سر ورق / ناول / ہم تو در بدر ہوئے…گل جان..قسط نمبر۱

ہم تو در بدر ہوئے…گل جان..قسط نمبر۱

ہم تو در بدر ہوئے

 گل جان

قسط نمبر۱

آج بھی بانو اپنے ہوش و حواس میں نہیں تھی

 اس کی زبان پر صرف اور صرف ایک ہی نام تھا اور وہ نام تھا بابو کا ، بانو کو بابو کا اصل نام تو نہیں معلوم تھا نہ کبھی بابو نے بتایا تھا

بانو بابو سے سچ مچ محبت کرنے لگی تھی لیکن بابو کی محبت صرف ہوس تھی اور اس نے رات کے اندھیرے سے فائدہ اٹھا کر بانو کی عزت کو کرچی کرچی کر دیا اور اسے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پتھر بنا دیا ، بانو کی آ نکھوں میں بابو کا چہرہ صاف معنوں میں دکھائی دینے لگا اور رفتہ رفتہ اس کی آ نکھ سے نکلاہوا ہر آ نسو خشک تر ہونے لگا ، بانو جب جب اپنے ماضی کو یاد کرتی ہے تو اسے بابو کا مکرہ چہرہ صاف دکھائی دینے لگتا ہے جب بابو بانو کو سبز باغ دکھا کر اسے محبت کے ول فریب میں ڈال کرگاﺅں کے پچھواڑے لے جاتا ہے ، بانو بابو کی آ نکھوں میںدیکھتی ہے اور محبت سمجھ بیٹھتی ہے لیکن پگلی بھول جاتی ہے کہ بابو کا کام صرف اور صرف بھولی بھالی لڑکیوں کی عزت سے کھیلنا ہے اور نہ جانے کتنی بے بس اور غریب لڑکیوں کو بابو لوٹ چکا ہے پیسے اور پاور کے بل بوتے پر بابو ہر حد پار کر جاتا ہے ، گھر کے آ زادانہ ماحول میں پرورش پانے والابابو دھیرے دھیرے Sexualityکا ایسا شکار ہو جاتا ہے کہ پھر اس کا مکرو فریب کے جا ل سے نکلنا نا ممکن ہو جاتا ہے دس سال کی عمر سے ہی ننگے میگزین پڑھنا ، ننگی باتیں کرنا اور ننگی حرکتیں کرنابابو کا پسندیدہ مشغلہ تھا ، جب بابو تین چار سال کا تھا تو بابو کی ماں بابو کو نہ صرف خود نہلاتی تھی بلکہ خود بھی کپڑے اتار کر بابو کے ساتھ ہی نہانے لگتی ہے اسی لیے بابو کا معصوم ذہن بابو کو ورگلانے لگتا ہے اور دھیرے دھیرے اس کے اندر شیطانی خون لال ہونے کی بجائے کسی اور رنگ میں تبدیل ہونے لگتا ہے نہ سفید ، نہ لال کچھ اور ہی ۔ زندگی کی رفتار بابو کے اندر سے مسلمانی کا لباس اتار کر اسے شیطانی چوغہ پہننے پر مجبور کر دیتا ہے اور بابو کی زندگی کا مقصد صر ف اور صرف سیکس کرنا رہ جاتا ہے پہلے لڑکی کو پھنسانا اور اسے دھیرے دھیرے اپنی طرف کھینچنا اور اسے جنت کی سیر کرانا بابو کے دائیں ہاتھ کا کھیل تھا ۔

بابو کی ماں اور باپ کے گھر کا ماحول بہت آ زادانہ تھا باپ اپنی ڈگر پر زندگی گزار رہا تھا اور ماں اپنے رستے پر چل رہی تھی بابو کی کسی کو فکر نہیں تھی لیکن اس کے باوجود بابو

 بی اے کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے بی اے کرنے کی خوشی میں بابو کا دوست عاطف اسے اپنے گاﺅں جانے کے لیے اکساتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ یہ بھی بتاتا ہے کہ جب تم گاﺅں کی الہڑ مٹیار وں کو دیکھے گا تو ڈیفنس کی لومڑیوں کو بھول جائے گا بابو اپنے دوست کے ساتھ گاﺅں جانے کی تیاری کرتا ہے وہاں ایک گاﺅں کی شادی میں بابو کی اچانک ملاقات بانو سے ہوتی ہے بابو کا بانو کو دیکھنا اور بانو کا شرمانا اور دوڑھ جانا ، ایک دن موقع دیکھ کر بابو اپنے دوست عاطف کو واپس شہر بھجوا دیتا ہے اور خود بانو کو تلاش کرتا کرتا بانو تک پہنچتا ہے اور بانو کو اپنی طرف کھینچتا ہے ، بابو بانو کو گلے لگا لیتا ہے بانو مسکرا کر بابو کو پیچھے ہٹاتی ہے لیکن بابو بانو کو جانے نہیں دیتا اور بابو بانو کو لگا تا ر چومتا ہے ، بانو شرما کر رہ جاتی ہے اور یہ سمجھتی ہے کہ واقعی بابو کی محبت سچی ہے بانو مسکرا کر بابو کی طرف دیکھتی ہے اور دوڑھنے لگتی ہے کہ بابو بانو کو پکڑ لیتا ہے اور بانو کو اپنی بانہوں میں بھڑ لیتا ہے یک دم بابو کے چہرے کا رنگ بدلنے لگتا ہے اور بانو کے چہرے کی رنگت زرد پڑ جاتی ہے جب بابو بانو کی قمیض اتارنے لگتا ہے بانو کی چیخیں بلند ہوتی ہیں لیکن بانو کی چیخیں سننے والا کوئی نہیں بانو چیختے ہوئے دوڑھنے لگتی ہے بابو بانو کی قمیض اچھال کر دور پھینکتا ہے پھر بابو بانو کے پیچھے دوڑھتا ہے اور بانو کو پیچھے سے زبردستی پکڑ کر اپنی بانہو ں میں جکڑ لیتا ہے اور بانو کی شلوار اتار کر اس پر جھپٹا جھپٹی کرتا ہے ساری رات بابو بانو کو اپنی بانہوں میں جکڑے رکھتا ہے اور اس کا رس پیتا رہتا ہے بانو کی سسکیاں دم توڑ جاتی ہیں ہونٹوں سے خون نکلنے لگتا ہے ، بانو جیسے ہی اپنے ماضی سے واپس آ تی ہے تو ہ مدہوشی کے عالم میں باہر نکلتی ہے اورباہر کی جانب دوڑھ لگا دیتی ہے ، گاﺅں کے کچھ اوباش لڑکے بانو کوچھیڑنا شروع کر دیتے ہیں اور اسے غلط کلمات سے پکارنے لگتے ہیں ۔ گاﺅں کے چھوٹے لڑکوں نے اسے پتھر مارنے شروع کر دیے ، انھیں شاید یہ کھیل کھیلنے میں بہت مزہ آتا تھا لیکن وہ اس کی آنکھوں میں اداسی دیکھنا نہیں چاہتے تھے ۔ حویلی کی کچھ عورتیں اسے زبردستی پکڑ کر حویلی کی طرف لے گئیں جو گاﺅں کے پچھواڑے میں تھی ۔ سامنے سے ایک بزرگ آرہے تھے جن کی عمر ستر سال کے قریب تھی پتھر ان کے سر پہ بھی لگا یہ دیکھ کر لڑکے ان پر ہنسنے لگے ، کیوں بزرگو ! پتھر کیا زور سے لگا ۔ یہ کیا حرکت ہے اگر کوئی کا م نہیں کر سکتے تو کم ازکم اپنے ماں باپ کا ہاتھ ہی بٹا دیا کرو ، بزرگو نے رونے کے سے انداز میں کہا بزرگو ! آپ اپنا کام کرو ہمیں اپنا کام کرنے دو اوئے کمزادو کیوں اس بےچاری کو تنگ کرتے ہو اگر چوہدری صاحب کو پتا چل گیا تو

 سب لڑکوں نے یک جان ہو کر کہا زیادہ سے زیادہ کیا ہو گا ہمیں اس گاﺅ ں سے نکال دیں گے تو نکال دیں ویسے بھی اس گاﺅ ں میں رکھاہی کیا ہے ، بزرگ تو چلے گئے اور لڑکے ہنستے ہی رہے ۔ حویلی کی عورتوں نے اسے بڑی مشکل سے کمرے میں بند کیا اس کا کھانا پینا سب کچھ اسی کمرے میں ہو تا تھا بانو ایک دم چیخنے چلانے لگتی ہے ، خدا کے لیے خدا کے لیے مجھے یہاں سے نکالو ، خدا کے لیے ۔

x..۔۔۔۔۔۔۔x۔۔۔۔۔۔۔x

بانو اپنا حسن ایک شہری بابو کے قدموں میں ڈھیرکر چکی تھی ۔ بانو اپنی کسی سہیلی کی شادی پر گئی تھی ساتھ والے گاﺅں میں وہیں اس کی ملاقات بابو سے ہوئی تھی لیکن بانو

بےچاری کیا جانے عشقیہ باتیں بانو دل کے ہاتھوں مجبور ہوگئی اور بابو اس کا تو شاید کام ہی یہی تھا بھولی بھالی لڑکیوں کو اپنے جال میں پھانسنا صرف اور صرف یہی کام تھا بابو کا ، بابو نے بانو کو پوری گرفت میں لے لیا تھا کہ اب بانو کا باہر آنا ناممکن تھا ، اسے تو اپنے خاندان کی عزت کا بھی پاس نہیں تھا مگر اس کیے گئے وعدے پر اعتبار اٹھ گیا اور پھر وہ بانو بانو نہ رہی بلکہ بابو کے لیے انتقام بن گئی ۔

بابو کبھی نہ آیا نہ ہی اسے آنا تھا کیوں کہ وہ ایک ڈھونگی تھا ۔ یہ چار سال کا وقفہ بھی بہت ہو تا ہے اس چار سال کے وقفے میں انسان کی زندگی کا دارومدار بدل جاتا ہے ۔ درختوں کے پتے جڑ جاتے ہیں ، زندگی سیاہ بن جاتی ہے ۔

موبائل کی گھنٹی بجتی ہے چوہدری صاحب جو صوفے پر بیٹھے ہیں اور بانو کی وجہ سے پریشان ہیں

 ایک کنیز سلمیٰ آکر فون اٹھاتی ہے

چوہدری صاحب آپ کا فون آیا ہے ، ہاں بابا ! مجھے پتا ہے کہ میرا فون ہے تم سے کتنی بار کہا ہے کہ جب ہم پریشان ہوں فون نہ اٹھایا کرو لیکن تم پر کوئی اثر ہی نہیں ہو تا تم تو جیسے پتھر کی ہو گئی ہو اب فون پکڑا بھی دو میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو

 ہیلو ! چوہدری شہاب الدین نے فون پکڑتے ہوئے کہا

دوسری طرف سے ایک زنانہ سی آواز نے چوہدری صاحب کے بند ھ توڑے

 کیسے ہیں آپ چوہدری صاحب ۔۔۔۔۔۔وفا نے مسکراتے ہوئے کہا

آپ ! کہیں وفا جان تو نہیں

وفا تو میں اوروں کے لیے ہوں ، آپ مجھے صرف جان کہہ سکتے ہیں چلیں حضورِ نے مجھے یاد تو رکھا

جی کہیے کیسے فون کیا چوہدری شہاب الدین نے اضطراب کے عالم میں کہا

 جناب اتنے دن ہو گئے ہیں آپ آئے ہی نہیں آپ کو کیا پتا کہ آپ کے آنے سے مجھے کتنا سکون ملتا ہے ایسا کیو ںنہیں کرتے کہ آج رات کا کھانا

آپ ہمارے ساتھ ہی کھائیں اسی بہانے آپ امی سے بھی مل لیں گے

 جی! مس وفا دراصل مجھے یہاں بہت سے کام نمٹانے ہیں پھر کبھی پروگرام رکھ لیجیے گا چوہدری شہاب نے پریشانی کے عالم میں کہا

 لیکن ویکن کچھ نہیں ٹھیک تین بجے میں آپ کا انتظار کروں گی

ٹھیک ہے مس وفا ! میں تین بجے تک پہنچ جاﺅں گا رکھتا ہوں ، خداحافظ

 خدا حافظ اپنا خیال رکھیے گا

 یہ لو موبائل فون ادھر میز پر رکھ دو اور منشی کو بلاﺅ

 جی ! چوہدری صاحب !

تھوری دیر بعد منشی بھی آجاتا ہے کیا بات ہے چوہدری صاحب ، آپ پریشان سے لگتے ہیں ، پریشانی تو اب میرا مقدر بن چکی ہے جو مجھے بانو کی جستجوسے باہرنکلنے نہیں دیتی ۔۔۔۔۔۔چوہدری شہاب الدین نے پریشان ہوتے ہوئے کہا حضور اس جستجو کے باہر بھی ایک زندگی بستی ہے اور وہ ہے حقیقت کی دنیا ۔ تمھیں تو پتا ہی ہے کہ ہم بانو کی وجہ سے کتنے پریشان رہتے ہیں کہ ہمیں حقیقت دکھائی ہی نہیں دیتی منشی نے چوہدری صاحب کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

آپ سچ کہتے ہیں بانو بی بی کے پاگل پن نے ہم سب کو موم بنا دیا ہے بانو بی بی تو اس حویلی کی تاریخ کا حصہ بن چکی ہے جیتا جاگتا ماضی بن گئی ہے ۔

ہاں منشی بانو کا ماضی اور مستقبل سب تباہ برباد ہو چکا ہے اور اس کا ذمہ دار وہ شہری بابو ہے مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے جب وہ ایک ایسی جگہ سے لائی گئی جہاں آس پا س جھونپڑیاں تھیں وہ بے ہوش پڑی تھی ، جب اسے ہو ش آیاتو اس کی زندگی لُٹ چکی تھی اس کی زبان پر صرف اور صرف ایک ہی نام تھا اور وہ نام تھا بابو کا ایک بار وہ مجھے مل جائے تو اسے یہی زمین میں گھاڑ دوں گا کاش وہ مل جائے ، حوصلہ کیجیے چوہدری صاحب ! اللہ سب کچھ اچھا کرے گامنشی چوہدری شہاب الدین کو حوصلہ دیتا ہے

تیری باتوں سے مجھے بڑا حوصلہ ملتا ہے منشی بابو اسے دھوکہ دے کر چلا گیا بانو پاگل ہو گئی طیبہ خاندان سے بغاوت کر کے تعلیم حاصل کرنے ہم سے کوسوں دور لندن چلی گئی اور آج تک واپس نہیں آئی نا ہی اس نے کوئی خط لکھا ، نہ ہی اپنے آنے کی اطلاع دی حالانکہ ہمارے خاندان میں لڑکیوں کو تعلیم دلوانا جرم سمجھا جاتا ہے طیبہ اس حویلی کا خاص حصہ تھی بانو کے بعد لیکن وہ ہمیں چھوڑ کر چلی گئی ۔

 سب قسمت کے کھیل ہیں چوہدری صاحب خیر آپ نے اچھا کیا جو مجھے بلا لیا میں آپ کو یہ خط دینے آیا تھا ۔

خط ! کس کاخط ۔۔۔۔۔چوہدری شہاب الدین خط پر بہت حیران ہوا

جی ! وہ ! طیبہ بی بی کا ۔۔۔۔۔۔منشی نے بہت ہی زیادہ پریشانی کے عالم میں کہا

 کیا ! طیبہ کا ! چوہدری صاحب نے ایسے کہا جیسے وہ واقعی طیبہ کو نہیں جانتے تھے ، منشی تم یہ خط لے جاﺅ اور اسے جلا دو ہما را اس سے کوئی رشتہ نہیں ہے اتنے سالوں کے بعد اسے خیال آیا ہے ہمارا ،

ایسا نا کہیں چوہدری صاحب ، خون کے رشتے اتنی آسانی سے توڑے نہیں جاتے غصہ تھوک دیجیے اور خط لے لیجیے

    ”    منشی خط میز پر رکھ کر چلا گیا "

اور چوہدری صاحب ڈرتے ڈرتے طیبہ کا خط پکڑتے ہیں اوربانو کے کمرے کی طرف بڑھتے ہیں ، بانو اپنے کمرے میں گڈے سے کھیل رہی تھی ، پھر وہ اچانک اپنے دونوں ہاتھوں کو دیکھ کر رونے لگتی ہے اور اپنے آنسو پونچھتی ہے ، پھر گڈے سے باتیںکرنے لگتی ہے گڈے ! گڈے ! کیا تم مجھ سے شادی کرو گے بولو ! بولو ! بولتے کیوں نہیں پھر وہ اپنے ہاتھوں کو دیکھتی ہے اور خود سے ہی مخاطب ہوتی ہے

         تم نے ابھی میرے ہاتھوں کے چھالے دیکھے ہی نہیں

          تم تو اب میری زندگی میں شامل ہی نہیں ۔۔۔۔۔۔

          ل ±ٹ گئے ، برباد ہوئے ، راستے میں پتھر آہی گئے ۔۔۔

          ہم تو دربدر ہوئے ۔۔۔۔۔ہم تو دربدر ہوئے ۔۔۔۔

چوہدری صاحب ہاتھ میں خط لیے بانو کے کمرے کے باہر کھڑے ہیں اور سوچ رہے ہیں کہ وہ بانو کے کمرے میں جائیں یا نہ جائیں پھر وہ ہمت کرکے بانو کے کمرے میں چلے ہی جاتے ہیں ۔

کیا ہو رہا ہے بانو ! میری بہن! چوہدری شہاب الدین بانو کو پیار کرتے ہوئے دیکھ نا لالہ یہ گڈا بلکل نہیں بولتا ۔۔۔۔۔بانو شہاب الدین سے شکایت کرتے ہوئے

 گڈے بھی کبھی بولے ہیں چلی نہ ہوﺅے تے

تو کیا یہ گونگا ہے ، بانو کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے

 ہاں یہ گونگا ہے چوہدری صاحب نے بانو کے حق میں جواب دیا

بانو یہ تم باربار اپنے ہاتھوں کو کیوں دیکھ رہی ہو ، مجھے بتاﺅ تمھیں کیا پریشانی ہے

 لالہ ان ہاتھوں میں اپنے ماضی کی لکیروں کو ڈونڈھ رہی ہوں

 اس سے پہلے کہ بانو کوئی جواب دیتی شہاب الدین نے فوراًاس کی تایعد کر دی ، پگلی نہ ہو بھلا ہاتھ کی لکیریں انسان تو ناپ بھی نہیں سکتا وہ تو صرف دیکھ سکتا ہے

بانو ! جانتی ہے کس کا خط آیا ہے اس کا جس کے ساتھ تو گڈے گڑیا کا کھیل کھیلا کرتی تھی

بانو چوہدری سے خط لیتے ہوئے اور بڑے غور سے دیکھتے ہوئے جیسے خط سے شناسائی ہو ۔۔۔۔۔۔لالہ لالہ یہ تو یہ تو طیبہ کا خط لگتا ہے ، کہاں ہے طیبہ ! کہاںہے طیبہ ! دروازے کی طرف جاتے ہوئے چوہدری شہاب الدین بانو کو پکڑتے ہوئے زبردستی بستر پر بٹھاتے ہیں ، پگلی ! پہلے خط تو سن لے کہ طیبہ نے اس خط میں کیا لکھا ہے تو اچھا جناب لکھا ہے

السلام علیکم

کے بعد عرض ہے کہ آپ یہاں خیریت سے ہوں گے ۔ میں بھی یہاں خیریت سے ہوں ، میں جانتی ہوں کہ آپ مجھ سے ناراض ہوں گے ، آپ کا ناراض ہونا بنتا ہے لیکن میں بھی کیا کرتی میں کب تک حویلی کے اصولوں کی پابند رہتی ، اسی لیے میں نے فیصلہ کر لیاتھا کہ جو بھی ہو مجھے اس حویلی میں نہیں رہنا چاہیے اور پھر میں آپ سے ، بغاوت کر کے کوسوں دور لندن چلی گئی یہاں آکر مجھے زندگی کے معنی پتا چلے کہ زندگی آخر کیا ہے اور زندگی کتنی حسین ہے اور ایک ہم ہیں جو چند اصولوں کی خاطر اپنے ہی ملک کو تباہ کر رہے ہیںعورتوں کو دربدر کر رہے ہیں ، ان سے ان کا حق چھین رہے ہیں ، انھیں عزت نہیں دے رہے ، بلکہ انھیں بے عزت کر کے ان سے ان کی چادر بھی چھین رہے ہیں اور بھائی جان آپ جانتے ہیں کہ اگر کسی عورت سے اس کی چادر چھن جائے تو وہ کہیں کی نہیں رہتی میں بھی کیا بات لے کر بیٹھ گئی لکھنے

 بیٹھو ںگی تو شام ہو جائے گی بہرحال اصل بات کی طرف آتی ہوں میں نے ماسٹر کر لیا ہے اور مجھے ڈگری مل چکی ہے اور ایک اور بات بھی میں آ پ کو بتانا چاہتی ہوں بلکہ سر پرائز دینا چاہتی ہوں جب آ ﺅں گی تو آ پ خود ہی دیکھ لینا کہ کیا سر پرائز ہے ۔

 لالہ چپ کیوں ہو گیا بولتے کیوں نہیں مدت بعد تومجھے بولنا نصیب ہوا ہے آگے کیا لکھا ہے لکھا ہے بانو آپی کیسی ہے ان کا خیا ل رکھا کرو ان کو اکیلا نہ چھوڑا کرو اور لالہ مجھے اپنا وطن بہت یاد آتا ہے اپنے وطن کی مٹی اور خوشبو سے دور رہ کر بھی میں اس کو چھو سکتی ہوں ، محسوس کر سکتی ہوں ۔ اس سے زیادہ میں یہی کہوں گی کہ اپنا خیال رکھاکرو سب سے بڑھ کر خوشی کی بات یہ ہے کہ میںجلد ہی آپ کے پاس آرہی ہوں ، اور ہاں ایک سرپرائز بھی دینا ہے آپ کو ، جب میں آﺅں گی تو آپ دیکھنا اور ناراض نہ ہو نا بلکہ دل سے اسے قبول کرنا آپ کو اور بانو آپی کو بہت بہت سلام ! فقط آپ کی لاڈلی طیبہ

 چوہدری شہاب الدین سرپرائز والی بات پر سوچ میں پڑ جاتے ہیں ۔     (جاری ہے )

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے