سر ورق / یاداشتیں / ست رنگی دنیا…میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد…قسط نمبر 21

ست رنگی دنیا…میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد…قسط نمبر 21

     

                ست رنگی دنیا

                میری کہانی ٭ ضیاءشہزاد

                ”آندھیاں غم کی یوں چلیں، باغ اجڑ کے رہ گیا

                قسط نمبر 21

                 لیکن کشن لال کی بات ادھوری رہ گئی۔سب چونک پڑے۔ ۔ ۔ حویلی کے باہر سے بہت سے لوگوں کے چیخنے چلانے کی آوازوں کا شور سنائی دیا ۔ ۔ ۔ سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور دادابولے ٬٬ یہ آدھی رات کو باہر کیسا شور ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ ارے ذرا کوئی دیکھے ۔ ۔ ۔ ۔

                بات ہی کچھ ایسی تھی کہ سب لوگوں کے چہروں پر ہوائیاں اڑنے لگیں۔ ۔ ۔ عورتیں بھی گھبرا گئی تھیں اور ایک دوسرے کی طرف پریشان نظروں سے دیکھ رہی تھیں۔۔ ۔ ۔ میرے ابا حویلی کے دروازے کی طرف بھاگنے کے لئے آگے بڑھے تو دادا نے انہیں روک دیا ۔٬٬ رک جاﺅ فخرالدین۔ ۔ ۔ مجھے کچھ بڑ بڑ محسوس ہوتی ہے ۔ ۔ ۔ میرا دل اندر سے کچھ کہہ رہا ہے ۔ ۔ ۔ ایسا کرو کہ اوپر چھت پر جا کر دیکھو کہ کون ہے اور کس نے اس وقت آواز دی ہے ۔،،

                ٬٬ ابا میں اوپر جاتا ہوں۔،، بڑے ابا بولے۔

                 ٬٬نہیں ۔ ۔ ۔ تم نہیں جاﺅ گے ۔ ۔ ۔ یہیں رکو۔ ۔ ۔ تمہاریجان کو خطرہ بڑھ گیا ہے بدرالدین ۔ ،، دادا نے کہا ۔ ۔ ۔ پھر بھائی اسلام کی طرف دیکھتے ہوئے بولے ۔٬٬اسلام تم اوپر جاﺅ ۔ ۔ ۔ مگر چھت سے نیچے دیکھتے ہوئے ۔ ۔ ۔ ذرااحتیاط کرنا ۔ ۔ چوکس رہنا ۔،،

                ٬٬ جی دادا ۔ ۔ ۔آپ کوئی فکر نہ کریں۔ ۔ ۔ میں بہت چوکس رہوں گا۔،، یہ کہتے ہوئے بھائی اسلام دالان سے باہر جانے کے لئے آگے بڑھے تو فاروق بھائی بھی بولے ۔٬٬ دادا ۔ ۔ میں بھی بھائی اسلام کے ساتھ اوپر جاﺅں گا۔،،

                ٬٬ ہاں ۔ ۔۔ چلے جاﺅ ۔ ۔۔ کوئی حرج نہیں ہے ۔ ۔ ۔ اچھا ہے۔ ۔ ۔ ایک سے دو ہو جائیں گے ۔،، دادا نے کہا

                 بھائی اسلام اور فاروق بھائی دونوں دوڑ کر باہر نکل گئے تاکہ حویلی کی چھت پر جا کر دیکھیں کہ نیچے کیا ہنگامہ ہے۔ ۔ ۔ اور شور کی آوازیں کیسی ہیں ۔ ۔ ۔ یہ شور ابھی تک ختم نہیں ہوا تھا ۔اور رک رک کر آوازیں آرہی تھیں ۔ ۔۔ ایسا لگ رہا تھا جیسے کچھ لوگ بین کر رہے ہوں یا ایک دوسرے کو آواز دے کر بلا رہے ہوں ۔ ۔ ۔ ۔

                 اس بات کو اگرچہ ستر برس سے زائد گزر چکے ہیں لیکن جب میں یہ آپ بیتی لکھ رہا ہوں تو ایک ایک کر کے سارے واقعات میری آنکھوں کے سامنے یوں آ رہے ہیں جیسے سنیما کے بڑے پردے پر کوئی فلم دیکھ رہا ہوں یا ٹیلی ویژن پر کوئی ڈرامہ چل رہا ہے ۔ اور حقیقت بھی یہی تھی کہ یہ میری زندگی کا ایک ایسا ڈرامہ تھا جسے میرا ذہن آج تک فراموش نہیں کر پایا تھا ۔ لوگ کہتے ہیںکہ بھلا ایک پانچ سالہ بچے کی یاد داشت ایسی بھی ہوتی ہے کہ وہ اپنے بچپن کی ایک ایک بات ، گزرے ستر برسوں سے زائد عرصے کے واقعات من و عن بیان کر سکے ۔ میں ان لوگوں سے یہی کہوں گا کہ میں کوئی عام بچہ نہیں تھا۔ ۔ ۔ میرے بارے میں میرے بڑے بھائی جو پیدائشی مجذوب تھے یہ پیشنگوئی کر گئے تھے کہ وہ اللہ میاں کے ہاں جارہے ہیں اور اب اچھے ہو کر آئیں گے ۔ان کا نتقال نو سال کی عمر میں ہوا تھا اور ان کی وفات کے تقریباً نو ماہ بعد ہی میں پیدا ہوا تھا۔ میری پیدائش پر حویلی میں جشن منایا گیا تھا ۔ مجھے یاد ہے کہ اماں اکثر یہ کہا کرتی تھیں میرا منظور جو کہہ کر گیا اللہ میاں کے پاس وہ سچ ہوگیا اور اب یہ ضیاءالدین اسی کی دعا سے دنیا میں آیا ہے ۔ ہمارا پورا گھر مجھ سے بہت پیار کرتا تھا ، مجھے جب ذرا ہوش اور سمجھ آئی تو میں سب گھروالوں کی باتیں بڑے غور سے سنتا رہتا تھا ۔ سب مجھے بہت پیار کرتے تھے لیکن میں بس دادا کی جان تھا ۔ ان کا گھر والوں کو یہ حکم تھا کہ ضیا ءا لدین کو کوئی کچھ نہیں کہے گا ۔ ۔ ۔ انگلی بھی نہیں لگائے گا ، اس لئے سب گھر والے مجھ سے بہت پیار کرتے تھے ۔ ویسے بھی میں بھائی منظور کی پیشنگوئی کے مطابق پیداہوا تھا اس لئے سب یہی سمجھتے تھے کہ منظور اب دنیا میں اچھا ہو کر آگیا ہے ۔ منظوربھائی بھی دادا کے بہت چہیتے تھے ،اس لئے گھر والے ان کا بھی بہت خیال کرتے تھے ۔ اماں یہ بھی کہتی تھیں کہ وہ پیدائشی مجذوب تھے ۔ ۔ ۔ مست تھے۔ ۔ ۔ اپنے حال میں نہیں رہتے تھے ۔ ۔ ۔ ان کے منہ سے رال بہتی رہتی تھی جسکی وجہ سے بڑے ابا انہیں اپنے پاس آنے سے دھتکار دیتے تھے۔یہ بات سب کو بری لگتی تھی ۔ ۔ ۔ دادا کو بھی ۔ ۔ ۔ وہ کئی بار بڑے اباکو ڈانٹ بھی دیتے تھے لیکن بڑے ابا بہت زیادہ نفاست پسند تھے اس لئے وہ ہمیشہ بھائی منظورکو اپنے پاس آنے سے روکتے تھے ۔ ۔ ۔ بڑے ابا جب بھی بھائی منظور کوڈانٹ ڈپٹ کرتے تھے وہ آسمان کی طرف دیکھ کر گھنٹوں اپنے آپ ہی ہنستے رہتے تھے اورپواراگھر ۔ ۔ ۔ آپس میں چہ مگوئیاں کرتا رہتا تھا ۔ سب گھر والے میری ہر بات پر غور کرتے تھے ۔۔ ۔ ان کی آپس کی بات چیت سے میں سمجھ لیتا تھا کہ وہ اس بات کا اندازہ لگانا چاہتے ہیں کہ بھائی منظور اور مجھ میں کس حد تک مماثلت ہے ۔ ۔ ۔ بھائی منظورکے منہ سے جو بھی بات نکلتی تھی وہ جلد یا دیرسے پوری ضرور ہوتی تھی ۔ ۔ ۔ میں بھی کوئی بات کہہ دیتا تھا تو اسکو بھی پرکھا جاتا اور اہمیت دی جاتی تھی کہ ضیاءالدین نے آج جو بات کہی ہے اس کا کیا مطلب ہو سکتا ہے ۔خاص طورپر دادا میرے منہ سے نکلے ہوئے لفظوں کو ۔ ۔ ۔ میری ہر بات کو بہت مانتے تھے ۔ ۔ ۔ یہی وجہ تھی کہ میں ان کا چہیتا تھا ۔۔ ۔ ۔ گھرمیں جب بھی بڑے مل کر بیٹھتے تھے تو میں بھی ان کے ساتھ اماں سے چپکا ہوا ان کی باتیں سنتا رہتا تھا ۔ کسی کی مجال نہیں تھی کہ مجھے وہاں سے بھگاتا ۔۔ ۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی تھی کہ جو کچھ بھی میں سنتا تھا وہ میرے ذہن میں چپک کر رہ جاتا تھا ۔ ۔ ۔ یہ بات اس لئے ظاہر ہوئی تھی کہ کئی بار دادا نے مجھ سے پوچھا تھا کہ اس روز جب ہم سب مل کر بیٹھے تھے ۔ ۔ ۔ تو میں کیا کہہ رہا تھا ۔۔ ۔ اور وہ آدمی مجھ سے ملنے آیا تھا اس نے مجھ سے کیا کہا تھا ۔ ۔ ۔ ذرا بیٹا بتانا تو میں بھول گیا ہوں ۔ ۔ ۔ یہ سن کر میں دادا کو فر فر ساری بات بلکہ کہا ہوا ایک ایک لفظ بتا دیتا تھا ۔ ۔ ۔ میری اس یاد داشت پر سب حیرت زدہ رہ جاتے تھے ۔۔ ۔ دادا ابا تو مجھے اپنے سینے سے چمٹا کر دیر تک مجھے چومتے رہتے تھے ۔ ۔ پھر وہ سب سے کہتے تھے کہ دیکھا ۔ ۔ ۔ میں نےکہا تھا نہ کہ۔ ۔۔ ضیاءالدین بچہ ضرور ہے مگر بہت پہنچا ہوا اور عام بچوں سے زیادہ سمجھدار ہے اس کی بات پر غور کیا کرو ۔ ۔ ۔ دادا یہ بھی کہتے تھے اللہ میاں نے میرے منظور کے بدلے میں ضیاءالدین کو دیا ہے ۔ ۔ ۔ ہمیں اس کی قدر کرنی چاہئے ۔عمر کے ساتھ ساتھ اس میں وہ ساری باتیں آ جائیں گی جو منظور میں تھیں ۔ ۔ ۔ تم سب لوگ میرے منظور سے گھن کھاتے تھے نا اب اللہ میاں نے اسے اچھا بنا کر دنیا میں بھیج دیا ہے ۔ ۔ ۔ دیکھو میرا ضیاءالدن کیسا گورا چٹا اور پیارا ہے ۔۔ ۔ با لکل انگریز کا بچہ لگتا ہے اپنے رنگ روپ کے لحاظ سے ۔ اور حقیقت بھی یہی تھی ۔ ۔ ۔ پاکستان آنے کے بعد جب اسکول اور کالج میں پہنچا تو میری خوبصورتی کی تعریف کی جاتی تھی اور دوستوں میں میرا بڑا نام تھا ۔ مجھے یاد ہے کہ جب ہم سکھر میں تھے تو ایک بار ایک فلم کی شوٹنگ کے سلسلے میں ایک فلم یونٹ آیا ہوا تھا ۔ بہت سے لوگ شوٹنگ دیکھنے پہنچے ۔ میں بھی گیا تھا تو فلم کے ڈائرکٹر اور پروڈیوسر نے مجھے اپنے قریب بلا کر بڑے غور سے دیکھا تھا اور مجھے کہا تھا کہ بھئی تم تو ابھی سے فلم کے ہیرو لگتے ہو ۔ ۔ ۔ تمہاری اٹھان بڑی غضب کی ہے ۔۔ ۔ کبھی لاہور آنا ہو تو ملنا تمہارے لئے کوئی رول نکالیں گے ۔ ۔ ۔ اس بات کا سکھر میں بڑے عرصے تک چرچا رہا تھا اور میرے دوست اور ملنے والے مجھے ہیرو کہ کر پکارتے تھے ۔ ۔ ۔ ۔

                 بات کہیں سے کہیں چلی گئی ۔ ۔ ۔ میں یہ کہہ رہا تھا کہ دادا کے حکم پر بھائی اسلام اور فاروق بھائی حویلی کی چھت پر چلے گئے تھے ۔ ۔ ۔ آدھی رات کا وقت تھا اور حویلی کے باہر شور کی آواز نے سب کو پریشان کر دیا تھا ۔ ۔۔ میں اماں سے چپکا ہوا سب کچھ دیکھ اور سن رہا تھا ۔ ۔۔ عورتوں کا برا حال تھا ۔ ۔ ۔ سب سے زیادہ اندھی تائی کا حال برا تھا ۔۔ ۔ وہ بار بار۔ ٬٬اری ۔ ۔ میرا کل ۔ ۔ لو ۔ ۔ پتہ نہیں ۔ ۔ کا ہاں ہوگا ۔ ۔ ہکلاتے ہوئے کہہ رہی تھیں اور ہر بار تائی خیرن انہیںڈانٹ دیتی تھیں ۔۔ ۔ میں سب لوگوں کا تماشا دیکھ رہا تھا ۔ ۔ ۔ پھر اچانک مجھے پتہ نہیں کیا ہوا ۔ ۔ ۔ میں اماں سے اپنا ہاتھ چھڑا کر دوڑا دوڑا دادا کے پاس چلا گیا اور ان سے چمٹ کر رونے جیسی آواز میں کہنے لگا ٬٬ دادا ۔۔ ۔ دادا۔ ۔ ۔ کچھ ہونے والا ہے ۔ ۔ مجھے ڈر ۔ ۔ ۔ لگ رہا ہے ۔۔ ۔ دادا ۔ ۔ ،،

                 ٬٬ ارے ۔ ۔ ۔ ڈر مت بیٹا ۔ ۔۔ کیا ہونے والا ہے ۔۔ ۔ ہم سب ہیں نا تیرے پاس ۔۔ ۔ تو بتا کیا ہونے والا ہے ۔ ۔ ۔ دادا نے مجھے پیار کرتے ہوئے اپنی گود میں بھر کر کہا

٬٬دا دا ۔ ۔ بس ۔ ۔ اچھا نہیں ہوگا ۔۔ ۔ مجھے ڈر لگ رہا ہے ۔ ۔ ۔ یہاں سے بھاگو ۔ ۔ دادا ۔ ۔ ۔ ڈر لگ رہا ہے ۔ ۔ ۔ میں سچ مچ رو پڑا ۔ ۔ ۔

                 دادا نے مجھے اپنی بانہوں میں بھر لیا اور پچکارتے ہوئے بولے۔ ٬٬ نہیں ۔ ۔ ۔ روتے نہیں ہیں ۔۔ ۔ کچھ برا نہیں ہوگا ۔ ۔ ۔ میں اپنے بیٹے کے ساتھ ہوں ۔۔ ۔ سب لوگ یہاں ہیں ۔ ۔ ۔

                 میرے ابا آگے بڑھے اور انہوں نے مجھے دادا کی گود سے لینا چاہا مگر دادا نے منع کر دیا ۔٬٬ نہیں فخرالدین۔ ۔ ۔ اسے میرے پاس ہی رہنے دو ۔ ۔ ۔ یہ جو کچھ کہہ رہا ہے ۔۔ ۔ اس سے اب میرا ماتھا بھی ٹھنکا ہے ۔ ۔ ۔ اللہ خیر کرے ۔ ۔

                ٬٬ابا ۔ ۔۔ یہ بچہ ہے ۔۔ ۔ آدھی رات کو گھر کے باہر شور کا سن کر ڈر گیا ۔ ۔ ۔ ابھی بہل جائے گا ۔،، بڑے ابا بولے

                ٬٬ نہیں یہ ایسا ویسا بچہ نہیں ہے ۔ ۔۔ دادا تیز آواز میں چیخے ۔ ۔ ۔ ۔٬٬ اس کی بات کو مذاق میں مت ٹالو ۔ ۔ ۔ اور دیکھو اوپر سے ابھی تک اسلام اور فاروق نیچے نہیں آئے ۔ ۔ ۔ آواز دو انہیں ۔ ۔ ۔ پتہ تو چلے کہ باہر کیا تماشا ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔

                دادا کے اتنا کہنے پر بڑے ابا دالان سے باہر جانے کے لئے آگے بڑھے مگر اسی وقت بھائی اسلام اور فاروق بھائی آتے ہوئے دکھائی دئے ۔ ۔ ۔ وہ رک گئے اور دادانے ان سے پوچھا ۔ ۔ ۔ ٬٬ کیا بات ہے اسلام ، دیر کیوں ہو گئی تم لوگوں کو ۔ ۔۔ اوپر کیا کر رہے تھے ۔ ۔ ۔ کس لئے بھیجا تھا تمہیں اوپر ۔۔ ۔ کیا خبر لائے ہو؟ ۔ ۔ ۔ دادا نے سوالات شرو ع کر دئے ۔ ۔ ۔ بھائی اسلام اور فاروق بھائی کے چہروں سے خوف ٹپک رہا تھا ۔ ۔ ۔انہوں نے فوراً کوئی جواب نہیں دیا تو دادا نے انہیں ڈانٹا ٬٬ ابے میں کیا کہہ رہا ہوں ۔ ۔ ۔بولتے کیوں نہیں۔ ۔ ۔

                ٬٬ دادا ۔ ۔ وہ ۔ ۔ فاروق بھائی ہکلاتے ہوئے بولے مگر بھائی اسلام نے ان کی بات کاٹ دی اور کہنے لگے ۔٬٬ دادا ۔۔ ۔ اوپر تو بہت برا حال ہے ۔۔ ۔ چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔ بھائی اسلام کا یہ کہنا تھا کہ عورتوں نے رونا اور چیخنا شروع کردیا ۔ دادا نے ان کی یہ حالت دیکھی تو زور سے دھاڑے ۔٬٬ابے ۔ ۔ ۔ یہ کیا ہوگیا تم عورتوں کو ۔ ۔ ۔ چپ ہو جاﺅ ۔ ۔ ۔ خبر دار جو آواز نکلی۔ ۔ ۔ سب کی خبر لوں گا ۔ ۔ ۔ ایک ایک کی بس خاموش ۔۔ ۔

                دادا کے ڈانٹنے پر وہ چپ تو ہو گئیں مگر ان کی سسکیوں کی ہلکی ہلکی آوازیں اب بھی آ رہی تھیں ۔ وہاں موجود ہر شخص ایک دوسرے کو پریشان نظروں سے دیکھ رہا تھا ۔ ۔ ۔ میرا جی نے کچھ کہنا چاہا تو دادا نے انہیں اشارے سے منع کر دیا اور بھائی اسلام سے پوچھا٬٬ ہاں ۔۔ ۔ اب بول اسلام ۔۔ ۔ کیا کہہ رہا تھا تو ۔۔ ۔ چاروں طرف آگ لگی ہوئی ہے ۔ ۔ ۔

                ٬٬ ہاں۔ ۔ ۔ دادا ۔ ۔ ۔ کٹارے والی حویلی کے پچھواڑے بھی دھواں ہی دھواں اٹھ رہا ہے ۔ ۔ ۔ سرائے کی اگلی منڈیر سے لگے ہوئے گھروں سے تو آگ کے شعلے اٹھ رہے ہیں ۔ ۔ ۔

                ٬٬ ابے ۔ ۔ ۔ سراجو بھائی ۔ ۔ ۔ یہ تو بہت برا ہوا ۔۔ ۔ سرائے کی اگلی منڈیر سے لگے گھر تو مسلمانوں کے ہیں ۔ ۔ ۔ ایک تو وہاں شہاب الدین کا گھر ہے ۔ ۔ ۔ اس کے برابرامام بخش رہتا ہے اور ۔ ۔ ۔

                ٬٬میرا جی ۔ ۔ حوصلہ رکھ ۔ ۔ ۔ اسلام سے پوری بات سن لینے دے ۔،، دادا نے میرا جی کی بات کاٹتے ہوئے کہا

                ٬٬ سراجو ۔ ۔ اس سے آگے میرا گھر بھی تو ہے ۔ ۔ ۔ کیا ہوا وہاں میرے سوا کوئی اور نہیں رہتا ۔ ۔۔ مگر میرا گھر تو ہے ۔ ۔ کیا خبر بلوائیوں نے اسے بھی پھونک دیا ہو۔ ۔ ۔

                ٬٬ جو کچھ ہو رہا ہے وہ تو ہونا ہی تھا ۔ ۔ ۔ اسے روکنا میرے یا تیرے بس کی بات نہیں ہے میرا ۔ ۔ ۔ ہمیں حوصلہ رکھ کر یہ فیصلہ کرنا ہے کہ اب کیا کریں ۔ ۔ ۔ یہ آگ ۔ ۔۔ کہیں حویلی تک نہ آجائے ۔ ۔ ۔ ہمیں کچھ نہ کچھ توکرنا ہی ہوگا۔، دادا کی آواز سے بھی پریشانی جھلک رہی تھی ۔ انہوں نے میری طرف پیار سے دیکھا اور سر پر ہاتھ پھیرتے ہوئے آہستہ سے بولے۔٬٬ تو ٹھیک کہہ رہا تھا میرے بچے ۔۔ ۔ برا ہونے والا ہے ۔ ۔ ۔ سچ مچ برا ہو گیا ۔ ۔ ۔ بہت برا ہو گیا۔ ۔ ۔ جا۔ ۔ ۔ تو ۔ ۔ ۔ اپنی ماں کے پاس جا ۔۔ ۔ ہم مردوں کو کچھ سوچنا ہے ۔ ۔ ۔ جا بیٹا ۔۔ ۔ جا ۔ ۔ ۔

                ابا آگے بڑھے اور انہوں نے مجھے گود میں اٹھا لیا اورعورتوں کے کمرے میں اماں کے پاس چھوڑ کر واپس دادا کے پاس آگئے۔ میں بر ی طرح کانپ رہا تھا اور اماں مجھے اپنے سینے سے چمٹائے میرا سر سہلا رہی تھیں ۔ ۔۔ مجھے نیند سی آ رہی تھی اس لئے میں اماں سے چپک گیا اوراپنی آنکھیں موند لیں۔ ۔ ۔مگرنیند نہیں آرہی تھی ۔ ۔۔ میرے کانوں میں مردوں کے باتیں کرنے کی ہلکی ہلکی آوازیں آ رہی تھیں اور میرے کان اسی طرف لگے ہوئے تھے ۔داداکہہ رہے تھے ۔٬٬ دیکھا ۔ ۔۔ میرابچہ ٹھیک کہہ رہا تھا کہ برا ہونے والا ہے ۔۔ ۔ سچ مچ برا ہو رہا ہے ۔ ۔ ۔ میرا جی جانے کا کہہ رہے تھے مگر دادا نے انہیں روک رکھا تھا کہ صبح ہوجائے تو پھر جانا ۔۔ ۔ کشن لال بھی یہی کہہ رہا تھا۔ ۔ ۔ ۔ رحمان حلوائی بار بار اپنی بیٹی کا پوچھ رہا تھا ۔ ۔ ۔اسے بتا دیا گیا تھا ۔ ۔ ۔ وہ عورتوں کے کمرے سو گئی تھی ۔ ۔ ۔ سب نے مل کر یہی فیصلہ کیا تھا کی جیسے ہی صبح ہوگی ۔ ۔ ۔ میرا جی اور کشن لال راجہ ٹھا کر کے پاس جائیں گے اور اپنے ساتھ پرساد کو بھی لے جائیں گے ۔ ۔ ۔ پرساد جانے سے ڈر رہا تھا وہ کہہ رہا تھا کہ اگر میں واپس گیا تو گنگو تیلی اسے مار دے گا ۔ مگر سب نے اسے سمجھایا تھا کہ راجہ ٹھا کر کے پاس اس کا جانا اس لئے اچھا رہے گا کہ وہ پوری رام کہانی سن کر اس کے بیوی بچوں کو تیلی کی قید سے چھڑ وا سکے گا ۔ ۔ ۔ پھر اسی طرح باتوں ہی باتوں میں صبح ہونے لگی اور دادا نے اندر سے بڑا پتیلہ منگوا کر دالان میں بنے ہوئے بڑے چولہے پر چائے چڑھ وا دی ۔ ۔ ۔ سب نے منع کیا مگر دادا نہیں مانے وہ کہہ رہے تھے کہ رات بھی کسی نے کھانا نہیں کھایا تھا ۔ ۔ ۔ اب تھوڑی تھوڑی چائے تو حلق میں انڈیل لی جائے۔

                جلد ہی چائے بن گئی اور بھائی اسلام اورفاروق بھائی جلدی جلدی پیلوں میں چائے بھر بھرکے سب کی طرف بڑھا رہے تھے ۔ ۔ ۔ دادا چائے کی چسکی بھرتے ہوئے کہہ رہے تھے ۔٬٬ فجر ہو گئی میرا ۔ ۔۔ اس وقت سرائے کی مسجد سے مولوی صاحب کی اذان کی آواز آتی تھی ۔۔ ۔ مگر اب سناٹا ہے ۔ ۔ ۔ مردود بلوائی ۔۔ ۔ یہ ہندو کے بچے اس غریب کو پتہ نہیں کہاں اٹھا کر لے گئے ۔ ۔ پتہ نہیں زندہ بھی ہے یا نہیں ۔ ۔ ۔ ۔

                ٬٬ابا ۔ ۔۔ ہمارے کلو کی بھی کچھ خیر خبر نہیں ہے ۔،، بڑے ابا بولے ۔٬٬ پتہ نہیں وہ کہاں ہوگا ۔ ۔ ۔ اس کا کیا حال ہوگا ۔ ۔۔ بڑی فکر لگ گئی ہے بھائی کی ۔ ۔ ۔

                ٬٬ہاں فکر تو مجھے بھی ہے اس کی ۔۔ ۔ مردود میرا بیٹا ہے ۔۔ ۔ جیسا بھی ہے ۔ ۔ ۔ اسے اس وقت ہمارے پاس ہونا چاہئے تھا۔ ۔ اچھا ہے یا برا ۔ ۔ ۔ میرا بیٹاہے وہ بھی ۔ ۔ ۔ سالا کلو ۔ ۔ ۔ دادا کی آواز رونے جیسی لگ رہی تھی ۔ ادھر اندر عورتوں کے کمرے میں کلو تایا کا نام سن کر اندھی تائی نے بھی چیخ ماری مگر تائی خیرن نے فوراً ہی ان کا منہ دبوچ لیا اور وہ گھٹی گھٹی آواز میں رونے لگیں ۔ ۔ ۔ ٬٬ خبر دار جو تو نے آواز نکالی ۔ ۔۔ دادا تیری ٹانگیں توڑ دیں گے ۔ ۔۔ باہر آواز گئی تو ان کی ہمت بھی جواب دے جائے گی ۔،، تائی خیرن دبی دبی آواز میں انہیں سمجھا رہی تھیں۔ تائی خیرن کی ڈانٹ سن کر میں اٹھ بیٹھا اماں نے مجھے پھر سینے سے چمٹانا چاہا مگر میں ان سے الگ ہو گیا ۔ اب میری ٓنکھوں سے نیند بھاگ چکی تھی اور میں پوری طرح ہوش وحواس میں تھا ۔ ۔ ۔ میں پھر بھاگ کر دادا کے پاس چلا گیا ۔۔ ۔ دادا نے مجھے اپنے سینے سے لگا لیا ۔ ۔ ۔ ۔ اور قریب رکھی ہوئی الماری سے میرا چھوٹاپیالہ نکال کر اس میں چائے انڈیلی اور مجھے دیتے ہوئے بولے ۔٬٬ لے بیٹا تو بھی چائے پی لے ۔ ۔۔ رات سے سردی بڑھ گئی ہے ۔۔ ۔ تو نے کچھ پہنا ہوا بھی نہیں ہے ۔۔ ۔ چائے پئے گا تو سردی ذراکم ہوجائے گی ۔ میں نے چائے کا پیالہ دادا کے ہاتھ سے لے لیا اور اپنے منہ سے لگا کر پھونک مارتے ہوئے ابھی ایک چسکی ہی بھری تھی کہ حویلی کے دروازے سے پھر کسی کی آواز آئی ۔٬٬جے ہو مہاراج سراجو کی ۔ ۔ ۔ ۔بھگت رام ہوں۔ ۔ ۔ راجہ ٹھاکر داس کا سیوک ۔ ۔۔ راجہ جی نے آپ کو بلوایا ہے ۔ ۔ میں سواری لے کر آیا ہوں مہاراج ۔ ۔ ۔ ۔  

                (جاری ہے )

  

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر نمبر 13 . اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر نمبر 13 تحریر اعجاز احمد نواب وزیر آباد شہر کئی حوالوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے