سر ورق / یاداشتیں / اردو کہانی کا سفر…قسط نمبر 10 … اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر…قسط نمبر 10 … اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر

 قسط نمبر 10

اعجاز احمد نواب

سن ستاسی اٹھاسی کا ایک واقعہ ہے کہ لاہور سے ایک بڑے سائز کا رنگین سوشل میگزین جاری ہوا جس طرح کراچی سے رابطہ میگزین تھا، اور اس کے بعد فاصلہ بھی تھا…. بالکل اسی طرح 10×15 سائز کا مکمل رنگین میگزین
اس کا نام تھا ‘آداب’ خوبصورت کہانیاں اور خوبصورت ترین اسکیچز کے علاوہ فیشن فلم میک اپ اور قارئین کی بے شمار دلچسپیاں، اس کا سرورق اور چند صفحات کے نمونے اور ایک اشتہاری خط پر مشتمل لفافہ ہمیں ڈاک کے ذریعے موصول ہوا، کہ اگر اس میگزین کی راولپنڈی اسلام آباد میں تقسیم کاری کے حقوق آپ لینا چاہتے ہیں تو رابطہ کیجئیے، لفافہ الٹ پلٹ کر دیکھا تو گزرے کل کی پوسٹ آفس مہر نظر آگئی، جس سے پتہ چلتا تھا کہ یہ لفافہ ابھی کل ہی حوالہ ڈاک کیا گیا ہے، ہمیں پتہ چل گیا کہ یہ نمونے کی کاپی دیگر نیوز ایجنسیز کو بھی ارسال کی گئی ہوں گی، لہذا ہم نے فیصلہ کیا کہ آج رات ہی روانہ ہو کر صبح ان سے بات کرلینی چاہیے، تاکہ اگر کام کا رسالہ ہے تو باقی کسی بھی نیوز ایجنٹ سے پہلے ان سے معاملات طے کر لئے جائیں، میں……. صبح دس بجے لاہور (کینٹ میں شاید کوئی جگہ تھی،) پہنچ گیا،، یہ ایک نو تعمیر پلازہ تھا جس کی تیسری منزل پر :آداب: کا آفس بنا تھا، سڑک پر کھڑے ہونے سے ہی بورڈ لگا نظر آگیا تھا، گھومتی سیڑھیاں چڑھتے چڑھتے سینے کے دھونکنی چلنے، اور ناک کی چمنی دھواں دینے لگی، بالآخر ایک خوبصورت آفس کے سامنے پہنچ گیا 12MM کے شیشےکا بھاری دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوا تو ایک نوجوان خوبصورت میز پر کہنیاں ٹکائے اخبار کے مطالعے میں مگن پایا جب کہ.. اس کے شیشے کی ہی پارٹیشن دے کر باس آفس بنا تھا جہاں میز کے پیچھے گھومنے والی کرسی پر تقریباً پانچ فٹ نو انچ کا دھان پان، قدرے زیادہ سانولا، پختہ کار شخص چہرے پر پلاسٹک کے فریم، اور چوکور لیکن قدرے بڑے شیشوں والی عینک اور ہلکی مونچھوں والا آدمی جس کے دائیں ہاتھ کی انگشت شہادت اور انگوٹھے میں دبی سلگتی سگریٹ تھی یہی مجھے مالک و مدیر دکھائی دے رہا تھا، جبکہ اس کے سامنے کرسیوں پر ایک ادھیڑ عمر آدمی اور ایک مہ جمال، مہ جبیں تھی چائے ان کے سامنے دھری دھواں دے رہی تھی ، میں نے السلام علیکم کہہ کر آنے کا مدعا بیان کیا، تو اخبار پڑھنے والے نوجوان نے مسکرا کے بیٹھنے اور انتظار کرنے کا کہا، میں بیٹھ گیا تھوڑی دیر بعد چائے بھی آگئی چائے بی پی لی اب تک آدھ گھنٹہ گزر گیا، میں نے نوجوان سے کہا کہ بھئ ان کو بتاؤ کہ میں پنڈی سے آیا ہوں، تو اس نے کہا کہ ان کو بتا چکا ہوں ابھی میٹنگ ہو رہی ہے
اسی طرح مزید آدھ گھنٹہ گزر گیا لیکن میٹنگ ختم نہ ہوئی، حالانکہ صرف خوش گپیاں ہو رہی تھیں، سامنے نظر آرہا تھا، جب نوّے منٹ گزر گئے تو میرا ضبط جواب دے گیا اور میں اٹھ کھڑا ہوا، اور اس نوجوان سے بھی کوئی بات کیے بغیر باہر نکل آیا، عارضی طور پر میرا میٹر شارٹ ہوچکا تھا، ابھی اپنا بریف کیس اٹھائے، میں بمشکل چار پانچ سیڑھیاں ہی اترا تھا کہ نوجوان دوڑتا ہوا پیچھے آگیا کہ سر آپ کو بلا رہے ہیں، ایک بار تو جی چاہا کہ دھتکار کر آجاؤں لیکن مجھے غصہ ذرا کم ہی آتا ہے، کافی دیر بعد آتا ہے اور اتر بھی جلدی جاتا ہے، لہذا غصہ جھٹک کر، واپس چل دیا نوجوان نے آفس کا دروازہ کھول کر مجھے اندر جانے کی اجازت دی مدیر صاحب نے پہلے سے موجود چوتھی کرسی کی طرف اشارہ کر کے مجھے کہا تشریف رکھئیے میں خاموشی سے بیٹھ گیا
جی فرمائیے؟ مدیر صاحب بولے
آپ گلزار شاھد ہیں مدیر؟
جی ہاں بات کیجئے وہ قدرے بے نیازی سے بولے …..
الگ سے بات کرنی ہے… میں نے ادھیڑ عمر اور خاتون کی طرف غیر محسوس اشارہ کرکے کہا، نہیں نہیں جو بات کرنی ہے آپ کر دیجئے،
ان کی اس بات سے میرے دماغ کا انجن پھر دھواں دینے لگا،
جناب اگر میرے ساتھ بات آپ نے سب کے سامنے ہی کرنی تھی تو ڈیڑھ گھنٹہ پہلے کر لیتے ،
میں لہجے کی تلخی چھپا نہ سکا،
میرا چبھتا لہجہ بھانپ کر مدیر صاحب نے قدرے بے بسی سے ان دونوں کو دیکھا تو وہ خود ہی اٹھ کھڑے ہوئے اور رخصت ہو گئے! یا باہر جا کر بیٹھ گئے آپ غصہ کر گئے ہیں گلزار شاھد پہلی بار قدرے مسکرائے جی ہاں اس لئے کہ کسی بھی ڈائجسٹ یارسالے کی آمدن کا بہت بڑا ذریعہ نیوز ایجنٹ ہوتا ہے، اور اسی کو آپ اہمیت نہیں دیتے،
میں نے پھر بتایا کہ راولپنڈی کے لئے آداب میگزین کی فروخت کے حقوق کے لئے آیا تھا، وہ فرمانے لگے کہ دس ہزار سیکورٹی دینی پڑے گی میں نے پانچ ہزار کی پیشکش کی انہوں نے انکار کر دیا پھر میں نے پہلے چھ اور پھر سات ہزار کی آفر کی تو نیم رضامندی کے آثار پیدا ہو گئے بالآخر آٹھ ہزار پر ڈن ہوگئی
پڑھنے والوں کی معلومات کے لئے بتاتا چلوں کہ یہ نیوز ایجنٹ اور ڈائجسٹ پبلشر کے درمیان معاہدہ ہوتا ہے کسی شہر کے لئے تقسیم کاری کے حقوق حاصل کرنے کے لیے نیوز ایجنٹ زر ضمانت جمع کرواتا ہے پھر پہلا شمارہ مطلوبہ تعداد میں اسے بھیج دیا جاتا ہے وہ اپنے علاقے کے مختلف بک سٹالوں پر دو دو چار چار پرچے رکھوا دیتا ہے پھر اگلے ماہ کا شمارہ بھی بھیج دیا جاتا ہے نیوز ایجنٹ اس شمارے کو لے کر پھر بک سٹالز تک جاتا ہے اور پھر دو دو چار چار پرچے دیتا ہے اور پچھلا شمارہ اگر فروخت ہو گیا ہے تو اس کے پیسے وصول کر لیتا ہے، اور اگر فروخت نہیں ہوا تو واپس اٹھا لیتا ہے تقریباً تمام نئے جاری ہونے والے ڈائجسٹ رسائل و جرائد کے لئے اور تقریباً تمام شہروں کے لئے یہی مروجہ طریقہ کار کار ہے، اور جو پرچے فروخت ہوتے ہیں ان کی ادئیگی اور غیر فروخت شدہ پرچے ادارے کو واپس کر دئیے جاتے ہیں لیکن آداب کا صرف ایک ہی شمارہ چھپا اور وہ بھی نمونے کے برعکس غیر معیاری جس کی وجہ سے وہ فروخت بھی نہ ہوا، اور اس کے بعد سلسلہ ختم یوں بہت ساری نیوز ایجنسیوں کے ساتھ ساتھ ہماری سیکورٹی کی رقم بھی ڈوب گئی، اور دفتر کو خالی کر کے مکتوب الیہ عدم پتہ چلے گئیے
..اردو کہانی کا سفر کی قسط نمبر 9کا اختتام جہاں ہوا وہ یہ تھا کہ ذاکر حسن آرٹسٹ سے میں نے درخواست کی کہ مسٹر میگزین ڈائجسٹ کی کہانیوں کے اسکیچز کے لئے کوئی آرٹسٹ دیں اور انہوں نے فرمایا کہ ابھی ابھی گلزار شاھد اٹھ کر گیا ہے، وہ آج کل جاب لیس ہے !
بہرکیف اس دور میں موبائل عام نہیں ہوا تھا، کہ فون کر کے ان کو واپس بلایا جا سکتا، لہذا میں نے ذاکر صاحب کو کہا کہ اب آئیں تو ان کو میرا بتائیے گا
اس بات کے چند روز بعد ایک دن میں راولپنڈی اپنے آفس نواب سنز پبلی کیشنز میں بیٹھا تھا کہ گلزار شاھد آئے اور السلام علیکم کے بعد ذاکر حسن کا ایک خط میرے ہاتھ میں تھما دیا جس پر لکھا تھا کہ نواب بھائی اسکیچز بنانے کا کام ان کے ان کو تفویض کردیں کسی دور میں الف لیلہ ڈائجسٹ میں کام کر چکے ہیں اور بہت ہی کاریگر مصور ہے میں اسی وقت ان کو پہچان گیا کہ یہ وہی آداب والے گلزار شاھد ہیں لیکن میں نے اس وقت قطعاً نہ جتلایا، بعد میں پتہ چلا کہ گلزار شاھد تو غضب ناک حد تک زبردست مصور ہیں، یہ کہنے میں مجھے کوئی عار نہیں کہ بعض اوقات مجھے وہ ذاکر سے بھی بہتر آرٹسٹ نظر آئے، انہوں نے کئی سال مسٹر میگزین کے لئے کام کیا، اسی دوران انہوں نے تھوڑے تھوڑے کر کے آداب کی سیکورٹی والی رقم بھی واپس کردی کہیں بیٹھک وغیرہ لے کر کرایہ پر رہتے تھے، اپنا پتہ کبھی. نہ بتاتے….. پھر حوادث زمانہ سے مسٹر میگزین بھی بند ہو گیا تو گلزار شاھد سے میں نے کچھ کتابوں کے ٹائیٹل بھی بنوائے.. کلیات ساحر دیوان غالب کلیات ساغر وغیرہ پھر وہ لاہور اورپھر جانے کہاں چلے گئے، سات آٹھ سال پہلے آخری بار ان کا فون آیا تھا! کہیں سندھ وغیرہ سے بول رہے تھے…..
گزشتہ ماہ مکتبہ القریش لاہور کے روح رواں معروف پبلشر محمد علی قریشی کاروباری دورے پر راولپنڈی آئے ، تو ملاقات کے لئے میرے آفس نواب سنز

 

پبلی کیشنز بھی تشریف لائے.. اس موقع پر میں نے انہیں ایک بچوں کا ناول پیش کیا جس کا نام پراسرار تحریر تھا، وہ کتاب کو الٹ پلٹ کر دیکھنے لگے، اور میری جانب سوالیہ نظروں سے دیکھا، تو میں نے کہا کہ یہ میرے پاس امانت تھی جسے آپ تک پہچانا تھا، وہ کچھ نہ سمجھنے کے انداز میں عجب اچنبھے کی کیفیت سے دوچار ہوئے تو میں نے کنفیوژن ختم کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے انہیں بتایا، کہ آج سے چالیس سال پیشتر یہ ناول اسی نام اسی مصنف اور اسی ٹائٹل کے ساتھ آپ کے ادارے القریش پبلی کیشنز کے پرانے نام مکتبہ القریش سے آپ کے والد بزرگوار نے چھاپا تھا، صاحب مصنف جو اس وقت فرسٹ ائیر کا سٹوڈنٹ تھا، آج آپ کے شہر لاہور میں ایڈیشنل آئی جی کے عہدے پر موجود ہیں اور انہوں نے یہ ناول بنفسِ نفیس خود مجھے دیا ہے کہ آپ کو پیش کیا جائے

 

،
برادرم محمد علی قریشی اس بات سے بے حد مسرور ہوئے، یقیناً یہ ان کے لئے ایک اعزاز تھا،
اس واقعے کے ایک ماہ بعد غلام رسول زاھد صاحب نے مجھے ملاقات میں بتایا کہ میں نے فون پر بھی محمد علی قریشی صاحب سے بات کر لی ہے، یہ ہوتی ہیں اچھے لوگوں کی اچھی باتیں کہ وہ بلند ترین مقام پر پہنچ کر بھی ان کو نہیں بھولتے، جنہوں نے کسی وقت ان کے لئے کچھ کیا ہوتا ہے پراسرار تحریر غلام رسول زاھد صاحب کی پہلی ناول یا کتاب تھی جو کسی زمانے میں مکتبہ القریش سے چھپی تھی اس کی ایک کاپی انہوں نے چالیس برس سنبھال کر رکھی، اور پھر بچوں کا کتاب گھر نے 2019میں اسی پرانے سرورق کو ری میک کر کے اس کا دوسرا ایڈیشن شاندار انداز میں شائع کر کے مکتبہ القریش اور ایڈیشنل آئ جی صاحب دونوں کو خراج تحسین پیش کیا!

ہفتہ 15ستمبر دوپہر ڈھائی بجے غلام رسول زاہد صاحب کا فون آیا، کہ آپ کہاں پر ہیں، میں سمجھ گیا کہ کچھ کتابوں کی خریداری کے لئے شوروم پر آنا چاہتے ہیں اسی لئے پوچھ رہے ہیں، عرض کیا کہ جناب سوئے اتفاق آج میں دوکان پر موجود نہیں، البتہ میں کسی بھائی کو فون کر دیتا ہوں،
نہیں آپ کہاں ہیں انہوں نے اصرار سے پوچھا؟
میں نے عرض کہ جناب والا آج گھر میں دو دروازوں کی پالش کروانے کے سلسلے میں کاریگروں کی کاریگری چیک کرنے کے لئے گھر پر ہی ہوں،
واہ جی واہ
واہ جی واہ
پھر تو مزے ہو گئے، میں اس وقت بحریہ فیز 7 میں ہوں، آپ فیز 8 میں رہتے ہیں نا؟
غلام رسول زاھد صاحب پوچھا؟
جی جی بالکل فیز 8میں ہی موجود ہوں؟
میرے ساتھ تین لوگ اور ہیں، چائے پینے آپ کے گھر آ رہے ہیں، میرے وٹس ایپ پر گھر کی لوکیشن سینڈ کردیں،
ایڈیشنل آئی جی (لاجسٹک) پنجاب جناب غلام رسول زاھد صاحب کی جاندار آواز اور شان دار بات سن کر میری ساری بوریت اڑنچھو ہو گئی، اور پھر تقریباً ساڑھے تین بجے تین گاڑیوں کا قافلہ عین گھر کے سامنے رکا اور غلام رسول زاہد صاحب باہر نکل کر بغل گیر ہو گئے،
پھر جو ہم ڈرائینگ روم میں بیٹھے تو وقت کا پتہ ہی نہ چلا تین گھنٹے گزر گئے، گپیں لگاتے رہے، باتیں تھیں کہ ختم ہونے میں ہی نہ آرہی تھیں،قلم اور کتاب کا وہ کون سا موضوع تھا جو زیر بحث نہ آیا ہو، غلام رسول زاہد صاحب کتابوں کے متعلق اتنا کچھ جانتے ہیں، جتنا اکثر کتابیں چھاپنے والے بھی نہیں جانتے.. اور لکھنے والوں کو بھی اتنا جانتے ہیں، جتنا بہت کم پڑھنے والے جانتے ہیں، میں نے کسی سرکاری افسر کو اتنی کتابیں خریدتے جمع کرتے کبھی نہیں دیکھا، اور نہ ہی کتاب سے اتنا پیار کرتے دیکھا ہے،
غلام رسول زاہد صاحب سے میرا تعلق پندرھویں برس میں داخل ہو چکا ہے، 2004یا پانچ کی بات ہے، جب ایک روز اشتیاق احمد ( مشہور و معروف مصنف) صاحب کی تصویر اور نام میرے سیل فون پر جگمگایا، فون کان تک پہنچا کر السلام علیکم سر کہا تو اشتیاق صاحب کی انتہائی باریک لیکن مانوس کھنکتی آواز نے کانوں میں شہد ٹپکانا شروع کیا،
کیا حال ہے اعجاز؟
اللہ کا کرم ہے سر !
یار یہ پیچھے شور کیسا ہورہا ہے
بارش ہو رہی ہے سر موسلا دھار
واہ.. تھوڑی بارش ہماری طرف بھی بھیجو خشک سالی چل رہی ہے،….. سر باردانہ بھی نہیں ہے ریڑھے والا بھی نہیں مل رہا کل بجھوا دوں گا،
میرا عجیب جواب سن کر دوسری جانب دو سیکنڈ کے لئے خاموشی چھا گئ!
اور پھر قہقہہ…. کیا پرانا دور یاد کروا دیا ہے، وہ ریڑھے والے… بوریاں نہیں مل رہیں کاتب نہیں آیا،بائنڈر نے کتابیں لیٹ کردیں…. اور پھر اشتیاق صاحب مکتبہ اشتیاق اور اشتیاق پبلیکیشنز کی باتیں دھرانے لگے، اچانک چونکے اور کہنے لگے ارے میں اصل بات تو بھول ہی گیا، ہمارے ایک دوست ہیں سپریڈنٹ پولیس ہیں اور آج کل راولپنڈی میں تعینات ہیں، وہ اقوام متحدہ امن دستے کے ساتھ بوسنیا گئے تھے سال بھر وہاں رہے ہیں اور اپنی یادداشتیں سفر نامہ کی صورت لکھی ہیں، اوراب کتاب چھپوانا چاہتے ہیں، راولپنڈی اسلام آباد میں کسی اچھے پبلشر کا پوچھ رہے تھے، تو میں نے آپ کا نام بتایا ہے
سر ٹھیک ہے آپ ان کا نمبر دے دیں میں رابطہ کر لیتا ہوں،
اس کی ضرورت نہیں اشتیاق صاحب کہنے لگے…… وہ ابھی آپ کو خود فون کریں گے،…. اور پھر اشتیاق صاحب کا فون بند ہونے کے چند منٹ بعد ہی غلام رسول زاہد صاحب کا فون آگیا،
غلام رسول زاہد یکم اکتوبر 1964 قبولہ شریف تحصیل عارف والا ( ضلع پاک پتن) میں پیدا ہوئے؛ والدمحترم کا نام چوہدری غلام سرور، ابتدائی تعلیم عریبک

 

ماڈل سکول الجامعہ قبولہ شریف سے حاصل کی، میٹرک میں سلور میڈل اور ٹیلنٹ سکالر شپ حاصل کیا، ایف اے میں آپ نے لاہور بورڈ میں پہلی پوزیشن حاصل کی، بی اے میں پنجاب بھر میں لڑکوں میں پہلی اور بحثیتِ مجموعی دوسری پوزیشن حاصل کی آپ کی تعلیم ایم اے انگریزی ادبیات قائدِ اعظم گولڈ میڈل، یونیورسٹی رول آف آنر گورنمنٹ کالج آف لاہور !
اسلامک سویلائیزیشن اینڈ تھاٹ میں ایم فِل کے ساتھ ساتھ پنجاب یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی ڈگری بھی حاصل کی،
سی ایس ایس (کے تحریری امتحانات میں پاکستان بھر میں پہلی پوزیشن حاصل کی) کرنے کے بعد پولیس سروس میں شمولیت اختیار کی، بطور ایس ایس پی /ایس پی /ڈی پی او راولپنڈی/ لاہور/ خانیوال/ رحیم یار خان /سرگودھا اور کراچی میں تعینات رہنے کے بعد پولیس کالج سہالہ راولپنڈی میں بحثیتِ ڈی آئی جی کمانڈنٹ آفیسر فائز رہے، بعد ازاں، بطور ڈی آئی جی آپریشنل لاہور اور ڈی آئی جی موٹر وے فرائض کی ادائیگی کے بعد آج کل ایڈیشنل آئی جی پنجاب (لاجسٹک) کے طور پر اپنے فرائض منصبی کی ادائیگی میں مصروف عمل ہیں، آپ کو صدر پاکستان کی جانب سے پولیس میڈل (PPM) سے بھی نوازا گیا،
سب سے پہلے آپ نے بچوں کے لئے ناول پراسرار تحریر 1980 میں لکھا جب آپ فرسٹ ائیر کے طالبعلم تھے ، اس کے بعد ان کا شعری مجموعہ حرفِ شوق کے نام سے چھپا، ان کے دوسرے شعری مجموعے کا نام حرف اضطراب ہے جو رمیل ھاؤس آف پبلی کیشنز راولپنڈی سے معروف شاعر وپبلشر سخن ور ادبی تنظیم کے چئیرمین ارشد ملک صاحب نے شائع کیا، ، ان کے چوتھی کتاب :کوسوو میں ایک سال: یورپ کی واحد مسلمان ریاست بوسنیا کے دگرگوں حالات میں اقوام متحدہ امن مشن برائے کوسوو ، میں تعیناتی کے دوران وہاں پیش آنے والے حالات و واقعات پر لکھا گیا سفر نامہ ہے جسے سنگ میل پبلی کیشنز لاہور نے شائع کیا، اس دوران آپ، بچوں کا اسلام، میں بچوں کے لئے کہانیاں مسلسل لکھتے رہے، ان کی کہانیوں کا ایک مجموعہ چالیسواں خزانہ کے نام سے نواب سنز پبلی کیشنز راولپنڈی شائع ہوا ہے، اب تک کی آخری تصنیف ایک :پولیس افسر کی ڈائری : اور سب سے پہلا ناول پراسرار تحریر کا ری ایڈیشن، بچوں کا کتاب گھر لاہور سے شائع کیا گیا، … بچوں کا اسلام میں اب بھی ان کی کہانیاں، وقتاً فوقتاً شائع ہوتی رہتی ہیں
…….

 


…….
……
…..
اردو کہانی کا سفر
طلسم ہوش ربا کی یہ ہزار داستان، ابھی جاری ہے، فسانہ نگاروں کے اپنے فسانے، ڈائجسٹوں کی دنیا، کہانیوں کی باتیں، قارئین ناشرین اور مصنفین کی مشترکہ بیٹھک، آئندہ (قسط نمبر 11) انشاءاللہ جمعرات 26ستمبر 2019 کو شائع ہو جائے گی، اردو کہانی کا سفر کے ساتھ رہئیے گا
شکریہ
بہ احترامات فراواں
اعجاز احمد نواب

براہ مہربانی اس پوسٹ لازماً شئیر کر دیجئیے گا
اپنے کمنٹس سے ضرور نوازئیے گا

 

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر نمبر 13 . اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر نمبر 13 تحریر اعجاز احمد نواب وزیر آباد شہر کئی حوالوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے