سر ورق / تبصرہ کتب / کہے بغیر۔۔۔۔ایک خاموش صدا ۔۔۔ رابعہ حسن

کہے بغیر۔۔۔۔ایک خاموش صدا ۔۔۔ رابعہ حسن

کہے بغیر۔۔۔۔ایک خاموش صدا

رابعہ حسن

کہا جاتا ہے کہ شاعری تصورات کا لاوا ہے۔ اب یہ شعر یا نظم ہی ہو سکتی ہے جو ہمیں شاعر کے تصور یا خیال کی رفعت و بلندی کا پتا دیتی ہے۔ شاعر شعر ہی شعر میں خیالات کی ثریا پہ یوں کمند ڈالتا ہے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔

خاموشیاں ہمیشہ گونگی نہیں ہوتیں بلکہ کبھی کبھار تو وہ بولتی نہیں بلکہ چنگھاڑتی ہیں اور بے ضمیروں کے ضمیر جھنجوڑ ڈالتی ہیں۔ لب بھی نہ ہلیں اور بات بھی دوسرے تک پہنچ جائے،یہ ڈھنگ بہت کم لوگوں کو آتا ہے۔ اعجاز نعمانی صاحب بھی ان چند لوگوں میں سے ایک ہیں جو کہے بغیر بات کہنے کہ ڈھنگ سے بخوبی واقف ہوتے ہیں۔

کہے بغیر مظفرآبا سے تعلق رکھنے والے مایہ ناز شاعر اعجاز نعمانی کا پہلا شعری مجموعہ ہے۔ محو حیرت ہوں کہ اتنے کہنہ مشق شاعر نے اپنے کلام کو کتابی شکل میں محفوظ کرنے میں اتنی تاخیر کیوں برتی؟

نعمانی صاحب کا مکمل نام اعجاز احمد نعمانی ہے لیکن قلمی نام اعجاز نعمانی استعمال کرتے ہیں۔ تخلص کبھی تو اعجاز نعمانی استعمال کرتے ہیں اور کبھی  اعجاز۔اعجاز نعمانی صاحب گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج فار بوائز مظفرآباد کے ادبی مجلے دومیل کے چیف ایڈیٹر ہیں جبکہ کشمیر کلچرل اکیڈمی کے سہ ماہی مجلے تہذیب کی مجلس ادارت میں بھی شامل ہیں۔

یار اعجاز یہ اعزاز کوئی کم تو نہیں

کار تخلیق کیا،ساتھ سنبھالی دنیا

۔۔

مجھے اعجاز نعمانی پتا ہے

زمانے میں زمانے تک رہوں گا

ان کا تعلق وادی جہلم کے خوبصورت قصبے چکار سے ہے۔ اردو میں ماسٹرز انہوں نے آزاد جموں و کشمیر یونیورسٹی سے کیا۔ شاعری سے ان کا رشتہ اتنا ہی پرانا ہے جتنا کہ سانسوں سے۔ بڑے بڑے قومی اور بین الاقوامی مشاعروں میں آزاد کشمیر کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ادبی خدمات کے صلے کے اعتراف میں متعدد ایوارڈز سے نوازے جا چکے ہیں۔ اکادمی ادبیات پاکستان کے آزاد کشمیر میں فوکل پرسن بھی ہیں۔ گورنمنٹ پوسٹ گریجویٹ کالج فار بوائز مظفرآباد کے ادبی مجلے تہذیب کی مجلس ادارت میں بھی شامل ہیں۔ ادبی سرگرمیوں کے فروغ اور آبیاری کے لیے آزاد کشمیر کے شعرا و ادبا کو کشمیر لٹریری فورم کے پرچم تلے جمع کیا ہے۔

یہ تنطیم گاہے بگاہے مختلف ادبی تقریبات کا انعقاد کرتی ہے۔ نعمانی صاحب میرے والد محترم کے کالج کے شاگرد ارجمند بھی رہے ہیں۔

کہے بغیر نعمانی صاحب کا پہلا شعری مجموعہ ہے جس میں نیرنگی خیال بھی موجود ہے اور شاعرانہ تعلی بھی۔ نعمانی صاحب گنجلک اور طویل بحروں سے اجتناب کرتے ہیں۔ چھوٹی اور نپی تلی بحروں میں مضمون نہایت خوبصورتی سے چست کرتے ہیں۔

نعمانی صاحب کے مجموعے میں چند موضوعات جو کہ بکثرت پائے جاتے ہیں مندرجہ ذیل ہیں:

عالمگیر محبت:

میرے بھائی جہاں دیوار کھڑی کرتے ہو

اس جگہ باپ نے دروازہ لگایا ہوا تھا

ایک اور جگہ دیکھیں;

یہ عمر بھر کی ریاضت کہیں ٹھکانے لگے

اگر دلوں میں محبت فروغ پانے لگے

خود شناسی و خودداری:

میں اپنی مرضی سے ہوں بوریا نشینی پہ خوش

یہ لوگ کس لیے اب مجھ پہ رحم کھانے لگے

ایک اور جگہ فرماتے ہیں:

راستہ مجھکو کہیں لے کے نہیں جا سکتا

یہ ادھر جائے گا جس سمت روانہ میں ہوں

پیشہ تدریس پہ فخر:

میرے بزرگوں کا پیشہ پیمبرانہ تھا

خدا کا شکر ہے میں بھی پڑھانے والا ہوں

حب الوطنی:

خیبر، سندھ ،بلوچستان میں رہتا ہوں

میں کشمیر ہوں سارے پاکستان میں رہتا ہوں

واردات حسن و عشق:

اگرچہ حسن مصیبت میں ڈال رکھتا ہے

مگر یہ عشق طبیعت بحال رکھتا ہے

یہاں یہ مضمون کتنی خوبصورتی سے بیان کر رہے ہیں؛

حسن اور اتنی فروانی کے ساتھ

دیکھتا رہتا ہوں حیرانی کے ساتھ

ان کی شاعری میں تشبیہات و استعارے بھی فراوانی کے ساتھ ملتے ہیں۔ جیسے کہ نیلی آنکھ کے لیے نیلا پتھر وغیرہ۔

کہے بغیر یقینا دنیائے شعر و ادب میں ایک گراں قدر اضافہ ہے۔ جوشاعری سے تعلق رکھنے والے افراد کے لیے یقینا گنج ہائے گراں سے کم نہیں۔ امید ہے کہ اعجاز نعمانی صاحب میدانِ ادب میں کامیابیوں کے مزید جھنڈے گاڑھتے رہیں گے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شوبز کا تازہ ترین۔۔۔ احوال اشفاق حسین

  شوبز کا تازہ ترین احوال اشفاق حسین کے نوکیلے قلم سے ملازمین میں تھرتھلی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے