سر ورق / ناول / خون ریز امجد جاوید قسط نمبر 8

خون ریز امجد جاوید قسط نمبر 8

خون ریز

امجد جاوید

قسط نمبر 8

صبح کا پہلا پہر گزر چکا تھا ۔میں عارف کے فون کا انتظار کر رہا تھا مگر اب ابھی تک اس کی طرف سے کوئی کال نہیں آئی تھی۔ میں خود اسے فون نہیں کرنا چاہ رہا تھا۔ پتہ نہیں وہ کن حالات میں تھا۔ اسے کچھ معلوم بھی ہوا تھا یا نہیں ؟میں اسے کوئی ذہنی کوفت نہیں دینا چاہ رہا تھا۔ میں ناشتہ کر کے باہر لان میں آ گیا۔ وہاں پر بابا بیٹھے ہوئے تھے۔ ان کے ساتھ ان کے دوست براجمان تھے ۔وہ اپنی باتیں کر رہے تھے ۔وہی سے مجھے پتہ چلا کہ اکبربھائی اگلے دن کاغذات نامزدگی جمع کروانے والے ہیں۔ پورے حلقے میں صرف ایک حریف تھاجوان کا سامنا کرنے کے لئے اپنے کاغذات نامزدگی جمع کروائے گا۔ یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی۔ اس سے اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ الیکشن کیسا ہوگا ۔سردار افضل کے بیٹا افضل سردار وہ حریف تھا جس کا اکبر بھائی سے سامنا کرنا تھا۔ ظاہر ہے اس کا باپ اسی سیٹ پر لڑا تھا اور کامیاب بھی ہوا تھا۔ میرے خیال میں یہ الیکشن کو اتنا مشکل نہیں تھا یا شاید اس لئے کہ میںان کی باتوں میں دلچسپی نہیں لے رہا تھا ۔میرا سارا دھیان عارف کے پاس موجود ان لوگوں کی طرف تھا جنہوں نے بڑی دلیری کے ساتھ یا انتہائی بے وقوفی کے ساتھ ہم پر قاتلانہ حملہ کیا تھا۔ میں کچھ دیر وہاں بیٹھا رہا پھر اٹھ کر اندر چلا گیا ۔ مجھے بے چینی ہو رہی تھی۔میں تھوڑی دیر حویلی میں رہا پھر پورچ میں کھڑی ہوئی اپنی فور وہیل لے کر شہر والے بنگلے کی طرف چل نکلا۔

 میں جانتا تھا کہ یہ راستہ پر خطر ہے لیکن اب حالات وہ نہیں رہے تھے جو پہلے ہوا کرتے تھے۔ تھوڑی دیر بعد میں شہر والے بنگلہ پہنچ گیا۔ وہاں ماحول بڑا پرسکون تھا۔ مجھے وہاں پہنچے ہوئے زیادہ وقت نہیں ہوا تھا کہ عارف کا فون آگیا میں نے اس کی کال رسیو کی تو اسے پتہ چلا کہ میں بنگلے میں ہوں ۔اس نے اپنے آ نے کا کہہ کر فون بند کردیا۔

مجھے اس کا زیادہ انتظار نہیںکرنا پڑا۔ وہ تھوڑی دیر بعد میرے پاس تھا۔ ہم دونوں لاﺅنج میں آمنے سامنے بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ دیر سوچتے رہنے کے بعد وہ بولا

” ان کے بارے میں کچھ پتہ نہیں چلا۔“

” کیا کہہ رہے ہو یار ایسی کون سی مشکل ہے جو ان کے بارے پتہ نہیں چل سکا؟“ میں نے بے چینی سے پوچھا

” نہ جانے کون ہیں۔ میں نے ان سے ہر طرح سے پوچھ لیا۔ انہیں ٹارچر کیا، پیار سے بھی پوچھا لیکن وہ جو کہہ رہے ہیں، انہیں اتنا ہی پتہ ہے۔“اس نے پر سکون لہجے میں کہا

” کیا مطلب ۔“ میں نے حیرت سے پوچھا

”مطلب یہ کہ سیدھی سیدھی سی بات ہے۔ ان لوگوں کو پیسے دیے گئے اور وہ قتل کرنے کے لئے چڑھ دوڑے۔ جس نے انہیں قتل کرنے کے لئے کہا، اس کے اور ان کے درمیان صرف ایک فون کا رابطہ ہے۔“

 ”تو کیا فون سے وہ لوگ ٹریس نہیں ہو سکتے؟“میں نے تیزی سے پوچھا

” حیرت انگیز بات ہے وہ فون اور فون نمبر جہاں سے کال کی گئی وہ کہیں بھی درج نہیں ہے۔ اب تو ان کا سراغ بھی نہیں مل رہا۔“ اس نے بھی بے چین لہجے میں جواب دیا۔

” کیا مطلب ؟“ میں اضراری انداز میں پوچھا

”مطلب یہ کہ وہ لوگ ضرور کوئی خاص ایسی ٹیکنالوجی رکھتے ہیں جن سے ان کا فون ٹریس نہیں ہو پایا ۔لگتا ہے وہ کوئی معمولی لوگ نہیں ہیں۔“

 ”یار مجھے سمجھ نہیں آ رہی تم کہنا کیا چاہ رہے ہو؟“میں نے الجھتے ہوئے کہا تو مسکراتے ہوئے بولا

” تم فورسز کے بندے نہیں ہو، اس لیے تمھیں میری بات سمجھ نہیں آ رہی۔ ایسا ہوتا ہے۔ دنیا میں ایسی ایسی تنظیمیں موجود ہیں، ایسے نیٹ ورک ہیں، ایسے گروپ ہیں، جو ایسی ٹیکنالوجی استعمال کرتے ہیں جس کے بارے میں عام آدمی کو پتہ ہی نہیں ہے۔ فورسز کے پاس بعض اوقات ان کی معلومات نہیں ہوتیں۔ وہ جیسے کہتے ہیں نا کہ جرم پہلے ہوتا ہے اور قانون بعد میں بنتا ہے ۔ایسی ہی کچھ صورتحال سے ہمارا سامنے ہو رہا ہے۔“ اس نے مجھے سمجھاتے ہوئے کہا

” تمہارا جس فورس سے تعلق ہے کیا اسے اس ٹیکنا لوجی کے بارے میں نہیں پتہ؟“

” بالکل بتایا ہے، ایسی بات نہیں ۔ میرے پاس جو ٹیکنالوجی ہے یا میرے پاس جو دائرہ اختیار میں ہے، وہ اتنا زیادہ نہیں جتنا ان لوگوں کے پاس ہے۔ جن سے ہمارا سامنا ہو گیا ہے۔ ایک طرح سے یہ اچھا ہوا۔ ہمیں پتہ شروع میں ہی پتہ چل گیا تھاکہ ہمارا کن لوگوں کے ساتھ واسطہ پڑنے والا ہے۔“اس نے پر سکون انداز میں کہا

 ”عارف تمہاری باتوں سے یہ پتہ لگتا ہے کہ شاید تم کوئی جب تم کسی مشن پر ہو؟“میں نے سنجیدگی سے پوچھا

” بالکل میں مشن پر ہوں۔“اس نے صاف لفظوں میں کہا

” کیا تم مجھے بتا سکتے ہو ؟“ میں نے پوچھا

” اسی لئے میں تمہارے پاس آیا ہوں۔“ یہ کہہ کر وہ تھوڑی دیر کے لئے خاموش ہو گیا پھر کہتا چلا گیا،” جس طرح میں نے تمہیں پہلے بتایا ، ہمیں روہی کے صحرا میں جو جلی ہوئی مٹی کے نشان ملے ہیں۔ وہ نہ تو خانہ بدوشوں کے ہے اور نہ چرواہوں کے۔ اس مٹی کا تجزیہ کیا گیا۔ اس میں کچھ ایسے کیمیائی اجزا پائے گئے ہیں جو کسی خاص پاور کے متعلق ہوتے ہیں ۔ کچھ نہ کچھ ایسا کھیل کھیلا جا رہا ہے جو ہماری آنکھوں کے سامنے تو نہیں ہم سے چھپ کر بہت بڑی گیم کھیلی جا رہی ہے۔ یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم اس معاملے کو سمجھیں بلکہ اس کھیل کا مقصد بھی پتہ کریں کہ وہ کیا ہے؟“

 ” کیایہ کوئی کہانی تو نہیں؟“ میں نے پوچھا

” نہیں، کہانی نہیں ہے بلکہ ایک حقیقت ہے۔ جس کے بارے میں ابھی پتہ نہیں چل رہا۔ ہم اس کی کھوج میں ہیں۔“اس نے سنجیدگی سے کہاتو میں نے پوچھا

” تمہارا پلان کیا ہے؟“

” میرا پلان یہ ہے۔ ہم کچھ وقت صحرا میں گزار یں۔ وہاں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے اس کے بارے میں پتہ کریں۔“

 ”میں سمجھ گیا۔“

” اگر سمجھ گئے ہو اور میرا ساتھ دینا چاہتے ہو تو سائیں محبت خان کو تم ہی نے کنٹرول کرنا ہے۔ صحرا میں کیا ہوتا ہے ،ہم اس کا کھوج کیسے لگاتے ہیں، یہ ہم پہ چھوڑ دو۔“ اس نے سمجھانے والے انداز میں کہا

” ٹھیک ہے میں تمہارے ساتھ ہوں۔ بس یہ الیکشن کی ٹینشن ہے ۔یہ ہوجائے تو پھر میں تمہارے ساتھ ہوں گا۔“

” تم الیکشن کی پرواہ مت کرو ،یہ ہو جائے گا۔“ اس نے یوں کہا جیسے اس نے اس بارے کچھ پہلے ہی سوچ رکھا ہو ۔

” ٹھیک ہے میں تمہارے ساتھ ہوں۔“ میں نے حتمی لہجے میں کہا

 ”میرے خیال میں آج سائیں محبت خان سے رابطہ کرو ۔ اسے کہو اپنے چند خاص آدمی دے۔ تاکہ وہ ہمارے جوانوں کے ساتھ وہاں جا سکیں۔“اس نے سوچتے ہوئے انداز میں کہا

” ٹھیک ہے میں بھی کہہ دیتا ہوں۔“ یہ کہتے ہوئے میں نے اپنا سیل فون نکالااور سائیں محبت خان کے نمبر ملا لئے ۔کچھ دیر میں ہی رابطہ ہوگیا۔ اس نے میری بات غور سے سنی اور چند آدمی ساتھ میں کر دینے کا عندہ دے دیا ۔میں یہی بات عارف کو بتائی تو وہ اٹھتے ہوئے بولا

” ٹھیک ہے ، میں چلتا ہوں ۔رابطہ رہے گا ۔“

وہ اٹھ کر چلا گیا ۔میں اپنے بیڈ روم میں آ گیا ۔ میں سکون لینا چاہتا تھا ۔میں جو لمبی تان کر سویا تو شام ہو گئی ۔

میں فریش ہو کر لاو ¿نج میں آیا توعارف کا فون آ گیا۔ اس نے بڑے پر سکون لہجے میں بتایا

 ”سائیں محبت خان کے لوگوں کے ساتھ ہمارے آدمی صحرا میں پہنچ چکے ہیں۔“

” کوئی پرابلم تو نہیں آئی؟“ میں نے پوچھا

 ” ابھی تو کوئی پرابلم نہیں ، میں نے تمہیں صورت حال کے بارے میں بتایا ہے ۔ مجھے کل وہاں جانا ہے، اگر تم چاہو تو ہم اکھٹے نکل جائیں گے۔“ اس نے بتایاتو میں نے پرسکون انداز میں کہا

” ابھی تو میں شہر میں ہوں ، اگر میں حویلی میں ہوا تو بتانا ، میں بھی روہی نکل جاﺅں تمہارے ساتھ ۔“

” اوکے ، میں بتا دوں گا۔“ اس نے کہا اور پھر فون بند کردیا۔ میں پرسکون ہو گیا۔

٭….٭….٭

سہ پہر ہوچکی تھی۔ میں حویلی ہی میں تھا جب عارف کا فون آیا۔ وہ روہی کی طرف ہی جا رہا تھا ۔ اس نے جاتے ہوئے مجھے دعوت دی کہ اگرجانا ہے تو چلو۔ میرے پاس کوئی کام نہیں تھا۔مجھے تجسس تھا کہ دیکھوں وہ وہاں روہی میں کیا کرتے ہیں۔ اس لئے میں فوراً ہی تیار ہو گیا۔ میں نے اسے کہا کہ تم چلو ،میں تمہارے پیچھے ہی آ رہا ہوں۔ میں نے اپنی فوروہیل نکالی اور اس راستے پر ہو لیا جس کے بارے میں آصف نے مجھے بتایا تھا۔

 ہمارا ایک دوسرے سے رابطہ تھا۔ تقریبا آدھے گھنٹے کے بعد میں بھی اسی ڈیرے میں پہنچ گیا جہاں محبت خان سے ہماری پہلی ملاقات ہوئی تھی۔ عارف کے چند دوست وہاں پر بیٹھے ہوئے تھے۔ بلاشبہ وہ سب اس کے ماتحت تھے لیکن اس کا اپنے ماتحتوں کے ساتھ رویہ دوستوں کی طرح ہی تھا۔ انہوں نے صحن میں کافی ساری لکڑیاں جلارکھی تھی۔صحن میں ایک الاﺅ روشن تھا ۔میں نے فوروہیل کھڑی کی اور ان کے پاس جا پہنچا ۔وہ سبھی خوش دلی سے ملے۔

” اچھا ہوا تم آ گئے ہو۔ یہ لوگ آتے ہیںہرن کا شکار کرچکے ہیں۔ ابھی تیار کر کے کھلاتے ہیں۔“ عارف نے خوشگوار موڈ میں کہا

” واہ ، آتے ہی شکار کرنا شروع کردیا ہے۔“ میں نے ہنستے ہوئے کہا

 ”ہم یہاں شکار کرنے ہی تو آئیں ہیں ۔“ ان میں سے ایک لڑکے نے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا

” لیکن دیکھنا کہیں شکار نہ ہوجانا۔“ میں نے بھی مذاق کے انداز میں اسے سمجھایا

” یہ تو ہے جو لوگ شکار کرنے جاتے ہیں، وہ شکار ہو بھی سکتے ہیں۔“ اس نے سنجیدگی سے کہا

 ”جب یہ احساس ہو تو بندہ بڑا محتاط رہتا ہے۔“ میں نے کہا تو وہ سر ہلا کر رہ گیا ۔میری یہ بات سب لوگوں نے سنی تھی ۔ شاید انہیں کچھ ایسا احساس ہو اتھا کہ ایک دم سے خاموشی چھا گئی ۔تبھی عارف نے کہا

 آﺅ کچھ دیر اندر کمرے میں بیٹھتے ہیں۔ تب تک یہ تیار کر لیتے ہیں۔“ ہم دونوں کمرے میں پڑی ہوئی چارپائیوں پر آکر بیٹھ گئے۔ نجانے کیوں باتوں کے دوران مجھے لگا کہ جیسے عارف مجھ سے کچھ کہنا چاہتا ہے لیکن کہہ نہیں پا رہا ہے ۔ شاید سائیں محبت خان کے لوگو ںسے کترا رہا تھا۔ ہم یوں ہی گپ شپ لگاتے بیٹھے رہے۔ یہاں تک کہ وہ ہرن تیار کر کے لے آئے۔ ہم سب ایک دائرے میں بیٹھ گئے اور کھانے لگے۔ کھانے کے بعد ہم قہوہ پی چکے تو عارف نے مجھ سے کہا

” یار کھانا کچھ زیادہ ہی کھا لیا ہے ۔ آﺅ ذرا باہرٹہلتے ہیں۔ باہر کا ماحول بھی دیکھیں کیسا ہے۔ “

ہم چہل قدمی کے انداز میں باہر صحن میں آ گئے۔ پھرڈیرے سے نکل کر کھلے صحرا میں آگئے۔ ہر طرف چاندنی بکھری ہوئی تھی۔ کچھ دیر پہلے چاند نکل آیا تھا ۔صحرا کی چاندنی دیوانہ کر دیا کرتی ہے۔ ہمیں ایک اونچے ٹیلے پر جا کے بیٹھ گئے۔ میں چاہتا تھا عارف خود کوئی بات کریں۔ کچھ دیر اِدھر اُدھر کی باتوں کے بعد اس نے مجھ سے پوچھا

” علی، کیا ہم سائیں محبت خان پر اعتماد کر سکتے ہیں؟“

” یار ،جو بھی باتیں ہوئی ہیں، تمہارے سامنے ہوئی ہیں ۔پتا نہیں تمہیں اس پر اعتماد کیوں نہیں آرہا۔ اگر میری رائے چاہتے ہو تو مجھے اب کسی پر اعتماد نہیں رہا۔ “ میں نے صاف طور پر کہہ دیا

” ہاں تّنی والے واقعہ کے بعد….“ وہ کہتے کہتے رُک گیا۔

” یہ تجربہ اپنی جگہ ، لیکن ہم کسی کے بارے میں حتمی کچھ نہیں کہہ سکتے ۔“ میں نے اپنی رائے دیتے ہوئے کہا تو وہ خاموش رہا، تبھی میںنے پوچھا،” تمہارا کیا خیال ہے سائیں محبت شاہ کے بارے میں؟“

” میرا اس پر اعتماد کرنے کو دل نہیں چاہتا لیکن ایسا کرنا ہماری مجبوری بھی ہے ۔ویسے ممکن ہے وہ اُسے ہماری بات سمجھ آ گئی ہو۔“ اس نے سنجیدگی سے کہا

”اگر بات سمجھ میں آجائے تو اچھا ہے۔ میں نے کہا پھر چند لمحے رُک کر پوچھا،” یہ بات تم نے مجھ سے کیوں کہی؟“

” اس لئے علی کہ ممکن ہے یہاں سے کچھ ایسا دیکھنے کو مل جائے جو ہمارے ملک کے خلاف ہو۔ تمہیں پتا ہے سائیں محبت خان پہلے ہی ان لوگوں کے ساتھ تھا۔“ اس نے اپنا شک مجھ سے کہہ ڈالا

” میں تمہاری بات سمجھ رہا ہوں تو مجھے یہ بتاو تمہیں خطرہ لوگوں سے ہے؟“ میں نے پوچھا

”کوئی چھپا دشمن ہے جویہاں کسی نہ کسی سرگرمی میں مصروف ہے، وہ کون ہے ؟ کوئی بھی ہو سکتا ہے ۔“ ا س نے کہا تو مجھے سمجھ میں آ گیا ۔ دشمن سامنے نہ ہو نے کی وجہ سے وہ انتہائی تذبذب کا شکار تھا ۔

” اب آگئے ہیںنا ،دیکھ لیں گے کیا ہوتا ہے ۔“میں نے کہا اور اردگر دیکھنے لگا۔ چاندنی اپنے جوبن پر تھی ۔ ہم کچھ دیر مزید بیٹھے باتیں کرتے رہے ۔ پھر واپس ڈیرے کی جانب چل پڑے ۔ انہی لمحات میں عارف کا فون بج اٹھا۔وہ اس کے ہیڈکواٹر سے کال تھی۔ کچھ دیر باتوں کے بعد اس نے فون بند کردیا۔ ہم ڈیرے پر آگئے ۔

میرے ذہن میں تھا کہ میں سائیں محبت خان کے لوگوں کے ساتھ کر گپ شپ کروں گا اور ان سے پوچھوں گا کہ وہ یہاں کیا کچھ کرتے رہے ہیں ۔میں کمرے میں آگیا اور ان سے گپ شپ کرنے لگا ۔وہ دو تھے بخشو اور دِتّا ۔کافی عرصہ پہلے یہاں رہنے کی وجہ سے انہوں نے خوب باتیں بتائیں ۔ وہ یہاں پر کیا کچھ کرتے رہے تھے۔ ان کی باتوں سے مجھے یہی اندازہ ہوا کہ وہ صرف سمگلنگ کے دھندے میں ملوث تھے۔ یہاں سے وہ بندے اس طرف بھیجتے تھے اور وہاں سے بندے اِدھر آتے تھے۔ شاید ان کا ایک انجان معاہدہ تھا ۔جس کے تحت لوگ ادھر آتے جاتے رہے تھے ورنہ سرحدوں پر اس طرح کے انتظام ہیں کوئی بھی ان سے نظریں چرا کر نہ ادھر سے ادھر جا سکتا ہے اور نہ ادھر سے ادھر آ سکتا ہے۔

 رات کا دوسرا پہر ختم ہونے کو تھا۔ میں اس سے باتیں کر رہا تھا۔ ایسے میں میرے فون پر کال آگئی۔ دوسری طرف انور تھا۔ وہ خاصا چہک رہا تھا ۔ میں نے کال رسیو کی تو تمہیدی باتوں میں اُس نے پوچھا

” کہاں ہو ؟“

” میں صحرا میں ہوں۔“ میںنے اسے بتایا

” ہائیں ، اُدھر کیا کر رہے ہو؟“ اس نے پوچھا

” ایسے بس دل چاہا تو یہاں آگیا ،خیریت فون کیوں کیا؟“ میں نے پوچھا تو وہ کھکھلا کر ہنس دیا ۔ پھر بولا

” میں یہاں آنٹی صوفیہ کے پاس بیٹھا ہوا تھا۔ تمہارے بارے میں پوچھ رہی تھی۔“

”خیر ہے میرا ذکر چھڑ گیا۔“ میںنے مزہ لیتے ہوئے پوچھا

” یار تم ہمارے دوست ہو۔ تمہارا ذکر نہیں چھڑے گا تو اور کس کا ہوگا۔ خیر ہی ہے ، لو تم خود بات کر لو۔“ اس نے کہا تو لمحہ بھر کے سناٹے کے بعدآنٹی صوفیہ کی لوچ دار آواز میں سنائی دی،”علی اس رات تم جلدی چلے گئے پھر ملے ہی نہیں؟“

” بس میں جلدی چلا گیا تھا۔“میں نے جواب دیا

” مگر میں تم سے ملنا چاہتی ہوں۔“ اس نے کہا

” ضرور میں جیسے لاہور آیا آپ سے ضرور ملوں گا۔“ میں نے کہا

”پکاوعدہ ہے نا ؟“ اس نے پوچھا

 ” بالکل میں ضرور آوں گا، ضرور ملوں گا آپ سے۔“ میںنے اسے یقین دلایا

 چلو میں تمہارا انتظار کرو گی۔“ یہ کہہ کر چند لمحے انور سے بات کی اور فون بند کر دیا ۔ ایک الگ کمرے میں میرا بستر لگا یا ہوا تھا۔ میں وہاں جا کر لیٹ گیا۔ ابھی مجھے لیٹے ہوئے زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ انور کا آ گیا ۔ میں نے فون اٹھایا اور کال رسیو کی تو دوسری طرف آنٹی اپنی لوچ دار آ واز میں بولی

” علی تم پتہ نہیں کب آﺅ گے۔ کیوں نہ ہم تمہارے پاس آجائیں ۔“

”آپ میرے پاس؟ٹھیک ہے آ جائیں ۔“ میں نے کہا تو وہ بولی

” چلیں پھرہم تمہارے پاس آ رہے ہیں۔ پتہ ہے ہم کیوں آ رہا ہیں تمہارے پاس؟“

” بتادیں آنٹی۔“ میںنے کہا

” ہم یہاں پر جتنے بیٹھے ہوئے ہیں نا ،ہم میں سے کسی نے بھی صحرا نہیں دیکھا۔ وہاں تم سے باتیں بھی ہو جائیں گی اور ہم صحرا بھی دیکھ لیں گے۔“ اس نے بتایا

” چلیں ٹھیک ہے میں انتظار کروں گا، کب آ رہے ہیں آپ؟“میں نے پوچھا تو وہ پر جوش انداز میں بولی

” ہم ابھی اور اسی وقت یہاں سے نکلنے لگے ہیں صبح تک تمہارے پاس پہنچ جائیں گے۔“

” ٹھیک ہے میں انتظار کروں گا۔“ میںنے کہاپھرکچھ دیر تک یوں ہی باتیں کرتے رہنے کے بعد کال بند کر دی ۔

 اگلی دن جب میری آنکھ کھلی تو میرا فون بج رہا تھا۔ وہ انور کی کال تھی۔

”کہاں ہو؟“ اس نے پوچھا

” تمہیں بتایا تو ہے میں صحرا میں ہوں ۔تمہارا انتظار کر رہا ہوں۔“ میں نے کہا تو وہ بولا

 ”ہم تمہاری حویلی پہنچ گئے ہیں۔“

” اچھا کیا ہے وہاں پہنچ جاو ¿۔ میں کال کرتا ہوں۔ وہاں فریش ہو کر یہاں پر آ جانا۔ تمہیں کوئی یہاں لے آئے گا۔“

” اچھی بات ہے۔“ یہ کہہ کر اس نے فون بند کردیا۔میں نے حویلی میں اپنے دوستوں کی آمد کے بارے میں بتا دیا میں نے انہیں یہ بھی کہہ دیا کہ ا نہیں کہاں پہنچانا ہے۔

 اس وقت شام ہونے والی تھی جب تین گاڑیاں ڈیرے میں داخل ہوئیں۔ ایک گاڑی میں ہمارے ذاتی ملازم تھے جو انہیں یہاں تک لے کر آئے تھے۔ دوسری گاڑی میں آنٹی صوفیہ انور اور ماہ نور تھے۔ اسے دیکھتے ہی خوشگوار احساس میرے اردگرد پھیل گیا۔ وہ تھی ہی ایسی پرکشش حسن مالک جو بہت کم دکھائی دیتا ہے۔ اس نے اپنی بڑی بڑی آنکھوں سے میری طرف دیکھا تو مجھے یوں لگا جہان ڈول رہا ہوں ۔ صحرا میں ایسا خوشگوار حسن دیکھنے سے سرشاری کا احساس ہو نے لگا تھا ۔ تیسری گاڑی میں حیدر ، ماہم اور رضا تھے۔ وہ سارے ایک کمرے میں آ کر بیٹھ گئے ۔ حویلی سے آئے ہوئے ملازم واپس جا چکے تھے ۔انہیں پانی وغیرہ پلاتے ہوئے میں ان سے راستے کے بارے میں باتیں کرتا رہا۔ تبھی ماہ نور نے کھوئے ہوئے لہجے میں کہا

” علی، صحرا کی شام تو جادو کر دینے والی ہوتی ہے۔“

 ”ٹھیک سمجھی ہو ۔صحرا کی شام اور ابھرتا ہواسورج جادو کر دیتا ہے۔“ میں نے خوش کن لہجے میں کہا

” سنا ہے چاندنی بھی مسحور کر دیتی ہے۔“اس نے میری آ نکھوں میں دیکھتے ہوئے کہا

” چاندنی ہوگی لیکن ذرا دیر سے۔“ میںنے کہا تو وہ مسکرا دی ۔مجھے لگا جیسے ماحول ہنس دیا ہو ۔

یا ر علی ، ہم کیمپنگ کریں گے صحرا میں۔ رات ادھر ڈیرے پر نہیں رہیں گے۔“ انور نے کہا

” تم لوگوں کی مرضی۔“ میں نے کہا توحید اور رضا کے ساتھ انور بھی گاڑیوں سے سامان نکالنے لگے ۔ تاکہ کھلے صحرا میں رات گزار سکے۔عارف کے لوگ ان کی مدد کر نے لگے ۔ تبھی میرے پاس کھڑے بخشو نے مسکراتے ہوئے کہا

” سائیں ، ان کے لئے کچھ اور بھی بندو بست بھی کر دوں کیا ؟“

”سائیں کھانے کا بندو بست تو یہاں ہو جائے گا ۔ ہرن ہے ، بکرے ہیں ۔اس کے ساتھ پینے کو ….“

” نہیں وہ ان کے پاس ہو گا ۔“ میںنے کہا

” پھر مکھ مل کو بلا لیتے ہیں ، ادھر پاس ہی میں رہتی ہے ۔ ابھی دو گھنٹے میں آ جائے گی ۔“ اس نے یوں کہا جیسے اس کے نام ہی سے نشہ طاری ہو گیا ہو ۔

” وہ کیا ہے ؟“ میںنے پوچھا

” سائیں ، اس ر وہی میں آ گ لگا دیتی ہے ۔شرارہ ہے شرارہ ۔“ اس نے انگوٹھے اور شہادت کی انگلی کو ملاتے ہوئے کہا تو میںنے ہنس کر کہا

” چل بلا لے ۔“

” ابھی آ جائے گی سائیں ۔“ اس نے کہا اور فوراً جیب سے فون نکال کر نمبر ملانے لگا ۔

 چاند اپنے جوبن پر تھا ۔ چاندنی ہر طرف پھیلی ہوئی تھی۔سنہری ٹیلے چاندنی کی وجہ سے دودھیا لگ رہے تھے۔ رات نے اپنا سحر طاری کیا ہوا تھا۔ ہم ٹیلوں پر دریاں بچھا کر بیٹھے ہوئے تھے۔ کچھ دیر پہلے کھانے سے فارغ ہوئے تھے۔ کھانابہت پسند کیا گیاتھا۔ روشنی کے لئے ایک جنریٹر کا بندوبست تھا۔ جس سے دو تین بڑے بلب روشن تھے۔ عارف اور اس کے لوگ کھانا کھا کر سارا سامان سمیٹ کر لے جا چکے تھے۔ ایسے میں مختلف عمر کے چند لوگ مقامی سازسرنگی، طونبہ،ڈھولک ،مندل ،جوڑی ،بانسری ،چمٹا،چپڑی لے کر آ گئے ۔ وہ ایک طرف ایک دری بچھا کر بیٹھ گئے۔ انہیں کچھ دیر ساز چھیڑنے میں لگی۔ اسی دوران یوں لگا جیسے ٹیلے کے پار سے کوئی شعلہ جوالہ اٹھا ہو۔ اک جواں سال لڑکی سفید رنگ کی لڑکی جس نے سرخ اور سبز رنگ کے ملے جلے رنگوں والا لباس پہنا ہوا تھا۔ اس نے اپنا آپ ایک بڑے سارے آنچل میں چھپایا ہوا تھا۔ اس نے ذرا سا جھک کر ہمیں سلام کیا اور اپنے سازندوں کے پاس کھڑی ہو گئی۔ اس کے آتے ہی ساز تیز ہونے لگے۔ ماحول بدلنے لگا۔ یوں لگا جیسے سارے صحرا میں موسیقی میں ڈوب گیا ہو۔ اس رقص کرنے والی کا نام مکھ مل تھا ۔ اس نے اپنا آنچل سمیٹا تو ایک شعلہ سا لپکا۔وہ صحرائی شرارہ تھا ۔ سرمئی سی لڑکی اپنے بدن میں یوں لگ رہی تھی جیسے کسی نے اسے تراش دیا ہو۔ اس نے ہلکی سی چولی پہنی ہوئی تھی جس سے اس کی جوانی پھوٹ رہی تھی ۔اس کی بے داغ پتلی سی کمر سے کہیں نیچے گھاگرا شروع ہو رہا تھا جو پنڈلیوں تک چلا گیاتھا ۔ اس کے پیروں میں پائل تھی۔اس نے اسی پائل کو چھنکاتے ہوئے گانا شروع کردیا۔

سوہنے اوٹھاں دے جتوال وے

میں نازک جٹی روہی دی

میرا آپے رکھ خیال وے ۔

اس کے ساتھ ہی وہ نرت بھاو ¿ لینے لگی تو ماحول ڈولتا ہوا محسوس ہوا۔ اس نے صحرا میں رنگ بھر دیاتھا۔ سازندوں نے کوئی مقامی گیت چھیڑا تو مکھ مل بول اٹھانے لگی ۔ یوں لگا جیسے سارا ماحول ہی ساکت ہو گیا ہو۔ اس کے گیت نے ایک سماں باندھ دیا۔ سبھی اس میں کھو چکے تھے۔ بخش اور دتو کے ساتھ عارف کے ماتحت ایک طرف بیٹھے ہوئے تھے۔یہ میرا گمان تھا کہ سازوں کی آواز بہت دور تک سنائی دے رہی تھی۔ ماحول بہت خوبصورت ہو رہا تھا ۔میں نے پہلی بار صحرا میں ایسا حسن دیکھا تھا ۔جو نہ صرف ماحول کو گرما دے بلکہ اسے رنگین بھی کر دے۔ مکھ مل کے بدن کا لوچ اور سازندوں کے آہنگ کا ساتھ اک نیا رنگ باندھ رہا تھا۔میں مکھ مل کے بدن کے لوچ میں کھویا ہوا تھا ۔مجھ سے کچھ فاصلے پر بیٹھی ماہ نور بھی اسے یوں دیکھ رہی تھی کہ جیسے پہلی بار کسی لڑکی کو رقص کرتے ہوئے دیکھا ہوا۔ بلاشبہ یہ صحرائی رقص اس کے لئے نیا ہوگا ۔بلاشبہ وہ بھی ایک حسین لڑکی تھی لیکن جو تیکھا پن مکھ مل میں تھا ، وہ فطری تھا ۔ایک سحر تھا جو ہر طرف طاری تھا ۔

 ایسے میں اچانک یوں لگا جس سے بجلی کڑکی ہو۔ سب نے اس سمت دیکھا۔ آسمان سے ایک نیلی لکیر صحرا کی ریت تک اُ تری۔ لمحہ سے بھی کم وقت کا جوکڑ کا اٹھا تو اس کے ساتھ ہیں روشن بلب بند ہوگئے۔ دور پڑے ہوئے جرنیٹر میں ایک دھماکہ ہوا اور وہاں آگ لگ گئی۔ پھیلے ہوئے پیٹرول سے ریت میں بھی آ گ لگ گئی ۔ یہ پراسرار لکیر نے ہمارے ماحول کو چیر کر رکھ دیا۔ سب لوگ سہم گئے۔ ایک چیخ بھی فضامیں بلند ہوئی۔ لیکن پتہ نہ لگا کہ یہ چیخ کس کی نکلی تھی ۔ عارف اور اس کے لوگ فوری طور پر اُٹھے اور انہوں نے اس جگہ کو گھیرے میں لے لیا جہاں آگ لگی ہوئی تھی۔ میں آسمان کی طرف دیکھ رہا تھا ۔وہاں بادل کا ایک ٹکڑا بھی نہیں تھا۔ لیکن وہ نیلی لکیر یوںٹیڑھی میڑھی ہو کر نیچے آئی تھی جیسے زمین پر بجلی گری ہو۔ وہ کہاں سے آئی تھی؟ اس کا پتہ نہ چل سکا ۔میںیہ دیکھ ہی رہا تھا کہ کافی فاصلے پر ایسی ہی ایک اور لکیریں نمودار ہوئی اور کڑکے کے ساتھ وہ بھی معدوم ہوگئیں۔ میں اس طرف جانے کے لیے بڑھا ہی تھا کہ عارف نے مجھے روک لیا

” رُک جاو ¿ علی، اُدھر نہیں جانا، یہاں دیکھتے ہیں۔“

 میں رک گیا اور وہ وہاں تک چلا گیا جہاں جنریٹر میں آگ لگی ہوئی تھی۔ لیکن سوائے آگ کے وہاں پر کچھ بھی نہیں تھا۔ ہم کچھ دیر تک وہیں کھڑے رہے پھر واپس لوٹ آئے۔ تبھی آنٹی کی خوف زدہ آواز سنائی دی۔

” یہ کیا تھا؟“

” آپ کے سامنے ہی تھا ۔جو آپ نے دیکھا وہی ہم نے دیکھا۔“ عارف نے سنجیدگی سے کہا

 وہ سبھی بہت خوف زدہ ہو چکے تھے۔ ان کا خیال تھا کہ فوری طور پر ڈیرے میں جایا جائے۔ آنٹی کے ساتھ ماہم رضا اور حیدر ڈیرے میں چلے گئے لیکن ماہ نور وہی میرے پاس کھڑی رہی۔ میں نے مکھ مل کی طرف دیکھا۔ وہ یوں پرسکون دکھائی دے رہی تھی جیسے یہ سب اس کے لیے نیا نہ ہو۔ اچانک میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ اس سے پوچھوں۔ میں اس کے قریب چلا گیا اور پر سکون سے لہجے میں پوچھا

” مکھ مل تمہیں ڈر نہیں لگا؟“

” نہ سائیں، مجھے ڈر نہیں لگا۔“ وہ ہلکا سا مسکراتے ہوئے بولی

” کیوں، تمہیں ڈر کیوں نہیں لگا؟“ میں نے پوچھا

” ایسا تو میں نے کئی بار دیکھا ہے۔“اس نے مسکراتے ہوئے کہا

” اچھا، کب، کتنی بار دیکھا ؟“ میں نے تیزی سے پوچھا

” یہ دو تین سال سے میں دیکھ رہی ہوں۔ اس طرح پہلے نہیں دیکھا لیکن ہوتا ایسے ہی ہے کہ بادل بھی نہیں ہوتے ،نہ بارش ہوتی ہے، مگر اچانک ایک لکیر سی بنتی ہے ۔زور سے کڑکتی ہے۔ ریت جل جاتی ہے۔“ اس نے سوچتے ہوئے بتایا

” تم کہاں رہتی ہو؟“ میںنے پوچھا

”یہاں سے کوئی دو کلومیٹر کے فاصلے پر۔“ اس نے ایک سمت اشارہ کرتے ہوئے کہا

” وہاں کوئی بستی ہے ؟“ میں نے پوچھا تووہ اقرار میں سر ہلاتے دیا تو میں نے کہا،” تم جانا چاہتی ہوں تو جاو ¿، میرا خیال ہے اب یہ لوگ مزید کچھ نہیں دیکھنا چاہیں گے۔“

” جی، میں اب چلتی ہوں۔“ اس نے کہا تو میں نے غور سے اُسے دیکھا تاکہ اس کا چہرہ میرے ذہن نشین ہوجائے۔ وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈیرے کی طرف بڑھ گئی ۔میں نے ماہ نور کو دیکھا، وہ بڑے غور سے ماحول کا جائزہ لے رہی تھی۔ میں نے اس سے کہا

”ماہ نور تم بھی جاو ¿ ڈیرے میں۔“

” نہیں مجھے کچھ سمجھنا ہے۔“ اس نے الجھے ہوئے لہجے میں کہا

” ٹھیک ہے تم سمجھو۔“یہ کہہ کر میں عارف کی جانب چلا گیا۔ وہ چہرہ لٹکائے کھڑا تھا۔ اس نے میری طرف دیکھ کر کہتا چلا گیا

” بالکل وہی…. لیکن اس بار ہم نے اس بجلی کو دیکھ لیا۔ سمجھ میں نہیں آیا ….یہ بجلی آئی کہاں سے؟ اگر بارش اور بادل نہیں ہے تو کوئی جہاز بھی نہیں گزرا؟ کچھ ایسی چیز بھی نہیں گزری ؟جس نے بجلی کو گرایا گیا ہو۔ یہ کہاں سے آئی ہے …. یہ سمجھنا ہو گا۔“

” میرے خیال میں یہ اتنی معلومات بھی فائدہ دے سکتی ہے؟“ میں نے اس سے پوچھا تو وہ سر ہلاتے ہوئے بولا

” ہاں میرے خیال میں، اس سے پیش رفت ضرور ہوگی۔ چلو آو ¿ ڈیرے میں چل کر بات کرتے ہیں۔“ اس نے ارد گرد دیکھتے ہوئے کہا اور پھر قدم بڑھا دئیے ۔

 ہم ڈیرے میں گئے تو دیکھا آنٹی صوفیہ واپس جانے کے لیے تیار کھڑی تھی۔ حیدر، ماہم اور رضا پہلے ہی گاڑی میں بیٹھ چکے تھے ۔ میں نے حویلی کے ملازموں کو پہلے ہی بھیج دیا تھا۔

 ”آنٹی کیا ہوا؟ کہاں تیار ہو ؟“میں نے پوچھا

” نہیں ،میں نے یہاں نہیں رہنا۔ اب مجھے جانا ہے۔‘ ‘ اس نے تیزی سے خوفزدہ لہجے میں کہا

” اتنی رات کو کہاں جائیں گی آپ؟“

” نہیں، بس مجھے اب جانا ہے ۔میں حویلی میں رہ لوں گی۔ مجھے یہاں سے ڈر لگنے لگا ہے۔“

”میں سمجھ گیا تھا کہ اب آنٹی یا دوسرے لوگوں سے بحث کرنا فضول ہے سو میں نے عارف سے کہا

” عارف میرا خیال ہے اب تمہیں بھی چلنا چاہیے۔“

” نہیں مجھے ابھی یہاں رہنا ہے تم مہمانوں کو لے کر جاﺅ۔“اس نے مجھے اشارے سے جانے کو کہا ۔ ہم سب اپنی اپنی گاڑیوں میں بیٹھے ہیں اور چل دئیے۔

٭….٭….٭

صبح کا نیلگوں اُجالا پھیلا ہوا تھا۔ موسم بڑا اچھا ہو رہا تھا۔ ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی۔ موسم کی خنکی کافی حد تک کم ہو چکی تھی۔ باہر نکلتے ہی طبیعت میں خوشگوار یت در آئی۔ میں حویلی سے نکلتا چلا گیا۔ فصلوں میں آکر مجھے لگا جیسے یہ میرے بنا اداس ہو گئی ہوں۔ کچا راستہ میرا منتظر ہو۔ طبیعت میں ایک خاص طرح کی جولانی آ گئی تھی۔ میں جاگنگ کرتا ہوا کافی دور نکل گیا۔ کچھ دیر سرسبز کھیتوں کے درمیان رہا پھر واپس لوٹ آیا۔ میری طبیعت ہشاش بشاش ہو گئی تھی۔ میں فریش ہوا اور لاﺅنج میں جانے کے لئے اپنا سیل فون اٹھایا۔ اسکرین پر دیکھا تو مجھے احساس ہوا کہ ایک ہی انجان نمبر سے نجانے کتنی کالیں آچکی تھیں۔ میں لاو ¿نج میں آیا تو وہاں کوئی بھی نہیں تھا۔ سارے مہمان سوئے ہوئے تھے ۔میں نے اپنے ملازم سے ناشتہ لانے کے لئے کہا اور اس انجانے نمبر پر کال ملا دی۔ دوسری طرف کوئی اجنبی لڑکا بول رہا تھا۔ اس نے اپنا تعارف کرواتے ہوئے کہا

” سر میں آصف کا کزن ہوں۔“

”ہاں بولو خیریت ،اتنا فون کرتے رہے؟“ میں نے پوچھاتو وہ سوگوار لہجے میں بولا

” سر پروین کا قتل ہو گیا ہے۔“

مجھے شاک لگا۔ یہ کیا ہو گیا؟

” آصف کہاں ہے ؟“ میں نے تشویش سے پوچھا

” سر آصف بھائی اس وقت ہسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں ہیں۔وہ آپ سے ملنا چاہتا ہے ۔“

” کیا ہوا اُسے ؟“میں نے حیرت سے پوچھا

”اُس پر قاتلانہ حملہ ہوا ہے۔“ وہ خوف زدہ انداز میں بولا

” قاتلانہ حملہ کس نے کیا؟“میں نے بے خیالی میں پوچھا

” یہی تو پتہ نہیں ہے۔ آصف بھائی کچھ دیر ہوش میں آیا تھا پھر اس کے بعد وہ بے ہوش ہو گیا۔ ڈاکٹر کہہ رہے ہیں شاید اس کے بچنے کی امید کم ہے۔“ اس نے روہانسا انداز میں کہا تو مجھے لگا معاملہ کافی سیریس ہے ۔تبھی میں نے پوچھا

” اس پر قاتلانہ حملہ کس نے کیا؟“

 ”سر یہ پتہ نہیں۔ وہ اس لڑکی پروین کے گھر میں تھا۔حملہ آ ور آئے اور انہوں نے پروین کو بھی قتل کر دیا۔“ وہ کہہ رہا تھا کہ میں نے اس کی بات ٹوکتے ہوئے پوچھا

 ” یہ سب کیسے ہوا؟وہ ….“میں کہتے کہتے رُک گیا تو وہ لڑکا بولا

 ” مجھے زیادہ تفصیلات کا پتہ نہیں ہے۔ میں کالج میں تھا ۔مجھے جونہی پتہ چلا میں ہسپتال پہنچا ہوں ۔ یہ سب مجھے وہیں سے پتہ چلا ۔“

” کیا پولیس میں رپورٹ کرادی ہے؟“

” یہ بھی مجھے نہیں پتا۔ اگر بھائی کو ہوش آگیا تو آپ پوری تفصیل اسی سے پوچھ لیجئے گا۔“اس نے خفت آ میز لہجے میں کہا تبھی میں نے ایک خیال کے تحت پوچھا

” اتنا ہوش تھا اسے کہ اس نے میرے بارے میں بتا دیا؟“

 ” بھائی نے مجھے آپ کے بارے میں بتایا تھا ۔اس نے آپ کا نمبر دے کر مجھے کہا تھاکہ اگر کبھی بھی اُسے کچھ ہو جائے تو اس نمبر پر اطلاع دے دینا۔سو میںنے اطلاع دے دی۔“ یہ کہتے ہوئے اس کے لہجے میں اکتاہٹ آ گئی تھی ۔

” اچھا چلو ٹھیک ہے ۔میں ابھی آتا ہوں۔“ میں نے کہا اور فون بند کر دیا ۔

میں آصف اور پروین وغیرہ کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا تھا ،سوتھوڑی دیر تک سوچتا رہا۔ جب تک مجھے پوری تفصیلات کا علم نہ ہوتا، میں کوئی فیصلہ نہیں کر سکتا تھا اور نہ ہی کسی حتمی رائے تک پہنچ سکتا تھا۔میں نے راﺅ ظفر کو فون ملایا چند لمحوں بعد کال رسیو کر لی گئی ۔

” مجھے علم تھا ، آپ کا فون آ ئے گا ۔“اس نے پرسکون سے لہجے میں کہا

” اچھا ، وہ کیوں ؟“میںنے محتاط انداز میں پوچھا

” وہ لڑکا آ صف ، شدید زخمی ہے ۔ اس کی ہو نے والی بیوی قتل ہو گئی ہے اور اس کی متوقع ساس بھی زخمی ہے ۔“

” کچھ پتہ چلا ؟“ میںنے پوچھا

” ابھی تک تو کچھ نہیں ۔“ اس نے بتایا

” اچھا میں دو بارہ رابطہ کرتا ہوں ۔“ میںنے کہا اور فون کال بند کر دی ۔

 میں نے جلدی سے ناشتہ کیا اوراپنے ملازم کو بتا کر اور مہمانوں کے بارے میں ہدایات دے کر باہرنکل آیا۔ میرا رخ شہر کی طرف تھا۔میں ہسپتال پہنچا تو اچھا خاصا دن نکل آیا تھا۔پارکنگ میں فور وہیل کھڑی کر کے میں نے اس لڑکے کو کال کی۔ کچھ دیر بعد ایک چھرچھرے بدن کا،ستے ہوئے چہرے والا لڑکا میرے سامنے آگیا۔ اس کے چہرے پر حسرت اور بے بسی چھائی ہوئی تھی۔ پہلی نگاہ میں وہ مجھے بڑا خوفزدہ نظر آیا۔ تعارف وغیرہ کے بعد میں نے اس سے پوچھا

” کیا صورت حال ہے؟“

” آصف کو ابھی تک ہوش نہیں آیا ۔“

 وہ مجھے انتہائی نگہداشت وارڈ لے گیا، جہاں آصف بیہوشی کی حالت میں پڑا تھا۔اس کے قریب ایک ڈاکٹر کھڑا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا

 ”ڈاکٹر صاحب کیا صورتحال ہے؟“

 ”اسے بڑی بے دردی سے مارا گیا ہے۔ سر کی چوٹ کی وجہ سے یہ بیہوش ہے۔ایک دو بار ہوش میں آیا ہے ۔ اگر اسے تھوڑی دیر مزید ہوش نہ آیا تو اسے ضلع ہسپتال بھیجنا پڑے گا۔“ اس نے تفصیل سے بتا دیا ۔میں نے بڑی نرمی سے کہا

” سر آپ اس کی پوری نگہداشت کریں ، اگر لے جانا پڑا تو لے جائیں گے ۔“

” ٹھیک ہے ۔“ ڈاکٹر نے سر ہلاتے ہوئے کہا تو میں نے اس لڑکے سے پوچھا

 ”پروین کی امی کہاںہے ؟“

”وہ دوسرے وارڈ میں ہے ۔“ اس نے بتایا

” چلو مجھے وہاں لے چلو ۔“ میںنے کہا تو وہ میرے ساتھ چل دیا۔

میرے سامنے ایک فربہ مائل خاتون بیٹھی ہوئی تھی۔ اس کے سر پر پٹی بندھی ہوئی تھی۔وہ ہچکیاں لے کر رو رہی تھی۔ اس کے کپڑوں پر خون لگا ہوا تھا۔ میں اس کے قریب جا بیٹھا۔ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ میں اس سے کیا بات کروں۔ کچھ دیر بعد اس نے اپنا سر اٹھا کرمجھے دیکھا تو میں نے کہا

 ”اماں جی یہ کیسے ہوا؟“ میں نے پوچھا

 میرے سوال پر وہ میری طرف خالی خالی نگاہوں سے دیکھنے لگی۔وہ مجھے پہچاننے کی کوشش کر رہی تھی ۔ میں اس کی پہچان میں کہاں آ سکتاتھا ۔ وہ مجھے پہلی بات دیکھ رہی تھی ۔ میرے ساتھ کھڑے لڑکے نے میرا نام بتایا تو اس خاتون نے چونک کر میری طرف دیکھا۔ وہ چند لمحے مجھے دیکھتی رہی پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ میں نے اسے رونے دیا۔ میں اندازہ کر سکتا تھا ،اس وقت ایک ماں کے دل پر کیا گزر رہی تھی۔ اس کی بیٹی اس کے سامنے قتل ہو گئی تھی ۔ رونے ہی سے اس کا دل بوجھ ہلکا ہو سکتا تھا۔ میں اس کے خاموش ہونے کا انتظار کرتا رہا۔ کچھ دیر بعد اس کا من ہلکا ہوا تو اس نے مجھے دیکھتے ہوئے کہا

 ”میری بیٹی اب اس دنیا میں نہیں رہی۔ مجھے چھوڑ کر چلی گئی۔ “ یہ کہتے ہوئے وہ زار و زار رونے لگی ۔ میں نے اس کی طرف دیکھا اور بڑے دھیمے انداز میں اس سے پوچھا

” اماں جی مجھے بتائیں کون تھا وہ؟“

” کچھ پتہ نہیں۔“ یہ کہہ کر وہ میری طرف یوں دیکھنے لگی جیسے یاد کر رہی ہو۔پھر لمحہ بھر بعد بولی،” میں نے انہیں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا۔ میں نہیں جانتی وہ کون تھے۔ “

”انہوں نے آخر کوئی تو بات کی ہوگی؟“ میںنے پوچھا

” نہیں، انہوں نے کوئی بات نہیں کی۔ بس آتے ہی انہوں نے آصف کو مارنا شروع کردیا۔ میری بیٹی اسے بچانے کے لیے آگے بڑھی تو انہوں نے اسے بھی مارنا شروع کردیا۔ پتہ نہیں کون تھے وہ لوگ اور کیا چاہتے تھے۔ کسی نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔یوں جیسے وہ بس مارنے ہی آ ئے ہوں۔“اس نے یاد کرتے ہوئے بتایا

” آپ نے ان کو بچانا چاہا تھا؟“ میں نے پوچھا

 ”میں بچانے آگے بڑھی تھی۔ ایک شخص نے مجھے زور سے پکڑ کر دیوار پر دے مارا۔ میں گر گئی۔ مجھے ہوش ہی نہیں رہا کہ میں کہاں پر ہوں۔ جس وقت مجھے ہوش آیا ،اس وقت وہ میری بیٹی کو مار رہے تھے۔ پروین کا گلا دبا یا اور اسے وہیں ختم کر دیا۔“ یہ بتاتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔ کچھ لمحوں بعد میں نے پوچھا

” آصف ،کیا آصف کو بھی انھوں نے مارا تھا؟ وہ کتنے سارے تھے؟“

 ”وہ چھے لوگ تھے۔ گھر کا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ ہمیں پتہ ہی نہیں چلا کہ وہ کب اندر آگئے۔“اماں نے بتایا

” وہ کتنی دیر رہے ، کوئی نقصان ….“

” اس سے بڑا نقصان کیا ہوگا، میری بیٹی کو قتل کر دیا۔ جب انہیں یقین ہو گیا کہ پروین زندہ نہیں رہی تو وہ تیزی سے باہر نکلتے چلے گئے۔ میں نے بہت شور مچایا ،محلے والے اکٹھے بھی ہوگئے مگر انہیں پکڑنہ سکے۔“

” ان کے پاس کیسے ہتھیار تھے ؟“ میںنے ایک خیال کے تحت پوچھا

”مجھے تو کوئی ہتھیار دکھائی نہیں دیا۔وہ تو ….“ اس نے کہنا چاہا تو میں نے تیزی سے پوچھا

” آپ کے خیال میں یہ پیجے لوہار کی حرکت ہے ؟“

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے