سر ورق / مضامین / سرسید کے سماجی افکارکی عصری معنویت… غلام نبی کمار

سرسید کے سماجی افکارکی عصری معنویت… غلام نبی کمار

سرسید کے سماجی افکارکی عصری معنویت

                غلام نبی کمار

                روشن خیالی،وسیع النظری،اولوالعزمی اور علم و عمل میں سرسیداحمد خاںکا کوئی ثانی نہیں۔وہ ایک بڑے مصلح اور سماجی مفکر تھے جنھوں نے اپنی پوری زندگی ہندوستانی قوم و ملّت کی سماجی فلاح و بہبودی کے لیے وقف کردی۔سرسید کے تعلیمی افکار ہوں یا سیاسی افکار ،مذہبی افکار ہوں یا سماجی افکار،سے نہ صرف ان کے عہد میں انقلاب رونما ہوا بلکہ موجودہ عہد بھی اُن کے بالغ نظر افکار کی معنویت سے متاثر نظر آتا ہے۔سرسید جیسی شخصیتیں صدیوں میں پیدا ہوتی ہیں جن کے اہم افکارکی لوگ ہمیشہ پیروی کرتے آئے ہیں ۔سرسید احمد خاں مختلف النوع شخصیت کے مالک ہیں ۔جن کی ایک جہت سماجی افکار سے متعلق ہے۔یہ وہ جہت ہے جو سرسید کے تمام پہلووں ، نظریات ،تحریکات اور سماجی سرگرمیوں سے روشن ہوجاتی ہے۔

                سرسید نے اپنے تعلیمی،سیاسی،سماجی،معاشی،اخلاقی،مذہبی اور سماجی افکار و خیالات سے پورے ہندوستان میں سنسنی پیدا کر دی تھی،ان کی عملی کا وشوں سے سماج کا ہر فردمتاثر نظر آیا۔انھوں نے ہندواور مسلمان دونوں قوموں پر اپنے تعلیمی اور سماجی تحریکات کے اثرات مرتب کیے۔ سرسید کے کچھ معاصرین ایسے گزرے ہیں جنھوں نے ان کے افکارکی تائید کی اور بعض معاصرین ایسے ہوئے جنھوں نے سرسید کے تعلیمی،سیاسی،سماجی نیزدیگر معاملات اور افکار کی سخت مخالف کی۔سرسید کے مخالفین ہندو وں میں بھی موجودتھے اور مسلمانوں میں بھی،لیکن ان کے حوصلے کبھی پست نہیں ہوئے ۔سوامی دیانند سرسوتی سے سرسید کے گہرے مراسم تھے جو آریہ سماج کے بانی کہلاتے ہیں۔دیانند سرسوتی وہ شخصیت تھی جس نے ستیارتھ پرکاش جیسی کتاب لکھی جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوئی۔مگر سرسید نے اُن کی موت پر بھی اچھے کلمات کہے اور اُنھیںنیک درویش صفت آدمی قرار دیا۔راجہ شیوپرساد جو سرسید کے بڑے معترضین میں شمارہوتے ہیں ۔اردو ہندی،سنسکرت اور فارسی کے جیدعالم تھے،ان کے بھی سرسید کے ساتھ اچھے مراسم تھے۔البتہ جب سرسید نے ورناکیولر سوسائٹی کی بات کی تو راجہ شیو پرساد نے ان کی سخت مخالفت کی تھی،لیکن جب راجہ شیو پرساد کا انتقال ہوا تو سرسید نے سائنٹفک انسٹی ٹیوٹ گزٹ میں انھیں خراج عقیدت پیش کیا اور لکھا کہ ایسے مشہور اور نامی لوگوں کا دنیا سے اٹھ جانا بلاشبہ افسوس اور رنج کا مقام ہے۔یہ سب باتیں اس لیے اہمیت رکھتی ہیں کہ اِن سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ سرسید نے کبھی کسی کو اپنا دشمن نہیں سمجھا بلکہ ان کے خیالات اپنے دوستوں اور دشمنوں دونوں کے تئیں یکساں تھے۔دراصل وہ ایک سماجی ریفامر کی حیثیت سے اپنا کردار ادا کر رہے تھے۔

                سرسید احمد خاں کا ذہن پہلے سے بیدار تھا ۔انھوں نے کم عمری میں ہی لکھنا شروع کیا تھا۔تاہم انگلستان جانے کے بعد ان کے خیالات میں جدت آگئی ۔ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ گئی تھی کہ مغربی ممالک کی خوشحالی کا رازدراصل تعلیمی بیداری ، سائنس و ٹکنالوجی اور اقتصادی ترقی میں مضمر ہے۔انگلستان سے لوٹنے کے بعد انھوں نے اپنے خیالات کو عملی جامہ پہنانا شروع کردیا۔دراصل سرسیدکے مذکورہ افکار و خیالات کے پسِ پشت سماجی اور مسلم قوم کی پسماندگی پنہاں تھی۔انھوںنے محسوس کرلیا تھا کہ اونچے اور درمیانہ طبقوں کے تباہ حال مسلمان جب تک باپ داد اکے کارناموں پر شیخی بھگارتے رہیں گے نیز انگریزی اور مغربی علوم سے نفرت کرتے رہیں گے، اُس وقت تک وہ بدستور ذلیل و خوار ہوتے رہیں گے۔ان کو کامل یقین تھا کہ مسلمانوں کو اس کم تر سوچ اورذہنی پسماندگی سے باہر نکالنے کا واحد راستہ اُنھیں انگریزی ومغربی علوم و فنون سے آراستہ کرنا ہے۔یورپ سے آنے کے بعد سرسیدزندگی بھر اسی جدوجہدمیں مصروف نظر آئے۔مزید اسی مقصد کو مد نظر رکھ کر انھوں نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کی سنگ ِ بنیاد ربھی ر کھی۔سرسید احمد خاں مسلمانوں کو تعلیمی ،سیاسی،معاشی ، معاشرتی اور تہذیبی سطح پر دیگر مغربی اقوام کی طرح ترقی یافتہ دیکھنا چاہتے تھے۔ پروفیسر صغیر افراہیم کا یہ اقتباس ان خیالات کی تائید کرتا ہے جس میں وہ لکھتے ہیں:

انھوں نے یہ محسوس کرلیا تھا کہ یہ وقت تشددکا نہیں،امن اور بھائی چارے کا ہے اور قوم کو ہر اعتبار سے مضبوط بنانے کے لیے حصولِ علم لازمی ہے۔وہ یہ سمجھ گئے تھے کہ ترقی کی بیش تر راہیں سائنسی و استدلالی نظریات سے ہوکر گزرتی ہیں لہٰذا بے حد معتدل اور متوازن انداز میں انھو ں نے اپنے لائحہ ¿ عمل کو مرتب کیا۔سرسید کی طرح ان کے احباب کو بھی مشرق کی علمی روایات بہت عزیز تھیں اس لیے سبھی نے اپنے مضامین،مقالات، خطبات اور مکتوبات میں مسلمانو ں کے گزشتہ علوم و فنون کی عظمت کا احساس دلایا اور یہ بھی واضح کیا کہ اُن کی توقیر کا اصل سبب یہ تھا کہ وہ اپنے زمانے کے لحاظ سے جدید طرزِ تعلیم کے حامل تھے۔بانیانِ علی گڑھ نے قوم کی توجہ اس جانب مبذول کرائی کہ آج کا تقاضا ہے کہ ہم بھی اپنے عم عصر کے تناظر میں جدید طرزِ تعلیم سے مستفید ہونے کی کوشش کریں اور ایک بار پھر ترقی یافتہ قوموں میں شمار ہوں۔

                                                (سہ ماہی ادب سلسلہ،جلد1،شمارہ1،ص13)

                اس اقتباس سے بھی یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں ہے کہ سرسید مسلمانوں کو زندگی کے شعبے میں آگے بڑھتے دیکھنا چاہتے تھے اور بعد میں اسی سوچ اور فکر کی نشوونما ان کے رفقاءمیں بھی پیدا ہوئی۔سرسید یقینا ایک عوامی مفکر تھے ۔وہ اپنے خیالات اور علمی کاوشوںسے نہ صرف مسلمانوں کی فلاح و بہبودی کے لیے سوچتے تھے بلکہ پورے ہندوستانی عوام کو مکمل طور پر خوشحال دیکھنا چاہتے تھے۔سرسید کے یہی افکار انھیں سماجی مفکرین میں شمار کرتے ہیں۔سرسید نے رسالہ”تہذیب الاخلاق “جاری کیا جس میں وہ سائنسی مضامین کو خاص طور پر ترجیح دیتے رہے۔سائنسی مضامین کی اشاعت کی وجہ بھی دراصل مسلمانوں میں سائنسی فکر کو عام کرنا تھا۔”تہذیب الاخلاق“کے لیے سائنسی مضامین ہندو اور مسلمان دونوں قوموں کے قلم کار لکھتے تھے اور اس کے قارئین بھی ہر مذہب کے تھے۔اس سے اندازہ ہوجاتا ہے کہ اس رسالے کو کسی خاص طبقہ ¿ فکر تک محدود نہیں رکھا گیا تھا۔سرسید متعصب فکر کے حامل شخص نہیں تھے۔ انھوں نے ہمیشہ ہندو مسلم مساوات اور بھائی چارگی کے لیے کام کیا۔ان کے مطابق:

میری یہ سمجھ ہے کہ ہندوستان میں دو قومیں ہندو اور مسلمان ہیں اگر ایک قوم نے ترقی کی اور دوسری نے نہ کی تو ہندوستان کا حال کچھ اچھا نہیں ہونے کا۔ بلکہ اس کی مثال ایک کانڑے آدمی کی سی ہوگی۔ لیکن اگر دونوں قومیں برابر ترقی کرتی جاویں تو ہندوستان کے نام کو بھی عزت ہوگی اور بجائے اس کے کہ وہ ایک کانڑی اوربڈھی بال بکھری، دانت ٹوٹی ہوئی بیوہ کہلاوے، ایک نہایت خوبصورت، پیاری دلہن بن جاوے گی۔

                                (مشمولہ سہ ماہی ”ادب سلسلہ“جلد1،شمارہ،3،ص 19)

 

                مندرجہ بالا اقتباس اخبار”سائنٹفک سوسائٹی“کے 3 جون 1873کے اداریے سے لیا گیا ہے۔اس اداریے سے سرسید کی دوراندیشی ،ذہانت، بے مثال افکار اور دانشورانہ خیالات کی مثال دی جا سکتی ہے۔تعلیم اور اصلاحِ معاشرہ کے علاوہ سرسید کا سب سے بڑا کام سماجی مساوات پیدا کرنا تھا۔سرسید نے بلا کسی تفریق و امتیاز کے ہندوستان کے سبھی شہریوں کی ترقی کے لیے سوچا اور اس ضمن میں کوشاں ہوئے۔سرسید بالآخر اس کوشش میں کامیاب بھی ہوئے ۔علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی اس کی جیتی جاگتی مثال ہے جہاں کسی مخصوص ریاست کے ہی لوگ تعلیم سے فیض یاب نہیں ہوتے بلکہ ہندوستان کی ہر ریاست یہاں تک کہ بیرون ممالک سے بھی لوگ یہاں تعلیم حاصل کرنے کی غرض و غایت سے آتے ہیں۔اس طرح کہا جا سکتا ہے کہ ہندوستان کے ہرشہری کو سرسید کا احسان مند ہونا چاہیے جنھوں نے ملک میں سب سے پہلے تعلیمی تحریک شروع کی ۔اگر ایسا نہ ہوا ہوتا تو بلاشبہ ہندوستان کی ایک بڑی آبادی تعلیمی اعتبار سے قابل ِرحم ہوتی۔سرسید ایک عظیم سماجی مفکر تھے۔ان کے مختلف موضوعات سے متعلق افکار آج بھی اہمیت رکھتے ہیں ۔توہینِ رسالت، جہاد، جنسی مساوات، رواداری، آزادی اور لبرل اقدار جیسے موضوعات پر سرسید کے مضامین محققین کے لیے خصوصی اہمیت کے حامل ہیں۔

                سرسید مسلمانوں کی تعلیم کے لیے بہت سنجیدہ تھے۔ اس پر انھیںکچھ نام نہاد سیاست دانوںاور سماجی کارکنوں نے طنز بھی کیا تھا کہ سرسید ہندوستان کے لیے نہیں بلکہ صرف مسلمانوں کے لیے سوچتے ہیں۔بلاشبہ سرسید مسلمان قوم کے لیے لکھتے تھے لیکن اس وقت وہ حضرات یہ بھول گئے تھے کہ ان کی کتابیں بھی ہندی میں ہندو مذہب کی تبلیغ و اشاعت کے ضمن میں چھپ رہی تھیں۔ مدرسوں اور تعلیمی درس گاہوں کی تعمیر بھی سرسید کے سماجی افکار میں شامل ہے۔ان کی خواہش تھی کہ ہماری قوم کا بچہ بچہ دینی اور عصری و جدید علوم و فنون سے روشناس ہوسکے۔ان کا معروف قول ہے”ایک ہاتھ میں سائنس ہو اور ایک ہاتھ میں قرآن اور سر پہ لا الہ الا اللہ کا تاج ہو“۔ان افکار و شواہد کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ سرسید اپنے مشن اور قوم کے لیے کتنے سنجیدہ اور مخلص تھے

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ایک غلط فہمی اقبال کے نام سے ..فرہاد احمد فگار

ایک غلط فہمی اقبال کے نام سے (فرہاد احمد فگار، مظفرآباد) صاحبان آج ایک اور …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے