سر ورق / تبصرہ کتب / قدیم ( شعری مجموعہ ، سیّد کامی شاہ) ..اکرم کُنجاہی، کراچی

قدیم ( شعری مجموعہ ، سیّد کامی شاہ) ..اکرم کُنجاہی، کراچی

قدیم ( شعری مجموعہ ، سیّد کامی شاہ)
تنقید نگار :۔اکرم کُنجاہی، کراچی
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
غالباَ 20 سال بیت گئے، جب مجھے پہلی بار سہ ماہی غنیمت کے مشاعرے میں سیّد کامی شاہ کے کلام سے مستفید ہونے کا موقع ملا۔ بعد ازاں اپنے دفتر میں بھی ایک دو بار اُن کو سماعت کیا۔ میرے ادبی پرچے میں بھی انہوں نے اپنی غزلیات روانہ کیں۔ اُن کی شعر گوئی سے متعلق میرا پہلا تاثر یہ تھا کہ ایک تازہ اور توانا شعری فکر کا حامل شاعر ’’اینٹی غزل‘‘ کے چُنگل میں ہے۔اُس کی نویکلی سوچ کی دیوی، اسلوبِ بیاں کے کھردرے پن اور غیر شاعرانہ لفظیات سے مملو ڈکشن کے ہاتھوں خوار ہو رہی ہے۔خدا کا شکر ہے کہ چند روز پہلے اُن کا تازہ شعری اثاثہ جسے خود انہوں اپنی غزلیہ تہذیب کے سبب ’’قدیم‘‘ کا نام دیا ہے، نظر نواز ہو ۔ حالانکہ وہ خود لکھ رہے ہیں۔۔۔۔
یہ جو لفظوں کو چھو کے نیا کرتے ہیں
یہ نئے لوگ ہیں اور نئی شاعری،،
یوں میری ادبی پرکھ پر جو غلط تفہیم کی گرد جم گئی تھی ، وہ دور ہوئی اور اُن کی فکر کا روشن منظر نامہ سامنے آیا کہ اُس نے شاعری کو کھردرے لفظوں کا کھیل نہیں بننے دیا۔۔کامی کی غزل کہنے کو غزل ہے مگر وہ اِس فکری ’’کِن مِن، کِن مِن‘‘ کے ساتھ شعر کہتا چلا جاتا ہے کہ جمعرات کی جھڑی کا گمان گزرتا ہے۔ قاری محسوس کرتا ہے کہ کوئی ما ورائی طاقت ہے جو اُس سے شعر کہلوائے جا رہی ہے۔زیادہ تر غزلیات میں ایک سی فضا، ایک احساس اور ایک جذبہ جیسے غزل ایک ہی ذہنی و قلبی کیفیت میں کہی گئی ہو۔ آلِ احمد سرور نے کیا عمدہ بات کہی تھی کہ غزل کے شاعر اکثر نظم کی تعمیری صلاحیتوں کا اندازہ نہیں کر پاتے۔اشاروں کے دلدادہ ، تفصیل اور صراحت اور وضاحت کے حسن کو نہیں دیکھ پاتے۔ کامی تخلیق کی گہرائی میں سپردگی کے حد تک اُترتا ہے مگر اُس سے باہر بھی آتا ہے۔ وہ قاری کو الجھاتا نہیں اور ایک نظم گو کی طرح کئی مقامات پر ایک شعر کی صراحت اگلے شعر میں بھی کرتا ہے۔اُس نے عشق اور دنیا داری میں جو خود محسوس کیا وہ دوسروں کو بھی محسوس کروانے کی کوشش کی ہے۔ مجھے کامل یقین ہے کہ وہ کوئی غزل کہنا شروع کرتا ہے تو ایک ہی نشست میں اُسے مکمل کرتا ہے یا پھر وہ اُس کیفیت سے اتنی دیر باہر نہیں آ پاتا جب تک کہ غزل مکمل نہ ہو جائے۔ مصارع کی تراش خراش ایسی کہ جیسے ڈھلے ڈھلائے چلے آئے ہوں۔ ایک لفظ بھی اِدھر سے اُدھر نہ کرنا پڑے۔ لہٰذا یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ اُس کو ہُنر کی جو سوغات عطا ہوئی ہے وہ اکتسابی نہیں، وہبی ہے۔
سونپ دی جائیں کسی روز یہ آنکھیں اُس کو
وہ جو دریا ہے اُسے پار لگایا جائے،،
کیوں نہیں آگ بجھاتی یہ کسی دامن کی
چشمِ عشاق جو پانی سے بھری رہتی ہے،،
سورج کی خود کشی میں برابر کی ہے شریک
جنگل کا سبز رنگ بدلتی ہوئی یہ آگ،،
عجب پردہ نمائی ہے کہ ہم سے بے خبر رہ کر
ہمارے حال کو معلوم رکھتی ہیں کئی آنکھیں،،
مرا تو ایک ہی دل ہے اور ایک ہی حسرت
تمہارے دل میں کوئی دوسری تمنّا ہے،،
وقت تھا، وقت کا آزار کوئی تھا موجود
اِس طرف میں تھا تو اُس پار کوئی تھا موجود،،

ایک وہ شاعری ہے جو مشاعروں میں سنائی جا رہی ہے ، جس کا سامع اِس بات کا متحمل ہی نہیں کہ اُسے شعر کی تفہیم کے لیے سوچ اور فکر کا کوئی دریچہ وا کرنا پڑے۔ دوسری طرف سنجیدہ فکر شعرا ہیں ، جن کی اکثریت کامی کی طرح غالب سے اثر لیتی ہے ،وہ قاری کو سوچنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ہماری عام گفتگو اور شعرو سخن میں کوئی حدِ فاصل تو آخر ہے کہ نہیں؟۔اگر روز مرہ کا چلن ہی شاعری ہوتا تو پھر ہر دوسرے شخص کو شعر گو ہونا چاہیے تھا۔عام گفتگو میں سطحیت اور شاعری میں تہہ داری لازمی امر ہے۔ جب کلام کی پرتیں اک ایک کر کے کھلتی ہیں تو حسنِ کلام کئی ایک زاویوں سے اپنی بہار دکھاتا ہے۔عام گفتگو ہر گز سہل ممتنع نہیں ہے۔ شاعر اپنے کلام میں اگرچہ ایسے الفاظ کا استعمال نہ کرے کہ بار بار لغات سے رجوع کرنا پڑے مگر سادہ اور عام لفظیات میں فکر کی تہہ داری ضرور ہوتی ہے۔ سیّد کامی شاہ ایک مکمل شاعر ہے، اُس نے اپنے کلام میں بعض ایسی علامتیں اور ترکیبیں بھی برتی ہیں جو قاری کو مجبور کر دیتی ہیں کہ وہ ذرا ٹھہرے، توقف کرے ،غورو فکر سے کلام کا معنوی حسن سمیٹے اور آگے بڑھ جائے۔ مثلاََ سفید آبِ مقدس، نوائے سفید، حواس کا نیلا دھواں، سبز آبِ حیات ، باغِ حیرانی۔البتہ اُس کا کلام کسی تصنع اور بناوٹ سے مبرّا ہے۔
ذرے میں رکھ دئیے سبھی آغاز و اختتام
نقطے کو کھینچ تان کے دنیا بنا دیا
پانی کو آسماں سے گرایا زمین پر
لمبی لکیر کھیچ کے دریا بنا دیا،،
عشق سب کرتے ہیں یا اِس کا دعوی سب کرتے ہیں مگر جسے عشق قبول کر لے، اُسے اپنی تپش سے کُندن کر دیتا ہے۔عشق مجازی ہی کیوں نہ ہو جسے اپنی لپیٹ میں لے لے، اُس کا سارا وجود سنہرا کر دیتا ہے۔یہ ایک ایسا موضوع ہے جس پر بار ہا فرسودگی کا الزام آیا۔ میر سے مومن تک تمام شعرا نے صد ہا انداز سے اسے پیش کیا۔لیکن کچھ تو ہے کہ بعد میں آنے والوں نے بھی اسے کو بنیاد بنا کر شعر گوئی کی۔ کامی چونکہ غالب سے قریب ہے اِس لیے اُس نے خود کو میر کی طرح ڈبویا نہیں ۔اُس کا ہاں مختلف کیفیات نہ سہی مگرعشق غالب کی طرح ارضی و روحانی ہے۔وہ قیس و فرہاد نہیں۔ سوزِ محبت اسے بھی جلاتا ہے مگر لب ریز ہونے کے باوجود،عشق میں اُس نے انسانی حیثیت کو برقرار رکھا ہے اور اپنے کلام میں کیف و سرمستی پیدا کی ہے۔اس لیے کہ بقول فراق گورکھپوری فطرت کے تمام مظاہر اور واردات حسن و عشق بہ یک وقت قدیم اور جدید موضوعات ہیں۔ یہ نہ صرف غزل بلکہ تمام دنیا کے ادب کے اجزائے اعظم ہیں۔
ایسا لگایا رنگ ترے عشق نے مجھے
سارا مرا وجود سنہر ا بنا دیا،،
کر رہا ہے نمازِ عشق ادا
دل قیام و سجود سے آگے،،
ایک روشن حصار ہے کامی
عشق حد و قیود سے آگے،،
یہ جو دمکتا نظر آ رہا ہوں باہر سے
جلا رہی ہے کوئی آگ مجھ کو اندر سے،،
اگرچہ عشق سے منسوب ہیں کئی قصے
ہمارا نام بھی آیا ہے اک روایت میں،،
فلسفہ حسن و جمال بتاتا ہے کہ جمالیاتی تجربہ موضوعی ہوتا ہے۔اس لیے کہ یہ احساس کے وقوع پذیر ہونے سے وجود میں آتا ہے۔قدیم سے جدید مفکرین کے نزدیک حسن قدر بالذات ہے۔یعنی اپنی ذات میں خود ایک مقصد ہے اور مقصد کے حصول کا ذریعہ نہیں ہے۔ کامی کا خاص رنگ حسن و عشق اور اُس کے تلازمات کی جستجو ہے۔ اُس کا ہر شعر کسی جذبہ یا حالت کی مکمل عکاسی ہے۔لوازماتِ حسن کے ساتھ ساتھ کہیں کہیں وصف اور سراپا نگاری۔اُس کی ڈکشن جدید عہد کے معیارات سے متصف ہے۔ عشق و محبت اورجمالیات جیسے موضوع پر لکھتے ہوئے بھی اُس نے فرسودہ علامتوں اور استعاروں مثلاََ زلف پیچاں، کوچۂ قاتل، گریۂ شمع، سوزِ پروانہ، گلچیں، صیاد، برق و نشیمن، گُل و بلبل سے پہلو تہی کی ہے۔ اُس کی غزل وہ ہے جو برصغیر میں پروان چڑھی ہے۔ اس لیے کامی کا فلسفۂ جمالیات ہو یا تصورِ عشق وہ ہماری سماجی اور غزلیہ تہذیب ہی کا حصہ ہے۔
جمالِ عالمِ ہستی، کمالِ دیدہ و دل
جو کوئی دیکھے اُسے با خدا نظر آئے،،
میانِ دل جو یہاں راستہ بنا ہوا ہے
ترے لیے ہی تو سارا بنا ہوا ہے
سنہری باغ کا رستہ دکھا رہا ہے مجھے
بدن پہ پھول جو اُس کے ہرا بنا ہوا ہے،،
آ گیا باغ میں وہ گُل زادہ
اور موسم کا دل کشادہ ہُوا
پھول تعداد میں ہوئے بے حد
رنگ مقدار میں زیادہ ہُوا،،
اُس کے چہرے کی حمد کرتا ہے
جھیل میں ایک پھول کھلتا ہُوا،،
ڈرائیڈن نے کہا تھا کہ شاعر کا کام آدمی کی فطرت کی عکاسی کرنا ہے۔اچھا شاعر ہمیشہ غالب کی طرح بہترین نفسیات و فطرت نگار ہوتا ہے۔اس لیے کہ اچھی شاعری انسان کے مطالعے سے وجود میں آتی ہے۔ کامی شاہ نے بھی موجودہ انسان کے دوغلے رویوں اور اُس کی منافقتوں پر بات کی ہے۔زیرِ نظر شعر میں اُس نے بالکل ایک نیا اوت اچھوتا خیال پیش کیا ہے کہ انسان خود کو دیکھنے کے لیے آئینہ تو اُٹھاتا ہے مگر خود کو آئینے میں پورا پورا نہیں دیکھتا ۔درحقیقت وہ اِس اخلاقی برائی کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ انسان آئینے میں اپنی ذات کے خوبصورت پہلو ہی دیکھتا ہے۔ اُسے کبھی اپنی خامیاں دکھائی نہیں دیتیں یا پھر وہ دیکھنا ہے نہیں چاہتا۔ خود میں اچھائی اور دیگروں میں برائی تلاش کرتے رہنا آج کے انسان کا وہ منفی پہلو ہے جس سے کئی ایک معاشرتی برائیوں نے جنم لیا ہے۔
تو پھر وہ پوری طرح دیکھ کیوں نہیں پاتے
جو دیکھنے کے لیے آئنہ اُٹھاتے ہیں،،
مجھ کو ہر بار نظر آیا وہ پہلے سے جدا
دوسرا شخص جو ہر بار کوئی تھا موجود،،
مقصدیت
فن بھی ایک سماجی اور معاشرتی عمل ہے ، اس لیے پیش کیے جانے والے مواد کو صرف تخلیق کار کی صوابدید اور پسند نا پسند پر نہیں چھوڑا جا سکتا۔مواد کا اثر قاری اور سامع پر بھی ہوتا ہے۔ یہ حیات افزا بھی ہو سکتا ہے اور حیات کُش بھی۔ آخرالذکر کو کسی حسین ترین ہئیت میں بھی پیش کیا جائے تو تخلیق خوبصورت نہیں ہو سکتی۔کسی تخلیق سے حظ اٹھانے کے لیے ضروری ہے کہ وہ حیات افزا ہو۔ کامی مثبت فکر کا شاعر ہے۔اِس لیے ’’قدیم‘‘ کا بنیادی موضوع حسن و عشق اور اُس کے تلازمات ہونے کے باوجود عمومی شاعری کے برعکس اُس کے کلام کا مطالعہ کوئی افسردگی اور پژ مردگی کا تاثر نہیں دیتا بلکہ ایک نوع کی تازگی کا احساس برقرار رہتا ہے۔اُس کی شاعری صرف فلسفۂ جمالیات کی ترجمان نہیں۔وہ ایک طرف روایتی نظم و ضبط کا پابند دکھائی دیتا ہے ،جس کے ہاں رومانی جوش و جذبہ نمایاں ہے تو دوسری طرف اُس کا کلام آگاہی اور گہرائی، سماجی و معاشرتی شعور اور اخلاقی اقدار کا عکاس بھی ہے۔اُس نے شاعرانہ زبان و اسوب، شعریت اور شعر میں جذبے کی آمریت قائم رکھتے ہوئے ،ادب کو زندگی کے قریب کیا اور وسعت دی ہے۔ جدید عہد کے انسان کی بوالعجبیوں پر اُس کی گہری نظر ہے۔ وہ فلسفۂ اخلاقیات کا مبلغ تو نہیں مگر انسان پر انسان کی حکم رانی کے اُس طریق سے نالاں ہے کہ جس میں ایک فرد زمین پر خدا بن بیٹھتا ہے۔ وہ ان امتیازات کو ناپسندیدگی کی نظر سے دیکھتا ہے۔اُس نے ماحول اور گردوپیش سے قطع تعلق نہیں کیا۔ یہاں اُس کی سوچ ذاتی سے زیادہ آفاقی دکھائی دیتی ہے کہ از خود شاعری زندگی سے الگ تھلگ شے نہیں ہے۔
دئیے، چراغ ، ستارے نشان ہیں میرے
چمک رہے ہیں جو سارے نشان ہیں میرے،،
سب منحصر ہے آپ پر القصہ مختصر
دل دیکھئے یا دوڑ کے دنیا اٹھائیے،،
دکھائی دے گا کبھی آدمی کا دکھ اُس کو
وہ جس کو مٹی کے بُت میں خدا نظر آئے،،
خدا ہی پوچھے گا اُس سے برائے خلقِ خدا
جو ایک شخص زمیں پر خدا بنا ہوا ہے،،
مٹی پانی آگ ہوا کو دیکھ لیا
اِن چاروں میں خون کا پیاسا کوئی نہیں
دو پائے حیوان کہ جو آزاد ہوئے
کیا اب اِن کو روکنے والا کوئی نہیں،،
مختصر یہ کہ کامی نے غزل کو داخلی اور خارجی خوبیوں سے سجا کر مجھے ایک بار پھر یہ یقین دلایا ہے کہ غزل کا زوال ابھی شروع نہیں ہوا۔ شاعری کے اُفق پر غزل ابھی جلوہ نما ہے کہ شعری جمالیات کا اصل مرقع یہی ہے۔ فکری و اسلوبیاتی سطح پر لچک دار ہونے کی وجہ سے اِس کے کمالات و امکانات ابھی عرصہ تک چشم کشا رہیں گے۔ گُل و بلبل اور شمع و پروانہ کے روایتی موضوعات سے لے کر فطرت نگاری اور حقیقت نگاری تک آج غزل حیات و کائنات کے ہزار ہا موضوعات کا احاطہ کرتی ہے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شوبز ایک نظر۔۔ اشفاق حسین

ہم برائیڈل کیٹیور ویک ۔۔آئندہ ماہ لاہور میں پاکستان کے سب سے بڑے برائیڈل فیشن …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    دل دریا آباد رکھے
    مالک آپ کو شاد رکھے،،

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے