سر ورق / ناول / دام عشق۔۔ ابن آس محمد ۔ قسط نمبر 6 اور 7

دام عشق۔۔ ابن آس محمد ۔ قسط نمبر 6 اور 7

ابن آس محمد کے قلم سے فیس بک پر پہلا ناول
” دام عشق ”
””””””””””””””””””’
سات ویں قسط ….
تحریر: ابن آس محمد
……………..
بے سبب عشق کی کہانی۔
ایک ہوس پرست وحشی کا عشق طولانی
اس کی وحشت اسے جنونی عشق کی طرف لے جا رہی تھی۔
دام عشق میں لا رہی تھی۔
…………………………….
محبوب دُعا کی بوتیک سے نکل کر باہر آگیا۔اس امر سے بے خبر کہ وہ اپنا کیسا برا تاثر چھوڑ چکا ہے دعا پر…
.وہ پہلا مرد نہیں تھا جو کسی لڑکی پر براتاثر چھوڑ کر گیا تھا۔مرد کبھی کسی عورت پراپنا اچھا تاثر چھوڑ کرنہیں جاتا،جو اچھا تاثر چھوڑنے کی شعوری کوشش کرتا ہے،اس کا تاثر زیادہ برا ہوتا ہے۔
اب اس کے ساتھ اچھا ہونے والاتھا یا برا ہونے والاتھا۔کون جانتا تھا۔
وہ گلیوں گلیوں چلتے ہوئے اپنی گاڑی کی طرف جا رہا تھا۔
تھوڑی تھوڑی دیر بعد اپنے ہاتھ کو دیکھ رہا تھا۔خوش ہورہا تھا۔چوم رہا تھا۔
کچھ دیر پہلے اس ہاتھ میں دُعا کا ہاتھ یا تھا۔جانے کیا بات تھی دُعا کے ہاتھ میں….،اس وقت تو اسے احساس نہیں ہوا،مگر جب اس کا ہاتھ چھوڑ کر باہر نکلا تو احساس ہوا کہ وہ غیر معمولی ہاتھ تھا۔
اس کے ملائم ہاتھ کی نرمی،اور ہلکی ہلکی گرمی اسے اپنے انگلیوں کے پوروں پہ ابھی تک محسوس ہو رہی تھی۔
اس کی بیوی ا سکی زندگی کی پہلی عورت تھی جس کا ہاتھ ا س نے پہلی بار تھاما تھا۔،وہی نرمی،وہی گرمی اور وہی ہلکی ہلکی سی کپکپاہٹ اب اسے دُعا کے ہاتھ میں محسوس ہو ئی تھی جو شب عروس میں اپنی کم عمر بیوی کے ہاتھ میں محسوس ہوئی تھی۔
شادی کی ناکامی کے بعد اس نے اپنی زندگی میں درجنوں کیا،سینکڑوں لڑکیوں کے ہاتھ پکڑے تھے،ہاتھ ملایا تھا،جسم گرمایا تھا،مگرجو تجربہ آج ہوا تھا،وہ تجربہ پہلے کبھی محسوس نہیں ہوا۔
اس کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ ان سینکروں ہاتھوں میں اور اس ہاتھ میں کیا فرق تھا،وہ چلتے چلتے اس گتھی کو سمجھا رہا تھا،خود کو سمجھا رہا تھا،اور پھر ا س کی سمجھ میں ایک ہی بات آئی….
ا س کا بیوی کا ہاتھ کنوار اتھا،لا محالہ دُعا کا ہاتھ بھی کنوارا تھا۔مطلب وہ ایک دوشیزہ کا ہاتھ تھا۔
دوشیزگی کا اپنا ایک لطف ہوتا ہے۔و ہ برسوں بعد ا س لطف سے آشنا ہوا تھا۔
اس سے تنہائی میں ملنے والی اکثر لڑکیوں نے قسم کھا کر کہا تھا کہ وہ پہلی بار کسی کی تنہائی آباد کر رہی ہیں،کئی بار اس نے یقین بھی کیا تھا،مگر اب سمجھ میں آیا،پہلی بار کی قسم کھانے والی لڑکیاں اکثر بار بار جھوٹ بول رہی ہوتی ہیں،کنواری لڑکی کو جھوٹ نہیں بولنا پڑتا۔اس کا لمس خود بتا دیتا ہے کہ وہ کیا ہے اور کیسی ہے۔
عورت کا ہاتھ چھولینے سے پتا چل جاتا ہے کہ وہ اکیلی رہتی رہی ہے یا میلی ہوتی رہی ہے۔
میلی عورت اپنے اندر کا میل چھپا نہیں سکتی،اور دوشیزہ کو کبھی بتانے کی ضرورت پیش نہیں آتی کہ وہ پاکیزہ ہے۔جیسے پاکیزہ مرد،کو بتانا نہیں پڑتا کہ وہ شریف ہے،اس کی شرافت اس کی آنکھوں سے ہی ظاہر ہوجاتی ہے،بد کردار کو اپنے کردار کی ہمیشہ قسمیں کھانا پڑتی ہیں،مگر کوئی ان پر یقین نہیں کرتا۔
وہ کافی دور تک ایک ٹرانس کی کیفیت میں چلتا رہا،دُعا کا احسا س اس کے اندر پلتا رہا،اور پھر چلتے چلتے جب سگنل آیا،تو اسے رکنا پڑا۔
پیدل چلنے والوں کے لیے سڑک بلاک ہو گئی تھی۔وہ رُک کر ٹریفک گزرنے کا انتظار کرنے لگا۔ایسے میں اُسے فون کال یاد آئی،جب وہ دعا کو کتاب دے رہا تھا تو اس کا فون مسلسل بج رہا تھا،کوئی اسے فون کر رہا تھا۔
یاد آتے ہی اس نے جیب سے فون نکالااور دیکھنے لگا کہ کچھ دیر پہلے کس کی کال آرہی تھی۔کون اس رومینٹک سین میں بیک گراؤنڈ میوزک دے رہا تھا۔
وہ کوئی نیا نمبر تھا،یا نئے نمبر سے فون کر رہاتھا۔نئے نمبر کا مطلب تھا کہ وہ کوئی اجنبی ہے ا س کے لیے۔
اس نے وہ نمبر پش کرکے کال ملائی چند ہی لمحوں بعد دوسری طرف سے نسوانی آوازاُبھری:
”ہیلو محبوب…. میں فون کر رہی تھی،تم نے کال ہی رسیو نہیں کی…“
ٹریفک کا شور تھا،گاڑیوں کی ٹیں ٹاں میں وہ آواز پہچان نہیں پایا۔ذروا اونچے سروں میں بولا:
”ہیلو….کون…؟“
دوسری طرف سے پوچھاگیا۔
”پہچانے نہیں….؟
”نہیں…کون بات کر رہی ہیں آپ…؟“
اسی اثنا میں سگنل بند ہوگیا،پیدل سڑک عبور کرنے والوں کے لیے راستاکھل گیا۔وہ فون کان سے لگائے سڑک عبور کرنے لگا۔دوسری طرف سے کہا گیا:
”میں یاسمین بات کر رہی ہوں یار….تمہاری یاسمین….“
محبوب ایک طویل سانس لے کر بولا:
”او…سوری….نیا نمبر ہے نا….اس لیے پہچان نہیں پایا….“
یاسمین ہنس کر بولی:
”تم تو میری آواز پہچان لیا کرتے تھے پہلے…کتنی بار آچکی ہوں تمہارے پاس….میں سمجھتی تھی کہ تم مجھے نہیں بھولو گے،مگر تم تو میری آواز بھی بھول گئے….سچ کہا ہے کسی نے،ایک رات کا ساتھ جلد دماغ سے نکل جاتاہے….“
محبوب نے جلدی سے کہا:
”سوری یار…. یہاں شور ہو رہا ہے نا…بازار میں ہوں….ٹھیک سے سنائی نہیں دے رہا…. بولو…کیا بات ہے….“
یاسمین ایک لمحہ چپ رہی،پھرکچھ ہمت کرکے بولی:
”مجھے تم سے ملنا ہے….ضروری کام ہے….رات کو آجاؤں….؟“
محبوب سڑک عبور کر کے دوسری طرف کی سڑک پر آگیا۔سامنے موجود پارکنگ میں کھڑی اپنی گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے بولا:”
اچھا….تو…ملتے ہیں جلد…. جب مجھے ضرورت ہو گی بلا لوں گا….ٹھیک ہے…“
دوسری طرف ایک لمحے کو خاموشی رہی پھر یاسمین نے عجیب سے لہجے میں کہا:
”تمہیں ضرورت ہو گی تو تم بلا لوگے….مجھے ضرورت ہوگی تونہیں ملوگے…کیوں…؟“
محبوب فوری طور پ کوئی جواب نہیں دے پایا۔ایک لمحہ سوچتا رہا،پھر بولا:
”اچھا….میں سمجھ گیا…میں تمہیں بعد میں فون کرتاہوں…“
یاسمین نے کہا:
”ٹھیک ہے میرایہ والا نمبر سیو کرلو….فون کیسے کرو گے نمبر سیو نہیں کرو گے تو….“
محبوب نے جلدی سے کہا:
”دوسرا نمبر ہے نا تمہارا میرے پاس….اس پہ کرلوں گا…“
”وہ ماہانہ پیکج والا نمبر تھا،نا ن پیمنٹ پہ بند ہو گیا ہے…یہ نئی سم لی ہے عارضی یوز کے لیے….“
”اچھا ٹھیک ہے…میں سیو کرلیتا ہوں….بائے….“
اس نے فون کال منقطع کردی۔
وہ اپنی گاڑی تک پہنچ چکا تھا۔اس نے نمبر سیو کر کے،گاڑی میں بیٹھ کر اگنیشن میں چابی لگائی اور پارکنگ سے نکل کر سڑک پر آگیا۔
پی ای سی ایچ ایس سے نکل کر وہ کچھ ہی دیر میں ڈیفنس پہنچ گیا۔
گاڑی محبوب ریسٹورنٹ کے سامنے مقررہ جگہ کھڑی کرکے وہ ریکارڈر ہاتھ میں لیے ریسٹورنٹ میں داخل ہوا تو وہاں خاصی گہما گہمی تھی۔اور خود اس پرسرشاری کی سی کیفیت طاری تھی۔
معمول سے زیادہ لوگ لوگ میزوں پر موجود تھے۔ویٹرز اپنے کام میں مصروف تھے۔لنچ ٹائم ہو نے والا تھا،مگر ا س کے ریسٹورنٹ میں لنچ ٹائم سے پہلے ہی خاصا رش ہو جایا کرتا تھا۔
محبوب مسکراتے ہوئے ویٹرز اور مستقل آنے والے گاہکوں کو ہاتھ کے اشارے سے وِش کرتے ہوئے اندر جانے لگا تو اس کی نظر چھے افراد پر پڑی جو ایک میز پرموجود۔ان میں دو لڑکیاں اور چار لڑکے تھے جوآمنے سامنے بیٹھے تھے۔
کھانا سرو ہو چکا تھا،اور وہ کھانے میں مصروف تھے۔
دونوں لڑکیاں جوان اور خوب صورت تھیں،اور پہلی بار ا س کے ریسٹورنٹ میں دکھائی دی تھیں۔دو نوجوان بھی نئے تھے جب کہ دو افراد کو وہ اکثر اپنے ریسٹورنٹ میں دیکھا کرتا تھا۔وہ آتے جاتے اس سے ہیلو ہائے بھی کرتے تھے۔
ایک طرح سے اس کے ریگولر کسٹومر تھے،قریب ہی کسی آفس میں کام کرتے تھے اور آج شاید آفس کے دیگر دوستوں کو لنچ کرانے کے لیے یہاں آئے تھے۔
محبوب علی خان سب کی طرف ہاتھ ہلاتے ہوئے ان کی میز کے سامنے سے گزرا تو پروفیشنل اندا زمیں ان کے سامنے رک گیا،انہیں وِش کرتے ہوئے بولا:
”ہیلو…خوش آمدید….“
انہوں نے ایک ساتھ چونک کر سر اٹھایا،باقی چار وں حیرانی سے دیکھنے لگے کہ یہ کون ان کے سر پر آکر کھڑا ہو گیا،مگر اس کے ریگولر کسٹومر اسے دیکھتے ہی مسکرا اٹھے،پھر ایک نوجوان نے پرجوش انداز میں کہا:
”یہی ہے وہ شخص…جس کے ہاتھ میں جادو ہے…. اسی سے ملوانا تھا تم لوگوں کو…. یہ پورا ریسٹورنٹ اسی کا ہے….ساری ڈشز بھی اسی کی ہے….“
یہ بات سن کر سب کے ہونٹوں پر مسکراہٹ دوڑ گئی۔
اس نوجوان کے بالکل برابر میں بیٹھی ہوئی ایک حسین لڑکی نے نظریں اٹھائیں،اور اس کے چہرے پہ ایک رنگ آکر گزر گیا۔مگر اس نے تیزی سے خود کو سنبھال لیا،اور مسکراتے ہوئے بولی:
”واؤ… وِکی نے ٹھیک ہی کہا تھا…بہت شان دار کھاناہے آپ کے ہاں…. اتنی لذت کا بھی کوئی راز ہے کیا….؟“
محبوب نے اس کی طرف دیکھا اور ایک طویل سانس لے کر رہ گیا مگر اس نے بھی تیزی سے خود کو سنبھال لیاتھا،اس نے دونوں ہاتھ پھیلا کر ذرا مسکراتے ہوئے سر جھکالیا،اور فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔
پہلی لڑکی نے اپنی بات کہہ کر نظریں جھکالی تھیں،اور کھانے میں مشغول ہو گئی تھی،مگر اب چمچہ پلیٹ سے اٹھ کر ا س کے منھ تک نہیں جا پا رہاتھا۔
پھر ا س نے چور نظروں سے محبوب کی طرف دیکھا،اور اس کے حلق سے کچھ اطمینان کی سانس نکل گئی کہ محبوب ا س کی طرف متوجہ نہیں تھا۔اس نے اسے پہچاننے کی کوشش نہیں کی تھی۔بلکہ یوں ظاہر کیا تھا جیسے ا س نے کبھی اس کو دیکھا ہی نہیں پہلے….
دوسری لڑکی نے بھی پہلی کے خاموش ہوتے ہی کہا:
”بے شک….بہت شان دار کھانے ہیں آپ کے…بہت عرصے بعد اتنا عمدہ ذائقہ ملا ہے…“
محبوب نے مسکراتے ہوئے کہا:
”آپ لوگوں کو پسند آیا،ہمار ی محنت وصول ہو گئی…“
اسی نوجوان نے،جس کا نام وکی تھا، اپنے برابر میں بیٹھی ہوئی لڑکی کی طرف اشارہ کیا اور کہا:
”یہ میری منگیتر ہیں،جلد ہی ہماری شادی ہو نے والی ہے….“
یہ وہی لڑکی تھی جو محبوب کو دیکھ کر گھبرا گئی تھی،اور اب ا س سے نظریں چرا رہی تھی۔
”اور یہ اس کی منگیتر ہے…“
پھراس نے دوسری لڑکی اور ایک لڑکے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے مزیدکہا:
”کئی جگہ کھانا کھا چکے ہیں،ان دونوں کو ہوٹلز کے کھانے پسند نہیں،مگر میں کہتا تھا کہ مقام محبوب میں کھاؤ گی تو باہر کھانے کا مزہ آجائے گا…“
محبوب نے مسکراتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا اور کہا:
”یہ ہماری خوش نصیبی ہے… enjoy the food“
نوجوان نے کہا:
”میں سچ کہوں…جب سے یہاں آرہا ہوں لنچ کے لیے…اب تک پانچ کلو وزن بڑھا چکا ہوں صرف ایک مہینے میں …“
اس کی بات پر سب ہی کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ دوڑ گئی۔محبوب نے بھی مسکرا کر کہا:
”آپ گھبرائیں مت…یہاں ڈائٹ مینیو بھی ہے….میں آپ کے لیے کچھ منتخب کرتا ہوں… شادی سے پہلے ہی وزن کم ہو جائے گا….آپ کی ہونے والی بیوی کو یقینا آپ کازیادہ وزن پسند نہیں ہوگا….“
اس کی بات پر سب ہنسنے لگے۔
لڑکی گھبرا کر دوسری طرف دیکھنے لگی۔اس کی آنکھوں کے سامنے کئی مناظر آکر تیزی سے گزر گئے ارو وہ گہرے گہرے سانس لینے لگی۔
اس کے نوجوان منگیتر نے جلدی سے انکار میں سر ہلا کر کہا:
”نہیں نہیں….اس کی ضرورت نہیں،مجھے اپنا وزن بڑھانا تھا جو بڑھ ہی نہیں رہا تھا…میری جانو کو میرے وزن سے کوئی اعتراض نہیں ہو گا…. تھینک گاڈ کہ اب میں صحت مند ہو گیا….اگلے مہینے ہم شادی کر رہے ہیں،میں اپنی منگیتر کو خاص طور پر یہاں لے کر آیا ہوں کہ اسے پتا چل جائے، مجھے کیسا کھانا پسند ہے…“
سب ہنسنے لگے ۔لڑکی بھی جھینپ سی گئی۔
اب محبوب نے خاص طور پرلڑکی کی طرف تووہ جھینپ کر دوسری طرف دیکھنے لگی۔
جھینپتی ہوئی لڑکیاں اسے ویسے ہی بھاتی تھیں۔اس نے شوخی سے کہا:
”اچھی لڑکی نصیب سے ملتی ہے…. جس کو ایسی شان دار لڑکی مل جائے،وہ کھانے پر کہاں دھیان دیتا ہے…آپ میرے فوڈ کی تعریف کر رہے ہیں،اور میں آپ کے انتخاب کی داد دیتا ہوں….“
سب کھلکھلا اٹھے ۔لڑکی ایک دم سے شرما تے ہوئے بولی:
”thanks….آپ بہت خوش مزاج ہیں…اور آپ کا فوڈ بہت ٹیسٹی ہے….“
اس کے نوجوان منگیتر وکی نے کہا:
”خدا نے اس کے ہاتھ میں بہت لذت دی ہے…….یہاں کی سلاد بھی لا جواب ہے…“
لڑکی کا ہاتھ رک گیا تھا،اس سے کھایا نہیں جا رہا تھا۔اس نے سرسراتی ہوئی آواز میں دھیرے سے کہا:
”ہاں…مجھے اندازہ ہو گیا ہے …“
محبوب نے معاملے کی نزاکت کو محسوس کر تے ہوئے وہاسے دوسری طرف دیکھا تو ویٹر اسی طرف آتا دکھائی دیا۔
وہ ان سے ایکسکیوز می کہتے ہوئے میز کے پاس سے ہٹ کر ویٹر کی طرف بڑھا۔
لڑکی نے ایک طویل سانس لے کر آنکھیں بند کرلیں،اور پھر ذرا سر گھما کر محبوب کو جاتے ہوئے دیکھتی رہی۔
محبوب تیزی سے ویٹر کے قریب پہنچا اور ا س کا بازواو تھام کر اسے روکتے ہوئے دھیمی آواز میں پوچھا:
”یہ سلاد ٹیبل نمر تھری کے لیے ہے…؟“
ویٹر نے اثبات میں سر ہلادیا۔وہ تھوڑا گھبراگیا تھا کہ کچھ گڑ بڑ تو نہیں ہو گئی اس سے،
محبوب نے سرگوشی میں کہا:
”سلاد میں انگور کے دانے،زیتون اور کینو کے پیس ڈال لو….اس میز پر ایک لڑکی کی شادی ہونے والی ہے….اسے سلاد میں یہ چیزیں پسند ہیں….اور ہاں سلاد ٹیبل پر رکھتے ہوئے کچھ ایسا کہنا کہ وہ خوش ہو جائیں … خوش گواری کا احساس ہو اُنہیں…“
ویٹر الجھے ہوئے انداز میں ا س کی طرف دیکھنے لگا،پھر جلدی سے سر ہلاتے ہوئے بولا:
”ٹھیک ہے…مم…میں سمجھ گیا….“
اور جانے لگا،مگر محبوب سمجھ گیا کہ وہ کچھ نہیں سمجھا۔
محبوب نے آہستگی سے ا س کا بازو پکڑلیا اور سوچتے ہوئے… ایک ایک لفظ تولتے ہوئے سرگوشی میں بولا:
”تم کہنا کہ…جنٹلمین،ہیئر ز وشنگ یو کنوینس دی لیڈیز ایٹ دی ٹیبل….ایٹ ودھ فیتھ اینڈ کنوکشن…اِٹز دی ہاؤس….سمجھ گئے…؟
ویٹر سٹپٹا گی ا،آنکھیں گھما کر ا س کی طرف دیکھنے لگا۔پھر الجھ کر بولا:
”سوری….میں…سمجھا نہیں….“
محبوب نے جھنجھلا کر کہا:
”تم توکہہ رہے تھے کہ تم لینگویج کورس کر رہے ہو….فیس بھی لے رہے ہو مجھ سے…؟
ویٹرنے جلدی سے سر ہلا کر جھجکتے ہوئے کہا:
”اچھا ٹھیک ہے….آپ ایک بار پھر یہ لائنیں دہرائیں….مم…میں میں یاد کر کے بول دیتا ہوں….“
محبوب نے اپنی بات دہرانے کے لیے ایک لمحے کو ذہن پر زور دیا،مگر الجھ گیا کہ اس نے کیا کہا تھا۔یاد کرنے کی کوشش کی مگر یاد نہ آیا،وہ انکار میں سر ہلاتے ہوئے بولا:
”میں تو خود بھول گیا کہ میں نے کیا کہا تھا….“
ویٹر اس کی طرف دیکھتا رہا،محبوب یاد کرنے کی کوشش کرتا رہا،مگر وہ جملہ دوبارہ یاد نہیں آیا تو ذرا جھنجلا کربولا:
”ایک کام کرو…. ان کے لیے سلادلے جاؤ….اور کچھ مت کہنا…خاموشی سے رکھ کر آجانا….“
پھر وہ رکا نہیں اور تیزی سے کچن میں چلاگیا۔
……..
رات آدھی سے زیادہ بیت چکی تھی۔
کوئی تین بجے کا وقت تھا۔محبوب بستر پر لیٹا تھا۔اس کے کپڑے ایک طرف پڑے تھے۔وہ صرف زیر جامہ پہنے ہوئے تھا،اور سگریٹ کے کش لے رہا تھا۔
اس نے سگریٹ کا ایک گہرا کش لے کر اپنے بائیں جانب لیٹی ہوئی یاسمین کی طرف بڑھادیا۔
وہ نڈھال پڑی ہوئی تھی،اوپری بدن برہنہ تھا،نچلے جسم پر چادر پڑی ہوئی تھی۔اس نے یوں لیٹے لیٹے سگریٹ تھام کر ایک گہرا کش لیا اور گاڑحا گاڑھا کچا دھواں خارج کرتے ہوئے سگریٹ ا س کیطرف واپس بڑھا دیا اور دھیرے سے بولی:
”میرے بیٹے کے اسکول سے نوٹس ملا ہے….فروری کے ساتھ جون کی فیس بھی دینی ہے….“
محبوب نے اس کے ہاتھ سے سگریٹ لے کر سٹا لگا کر دھواں پھیپھڑوں میں بھرتے ہوئے کہا:
مگر یہ تو مارچ ہے….“
کہتے ہوئے اس نے دھواں خارج کرتے ہوئے سگریٹ پھر سے ا س کی طرف بڑھادیا۔
یاسمین نے ایک بار پھر کش لے کرکچا دھواں منھ سے نکالتے ہوئے تلخی سے کہا:
”ہاں…. مارچ کے ساتھ جولائی کی فیس جائے گی….میں فروری کی فیس نہیں دے پائی تھی….اب چار مہینے کی فیس دینی ہے…تم فیس کے پیسے دے دو… میں اگلی چار پانچ باریوں میں پیسے پورے کردوں گی….“
سگریٹ اس نے محبوب کی طرف بڑھادیا۔
محبوب نے خاموشی سے سگریٹ اور کش لگائے بغیر کچھ سوچتے ہوئے بولا:
”لیکن چیف جسٹس نے تو اعلان کیا ہے کہ …“
یاسمین نے تلخی سے اس کی بات کاٹ دی۔غرا کر بولی:
”چیف جسٹس کی ماں کی ….“
وہ کہتے کہتے رک گئی۔ماں کا لفظ زبان پہ آتے ہی،چپ ہوگئی۔گالی حلق میں پھنس گئی،وہ کچھ دیر چپ رہی پھر مایوسی سے کہا:
”سب ملے ہوئے ہیں سالے….بچے کے مستقبل کے لیے اپنا حال خراب کرلیا ہے میں نے…مگر ان بے غیرتوں نے دھندا بنا لیا ہے…اسکول والے ہوں یا،قانون والے…. سب کے سب بے غیرت ہیں….“
محبوب نے سگریٹ سائیڈ پہ رکھے ایش ٹرے میں مسلدیا۔جیسے وہ سگریٹ نہ ہو چیف جسٹس ہو،یا کسی اسکول کا مالک ہو۔پھر بیٹھتے ہوئے بولا:
”اپنا اکاؤنٹ نمبر دے دینا…میں صبح پیسے ٹرانسفر کردوں گا…اب جاؤ….“
وہ بستر سے اٹھ گیا۔
یاسمین تڑپ کر بولی۔
”ابھی کہاں جاؤں…صبح کے چار بجے ہیں….میری گاڑی بھی خراب ہوگئی ہے…اسٹارٹ ہی نہیں ہو رہی….“
محبوب کا دھیان کہیں اور تھا۔
اسے ابھی کچھ دیر پہلے ہی یاد آیا تھا کہ اس کے ساتھ دُعا نہیں یاسمین ہے اور یہ جانتے ہی وہ بد مزہ ہو گیا تھا۔اس نے بے زاری سے کہا:
”مجھے اب سونا ہے…صبح میری ایک اہم میٹنگ ہے… میں کیب منگوا دیتا ہوں تمہارے لیے…“
یاسمین نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا:
”نہیں…میں صبح جاؤں گی…“
وہ اٹھ کر بیٹھی اور محبوب کو گھورنے لگی۔محبوب نے غرا کر کہا:
”کہا نا..جاؤ… مجھے سونا ہے…. تم نہیں جاؤ گی تو سو نہیں سکوں گا….“
یاسمین اسے گھورتی رہی پھر ایک جھٹکے سے کھڑی ہوگئی،غصے میں تکیہ اٹھایا اور ا س کے منھ پہ مارتے ہوئے کہا:
”کتوں میں اور مردوں میں کچھ تو فرق ہونا چاہیے…کام نکلتے ہی نظریں پھیر لیتے ہیں…بھو ں بھو ں کرکے بھونکنے لگتے ہیں….تم بھی ایسے ہی ہو….“
اس نے غصے میں فرش پر سے اپنی جینزاور بریزر اٹھائی اور واش روم میں چلی گئی۔
محبوب یوں ہی بیٹھا رہا۔ایک طرف کی دیوار کو گھورتا رہا۔
جانے کب میں یاسمین نے کیب منگوائی،کب کیب آئی اور کب وہ اس کے اپارٹمنٹ سے گئی اسے کچھ ہو ش نہیں تھا۔
جب وہ جھرجھری لے کر ہوش میں آیا تو اس پر شدید گھبراہٹ طاری تھی۔آنکھیں بھیگی ہوئی تھیں اور شدید ڈپریشن سے اس کی حالت خراب ہ ورہی تھی۔
اس نے ریفرییجریٹر سے بوتل نکال کر ایک گلاس میں وہسکی ڈالی اور بیڈ کے کنارے بیٹھا گھونٹ گھوٹ تلخ مشروب معدے میں اتارتا رہا مگر سکون نہیں مل رہا تھا۔گھبراہٹ تھی کہ بڑھتی ہی چلی جا رہی تھی۔ڈپریشن تھا کہ کم ہی نہیں ہو رہا تھا۔سانس سینے میں اٹک رہاتھا۔دماغ کی رگیں پھٹ رہی تھیں۔
جب کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ وہ کیا کرے تو دفعتہ اسے ایک خیال آیا۔
ا س نے موبائل اٹھا کر نمبر نکالا،اور اس عورت کو فون کرنے لگا،جس کے بارے میں ا س کاخیال تھا کہ اس کے ڈپریشن کا علاج صرف وہی عورت ہے۔اس کی آواز ہی اسے پرسکون کر دی اکرتی تھی۔
کال ملا کر ا س نے فون کان سے لگا لیا…. اور مدھم ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ دوسری طرف سے اُبھرنے والی ممکنہ آواز کا انتظار کرنے لگا۔
اب یا تب میں دنیا کی سب سے حسین اآواز اس کے کانوں میں رس گھولنے والی تھی۔اس کا سارا ڈپریشن ختم کرنے والی تھی۔
(جاری ہے)

……………………….

ابن آس محمد کے قلم سے فیس بک پر پہلا ناول

” دام عشق "

””””””””””””””””””’

آٹھ ویں قسط ….

تحریر: ابن آس محمد

………………….

بے سبب عشق کی کہانی۔

ایک ہوس پرست وحشی کا عشق طولانی

اس کی وحشت اسے جنونی عشق کی طرف لے جا رہی تھی۔

دام عشق میں لا رہی تھی۔

…………………………….

……………

وہ بلاشبہ اس کے لیے دنیا کی مدھر ترین آواز تھی۔

کسی مرد کے لیے ا س کی ماں کی آواز دنیا کی حسین ترین آواز ہو تی ہے۔

جب آوازوں کے شور میں وحشت دماغ تک پہنچاجائے،بندہ سکون سے محروم ہوجائے،کسی پل چین نہ پائے،نیند نہ آئے تو ماں کی آواز میں لوری سننے والے پرسکون ہو جاتے ہیں،گہری نیند سوجاتے ہیں۔مطمئن ہو جاتے ہیں۔

اسے بھی ماں سے بات کیے ہوئے بہت عرصہ ہو گیا تھا۔سکون محسوس کیے مہینوں ہو گئے تھے۔مہینون بعد دل گھبرایا تو ماں کا خیال آیا۔

وہ ماں سے ناراض ہو کر گھر سے نکلا تھا،پلٹ کر نہیں گیا تھا۔

ماں سے ناراض ہوکر گھر سے نکلنے والوں کو ویسے بھی گھر واپسی کا راستا نہیں ملتا۔ماں کو بھولنے والے صبح کے بھولے شام کو گھر پہنچ نہیں پاتے…ماں کا ہاتھ جھٹک کر گھر سے نکلنے والے،کہیں اور نکل جاتے ہیں،کہیں اور ہی بھٹک جاتے ہیں۔

وہ بھی بھٹک ہی گیا تھا۔

ماں اُس چھوٹے شہر کے بڑے سے گھر میں اس کی واپسی کی راہ تکتی رہتی تھی، جب بہت بے چین ہو جاتی تو چار چھے ماہ بعد اس کو دیکھنے اور اپنی ممتا کی پیاس بجھانے کے لیے طویل سفر کر کے اس کے پاس آجاتی تھی۔

دو چار دن ا س کے ساتھ رہتی،شہر کے معروف شیف محبوب علی خان کواپنے ہاتھ سے پکا کر کھلاتی،کچھ نہ کچھ نصیحتیں کرتی،اور اپنے بیٹے کو بہتر مستقبل کی دعائیں دیتے ہوئے،مسکراتی ہوئی،اپنے آنسو چھپاتی ہوئی واپس چلی جاتی۔

ماں نے بہت کوشش کی تھی کہ محبوب واپس گھر آجائے،مگروہ واپس جانا نہیں چاہتا تھا۔وہ گھر سے اتنی دور نکل آیا تھا کہ واپسی کا سفر کرنے کی ہمت ہی نہیں رہی تھی۔

وہ ہمیشہ سے ہی اپنی من مانی کرنے والا تھا۔بڑے بھائی سے ہونے والے ایک جھگڑے میں جب ماں نے کماؤ پوت بڑے بیٹے کا ساتھ دیا،اور اُسے چپ رہنے پہ مجبور کیا تو وہ تلملا کرگھر سے نکل گیا تھا،مگر ماں کے دل سے نہیں نکل سکا تھا۔

نہ ہی ماں ا س کے دل سے نکل پائی تھی۔

کال ملا کر ا س نے فون کان سے لگا لیا…. اور مدھم ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ دوسری طرف سے اُبھرنے والی ممکنہ آواز کا انتظار کرنے لگا۔

اب یا تب میں دنیا کی سب سے حسین آواز اس کے کانوں میں رس گھولنے والی تھی۔اس کا سارا ڈپریشن ختم کرنے والی تھی۔ماں کو فون کرنے کے لیے یہ سب سے بہترین وقت تھا۔وہ تصور کی آنکھ سے دیکھ رہا تھا کہ ماں مصلے پہ بیٹھی ہو گی،نماز پڑھ رہی ہو گی یا پڑھ کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا رہی ہو گی،ایسے میں ا سکا فون جائیگا وہ قریب رکھے فون کو اٹھائے گی،اس سے بات کرے گی،ناراضی کا اظہار نہیں کر پائے گی۔

ایسا ہی ہوا…. ماں کی میٹھی،دھیمی اور کم زور سی آواز ا س کی سماعت سے ٹکرائی۔

”کیسے ہو بیٹا….طبیعت ٹھیک ہے نا تمہاری…؟“

محبوب علی خان نے سکون کی ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا:

”تمہاری آواز سننے کے لیے تڑپ رہا تھا….اب سکون ملا ہے…. طبیعت ٹھیک ہو گئی ہے۔“

ماں مصلے پہ بیٹھی تھی،نماز پڑھ کر فارغ ہوگئی تھی،دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے والی تھی کہ ا س کا فون آگیا تھا۔

گھنٹی کی آواز سن کر ا س نے دُعا موقوف کردی تھی،بیٹے سے بات کرنا ضروری خیال کیا تھا۔اسکرین محبوب کا نام دیکھتے ہی سمجھ گئی تھی کہ اتنی صبح فون کرنے والا بیٹا ضرور کسی پریشانی میں ہے۔

انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا:

”جھوٹ مت بولا کرو محبوب… ماں ہوں تیری،اتنا تو جانتی ہوں کہ بیٹا پریشان نہ ہو تو ماں کو یاد نہیں کرتا،شیر خوا ربچہ بھی بھوک لگنے پر روتا ہے اور ماں کو پکارتا ہے…. بولو کیا بات ہے…سب ٹھیک ہے نا…؟“

محبوب علی خان فوری طور پر کچھ بول نہ پایا،اس کی پشت پر موجود کھڑکی سے صبح کاذب کی روشنی نمودار ہونے لگی تھی مگر ابھی اندھیرا موجود تھا،رات کی سیاہی اپنی شدت کم کر رہی تھی۔

محبوب علی خان نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ایک گہرے سانسکے ساتھ کہا:

”سب ٹھیک ہے امی…بس دل گھبرا رہاتھا…تمہارا چہرہ بار بار یاد آرہا تھا…سکون نہیں مل رہا تھا،بے چین ہو رہا تھا،اس لیے فون کرلیا…تمہیں تو معلوم ہے…مجھ بے چین کو تم سے بات کر کے ہی سکون ملتا ہے…“

محبوب علی خان کی امی کے چہرے پہ سنجیدہ سی مسکراہٹ پھیل گئی۔وہ ساٹھ پینسٹھ سال کی بوڑھی خاتون تھیں۔بینائی کم ہو گئی تھی،مگر جب روشنی تھی تو انہوں نے اپنی روشن آنکھوں سے دنیا دیکھی تھی۔وہ مسکراتے ہوئے بولیں:

”تم سے کہا تھا نا بیٹا….سکون نہ ملے تو سجدے میں گر جایاکرو…سب کچھ اُسی کے سامنے جھکنے سے ملتا ہے…جو جھک نہیں پاتا،وہ سکھ نہیں پاتا…اور سکون بخشنے والی توایک ہی ذات ہے…. نماز تو پڑھتے ہو ناتم….؟“

محبوب نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا:

”کبھی کبھی…. جب دل بہت گھبراتا ہے تب خدا یاد آتا ہے…“

امی نے سر ہلاتے ہوئے کہا:

”اچھی بات ہے…جس کو پریشانی میں خدا یاد آئے،وہ خدا کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے…. خوش حالی میں تو کوئی بھی سجدے کرلیتا ہے،اصل امتحان تو پریشانی میں ہوتا ہے…وہ جب بھی یاد آئے،اس کے دربار میں حاضری دے دیاکرو…. جو کچھ بھی غلط کیا ہو ا س کی معافی مانگ لیا کر و….وہ مجھ سے بھی زیادہ شفیق ہے…ماں شاید معاف نہ کر ے،مگر وہ معاف کردیتا ہے…..“

اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا:

”مگر…. کچھ گناہ معافی کے قابل نہیں ہوتے امی…. اس کے سامنے جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے….“

امی نے ہنس کر کہا:

”خدا سے ڈرنا چھوڑ دوبیٹا…. کچھ بھی ہوجائے،اس کے پاس جانا مت چھوڑنا،کوئی کتنا ہی بھٹک جائے، پھر بھی ا س کے پا س جائے تووہ اسے راستا دکھا دیتا ہے…جو پاس ہی نہ جائے وہ کیسے نجات پائے….“

”اچھا امی…. سمجھ گیا میں….“

امی کو جیسے یاد آیا تو بولیں:

”ارے ہاں…. میں نے کل فون کیا تھا…مگر تمہارا فون بند تھا…“

محبوب چونک گیا۔گذشتہ روز ا س کا فون جارجنگ ختم ہونے کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے بند ہو گیا تھا۔شاید اسی وقت امی نے فون کیا ہو گیا۔وہ تیزی سے بولا:

”خیریت تھی نا…کیوں فون کیا تھا….میں اصل میں مصروف تھا… فون چارج نہیں ہو سکا تھا…شایداُس وقت فون کیا ہو گا آپ نے۔“

امی نے دھیرے سے کہا:

”اتنی مصروفیت اچھی نہیں ہوتی…لیکن تم کر بھی کیا سکتے ہو…سکون سے بیٹھنا تو سیکھا ہی نہیں تم نے…. بھاگتے ہی چلے جا رہے ہو…کتنی بار کہہ چکی ہوں….کہیں بیٹھ جاؤ…سکون سے سانس لینا سیکھو…. کیا کرو گے اتنی بھاگ دوڑ کر کے…؟“

امی کی ان باتوں کا اس کے پاس کبھی بھی کوئی جواب نہیں رہا تھا۔وہ ایسی باتوں پر صرف مسکرا کر رہ جاتا تھا۔اس وقت بھی مسکرا کر رہ گیا۔امی کہہ رہی تھیں۔

”تمہاری بہن اور بہنوئی آئے ہوئے ہیں…ان کے بچے بھی ہیں….ابھی تو سو رہے ہیں… اٹھیں گے تو انہیں بتاؤں گی کہ تمہارے چاچو کا فون آیا تھا.“

محبوب نے سر ہلا کر کہا:

”بچوں کو پیار دینا میرا….اور بہن کو سلام کہنا…“

”ٹھیک ہے…“

”سلمی باجی اور جوادبھائی کیسے ہیں….َ؟“

امی نے مختصرجواب دیا:

”ٹھیک ہیں…بہت خوش ہیں….“

وہ جانتی تھیں کہ محبوب سب سے ناراض ہے،اس لیے یہ نہیں کہا کہ بات کرادوں گی۔

محبوب کے پا س باتیں ختم ہو گئیں۔دنیا بھر سے چپڑ چپڑ باتیں کرنے والے کے پاس ماں سے باتیں کرنے کے لیے ہمیشہ لفظ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔اچانک کہا:

”کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتاؤ امی…کیا بھیجوں بولو…“.

امینے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا:

”اتنے پیسے بھیج دیتے ہو….،میرا گزارہ ہو جاتا ہے…. تمہارے بڑے بھائی بھی خیال رکھتے ہیں…. بہت پیسے ہوتے ہیں میرے پاس….ختم ہی نہیں ہوتے، بس تم نہیں ہوتے…تمہاری بہت یاد آتی ہے مجھے ….“

محبوب نے بستر سے اٹھ کر ٹھلتے ہوئے گیلری کے پا س جاتے ہوئے کہا:

”تو آجاؤ کسی دن…. میرے پاس رہ لو کچھ دن….میرا گھر بہت ویران رہتا ہے،تم آجاتی ہو تو کچھ دنوں کے لیے آباد ہو جاتا ہے…“

امی نے جواب دیا:

”میں اگلے ہفتے ؤں گی ….تمہارا دوست ہے نا…زاہد….“

محبوب نے گیلری سے باہر جھانکتے ہوئے چونک کر کہا:

”میرا مینیجر…؟“

”ہاں…. ا س کا نکاح ہے… دس دن بعد… اس نے کہا ہے کہ…. میں نہیں آئی تو وہ نکاح نہیں کرے گا…“

محبوب حیران رہ گیا۔زاہد سارا دن ا س کے ساتھ رہتا تھا،ا س کا ریسٹورینٹ چلارہا تھا۔چھوٹی سے چھوٹی چیز کے لیے بھی اس سے مشورہ کرتا تھا،جوتے بھی لینا ہوں تو اسے بتاتا تھا،کپڑے خریدنے کے لیے بھی ا سکے ساتھ جاتا تھا،اور اس کے نکاح کی خبر اتنی دور سے اس کی امی سنا رہی تھیں۔اس نے تعجب سے کہا:

”کمال ہو گیا…. اس نے مجھے بتایا تک نہیں….اتنی اہم بات اور….مجھ سے چھپائی….“

امی نے ہنستے ہوئے کہا:

”اسے معلوم ہے کہ تم کسی کی شادی میں نہیں جاتے….وہ اپنی شادی کا بتا کر تمہیں وقت سے پہلے دکھ نہیں چاہتا تھا….اسے معلوم ہے تمہیں شادی کے نام سے بھی نفرت ہو گئی ہے….اس لیے بتانا ضروری نہیں سمجھا ہو گا….خیر تم ناراض مت ہونا….شاید کسی وجہ سے نہیں بتایا ہو گا…میں آجاؤں،پھر ساتھ چلیں گے اس کی شادی میں….“

محبوب ابھی تک حیرانی سے کھڑا تھا۔سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ زاہد نے اتنی اہم بات ا س سے کیوں چھپائی۔وہ تو گرل فرینڈ بھی اس کو دکھائے بغیر اپروو نہیں کرتا تھا،کسی کے ساتھ ڈیٹ پر جانے کے لیے پہلے اس سے مشورہ کرتا تھا،اب یہاں اجنبی شہر میں رشتہ فائنل کرلیا۔لڑکی کے گھر والوں سے معاملات کرلیے،نکاح طے کرلیا اور اسے ہوا بھی نہیں لگنے دی۔

اس نے جلدی سے پوچھا:

”کب آرہی ہیں آپ….؟“

”ایک ہفتے بعد…..“

محبوب نے کچھ اور نہیں کہا۔اس کا دماغ اچانک ہی زاہد کی ا س حرکت کو سمجھنے کی تگ و دو میں تھا۔امی نے ا س کے خیالات کا تسلسل توڑا:

”یہاں سے کچھ لاؤ ں تمہارے لیے….سن رہے ہو تم…چپ کیوں ہو گئے…؟“

محبوب نے انکار میں سر ہلادیا۔

”نہیں امی…. کچھ مت لانا…مجھے کسی چیزکی ضرورت نہیں ہے…“

اس کے بعد ا س نے زیادہ بات نہیں کی۔امی سمجھ گئیں کہ وہ اب مزید بات نہیں کرنا چاہتا۔انہوں نے دعائیں دیتے ہوئے خدا حافظ کہہ کر کال کمنقطع کردی اور سوچ میں پڑگئیں۔

ماں سے بات کرنے کے بعد محبوب کی وحشت کم ہو گئی تھی۔

روشنی نمودار ہونے لگی تھی۔اگرچہ زاہد کی حرکت نے اسے کچھ الجھا دیا تھا،مگر یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی کہ وہ ذہن پر سوار کرلیتا۔اس نے سوچ لیا کہ وہ زاہد سے اس بارے میں کچھ نہیں کہے گا۔اگر وہ اس سے چھپا رہا ہے تو وہ باز پرس نہیں کرے گا۔اس نے یہ سوچ کر خو دکو تسلی دی کہ ہوگی ضرور کوئی وجہ….یا شاید وہ اسے سرپرائز دینا چاہتا ہو گا۔

صبح ہو گئی تھی،اب سونے کا تو سوال ہی نہیں تھا۔

وہ گیلر ی میں الگنی سے ٹنگے تولیے کو اٹھا کر واش روم میں فریش ہو نے چلا گیا۔

نہا کر،جسم خشک کرتے ہوئے وہ باہر آیا تواپنے آپ میں عجیب طراوٹ محسوس کر رہا تھا۔

وہ سیدھا کچن میں گیا۔اور کام میں جت گیا۔

انڈے نکال کر پھینٹے تو کسی خیال کے تحت مسکرانے لگا۔انڈے پھینٹ کر اس نے گاجریں کاٹیں،ڈبے میں سے دار چینی نکالی،اور پوری تند ہی سے گاجر اوردار چینی کا کیک بنانے میں مصروف گیا۔

گاجر دار چینی کا کیک اس کی خاص ریسیپی تھی جو وہ عام طور پر اس وقت بناتا تھا جب وہ بہت موڈ میں ہو….

کیک کا آمیزہ سانچے میں ڈال کر ا س نے اوون میں رکھ دیا اور بے چیزی سے بیٹھ کر باقی بچی ہو ئی گاجریں کھانے لگا۔

کیک تیار ہو گیا تو اوون سے نکال کر میز پر رکھا،اور الماری سے بہترین سفید شرٹ اور سیاہ جینز نکالی…،استری کی اور تیار ہونے کے بعد کیک کاغذ کے ایک بیگ میں رکھ کر سیٹی بجاتے ہوئے گھر سے نکلا۔

بازار پہنچ کر،اپنی سیاہ پراڈو پارکنگ میں کھڑی کرکے وہ پیدل چلتے ہوئے خوش گواری کے احسا س کے ساتھ ا س گلی میں داخل ہوا جہا ں دُعا کی بوتیک تھی۔

آج و ہ دُعا کو مرعوب کرنے آیا تھا،اس کا دل خوش کرکے ا س کے دل میں جگہ بنانے آیا تھا۔جانتا تھا کہ ایک بار عورت اپنے دل کا دروازہ کسی مرد کے لیے کھول دے تو وہ اس مردکی کھیتی بن جاتی ہے،پھر جس راستے سے چاہو ا س کے پا سجاؤ،وہ بانہیں پھیلائے کھڑی رہتی ہے۔

بوتیک میں داخل ہوا تودعا ایک طرف کھڑی تھی۔

بوتیک خالی تھی،دعا کے سوا بوتیک میں کوئی نہیں تھا۔وہ دروازے پہ کھڑا اس کو دیکھتا رہا،مسکراتے ہوئے ذہن میں جملے ترتیب دینے لگا کہ کیا کہے گا اور کیسے کہے گا۔

دعا اتنی دیر میں میز کے دوسری طرف جا کر بیٹھ گئی۔ایک کاسٹیوم اٹھا کر اس میں ترپائی کرنے لگی۔

وہ بے حد سنجیدہ دکھائی دے رہی تھی۔

نہیں سنجیدہ نہیں غصے میں محسوس ہو رہی تھی۔اس کی تیوریاں چڑھی ہوئی تھیں۔

وہ منھ بنائے بیٹھی تھی،غصے میں ٹانکے لگا رہی تھی۔

محبوب کیک والا لفافہ ہاتھ میں لیے ہوئے اندر داخل ہو اتو دُعا نے قدموں کی آواز پر نظریں اٹھائیں اور ایک نظر ڈال کر اپنے کام میں لگ گئی۔

محبوب کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ ا س کا موڈ کسی وجہ بہت زیادہ خراب ہے۔اس کی آنکھوں میں چھپا غصہ اس نے ایک لمحے میں دیکھ لیا تھا،اور چہرے پر پھیلی سنجیدگی اب بھی دکھائی دے رہی تھی۔

اس نے ایک بار دیکھا تھا،پھر نظریں نہیں اٹھائی تھیں۔

محبوب نے مسکراتے ہوئے اس کے سامنے پہنچ کر کہا:

”good morning“

اب دُعا نے آہستگی سے اپنی پلکیں اٹھائیں،خود نہہں اٹھی نہ اس کی سنجیدگی میں کوئی فرق آیا۔

ا س نے پروفیشنل انداز میں مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا:

”good morning“

محبوب نے دیکھا اس کے سامنے کافی کا ایک کپ رکھا ہوا،وہ کام میں مصروف تھی،خود کھول رہی تھی اور کافی رکھے رکھے ٹھنڈی ہورہی تھی۔

محبوب نے ناک سکیڑ کر کافی کی مہک کو محسوس کرتے ہوئے شوخی سے کہا:

”واؤ… کافی کی مہک…. مجھے بھی کافی ملے گی…“

دُعا بغیر کچھ کہے،ایک سانس لیتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔ہاتھ میں موجودکپڑا ایک طرف رکھ دیا۔

محبوب نے اسی وقت کیک والا شاپر اس کی طرف بڑھادیا:

دُعا نے اس کی طرف دیکھا اور ذرا بد مزاجی سے بولی:

”کافی تو مل جائے گی…لیکن آئی ایم سوری…. کیا آپ اسی طرح شو آف کرتے ہیں…“

محبوب نے دھیرے سے سر ہلا کر اپنے ہاتھ میں موجود شاپر کی طرف اشارہ کیا:

”تمہارے لیے لایاہوں…“

دُعا نے بے تاثر لہجے میں پوچھا:

”یہ کیا ہے….؟

محبوب نے بیگ ا س کے ہاتھ میں تھما کر مسکراتے ہوئے خوش گواری سے کہا:

”کیک…گاجر اور دار چینی کا کیک…“

دُعا نے ایک لمحہ سوچا اور شاپر ہاتھ میں تھام لیا۔

اس میں سے کیک نکال کر میز پر رکھتے ہوئے کیک کی طرف دیکھے بغیر اس کی طرف گھورتے ہوئے گہری سنجیدگی سے بولی:

”میرا خیال ہے…آج توآپ اتفاق سے نہیں آئے….اورنہ ہی اتفاق سے آپ نے یہاں مجھے دیکھا ہے….“

محبوب نے انکار میں سر ہلایا اور میز کے سامنے بیٹھتے ہوئے شوخی سے بولا:

”نہیں….آج میں خاص طور پر آیا ہوں… تم سے ملنے…اورصرف تمہارے لیے….“

محبوب کا خیال تھا کہ وہ اس بات پر مسکرا اٹھے گی،مگر وہ نہیں مسکرائی،غصے سے گھورنے لگی،پھر دوسری طرف جا کر مگ میں کافی پاٹ میں سے کافی نکالتے ہوئے منھ بنا کرکہنے لگی:

”اپنے بیٹے کا ناپ لائے ہو….؟“

محبوب نے انکار میں سر ہلادیا۔

دُعا پلٹ کر آئی اور ا س کے سامنے میز پر بیٹھ گئی۔محبوب کو گھورنے لگی۔محبوب نے جلدی سے کہا:

”نہیں…اصل میں ابھی میری ملاقات نہیں ہوئی اس سے…“

دعا نے طنزیہ انداز میں کہا:

”ظاہر ہے…جو بیٹا ہے ہی نہیں،اس کا ناپ کیسے لو گے…؟“

محبوب مسکراکر رہ گیا،فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ کسمساتے ہوئے اس کی طرف دیکھنے لگا۔

دعا کافی کپ اس کے سامنے رکھتے ہوئے زہریلے لہجے میں بولی:

”تم انوکھے نہیں ہو جس نے بیٹے کا حربہ آزمایا ہے….یہاں ارد گرد میں جتنے بھی اوباش قسم کے مرد ہیں،وہ یہی حربہ آزماتے ہیں…ابھی کچھ دیر پہلے ہی ایک خبیث اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامے آیا تھا،بچی کے کاسٹیوم کے بہانے مجھ سے بات کرنا چاہتا تھا….بے غیرت کہیں کا….“

محبوب عجیب سا ہو کرگیا۔وہ لڑنے کے موڈ میں نہیں آیا تھا۔اس لیے ہر بات کا جواب نہیں دے رہا تھا۔مسکرا مسکرا کر اس کو دیکھ رہا تھا۔

وہ ناراضی میں پہلے سے بھی زیادہ حسین محسو س ہو رہی تھی۔

وہ کافی مگمیں چمچہ ہلاتے ہوئے جھاگ بنا رہی تھی اور غصے میں کھولتے ہوئے بدمزاجی سے کہہ رہیتھی:

”سب کو لگتا ہے کہ میں اکیلی ہوں…آسانی سے پھنس جاؤں گی… اپنی بہن یا بھائی کے بیٹے کی انگلی پکڑ کر اندر آتے ہیں…. کپڑے لینے کے بہانے دوستی کرنا چاہتے ہیں….مجھے بے وقوف سمجھتے ہیں….پھرایک دو بار یہاں آنے کے بعد،دو تین ملاقاتوں کے بعد میں انہیں اچھی لگنے لگتی ہوں….دیکھتے ہی دیکھتے انہیں مجھ سے پیار ہو جاتا ہے….. چینی کتنی….“

محبوب اس کی طرف دیکھ رہاتھا،اس کی باتیں سن رہا تھا۔عجیب سا ہو رہا تھا،چینی کی بات پر چونک کر جلدی سے بولا:

”دو چمچے…“

دُعا نے اس انداز میں دو چمچے چینی کپ میں ڈالی،جیسے زہر ملا رہی ہو، اور چمچے سے گھولنے لگی۔جتنی تیزی سے چمچہ ہلا رہی تھی،ا س سے بھی زیادہ تیزی سے اپنے غصے پر قابو پانے کی کو شش کر رہی تھی،چینی ملاتے ہوئے زہریلے لہجے میں کہہ رہی تھی:

”ہر ہفتے میں ان خبیثوں کو دیکھتی رہتی ہوں….وہ اپنے بھانجے اور بھانجیوں کو اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے اندرآجاتے ہیں…ان کی مردہ مچھلیوں جیسی آنکھیں مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھتی رہتی ہیں….مجھ کو پھنسانے کے لیے بچوں کو استعمال کرتے ہیں…اور سمجھتے ہیں کہ دو چار بار آنے کے بعد…. مجھے اپنے پیار کا یقین دلائیں گے…اورحرام زادے…سمجھتے ہیں کہ ان ایک دو ملاقاتوں کے بعد وہ مجھے اپنے بستر پہ لے جائیں گے…اور مزے اڑائیں گے…“

محبوب اس کی آخری بات پہ ہنس پڑا،ہنستے ہوئے بولا َ

”سچ کہوں دعا….میں بھی یہی کرنا چاہتا ہوں ….“

اس کا خیال تھا کہ دُعا اس دو ٹوک بات پر جھینپ جائے گی۔چپہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگے گی،گھبر ا کر کوئی بات نہیں کر پائے گی۔اور پھر ہنس پڑ ے گی،اس کی سچائی پر اس کو داد دے گی،یا تو ہاں کہہ دے گی یا صاف انکار کر دے گی۔اس کے سوا ایک لڑکی اور کر بھی کیا سکتی ہے۔

مگر ایسا نہ ہوا۔

دُعا بولتے بولتے یک لخت ساکت ہوگئی۔آنکھیں انگارہ ہو گئیں۔

اس کا رُخ اس وقت براہ راست محبوب چہرے کی طرف نہیں تھا۔چہرہ دوسری طرف تھا،اس کا چہرہ وہیں رک گیا جیسے ٹی وی اسکرین ساکت ہ وجائے اور جو چہرہ وہاں دکھائی دے رہا ہووہی تھم جائے۔

اس آنکھوں میں یک دم پوری شدت کے ساتھ نفرت عود کرآگئیمگرمحبوب مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھ رہاتھا، وہ اس کی طرف نہیں دیکھ رہی اس کی نظریں دوسری طرف تھیں،اس نے چہرہ گھما کر یا نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔یوں ہی ساکت بیٹھی رہی،خود پر قابو پاتی رہی۔اپنے غصے کو کنٹرول کرتی رہی۔کافی کا مگ اس کے ہاتھ میں تھا،پھر اس نے محبوب کی طرف دیکھے بغیر،پلک جھپکتے میں کافی والے ہاتھ کو جھٹکا دیا،اور گرم گرم کافی محبوب کے چہرے پہ پھینک دی۔

محبوب محبوب گڑ بڑا کر رہ گیا،سٹپٹا کر کھڑا ہو گیا۔

اس کے حلق سے ایک ہلکی سی چیخ نکل گئی۔

اس کی سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ کیا ہو گیا تھا۔

گرم گرم کافی نے اس کے چہرہ سرخ اور سفید شرٹ کتھئی کردی تھی۔

دُعا نے یوں ہی ساکت بیٹھے بیٹھے اس کی طرف دیکھے بغیر غراتے ہوئیسرد لہجے میں کہا:

”دفع ہو جاؤ یہاں سے باسٹرڈ….گٹ آؤٹ…“

محبوب سٹ پٹا کر اس کی طرف دیکھ رہا تھا، سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ ا س کی ساری شوخی ہوا ہو گئی۔کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا کہے اور کیسا رد عمل ظاہر کرے۔

دُعا نے ہسٹریائی انداز میں چیختے ہوئے کہا:

”آئی سے گیٹ آؤٹ…. نکل جاؤ میری شاپ سے…دور ہو جاؤ میری نظروں سے….“

دعا نے ابھی تک ا س کی طرف دیکھنے کی بھی زحمت گواراہ نہیں کی تھی۔یوں ہی ساکت بیٹھی اسی طرف دیکھ رہی تھی جدھر نظریں تھیں،بری طرح کھو ل رہی تھی۔

محبوب کا خون کھول گیا۔ایسی ہتک تو زندگی میں کبھی ہوئی ہی نہیں تھی،ایسی بے عزتی کا اس نے کبھی سامنا ہی نہیں کیا تھا۔

وہ بری طرح دعا کو گھورتا رہا،چہرے پہ جلن ہو رہی تھی اسے برداشت کرتا رہا۔

دعا بھی یوں ہی بیٹھی رہی،اس کی طرف دیکھنے کی ضرورت بھی محسو نہیں کی۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ قینچی اٹھا کر ا س کے سینے میں گھونپ دیتی۔

محبوب توہین کے احساس سے کانپتا رہا،پھر تیزی سے پلٹا اور بوتیک سے باہر نکل گیا۔

دُعا نے اس کے جاتے دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپالیا اور سسکیوں سے رونے لگی۔اس کی سسکیاں اس کی بوتیک میں گونج رہی تھیں۔

برسوں بعد کوئی آیا تھا،ایک لمحے کو ا س کی نظروں کو بھایا تھا۔

کبھی کبھی ایسا بھی ہو تا ہے۔

ایک لمحے میں نظروں میں سمانے والا،ایک ہی مل پیں نظروں سے گر جاتا ہے۔

اوپر سے گرنے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنی بلندی سے گرا ہے،اور کتنا نیچے جا کر گرے گا،مگر نظروں سے گرنے والا کبھی نہیں جان پاتا کہ وہ کتنی بلندی سے گرا ہے،اور کتنا نیچے جا گر ے گا۔

(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے