سر ورق / یاداشتیں / اُردو کہانی کا سفر ۔۔۔اعجاز احمد نواب ۔۔۔قسط نمبر 11

اُردو کہانی کا سفر ۔۔۔اعجاز احمد نواب ۔۔۔قسط نمبر 11

اُردو کہانی کا سفر تحریر اعجاز احمد نواب
قسط نمبر 11

’’داستان، کہانی، ناول، افسانہ‘‘ نام سنتے ہی ذہن میں عجیب و غریب خیالات کا ایک سیلاب اُمڈ آتا ہے۔ کرداروں کی تصویریں چلتی پھرتی فلم کی صورت میں ذہن کے پردے پر آتی معلوم ہوتی ہیں۔ بہرحال قبل اس کے کہ آپ کو ادب کی ان اصناف کا تعارف یا تاریخ سے آگاہ کروں جن کا انسانی زندگی سے گہرا تعلق ہے بہتر ہے پہلے ان زبانوں کو جان لیں جن کا سہارا لے کر ہمیں داستان، کہانی یا ناول پڑھنے یا سننے کا حقیقی لطف حاصل ہوتا ہے۔
اس پاکیزہ خطہ زمین، جس پر ہم آباد ہیں کہانی کا سلسلہ قدیم ادوار سے پیوستہ ہے۔ پہلے کے موضوعات تو اور تھے لیکن قیامِ پاکستان کے وقت اس میں احساسات انسانی سے منسلک ہر پہلو سے متعلقہ موضوع کا اضافہ ہوا اور پھر کہانی دو خاص زبانوں میں ڈھل کر رہ گئی۔ پنجابی اور اردو لیکن جیسے جیسے زبان دانی کا سلسلہ وسیع سے وسیع تر ہوتا چلا گیا ویسے ویسے کہانی کا تعلق اردو زبان سے گہرا ہوتا چلا گیا۔ آخر وہ وقت آ گیا جس میں خالصتاً اردو زبان ہی ہمیں لطف اندوزی و معلومات کی فراہمی کا وسیلہ فراہم کرنے لگی۔
اردو کی تاریخ کے متعلقہ چند باتیں ضرور یاد رہیں۔ ’’اردو‘‘ ترکی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی ہیں لشکر، چھاؤنی کے۔ یہ لفظ ترکی لغت میں مختلف شکلوں میں ملتا ہے یعنی اوراد، اوردہ اوردو اور اردو جس کے معنی فرودگاہ، لشکر، لشکر کا حصہ اور پڑاؤ وغیرہ ہیں ترکی کے ایک شہر کا نام بھی اردو ہے۔
عام سندھی زبان میں بھی اردو کا لفظ استعمال ہوتا ہے جس کے معنی ’’ڈھیر یا اشیاء کا ذخیرہ اور انسانوں کا اجتماع ہے اور دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ماقبل تاریخ کے ماضی میں اگر جھانکا جائے تو لفظ ’اُرد‘ (Urd) یا (Urth) دیومالا میں استعمال ہوا ہے جو ایک دیوی کا نام ہے جو خود تقدیر ہے اور آرد کا لفظ آریائی زبان کے قدیم تین لفظوں میں بھی آیا ہے۔ آریائی تہذیب اور اس کی خاصیت یعنی انسانی معاشرت کا مظہر ہے یہی وہ لفظ ہے جو ’’اردو‘‘کا ماخذ ہے۔ جس کے معنی ایسے مجمع کی زبان ہے جس میں ہر قسم کے لوگ شامل ہیں۔
مغل بادشاہوں اور شاہزادوں کے فرودگاہوں اور لشکر گاہوں کو اردو کہا جاتا تھا۔ مغلیہ سلطنت بہہہہہہت بڑی تھی، اسی لحاظ سے اس کی فوج بھی بہت زیادہ تھی، اور اس فوج میں ہندوستان کے ہر خطہ کے لوگ شامل ہوتے تھے جو ایک دوسرے کی زبان سے ناواقف اور نابلد ہوتے، لہذا بات چیت اور روابط میں مشکل پیش آتی، لیکن پھر یوں ہوا کہ.. کہ کسی ایک مقامی بولی کا کوئی ایک لفظ مقبول ہونے لگتا، اس کا استعمال اپنی آسانی کے لئے سب کرنے لگتے، پھر دوسرے کسی خِطہ کی کسی اور مقامی بولی کا کوئی اور لفظ مشہور ہو جاتا اور وہ باہمی گفتگو کا حصہ بننے لگتا یوں ذخیرہ الفاظ ہونے لگا ایسے الفاظ یکجا ہونے لگے جس کا مطلب سب کو پتہ ہوتا، فارسی اور عربی کا اثر و رسوخ زیادہ تھا، لہذا ان زبانوں کے کثیر الفاظ باہم مقبول ہونے لگے اور آہستہ آہستہ غیر شعوری طور پر اک نئی زبان وجود میں آنے لگی جو فوجی بولتے لشکر کی زبان، بعد میں پھر اس زبان کی اہمیت جب بڑھنے لگی تو اس میں نثرلکھی جانے لگی اور شاعری ہونے لگی یوں ادب تخلیق پانے لگا،اور پھر انہی ادیبوں نے اردو کے باقاعدہ قواعد مرتب کرنے شروع کر دئیے اردو میں ہر زبان کے الفاظ شامل ہیں، ہندوستان میں یہ لفظ سلاطین دہلی کے دور میں مروج ہوا۔ اور ہندوستان میں لفظ اردو سب سے پہلے بابر بادشاہ نے اپنی کتاب تزکِ بابری میں لشکر کے معنوں میں استعمال کیا زبان کے معنی میں لفظ اردو سب سے پہلے شاہجہان کے عہد میں استعمال ہوا۔ شاہجہان نے ملکی زبان کے لیے اردوئے معلی کا لفظ استعمال کیا۔ اردو کو شاہجہان کے دور میں آبادی کی زبان بھی کہا گیا ہے اور دہلوی زبان بھی۔ بعد میں اردوئے معلی کو صرف اردو کہا جانے لگا۔ بہرحال زبان کے معنوں میں اردو کا لفظ 1176 ہجری (1762)ء سے قبل استعمال ہو چکا تھا۔ اردو نے بہت سے علاقائی نام پائے اسے دکنی، گوجری، گجراتی، لکھنوی اور پنجابی کے ناموں سے بھی منسوب کیا گیا۔
آج کل ہمارے ہاں داستان گوئی، ناول اور کہانی کی سب سے بڑی زبان اردو ہی ہے اس تعارف کا مقصد آپ کو معلومات کی فراہمی کے ساتھ ساتھ اردو کی اپنی کہانی سنانا تھا تاکہ کہانی کے ساتھ ساتھ کہانی کی زبان کی کہانی بھی معلوم ہو جائے۔
یہ تو سچ ہے داستان گوئی اور اس کی سماعت انسانی فطرت کا حصہ ہیں لاریب کتاب میں خود اللہ کریم نے نصیحت و عبرت ہر دو کا تعلق قصص سے کیا۔ پرانے زمانے میں داستان کے متعلق خاص محفلیں سجا کرتی تھیں جن میں ماہر قصہ گو اپنے اپنے انداز میں قصّے کہانیاں سنایا کرتے تھے۔ سرِشام ان محفلوں میں شرکت کے لیے شائقین اسی طرح بے تاب نظر آتے تھے جیسے آج کل کرکٹ کے دیوانے، پھر ہوا یوں کہ آہستہ آہستہ دن رات پہر گزرتے گئے اور ان حسین سلسلوں کا ہم تک پہنچنے سے پہلے پہلے اختتام ہو گیا اور وہ بڑی مجلسیں اور بیٹھکیں گھر کی چار دیواری میں نانی، دادی کے کمرے یا صحن تک محدود ہو گئی۔ ان شاموں کا لُطف آج بھی اپنی چاشنی زندہ کیے ہوئے ہے جن لوگوں نے ان ادوار میں کہانی اور داستان سے محبت کی تھی، ماضی بعید اور ماضی قریب کا وہ دور اب تو خال خال بھی ڈھونڈے سے بھی نہیں ملتا۔ بہرحال ایک نئی سہولت جو آج کے دور میں میسر آئی وہ کہانی/داستان کا تحفظ تھا پرنٹنگ پریس کی ایجاد نے کہانی اور داستان کی بقاء میں عظیم کردار ادا کیا اور یوں لیلیٰ مجنوں، شیریں فرہاد، اور دیگر تاریخ اور اخلاقیات سے وابستہ آفاقی کہانیاں آج بھی ہمیں کتابی شکل میں مل سکتی ہیں۔
جب ۱۸۵۷ء کی جنگ ِ آزادی کے بعد مسلم معاشرہ انگریزی حکمرانوں کی چکّی میں پسنے لگا تو معاشرتی اقدار بھی ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگیں تو ایسے میں ایک طرف ڈپٹی نذیر احمد نے مراۃ العروس، توبۃ النصوح، فسانہء مبتلا وغیرہ لکھ کر اصلاحِ معاشرہ کا بیڑا اٹھایا تو دوسری طرف رتن ناتھ سرشار نے ’ہزار داستان‘ سے لوگوں کو تفریح مہیا کی۔ الف لیلہ اور طلسم ہوشربا بھی اسی سلسلہ کی کڑی ہیں۔
بیسویں صدی کے اوائل میں پریم چند پہلے باقاعدہ افسانہ نگار کے طور پر اُبھرے۔ ان کی تحریروں کا مرکزی خیال سرمایہ دارانہ صنعتی نظام میں پستے ہوئے مزدور تھے۔
انقلابِ روس اور پہلی جنگ عظیم کے بعد اردو کہانی حقیقت پسندی کی طرف آہستگی سے مائل ہونے لگی لیکن دوسری جنگ عظیم، تحریک ِ آزادی اور اس کے بعد تقسیم ہند کی پے در پے تبدیلیوں کے نتیجے میں اردو ادب فسادات اور ہجرت جیسے موضوعات کے گرد گھومنے لگا۔
بعض قلم صرف لکھتے ہی نہیں، دل کے پاتال میں چُھپے ہوئے طرب و کرب کی زباں بندی کو بھی توڑ ڈالتے ہیں۔ کبھی تو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ قلم… قلم کار نے خون میں بھگو کر کاغذ پر پھیرا ہے اور کبھی یوں لگتا ہے جیسے یہ قلم طنز کا نشتر بن کر معاشرے کے فالج زدہ وجود میں اُتر رہا ہے۔ کچھ قلم شگفتگی کی پھلجھڑیاں بکھیرنے پر تُلے ہوتے ہیں۔ بعض کی پہچان ایسے بھی ہوتی ہے کہ جیسے جیون کی بساط پر بچھی شطرنج کے ان مہروں کو آگے لانے کا کردار ادا کرنے میں مصروف ہیں، جو پیادے ہیں اور جن کا کام ہی دوسروں پر قربان ہو جانا ہے۔ اور پھر کچھ قلم ایسے بھی دکھائی دیتے ہیں جو ساری عمر محبت کے باغیچے سے نشاط کی کلیاں چُنتے رہتے ہیں۔ محبت جس کا وجود ہی خدا کی پہچان ہے اور اکثر لکھنے والوں کا نقطہء ارتکاز محبت ہی ہوتا ہے۔ انسانی دُکھ اور مسائل مشترکہ ہیں۔ صرف اظہاریہ مختلف ہوتا ہے۔ دیکھنا صرف یہ ہے کہ کون لکھنے والا… اظہار کی کون سی صنف اختیار کرتا ہے۔
اُردو ادب کی تاریخ اب لاتعداد برسوں پر محیط ہو چکی ہے لیکن شروع ہی سے افسانے کا مقام ادب میں نمایاں رہا ہے قیامِ پاکستان کے وقت بہت سے افسانہ نگار تھے چند اُدھر چلے گئے، کچھ اِدھر رہ گئے اور بے شمار ایسے بھی تھے جو اِدھر اُدھر ہوتے رہے اور کچھ نہ اِدھر کے رہے اور نہ اُدھر کے… بہرکیف اُردو صرف اِدھر کی میراث ہے اور تمام دنیا میں صرف ہماری قومی زبان ہے۔ یوں اُردو ہماری ہے لہٰذا اس کے ترکہ کے وارث بھی صرف ہم ہیں اور اسی بنیاد پر ترکہ کی حفاظت بھی ہماری قومی ذمہ داری ہے۔ اُردو میں بہترین افسانہ نگاروں کی کمی نہیں۔ سعادت حسن منٹو، راجندر سنگھ بیدی، غلام عباس، ممتاز مفتی، پریم چند، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، احمد ندیم قاسمی، قدرت اللہ شہاب اور بے شمار افسانہ نگاروں نے ایسے ایسے خوبصورت افسانے لکھے جن کی تعریف نہ کرنا زیادتی ہو گی۔تاہم ساٹھ کے عشرے میں گھریلو موضوعات پر لکھا جانے لگا۔ بلکہ ناول نگاری پر خواتین مصنفین کی اجارہ داری قائم ہو گئی۔
اے آر خاتون، زبیدہ خاتون، خدیجہ مستور، ہاجرہ مسرور، رضیہ بٹ اور اس کے بعد سلمیٰ کنول، بشریٰ رحمان، دیبا خانم ، مینا ناز، ادھر دوسری طرف نسیم حجازی، اسلم راہی، قمر اجنالوی، صادق حسین صدیقی، ایم اسلم، رئیس احمد جعفری، تاریخ کو مشقِ سخن بنانے لگے۔ ان ناولوں کے مرکزی کردار مسلمان جرنیل تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ غیرملکی مصنفین اوہنری، ہنری سلاسر، موپاساں، اسٹیفن کنگ، ایڈگر ایلن پو، لیوٹالسٹائی، سلیمی لے گراف، نجیب محفوظ وغیرہ کی کہانیوں کے تراجم کا نہ ختم ہونے والا سیلاب شروع ہوا۔ (جو آج تک جاری ہے۔) تقریباً پچاس برس تک افسانہ نگار کتاب و رسائل کی دنیا پر حکمرانی کرتے رہے۔
قیامِ پاکستان کے بعد ۱۹۵۱ء میں لاہور سے ریڈر ڈائجسٹ کے نام سے بڑے سائز میں رسالہ نکالا گیا۔
جو بعد میں اصلی ریڈر ڈائجسٹ والوں نے قانون کا سہارا لے کر بند کروا دیا۔تاہم اس کے ساتھ ساتھ ابنِ صفی کی عمران سیریز کا جادو بھی سر چڑھ کر بولنے لگا۔ ان کے ساتھ ساتھ خواتین کے بڑے سائز کے رسالے ماہ نامہ حور، زیب النساء اور عصمت بھی اپنے دور کے مقبول ترین رسائل ہیں۔
چھٹے عشرے کے آخر میں ڈائجسٹوں کا دور آیا۔ رئیس امروہوی کے انشاء ڈائجسٹ (بعد میں عالمی ڈائجسٹ) نے کراچی سے ڈائجسٹوں کی باقاعدہ داغ بیل ڈالی یوں تو اس دور میں کراچی سے ہمدرد اور لاہور سے سیارہ اور اردو ڈائجسٹ بھی شروع ہو چکے تھے۔ تاہم ہمدرد ڈائجسٹ کا مزاج طبی اور اصلاحی تھا جبکہ اردو ، سیارہ ڈائجسٹ سیاسی اور ادبی نما تھے جہاں تک میری ناقص یادداشت و معلومات کا تعلق ہے جنوری ۱۹۷۰ء میں جب سب رنگ ڈائجسٹ شروع ہوا تو کہانیوں اور قاری کا مزاج ہی بدل گیا۔ سب رنگ آیا اور چھا گیا… اسی دوران معراج رسول صاحب نے جاسوسی ڈائجسٹ شروع کر دیا۔ جہاں ایم اے راحت کی صدیوں کا بیٹا کیا شروع ہوئی ایک جہاں اس کا اسیر ہو کر رہ گیا۔ مسلسل بارہ برسوں تک اس ماورائی داستان نے اپنا رنگ جمائے رکھا۔ ادھر سسپنس ڈائجسٹ میں محی الدین نواب کی دیوتا شروع ہو گئی۔ جس نے طوالت کا ریکارڈ قائم کیا اور مسلسل سینتیس برس شائع ہونے کا اعزاز حاصل کیا۔ اسی ادارے سے ماہنامہ پاکیزہ اور سرگزشت ڈائجسٹ بھی شائع ہوتے ہیں جو بروقت اشاعت میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔
ایچ اقبال کے الف لیلیٰ ڈائجسٹ کو کون بھول سکتا ہے۔ گلزار شاہد کے اسکیچز نے اچھے اچھے مصوروں کو چونکنے پر مجبور کر دیا۔ اس پر مستزاد صبیحہ بانو کی ’’چھلاوہ‘‘ ایک اعلیٰ پائے کی لزبین تحریر تھی۔ جس کا ذائقہ آج بھی موجود ہے۔ پھر تو ڈائجسٹوں کا ایک سونامی آ گیا۔ خان آصف کا ’’داستان‘‘، ضیا شہزاد کا ’’سات رنگ‘‘، غلام محمد غوری کا ’’شبستان‘‘، علی سفیان آفاقی کا ’’ہوشربا‘‘ جو خوبصورتی میں اپنی مثال آپ تھا۔ اقبال پاریکھ کا ’’انداز‘‘
مشتاق قریشی کا ابنِ صفی میگزین اظہر کلیم کا ’’اشارہ‘‘ ڈائجسٹ، ایچ اقبال کا ’’نئی نسلیں‘‘ اور ریاض محمود صاحب کا ’’عمران ڈائجسٹ‘‘ جس کی ایک خوبی جو اسے دوسرے ڈائجسٹوں سے ممتاز کرتی ہے وہ یہ کہ یہی وہ پہلا ڈائجسٹ ہے جس نے سلسلہ وار کہانیوں کو کتابی شکل میں شائع کرنے کی داغ بیل ڈالی۔ درجنوں کتب شائع کی گئیں۔ مہارانی، نی تیکا، نروان کی تلاش، مہاراجہ، پراسرار قوتوں کی ماہر اور ایسی ہی ان گنت کتابیں۔
اس ادارے کے روح رواں جناب محمود ریاض کے شعاع، کرن، خواتین ڈائجسٹ جو آج بھی سب سے کثیر الاشاعت ڈائجسٹ ہیں اور موجودہ دور کی تقریباً تمام خاتون رائٹرز انہی ڈائجسٹوں کی پیداوار ہیں۔ اسی ادارے سے عامر محمود کی زیرادارت ایک فلمی ماہنامہ مووی سٹارز بھی کچھ عرصہ چھپتا رہا۔
ایک اور نام جو میرے ذہن میں اُبھرا ہے وہ ہے عوامی ڈائجسٹ، شمیم نوید اس کے مدیر اعلیٰ تھے… اس کا اجرا جنوری ۱۹۷۲ء میں ہوا۔ شمیم نوید بہت اعلیٰ پائے کے لکھاری تھے۔ غالباً ایک سلسلہ ’’جگت سنگھ جگا‘‘ ان کا بڑا مقبول ہوا تھا۔ اس کے کافی عرصہ کے بعد شمیم نوید نے ایک اور ڈائجسٹ ’’جرم و سزا‘‘ کے نام سے بھی نکالا۔
اسی عرصہ میں شمیم نوید صاحب راولپنڈی تشریف لائے اور ان سے ملاقات ہوئی ایک دو دن کی یہ ملاقات گہری رفاقت میں بدل گئی۔ کراچی کے حالات کچھ اچھے نہ تھے اس لیے ’’جرم و سزا‘‘ کے صرف پانچ چھ شمارے ہی نکال پائے اور کراچی کے حالات سے دلبرداشتہ ہو کر راولپنڈی منتقل ہو گئے۔شروع کے چند روز انہوں نے سچی کہانیاں دوشیزہ، سرگزشت، آداب عرض، اور جواب عرض، جیسے مؤقر جرائد کے معروف مصنف محمد سلیم اختر کے گھر قیام رکھا۔ بعد ازاں ڈھوک چراغ دین کے علاقہ میں کرائے پر مکان لے لیا۔ تقریباً چھ ماہ پنڈی رہنے کے بعد کراچی واپس چلے گئے پھر وہیں ان کی وفات ہو گئی۔
ان کے علاوہ بھی بے شمار ڈائجسٹ تھے جو وقتاً فوقتاً قارئین کے ذوق کی تسکین کرتے ہے اور عروج و زوال کا شکار ہوتے رہے۔ نیر علوی کا ’’مشعل‘‘ محسن برنی کا ’’سورج ڈائجسٹ‘‘، ’’ست رنگ ڈائجسٹ‘‘… وغیرہ۔
تو بات میں کر رہا تھا ماورائی سلسلوں کی … فکشن کی… جب ڈائجسٹوں کا سونامی آیا تو ادب ادیب اور ادبی پرچے پس منظر میں جانے لگے یا یوں سمجھا جائے کہ ڈائجسٹوں نے ادبی پرچوں کا تختہ ہی الٹ دیا۔ قارئین کے دلوں پر ڈائجسٹ ماورائی کہانیاں اور عمران سیریز راج کرنے لگے، واضع تبدیلی کے اس دور میں بھی ادب کے اجارہ داروں نے فکشن کی اہمیت کو درخور اعتنا نہ جانا، اور ناقدین، ادب کو افادیت کے فیتے سے ما پتے رہے۔ اور المیہ یہ ہوا کہ انہوں نے سائنس فکشن، ماورائی کہانیوں، تاریخی کہانیوں اور عمران سیریز کو بیک جنبش قلم دائرہ ادب سے خارج کر دیا۔ ہمارے ادبی سرداران امریکہ کے مصنف ایڈگر ایلن پو، کو بہت بڑا ادیب مانتے ہیں حالانکہ یہ بھی خوفناک اور پراسرار کہانیاں لکھتا ہے۔ اور امریکہ میں اسے لیجنڈ کا درجہ حاصل ہے۔ فرانس کے مشہور ادیب موپاساں نے بھی بے شمار پراسرار کہانیاں تخلیق کیں۔ اسٹیفن کنگ، امریکہ کا یہ شہرہ آفاق ناول نگار اسرار آگیں اور خوفناک ناولوں کے بہ دولت ہی جانا پہچانا جاتا ہے۔ جے کے رولنگ جسے آپ صرف ہیری پورٹر کے حوالے سے جانتے ہیں۔ اس پر دھن دولت کی وہ ژالہ باری ہوئی کہ جس کا کوئی کہانی کار صرف خواب ہی دیکھ سکتا ہے۔ وہ کیا لکھتی ہے؟؟ لیکن ان سب کو کسی نے ادب سے خارج نہیں کیا۔ لیکن اگر غائر نظر سے معاشرے کے ان رجحانات کا مشاہدہ کیا جائے تو نتیجتاً یہ ہی کہیں گے کہ ہمارے ہاں حوصلہ افزائی کا قرینہ کم اور حوصلہ شکنی کی روِش عام ہے۔
آج تک بلاشبہ ایشیا کے عظیم ناول نگار ابن صفی (اسرا احمد) کو باقاعدہ ادیب تسلیم نہیں کیا گیا۔ حیرت تو اس بات پر ہے نسیم حجازی معروف تاریخی ناولوں کے مصنف (جن کے قلم نے تاریخ کی دم توڑتی زندگی کو بَقاء دی) کو بھی ادب والے غیر ادبی کہتے ہیں۔
صدیوں کا بیٹا، وش کنیا اور کالا جادو جیسی ناقابلِ فراموش سلسلوں، اور ہزارہا کہانیوں کے قلمی خالق ایم اے راحت، اُن کے کاغذوں میں کسی شمار قطار میں ہی نہیں۔
ان گنت ماورائی داستانوں کے تحریر کرنے والے انوار صدیقی، بچوں کے لیے ڈیڑھ ہزار سے زائد ناول لکھنے والے اشتیاق احمد، ہے کوئی مثال ایسی؟؟ محی الدین نوابؔ درجنوں کتابوں کے لکھاری ہیں اس عظیم لکھاری کی تو صرف ’’دیوتا‘‘ کو سامنے رکھ لینا کافی ہے۔ اس کہانی نے سینتیس سالوں تک لاکھوں پڑھنے والوں کے ذہنوں کو آکٹوپس کی مانند اپنے شکنجے میں جکڑے رکھا۔ کیا لاکھوں کی تعداد میں باشعور قارئین کو اپنے قلم کے سحر میں اتنے طویل عرصے تک رکھنا جس میں نوجوان باقاعدہ بوڑھے ہو گئے کوئی مذاق کی بات ہے؟
لیکن حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ آج کا قاری باشعور ہو چکا ہے۔ وہ اپنے فیصلے خود صادر کرتا ہے اور رَدّوقبول کی کسوٹی اپنے پاس رکھتا ہے۔ وہ ان لکھاریوں کو دل میں جگہ دیتا ہے ان کی محنت کو سراہتا ہے اور یہی وہ بات ہے جس کے بل بوتے پر لکھاری آج بھی اپنے قلم طبع آزمائی میں مصروف رکھے ہوئے ہیں۔
یاد رکھیں جب بھی کوئی کہانی لکھی جاتی ہے تو اس کے تین مقاصد ہوتے ہیں اوّل، تعلیم، دوئم آگہی، سوئم تفریح اسی طرح کہانی کی بنیاد ایک ہی طرح ہوتی ہے۔ کیا؟ کیوں…؟ کیسے…؟ اب چاہے ادیب ہو یا فکشن لکھنے والا۔ کہانی کو اسی طرح لکھتا ہے اور انہی فطرتی سوالوں کو مدِّنظر رکھ کر لکھتا ہے۔
ادب کو لگے بندھے موضوعات اور دائروں میں مقید کر دینے کی روش نے ہمیں اس حال کو پہنچایا ہے کہ ادبی پرچے مسلسل بند ہو رہے ہیں۔ چند ایک جو باقی ہیں، ان کی اشاعت نہ ہونے کے برابر ہے اور اہلِ ادب کا کوئی پرسانِ حال نہیں۔ یاد رکھیں دلہن وہی جو پیا من بھائے، کہانی وہی جو قارئین کے ذہنوں میں سمائے اور ڈائجسٹوں میں چھپنے والے سلسلے اور کہانیاں قارئین کے معیار پر پورا اترتی ہیں۔ یہی وجہ ہے الیکٹرانک میڈیا کے اس دور میں بھی ڈائجسٹ اور ان کے مصنفین سر اٹھا کر چل رہے ہیں۔ اور ناانصافی کے باوجود اپنے اپنے انداز میں ادب کی خدمت میں سرگرداں نظر آ رہے ہیں۔
’’کتاب معیاری اور مفید ہو تو ضرور فروخت ہوتی ہے۔ جو نقاد اور اہلِ دانش رونا روتے رہتے ہیں کہ کتابیں نہیں بکتیں تو ظاہر ہے کہ ایسی کتابیں نہیں بکتیں جن کی پڑھنے والوں کو ضرورت ہی نہیں ہوتی۔ اور خواہ مخواہ چھپنے پر اصرار کرتی ہیں اور ان کے لکھنے والے (جن کو کسی طور کم از کم میں مصنف یا شاعر نہیں کہہ سکتا) اس زعم میں مبتلا رہتے ہیں کہ جیسی کتاب ہم نے لکھ ماری ہے ویسی کسی نے لکھی ہے نہ آئندہ کوئی لکھ سکے گا۔‘‘ (از سید قاسم محمود، انسائیکلوپیڈیا آف پاکستانیکا)
(سید قاسم محمود نے اردو کی جو خدمت کی ہے اس سے کون ہے جو واقف نہیں۔ ان کا تفصیلی ذکر پھر کبھی کیا جائے گا۔) ہمارے ہاں ایک رواج یہ بھی ہے کہ چند افسانے یا شاعری کے چند نمونے آزاد نظمیں وغیرہ لکھ کر اس کو اپنے سرمائے سے چھپوانے کے لیے لوگ پبلشرز کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ پبلشر کا کیا اعتراض ہو گا اس نے اپنا نفع رکھ کر کتاب چھاپ کر دے دینی ہے۔ اس میں پبلشرز کی پسند و ناپسند شامل نہیں ہوتی نہ ہی کتاب کے اندر موجود شاعری یا افسانوں کا پبلشر کے معیار پر پورا اترنا ضروری ہوتا ہے ظاہر ہے اس صورت حال میں چھپنے والی کتب میں سے پچانوے فیصد ناکام اور ناقابلِ فروخت ہوتی ہیں انہی کی بنیاد پر یہ اندازہ لگا لیا جاتا ہے اور اندازے لگانے والے بھی یہی لوگ ہوتے ہیں کہ آج کل کتاب نہیں بکتی۔ حالانکہ ایسی صورت حال قطعاً نہیں۔ پبلشنگ ادارے جو کتابیں اپنے سرمائے سے طبع کرتے ہیں وہ یقینا اپنے سرمائے کا تحفظ پہلے دیکھتے ہیں۔ سرورق کا انتخاب، کمپوزنگ اور پروف ریڈنگ کا معیار سائز کیسا ہونا چاہیے۔ کاغذ کس کوالٹی کا لگے گا۔ اور یہ کتاب کس کس سرکٹ میں فروخت ہو سکتی ہے۔ان سب باتوں کو مدنظر رکھا جاتا ہے۔ یوں پبلشنگ اداروں کی ذاتی مطبوعات ہاتھوں ہاتھ فروخت ہوتی ہیں۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو پاکستان بھر میں اشاعتی ادارے اور کتابوں کی دکانیں پھل پھول نہ رہی ہوتیں۔ اپنے سرمائے سے کتابیں چھپوانے والوں سے دست بستہ عرض کروں گا کہ اگر ذاتی سرمائے سے انتہائی مجبوری میں کتاب چھپوانی پڑ جائے تو پبلشر کا انتخاب انتہائی سوچ سمجھ کر کیا جائے یہ دیکھ لیا جائے جس صاحب یا ادارہ سے آپ کتاب چھپوا رہے ہیں کیا انہوں نے اس سے قبل کم از کم پچاس کتب شائع کر رکھی ہیں کہ نہیں۔ ظاہر ہے جو کام کسی نے بار بار کیا ہو وہی اس کام کو صحیح طور پر سمجھ سکتا ہے۔ یہاں تو یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ لوگ کمپوزنگ سینٹر یا پرنٹنگ پریس والوں سے بھی کتاب چھپوا لیتے ہیں حالانکہ پریس اور پبلی کیشنز الگ الگ ادارے ہوتے ہیں۔ پبلشر اور پرنٹر دو الگ الگ چیزیں ہوتی ہیں اگر اس فرق کا بھی کسی کو ادراک نہیں تو اسے کتاب نہیں چھپوانی چاہیے۔
صاحب ِ کتاب بننے کا درست ترین طریقہ یہ ہے کہ آپ شاعر ہیں یا مصنف آپ کو چاہیے کہ کم از کم پانچ سال تک اپنی تحریریں مختلف اخبارات اور رسائل و ڈائجسٹوں میں بھجواتے رہیں صرف وہی تحریریں جو آپ کی ذاتی تخلیق ہوں جب آپ یہ دیکھیں چھپ جانے والی کہانیاں یا غزلیں اتنی ہو گئی ہیں کہ جن سے ایک کتاب بن سکتی ہے تو ساری تحریروں کو اکٹھا کر کے مسودہ تیار کر کے مختلف پبلشرز کو دکھایا جائے۔
یاد رکھیے اخبارات کے ویکلی ایڈیشن اور ڈائجسٹ و رسائل اور سب نئے لکھنے والوں کے لیے درسگاہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اور درسگاہ میں جائے بغیر آپ کیسے اپنے آپ کو بذاتِ خود قابلِ اشاعت قرار دے سکتے ہیں۔ اس ضمن میں ڈائجسٹوں کے کردار کی تعریف نہ کرنا یقینا بخل ہو گا۔
کسی زمانے میں پی ٹی وی کے اردو ڈراموں کا طوطی بولتا تھا۔ پورے ہندوپاک میں ہمارے ڈراموں کا ڈنکا بجتا تھا۔ انکل عرفی، آنچ، دیواریں، ان کہی، وارث۔ ان ڈراموں کے تخلیق کار فاطمہ ثریا بجیا، حسینہ معین، اشفاق احمد، بانو قدسیہ، مستنصر حسین تارڑ۔
پھر جب اوپن سکائی پالیسی کے تحت نجی ٹی وی چینلز شروع ہوئے تو یکدم پی ٹی وی کی اہمیت اور مقبولیت گہنا گئی جس سے پاکستانی اردو ٹی وی ڈرامہ دیوار سے جا لگا اور گھر گھر انڈین ٹی وی ڈرامہ نے قبضہ کر لیا۔ انڈیا کے ان ڈراموں میں قیمتی ملبوسات، جدید تکنیک، زبردست میک اپ، محل نما سیٹ، خوبصورت لڑکیاں تھیں جنہوں نے پوری پاکستانی خواتین کو ذہنی طور پر یرغمال بنا لیا۔ حالانکہ ان ڈراموں میں کہانی نام کی کوئی چیز نظر نہیں آتی تھی۔ کمزور پھسپھسے مکالمے، مصنف پورے ڈرامے سے غائب۔ عکاسی کا بی گریڈ ایکشن فلموں جیسا معیار۔
ایسے میں پاکستانی نجی چینلز نے اپنے زور لگا کر دیکھ لیا مگر کسی طور بات نہ بنی اور وہ سارے چینلز مل کر بھی انڈین ڈرامہ کا سحر نہ توڑ سکے۔ایسے میں ڈائجسٹ و رسائل نے کام کر دکھایا۔
کیونکہ جب نجی چینلز نے ڈائجسٹ کی مصنفین کی طرف رجوع کیا تو وہ لکھنے والیاں جو ایک عشرے سے ڈائجسٹوں میں افسانے ناولٹ اور ناول لکھ لکھ کر پختہ قلم کار بن چکی تھیں جب ان کی کہانیوں پر ڈرامے بننے لگے تو دیکھتے ہی دیکھتے اردو ڈراموں نے بھارتی پھسپھسے اور عارضی چمک دمک والے ڈراموں کا جنازہ نکال دیا۔ آج ایک بار پھر پاکستانی ڈرامہ زور پکڑ چکا ہے اور یہ صرف اسی وجہ سے ممکن ہوا کہ مصنف ڈائجسٹوں اور رسالوں میں مسلسل چھپ چھپ کر اپنے اپنے قلم کو نکھار دے چکے ہیں۔
یعنی ڈائجسٹ و رسائل اور اخبارات یعنی پرنٹ میڈیا کی درسگاہوں کے وہ تربیت یافتہ تھے۔ دوسری بات یہ ثابت ہوئی کہ پرنٹ میڈیا نے الیکٹرک میڈیا کے ڈراموں کے لیے کہانیاں اور کہانی نویس مہیا کر کے ان کی ساکھ بچائی۔ ورنہ انڈین ڈرامہ تو انہیں روند رہا تھا۔
ثابت ہوا کہ مصنف تو پیدائشی ہوتے ہیں لیکن اچھا مصنف بننے کے لیے تربیت کی بھٹی سے گزرنا بہت ضروری ہے۔ اور اسی تربیت کے لیے ہمارے ہاں ہفت روزہ اور ماہنامہ اور روزنامہ اخبارات کے سنڈے ایڈیشن بھی موجود ہیں۔ بچوں کے لیے درجنوں رسائل بھی اور ڈائجسٹ رسائل کی موجودگی کے باوجود وہ مصنف و شعراء جو بزعم خود بہت بڑے لکھاری ہوتے ہیں اور خود اپنی سرمایہ کاری سے اپنی ناقص و قابلِ اصلاح تحریریں بغیر تصحیح کروائے کتابی شکل میں لے آتے ہیں ان کی کتب فلاپ ہونے کے چانس 95% ہوتے ہیں۔ ان کا زعم باطل ہی ان کی ناکامی کا سبب بنتا ہے۔
شکیل عادل زادہ جون ایلیا کی کتاب ’’فرنود‘‘ کے ابتدائی صفحات میں لکھتے ہیں کہ ایک اچھی نثر کے لیے موضوع کا گہرا مطالعہ، مشاہدہ، موضوع پر گرفت اور خود راقم کی شرکت بلکہ شرکت قلبی اچھی نثر کے لیے بار بار چھاننا پھٹکنا پڑتا ہے۔
مزید لکھتے ہیں کہ:
’’اسے عطیہ کہنا چاہیے کہ لفظ اُمڈ رہے ہیں لفظ بہہ رہے ہیں اور لفظ کسی خاص آہنگ سے اُتر رہے ہیں غیر شعوری طور پر… شعوری کوششوں سے کوئی صاحب ِ طرز نہیں بن جاتا اور یہ کیا یک طرفہ ماجرہ ہے کہ صاحب ِ طرز ہونے کی فضیلت قبولیت کی سند بھی نہیں ۔
شکیل صاحب کے اس آخری جملے سے یاد آیا کہ یہ بھی بہت بڑی حقیقت ہے کہ ہمارے ہاں کے کچھ خاص گرامی لکھنے والوں کی کتب بھی بک سٹالوں پر پڑی پڑی خراب ہو جاتی ہیں۔ مگر انہیں کوئی ایسا قاری نہیں ملتا جو ان کی کتب کی قیمت ادا کر کے گھر لے جائے۔
بڑا نام… ہر تحریر یا شعر اچھا ہونے کی ضمانت نہیں… ممکن ہے قاری آپ کی بات کو، آپ کے شعر کو اس طرح نہ سمجھ پائے جس طرح آپ کی تمنا ہے اور یہ بھی ممکن ہے ایک نئے رائٹر کی کوئی بات یا نئے شاعر کا کوئی شعر قارئین کی اکثریت پسند کرے کہ وہی اکثریت آپ کو وقت کا آئیڈیل یا شہرت یافتہ بنا دے بہرحال محنت تو ہر معاملہ میں شرط ہے اور یہ ناممکن نہیں۔
ڈائجسٹوں اور ناولوں کے دیوانوں کے لئے ایک دل دہلا دینے والی خبر یہ ہے کہ.. اس وقت بڑے بڑے ڈائجسٹ و رسائل مالی مشکلات کا شکار ہیں، سرکولیشن بتدریج گر رہی ہے خدشہ ہے کہ خدانخواستہ ان میں سے کوئی بھی کسی بھی وقت بند نہ ہو جائے، خدارا… ناول ڈائجسٹ خرید کر پڑھیں
اعزازی کاپی نہ مانگیں، تحفہ مانگ کر نہ لیں( خود کوئی دے تو الگ بات ہے) بڑے مصنفین اپنے معاوضے کم کر دیں، اور پی ڈی ایف کی حوصلہ شکنی کی جائے، یہ زہر قاتل ہے بغیر اجازت کتابوں ڈائجسٹوں رسالوں کو پی ڈی ایف بنا کر پیش کرنے والے قلم کتاب اور اردو کے مجرم ہیں،
(جاری ہے)
بہ احترامات فراواں

اعجاز احمد نواب
…….
…….
…….
…….
…….
…….
…….
…….
ڈائجسٹوں اور ناولوں کے قارئین کے لئے بطور خاص
مصنفین / مدیران /ناشرین /قارئین کی مشترکہ بیٹھک
قلم کا دنیا کی داستانِ طولانی اک طلسمِ ہوشربا، ہزار داستان ابھی جاری ہے اپنے مشورے تجاویز رائے لائکس کمنٹس کی صورت میں ضرور پہنچائیں شئیر کیجئیے، اور چند علمی ادبی تعلیمی تفریحی کتابی گروپس میں پوسٹ کر کے اردو کتاب اور مطالعہ کی ترقی و ترویج میں اپنا حصہ ڈالئے ( اعجاز احمد نواب)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر۔۔۔ اٹھارویں قسط ۔۔۔ اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر اٹھارویں قسط تحریر اعجاز احمد نواب ✍️✍️✍️✍️✍️تیرہ نومبر 2019 کو ادب کا …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    اسلام علیکم

    آپکے قلم کی جولانیاں نہایت دلپذیر انداز میں جاری ہیں- اس بار آپنےاردو زبان کی تاریخ کا بہت عمدہ خلاصہ پیش کیا ہے تاہم اسکے نام کی بنیاد کے طور پہ آریائی زبان کے ایک لفظ آرد کا جو تذکرہ کیا ہے وہ میری نظر سے کبھی نہیں گزرا اس لیئے اگر اس کا تاریخی حوالہ بھی دیدیں تو ہم جیسے تشنگان علم کو بہت فائدہ ہوجائے گا – سید قاسم محمود جیسے عبقری پہ آپکی تفصیلی تحریر مطلوب ہے –
    آپنے یہاں اس قسط میں پبلشنگ کے معاملات کا بہت اجمالی سا جائزہ پیش کیا ہے لیکن عملاً حقائق بہت تلخ ہیں کیونکہ پاکستان میں جس طرح‌ کسی اوسط لکھاری کی محنت پہ پبلشرز ہاتھ صاف کرتے ہیں شاید دنیا بھر میں کہیں ایسی زیادتیاں روا نہیں رکھی جاتیں ۔۔ پاکستان میں پبلشرز لکھاریوں کو انکا حق محنت دینا تو دور الٹا انکی جیبیں تک جھڑوا لیتے ہیں خود میں نے اپنی طنز و مزاح کی تحریروں پہ مشتمل پہلی کتاب انکے اسی رویئے کے خلاف بطور احتجاج ابتک شائع نہیں کی ہے کیونکہ جن دو تین پبلشروں سے بات کی انکے مزاج ہی آسمانوں پہ ملے ۔۔۔ میں اسی حوالے سے کچھ اور باتیں بھی آکے علم میں لانا چاہتا ہوں اور اسکے لیئے مجھے آپکا واٹس اپ نمبر مطلوب ہے جو اگر آپ میرے اس ای میل ایڈریس پہ بھیج سکیں تو بہت عنایت ہوگی
    arifm30@gmail.com
    آپکی ہر تحریر کا بہت انتظار رہتا ہے اس لیئے زیادہ وقفوں سے گریز کیا کیجیئے
    خیراندیش
    سید عارف مصطفیٰ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے