سر ورق / جہان اردو ادب / کہانی کار یا کہانی کہار۔۔۔خرم شہزاد

کہانی کار یا کہانی کہار۔۔۔خرم شہزاد

 

کہانی کار یا کہانی کہار

خرم شہزاد 

                کھانا پکانا ایک فن ہے، آپ کو نمک مرچ مصالحوں کے بارے پتہ ہو اور کسی بھی پکوان میں ان کی مقدار کا اندازہ ہوجانے سے آپ ایک اچھے کک نہیں بن جاتے۔ آپ کے ہاتھ کا پکا یقینا بہترین ہو سکتا ہے لیکن لذت کے لیے اور بھی بہت کچھ چاہئے ہوتا ہے۔ آپ کو شاعری کی تمام تعریفیں اور اوزان زبانی یاد ہونے سے ایک اچھی غزل یا نظم تو لکھی جا سکتی ہے لیکن دل میں اترتے الفاظ کے لیے کچھ اور بھی چاہئے ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح کہانی کاری لکھنے کے جملہ اسلوب سے واقف کاری کا نام نہیں بلکہ اوربہت کچھ بھی چاہیے ہوتا ہے۔ یہ جو کہا جاتا ہے کہ کہانیاں تو آپ کے چاروں طرف بکھری پڑی ہیں لکھنے میں کیا مسئلہ ہے۔۔۔ یہی بات سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ جس طرح کسی اسٹیشن پر آتی ہر ٹرین آپ کی نہیں ہوتی ، جس طرح اڈے کی ہر گاڑی سے آپ کو کوئی سروکار نہیں ہوتا بالکل اسی طرح آپ کے اردگرد بکھری ہزاروں کہانیوں میں سے کوئی ایک آدھ ہی آپ کے لیے ہوتی ہے اور اس ایک کو پوری محنت سے تلاش کرنا ہوتاہے تاکہ اپنی منزل کی طرف جایا جا سکے۔ اپنے ارد گرد بکھری کہانیوں میں سے اپنی کہانی کو کیسے تلاش کرنا ہے یہ سوال کہانی لکھنے سے زیادہ بڑا ہے ۔ ہر روز ہزاروں لاکھوں کہانیاں لکھی جاتی ہیں لیکن برسوں میں کوئی ایک کہانی لکھی جاتی ہے جو برسوں ہی یاد رہتی ہے اور وہی اصل کہانی ہوتی ہے جو پوری محنت سے تلاش کی گئی ہوتی ہے۔ یہ تلاش لیلیٰ لیلیٰ کہتے ہوئے گلیوں میں خاک چھاننے جیسی نہیں ہوتی بلکہ یہ اندر کی آنکھ سے دنیا دیکھنے کا نام ہوتا ہے۔ کسی آنکھ سے نکلتا ہوا ایک آنسو، کسی معصوم چہرے پر آئی مسکراہٹ یا چہرے پر جالوں کی صورت جھریوں میں ہزاروں کہانیاں ہوتی ہیں، جن میں سے کوئی ایک کہانی آپ کی اپنی کہانی ہوتی ہے جسے آپ لکھ سکتے ہیں اور وہ آپ کو ہی لکھنی ہوتی ہے۔

                کہانی لکھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ آپ جو کہانی کی تلاش میں نکلے ہیںکیا واقعی کہانی آپ کے لیے ہے بھی یا نہیں، آپ وہی ایک درست آدمی ہیں جسے کوئی اپنا جذبہ اپنا احساس سونپ سکتا ہے یا پھر آپ بھی دوسروں کی طرح جذبات اور احساسات کا استحصال کرتے ہوئے بس ظاہر پر مر مٹیں گے اور چار صفحے کالے کر کے آگے بڑھ جائیں گے۔ جیسے ہر کھانا پکانے والا کک نہیں ہوتا، جیسے ہر سرخ دری والا گل خان نہیں ہوتا ویسے ہی ہر قلم رکھنے والا کہانی کار بھی نہیں ہوتا۔آپ کہانی کار ہیں یا کہانی کہار، پہلے اس بات کا فیصلہ ہونا بہت ضروری ہے۔ کہانی کارکے لےے دو چیزیں ضروری ہیں، پہلی بات کہ اسے اندر کی آنکھ سے دیکھنا آتا ہو اور دوسرا اس دیکھے کو بیان کرنا بھی آتا ہو۔ اگر آپ میں یہ دونوں صلاحیتیں نہیں ہیں تو براہ مہربانی کسی اور شعبے کا انتخاب کرلیں کیونکہ پھر آپ کہانی کہار ہیں، لکھائی کے میدان میں کاغذوں ، لفظوںاور قلم کا بوجھ اٹھائے ہوئے وہ مزدور جسے صرف اجرت سے غرض ہوتی ہے، وہ کام کی روح سے نہ تو واقفیت رکھتا ہے اور نہ اس کی خواہش کرتا ہے ۔ تھوری سی وضاحت کرنا ان دونوں باتوں کی یوں بھی ضروری ہے کہ آپ کسی شبہ کا شکار نہ رہیں۔ اندر کی آنکھ سے دیکھنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ چہرے پر پانی کے قطرے اور آنسو میں فرق کرنا جانتے ہوں۔ آپ کسی کو اس کے ظاہر سے نہیں بلکہ باطن سے بھی دیکھ سکیں اور اپنی ہستی کی نفی کرتے ہوئے ایک لمحے کے ہزارویں حصے میں دوسرے کے وجود میں اگر ڈھل سکتے ہیں تو آپ کہانی کے میدان کے آس پاس پھٹکنے کے اہل ہوں گے۔ اندر کی آنکھ سے دیکھنے والوں کے سامنے پوری داستانیں بیان نہیں کی جاتی بلکہ یہ روشنی کے ایک جھماکے کی صورت ہوتی ہے جس کی عمر شائد ایک سکینڈ سے بھی کم ہو لیکن آنکھوں پر اثر کر جاتی ہے، بس آپ کو یہ جھماکا اس کے اپنے اصل وقت میں دیکھنا ہوتا ہے اور پوری کی پوری کہانی آپ کے اندر سما جاتی ہے۔ یہاں سے دوسری صلاحیت کا کام شروع ہوتا ہے اور کہانی کی بنت کہانی کار کا امتحان بنتی ہے۔ اس ایک لمحے میں کہانی کار صدیاں گزارنے کا فن جانتا ہے اور اس ایک لمحے کو پھیلا کر وہ پوری کائنات پر محیط کر دیتا ہے تبھی وہ اس ایک لمحے کا حق ادا کرتا ہے۔

                یہاں ایک اور بات کا ذکر کرنا ضروری ہے کہ دنیا میں جو جس فن میں مہارت رکھتا ہے ، مشکل بھی اسی میں ہی محسوس کرتا ہے۔ خواتین سالہاسال سے باورچی خانے میں کھانے پکانے میں مصروف رہتی ہیں لیکن ہر نئی صبح کیا پکانے کا سوال ان کے سامنے ہوتا ہے۔ ویسے ہی ایک کہانی کار کسی بھی ایک کہانی کے اندر درجنوں زاویے دیکھ لیتا ہے اور کس زاویے سے لکھنا بہتر رہے گا یہ سوال اس کے لیے سوہان روح بنا ہوتا ہے۔ عموما ایک ہی کہانی کئی بار لکھی جاتی ہے اور ہر بار نئے زاویے نگاہ کو لفظوں میں ڈھالا جاتا ہے۔ پڑھنے والے اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ کہانی کار کی فلاں فلاں کہانی کا پلاٹ ایک جیسا ہی ہے، بالکل جناب ایسا ہی ہو سکتا ہے کیونکہ ایک ہی کہانی میں تمام زاویے بیان کرنا ممکن نہیں ہوتا ، اس لیے اسی پلاٹ پر دوسری کہانی ، دوسرے زاویے کو بیان کرنا مقصود ہوتا ہے ۔

                کہانی کار ہونا ایک خدادا صلاحیت ہے جسے اپنی محنت ،توجہ اور عاجزی سے نکھارا جا سکتا ہے ۔ اسی لیے ایک کہانی کار کے لکھے اور کہانی کہار کی کہانی میں بڑا فر ق ہوتا ہے۔ بہت سے کہانی کہار برسوں لکھتے ہیں اور اپنے قد اور وزن سے بھی زیادہ لکھ دیتے ہیں لیکن کسی کہانی کار کی ایک دو تحریریں اس سارے کام پر بھی بھاری ہوتی ہیں۔ میں کہانی کار اور کہانی کہار کا فرق ایسے بھی بیان کروں گا کہ کہانی کار اپنے اردگرد بکھری کہانیوں میں سے کسی ایک کو منتخب کرتا ہے اور لکھ دیتا ہے جیسے کسی رش میں ہمارے اردگرد ہزاروں گاڑیاں ہوں اور اپنے روٹ کی گاڑی ڈھونڈ کر اس پر سوار ہو جانا۔ جبکہ کہانی کہار تو خالی سڑک پر ایک گاڑی بناتا ہے اور پھر اس میں سوار ہو جاتا ہے۔

                کہانی کار کو ایک مشکل صورت حال کا سامنا اس وقت کرنا پڑتا ہے جہاں اسے کسی بھی مقابلے یا مخصوص وقت کے اندر لکھنے کو کہا جاتا ہے۔ یہ کہیں لازم نہیں کہ جو کہانی کار کسی مقابلے میں نہ لکھ سکے وہ اچھا کہانی کارنہیں ہوتا۔ کہانی کہاروں کے کندھے کہانیوں کے بوجھ سے جھکے ہوتے ہیں اور وہ اس میں سے کچھ بھی نکال کر پیش کر دیتے ہیں کیونکہ انہیں اجرت اور ستائش کی ضرورت ہوتی ہے جبکہ کہانی کار تو اس ایک لمحے کا انتظار کرتا ہے جس میں کچھ بھی الہام کی صورت اس کے دل پر اترے اور وہ اس کو دنیا کے سامنے پیش کر سکے۔یہاں ایک اور صورت بھی ہوتی ہے کہ بہت سے کہانی کہار جو برسوں سے لکھ رہے ہوتے ہیں وہ بھی مقابلوں میںہاتھ اٹھا دیتے ہیں ، ایسا نہیں کہ ان کے پاس لکھنے کو کچھ نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنے آپ میں خود کو اس قدر اونچے مقام پر فائز کر چکے ہوتے ہیں کہ جس سے اترنا انہیں پسند نہیں ہوتا۔

                اس لیے آئیے اور اپنے آپ کو دیکھیں کہ کاغذ قلم لیے ہم لوگ کہانی کار ہیں یا کہانی کہار۔ اگر آپ کہانی کار ہیں تو اپنی صلاحیت کو نکھاریں اور یہ نکھار دوسروں پر تنقید کرنے سے یا دوسروں میں برائیاں تلاش کرنے سے نہیں آتا بلکہ خدا کی مخلوق کا درد اپنے اندر محسوس کرنے سے آتا ہے۔ آپ دوسرے کی خوشی میں خوش ہو سکتے ہوں، ان کی ہنسی میں چھپے درد کو سمجھ سکتے ہوںاور قدرت کے کاموں کے ظاہر کے ساتھ باطن کو بھی سمجھنے کی صلاحیت رکھتے ہوں تو الہام کا لمحہ آپ کے دل پر اتر سکتا ہے اور یہی ایک کہانی اور کہانی کار کی معراج ہے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خالد جان۔ محمد زبیر مظہر پنوار

سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام ۔۔ جواب۔۔ میرا اصل نام خالد تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے