سر ورق / کہانی / گمراہ ۔۔۔۔ مہتاب خان

گمراہ ۔۔۔۔ مہتاب خان

گمراہ 

مہتاب خان 

محبت نہ صرف اندھی ہوتی ہے بلکہ کسی آکٹوپس کی طرح عاشق کے دماغ کو بھی چوس لیتی ہے اور اچھا بھلا انسان سوچنے سمجھنے کی صلاحیتوں سے بھی محروم ہو جاتا ہے-عشق کے مارے ایک نوجوان کی کتھا، محبت کی دیوی نے اسے گمراہ کر دیا تھا-

 رات  کا وہ نہ جانے کون سا پہر تھا جب اس کی نیند ٹوٹی تھی-وہ اٹھ بیٹھا اور آنکھیں پھاڑ کر چاروں طرف دیکھنے لگا-ہوٹل کا یہ کمرہ اسے اجنبی لگا تھا-اس کا سر بری طرح چکرا رہا تھا-پھر اس کی نظر قریب رکھی ٹیبل پر گئی ،جس پر رکھی شراب کی خالی بوتلیں اور گلاس سے سب کچھ واضح ہو گیا تھا-اسے سب کچھ یاد آ گیا تھا-اس رات اس نے اتنی پی تھی کہ اسے اپنا ہوش نہیں رہا تھا–وہ شاید پورے دن سوتا رہا تھا-

وہ اٹھا اور اپنے گھومتے سر کو تھامے باتھ روم کی طرف بڑھا تھا-کچھ دیر بعد وہ لابی میں آ کر ایک صوفے پر بیٹھ گیا تھا-لابی میں اس وقت چند ہی افراد موجود تھے کاونٹر کے قریب ہوٹل کا منیجر ایک اسمارٹ مگر تیز و طرار شخص سے باتوں میں مصروف تھا-وہ شخص دلچسپ نظروں سے اسے گھور رہا تھا-اسے وہاں بیٹھے کافی دیر ہو گئی تھی وہ خالی خالی نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہا تھا-اسی وقت ایک ویٹر  اس کے قریب آیا تو وہ چونک گیا اور اشارے سے اسے بلایا-

"ایک کپ کافی ملے گی؟”اس نے ویٹر سے کہا تھا-

"ابھی لایا  سر-"ویٹر کہتا ہوا تیزی سے ایک سمت چلا گیا-

"وہ کون ہے؟”تیز و طرار شخص نے اس کی جانب دیکھتے ہوئے اپنے منیجر دوست سے پوچھا تھا-

"شاہ میر نام ہے اس کا ………….ایک مہینے سے ہمارے ہوٹل میں ٹھہرا ہوا ہے-اس شہر میں اجنبی ہے اور کسی رئیس کی بگڑی ہوئی اولاد معلوم ہوتا ہے ..لیکن تم کیوں پوچھ  رہے ہوٹونی ؟’

"بگڑی ہوئی اولاد ……کیا مطلب؟”ٹونی نامی شخص نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا-

چوبیس گھنٹے نشے میں دھت رہتا ہے اور دل کھول کر پیسہ لٹاتا ہے-"

"پھر تو میرے کام کا بندہ ہے-ٹونی نے ہنستے ہوئے کہا تھا اور دونوں باتوں میں  مصروف ہو گئے تھے-

کچھ ہی دیر میں ویٹر اس کے لئے کافی لے آیا تھا-کافی اسے دے کر ویٹر جانے کے لیے مڑا تھا جب شاہ میر نے اسے آواز دی تھی اور اس سے اپنی مطلوبہ شے کے بارے میں پوچھا تھا –

"اس وقت تو مشکل ہے سر ….نہیں مل سکتی-"

"مجھے ابھی چاہیے ………یا وہ جگہ بتا دو جہاں مل سکتی ہے……میں خود چلا جاؤں گا-"

"آپ خود جائیں گے-"ویٹر نے حیرانی سے کہا تھا-

"ہاں ہاں …..تم جگہ بتاؤ میں چلا جاؤں گا-"اس نے تیزی سے کہا تھا-شاہ میر کے اصرار  پر ویٹر نے شہر کی اس پس ماندہ بستی کے بارے میں بتایا تھا جہاں ہر قسم کی غیر قانونی نشہ آ ور چیزیں عام دستیاب ہوتی تھیں-

ٹونی نے اندازہ لگا لیا تھا کہ اس کا نیا شکار ایک موٹی  آسامی ہے -منیجر جا چکا تھا مگر وہ وہیں کھڑا اسے دیکھ رہا تھا-جو ویٹر سے باتیں کر رہا تھا-پھر جب وہ ویٹر ایک جانب جانے لگا تو ٹونی بھی اس کے پیچھے چل دیا-کچھ دور وہ اس کے پیچھے چلتا رہا پھر اسے آواز دی-

سنو نزیر-"

ویٹر چونک کر اس کی طرف مڑا –

"لابی میں وہ شخص تم سے کیا باتیں کر رہا تھا؟”ٹونی نے ایک نوٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے پوچھا-جسے ویٹر نے تھام لیا تھا-

"شاہ میر صاحب کو شراب کی طلب ہو رہی ہے-میں نے بتا دیا تھا کہ اس وقت نہیں مل سکتی اور نہ میں ڈیوٹی چھوڑ کر جا سکتا ہوں -مگر وہ بضد تھے اسی لئے میں انہیں اس بستی کے بارے میں بتا رہا تھا جہاں اس وقت ان کی مطلوبہ شے مل سکتی ہے-"ویٹر نے رازداری سے کہا تھا-

"بس تو پھر میرا کام بن گیا-"ٹونی کہتا ہوا وہاں سے روانہ ہو گیا-

کچھ ہی دیر بعد ٹونی ہوٹل کے باہر ایک اندھیرے گوشے میں کھڑا شاہ میر کا انتظار کر رہا تھا-اسے یقین تھا کہ شاہ میر اس وقت اس بستی کی طرف ضرور جائے گا-جلد ہی اس کے اس خیال کی تصدیق ہو گئی تھی-کیونکہ کچھ ہی دیر میں شاہ میر ہوٹل سے نکل کر ایک جانب چلا جا رہا تھا-

ٹونی مناسب فاصلہ رکھ کر اس کے پیچھے چل رہا تھا-قدرے سنسان  جگہ پہنچ کر وہ تیزی سے چلتا اس کے قریب آ گیا اور اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا-پھر مسکرا کر اس کی طرف دیکھا اور کہا-

"آپ اس شہر میں اجنبی لگتے ہیں؟”

شاہ میر نے ایک نظر اسے دیکھا مگر خاموش رہا-

"میں نے اتفاق سے آپ کی اور نذیر کی گفتگو سن لی تھی ………..”شاہ میر نے چونک کر اسے دیکھا-

"میں اس وقت ہوٹل کی لابی میں آپ کے قریب ہی تھا-"وہ کچھ نہیں بولا-بس سوالیہ نظروں سے اسے دیکھتا رہا-

"آپ کو ابھی اس شہر کا پتا نہیں ہے …….آپ وہاں نہ جائیں-اس بستی میں بڑے خطرناک مجرم یہ کاروبار کر رہے  ہیں ….وہ آپ کو نشہ پلا کر بے ہوش کر دیں گے……آپ کے سارے پیسے وغیرہ بھی لوٹ لیں گے یہاں تک کہ بدن پر کپڑے بھی نہیں چھوڑیں گے-"

"پھر …پھر میں کیا کروں؟”وہ چلتے چلتے رک گیا اور جھنجھلا کر بولا-

"طلب لگی ہے؟”ٹونی نے معنی خیز نظروں سے اسے دیکھا تھا-

شاہ میر نے اثبات میں سر ہلایا-

"تو آئیں میرے ساتھ-"ٹونی نے آگے قدم بڑھائے –

وہ کچھ دیر کھڑا سوچتا رہا-

"ارے سوچ کیا رہے ہیں آ جائیں ……….”ٹونی نے اس کی طرف مڑتے ہوئے کہا تو وہ اس کے ساتھ ساتھ چلنے لگا-

"کیا نام ہے آپ کا؟”ٹونی نے پوچھا-

"شاہ میر-"

"میں تنویر ہوں مجھے سب یہاں ٹونی کے نام سے جانتے ہیں-"ٹونی نے اس کی جانب ہاتھ بڑھایا-جسے شاہ میر نے تھام لیا-وہ کافی دیر سے پیدل چل رہے تھے-

"تم مجھے کہاں لے جا رہے ہو؟”کچھ دیر بعد شاہ میر نے کہا تھا-

"اپنے ٹھکانے پر…………وہاں جا کر آپ خوش ہو جائیں گے ………..ہم بس پہنچنے والے ہیں-"

یہ شہر کا ایک قدرے غیر آباد اور سنسان علاقہ تھا-جہاں  کچھ دیر بعد ایک بڑ ی وسیع و عریض تین منزلہ عمارت کے قریب وہ دونوں پہنچے تھے-اس نیم تاریک اور بظاھر سنسان نظر آ نے والی عمارت کا بیرونی فولادی گیٹ بے حد مضبوط نظر آ رہا تھا  -ٹونی نے گیٹ  پر مخصوس انداز میں دستک دی تھی-اندر کسی نے گیٹ  کھولا تھا-پھر وہ ایک ہا ل نما کمرے میں داخل ہوئے -جو کسی ہوٹل کا نقشہ پیش کر رہا تھا-وہاں کئی مرد  اور نیم برہنہ لڑکیاں موجود تھیں وہ پورا ماحول کثیف دھویں سے بھرا ہوا تھا-اسی وقت کہیں سے ایک ملازم نمودار ہوا تھا-

"آئیے آئیے سر آپ کا فون آتے ہی میں نے آپ کی ٹیبل ریڈی کر دی تھی-

"آؤ بیٹھو -” ٹیبل پر پہنچ کر ٹونی نے شاہ میر سے کہا تھا-

"جی سر کیا پیش کروں؟”ان کے بیٹھتے ہی ملازم نے مودب انداز میں ٹونی سے پوچھا تھا –

"اسپیشل ڈرنک لے آؤ ……آج کا ڈرنک میری طرف سے میرے خاص مہمان کے لیے-"ٹونی نے مسکراتے ہوئے شاہ میر کو دیکھا تھا-

اس رات اس نے اتنی پی تھی کہ اسے ہوش نہیں رہا تھا-پھر کب ٹونی اسے اٹھا کر اسی عمارت کے کسی کمرے میں لے گیا تھا اسے بلکل پتا نہیں چلا تھا-

وہ اپنے کمرے میں بے خبر سو رہی تھی جب دروازے پر دستک ہوئی تھی-اس نے دروازہ کھولا-سامنے ٹونی ایک اسمارٹ نوجوان کو سہارا دیے کھڑا تھا-ابھی وہ اس نوجوان کے بارے میں سوچ ہی رہی تھی کہ ٹونی اسے اندر لے آیا اور اس کے بیڈ  پر اسے لٹا  دیا-

"پنکی ………دوسرے کمروں میں مہمان ہیں،اسی لیے اسے تمھارے کمرے میں لے آیا ہوں-نشے میں دھت ہے اسے آرام کرنے دینا………ہوش میں آئے گا تو چلا جائے گا……………موٹی  آسامی ہے ..خیال رکھنا-"ٹونی نے ایک آنکھ دباتے ہوئے اس سے کہا تھا-

"ٹھیک ہے ٹھیک ہے-"اس نے جلدی سے کہا اور صوفے پر جا کر بیٹھ گئی-ٹونی اسے مزید ہدایات دے کر چلا گیا تھا-وہ کافی دیر صوفے پر بیٹھی بے سدھ پڑے نوجوان کو دیکھتی رہی-نہ جانے وہ کون تھا؟اور یہاں تک کیسے پہنچا تھا-وہ سوچ رہی تھی-اپنے حلیے اور چہرے مہرے سے وہ عیاش نہیں لگتا تھا-پھر وہ اس بدنام اڈے پر کیا کر رہا تھا-اسی وقت نوجوان نے اس کی سمت کروٹ لی تھی-

"مہرو-"نوجوان کے لبوں سے مدھم سی آواز نکلی تھی-مگر اس کی آنکھیں ہنوز بند تھیں-

یہ مہرو کون ہے؟پنکی نے سوچا تھا-یہ پنکی کی شاہ میر سے پہلی ملاقات تھی-کچھ دیر بعد وہ بھی قریب پڑے صوفے پر لیٹی بے خبر سو گئی تھی-

صبح شاہ میر کی آنکھ کھلی تو وہ ایک اجنبی کمرے میں کسی کے بیڈ پر لیٹا ہوا تھا-سائیڈ ٹیبل پر گرما گرم کافی کا مگ رکھا ہوا تھا-اور کمرہ خالی تھا-لگتا تھا اس کمرے کا مکین کچھ دیر پہلے ہی یہاں سے گیا تھا-وہ کافی پی کر باہر آیا تو کاریڈور میں تین چار لڑکیاں کھڑی خوش گپیوں میں مصروف تھیں-ایک نے شرارت سے اسے دیکھا تھا-وہ ان کے قریب سے گزرا تو اس نے کہا تھا-

"کیسی گزری رات؟”اس نے چونک کر لڑکی کی سمت دیکھا مگر وہ دوسری لڑکی سے مخاطب تھی وہ کچھ کہے بغیر باہر نکل گیا-

ٹونی اسے  شراب میں کوئی اور نشہ بھی  گھول کر پلا ر ہا تھا  جس کا شاہ میر عادی ہوتا جا رہا تھا-نشے کی طلب اسے بار بار ٹونی کے در پر لا پھینکتی تھی ،جس کا ٹونی خوب فائدہ اٹھا رہا تھا-اور اس کی جیبیں دونوں ہاتھوں سے خالی کر رہا تھا-

اس دن بھی ٹونی اسے پنکی کے کمرے میں لے آیا تھا-وہ اس وقت ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے بیٹھی میک اپ میں مصروف تھی-آئینے میں شاہ میر کے عکس کو وہ ٹکٹکی باندھ کر دیکھ رہی تھی-آج وہ مکمل ہوش و حواس میں تھا-ایک لمحے کے لیے ان دونوں کی نظریں ملی تھیں،پنکی اسے دیکھ کر مسکرائی تھی-مگر اس کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں ابھرا تھا-شاہ میر نے نظر بھر کر شاید اسے دیکھا تک نہیں تھا-"مجھے پتا ہے کے تم ایک اچھے خاندان سے تعلق رکھنے والے نفیس انسان ہو-اس ہال کا ماحول تمھارے مطلب کا نہیں ہے …..تم یہاں اطمینان سے بیٹھ کر پیو …….پنکی تمہارا خیال رکھے گی-"

پنکی نے سوالیہ نظروں سے ٹونی کو دیکھا تو اس نے شاہ میر سے نظر بچا کر پنکی کو آنکھ ماری تھی-وہ اس کا اشارہ سمجھ گئی تھی-کچھ دیر بعد ٹونی اسے وہاں چھوڑ کر جا چکا تھا-ملازم بھی اس کے سامنے ٹیبل پر اس کے مطلوبہ مشروبات سجا کر چلا گیا تھا-

پنکی آھستہ قدموں سے چلتی اس کے قریب آ کھڑی ہوئی تھی-

"میں پنکی ہوں-"

"اور میں شاہ میر-"

"پہلی بار جب تم میرے کمرے میں آئے تو پوری رات سوتے رہے تھے-"

"ہاں ……مجھے پتا نہیں تھا کہ یہ تمہارا کمرہ ہے-"وہ اپنے لیے ڈرنک بنانے لگا-

"میں بنا دوں  ڈرنک؟”وہ اس کے قریب بیٹھ کر ایک ادا سے بولی-

"دور ہٹو-"وہ چلایا-

"اتنا غصہ؟ ……….تمہارا غصہ میں منٹوں میں ختم کر سکتی ہوں-"وہ اٹھلاتی ہوئی بولی-

"دور ہو جاؤ میری نظروں سے-"وہ غصے سے بولا تھا-

"کیا اتنی بد صورت ہوں میں-"

"ہاں-"

"پھر خوبصورت کون ہے؟ …..مہرو…….”وہ اٹھتی ہوئی بولی-اور اس کے مقابل صوفے پر بیٹھ گئی-

شاہ میر کو جھٹکا لگا تھا-وہ دیر تک اسے دیکھتا رہا-

"تم مہرو کو کیسے جانتی ہو؟”

وہ خاموش رہی تھی-دعوت نظر دیتے لباس میں وہ اس کے سامنے بیٹھی مسکرا  رہی تھی-رات ڈھلتی جا رہی تھی-وہ بیٹھا شغل کر رہا تھا-آھستہ آھستہ  نشے نے اسے اپنے حصار میں لینا شروع کر دیا تھا-شاہ میر نے مخمور آنکھوں سے اس کی سمت دیکھا تھا-

"یہ تم نے کیسا لباس پہنا ہے؟”

"کیوں ….تمہیں پسند نہیں آیا؟”

"نہیں -"

"کوئی شریف لڑکی ایسے کپڑے نہیں پہنتی -"

"میں شریف لڑکی نہیں ہوں نہ -"وہ زور سے ہنسی "فلم لگا دوں دیکھو گے-؟”

"نہیں-"

کچھ دیر بعد وہ بولی "پھر میں تمہارے لیے کیا کر سکتی ہوں؟”

"تم میرے لیے کچھ نہیں کر سکتیں ……….ویسے تمھاری عمر کیا ہے؟….دیکھنے میں تو تم اسکول سے بھاگی کوئی لڑکی لگتی ہو-کب سے ہو اس دھندے میں؟”شاہ میر اس سے سوال پر سوال کیے جا رہا تھا-

"تمھارے تصور سے زیادہ عرصہ ہو گیا …………..اس کم عمری میں بھی میں تم سے زیادہ تجربہ کار ہوں ……تمہارا ایک علاج ہے میرے پاس جو تمھارے دل سے مہرو کی یاد بھلا دے گا-"

"بکواس بند کرو ………”وہ غصے سے اٹھا تھا-"اپنی گندی زبان سے اس کا نام نہ لو-"

"اتنی اچھی تھی وہ تو تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”

"اچھی ……..نہیں ………..مگر……..”وہ مٹھیاں بھینچتا ہوا بولا-پھر اسے نہ جانے کیا ہوا وہ تیزی سے چلتا دروازہ کھول کر باہر نکل گیا-پنکی اس کے پیچھے لپکی تھی-” شاہ میر "

باہر کاریڈور میں ٹونی کھڑا تھا جو حیرانی سے شاہ میر کو دیکھ رہا تھا-

"کیا ہوا شہزادے ؟اتنے غصے میں کیوں ہو؟”ٹونی نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھا تھا-وہ چند لمحے رکا تھا پھر ایک جھٹکے سے خود کو چھڑ ا کر آگے بڑھ گیا تھا-

"کیا ہوا پنکی؟”اس بار ٹونی کا مخاطب پنکی تھی-"بول بتاتی کیوں نہیں-"

"اسے جانے دو باس ………یہ پھر آئے گا-"

"وہ تو مجھے بھی پتا ہے کہ وہ آئے گا-"ٹونی نے مسکراتے ہوئے کہا تھا-

دو تین دن گزرے تھے وہ بہت بے چین رہا تھا-معمول کے نشہ آ ور مشروب بھی اسے ہوش و حواس سے بیگانہ نہیں کر سکے تھے ،وہ ہوش میں ہوتا تو مہرو کی یاد اسے تڑپاتی تھی اور کسی پل چین نہ لینے دیتی تھی-دوسری طرف نشے کی طلب تھی جو بری طرح ستا رہی تھی-اس رات وہ خود پر قابو نہیں رکھ سکا تھا اور ٹونی کے اڈے پر چلا آیا تھا-اس نے اپنا نوٹوں سے بھرا والٹ ٹونی کی طرف اچھالا اور پنکی کے کمرے کی سمت بڑھ گیا-

"آ گئے تم ؟”پنکی اسے دیکھ کر خوشی سے نہال ہو گئی تھی-

"ہاں آ گیا-"وہ اس کے بیڈ پر ڈھے سا گیا تھا-اسی وقت پنکی کے فون پر بیل ہوئی تھی-پنکی نے فون آ ن کیا-

"بہت پریشان لگ رہا ہے وہ …………اپنا نوٹوں سے بھرا والٹ مجھے دے گیا ہے،اس میں کریڈٹ کارڈز وغیرہ بھی ہیں ……آج رات اسے جانے نہ دینا-خاص خیال رکھنا اس کا ………………جب تک میں اس کا پرس خالی کرتا ہوں-"دوسری طرف ٹونی بول رہا تھا-پنکی نے کچھ کہے بغیر فون بند کر دیا-

"ٹونی سے کہو میرے  ڈرنکس بھیج دے-"شاہ میر نے پنکی سے کہا تھا-

"ٹھیک ہے میں بھیجتی ہوں-"کہتی ہوئی پنکی باہر نکل گئی-

ٹونی شاہ میر کا والٹ کھولے جائزہ لے رہا تھا جب پنکی تنتناتی ہوئی وہاں پہنچی تھی-

"اس کا پرس ادھر دو-"پنکی نے ٹونی کے سامنے ہاتھ پھیلاتے ہوئے کہا-

"کیوں؟”

"اس کا پرس دو ………تمہیں تمھارے پیسے مل جائیں گے-"پنکی نے تیز لہجے میں کہا تھا-

"پاگل تو نہیں ہو گئی ہو تم-"ٹونی حیرانی سے اسے دیکھ رہا تھا-

"اس کا پرس دو-"اس بار وہ زور سے چلائی تھی-"دھندہ کروانا ہے یا نہیں؟”

"لگتا ہے تجھے اس سے عشق ہو گیا ہے-ایسے موقعے بار بار نہیں ملتے -"

تم نے سنا نہیں میں نے کیا کہا ہے؟”وہ اسے گھورتے ہوئے بولی-

"واقعی تم پاگل ہو گئی ہو-"ٹونی نے پرس اسے دیتے ہوئے کہا تھا-

وہ کمرے میں واپس آئ  تو وہ بیٹھا پی رہا تھا-"یہ تم اپنی جیب میں رکھو-"پنکی نے اس کا والٹ اس کی طرف بڑھاتے ہوئے کہا-جسے شاہ میر نے بے پرواہی سے ٹیبل پر ڈال دیا-وہ اس کے قریب آ بیٹھی  اسے دیکھ جا رہی تھی-پنکی کی نظروں میں شاہ میر کے لیے بے تحاشا محبت اور ہمدردی جھلک رہی تھی-وہ نہ جانے کب اس کے دل و دماغ پر چھا گیا تھا-اس نوجوان میں نہ جانے ایسا کیا سحر تھا کہ وہ یہاں سکھائے گئے سارے اصول بھول چکی تھی-کافی دیر گزر گئی تھی-کمرے میں مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی جسے آخر پنکی کی آواز نے توڑا تھا-

"سنو شاہ میر-"شاہ میر نے چونک کر سر اٹھایا تھا-جو کچھ تمھارے دل میں ہے آج کھل کر کہہ دو……….میں تمہارا کوئی مسئلہ تو حل نہیں کر سکتی،مگر کہنے سے تمھارے دل کا بوجھ ہلکا ہو جائے گا-"

وہ کچھ دیر خاموش رہا پھر بولا-"مجھے کوئی ایسا نشہ پلا دو پنکی جس سے میں سب کچھ بھول جاؤں-"وہ روتے ہوئے بولا تھا-پھر کچھ دیر بعد وہ سن رہی تھی اور وہ خود پر بیتی  داستان سنا رہا تھا-

ان دنوں وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے ملک  سے باہر گیا تھا اور ایک طویل عرصہ  بیروں ملک گزار کر وطن واپس آیا تھا جہاں اس کے والدین ،اس کا بڑا بھائی اور اس کی محبت مہرو تھی-مہرو کے ساتھ اس کا بچپن اور لڑکپن گزرا تھا-وہ اس کے پڑوس میں ہی رہتی تھی-مہرو کی فیملی کا شاہ میر کے خاندان سے میل ملاپ تھا-دونوں گھرانے ان دونوں کی محبت سے واقف تھے اور اس پر کسی کو کوئی اعتراض نہیں تھا-وہ بیروں ملک بھی مہرو سے رابطے میں رہا تھا اور یہ طویل عرصہ اس نے مہرو کی یادوں اور اس کی باتوں کے سہارے گزارا تھا-مہرو ایک بے حد خوبصورت،شوخ و شنگ اور الہڑ دوشیزہ تھی-دور دور تک اس کی خوبصورتی کی دھوم تھی-اس دن کا شاہ میر نے بڑی بے صبری سے انتظار کیا تھا-

شاہ میر کا خاندان اس علاقے کا ایک معزز اور رئیس خاندان سمجھا جاتا تھا-ان کی شوگر مل دن دوگنی اور رات چوگنی ترقی کر رہی تھی-گھر میں اس وقت اس کے بڑے بھائی رضا میر کے شادی کے ہنگامے عروج پر تھے-اس کے گھر میں کوئی تقریب ہو اور مہرو اور اس کی فیملی نہ ہو-یہ ممکن نہیں تھا اسی لیے شاہ میر کی نظریں بے تابی سے اسے ڈھونڈ رہی تھیں-

مہرو کے انگ انگ میں تو جیسے پھلجھڑیاں سی پھوٹ رہی تھیں وہ شاہ میر کے گھر پھرکی کی مانند ادھر سے ادھر پھر رہی تھی-زرد رنگ کے خوبصورت لباس میں اس کی گوری رنگت دمک رہی تھی ،لمبے سیاہ اور گھنے بال اس کی پشت پر لہرا رہے تھے-پوری حویلی  کو دلہن کی طرح سجایا گیا تھا-مہرو کے تو جیسے پاؤں ہی زمین پر نہ ٹکتے  تھے-ایک جانب لڑکیاں بیٹھی لہک لہک کر گا رہی تھیں-وہ بھی ان میں شامل تھی جب اچانک شاہ میر وہاں پہنچا تھا-اسے دیکھ کر تو گویا مہرو کو سکتا سا ہو گیا تھا-کئی لمحے تو دونوں بس ایک دوسرے کو دیکھتے رہی تھے-دونوں کے دل طوفانی رفتار سے دھڑکے تھے اور لمحہ  بھر کے لیے رک سے گئے تھے-وہ ایک ٹک اسے دیکھے جا رہی تھی-ان چند سالوں میں وہ کس قدر ہینڈ سم ہو گیا تھا-

"جا بیٹا تو کچھ دیر آرام کر لے پھر کھانا لگواتی ہوں-"شاہ میر کی ماں نے شاہ میر سے کہا تھا-وہ اپنے کمرے کی سمت بڑھتے ہوئے چند لمحے رکا تھا-پھر سب کی نظر بچا کر مہرو کو آنکھوں آنکھوں میں کوئی پیغام دیا تھا-کچھ دیر بعد مہرو اس کے کمرے کی سمت گئی تھی-مہرو نے دروازے پر ہلکی آواز میں دستک دی تھی-شاہ میر اس کا منتظر تھا-اس نے جھٹ  دروازہ کھول دیا تھا-وہ اندر داخل ہوئی تو شاہ میر نے بے تابی سے اس کی کلائی تھامی اور کھینچ کر اپنے قریب کر لیا تھا-

"چھوڑو مجھے -"وہ کسمسائی تھی-

"نہیں چھوڑوں  گا ………تجھے  پتا ہے نہ مہرو میں تجھے کتنا چاہتا ہوں-"”اسے خود سے الگ کرتے ہوئے شاہ میر نے کہا تھا-"اب ہمیں کوئی جدا نہیں کر سکتا-"

"پھر بابا سے بات کرو-"

"بھائی کی شادی ہو جائے پھر ابا سے بات کروں گا-"شاہ میر نے کہا تھا-

"مہرو-"اسس وقت باہر سے کسی نے مہرو کو آواز دی تھی-آواز سنتے ہی وہ گھبرا گئی تھی-"میں چلتی ہوں-"اس نے کہا تھا-

"کیا مصیبت ہے یہاں تو ہم آزادی سے بات بھی نہیں کر سکتے …سنو مہرو مجھے تم سے ڈھیروں باتیں کرنی ہیں تمھاری سںنی ہیں اپنی سنانی ہیں یہاں تو موقع نہیں ملے  گا-"

"پھر کیا کریں؟”مہرو نے کہا-

"میں کچھ کرتا ہوں-"وہ سوچتے ہوئے بولا تھا-مہرو اسے سوچتا چھوڑ کر تیزی سے باہر نکل گئی تھی-

کچھ دیر بعد شاہ میر کا جگری یار جگو آ گیا تھا جو بڑی گرم جوشی سے شاہ میر سے ملا تھا-اس کا مکان بھی شاہ میر کی حویلی کے قریب ہی تھا اور دونوں میں بڑی بے تکلف دوستی تھی-کہنے کو تو وہ شاہ میر کا دوست تھا لیکن مہرو کے معاملے میں وہ اس کا بد ترین رقیب تھا-کیونکہ اس کے دل میں بھی مہرو کی محبت تھی وہ مہرو کو شاہ میر کے کمرے سے نکلتے دیکھ چکا تھا-جب سے وہ انگاروں پر لوٹ رہا تھا-

دو تین دن گزرے تھے -اس دن مہرو صبح سے شاہ میر کے گھر تھی اور کاموں میں شاہ میر کی امی کا ہاتھ بٹا رہی تھی-وہ کسی کام سے صحن میں گئی تھی جب جگو گیٹ سے اندر داخل ہوا تھا-حویلی  کی چھت پر شاہ میر کھڑا مہرو کو دیکھ رہا تھا-جگو نے ان دونوں کو دیکھ لیا تھا-اس کے منصوبہ ساز ذہن نے کچھ سوچا تھا-پھر وہ مہرو کے قریب چلاآیا تھا-

"آج کل تو بڑی خوش نظر آ رہی ہے”جگو نے ہنستے ہوئے کہا تھا –

"تجھے کیا؟”مہرو نے بے مروتی سے کہا تھا-

"اتنی اونچی ہواؤں میں نہ اڑو -"

"کیا مطلب؟”مہر چونکی-

"اگر تو سمجھتی ہے کہ شاہ میر تجھ سے شادی کرے گا تو یہ تیری بھول ہے……….وہ باہر سے پڑھ کر آیا ہے .پھر ایک دولت مند شخص ہے وہ-اس کے اور تیرے خاندان کا کوئی مقابلہ نہیں-شادی ہمیشہ اپنے برابر والوں میں اچھی رہتی ہے-

"یہ تیرا مسئلہ نہیں ہے …………اپنے کام  سے کام  رکھ  -"وہ جھلا کر بولا تھا-

"ٹھیک ہے ٹھیک ہے.میرا راستہ چھوڑ -"مہرو نے کہا تھا تو وہ ایک طرف ہٹ گیا -کچھ دیر بعد جگو اور شاہ میر لان میں بیٹھے باتیں کر رہے تھے-

"مہرو سے کیا باتیں ہو رہی تھیں-"شاہ میر نے جگو سے پوچھا تھا-

"کچھ نہیں یار بس ایسے ہی………….”وہ شرماتے ہوئے بولا تھا-"بڑی شوخ ہے وہ ………….میری اس سے بڑی اچھی دوستی ہے-"

شاہ میر چونکا-"ویسے تو یہاں وہ ہر نوجوان سے بے تکلف ہے سب سے اس کا ہنسی مذاق چلتا ہے-تم تو کافی عرصے سے باہر تھے تمہیں نہیں پتا اب مہرو وہ پہلے والی مہرو نہیں ہے-"جگو نے دھیمے لہجے میں رازداری سے کہا تھا-

بکواس بند کر جگو -"شاہ میر کا چہرہ غصے سے سرخ ہو گیا تھا-"میں بچپن سے اسے جاننتا ہوں ………وہ ایسی نہیں ہے–"شاہ میر نے بڑے یقین سے کہا تھا-

"مجھے میری مری ہوئی ماں کی قسم …….میں تیرا دوست ہوں تجھ سے جھوٹ نہیں بولوں گا-"

"مگر …..مگر……مہرو ایسی نہیں ہے….”

"کل رات دس بجے میں نے اسے اپنے گھر ملنے کے لیے بلایا ہے …..میرے ایک اشارے پر دوڑی چلی آتی ہے-"شاہ میر نے یہ سنتے ہی اس کا گریبان پکڑ لیا اور قریب تھا کہ اس پر مکوں کی بارش کر دیتا وہ جلدی سے بولا-

"اگر تمہیں میرا یقین نہیں تو کل خود اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا-"اس نے کچھ سوچا تھا اور جھٹکے سے اس کا گریبان چھوڑ کر تیزی سے وہاں سے چلا گیا تھا–وہ رات اس پر قیامت بن کر ٹوٹی تھی-وہ کانٹوں کا بستر تھا جس پر وہ کروٹیں بدل رہا تھا-شک کا ناگ کنڈلی جمائے اس کے دل میں بیٹھ چکا تھا-نیند اس کی آنکھوں سے کوسوں دور تھی اور مہرو ان تمام حالات سے بے خبر تھی-

"نہیں …….نہیں …………مہرو ایسی نہیں ہے-وہ میری ہے …….مجھ سے محبت کرتی ہے………”وہ خود کو یقین دلاتا پھر جگو کے زہر میں ڈوبے الفاظ اس کے دماغ پر ہتھوڑے برسانے لگتے-

اگلے دن شاہ میر کے گھر مہندی کی تقریب تھی-مہرو سبز لباس میں بے حد حسین لگ رہی تھی-وقت تیزی سے گزر رہا تھا-شاہ میر کی نظریں مہرو پر جمی ہوئی تھیں-گھڑی کی ٹک ٹک شاہ میر کی دھڑکن کے ساتھ ہم آہنگ تھی-دس بجنے والے تھے-جب جگو ہو بیرونی گیٹ کے قریب  قدرے تاریکی میں کھڑا تھا نے مہرو کو اشارے سے اپنے قریب بلایا تھا-کچھ دیر ان دونوں کے درمیان کھسر پھسر ہوتی رہی تھی-پھر مہرو نے مڑ کر شاہ میر کو الجھن آمیز نظروں سے دیکھا تھااور جگو کے ساتھ چلی گئی تھی-

شاہ میر کے سینے میں چھناکے سے کچھ ٹوٹ گیا تھا-

اور اس کی کرچیاں اس کے پورے وجود کو گھائل کر گئی تھیں-اس کے بد ترین اندیشے درست ہو گئے تھے-شک کے ناگ نے اسے ڈس لیا تھا-کچھ دیر بعد وہ بھی جگو کے گھر کی سمت جا رہا تھا-

جگو نے مہرو سے یہ کہا تھا کہ شاہ میر نے مجھے سب بتا دیا ہے-وہ اور تو ایک دوسرے سے محبت کرتے ہیں-وہ تجھ سے تنہائ میں ملنا چاہتا ہے-یہاں شادی کے گھر میں اسے تم سے بات کرنے کا موقع نہیں مل رہا ہے-یار ہی ایسے موقعوں پر یاروں کے کام آتے ہیں-اس لیے تم دونوں میرے گھر میں مل سکتے ہو-ابھی میرے ساتھ چلوشۂ میر بھی آ رہا ہے-

مہرو نے ایک لمحہ سوچا تھا اور  دور کھڑے شاہ میر کی طرف دیکھا تھا-پھر جگو کے ساتھ روانہ ہو گئی تھی-محبت سوچنے سمجھنے کا موقع ہی کب دیتی ہے-عشق ایسے ہی بے خطر آگ میں کود پڑتا ہے-مہرو نے بھی یہی کیا تھا-

کچھ ہی دیر بعد وہ جگو کے گھر میں جگو کے ساتھ شاہ میر کا انتظار کر رہی تھی-کافی دیر گزر گئی تھی شاہ میر نہیں آیا تھا-

"شاہ میر کہاں رہ گیا جگو ….ابھی تک کیوں نہیں آیا؟”مہرو نے بے چین ہو کر کہا تھا -"اسے کال کرو -"وہ عجیب انداز میں اسے دیکھ کر مسکرایا تھا لیکن بولا کچھ نہیں-

"جگو میں کیا کہہ رہی ہوں ……ٹہرو میں خود ہی بات کرتی ہوں …………”اس نے اپنے سیل فون پر نمبر ڈائل کرتے ہوئے کہا-

"بس پہنچنے والا ہے تیرا یار ……..پھر تیرا قصہ ختم………….”جگو نے زوردار قہقہہ لگایا-

نمبر ڈائل کرتا اس کا ہاتھ کانپ کر رہ گیا-سارا معاملہ اس کی سمجھ میں آ گیا تھا-جگو پر بھروسہ کر کے اس نے بڑی بھول کی تھی-وہ تیزی سے دروازے کی سمت دوڑی مگر جگو نے جھپٹ کر اسے پکڑ لیاتھا-وہ مچلی تھی اور خود کو چھڑانے  کی کوشش کر رہی تھی کہ اسی وقت دروازے پر دستک ہوئی تھی-جگو نے اسے ایک سمت دھکا دیا  اور دروازہ کھول دیا تھا-سامنے شاہ میر کھڑا تھا-جگو فاتحانہ انداز میں اسے دیکھ رہا تھا-شاہ میر کی پر تاسف نظریں  مہرو پر جمی تھیں-

"شاہ میر یہ مجھے دھوکے سے یہاں لایا ہے ……..میرا یقین کرو..”مہرو روتے ہوئے بولی تھی-پھر نہ جانے کیا ہوا کے شاہ میر آپے سے باہر ہو گیا ایک زناٹے دار تھپڑ اس نے مہرو کے منہہ پر ما را تھا پھر صحن میں پڑا لکڑی کا بیٹ  اٹھایا اور پہ  در پہ ان دونوں پر برسانے لگا ایک ڈنڈا جگو کے سر پر لگا تھا اور ایک تیز چیخ کے ساتھ وہ خوں میں نہا گیا تھا -اس کے سر سے تیزی سے خوں بہہ رہا تھا-دوسری طرف مہرو ہلکان اور زخمی ایک سمت پڑی تھی-

شور شرابے کی آواز سن کر اس پاس رہنے والے افراد وہاں جمع ہو گئے تھے-ان میں مہرو کا باپ بھی شامل تھا-کچھ افراد نے شاہ میر کو پکڑا تھا اور اس سے بیٹ  چین لیا تھااور چند افراد جگو کو ہاسپٹل لے گئے تھے-مہرو کو اس کا باپ مارتا پیٹتا  گھر لے گیا تھا-شاہ میر کو بھی محلے دار اس کے گھر لے آئے تھے-اور جب سے وہ اپنے کمرے میں بند تھا-حالات نے مہرو کو گناہ گار ثابت کر دیا تھا -جو کچھ اس کی آنکھوں نے دیکھا تھا اسے جھٹلایا نہیں جا سکتا تھا- 

اس واقع کو کئی  دن گزر گئے تھے-شاہ میر کے والدین اس کی حالت دیکھ کر پریشان تھے-اس دن اس کے ابا اس کے کمرے میں آئے تھے اور اسے سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے-جب وہ بولا تھا-

"مجھے اس وقت اکیلا چھوڑ دیں  ابا-"اس نے تیزی سے کہا تھا اور اٹھ کر وہاں سے چلا گیا تھا-

حالات بد سے بد تر ہوتے چلے گئے تھے-مہرو کو اس کے گھر والوں نے گھر میں قید کر دیا تھا-وہ محلے میں کسی کو منہہ دکھانے کے قابل نہیں رہی تھی-ادھر شاہ میر انگاروں پر لوٹ رہا تھا-

اس رات موقع پا کر مہرو شاہ میر سے ملنے اس کے گھر آئ تھی-وہ شاہ میر کو اپنی بے گناہی کا یقین دلانا چاہتی تھی-اسے اپنی محبت پر بھروسہ تھا وہ جانتی تھی کہ شاہ میر اسے دل کی گہرائیوں سے چاہتا ہے اور یہ کہ ادھر کی دنیا ادھر ہو جائے،شاہ مید اس کا اعتبار کرے گا مگر جب شاہ میر  سے اس کا سامنا ہوا تو اس نے اسے دیکھتے ہی منہہ پھیر لیا تھا-

 

"یہاں کیوں آئ ہے مہرو………..چلی جا ورنہ …..میں تیرا بھی سر پھاڑ دوں  گا-"

"شاہ میر صرف میری ایک بات سن لو …اس دن جگو مجھے یہ کہہ  کر اپنے گھر لے گیا تھا کہ تم مجھ سے اس کے گھر ملنا چاہتے ہو-"

"تو جا یہاں سے………..مجھے سب پتا ہے-"وہ غصے سے کھولتا ہوا بولا-

"میں چلی جاؤں گی ……اس وقت میں تمہیں یہ بتانے آئ تھی کہ بابا نے میرا رشتہ اپنے رشتے داروں میں طے کر دیا ہے-”
"اچھا ہے…………….جا اور کسی اور کا گھر برباد کر ….ویسے بھی یہاں کوئی تجھ سے شادی نہیں کرے گا-"وہ غصے سے بولا-

مہرو کی موٹی موٹی آنکھوں سے آنسو رواں تھے-وہ تھکے تھکے قدموں سے چلتی کچھ کہے بغیر واپس چلی گئی تھی-

وہ کیا گئی تھی کہ شاہ میر کی زندگی بکھر کر رہ گئی تھی-وہ خود کو سنبھالنے کی کوشش میں اور بکھرتا جا رہا تھا-کب دن ڈھلتا اور کب رات اسے کوئی ہوش نہیں تھا-کہیں اس کا دل نہیں لگتا تھا-آخر ایک دن وہ اپنا گھر چھوڑ کر اس شہر میں آ گیا تھا-جہاں زندگی نے اسے ٹونی کے اڈے پر پہنچا دیا تھا-

شاہ میر کی کہانی سن کر اور اس کے چہرے پر پھیلا دکھ دیکھ کر پنکی کا کلیجہ پھٹ رہا تھا-اس کی آنکھوں میں آنسوتھے -وہ اسے حوصلہ دینے کے لیے الفاظ جمع کر رہی تھی کے وہ بولاتھا-

"تمھاری کیا کہانی ہے تم یہاں کیسے پہنچیں؟”

"بس ایک غلطی نے مجھے گناہوں کی اس دلدل میں دھکیل دیا-"کافی دیر بعد وہ سوچتی ہوئی آواز میں بولی تھی-” میری بربادی کی داستان بڑی لمبی ہے-"وہ ہم تن گوش اسے دیکھ رہا تھا-وہ آنسو بھری آنکھوں اور دکھے لہجے کے ساتھ گویا ہوئی تھی-

"میرا اصل نام سمیرا ہے-میری بربادی میں سب سے اہم ہاتھ موبائل فون کا ہے جو میری ضد  پر میرے بابا نے مجھے دلایا تھا،ان دنوں میں میٹرک کی طالبہ تھی اور اس عمر کے تقاضوں کے مطابق چاہنے اور چاہے جانے کی خواہش میں مبتلا تھی-اسکول آتے جاتے محلے کا ایک اسمارٹ لیکن بدنام لڑکا میرا پیچھا کیا کرتا تھا-آھستہ آہستہ وہ مجھے اچھا لگنے لگا-میرے کہنے پر اس نے خود کو کافی حد  تک بدل لیا تھااور آوارہ لڑکوں کی صحبت  چھوڑ دی تھی-پڑھائی میں بھی دل لگانے لگا تھا-جلد ہی ہمارے درمیان سیل فون پر باتیں ہونے لگی تھیں-یہ وہی وقت تھا جب بابا نے مجھے فون دلایا تھا-ہم ساری ساری رات میسج کرتے یوں ہمارے درمیان محبت گہری ہوتی چلی گئی-میں میٹرک کے امتحانات سے فارغ ہوئی تھی جب اس نے رشتے کے لیے اپنے والدین کو ہمارے گھر بھیجا تھا-مگر میرے والدین نے یہ کہہ کر رشتہ دینے سے صاف انکار کر دیا تھا کہ ان کا بیٹا آوارہ اور بد نام شخص ہے اس کے علاوہ وہ کوئی کام دھندہ بھی نہیں کرتا-جس کا نادر اور اس کے گھر والوں نے بہت برا منایا تھا اور اسے اپنی بے عزتی خیال کیا تھا-نادر اور مجھ پر تو غم کا پہاڑ ٹوٹ پڑا تھا-

ہم دونوں کے پاس اب اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں بچا تھا کہ گھر سے بھاگ کر شادی کر لیں کیونکہ اب اس کے والدین بھی اس رشتے کے لیے تیار نہیں تھے-میں اس کی محبت میں اندھی ہو گئی تھی کہ مجھے اپنے والدین اور بہن بھائیوں کی بے لوث محبت بھی نظر نہیں آ رہی تھی اور پھر ایک رات ہم دونوں گھر سے بھاگ گئے تھے-اور اس شہر کے ایک چھوٹے سے کرائے کے گھر میں پناہ لی تھی-جو ٹونی کی ملکیت تھا-ٹونی سے نادر کا تعلق پرانا تھا-نادر سے ٹونی نشہ اور ڈرگس کی سپلائی کا کام لیا کرتا تھا-بہرحال نادر نے مجھے سے شادی نہیں کی بلکہ دو ہفتے بعد اس کھولی نما گھر میں مجھے چھوڑ کر فرار ہو گیاتھا- یوں میں ٹونی کے ہتھے چڑھ گئی تھی-

"تمھارے گھر والے اب تمہیں قبول نہیں کریں گے اس لیے بہتر یہی ہے….سمیرا کو کہیں دفن کر دو-آج سے تم پنکی ہو اور میری ذمہ داری ہو-میرے ساتھ رہو اور اپنی تعلیم مکمل کرو-جس کالج میں چاہو گی تمہارا ایڈمیشن کر وادیا جائے گا-"پنکی کے سامنے اس کی آفر قبول کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا-پھر وہ اسے اپنے خاص اڈے پر لے گیا تھا-یہ پوری بلڈنگ بے شمار کمروں پر مشتمل تھی-جہاں ہر قسم کا غیر قانونی اور غیر اخلاقی کام ہوتا تھا-یہاں عجیب قسم کے حلیے میں لڑکیاں اور عورتیں موجود رہتی تھیں اور اجنبی مردوں کا بھی آنا جانا عام تھا-وہ پھٹی پھٹی آنکھوں سے یہ سب دیکھتی رہی تھی-

"یہاں تم آرام سے رہ سکتی ہو……………ہمیں کوئی جلدی نہیں ہے جو تمہیں پسند نہیں اور جب تک پسند نہیں،تمہیں اس پر مجبور نہیں کیا جائے گا-تم ویسے بھی ابھی بہت کم عمر ہو اور بے حد خوب صورت ہو اس لیے خاص مہمانوں کے لیے ہی تم وقف ہو گی-"ٹونی نے اسے بغور دیکھتے ہوئے کہا تھا-

کچھ دن بعد ٹونی نے اس کا شہر کےایک  مشھور کالج میں ایڈمیشن کروا دیا تھا-وہ اس سے جسم فروشی کا کام تو نہیں لے رہا تھا مگر اس نے مفت میں اسے نہیں رکھا تھا-وہ اس سے کالج میں نشہ اور ڈرگس کی سپلائی کا کام لے رہا تھا-

"کام کے وقت کام اور پڑھائی کے وقت پڑھائی .کیا خیال ہے؟”ٹونی نے کہا تھا-

وہ ڈرگس کی سپلائی میں ٹونی کے لیے بہت مددگار ثابت ہو رہی تھی-سمیرا عرف پنکی کی معصوم صورت دیکھ کر کون یہ اندازہ لگا سکتا تھا کہ وہ ایسا گھناونا کام بھی کرتی ہے-

"ان حالات میں تم اس کے علاوہ اور کیا کر سکتی تھیں ،جب کہ تم کم عمر اور نہ تجربہ کار  بھی تھیں-"کافی دیر بعد اس کی کہانی سن کر شاہ میر نے کہا تو وہ چونکی تھی-"جو ہو گیا سو ہو گیا………..سب بھول جاؤ-"

"میں بھی تم سے یہی کہنا چاہتی ہوں-ہمیں زندگی میں سب کچھ وہ نہیں ملتا جو ہم چاہتے ہیں،مگر زندگی چلتی رہتی ہے-تم بھی اسے بھول جاؤ …..خود کو اذیت دینا چھوڑ دو-………مجھے دیکھو ……..میں بھی تو ہوں…………….میں نے بھی تو زندہ رہنے کے لیے یہ زندگی قبول کی ہے-"پنکی نے کہا تھا-

"تم خوش ہو اس زندگی سے؟”

"ہاں-"پنکی نے کہا-

"جھوٹ بولتی ہو تم-"وہ چلایا-"پڑھائی کیوں کر رہی ہو؟”

اس نے اثبات میں سر ہلایا تھا مگر خاموش رہی تھی-"بہرحال جو ہوا سو ہوا ………آج سے ہم ایک نی زندگی شروع کریں گے-جو ہماری مرضی کے مطابق ہو گی-اور اس ٹونی کے بچے کو تو میں دیکھ لوں گا………تمہیں اس سے ڈرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے …………..چلو کہیں چلتے ہیں یہاں بہت گھٹن ہو رہی ہے-"شاہ میر نے کہا تھا کچھ دیر بعد وہ دونوں وہاں سے باہر نکل گئے تھے-

رات خاصی گہری اور اندھیری تھی وہ سنسان روڈ  پر خاصی تیز رفتاری سے ڈرائیونگ کر رہا تھا-پنکی اس کے برابر والی نشست پر بیٹھی ادھر ادھر کی باتیں کر رہی تھی-جب روڈ کراس کرتا ایک شخص  ان کی تیز رفتار گاڑی کی زد میں آ گیا تھا-شاہ  میر نے اسے بچانے کی ہر ممکن کوشش کی تھی مگر بے سود-وہ شخص بری طرح گاڑی سے ٹکرایا تھا-وہ دونوں تیزی سے نیچے اترے تھے اور اجنبی کے قریب گئے تھے-شاہ میر نے اسے ہلایا جلایا مگر وہ بے حس و حرکت تھا-

"یہ ……..یہ تو شاید مر گیا-"شاہ میر بد حواسی سے بولا-"یہاں کسی نے ہمیں نہیں دیکھا …….چلو بھاگ چلیں-"

"نہیں ….یہ زندہ ہے ….پنکی نے اس کا معا ینہ کرتے ہوئے کہا تھا-"کب تک حالات سے بھاگتے رہو گے شاہ میر…..مقابلہ کرنا سیکھو-اسے ہاسپٹل لے چلتے ہیں-"

"کسی مصیبت میں نہ پھنس جائیں-"شاہ میر نے پریشانی سے کہا تھا-

"جو ہو گا دیکھا جائے گا-جلدی اسے گاڑی میں ڈالو …………اس کی جان بچانا ضروری ہے-"پنکی نے تیزی سے کہا تھا-پھر ان دونوں نے اسے گاڑی کی پچھلی سیٹ پر لٹا دیا تھا اور کچھ ہی دیر میں ان کی گاڑی قریبی ہاسپٹل کی سمت فراٹے بھر رہی تھی-

کچھ ہی دیر میں وہ ہاسپٹل پہنچ گئے تھے-جہاں زخمی کو طبی امداد دی گئی تھی-اسے زیادہ چوٹیں نہیں آئ تھیں اور وہ خوف کی وجہ سے بے ہوش تھا-بہرحال وہ دونوں ہاسپٹل سے واپس جا رہے تھے جب کاریڈور سے گزرتے ہوئے ایک اسٹریچر پر لیٹے  ہوئے شخص کو دیکھ کر شاہ میر چونکا تھا اور اس کے بڑھتے ہوئے قدم رک گئے تھے-اس شخص کا پورا جسم پٹیوں میں جکڑا ہوا تھا -صرف اس کا چہرہ کھلا  تھا اور جسے شاہ میر غور سے دیکھ رہا تھا-وہ کوئی اور نہیں جگو تھا-جگو بھی بغور اسے دیکھ رہا تھا-آ ن ہی آ ن میں جگو کی پیشانی عرق آلود ہو گئی تھی اور آنکھیں آنسوؤں سے پھر گئی تھیں-"جگو تو…………..”شاہ میر حیرانی سے بولا تھا-

"کیا بتاؤں دوست ……………گاؤں میں میرے ساتھ ایک حادثہ پیش آیا تھا اور میں کنویں میں گر پڑا تھا جس کی وجہ سے میں شدید زخمی ہو گیا تھا-پھر کئی  ماہ میرا علاج چلتا رہا مگر میری دونوں زخمی  ٹانگوں میں زہر پھیل گیا-مجھے گاؤں کے لوگ یہاں لے  آئے -اور یہاں کے ڈاکٹرز نے میری جان بچانے کے لیے میری دونوں ٹانگیں کاٹ دیں ……یہ اور کچھ نہیں میرے گناہوں کی سزا ہے -"وہ ندامت سے بولا-"مجھے معاف کر دے یار "

"کیسا گناہ اور کیسی  معافی؟”شاہ میر نے پوچھا تو وہ آہستگی سے بولا-

"میں نے دو محبت  بھرے دلوں کو توڑا تھا انہیں الگ کیا تھا-جتنا میں تمہارا گناہ گار ہوں شاہ میر اس سے زیادہ مہرو کا گناہ گار ہوں -میں نے اس پر بہتان لگایا تھا-اسے دھوکہ دیا تھا-"

"یہ کیا کہ رہے  ہو تم؟’شاہ میر کو جھٹکا لگا تھا-پنکی بھی حیران تھی-

"آج میں تم سے کچھ نہیں چھپاؤں گا …………اس دن مہرو کو میں ہی جھوٹ بول کر دھوکے سے اپنے گھر لے گیا تھا-میں نے اس سے کہا تھے کہ تم نے اسے وہاں ملنے کے لیے بلایا ہے-میں اس قابل تو نہیں …..مگر ہو سکے تو مجھے معاف کر دینا-"وہ روتے ہوئے کہہ رہا تھا اور ادھر شاہ میر کی حالت دیدنی تھی -وہ کچھ کہے بنا تیزی سے دوڑتا ہوا ہاسپٹل سے باہر نکلا تھا-اس کی حالت دیوانوں جیسی تھی-پنکی بھی ہانپتی کانپتی تیزی سے اس کے پیچھے دوڑ رہی تھی-وہ لمحے  بھر کے لئے رکا تھا اور پلٹ کر اسے دیکھا تھا-

"کہاں جا رہے ہو؟”

"اپنی مہرو کے پاس …..مجھ سے بہت بھول ہوئی ہے پنکی ….میں نے اس پر شک کیا ……وہ روتی  رہی……قسمیں کھاتی رہی ……..اور …….اور میں …….”اس نے قدم آگے بڑھا دیے –

"ٹہرو میں بھی تمھارے ساتھ چلوں گی-"پنکی نے کہا-

وہ گاؤں پہنچے تو ان کا بڑا پر جوش استقبال ہوا تھا-شاہ میر کی ماں اسے دیکھتے ہی رو پڑی تھیں-وہ بھی ان سے مل کر تڑپ تڑپ کر رویا تھا -باپ نے بھی بڑھ کر اسے گلے لگایا تھا-پنکی کے بارے میں شاہ میر نے انہیں سب کچھ بتا دیا تھا شاہ میر کے باپ نے پنکی کے سر پر ہاتھ پھیرا تھا-اور اسے اپنی بیٹی بنا لیا تھا -تنہائ میں جب شاہ میر نے ماں سے مہرو کے بارے میں پوچھا تو اسے پتا چلا تھا کہ مہرو کی شادی ہو رہی ہے-یہ سنتے ہی وہ بد حواس ہو گیا تھا-

"نہیں ماں یہ نہیں ہو سکتا…………….مہرو میری ہے………میں اس کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا-"وہ چلایا تھا-"میں ………میں ایک بار اس سے ملنا چاہتا ہوں….ہاتھ جوڑ کر اس سے معافی مانگنا چاہتا  ہوں ماں-"وہ رو پڑا تھا-

پھر شاہ میر کے والدین کی کوششوں سے دونوں گھرانوں کے بڑے سر جوڑ کر بیٹھے تھے اور پنکی نے بھی شاہ میر اور مہرو کے درمیان ملاقات اور معافی تلافی میں بڑا اہم کردار ادا کیا تھا-

اور یوں شاہ میر جیسے گمراہ کو وہ راستہ مل گیا تھا جہاں شاہ میر نے مہرو کے ساتھ ایک نئے سفر کا آغاز کیا تھا-پنکی کو شاہ میر کے گھرانے نے کھلے دل سے قبول کیا تھا اور وہ اب اس گھرانے کی ایک فرد تصور کی جاتی تھی-

 

                                                                    *******

 

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ابھِیمنیو کی خودکشی راجیندر یادو /عامر صدیقی

ابھِیمنیو کی خودکشی راجیندر یادو /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. راجیندر یادو۔پیدائش: ۸۲ اگست،۹۲۹۱ ئ، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے