سر ورق / افسانہ / ذرا سی دھوپ :فاطمہ شیروانی

ذرا سی دھوپ :فاطمہ شیروانی

ذرا سی دھوپ
تحریر:فاطمہ شیروانی
اتوار کے روزمیر ہاﺅس میں چہل پہل کچھ معمول سے زیادہ ہی تھی۔جس کی وجہ بھی بہت خاص تھی۔میر ابراہیم کی اکلوتی صاحبزادی صبا میر کی شادی کی تاریخ طے ہونے جا رہی تھی۔جس کی تیاریاں صبح سویرے ہی شروع ہو چکی تھیں۔سخت سردیوں کے دن تھے۔مہمانوں نے بھی دوپہر تک آنا تھا مگر دلشاد بیگم کی تاکید تھی کہ وقت سے پہلے ہی تمام کام مکمل کیا جاے۔اس گھر کے مکینوں کے لئے لازم تھاکہ وہ فجر کی اذانوں کے ساتھ ہی اپنے روزمرہ کے معمولات کا آغاز کردیں۔میر ابراہیم نے دلشاد بیگم کو گھر کے سیاہ و سفید کا مالک بنا رکھا تھا۔دلشاد بیگم کے ان کی زندگی میں آنے کے بعد ان کے کاروبار نے بہت ترقی کی تھی۔معاشی لحاظ سے ان کا اسٹیٹس بھی بڑھ گیا تھا۔جس کے لئے وہ دلشاد بیگم کے ممنون تھے۔پھر سعد اور صبا کی آمد کے بعد ان کی زندگی مکمل ہو گئی تھی۔سعد کی فروا کے ساتھ شادی کوابھی سال بھی نہیں ہوا تھاکہ صبا کی شادی کا سلسلہ شروع ہو گیا۔فروا دلشاد بیگم کی حاکمانہ طبعیت سے بہت اچھی طرح واقف ہو گئی تھی۔اس لئے اس کی کوشش ہوتی تھی کہ انہیں شکایت کا موقع کم سے کم دے مگر پھر بھی کچھ نہ کچھ ایسا ہو جاتا تھا جس پر ان کا مزاج برہم ہو جاتا تھا۔دلشاد بیگم کے رویے کے برعکس سعدخاصی نرم طبعیت کا مالک تھا اور فروا کے اطمینان کے لئے یہی کافی تھاکہ سعد جیسا ہمسفر اس کی زندگی میں شامل ہے۔وہ پوری دلجمی سے دعوت کی تیاریوں میں مصروف تھی۔اس کا خیال تھا کہ اس بار دلشاد بیگم اسے ضرور سراہیں گی مگر دور بیٹھی قسمت اس کی اس خوش فہمی پر مسکراتے ہوئے اسے دیکھ رہی تھی۔
”امی! میں نے کھیر اور کباب بنا کر فریج میں رکھ دئیے ہیں۔مچھلی کو بھی مصالحہ لگا دیا ہے۔بس اب یہ چکن دھو کر رکھنے لگی ہوں۔“
فروا نے ساس کودیکھتے ہوے کہا جو ناقدانہ انداز میں کچن کا جائزہ لے رہی تھی۔
”فروا ذرا ڈرائنگ روم اچھی طرح صاف کر وا دینا۔اس کام والی ماسی پر تو مجھے ذرا بھی بھروسہ نہیں۔“
دلشاد بیگم نے فروا کو ایک اور ہدایت دیتے ہوئے کہا۔
”جی امی، میں ذرا سعد کو چاے دے دوں۔پھر یہی سب کچھ دیکھتی ہوں۔“
فروا نے چاے کپ میں انڈیلی اور سعد کو چاے دینے کے بعدصفائی کے انتظامات میں لگ گئی۔وہ بہت بری طرح تھک چکی تھی مگر ابھی بہت سے کام رہتے تھے۔صبا اپنی تیاریوں میں مصروف تھی اسے دعوت کے انتظامات سے کوئی دلچسپی نہیں تھی۔صفائی کے کاموں سے فارغ ہو کرفروا جیسے ہی کچن میں آئی اُس کی نظر کھڑکیوں سے آتی دھوپ کی طرف پڑی۔وہ بے اختیار ہی دھوپ کے پیچھے کچن سے باہر نکل آئی۔اُسے لگا وہ کسی مہربان چھاﺅں کی پناہ میں آ گئی ہو۔لان میںموجود کرسی شاید اس کے آنے کی ہی منتظر تھی۔کرسی پر بیٹھتے ہی اُس کی برف ہڈیوں کو جیسے ٹکورمل گیا۔بیٹھتے ہی اسے اونگھ آ گئی۔اس سے پہلے کہ وہ مکمل طور پرنیند کی وادیوں میں چلی جاتی سعد کی آواز جیسے اسے ہوش کی دنیا میں واپس لے آئی۔
”فروا ! اٹھو۔۔۔۔اندر امی بہت غصے میں ہیں۔۔۔تم دھوپ کے مزے لے رہی ہو۔۔۔اندر صبا اور امی سارے کام کر رہی ہیں۔۔اُن لوگوں کا فون آ گیا ہے وہ بس تھوڑی دیر میں پہنچنے ہی والے ہیں۔“
فروا تیزی سے اندر کی طرف بھاگی۔منظر تھوڑا بدلا ہوا تھا۔صبا فریج میں سے کباب نکال رہی تھی جبکہ دلشاد بیگم قورمے کا مصالحہ بھون رہی تھیں۔فروا نے جلدی سے دلشاد بیگم کے ہاتھ سے ڈوئی پکڑی اور صبا کو تیار ہونے کے لئے بھیج دیا۔دلشاد بیگم کا مزاج خاصابرہم تھا وجہ فروا جانتی تھی۔وہ خاصی شرمندہ تھی۔فروا نے کام کافی حد تک مکمل کر لیا تھا۔اس لئے یہ اطمینان ضرورتھا کہ مہمانوں کے آنے پر کھانا تیار ہی ہوگا۔تھوڑی ہی دیر میں مہمان آگئے۔اُن کے آنے سے پہلے فروا خود بھی تیار ہو چکی تھی۔مہمانوں نے نہایت خوشگوار ماحول میں کھانا کھایا۔صبا کی شادی کی تاریخ بھی طے ہو گئی۔فروا کے سگھڑاپے کی سبھی نے تعریف کی۔کھانے کے بعد چاے کا دور چلا۔دلشاد بیگم صبا کی ہونے والی ساس کو لے کر اپنے کمرے میں بیٹھی تھیں۔فرواکمرے کے پاس سے گزری تو باہرسے آتی آوازوں میں اپنا نام سن کر چونک گئی۔
”بہن، یہ سارے کام ،سب انتظامات میں نے اپنی بیٹی کے ساتھ مل کر ہی کئے ہیں۔میری بہو تو تمام دن دھوپ میں ہی بیٹھی رہی۔“
”اچھا۔۔۔۔۔۔مگر ابراہیم بھائی تو کچھ اور ہی کہہ رہے ہیں۔“
”ابراہیم کو کیا خبر۔۔۔۔۔تمام دن تو میں اس کے ساتھ ہوتی ہوں۔سارا دن دھوپ میں بیٹھی مزے کرتی رہی۔اب آپ لوگوں کے سامنے نمبر بنا رہی ہے۔خیر چھوڑیں، یہ دیکھیں یہ سب سجاوٹ میری صبا نے ہی کی ہے۔۔۔۔۔۔۔“
دلشاد بیگم تو نجانے اور کیا کچھ بولتی جا رہی تھیں مگر فروا وہاں مزید نہیں رک سکی۔محض پندرہ منٹ کی ذرا سی دھوپ نے اُس کے پورے دن کی محنت کو نگل لیا تھا اور وہ سوائے آنسو بہانے کے کچھ بھی نہیں کر سکی تھی۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اپنی جڑوں کی جانب.. سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، ہند

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 38 اپنی جڑوں کی جانب.. سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے