ہیں۔اس کے ساتھ جیون بتانے والی کوئی نہیں۔
وہ اکیلا ہے،اکیلا جیے گا اور اکیلا مرے گا…..
…………….
وہ اکیلا سویا تھا،اکیلا بیدار ہوا۔
دن چڑھے تک سویا رہا تھا۔بیدار ہو ا تو کسلمندی سے دیر تک لیٹا رہا۔
اس کی ملازمہ رانی بھی اپنے آپ میں مہارانی تھی۔صبح نو بجے کا وقت تھا،مگر وہ بارہ بجے سے پہلے نہیں آتی تھی۔وہ تب تک اٹھ چکا تھا۔
کچن میں جا کر اپنے لیے کافی بنائی اور کھانے کے لیے کٹوریوں میں کچھ چیزیں فریج سے نکال کر میز پر آگیا۔
کافی پیتے ہوئے خیالوں میں ڈوبا رہا۔
ابھی نیند پوری نہیں ہو ئی تھی۔وہ پھر سے سوجانا چاہتا تھا،مگر سونے نہیں گیا۔اسے معلوم تھا کچھ دیر میں رانی آجائے گی اور ا س وقت تک بیل بجاتی رہے گی جب تک کہ پوری بلڈنگ جاگ نہ جائے۔
رانی کے آنے کے لیے اس نے دروازہ پہلے ہی کھول کر چھوڑ دیا تھا۔
رانی نے دروازہ کھلا دیکھا تو خاموشی سے اندر آگئی۔وہ گھر کے مختلف حصوں میں جا جا کر کام کرتی رہی۔
بیڈ روم میں جا کر پلنگ کی حالت ٹھیک کی…ادھر ادھر پھیلے ہوئے کپڑے سمیٹ دیے۔بستر کی چادر درست کی…فرش پر پڑا ہوا کنڈوم اُٹھا کر ڈسٹ بن میں ڈالا…
خاموشی سے کمروں کی صفائی کی… پونچھا لگا یا.. کچرے کا ڈسٹ بن باہر لے جا کر رکھا….
کچن میں آکر سارے برتن دھو کر ان کی مخصوص جگہوں پر رکھے،واش روم میں جاکر واش روم دھوئے اورپھر چند لمحوں بعد کچن کے دروازے پہ آئی۔
اس دوران محبوب یوں ہی بیٹھا رہا تھا،اس کی طرف دیکھا تک نہیں ہمیشہ کی طرح….،نہ اس کے آنے جانے اور کام کرنے کا نوٹس لیا۔اورنہ رانی نے ا س کی طرف دیکھا تھا۔
وہ خاموشی سے اپنے سارے کام معمول کے مطابق کر تی رہی…پھر کچن کے دروازے پہ آئی اور اسے مخاطب کیا:
”آپ نے دھونے کے لیے میلے کپڑے نہیں نکالے…؟“
محبوب نے سر اٹھائے بنااورپلٹے بغیر جواب دیا:
”رات کو مشین میں ڈال دیے تھے رانی…. اُسی میں ہو ں گے…“
رانی نے ایک لمحہ سوچا پھر کہا:
”واشنگ پاؤڈر ختم ہو گیا ہے….“
محبوب نے اب بھی اس کی طرف دیکھے بغیر جواب دیا۔
”میں گروسری اسٹور کو فون کردوں گا….. وہ بھیج دیں گے… جب آجائے تو دھو لینا….“
اس کے سامنے کٹوریوں میں انگور،جامن،زیتون اور کچھ دوسرے پھل رکھے تھے۔ وہ باتیں کرتے ہوئے ایک ایک دانہ اٹھا کر کھا رہاتھامگر اس کی کھانے کی رفتار سست تھی۔
رانی اس کا جواب سن کر بھی وہیں کھڑی رہی۔شاید کچھ اور کہنا چاہ رہی تھی مگر بھول گئی تھی۔محبوب نے اس کی موجودگی کو محسوس کیا اور کہا:
”اپنا کام ختم کرکے چھے بجے تک چلی جانا….“
رانی گھڑی کی طرف دیکھتی رہی،پھر جلدی سے بولی:
”ابھی توبہت کام ہیں…صفائی بھی کرنی ہے….کھڑکیوں پر گرد جمی ہے….چادریں دھونی ہیں….“
”اچھا…سات بجے تک….“
رانی وہیں کھڑے کھڑے سوچتی رہی،پھر پلٹ کر سائیڈ میں پڑی جھاڑو اٹھاتے ہوئے کھڑکیوں کی گرد صاف کرنے چلی گئی۔
محبو ب نے زیتون کا دانہ اٹھا کر منھ میں ڈالاتواس کا فون بجنے لگا۔
فون میز پر ہی ا س کے سامنے رکھاہوا تھا۔
اس نے فون کی طرف دیکھا اور سوئچ آف کر کے لائن کاٹ دی۔
اس کے بعد وہ کافی دیر یوں ہی بیٹھا رہا۔
گم سم گم سم…چپ چپ…چپ چپ…
اکیلا اکیلا اور تنہا تنہا….بے حد تنہا….
رانی کھڑکیوں کی گر دصاف کرتی رہی،مگر اس کے ذہن پہ جو گرد جم رہی تھی اسے صاف کرنے والا کوئی نہیں تھا۔
…………….
مرکزی بازار میں معمول سے زیادہ ہجوم تھا۔
وہ اس ہجوم میں چلتے ہوئے بے دھیانی میں آگے بڑھ رہا تھا۔اس کے ارد گرد لوگ ہی لوگ تھے،جو آرہے تھے اورجا رہے تھے۔
جانے کہاں سے آرہے تھے،جانے کہاں جا رہے تھے….
جانے کیوں جا رہے تھے اور کیوں آرہے تھے۔
وہ ان کے درمیان چلتے ہوئے بازار کے اس حصے کی طرف جا رہا تھا جہاں پرانی کتابوں کی بہت سی دکانیں مختلف گلیوں میں موجود تھیں۔ان میں سے کچھ دکانوں پر،پرانی کتابوں کے ساتھ ساتھ،پرانی آڈیو کیسٹس، ایل پی ریکارڈ اور وڈیو کیسٹس بھی فروخت ہوتی تھیں۔
وہ ہفتے پندرہ دن بعد اس طرف ضرور آتا تھا۔
کتابوں سے زیادہ رغبت نہیں تھی اسے…مگر پرانے اور نایاب ایل پی ریکارڈ کی تلاش اسے وہاں جانے اور دکانوں کی خاک چھاننے پہ اُکساتی تھی۔
اس کے مطلوبہ ریکارڈ اسے اولڈ بکس،گولڈ بکس نامی دکان پر ہی مل جایا کرتے تھے۔وہ ایل پی ریکارڈ ز جمع کرنے والے ایک شوقین کی دکان تھی،نایاب اور پرانی کتابوں کا بھی بڑا ذخیرہ تھا ا س کی د کان میں…
کچھ دیر بعد وہ ”اولڈ بکس،گولڈ بکس“ میں ریکارڈ ز دیکھ رہا تھا۔
چھوٹی سی دکان میں اتنی کتابیں بھری ہوئی تھیں کہ دکان دار کے بیٹھنے کی کرسی بھی کتابوں میں دھنسی دکھائی دے رہی تھی۔اس کے سامنے میز تھی،وہ بھی کتابوں میں چھپی ہوئی تھی۔
میز کے ساتھ ایک ریک تھا جس میں پرانے ایل پی ریکارڈز بھرے ہوئے تھے۔وہ جاتے ہی ان میں گم ہوگیا۔ایک ایک ریکارڈ کو الگ الگ کرکے الٹ پلٹ کرکے دیکھنے لگا۔زیادہ تر ا س کے کام کے نہیں تھے،اور جو کام کے تھے ان کی ایک آدھ کاپی پہلے سے ہی ا س کے کلیکشن میں موجود تھی۔
وہ اپنی تلاش میں گم تھا کہ ایک حسین اور پرکشش لڑکی گلابی بنیان نما ٹی شرٹ پہنے ہاتھ میں کوئی شاپر تھامے،اور کاندھے سے ایک بیگ لٹکائے اندر داخل ہو ئی۔
قدموں کی آہٹ پر محبوب نے ریکارڈ ز دیکھتے دیکھتے دروازے کی طرف دیکھا جو اس سے ایک ہاتھ کے فاصلے پر تھا۔
اس کی آنکھوں کے قریب ہی وہ کھڑی تھی۔محبوب کی نگاہ ا س پر پڑی تو جیسے چپک کر رہ گئی۔اس کی گلابی بنیان کا اوپری حصہ،ا س کے سینے کے بوجھ سے پھل دار درخت کے پکے ہوئے پھل کی طرح جھکا جا رہا تھا۔
محبوب اسے دیکھتا رہ گیا۔نظر تھی کہ ہٹنے کو تیار نہیں تھی اور سانس تھا کہ جیسے تھم گیا تھا۔
لڑکی نے ا س کی آنکھوں کی تپش اپنے بدن پر محسوس کر لی تھی۔وہ مسکراتے ہوئے اس کے قریب آئی اور اس کی نظروں کو نظر انداز کرتے ہوئے بولی:
”ایکسکیوز می ….“
محبوب یوں چونکا جیسے خواب سے جاگا ہو۔وہ ا س کے بالکل قریب تھی،اور آگے نکلنے کو راستا مانگ رہی تھی۔
دروازے سے کتابوں کے ریکس کے درمیان بہت کم جگہ تھی،درمیان میں کھڑے کسی فرد سے رگڑ کھائے بغیر آگے گزرنا ممکن نہیں تھا۔
محبوب ذرا پیچھے کو ہو گیا۔اپنے پیچھے موجود کتابوں کے ریک سے چپک گیا۔
گلابی بنیان اور میدے جیسے رنگت والی حسینہ اس کے سامنے سے،گویا سلو موشن میں…. اس کے بالکل قریب سے گزرگئی۔
اسے چھوئے بغیر دوسری طرف نکل گئی۔
اس کے گزرتے وقت محبوب کو اس کے اندر سے ایک مہک پھوٹنے کا احساس ہوا،جسے محسوس کرتے ہی محبوب نے گہرا سانس لیتے ہوئے بے اختیار آنکھیں بند کر لیں….
لڑکی نے اس کے بالکل قریب سے گزرتے ہوئے اس کی یہ کیفیت محسوس کی،اور اس کی بند ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر اس کے ہونٹوں پر ایک دل فریب مسکراہٹ پھیل گئی۔وہ اس کو،دیکھتے ہوئے،مسکراتی ہوئی جیسے سلو موشن میں اس کے قریب سے گزر تے ہوئے اس کے پیچھے کتابوں کے ریک میں کتا بیں دیکھنے لگی۔
محبوب نے چند لمحوں بعد آنکھیں کھول کر جھر جھری سی لی،اور پلٹ کر اس کی طرف دیکھا۔
لڑکی نے بھی کوئی کتاب اٹھا کر ورق پلٹتے ہوئے پلٹ کر اس کو دیکھا تو اپنی طرف دیکھتے پاکر جھینپ کر مسکرانے لگی،اور فورا اپنی توجہ دوسری طرف کرلی۔
محبوب بھی مسکرا اٹھا۔
وہ اس دکان میں شاید کسی خاص کتاب کی تلاش میں آئی تھی۔کتابوں کے ریک میں اپنی مطلوبہ کتاب ڈھونڈنے لگی۔
محبوب بھی ایک طویل سانس لے کر ایل پی ریکارڈ دیکھنے لگا۔
پھر ایک ریکارڈ اٹھا کر ایک دم خوشی سے اتنی زور سے چلا یاکہ لڑکی جو ایک کتاب اٹھا رہی تھی گھبرا کر اچھل گئی اور کتاب اس کے ہاتھ سے گر گئی ۔
”آہ….مل ہی گیا…..جو چاہا تھا وہ مل گیا….“
لڑکی نے پلٹ کر دیکھا۔محبوب ایک ریکارڈ ہاتھ میں لیے بچوں کی طرح خوشی سے کھلا دکھائی دے رہا تھا۔
بے ساختہ لڑکی کی ہنسی نکل گئی۔
اس نے جھک کر کتاب اٹھائی تو محبوب جو اپنی حیرت اور خوشی پہ قابو پاچکا تھا،تعجب سے اس لڑکی کو ہنستے ہوئے دیکھ رہاتھا جو اب اپنی ہنسی دبانے کی کوشش کرتے ہوئے دوسری طرف رخ پھیرنے پہ مجبور ہو گئی تھی۔
اس نے رخ تو موڑ لیا تھا،مگر اپنی ہنسی پر قابو پانے میں ناکام رہی تھی۔
محبوب کہہ رہاتھا:
”تھینک گاڈ ….کب سے تلاش کر رہا تھا….اب نظر آیا ہے….“
لڑکی نے ہنسی دباتے ہوئے پلٹ کر اس کی طرف دیکھا تو وہ بھی اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
لڑکی جھیپ گئی،محبوب بھی بری طرح جھینپ گیا۔
دکان دار ان دونوں کو دیکھ رہا تھا،ا س کے ہونٹوں پہ بھی مسکراہٹ نمو دار ہو گئی تھی۔
لڑکی دوسری طرف متوجہ ہو گئی،تب محبوب نے دکان دار سے شکایتا کہا:
”کب سے ڈھونڈ رہا تھا ا س کو….کتنی بار کہہ کے جا چکاہوں….یہاں ملا کرکے رکھا تھا… کہا بھی تھا کہ بانسری کا یہ اوریجنل ریکارڈ مل جائے تو الگ رکھ دینا….“
دکان دارنے کاندھے اچکا کر کہا:
”میں نے الگ رکھ دیا تھا،مگر شاید بچے نے ملادیا….“
محبوب نے ناراضی سے کہا:
”اگر یہ کسی اور کے ہاتھ لگ جاتا….کوئی اورلے جاتاتو میں آپ کو کبھی معاف نہیں کرتا….جان سے مار دیتا قسم سے…
ایک بار پھر اس لڑکی کی ہنسی نکل گئی۔محبوب کا انداز ہی ایسا بچکانہ تھا کہ وہ خود پر قابو نہیں کرپا رہی تھی۔
اس کے ہنسنے پر دکان دار حیرت سے ا س کی طرف دیکھنے لگا۔محبوب بھی عجیب سا ہو گیا اور ریکارڈ کو شاپر میں ڈالتے ہوئے ا س کی طرف دیکھنے لگا۔
وہ جھینپتے ہوئے اپنی ہنسی روکنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی:
”آئی ایم سور ی….میں معافی چاہتا ہوں….“
محبوب نے تعجب سے پوچھا:
”آپ ہنس کیوں رہی ہیں…؟میری بات پر ہنس رہی ہیں….؟“
لڑکی کی سمجھ میں کچھ نہیں آیا کہ وہ کیا کہے۔اس نے یوں ہی اپنے بال لہراتے ہوئے خجالت سے کہا:
”اوہ آئی سوری…بس یوں ہی…“
مگر ا س کی ہنسی تھی کہ رک ہی نہیں رہی تھی۔اوراس کو ہنستے دیکھ کر محبوب کی سانس رک رہی تھی۔
لڑکی نے جھینپ مٹاتے اور ہنسی چھپاتے ہوئے جلدی میں دُکان دار سے پوچھا:
”آدھا چہرہ ہے….“
دکان دارنے چونک کر اس کی طرف دیکھا:
”آدھا چہرہ ….؟ وہ کیا ہے….؟“
”نواب صاحب کا ناول….. سیکندہینڈ…“
دکان دار شاید اس نام سے واقف نہیں تھا۔اچھنبے سے پوچھا:
”کون نواب صاحب….؟“
لڑکی نے طویل سانس لیتے ہوئے کہا:
”محی الدین نواب…..اور کون….“
تب دکان دار کی سمجھ میں آیا کہ وہ کس نواب صاحب کی بات کر رہی ہے۔اس نے انکار میں گردن ہلادی۔
ان دونوں سے بے پروا محبوب بالکل قریب کھڑا اضطراری کیفیت میں اس لڑکی کی آنکھیں دیکھ رہا تھا اور نظریں چرا رہا تھا۔
کبھی ا س کی طرف دیکھنے لگتا،اور کبھی سٹپٹا کر دوسری طرف دیکھنے لگتا۔
ایسا اس کے ساتھ پہلے کبھی نہیں ہو اتھا۔
وہ عام طور پر لڑکیوں کوبغیر کسی جھجک کے یوں مسلسل دیکھتا تھا جیسے وہ جان دار نہ ہوں بے جان شے ہوں،اور ا س کے دیکھنے پر ان کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑے گا،نہ وہ جواب میں اس سے پوچھیں گی کہ کیوں تکے جا رہے ہو….
مگر ا س لڑکی میں جانے کیا تھا۔وہ دیکھ بھی رہا تھا،اور دیکھنے سے کترا بھی رہاتھا۔دیکھنے کو دل بھی چاہ رہا تھا،دیکھنے سے گھبرا بھی رہا تھا۔
لڑکی نے”اوکے…“کہا اور دکان سے باہر نکلنے لگی…
مگر کیسے نکلتی۔؟
اس کی راہ میں محبوب کھڑا تھا۔
عجیب آدمی تھا۔عجیب ہی طریقے سے اُسے دیکھ رہا تھا۔نظر ملا بھی رہا تھا،نظر چرا بھی رہاتھا۔دیکھنا بھی چاہ رہا تھا،دیکھا بھی نہیں جا رہاتھا۔
لڑکی نے مسکراتے ہوئے اسے مخاطب کیا:
”ایکسکیوز می…. جانے دیں گے مجھے….“
محبوب فورا ذرا پیچھے ہوگیا۔ا س کے راستے سے ہٹ گیا۔اسے جانے کو راستا دے دیا،مگر دل چاہ رہاتھا کہ وہ جائے نہ …. یا جانے نہ پائے….
کتابوں اور محبوب کے درمیان سے گزرنے کی جگہ تنگ تھی۔
وہ لڑکی ذرا ترچھی ہوکر اس کم جگہ میں سے تھوڑا تھوڑا کرکے آگے کو نکلی تو ایک بار پھر محبوب کو یوں لگا جیسے وہ سلو موشن میں اس کی نظروں کے سامنے سے گزر رہی ہے۔ محبوب کی آنکھیں ایک بار پھر بند ہوگئیں۔
وہ اس لڑکی کے بدن سے پھوٹنے والی مہک کو محسوس کرتے ہوئے ایک گہرا سانس کھینچنے پر مجبور ہو گیا۔
یہ دوسرا موقع تھا کہ کوئی لڑکی ا س کے اتنے قریب سے گزری تھی،اور ا س کے اندر وحشت نہیں جاگی تھی بلکہ سکون کا احسان اس کے رگ و پے میں اتر گیا تھا۔
وہ اجنبی لڑکی ا س کے پاس سے گزری، اسے چھو کر نہیں گزری،مگر اس کے گزرنے کا احساس اسے چھو کر گزرگیا ۔
وہ جھر جھری لے کر رہ گیا۔
یہ کیسا احساس تھا…. جس نے اسے جکڑ لیا تھا۔پکڑ لیا تھا۔پٹخ دیا تھا۔
وہ کئی لمحوں تک اپنی آنکھیں نہ کھو سکا اور جب آنکھیں کھولیں تو وہ دکان کے دروازے سے اور ا س کی نظروں کے دائرے سے نکل کر باہر جا چکی تھی۔
اس کے جاتے ہی دکان ایک دَم خالی ہو گئی تھی۔
یو ں لگا وہ دکان سے نہیں گئی،اس کے جہان سے چلی گئی….
اس جہان سے جس کا وہ مکین تھا …
وہ جاتے جاتے سب کچھ ویران ویران کر گئی….دکان ہی کو نہیں اس کے جہان کو بھی… اورگیان کو بھی ….
وہ خالی الذہنی کی کیفیت میں کھڑے کا کھڑا رہ گیا۔
بری طرح گھبرا گیا …. بے طر ح کانپ گیا۔
یا اللہ رحم…. یہ کیا تھا…
کوئی اس طرح بھی احساس بن کے آتا ہے،دل دھڑکاتا ہے اور حواسوں پہ چھا کے چلا جاتا ہے۔
اُس کے آنے اور یوں چلے جانے کے احساس نے ایک پل میں اس کی ہستی بدل ڈالی تھی۔
ا س کا دل کسی اَن جانے خوف سے لرزنے لگا….شدت سے دھڑکنے لگا۔
(جاری ہے)

ابن آس محمد کے قلم سے فیس بک پر پہلا ناول
” دام عشق ”
………..
پانچ ویں قسط
…………………………….
بے سبب عشق کی کہانی۔
ایک ہوس پرست وحشی کا عشق طولانی
اس کی وحشت اسے جنونی عشق کی طرف لے جا رہی تھی۔
دامِ عشق میں لا رہی تھی۔
…………………………….
وہ دُعا تھی۔
دُعا کا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ہمیشہ کسی نہ کسی کی ہوتی ہے۔
کسی کے ہونٹوں پہ لرزتی ہے،کسی کے دل میں اُبھرتی ہے،کسی من مندر میں گونجتی ہے، اور کسی کی ہتھیلیوں پہ مچلتی ہے….
مگر وہ نام کی دعا تھی، کسی کی دُعا نہیں تھی…اور کوئی اُس دُعا کا نہیں تھا۔
وہ ایک بھیانک حادثے میں پورے خاندان کے مرجانے کے بعد دنیا میں اکیلی رہ جانے والی دُعا خان تھی …. اس حادثے کے بعد کوئی اس کا نہیں رہا تھا،اور وہ کسی کی نہیں ہو پائی تھی۔
نہ کسی کے ہونٹوں پہ لرزی تھی،نہ کسی کے دل میں اُبھری تھی، نہ کسی من مندر میں گونجی تھی…..اورنہ کسی کی ہتھیلیوں پہ مچلی تھی ….
وہ کسی کی دُعا نہیں تھی…اور کوئی اُس دُعا کا نہیں تھا۔
وہ اولڈ بکس گولڈ بکس نامی دکان سے باہر نکلی تو اس کا خیال تھا کہ اس کو یک ٹک دیکھنے والا،اور محسوس کرکے آنکھیں بند کرلینے والا دکان کے دروازے پہ آئے گا…، اُسے جاتے ہوئے دیکھے بنا رہ نہیں پائے گا۔
پھر لپک کر،اس کے پاس آکر اس سے بات کرنے کی کو شش کرے گا۔
اس کا نام پوچھے گا، ا س کا نمبر مانگے گا۔
شاید وہ خود بھی یہی چاہتی تھی،دل ہی دل میں دُعا کر رہی تھی کہ وہ باہرآجائے اور ویسا ہی ہو جیسا وہ سوچ رہی ہے۔جیسے وہ چاہ رہی ہے۔
مگر ایسا نہ ہوا۔
ہمیشہ کی طرح اس بار بھی دُعا کی دُعا قبول نہ ہوئی۔
وہ ایک لمحہ کھڑی سوچتی رہی۔پھر دل کڑا کر کے مسکرائی اور ایک گلی میں گھوم کر دوسری اور دوسری سے تیسری گلی میں چلی گئی۔
اِدھر،اولڈ بکس،گولڈ بکس میں محبوب سناٹے میں کھڑا تھا۔
اس کے سامنے سے جانے والی،پا س سے گزرنے والی…. ا س کو مہکا کر،اور دل کو بہکا کر چلی گئی تھی۔
اس کے چلے جانے کے بعد وہ کچھ لمحے سکتے کی سی کیفیت میں کھڑا رہا۔کچھ سمجھ ہی نہیں پایا کہ کیا ہو گیا تھا،جب سمجھ میں آیاتو جیسے جھر جھری لے کر جاگا۔
اس پر اچانک ہی اضطراری کیفیت طاری ہو گئی تھی۔اس نے گھبراہٹ اور جلدی میں دکان دار سے پوچھا:
”کتنے پیسے ہوئے…؟“
کہتے ہوئے ساتھ ہی ا س نے سرعت سے ہزار کا نوٹ نکال کر دکان دار کے سامنے رکھ دیا۔ تیزی سے خریدے ہوئے ریکارڈ کو شاپر میں ڈالنے لگا۔
دکان دار کچھ سلو(slow)تھا کچھ…نوٹ اٹھانے اور دراز میں ڈال کر باقی پیسے نکالنے میں دیر کر رہا تھا۔اسے کون سا کہیں جانا تھا جو جلدی کرتا۔جانا تومحبوب کو تھا۔اس کی سستی دیکھ کرمحبوب نے ہیجان انگیز لہجے میں کہا:
”جلدی کرو نا یار….جلدی…ہری اپ….“
تب دکان دار نے باقی پیسے گن کر ا س کی طرف بڑھائے۔
وہ جلدی سے باقی پیسے لے کر جیب میں ٹھونستے ہوئے اور شاپر اٹھا کر یوں باہر بھاگا جیسے ا س کی ٹرین نکلی جا رہی ہو۔
دکان دارنے چلاتے ہوئے کہا:
”ارے ارے…تمہارا سامان….“
محبوب نے سنا ہی نہیں…شاید سن تولیا تھا،مگر اَن سنی کر کے نکل گیا۔پلٹ کر نہیں آیا۔
دکان سے باہر نکل کروہ اس سمت میں گھوما جدھر ا س کے خیال میں وہ گئی تھی۔
مگر جانے والی،شاید کہیں دور نکل گئی تھی۔گلی میں آتے جاتے سب ہی دکھائی دیے مگر وہ گلابی بنیان،والی کہیں نظر نہ آئی۔
وہ ایک ایسی گلی تھی جس میں زیادہ تر پرانی کتابوں کی دکانیں تھیں۔
وہ ہاتھ میں ایل پی ریکارڈ لیے ہوئے تیز تیز قدموں چلنے لگا۔
چلتے چلتے ایک گلی سے دوسری گلی،اور دوسری گلی سے تیسری گلی میں جانے لگا۔
چوتھی گلی میں پہنچا تو وہ نظر آگئی۔
ایک دکان کے باہر ذرا فاصلے پر پرانی کتابوں کے اسٹال کے سامنے کھڑی تھی۔ اسٹال سے کوئی کتاب اٹھا کر ا س کے ورق پلٹ رہی تھی۔
محبوب کا دل دھڑک اُٹھا،ہونٹوں پہ کام یابی کی مسکراہٹ نمو دار ہو گئی۔
وہ مسکراتے ہوئے، دھیرے دھیرے چلتے ہوئے، اس کے بالکل برابر میں جاکھڑا ہوااوراسی کے سے انداز میں اسٹال پر پھیلی ہوئی کتابوں کو دیکھنے لگا۔
گلا بی بنیان اور شہابی گالوں والی دُعانے چونک کر اس کی طرف دیکھا تو حیران رہ گئی۔جس کو وہ پیچھے کہیں چھوڑ آئی تھی وہ کسی دعا کی قبولیت کی طرح اس کے بالکل برابر میں آکے کھڑا ہو گیا تھا۔
کبھی کتابوں کی طرف اور کبھی ا س کی طرف دیکھ رہا تھا۔
دکان میں اسے قریب سے دیکھ کر آنکھیں بند کرلینے والا اب بے شرمی سے اس کے حسن کا دیدار کر رہا تھا۔
اس کو دیکھتے ہی وہ بے اختیار مسکرا اٹھی تھی،وہ بھی جواب میں مسکرایا تو جانے کیوں اسے یک دم غصہ آگیا۔
ابھی کچھ دیر پہلے وہ اسے اپنے پیچھے بلانا چاہ رہی تھی،اب وہ اتنے پاس آیا تو تلملا گئی، ایک قدم سائیڈ میں ہو کر اس سے فاصلہ کرلیا. ذرا دور ہوگئی۔
وہ بھی لڑکی تھی،عورت ذات تھی،کوئی پیچھے نہ آئے،اہمیت نہ دے تو برا لگتا تھا،کوئی بے دھڑک آکر قرب کھڑا ہوجائے،بے شرمی سے تاڑنے لگے تو منھ بن جاتا تھا۔
اس کو یوں بے جھجک مسلسل دیکھنے اور بالکل قریب آجانے سے ا س کا بھی منھ بن گیا۔وہ زرا دور ہوگئی،ناگواری سے کتابیں دیکھنے لگی۔
محبوب جو اسے مسلسل دیکھ رہا تھا،اچانک بولا:
”میری بات پر ہنسی آئی تھی نا آپ کو ….؟“
دُعا چونک کراس کی طرف حیرت سے دیکھنے لگی۔کچھ بولی نہیں جواب میں…
محبوب نے ذرا سخت لہجے اور تیزی میں کہنا شروع کیا:
”کتنے شرم کی بات ہے کسی اجنبی پر ایسے ہنسنا….ویسے کیا آپ کو معلوم ہے کہ میں یوں بچوں کی طرح کیوں خوش ہوا تھا….؟بھلا آپ کو کیسے معلوم ہو گا….“
پھر اس نے اپنے ہاتھ میں موجود ایل پی ریکارڈ اس کی آنکھوں کے سامنے لہراتے ہوئے کہا:
”یہ ایل پی1940 میں ریلیز ہوا تھا محترمہ….صرف 2222 کاپیاں جاری کی گئی تھیں ا س کی… ان میں سے صرف 200 ہی باقی ہیں…..باقی نایا ب ہو گئیں….“
”تو….؟“
دعا نہ سمجھنے والے انداز میں ا س کی طرف دیکھنے لگی ۔
محبوب نے نتھنے پھلا کر کہا:
” نایاب ہونے کی وجہ صرف یہ تھی کہ اس ریکارڈ کو بنانے والی کمپنی بعد میں بند ہوگئی تھی…. مطلب اس میوزک کی کوئی سی ڈی بھی ریلیز نہیں ہوئی…. سی ڈی آنے کے زمانے سے پہلے ریکارڈبنانے والی کمپنی کا وجود ہی ختم ہو گیا تھا….اورمیں اس لیے پرجوش ہو گیا تھا کہ یہ محض ریکارڈ نہیں ہے میرے لیے….قیمتی خزانہ ہے میرے ہاتھ میں…. مگرعام لوگ اس بات کو نہیں سمجھتے ….“
دعا خاموشی سے اس کی مسلسل تقریر سنتی رہی۔
آخری جملے میں اس نے دُعا کو عام لوگوں میں شمار کیا تھا۔بے وقوف جانتا ہی نہیں تھا کہ کوئی لڑکی عام نہیں ہو تی،عام سے عام لڑکی بھی بہت خاص ہوتی ہے۔یہ بات عام طور پر عام مردوں کے پلے نہیں پڑتی۔
پھروہ جس لہجے میں بول رہاتھا،وہ لہجہ بھی دعا کو اچھا نہیں لگا۔
لہجہ اچھا نہ ہو،تو اچھا لگنے والا بھی اچھانہیں لگتا۔ایک برا جملہ کہنے والا،برا لگنے لگتا ہے،وہ بھی اسے ایک دم سے برا لگنے لگا۔
اس نے طنزیہ انداز میں کہا:
”بات سنو مسٹر…. یہ جو آپ کے ہاتھ میں ہے…. اس کی کیا حیثیت ہے اور کیا نہیں…مجھے اس سے کیا لینا دینا….میرے نزدیک تو تمہاری بھی کوئی حیثیت نہیں….اور یہ جوتم نے اتنی لمبی تقریر کی ہے نا….اس کی ضرورت نہیں تھی….ایسی فضول باتوں سے کبھی کوئی لڑکی متاثر نہیں ہوتی….“
وہ ایک لمحے کو سا نس لینے کے لیے رکی،پھر چمک کر بولی:
”اور ہاں…. زیادہ بولنے کا مطلب یہ ہو تا ہے کہ آپ کو اپنی بات کہنا نہیں آتی…. زیادہ بولنے والوں کو میں گونگا سمجھتی ہوں….سمجھے….“
محبوب سٹپٹا کر کر اس کی طرف دیکھتا رہا۔
دُعا نے اپنے ہاتھ میں موجود کتاب اسٹال پر رکھی اورجانے کے لیے گھومی۔
وہ محبوب کو ایک بار پھرسلو موشن میں گھوم کر جاتی محسوس ہوئی….مگر پھر رک کر وہ تیزی سے پلٹی اور رکھی ہوئی کتاب کو ہاتھ بڑھا کر سیدھاکردیا۔
محبوب کو ایسا لگا جیسے ا س نے کتاب کو سیدھا نہیں کیا،اسے سیدھاکرکے چلی گئی ہے۔
وہ گنگ ہوکر رہ گیا۔
اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا اور وہ طویل گلی میں دور تک جاتی ہوئی نظر آتی رہی۔
پھراس کے ہونٹوں پر بے اختیار مسکراہٹ رینگ گئی۔
اس کی باتیں سن کر اسے مزہ آگیاتھا۔لڑکی نہیں تھی تیز مرچ تھی۔
اس کی سانسوں کو مہکانے والی،اب اپنی ترشی دکھا کر،تیکھی سناکر چلی گئی تھی۔اس نے رنگ رنگ کی عورتو ں کو چکھا تھا،طرح طرح کی عورتوں کو برتا تھا۔یہ کچھ اور ہی نسل کی تھی۔اس کو چٹکی میں اڑ اکر چلی گئی تھی۔
وہ کچھ دیر اپنی جگہ ساکت کھڑا رہا۔اسے دور تک جاتے تکتا رہا،پھرایک دم یوں چونکا جیسے کہیں کھو گیا تھا،اور تیزی سے اس طرف دوڑا جدھر وہ گئی تھی۔
طویل گلی میں بھاگتے ہوئے وہ موڑ تک پہنچا اور گلی گھوم کر روڈ پر آیا تو سرپر ہاتھ پھیرکر رہ گیا۔
اس روڈ پر بہت لوگ تھے،یہ وہی روڈ تھاجہاں سے چل کر وہ پرانی کتابوں والی گلیوں میں گیا تھا،یہاں بے شمار لوگ آرہے تھے،جا رہے تھے….
جانے کہاں جا رہے تھے،
جانے کہاں سے آرہے تھے۔
جانے کیوں آرہے تھے،
جانے کیوں جا رہے تھے۔
جانے والی بھی جانے کہاں چلی گئی تھی۔
لوگوں کے ہجوم میں غائب ہو گئی تھی۔
محبوب بے بسی سے کچھ دیر تک ا س ہجوم کو دیکھتا رہا۔کچھ سمجھ میں نہیں آیا تو سڑک عبور کر کے سامنے والے بازار کی گلیوں میں گھس گیا۔
دوڑتے دوڑتے ایک گلی میں گیا،دوسری گلی میں پہنچا،پھر تیسری،چوتھی اور پانچویں….
وہ دیوانہ وار اسے ڈھونڈ رہا تھا۔اس کی متلاشی نظریں گلابی بنیان والی کو کھوج رہی تھیں،ہر گلابی کپڑوں والی کو دیکھ رہی تھیں۔
کہتے ہیں ڈھونڈنے والے خدا کو بھی ڈھونڈ ہی لیتے ہیں۔
اس نے بھی آخر دل دھڑکانے والی کو دیکھ ہی لیا،اور دیکھتے ہی اس کا دل ایک بار پھر تیز تیز دھڑکنے لگا۔
وہ بازار کی آخری گلی کا موڑ مڑرہی تھی۔چوڑی گلی سے ایک پتلی گلی میں جا رہی تھی۔
اس نے آؤ دیکھا نا تاؤ اس طرف دوڑ لگا دی۔اپنے دل کی رفتار سے بھی زیادہ تیزی سے دوڑنے لگا۔
پینتیس سال کی عمر میں بیس سال کے لونڈوں کی طرح بھاگنے لگا۔
دُعا اپنی دھن میں چلی جا رہی تھی۔اس کے پیچھے آنے کا خیال بھی وہ پیچھے ہی کہیں چھوڑ آئی تھی۔اب آگے کی طرف دیکھ رہی تھی،آگے ہی جا رہی تھی اور اس بات سے بے خبر تھی کہ پیچھے پیچھے آکر پیچھے رہ جانے والا ایک بار پھر ڈھونڈتے ڈھونڈتے اس کے پیچھے چلا آرہا ہے۔
جیسے ڈور سے بندھی پتنگ کھنچی چلی آتی ہے،ویسے ویسے وہ بھی اس کی اوَر کھنچا چلا جارہا تھا۔
محبوب اس سے ذرا فاصلے پر تھا،اتنی دور تھا کہ وہ پلٹ کر دیکھ بھی لیتی تو شاید دیکھ نہ پاتی،دیکھ لیتی تو پہچان نہ پاتی۔
چلتے چلتے وہ ایک لمحے کو رک گئی۔ا س کے دائیں ہاتھ پر کتابوں کی ایک دکان آگئی تھی۔وہ جانتی تھی کہ یہاں نئی کتابوں کے ساتھ پرانی کتابیں بھی ملتی ہیں۔
ا س کو رکتے دیکھ کر محبوب بھی دور ہی رک گیا۔کھمبے کے پیچھے چھپ کر اس کو دیکھتا رہا۔عجیب لڑکی تھی،ایک پل میں اچھے خاصے میچور آدمی کو لونڈا بنا دیاتھا،اپنے پیچھے پیچھے سر کے بل دوڑ ا دیا تھا،اور شان بے نیازی سے چلی جا رہی تھی۔
دُعا نے ایک لمحے کو دکان کے اندر جانے کا سوچا،مگر پھر سر جھٹک کر ارادہ بدل دیا۔وہ چلتے چلتے تھک گئی تھی،جلد سے جلد اپنی منزل پہ پہنچ جانا چاہتی تھی،ا س لیے اندر جانے کا خیال ترک کرکے سیدھی نکلتی چلی گئی۔
اُس کے دوبارہ چلتے ہی محبوب بھی کھمبے کے پیچھے سے نکلا اور اب تیز تیز قدموں آگے بڑھا،کچھ ہی لمحوں میں وہ بھی کتابوں کی اس دکان کے سامنے پہنچا۔ایک لمحے کو سوچا اور تیزی سے دکان میں گھس گیا۔
وہ ایک عمدہ دکان تھی،اور خاصی بڑی بھی۔
چاروں طرف کتابیں ہی کتابیں تھیں جو دیواروں کے ساتھ ریکس میں سجی ہوئی تھیں۔ایک جانب کے ریک میں پرانی کتابیں بھی تھیں۔
دکان میں سیلز مین اور ایک لڑکی کے سوا کوئی نہیں تھا۔لڑکی بھی ایک ریک کے سامنے کھڑی کسی کتاب کی ورق گردانی کر رہی تھی۔
محبوب نے دکان میں داخل ہو تے ہی کاؤنٹر کے سامنے پہنچ کرسیلز مین سے کہا:
”ایکسکیوز می….کیا آپ کے پاس وہ ہے…“
اس کے لہجے میں تیزی اور انداز میں عجلت تھی۔
سیلز مین نے چونک کر ا س کی طرف دیکھا۔محبوب نے ذہن پر زور دیتے ہوئے اپنی بات مکمل کی۔
”وہ والی کتاب….جس میں چہرہ ہے….“
سیلز مین سمجھ نہ پایا۔ کھڑے ہو کر نہ سمجھنے والے انداز میں اس کی طرف دیکھنے لگا۔
محبوب کی خودسمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ وہ کیا کہے۔کتاب کا نام اس کے ذہن سے نکل گیا تھا۔اس نے دھیان سے سنا ہی نہیں تھا۔اس کا دھیان تو ا س وقت کتاب کے نام کی بہ جائے کتاب والی کی طرف تھا۔
وہ ماتھے پر ہاتھ مارتے ہوئے بولا:
”ارے یار وہ کتاب…جس کے نام میں چہرہ ہے….ادھورا چہرہ….نہیں پورا چہرہ….یار کون سا چہرہ ہے….؟“
اسے کتاب کا نام یاد نہیں آرہاتھا.۔ وہ نام یاد کرنے کے لیے بار بار سر پہ ہاتھ مارنے لگا۔دکان داراُلجھ کر بولا:
”میں سمجھا نہیں….“
”ارے یار….کیسے سمجھاؤں…. نام ہی ذہن سے نکل گیا….چہرے کے بارے میں کچھ تھا….“
دکان دارنے اس کی کیفیت سمجھتے ہوئے اس کی مشکل حل کرنے کی کو شش کی :
”رائٹر کا نام بتائیں….رائٹر کا نام یاد ہے….؟“
محبوب نے ذہن پر زور دیا تو کچھ یاد آیا۔شتابی سے بولا:
”نواب ہے کوئی ….“
سیلز مین ایک بار پھر اس کو بے بسی سے دیکھنے لگا:
”نواب…یہ کون ہے….؟
محبوب نے تیزی سے کہا:
”کمال ہے یار…نواب کو نہیں جانتے….کتابیں لکھنے والا نواب ہے کوئی….“
پیچھے کھڑی ہوئی،کتابوں میں غرق لڑکی جو کتاب کے ریک کے پاس کھڑی کتابیں دیکھ رہی تھی۔پلٹ کر بولی:
”نواب صاحب….محی الدین نواب….؟“
محبوب نے ایک طویل سانس لیا۔جلدی سے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے بولا:
”ہاں ہاں وہی….شکریہ….“
پھر سیلز مین سے کہا:
”ا س کی کتاب ہے کوئی چہرے والی….؟“
دکان دارنے ذہن پہ زور دیتے ہوئے کہا:
”اوہ…محی الدین نواب…..آدھا چہرہ….؟
محبوب نے تیزی سے اثبات میں سر ہلادیا۔
دکان دارکاؤنٹر کے پیچھے سے نکلا اور ایک ریک کی طرف بڑھا۔وہاں سے محی الدین نواب کا ناول آدھا چہرہ نکال کر لایااور اس کی طرف بڑھا دیا۔
محبوب نے اضطرای کیفیت میں کہا:
”ہاں یہی…جلدی دو مجھے…“
اس نے کہتے ہوئے جیب سے ہزار کا نوٹ نکال کر اس کے سامنے رکھ دیا۔
دکان دار پیسے نکال کر گننے لگا تو محبوب نے عجلت میں کہا:
”بعد میں گن لینا…..پہلے پین دو مجھے…“
دکان دارنے چونک کر دیکھا :
”پین…؟
محبوب نے منھ بنا کر کہا:
”ارے یار…تو بھی لیٹ لطیف ہے….“
محبوب نے اس کے سامنے رکھے پنسل باکس میں سے ایک بال پوائنٹ نکال کر جلدی جلدی کتاب کا کور کھول کر اس کے صفحے پر کچھ لکھ دیا اور پین واپس پھینکتے ہوئے کتاب لے کر باہر بھاگتے ہوئے بولا:
”باقی پیسے بعد میں لوں گا….“
محبوب قریبا دوڑتے ہوئے دکان سے نکل کر باہر آیا اور اس طرف دوڑنے لگا جدھر گلابی بنیان والی گئی تھی مگر گلی آخر تک خالی تھی،گلابی بنیان والی ایک بار پھر غائب ہو گئی تھی۔
وہ بھاگتے بھاگتے ،ہانپتے ہانپتے گلی کے نکڑ پر پہنچا،تو ا س کے سامنے سڑک کے دوسری طرف کئی گلیاں تھیں۔وہ رُکا نہیں،پہلے ایک گلی میں گیا…پھر دوسری اور ا س کے بعد آگے سے گھو م کر تیسری گلی میں پہنچا تو وہ دکھائی دے گئی۔
چوڑی سڑک پر آگے ہی آگے جا رہی تھی۔اس نے سوچا:
”شاید یہاں قریب میں ہی رہتی ہے،ا س لیے پیدل پیدل ہی جا رہی تھی۔دور کی رہنے والی ہوتی تو گاڑی میں جا چکی ہوتی،اور ہاتھ نہ آتی….“
اس پر نظر پڑتے ہی محبوب کی ساری محنت وصول ہو گئی تھی۔وہ کھڑے ہو کر اپنی سانس درست کرتا رہا،پھر تیز تیز قدموں چلتے ہوئے،اُس کے قریب پہنچ گیا۔
وہ ٹھٹک کر گئی۔ذرا حیرانی سے اور کچھ گھبرا کر اسے دیکھنے لگی۔
اب وہ اسے یوں ں دیکھ کر سٹپٹا گئی تھی۔تھوڑا گھبرا بھی گئی تھی۔
محبوب نے اس کے قریب آتے ہی پھولی ہوئی سانس کے ساتھ بے ربط لہجے میں کہا:
”مل گئی…. مل گئی مجھے….یہ دیکھو مل گئی….“
دُعا رُک گئی تھی۔بے یقینی اور حیرانی سے اسے دیکھ رہی تھی۔اُسے یقین نہیں آرہا تھاکہ وہ اس کا پیچھا کرتے ہوئے یہاں تک پہنچ جائے گا ۔
اتنی دیر میں محبوب کی سانس کچھ بحال ہو گئی تو وہ مسکراتے ہوئے بولا:
”کتاب….“
اس نے کتاب ا س کی طرف بڑھا دی۔
دُعا نے نہ سمجھنے والے اندازمیں اس کو دیکھا،پھر کتاب پر ایک نگاہ ڈال کر اچھنبے سے بولی:
”ہاں…دکھائی دے رہا ہے مجھے….کتاب ہے یہ….. تو….؟“
محبوب گہرے گہرے سانس لے کر بولا:
”آپ یہ کتاب ڈھونڈ رہی تھیں نا …. مل گئی ہے…“
ا س کا انداز ایسا تھا جیسے وہ کوئی معرکہ سر کرکے آگیا ہے،کوئی تارا توڑ کر لے آیا ہے۔دُعا نے کاندھا اُچکا کر کہا:
”ہاں….لیکن یہ تو آسانی سے مل جاتی ہے….“
محبوب نے کتاب ا س کی طرف بڑھائی ہوئی تھی،مگر اس نے تھامی نہیں۔
محبوب دھیمے لہجے میں بولا:
”لے لیجیے….میں نے آپ کے لیے ڈھونڈی ہے….“
دعا نے منھ بنا کر ا س کی طرف دیکھا۔اب اسے یہ بندہ بہت ہی عجیب محسوس ہوا۔اس نے فوری فیصلہ کیا،اور کوئی جواب دیے بغیر مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے آگے چل پڑی۔
محبوب بھی سٹپٹا کر ا س کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔ا س کی زبان بھی ساتھ ساتھ چلنے لگی۔
”ابھی تو آپ ڈھونڈ رہی تھیں…. یاد نہیں،دکان میں آکر آپ نے یہ کتاب مانگی تھی….،اب میں لے آیا ہوں آپ کے لیے تو لے کیوں نہیں رہی ہیں…..؟“
دُعا نے اس کی طرف دیکھے بغیرچلتے ہوئے جواب دیا۔
”مجھے سیکنڈ ہینڈ کتاب چاہئے تھی….یہ تو نئی کتاب ہے….نئی کتاب تو ہر جگہ مل جاتی ہے….“
محبوب نے اپنی سانس پر قابو پالیا تھا۔اس کی بات سن کر ہنستے ہوئے ا س کے سامنے آگیا۔راستا رُک گیا تھا،وہ بھی رک گئی۔
محبوب نے اپنے ہاتھ میں موجود کتاب کو دیکھا اور عجیب سے لہجے میں بولا:
”آپ کو سیکنڈ ہینڈ کتاب چاہیے…تویہ لیجیے…. یہ دیکھیں….یہ پہلا ہاتھ ہے..“
پھر اس نے کتاب کو ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں منتقل کیا اور کہا:
”اور یہ دوسرا ہاتھ ہے….کتاب ایک ہاتھ سے دوسرے ہاتھ میں آگئی…. ہوگئی سیکنڈ ہینڈ بک…لے لیجیے….“
دعا بے اختیار مسکرا اٹھی مگر ہنسی پرقابو پانے کی کوشش کرتے ہوئے بولی:
”یہ ا س طرح نہیں ہوتا….اس طرح کی سیکنڈ ہینڈ نہیں….بلکہ وہ کتاب جو کسی کی ملکیت ہو…اس کے بعد وہ دوبارہ میرے ہاتھ میں آئے….ایسی سیکنڈ ہینڈ بک….جس میں پہلے خریدار کے ہاتھوں کا لمس،اور سانسوں کی گرمی ہو….وہ کتاب…. سمجھے….“
محبوب کا دماغ تیزی سے کام کر رہا تھا۔ا س نے جلدی سے کہا:
”یہ کتاب میری ملکیت ہے….، دیکھو…..“
اس نے کتاب کا صفحہ کھول کر ا س کی نظروں کے سامنے لہرایا،جہاں اس نے کچھ لکھا تھا۔
”دیکھو، ا س پہ میرا نام لکھا ہے…“
پھر اس نے کتاب کو اپنے سینے سے لگا کر دو تین بار رگڑتے ہوئے جلدی جلدی بڑ بڑاتے ہوئے کہا:
”.یہ میری، میری، میری ہے…قسم سے میری ہے…“
پھر کتاب سینے سے ہٹا کر بولا:
”یہ دیکھو..میرے ہاتھوں کا لمس…..سینے کا لمس…. اوراب سانسوں کی گرمی۔“
اتنا کہہ کروہ کتاب کو منھ کے قریب لے گیا،اور ا س پر زور زور سے سانس پھینکنے لگا،پھرہنس کر کہا:
”یہ گرم ہو رہی ہے ….“
دُعا دل چسپی سے ا س کی حرکتیں دیکھ رہی تھی۔سمجھ رہی تھی کہ یہ آدمی پاگل ہے۔اس پاگل نے کتاب اس کی طرف بڑھاکر کہا:
”اب یہ کتاب میں تمہیں دیتا ہوں…..لے لو پلیز…..میرا دل نہ توڑو…..“
وہ اچانک ہی آپ سے تم پر آگیا۔
دُعا اس کی اس حرکت پہ ہنس پڑی۔وہ بھی ہنسنے لگا۔اسی وقت محبوب کا فون بجنے لگا۔اس میں سے موسیقی خارج ہو نے لگی۔ان کے اطراف میں گونجنے لگی۔
دُعا اس کی طرف دیکھ رہی تھی،مسکرا رہی تھی۔اس نے کہا:
”یور فون از رنگنگ (your ph is ringing)“
محبوب نے بے پروائی سے کہا:
” یہ بجتا رہتا ہے…اس کو چھوڑو….کتاب لو….“
کتاب والا ہاتھ اب بھی ا س نے دُعا کی طرف بڑھایا ہوا تھا۔مسلسل اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔
دعا نے کہا:
”تم کال کیوں رسیو نہیں کر رہے….؟“
محبوب نے مسکرا کر جواب دیا :
”یہ کسی کی کال نہیں ہے…ہمارے اس سین کا بیگ گراؤنڈ میوزک ہے….میرا دوست ہمارے اس سین میں بیگ گراؤنڈ میوزک دے رہا ہے…..“
اتنی احمقانہ بات پر دعا کا منھ بن گیا۔آنکھیں گھما کر بولی:
”تمہارے جوک بہت احمقانہ ہیں…. ہنسی نہیں آتی….غصہ آتا ہے….“
یہ سن کرمحبوب کا منھ لٹک گیا۔ہاتھ نیچے آگیا۔مسکراتا چہرہ یک دم بجھ گیا۔یوں لگا جیسے ا س کا دل ٹوٹ گیا ہو۔
اس نے بجھے دل،جھکی نظروں اور ٹوٹے لہجے میں کہا:
”میں معافی چاہتا ہوں…. پھربہت زیادہ بول رہا ہوں میں….اور زیادہ بولنے والوں کو تم گونگا سمجھتی ہو….“
وہ کہہ کر منھ لٹکاتے ہوئے دھیرے دھیرے اس سے دور ہو کرایک طرف جانے لگا۔دعا اسے چندقدم دور تک جاتے دیکھتی رہی۔سوچتی رہی،سمجھتی رہی کہ کیا کرے اور کیا نہ کرے،پھر ایک طویل سانس لے کر بولی:
”اچھاٹھیک ہے……میرا مطلب ہے…. میں اسے لے رہی ہوں….“
محبوب جھٹ رُک گیا،مگرپلٹ کر نہیں دیکھا۔
وہ شاطر تھا،ماہر شکاری تھا،جانتا تھا کہ و ہ خود بڑھ کر اس کے قریب آئے گی….اور وہ آگئی۔
پہلے تو عجیب سے احساسات کے ساتھ ا س کی طرف دیکھتی رہی،پھر دھیرے دھیرے قریب پہنچ گئی۔تب محبوب ا س کی طرف پلٹااوردونوں آمنے سامنے آگئے۔
ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔
دُعا نے گہری سنجیدگی سے کہا:
”میں یہ کتاب لے تو رہی ہوں…لیکن میں….“
محبوب نے ا س کی بات کاٹ دی۔اپنا ایک ہاتھ اوپر کرکے ا س سے بھی زیادہ سنجیدہ لہجے میں کہا:
”بس…. میں سمجھ گیا ….کچھ نہ کہو….کچھ بھی نہ کہو ….“
اس نے خاموشی سے کتاب ا س کی طرف بڑھادی۔
دعا سناٹے کی سی کیفیت میں اسے دیکھتی رہی۔پھر ہاتھ بڑھا کراس کے ہاتھ سے کتاب لے لی۔
وہ ا س کی آنکھوں میں دیکھتا رہا اوروہ اس کی نظروں سے نگاہیں بچاتی رہی۔
پھروہ بغیر کچھ کہے آگے بڑھا…. اوردُور چلا گیا۔
ایک بار بھی پلٹ کر نہیں دیکھا۔
دعا کچھ نہیں کہہ پائی۔
اُسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔خیال کرتی رہی کہ وہ ایک بار تو پلٹ کر دیکھے گا،مسکرا کر ہاتھ ہلائے گا اور گلی میں مڑ جائے گا۔مگر ایسا نہ ہوا۔وہ یہاں تک تو آگیا تھا،مگر شاید ا س کے رویے سے گھبرا کرایسا گیا کہ ایک بار بھی پلٹ کر نہیں دیکھا۔
عجیب ہونق سی ہو کر رہ گئی۔
جس کے آنے کی کچھ دیر پہلے دعا مانگ رہی تھی وہ سامنے آکر،مسکرا کر واپس جا رہاتھا اور اس کا دل نہیں چاہ رہاتھا کہ وہ جائے۔
اس نے چاہا کہ آواز دے اور روک لے۔
اس نے ہاتھ بڑھایا،روکنا چاہا،مگر روک نہ پائی۔کچھ کہنا چاہا،کہہ نہ پائی….
آنے والا،پل بھر میں جانے والا بن کر چلا گیا۔
وہ دیکھتے ہی دیکھتے گلی کے موڑ سے مڑا اور نظروں سے اوجھل ہو گیا۔
دُعا کا دل بوجھل ہو گیا۔
وہ کچھ دیر کھڑی سوچتی رہی۔جائے یا نہ جائے…اسے روکے یا نہ روکے…جانے کون تھا…اچانک آیا تھا،اور اچانک چلاگیا تھا۔
کچھ دیر بعد وہ خود پر قابو نہ رکھ سکی۔
دفعتہ بھاگ کر گلی کے نکڑ تک گئی،مگر وہ کہیں دکھائی نہ دیا۔
اس کا دل دَھک سے رہ گیا۔دَھک دَھک کرنے لگا۔
یوں لگا کہ جیسے چلتے چلتے رک جائے گا۔وہ بھی ایک جگہ رک گئی۔
جانے والا، واقعی جا چکا تھا۔
پوری گلی میں کوئی نہیں تھا۔سناٹا تھا،ویرانی تھی۔
اس کے دل ویران کی طرح ….
بہت عرصہ بعد کوئی اس کے ویرانے میں آیا تھا۔
جتنی تیزی سے آیا تھا،اتنی ہی تیزی سے چلاگیاتھا۔
……………..
(جاری ہے)

ابن آس محمد کے قلم سے فیس بک پر پہلا ناول
” دام عشق ”
………..
چھٹی قسط
.
تحریر: ابن آس محمد
……………..
بے سبب عشق کی کہانی۔
ایک ہوس پرست وحشی کا عشق طولانی
اس کی وحشت اسے جنونی عشق کی طرف لے جا رہی تھی۔
دام عشق میں لا رہی تھی۔
…………………………….
جانے والا جانے کہاں چلا گیا تھا۔اسے کہیں دکھائی نہیں دیا۔
وہ اسے بھاؤ دے رہی تھی،وہ تاؤ میں آکر اس سے دور چلاگیا۔پھر نظر نہیں آیا۔
دُعا کو یوں محسوس ہواجیسے کوئی اپنا اپنا سا تھا،ایک جھٹکے میں غیر ہو گیا۔پل میں آکر،پل میں جدا ہو جانے والا پہلی بار اس کی زندگی میں آیا تھا۔اس کے لیے یہ انوکھی سی بات تھی۔وہ اتنی پر کشش تھی کہ کوئی بھی اتنی آسانی سے اس کا پیچھا نہیں چھوڑ تا تھا۔جب تک وہ دو چار سنا نہیں دیتی تھی،ٹھیک ٹھاک ذلیل نہ کردیتی،اس کے پیچھے آنے والا ا س کی جان نہیں چھوڑتا تھا۔یہ عجیب آدمی تھا۔ہوا کی طرح آیا اور جھونکے کی طرح چھو کر چلا گیا،بلکہ نہیں،چھوئے بغیر چلا گیا،ورنہ تو مردوں کے سماج میں خوامخواہ اپنا تعارف دے کر کسی بھی لڑکی سے ہاتھ ملانے اور جھوٹ موٹ کے پیار کی بھیک مانگنے والے ٹڈی دل مردوں کی یورش ہی ہوتی رہتی تھی۔ مگر یہ پہلا تھا جو آنفھی کی طرح آیا اور پل ہی پل میں بغیر تعارف حاصل کیے،اور ہاتھ ملانے کی سعادت حاصل کیے بغیر طوفان کی طرح غائب ہو گیا۔
وہ وہیں کھڑی رہ کر آنکھیں بند کیے گہری گہری سانسیں لیتی رہی۔خود کو یقین دلاتی رہی کہ کوئی تھا ہی نہیں،محض اس کا خیال تھا،کوئی خواب تھا جو ا س نے جاگتے میں دیکھا تھا۔
دو چار گہرے گہرے سانس لینے کے بعد اس نے آنکھیں کھولیں،مسکرائی اور آگے چل دی۔گلی کے موڑ پر غائب ہو جانے والے ک اخیال بھی وہ گلی کے موڑ پر ہی چھوڑ آئی۔
دو چار گلیوں میں چلتے رہنے کے بعد وہ ایک ذرا چوڑی گلی میں آگئی۔
یہ بازار سے ملحقہ آخری گلی تھی۔ا س گلی میں دکانیں تو کم ہی تھیں مگر کچھ بوتیک شاپ تھیں،بیوٹی پارلر تھے اور میک اپ کے سامان کی دکانیں تھیں۔
بازار سے الگ تھلگ اس گلی میں اس کی بھی اپنی چھوٹی سی شاپ تھی۔اس گلی میں عام طور پر عورتوں اور لڑکیوں کی چہل پہل ہوا کرتی تھی۔بیوٹی پارلروں کی وجہ سے مرد کم ہی اس گلی میں آتے تھے،جو آتے تھے کسی کو چھوڑنے یا لینے آتے یا کسی کو تاڑنے آتے۔تاڑنے والوں کو چیرنے پھاڑنے کے لیے ایک چوکی دار بھی تھا جو ایک بندوق ہاتھ میں لیے یہاں سے وہاں تک گھومتا رہتا اور چرس سے بھرا سگریٹ پیتا رہتا تھا۔
وہ اپنی دکان کے سامنے پہنچی۔سامان نیچے رکھا اور شیشے کے دروازے میں لگا قفل چابی سے کھولا اور دروازہ کھول کر اندر داخل ہو گئی۔
اندر سے یہ ایک لمبی سی دکان تھی۔گلی کے فرش سے کچھ نیچے تھی۔
یہ اس کا بوتیک تھا،دکان کے باہر بڑا سا بورڈ تھا جس پر ”دُعاچلڈرن سپرگارمنٹس“ لکھا تھا۔اندرداخل ہونے پر ایک چھوٹی سی بوتیک کا گمان ہوتا تھا۔
دائیں جانب دیوار کے ساتھ بچوں کے کپڑوں کے ہینگرز تھے۔بائیں جانب بھی کچھ ہینگرزتھے،جن میں چھوٹی عمر کے بچوں کے کاسٹیوم لٹکے ہوئے تھے۔
ایک ہینگر میں لان کے سلے ہوئے خواتین کے کچھ شوخ رنگ کے سوٹ بھی تھے۔و ہخواتین جو اس سے کپڑے سلواتی تھیں،اسی سے لان کے سوٹ بھی خرید لیا کرتی تھیں۔
دروازے کے عین سامنے والی دیوار،جو عقبی دیوار تھی کے ساتھ ایک جانب چھوٹی سی میزتھی جس پہ دنیا جہان کا سامان،کتابیں وغیرہ لدی ہوئی تھیں۔ا س کے ساتھ ایک جدید قسم کی سلائی مشین تھی۔بائیں طرف کی دیوار میں ایک دروازہ تھا جو شاید کچن کا کا دروازہ تھا اور ا س کے ساتھ چھوٹا سا واش روم اور چینجنگ روم بھی تھا۔
چینجنگ روم کے باہر ایک قد آدم آئینہ دیوار پہ چپکاہواتھا،جس میں کسٹومر کپڑے پہن کر اپنا آپ دیکھتے تھے۔آپ ہی آپ خوش ہوتے تھے۔
دعا دکان میں داخل ہو کرشاپر میز پر رکھ رہی تھی اور ابھی بیٹھی بھی نہیں تھی کہ اسے بیرونی دروازے پہ آہٹ سنائی دی۔
وہ شاپرز نیچے رکھتے ہوئے پلٹی،یہی سمجھی کہ شاید کوئی کسٹومر ہے مگر گھومی تو حیران رہ گئی۔کھوپڑی گھوم کر رہ گئی۔
جانے والا،ایک بار پھر آگیاتھا،جس کا خیال بھی گلی دور گلی کے نکڑ پر چھوڑ آئی تھی،وہ بہ ذات خودا س کی دکان میں جھجکتے ہوئے داخل ہو رہا تھا۔اندر آکر سیڑھیوں سے نیچے آگیا تھا۔
دُعا کو پلٹتے دیکھ کر وہ ذرا گھبرا کر بولا:
”اوہ..تم….آئی ایم سوری….یہ عجیب اتفاق ہے نا…“
اس کے لہجے میں مصنوعی پن تھا۔گھبراہٹ بھی نقلی تھی۔
دُعا اس کو دیکھتی کی دیکھتی رہ گئی۔
آنے والا مصنوعی گھبراہٹ سے کہہ رہا تھا۔
”تمہیں…. شاید ایسا لگا ہوگا کہ میں…میں تمہارا پیچھا کرتے ہوئے یہاں آیا ہوں….لیکن یہ سچ نہیں ہے…یقین کرو،یہ محض اتفاق ہے…“
دعا بے یقینی،اور دل چسپی سے اس کی گھبراہٹ اور بات بنانے کی مصنوعی کوشش دیکھ رہی تھی۔وہ جھوٹ بول رہا تھا۔جھوٹ ہمیشہ برا لگتا ہے مگر کبھی کبھی جھوٹ بولنے والا اچھا لگتا ہے۔اس کو گھورتے دیکھ کروہ ذرا گڑ بڑا کر کہہ رہاتھا۔
”میں تو…دکان کا بورڈ دیکھ کر…اندر آیا ہوں…لیکن…اتفاق سے آپ سے ملاقات ہوگئی….کیسا عجیب اتفاق ہے نا….کیوں…“
وہ کہہ کر بے ڈھنگے پن سے ہنسنے کی کو شش کرنے لگااور بات کرتے کرتے بچوں کے کاسٹیوم کے ہینگرز کے قریب آگیا۔
دُعا مسکرائی،اورمسکراتے ہوئے طنزاًبولی:
”ہاں….ایسا اکثر ہوتاہے….آپ کی طرح کچھ اور گاہک بھی….اسی طرح اتفاق یہاں تک آچکے ہیں….بلکہ آتے رہتے ہیں….یہ کوئی نئی بات نہیں ہے….“
محبوب نے اس کے طنز کو نظر انداز کرتے ہوئے کہا:
”مجھے لگتا ہے…دکان کھلنے میں ابھی دیر ہے….ابھی آئی ہو….شایددیر سے دکان کھول رہی ہو….میں…بعد میں آجاتا ہوں…؟“
دعا اب تک خود کو سنبھال چکی تھی۔پروفیشنل لہجے میں مسکراتے ہوئے بولی:
”دکان تو صبح سے کھلی ہوئی ہے….میں کچھ کام سے باہر گئی تھی بس….بتائیے کیا لینا ہے آپ کو….“
”اوہ….“ محبوب نے سمجھنے والے انداز میں کہا اور نظریں چرا کر جھجکتے ہوئے بچوں کے کاسٹیومز کو دیکھنے لگا۔کچھ لینے کا بہانہ بنایا تھا،لینا تو تھا،کم از کم دیکھنے کی تو ایکٹنگ کرنی تھی۔
اس طرف سارے کاسٹیوم بچوں کے کسی نہ کسی کامک کیریکٹڑز کے تھے۔اس نے بات کرنے کے بہانے سے کپڑوں کو دیکھتے ہوئے کہا:
”ایسا لگتا ہے…یہ سب آپ نے خود بنائے ہیں….کیوں…؟“
دُعا اب ہاتھ باندھ کے کھڑی تھی،دل چسپی سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی۔اس کے بچکانہ پن سے محظوظ ہو رہی تھی۔ اس نے اثبات میں سر ہلایا،مگر کچھ بولی نہیں۔
محبوب نے پلٹ کر حیران ہونے کی اداکاری کرتے ہوئے کہا:
”کیسے بنا لیتی ہیں اتنے اچھے کپڑے….ویسے عجیب عجیب ڈیزائن کے ہیں….“
دعا سب سمجھ رہی تھی۔اپنی ہنسی روک رہی تھی،سلائی مشین کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولی:
”ا س مشین سے بنا تی ہوں…سیکھا ہے میں نے یہ کام….“
محبوب نے جلدی سے کہا:
”عجیب سے ڈیزائن ہیں…. سپر ہیروز کے کاسٹیوم….. کون پہنتا ہے ایسے کپڑے…؟“
دعا نے مسکراتے ہوئے کہا:
”بچے پہنتے ہیں …..اسکول کے فینسی ڈریس شو میں….، سال گرہ پر…یا کسی ایونٹ پہ ….“
محبوب پلٹ کرتعجب سے سپر ہیروز کے کاسٹیومز کو دیکھنے لگا۔
دعا نے بات آگے بڑھائی۔
”اصل میں….بچے وہ بننا چاہتے ہیں…. جو وہ بننا چاہتے ہیں…اس لیے ان کی پسند کے ایسے کپڑے بناتی ہوں جو کسی اور بوتیک پہ نہیں ملتے….یہ ورائٹی اس بازار میں صرف میرے پاس ہوتی ہے….“
محبوب نے تعریفی انداز میں سر ہلاتے ہوئے کہا۔
”سمجھانے کا شکریہ…..ویسے…..میں سوپر مین بننا چاہتا ہوں ….کسی کو لے کر اُڑجانا چاہتا ہوں….“
دعا ہنس پڑی۔ہنستے ہوئے بولی:
”ہم بوڑھے بچوں کے کاسٹیوم نہیں بناتے…“
محبوب کی سمجھ میں نہیں آیاکہ اب کیا کہے۔اس نے ایک لمحہ سوچااوررُخ بدل کر کپڑوں کی طرف دیکھنے لگا،پھر اچانک بات بدل د ی۔
”تو پھر… میں اپنے بیٹے کے لئے کچھ لینا چاہتا ہوں…. لیکن…. مجھے تو یہ بھی نہیں معلوم کہ اسے کیا پسند ہے….اور کیا نا پسند….“
دُعا کے اند ر کچھ ٹوٹنے پھوٹنے لگا۔اس کے چہرے پر ایک رنگ آکر گزر گیا مگر اس نے تیزی سے خو دکو سنبھال لیا،اور کاندھے اچکاتے ہوئے بولی:
”ٹھیک ہے….کوئی بات نہیں….یہ بات توآپ کے بیٹے سے پوچھ سکتے ہیں….کہ اسے کیا پسند ہے اور کیا نہیں….“
محبوب نے ا س کی طرف پلٹ کر دیکھا اور اٹکتے اٹکتے،گہرے دکھ سے بولا:
”لیکن….. وہ میرے پا س نہیں ہے…میرے ساتھ نہیں ہے….دور ہے مجھ سے بہت …“
محبوب کہتے ہوئے دھیرے سے باہر کی طرف جانے لگا۔
دعا جانے کیا سمجھی۔گہرے دکھ سے بولی ۔
”اوہ…..آئی ایم سوری…..میں معافی چاہتا ہوں….کیسے ہوا یہ ….؟“
محبوب رُک گیا۔دھیرے سے پلٹا اور پھینکی ہنسی کے ساتھ کہا:
”کلاسیکل اسٹوری ہے…. ہماری طلاق ہوگئی…. ا س کے بعد بیٹا پیدا ہوا… میں اس سے ہفتے میں ایک بارملتا ہوں….ایک بار دیکھتا ہوں…“
اس کی آواز دفعتہ بھرا گئی تھی۔دُعا نے ایک طویل سانس لی۔دُکھکے تاثر سے ا س کی طرف دیکھنے لگی۔
محبوب ا س کی طرف دیکھے بغیر چہرہ جھکائے کہہ رہا تھا۔
”اس سے بات کرنے کا زیادہ وقت نہیں ملتا مجھے…. چند گھنٹوں کا وقت…چندمنٹوں میں ختم ہو جاتاہے…“
محبوب ایک دم ہی دُکھی ہو گیا تھا۔خاموشی سے سر جھکائے کھڑا تھا۔سوچ رہا تھا کیا کہے اور کیا نہ کہے۔
دعا اس کو دُکھ سے دیکھتی رہی،دل ہی دل میں کچھ سوچتی رہی،پھر بات بدلتے ہوئے بولی:
”ہر بچے کا ایک ہیرو ہوتا ہے….اس کا بھی کوئی ہیرہو گا…. شاید ا س کا باپ….“
محبوب نے سر اٹھا کر ا س کی طرف دیکھا،اور سوچ میں پڑ گیا۔
جہاں وہ کھڑا تھا،وہاں ایک بنچ رکھی تھی۔وہ دھیرے سے پنچ پہ بیٹھتے ہوئے بھرائی ہوئی آواز میں بولا:
”مجھے نہیں معلوم کہ میں اس کا ہیرو ہوں یا نہیں….میں اس کو بڑا ہوتے نہیں دیکھ پاتا….ایک ہفتہ سے دوسرے ہفتہ تک….تھوڑاسا بڑا جاتا ہے وہ….“
دعا اس کی طرف یک ٹک دیکھ رہی تھی۔وہ بھی دھیرے سے اپنی میز کے کنارے سے ٹک گئی۔
وہ سنجیدہ ہو گیا تھا،دُعا بھی سنجیدہ ہو گئی۔گہرے دکھ سے بولی:
”اوہ …. یہ سب سہنا آسان نہیں ہے…میری ایک دوست ہے،وہ بھی اپنی بیٹی سے ہفتے میں ایک بار ملتی ہے….ہر وقت روتی رہتی رہتی ہے….کتنامشکل ہے نا…یہ سب سہنا….؟“
محبوب نے دکھ سے سر ہلایا:
”ہاں….بہت….بہت مشکل….اولاد نظروں سے دور رہے تو،باپ ہو یا ماں….دکھ ایک سا ہوتا ہے….“
وہ زیادہ نہیں بول پایا۔اس کی آنکھوں میں دفعتہ پانی امڈ آیا تھا۔
وہ نظریں چرارہاتھا۔کوشش کر رہا تھا کہ وہ ا س کے آنسو نہ دیکھ پائے۔پھر وہ ایک جھٹکے سے کھڑا ہو گیا اورتیزی سے بولا:
”بہرحال….میں نے ایک بارپھر بہت زیادہ بات کرلی ….برا مت ماننا…. تمہیں میرا زیادہ بولنا برا لگتا ہے…گڈ بائے….“
کہتے ہوئے پلٹ کر باہر جانے لگا۔
دعا نے انکار میں سرہلاتے ہوئے جلدی سے کہا:
”میرا خیال ہے…ہم کچھ کر سکتے ہیں آپ کے بیٹے کے لیے….“
محبوب چلتے چلتے رک گیا۔پلٹ کر ا س کی طرف دیکھا تو ا س نے مزید کہا:
”کسی دن….اسے یہاں لے آؤ……اس سے ایک کاسٹیوم منتخب کرواتے ہیں…. میں بناؤں گی اس کے لیے….“
محبوب کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ نمودار ہوگئی۔نہ آنسو چھپا پایاتھا نہ مسکراہٹ۔
دعا کہہ رہی تھی :
”یا آپ اس کاناپ حاصل کرلو….میں کاسٹیوم بنا دوں گی….اس کے لیے سرپرائز ہو گا….“
محبوب کو یہ بات اچھی لگی۔مسکرا کر بولا:
”اوکے….ونڈر فل….“
دعا اس کی طرف دیکھتی رہی۔دنوں چپ ہوگئے تھے۔دونوں کی باتیں ختم ہوگئی تھیں۔جب کچھ سمجھ نہیں آیا تو دعاذرا مسکرا ئی اور پھرایک دم آگے بڑھ کر اس کی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولی:
”میں دُعا ہوں …. دعا خان….“
محبوب نے مسکرا کر اس کا ہاتھ تھام لیا،اور خوش ہو کر چہکتے ہوئے بولا:
”اور میں محبوب علی خان….تم محبوب کہہ سکتی ہو….“
پھر ذرا دھیمے لہجے میں کہا:
”سمجھ بھی سکتی ہو….“
اس کی اس بات پر دعا بے اختیار ہنس پڑی۔
ہنستے ہوئے دھیرے سے پیچھے ہٹ گئی۔
محبوب بھی پیچھے ہٹتے ہوئے پلٹ کر جانے لگا۔دروازے کے قریب پہنچا،اور مسکراتے ہوئے باہر کی طرف جانے لگا۔
باہر نکل کر وہ پہلے بائیں گیا…. پھر پلٹ کر واپس آکر دکان کے سے گزر کر دائیں طرف چلا گیا،مگر اگلے ہی لمحے یوں واپس پلٹا جیسے غلط سمت میں چلا گیا ہو،اور اب درست سمت میں چلا گیا ہو….
دُعا اسے جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔
مسکراتے مسکراتے کچھ سنجیدہ سی ہوگئی۔ا س کی سمجھ میں نہیں آیا کہ وہ اس صورت حال پہ ہنسے یا روئے۔
وہ کچھ دیر یوں ہی کھڑی رہی۔دروازے کو گھورتی رہی۔
پھر ایک طویل سانس لے کرکچن میں گئی۔
اپنے لیے کافی بنائی،اور چینی گھولتے ہوئے اپنی میز پہ جا بیٹھی۔
کافی کی پیالی میں چمچہ ہلاتے ہوئے اس کی نظر میز پر رکھی کتاب پہ پڑی۔
وہی کتاب جو محبوب علی خان اس کو دے گیا تھا۔
آدھا چہرہ ….
اس نے کچھ سوچتے ہوئے چائے کی پیالی میز پر رکھی اور دھیرے سے کتاب اٹھالی۔
کتاب کو دیکھتے ہوئے ا س کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ رینگ گئی۔
اس نے کتاب کا پہلا صفحہ کھولااور چونک گئی۔
پہلے صفحے پر محبوب علی خان لکھا تھا اور ا س کے نیچے ایک فون نمبر لکھا تھا۔
اس کا خون کھول گیا ۔ وہ بے اختیار بڑ بڑائی۔
”اوہ گا ڈ….کتنا پاگل ہے یہ….“
اس نے غصے میں کتاب میز پہ پٹخ دی۔ ایک طویل سانس لے کر کرسی کی پشت سے ٹیک لگا دی۔
محبوب علی خان کا چھچھور پن اسے کھل گیا تھا۔
اس سطحی حرکت پرایک سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں وہ ا س کی نظروں میں گر گیا۔ دل سے اتر گیا ۔

(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے