سر ورق / جہان اردو ادب / سلمان عبدالصمد سے صد ف اقبال کی بات چیت

سلمان عبدالصمد سے صد ف اقبال کی بات چیت

سلمان عبدالصمد سے صد ف اقبال کی بات چیت

تازہ کار نسل میں سلمان عبدالصمدایک نمایاں نام ہے۔ ان کے ناول ”لفظوں کا لہو“ ، تنقیدی مضامین اور افسانوں نے ادبی دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کی۔ سلمان کی تنقید میں جہاں انحراف کا رویہ پایا جاتا ہے، وہیں ان کی تخلیقات میں جدت نظر آتی ہے۔ ساتھ ہی ان کے موضوعات دل چسپ ہوتے ہیں اور عناوین دل کش ۔ ناول ”لفظوں کا لہو“ کو ساہتیہ اکادمی(حکومت ہند) نے 2019کا یووا پرسکار سے نوازا ہے۔ہم سلمان کو مبارک باد پیش کرتے ہیں۔ یوںتو کوئی دو برس قبل ہی یہ چند سوالات سلمان کو بھیجے گئے تھے،مگر اب ان کے جوابا ب پیش کیے جا رہے ہیں۔

 صدف اقبال : میرے خیال میں یہ بہت مناسب ہے کہ شروعات آپ کی ذات سے کی جائے۔ آپ اپنے بچپن اور تعلیمی سفر کے بارے میں اختصار کے ساتھ بتائیں۔

 سلمان عبدالصمد : میری پیدا ئش دربھنگہ کے ایک چھوٹے سے گاوں برّا ( کوشیشور استھان) میں ہوئی۔ گاوں کے مکتب میں ابتدائی تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد حفظ کیا اور دارالعلوم ندوة العلما لکھنو سے سندِ عالمیت حاصل کی۔ لکھنو یونی ورسٹی سے بی اے کیا اور ماسٹر س دہلی یونی ورسٹی سے۔ اس کے بعد جواہر لال نہرو یو نی ورسٹی میں نفسیاتی کہانیوں کی روایت پر ایم کا فل مقالہ جمع کیا اور اب پروفیسر انور پاشا کی نگرانی میں پی ایچ ڈی کا مقالہ لکھ رہا ہوں۔

 سوال:ذہن سازی، خاندانی پس منظراور ادب میں اپنی دل چسپی کے متعلق بتائیں ۔

پہلی بات یہ ہے کہ میرے خاندان میں کسی نے ادب پر توجہ نہیں دی، مگر میرے گاو ¿ں میں ہندوستان بلکہ ہندوستانی تہذیب بھرپور انداز سے بستی ہے۔بڑوں کا ادب، چھوٹوں سے شفقت، رسم و رواج کی پابندی،شادی بیاہ میں رنگا رنگ تہذیب، ساتھ ہی کسانوں کی حالت زار اور بوڑھی پرانی عورتوں سے قصے سننے کی روایت میرے ابو کی نانی (جن کا انتقال تقریبا120برس کی عمر ہوا ہے)نے مجھے کچھ قصے سنائے۔ ان کے علاوہ میری دادی اور پھوپھی نے بھی پریوں اور شہزادے شہزادیوں کے کئی قصے سنائے۔یہ تمام قصے مجھے اب حرف حرف تو یاد نہیں، مگر یہ حقیقت ہے کہ ان قصوں نے ہی مجھے آج لکھنے کا شعور عطا کیا ہے۔خاص طور سے پھوپھی کا ایک جملہ مجھے ہمیشہ یاد رہے گا۔ وہ قصہ ختم کرنے کے بعد تاکید سے کہتی تھی ”قصہ گیا بل میں سوچو اپنے دل میں “ سچ یہ کہ ان کے قصے کہانیوں نے میرا ذہن فکشن کی طرف مائل کیا اور سوچنے کا ہنر بھی دیا،یعنی مجھے تنقید کا شعور ملا۔ کیوں کہ اس جملے کے بعد سنایے گئے قصوں پر میں سوچتا تھااور بہت دیر تک سوچتا رہتا تھا۔ اس طرح اسی جملے نے میرے اندر تنقید وتخلیق کا یکساں طور پر شوق پیدا کردیا اور آج جتنی د ل چسپی مجھے تخلیق سے ہے،اُتنی ہی تنقید سے بھی۔ اس طرح میری ذہن سازی ہوئی ہے۔

سوال: کیا آپ نے بچپن سے ہی لکھنا شروع کردیا تھا پھر کب سے ؟اس کے متعلق بتائیں۔

جواب:جیسا کہ میں نے بتایا کہ دارالعلوم ندوة العلماءلکھنو سے میںنے تعلیم حاصل کی ہے۔ندوہ اور ندوے کی شاخوں میں لکھنے لکھانے اوردرسیات کے علاوہ خارجی مطالعے کا رجحان زندہ ہے۔ چناںچہ اسی زمانے میں میںنے اخبارات میں مراسلے لکھنے کی شروعات کی۔ اس کے بعد قدرے طویل سیاسی تجزیوں پر توجہ دی۔ چوں کہ ندوے کے گیٹ پر سخت پابندی ہوتی تھی۔ ہفتہ میں فقط ایک ہی دن جمعے کو باہر نکلنے کا موقع ملتا تھا، اس لیے اخبارات کو بھیجنے سے قبل ہی میرے سیاسی تجزے باسی یا خراب ہوجاتے تھے۔ یہی وہ زمانہ ہے ، جب میرا میلان فکشن کی طرف ہواکہ اس کی زندگی طویل ہوتی ہے۔ گویا گاو ¿ں میں قصے سن سن کر کہانیوں سے مانوس ہوگیا تھااور ندوے کی فضا میں کہانی لکھنے کی جسارت کی۔ اس وقت کچھ ایسے استاذ نما دوست مل گئے،جنھیں اب کا خاصا شوق تھا۔ تخلیق کے مطالعے میں ان کے انہماک اور ان کی رہنمائی نے مجھے ادب کا راہی بنایا۔ ایسے دوستوں میں فیاض احمد،احسن ایوبی،شاہنواز قمر، فرقان عالم، ساجد حسین ندوی،عادل عفان اور امتیاز رومی وغیرہ سرفہرست ہیں جو عالم میرے ادبی رہنما بھی ہیں اور میری تحریروں کے اولین قارئین بھی، یعنی لڑکھراتے میرے لفظوں کو سہارا دینے والے۔

سوال: آپ کے کتنے ناول ، کتنے افسانے ، کتنے تنقیدی مضامین اور کتنے سیاسی مضامین شائع ہوگئے ہیں؟

 جواب: ایک ناول ”لفظوں کا لہو “ شائع ہوا ہے۔ تقریباً ایک درجن افسانے اور بیس تنقیدی مضامین شائع ہوئے۔ امروز وفردا میں میرے تنقید ی مضامین کا مجموعہ” متن کے آس پاس“ آپ کے ہاتھوں میں ہوگا۔جہاں تک رہی بات سیاسی تجزیوں کی تو تقریبا100 مضامین اخبارات میں شائع ہوئے ہیں ۔

سوال © : ایک بار پھر مبارک باد قبول کیجیے کہ ملک کے موقر ادارے نے آپ کے ناول کو اعزاز بخشا ۔ ساتھ ہی ساتھ یہ بتائیں کہ ”لفظوں کا لہو“ سیاسی منظر نامے مین لکھا گیا ناول ہے ؟

جواب: ”لفظوں کا لہو“ کو مکمل طور پر سیاسی ناول تو نہیں کہہ سکتے ہیں، تاہم یہ یاد رکھنے والی بات ہے کہ ایک جمہوری ملک میں ہرمعاملہ سیاست کے ارد گرد گردش کرتاہے۔ چوں کہ میرا ناول ایک حدتک صحافت کے ارد گرد گھوم رہا ہے اور صحافت کا سیاست سے گہرا ربط ہے، اس لیے کہا جاسکتاہے کہ یہ ناول سیاسی ہے۔ یہ بات تو عیاں ہے کہ صحافت کو جس طرح میں نے اپنے ناول میں پیش کرنے کی کوشش کی ، ایسی کوشش شاید اردو ناول نگاری میں نہیں ہوئی ۔ میرے کئی افسانے بھی صحافت کے ارد گرد ہیں ۔ اس لیے میں یہ کہہ سکتاہوں کہ صحافت میرے لیے متن کی حیثیت رکھتی ہے اور اس کے متعدد پہلوو ¿ں کو تخلیقی نگاہ سے دیکھتا رہتا ہوں ۔

 سوال :چند لفظوں میں اپنے ناول کے متعلق بتائیں ؟

جواب:میں نے اس ناول میں شہر ودیہات کی کشاکش، جمہوریت وصحافت کے رشتے اور خصوصاً عورتوں کی نفسیات کا گہرا تجزیہ پیش کیا ہے۔ سب سے زیادہ صحافت، خصوصاً صحافتی کارپوریٹ گھرانے کی دو غلی پالیسی واضح کی ہے۔ ساتھ ہی جینون صحافیوں کی زندگی پر روشنی ڈالی کہ انھیں کیسے بڑے صحافیوں کے لیے بہت کچھ کرنا پڑتاہے۔ کیسے انھیں بڑے صحافیوں کے لیے لکھنا پڑتا ہے اور کیسے ان گھرانوں میں چھوٹے صحافیوں کا استحصال کیا جاتا ہے۔ ان اشاروں کے علاوہ میرے ناول میں بہت کچھ ہے،پڑھنے والے خود اس کی خوبیوں اور خامیوں کا تجزیہ کرسکیں گے۔

 سوال ©: اس ناول کو لکھنے کا خیال آپ کے ذہن میں کیسے آیا ؟

ناول” لفظوں کا لہو“ کی کہانی اپنے آپ میں منفرد ہے اور اس کے لکھے جانے کا و اقعہ اس سے زیادہ عجیب۔اردو معاصر ناول نگاروں میں ایک اہم نام پیغام آفاقی کا ہے جو آئی پی ایس افسرتھے اور فکشن نگار بھی۔ میر ے چند افسانے پڑھنے کے بعد انھوں نے کہا کہ تم اپنی کہانیاں لکھ لکھ کر میرے پاس جمع کرتے رہو اور جس دن تمھیں لکچرر شپ مل جائے، اس دن میں تمھارے افسانوں کا مجموعہ شائع کر وا کر تمھیں گفٹ کروں گا۔ ابھی چھوٹی چھوٹی کہانیاں چھپانا تمھارے حق میں اچھا نہیں۔ کیوں کہ بڑے میگزین میں تمھارے افسانوں کو جگہ مشکل سے ملے گی اور تم جلدی میں کوئی دوسرا افسانہ لکھو گے، تاکہ مشہور میگزین میں تمھیں جگہ مل سکے۔جلدبازی میں اچھے افسانے کبھی نہیں لکھ پاو ¿ گے۔ اس کے علاوہ افسانوں سے رائٹر کی شناخت بہت جلد قائم نہیں ہوپاتی ہے۔ اس لیے تم کچا پکا ، آدھا ادھورا ایک ناول لکھنے کی کوشش کرو۔اگر ناول اچھا رہا تو تمھاری حیثیت ادب میں مستحکم ہوجائے گی اور اگر کمزور رہا تو بھی تمھارا نام ادب کی دنیا میں لوگ لینے لگیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ادب لکھنے والے اپنے ادب کی بنیاد پر مرنے کے بعد بھی زندہ رہنا چاہتے ہیں، مگر تم ناول لکھ کرمرنے کے بعد زندہ رہو یا نہیں البتہ لکچرر شپ حاصل کرنے تک ضرور زندہ رہوگے، مگر افسوس پیغام آفاقی میرے محسن آج اس دنیا میں نہیں ہیں۔2016میں جب میرا ناول آیا تو وہ ہاسپٹل میں تھے اور چھپنے کے بعد میں انھیں دکھا نہ سکا۔ جس کا افسوس مجھے زندگی بھر رہے گا، مگر خوشی اس بات کی ہے کہ ان کی باتوں پر میں نے عمل کیااورناول لکھا ۔(ایک خوشی یہ بھی کہ ان کے ادھورے کاموں اور کتابوں کو میں مکمل کررہاہوں)۔ اپنے ناول” لفظوں کا لہو“ کی کہانی انھیں میں نے زبانی طور پر سنائی تھی،جسے انھوں نے بہت پسند کیا تھا۔ اس کے بعد بس میں کسی موقع کی تلاش میں تھا کہ سکون سے ناول مکمل لکھ سکوں ۔ سکون تو دورمعاشی تنگی میں الجھتا چلا گیا۔اسی پریشانی کے عالم میں یکایک ناول پریشان کرنے لگا۔ ذہن پر سوار ہوگیا۔ اسی دوران نہ چاہتے ہوئے لیپ ٹاپ لے کر بیٹھ گیا اور کوئی چھ دن تک مسلسل لکھتا رہا۔چھ دنوں کی یہ محنت ناول کی شکل میں آپ کے سامنے ہے اوردیکھتے دیکھتے اس کے تین ایڈیشن شایع ہوگئے۔ اس کا ہندی ترجمہ بھی مارکیٹ میں موجود ہے۔

سوال: لوگ تو برسوں کی محنت کے بعد بھی ناول نہیں لکھ پاتے ہیں ، آپ نے چھ دنوں میں کیسے لکھ لیا ؟

جواب:بہت اچھا سوال کیا آپ نے،دیکھئے میں نے اپنے گاو ¿ں کو گہری نظروں سے دیکھا تھا۔وہاں کی رنگا رنگ تہذیب اور رسم ورواج پر غور وفکر کیا تھا، اس کے علاوہ کچھ دن اردو اخبارات میں کام کرنے کا تجربہ بھی میرے پاس تھا۔ اس لیے بہت کم مدت میں ناول لکھنے میں کامیاب ہوسکا۔( چھ دنوں میں لکھنے کے بعد اسے روکے رکھا اورمہینوں بعد اسے شائع کیا)کیوں کہ تمام تر چیزیں میرے ذہن ودماغ میں روشن تھیں۔سچی بات یہ ہے کہ پیغام آفاقی نے ناول نگاری کے لیے مجھے اکسا یا تھا ۔ کبھی کبھی شموئل احمد بھی کہتے تھے کہ مولانا صمد ایک ناول لکھو۔ مگر 2012سے ہی میں ناول لکھنے کے متعلق سوچ رہا تھا۔ کیوں کہ غضنفر کے ناولوں کا میں نے گہرائی سے مطالعہ کیا تھا اور ان کے ناولوں پر لکھا تھا۔ ان کے ناول مختصر ہوتے ہیں ( یہ الگ موضوع ہے ۔ ان کے ناولوں پر بات ہوسکتی ہے)۔میں سوچنے لگا تھا کہ چھوٹا موٹا کوئی ناول میں ضرور لکھوں گا۔ خداغریقِ رحمت کرے پیغام آفاقی کو کہ انھوں نے مجھے ناول نگاری کی طرف مائل کیا۔

سوال: آپ کا دوسرا ناول کب آرہا ہے؟

جواب:اس کے متعلق کہہ پانا تو مشکل ہے۔البتہ کئی موضوعات ذہن میں گردش کررہے ہیں ۔ کچھ نوٹس بھی تیار ہیں ۔ ”لفظوں کا لہو“کا لکھنے کے لیے جس طرح موقع ہاتھ آیا ، لکھا ۔ اسی طرح آسودہ لمحات کی تلاش ہے، تاکہ” لفظوں کا لہو“سے بدرجہا بہتر تخلیق پیش کرسکوں۔

سوال: آپ کے ناول کا کیسا ردعمل رہا اور اپنی ناول نگاری کے تعلق سے آپ کیا کہنا چاہیں گے؟

جواب: یہ سوال تو مجھے تو آپ سے کرنا چاہیے۔کیوں کہ آپ نے بھی میرے ناول کو پڑھا ہے، بلکہ اس پر طویل مضمون بھی لکھا۔ اس کے علاوہ آپ ادبی سیاست اور ادبی منظرنامے سے خوب واقف ہیں۔ اس لیے اس پر بہت زیادہ کچھ بولنا میرے لیے مناسب نہیں ۔البتہ اتنا ضرور کہہ سکتاہوں کہ میرا ناول اوسط سے بہت اوپر ہے۔پڑھنے والوں نے خوب پڑھا ہے۔ سکھانے والوں نے خوب سکھایا ہے۔ اصلاح کرنے والوں نے اپنے انداز سے اصلاح بھی کی ہے۔ ان کے علاوہ کچھ لوگوں نے بھراس بھی نکالی ہے۔ کیوں کہ ہر عہد میں عصبیت کے مصلّے پر جانب داری کا ورد کیا گیا ۔زبان کی کمزوری کا مرثیہ پڑھا گیا اورپڑھا جاتا رہے گا۔ میں یہ قطعاً نہیں کہتا ہے کہ تمام تر غلطیوں سے میرا ناول پاک ہے اور اس عہد کا سب سے اچھا ناول ہے، مگر اتنی بات تو ضرور ہے کہ میں نے جس عمر میں ناول نگاری پر توجہ دی ، اس عمر میں ناول پر توجہ کم دی جاتی ہے۔ اس لیے کچھ خامیوں کو نظر انداز کرنا ہی چاہیے۔ پھر بہت سے مخلصین نے اچھے مشورے بھی دیے ہیں، ان پر عمل کرنے کے بعد آئندہ زبان وبیان اور بنت میں پختگی آئے گی۔ ادب کا معاملہ ذرا مختلف ہے۔ادب میں صلاحیت ولیاقت کی پر شاید کم توجہ دی جاتی ہے اور عہدے داری کا پاس ولحاظ زیادہ رکھا جاتا ہے۔

سوال: اب اپنے قارئین اور ناول کے ایڈیشن کے متعلق بتائیں؟

جواب : میرے ناول کی تقریباً 2ہزار کاپیاں شائع ہوچکی ہیں اور اب میرے پاس ناول کی کوئی کاپی نہیں ہے۔ آئے دن ادھر ادھر سے ناول کے لیے فون آتے رہتے ہیں۔ میں پی ڈی ایف فائل بھیج دیتا ہوں۔ بہت سے قاری پی ڈی ایف پڑھ کر رابطہ بھی کرتے ہیں۔جہاں تک ناول کی پسندیدگی کا تعلق ہے تو ہر طبقے کے قارئین نے پسند کیا ہے، خصوصاً نئی نسل کے قارئین نے۔ اور ناول کی اشاعت کے بعد محبتوں اور شفقتوں کا جو سلسلہ شروع ہوا تھا، ابھی وہ تھما نہیں۔فکشن میں میری ابتدائی کوشش پر ناقدوں اور کرم فرماو ¿ں سے ملنے والے جملے بڑے قیمت تحفے ہیں۔یوں تو تحفے کا کوئی بدل یا عوض نہیں، البتہ مستقبل میں اپنے علمی انہماک اور تخلیقی مشق ومزاولت کی بنیاد پر ادب نوازوں کو ”لفظوں کا لہو“سے بدرجہا بہتر تحفہ پیش کرنے کی کوشش کروں گا۔

اس موقع پر میرے لیے نیک خواہشات رکھنے اور ہمت افزائی کرنے والے تمام اساتذہ، احباب اور کرم فرما ¶ں کا شکریہ۔ البتہ یہاں خصو صا دو طرح کے لوگوں کا مزید شکریہ۔

(1) وہ قارئین جنھوں نے وقت کا خیال نہ رکھا اور ناول ختم کرتے ہی فون کرکے اپنی پسندیدگی اور اپنی رائے کا برملا اظہار کیا۔چاہے وقت صبح چار بجے کا ہو یا پھر رات بارہ بجے کا۔

(2) جنھوں نے اس ناول پر مکمل مضمون یا تبصرہ لکھا۔ کسی مضمون میں ضمناً تذکرہ یا پھر کلیدی خطبوں میں تذکرہ کیا۔ یا پھر نظامت، انٹرویو یا مباحثے ومذاکرے میں کئی بار اس کا حوالہ دیا۔

سوال:عصری ناول اور اور ناول نگاروں کے متعلق آپ کیا کہنا چاہیں گے ؟

جواب:اردو تخلیقات کا عصری منظرنامہ اطمینان بخش ہے۔ 1980کے بعد سے تقریبااب تک تقریباً 180ناول لکھے گئے۔ صرف اکیسویں صدی کی دو دہائی میں ہی سواسو ناول منظر عام پر آئے۔ اس لیے یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اردو ناول کی سمت ورفتار قابل فخر ہے۔ ایک سے ایک ناول لکھے جارہے ہیں۔ رونے والے اب بھی روئیں گے کہ کچھ نہیں لکھا جارہا ہے۔ ظاہر ہے ہر ایک ناول اعلی درجے کا نہیں ہوسکتا۔ تمام ناولوں کی اپنی اپنی انفرادیت ہے۔

سوال ©: آج کے چند اہم ناول نگاروں میں آپ کسے شامل کرنا چاہیں گے ؟

جواب : کم ازکم یہ سوال میرے لیے بہت مشکل ہے۔ میری کیا بساط کہ میں کسی کو اہم کہوں اور کسی کو غیر اہم، البتہ جن کو میں نے زیادہ پڑھا ہے،ان کا ذکر ضروری ہے۔معاصر ناول نگاروں میں مجھے پیغام آفاقی، غضنفر، مشرف عالم ذوقی،شموئل احمد،رحمن عباس،احمد صغیر، عبدالصمد، نورالحسنین،صادقہ نواب سحر،انیس اشفاق وغیرہ بہت پسند ہیں۔پسندیدگی کی وجہ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ انھیں میںنے زیادہ پڑھا ہے اور ایسا بھی نہیں کہ ان کے علاوہ کسی کو نہیں پڑھا ۔

سوال : آپ نے تخلیقی ادب پر کئی مضامین لکھے ہیں ۔ معاصر ناول نگاروں کی چند خصوصیات بتائیں تو بہتر رہے گا۔

سوال ©: یہ میرا ماننا ہے، کوئی ضروری نہیں کہ ہر ایک اسے تسلیم ہی کرے۔ عبدالصمد کے یہاں سیاسی تناظرات قدرے گہرے ہیں۔ ”دو گززمین“سے” اجالوں کی سیاہی“ تک کا سفر سیاسی نیرنگیوں سے بھرا ہے۔ ” بکھرے اوراق“پر سیاست آمیز بیانیہ میںان کا سیاسی رنگ ذرا بدل گیا ہے۔ غضنفر اقلیتوں اور دلتوں کے مسائل کا تجزیہ بڑی عمدگی سے کرتے ہیں۔ساتھ ہی ان کے یہاں رنگوں سے تحریری مرقع نگاری کا ایک خاص انداز ہے۔یہ رنگ آمیزی ”پانی“ کا تخلیقی رنگ بھی دلکش کرتی ہے اور ”مانجھی “ کی بے رنگ پتوار کوآب دار کردیتی ہے اور معاصرین کے درمیان ان کے اندازِ پیش کش میںسب سے زیادہ کامیاب تجربات ملتے ہیں۔ مشرف عالم ذوقی نے نئے موضوعات کو ا پنے فکشن میں گھلا نے کی کامیاب کوشش کی اور ان کے یہاں جدت کا احساس بھی ہوتا ہے۔ذوقی کی زبان پر لاکھ اعتراض ہو ، مگر مجھے ان کے یہاں تخلیقی زبان کی روانی کاصحیح مفہوم سمجھ میں آتا ہے۔ شموئل احمد کے یہاںجنسی بیان کاغلبہ ہے اور جنسی نفسیات کا بھی عکس ابھرتا ہے ۔ وہ ماہر نفسیات وجنسیات کے طور پر ابھرتے ہیں۔سید محمد اشرف نے اپنے فکشن میں جہاں لفظ کو استعارہ وعلامت بنایا، وہیں ان کے یہاں ”رنگ“ اپنا رنگ بدل کر علامت کی شکل میں ظاہر ہوتا ہے۔ پیغام آفاقی فلسفے کے احسان سے گراں بار نظر آتے ہیںاور اس کا اظہار کسی کسی مقام پر وہ اس شدومد سے کرتے ہیں کہ قصہ پن انھیں اپنا ’دوست‘ ماننے سے انکار کردیتا ہے۔ انیس اشفاق کی بنت کمال کی ہے۔ ادبی تاریخ وتہذیب کا تجزیہ وہ حسین انداز میں کرتے ہیں۔ نورالحسنین تاریخ اور موجودہ سیاست کو مدغم کرتے ہوئے نئی بات کہنے کی کوشش کرتے ہیں ہیں۔ رحمن عباس کا انداز منفرد ہے ۔ ان کے یہاں کہانی کا تسلسل ہے اور اس تسلسل سے اٹھنے والے سوالات مجھے بہت اچھے لگتے ہیں۔اس سے زیادہ اور کیا کہوں ۔ ورنہ تو یہ مضمون ہوجائے گا۔

 سوال : آپ نے ناول نگاری کو ہی ترجیح کیوں دی ؟ کیا آپ کو لگتا ہے کہ اس مصروف دور میں ناول کے قاری موجود ہیں ؟

جواب:میں اوپر بتایا کہ بچپن سے قصہ سننے کا شوق تھا ۔ پھر پیغام آفاقی کا مشورہ ۔اس لیے ناول کی طرف مائل ہوا۔ رہی بات ناول کے قارئین کی تو میں کم از کم یہ کہہ سکتاہوں کہ اس کے پڑھنے والے موجود ہیں ،بلکہ ان کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ میرے ناول پر جس طرح ردعمل سامنے آیا اور اسے پڑھا گیا، اس سے یہ کہا جاسکتاہے کہ آج بھی لانگ فکشن کی اہمیت مسلم ہے اور لوگ شوق سے پڑھتے ہیں۔

سوال : اردو ادب کے نقادوں کے بارے میں آپ کے کیا خیالات ہیں اورکیا آپ کو ایسا نہیں لگتا کہ اردو والے احساس کمتری کا شکار ہیں ؟

جواب:صرف اردو ناقدوں کا سوال نہیں ہے۔ ادب میں جانب داری کا کھیل بڑا ہے۔ کہا جاتا ہے ادب کا کوئی مذہب نہیں ہوتا ، اچھی اور سچی بات ہے، مگر یہ بھی سچ ہے کہ ادب کا مسلک جانب داری ، ادب کا مذہب عہدے بازی ۔

 ہندوستان کی اکثر زبانوں کے تخلیقی ادب پر بولنے اور لکھنے والوں میں اکثر مایوسی ہی نظر آتی ہے یا پھر مغرب کی طرف للچائی نظر۔ گویا اسّی کے بعد کسی نے کچھ لکھا ہی نہیں۔افسانے قابل اعتبارہےں ہی نہیں۔تنقید کہاں معتبر ہوسکتی ہے۔ گویا ہمارے یہاں ”اعتراف “ کا رویہ کم ہی پایا جاتا ہے۔ ”اعتراف “ کامعاملہ گر کہیں نظر آتا ہے تو فقط اپنی اپنی ٹولیوں میں ہی۔ مجھے لگتا ہے کہ ہر زمانے میں تنقید اپنے گروپ کے لیے ”شکنجی“ ہوتی ہے اور دوسروں کے لیے ”شکنجہ“۔ ”شکنجی اور شکنجہ“ کا کھیل ختم کرنے کے لیے شاید”اعتراف“ کا ”لیمو“ نچوڑنا ضروری ہے۔

سوال : شوشل میڈیا پہ جس طرح اردو کے لیے کام ہو رہا ہے کیا اس سے اردو زبان کو فائدہ پہنچا ہے ؟ کیا شوشل میڈیا اردو کے فروغ میں معاون ثابت ہو رہا ہے ؟

جواب: بالکل معاون ہے۔ سوشل میڈیا سے اردو کا دائرہ وسیع ہوا ہے۔ہم اکثر یہی روتے ہیں کہ سوشل میڈ یا پر لکھنے والے اپنے آپ کو بڑا ادیب سمجھتے ہیں۔ حالاں کہ ایسا ہرگز نہیں ہے۔ صرف اور صرف سوشل میڈیا پر لکھنے والوں کو معتبر سمجھنے یا ایسے لوگوں کا ہمیشہ ذکر کرنے والے خود ہی غیر معتبر ہےں۔ میں نے تو اب تک ایسے کسی فرد کو نہیں دیکھا جو صرف سوشل میڈیا یوز کرکے خود کو بڑا ادیب سمجھتا ہو۔سوشل میڈیا تو فقط تشہیر کا ایک ذریعہ ہے۔ گلوبل ولیج میں اس کا سہارا لینے والے معتوب ہرگز نہیں ہوسکتے اور نہ ہی سوشل میڈیا یوز کرنے والے ہر ادیب کو غیر معتبر سمجھاجائے۔

رہی بات فروغ کی تو اس کے ذریعے اردو کا فروغ ہوا ہے۔کیوں کہ کئی افسانوی فورم چل رہے ہیں۔ نئے لکھنے والے سامنے آرہے ہیں ۔ سوشل میڈیا نے نئے اور چھوٹے لکھنے والوں کو مضبوطی فراہم کی۔کیوں کہ ہر عہد میں رسالوں کی اپنی سیاست رہی ہے۔ عہدے داروں کو مدیروں نے فوقیت دی ہے۔ اس لیے نو عمر لکھنے والوں کو بڑی دقتیں پیش آتی تھیں،مگر رسالوں کے علاوہ اب سوشل میڈیا پر بھی ایک سے ایک سے ایک ویب سائٹس ہیں، جن پر نوعمروں کو پھلنے پھولنے کا موقع مل رہا ہے اور سرکار ی مدیروں کی اہمیت کم ہوتی جارہی ہے۔ پتا نہیں کیوںسرکاری مدیر حضرات خود کو کسی اور کائنات کا فرشتہ ثابت کرتے ہیں۔

سوال : کیا موجودہ زمانہ اردو کے لیے سازگار ہے ؟ اردو کے مستقبل کے بارے میں آپ کیا سوچتے ہیں ؟

جواب:یہ بہت مشکل سوال ہے ۔ درحقیقت اردو میں روزگار کے مواقع پیدا نہیں ہورہے ہیں لیکن ہرسال سینکڑوں کی تعداد میں لو گ پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کررہے ہیں اور ہرایک ڈگری یافتہ کا ہدف لکچرر شپ ہی ہے۔ ایک تو خود ہم جیسے اسکالروں کی تساہلی کہ اردو کی کچی پکی معلومات کے علاوہ کچھ نہیں جانتے ہیں۔ ظاہر ہے ایسے ڈگری یافتگان لکچررشپ کے علاوہ کسی اور ملازمت کے اہل نہیں ہوسکتے۔ا س لیے لکچرر شپ حاصل نہ کرپانے کی صورت میں اردو سے ایک بڑا طبقہ چندبرسوں بعد متفرد ضرور ہوگا ۔(گرچہ متنفر ہونے والوں کا بھی خود قصور ہوگا) لہذا یہ کہنے میں کوئی باک نہیں کہ اردو میں بڑھنے والی ڈگریوں کی تعداد اردو کے حق میں مفید نہیں۔

 یہاں ایک بات یہ بھی یاد رکھنی چاہیے کہ گلوبلائزیشن کے اس عہد میں اردو کا دائرہ کسی نہ کسی سطح پر وسیع ہوا ہے اور اردو کے ساتھ ساتھ دیگر زبان جاننے والوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوئے ہیں لیکن سوال یہ ہے کہ اردو کی اس بھیڑ کو کس طرح اردو کے علاوہ دوسری زبان سکھایا جائے اور کیسے انھیں لکچرر شپ کے علاوہ دیگر ملازمت کا اہل بنایا جائے۔ اس پہلو پر سوچنا بہت ضروری ہے۔

یہ بات بھی اپنی جگہ مسلم ہے کہ اردو تو خیر یک دم مرے گی نہیں، مگر اردو سے ایک بڑی تعداد متنفر ضرور ہوگی ۔ مرے گی اس لیے نہیں کہ اردو کا رشتہ مدرسوں سے ہے،جب تک ہندوستان میںمدارس قائم رہیں گے ، اس وقت تک اردو زندہ رہے گی۔ لیکن ایک بڑی تعداد متنفر اس لیے ہوگی کہ اردو کے اعلی ڈگری یافتگان ملازمت نہ ملنے کی وجہ سے نفسیاتی مرض کے شکار ہیں۔ اس لیے کم از کم میرے لیے اردو کے مستقل کے تئیں واضح لفظوں میں کچھ کہہ پانا مشکل ہے۔

ایک طرف ڈگری یافتگان کی فہرست طویل ہوتی جاتی ہے، دوسری طرف اخبارات کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ یاد رکھیں ان” اضافی اخبارات“ سے اردو کا فروغ قطعاً نہیں ہوگا۔ گہرائی سے اخبارات کی سیاست تو دیکھیں تو اندازہ خود ہوجائے گا ۔ میں نے اپنے ناول میں بھی اس کا مفصل ذکر کیا ہے۔ رہی بات اردو کے نام پر چلنے والی بڑی بڑی اکیڈموں کی تو وہ انھی لوگوں میں اردو کو فروغ دے رہی ہے، جو پہلے سے اردو جانتے ہیں ۔ گویا نہ وہ اردو کے نئے قارئین پیدا کرنے کی کوشش کررہی ہیں اور نہ ہی روزگار کے مواقع ۔

سوال: آخری سوال یہ ہے کہ نئی بلکہ تازہ کار نسل میں تخلیقی ادب کے تئیں کیا رجحان ہے؟

جواب:تازہ کار نسل بھی ادب کے تئیں سنجیدہ ہے۔ کیوں کہ ایک بڑی تعداد میں نئے لوگ(بچے) لکھ رہے ہیں ۔ ناول نگاری کی بات کریں تو ہماری نسل کی اولین ناول نگار سفینہ بیگم نے ایک ناول ”خلش “ لکھا ہے۔ عمر ان عاکف خان نے” جے این یو کمرہ نمبر 259 خلق کیا۔ اسی طرح معروف سلیمانی کا ناول منظر عام پر آیا ہے۔ خود میں نے بھی ناول”لفظوں کالہو“ لکھا ۔ سفینہ بیگم اور عمران عاکف افسانے بھی لکھ رہے ہیں ۔ میرے بھی تقریباً ایک درجن افسانے شائع ہوچکے ۔ ان کے علاوہ ہماری نسل میں (کچھ بڑے کچھ چھوٹے) کئی بہترین لکھنے والے موجود ہیں، مثلا ڈاکٹر مستمر،ڈاکٹر ذاکر فیضی،ڈاکٹر انوارلحق،صدف اقبال، شہناز رحمن، توصیف بریلوی،نورین علی حق، علیم اسماعیل،رمانہ تبسم، حنیف خان،صالحہ صدیقی، وسیم عقیل اور ڈاکٹر سارہ شفتین و غیرہ۔(ان کے علاوہ بھی بہت سے ہیں جنھیں میں نے بہت نہیں پڑھا ) امید ہے کہ ہماری نسل کی تخلیقی تربیت کی جائے گی اور ہمت افزائی بھی ۔کیوں کہ ان سے ہی اردو تخلیق کا مستقبل مربوط ہے۔

صدف اقبال: شکریہ ۔ ایک بار پھر مبارک باد ۔

سلمان عبدالصمد:شکریہ ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خالد جان۔ محمد زبیر مظہر پنوار

سوال ۔۔ آپ کا اصل اور قلمی نام ۔۔ جواب۔۔ میرا اصل نام خالد تھا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے