سر ورق / ناول / دام عشق : ابن آس محمد۔۔قسط نمبر8..9.. اور10

دام عشق : ابن آس محمد۔۔قسط نمبر8..9.. اور10

” دام عشق ”
آٹھ ویں قسط ….
تحریر: ابن آس محمد
………………….
بے سبب عشق کی کہانی۔
ایک ہوس پرست وحشی کا عشق طولانی
اس کی وحشت اسے جنونی عشق کی طرف لے جا رہی تھی۔
دام عشق میں لا رہی تھی۔
…………………………….
……………
وہ بلاشبہ اس کے لیے دنیا کی مدھر ترین آواز تھی۔
کسی مرد کے لیے ا س کی ماں کی آواز دنیا کی حسین ترین آواز ہو تی ہے۔
جب آوازوں کے شور میں وحشت دماغ تک پہنچاجائے،بندہ سکون سے محروم ہوجائے،کسی پل چین نہ پائے،نیند نہ آئے تو ماں کی آواز میں لوری سننے والے پرسکون ہو جاتے ہیں،گہری نیند سوجاتے ہیں۔مطمئن ہو جاتے ہیں۔
اسے بھی ماں سے بات کیے ہوئے بہت عرصہ ہو گیا تھا۔سکون محسوس کیے مہینوں ہو گئے تھے۔مہینون بعد دل گھبرایا تو ماں کا خیال آیا۔
وہ ماں سے ناراض ہو کر گھر سے نکلا تھا،پلٹ کر نہیں گیا تھا۔
ماں سے ناراض ہوکر گھر سے نکلنے والوں کو ویسے بھی گھر واپسی کا راستا نہیں ملتا۔ماں کو بھولنے والے صبح کے بھولے شام کو گھر پہنچ نہیں پاتے…ماں کا ہاتھ جھٹک کر گھر سے نکلنے والے،کہیں اور نکل جاتے ہیں،کہیں اور ہی بھٹک جاتے ہیں۔
وہ بھی بھٹک ہی گیا تھا۔
ماں اُس چھوٹے شہر کے بڑے سے گھر میں اس کی واپسی کی راہ تکتی رہتی تھی، جب بہت بے چین ہو جاتی تو چار چھے ماہ بعد اس کو دیکھنے اور اپنی ممتا کی پیاس بجھانے کے لیے طویل سفر کر کے اس کے پاس آجاتی تھی۔
دو چار دن ا س کے ساتھ رہتی،شہر کے معروف شیف محبوب علی خان کواپنے ہاتھ سے پکا کر کھلاتی،کچھ نہ کچھ نصیحتیں کرتی،اور اپنے بیٹے کو بہتر مستقبل کی دعائیں دیتے ہوئے،مسکراتی ہوئی،اپنے آنسو چھپاتی ہوئی واپس چلی جاتی۔
ماں نے بہت کوشش کی تھی کہ محبوب واپس گھر آجائے،مگروہ واپس جانا نہیں چاہتا تھا۔وہ گھر سے اتنی دور نکل آیا تھا کہ واپسی کا سفر کرنے کی ہمت ہی نہیں رہی تھی۔
وہ ہمیشہ سے ہی اپنی من مانی کرنے والا تھا۔بڑے بھائی سے ہونے والے ایک جھگڑے میں جب ماں نے کماؤ پوت بڑے بیٹے کا ساتھ دیا،اور اُسے چپ رہنے پہ مجبور کیا تو وہ تلملا کرگھر سے نکل گیا تھا،مگر ماں کے دل سے نہیں نکل سکا تھا۔
نہ ہی ماں ا س کے دل سے نکل پائی تھی۔
کال ملا کر ا س نے فون کان سے لگا لیا…. اور مدھم ہوتی دھڑکنوں کے ساتھ دوسری طرف سے اُبھرنے والی ممکنہ آواز کا انتظار کرنے لگا۔
اب یا تب میں دنیا کی سب سے حسین آواز اس کے کانوں میں رس گھولنے والی تھی۔اس کا سارا ڈپریشن ختم کرنے والی تھی۔ماں کو فون کرنے کے لیے یہ سب سے بہترین وقت تھا۔وہ تصور کی آنکھ سے دیکھ رہا تھا کہ ماں مصلے پہ بیٹھی ہو گی،نماز پڑھ رہی ہو گی یا پڑھ کر دعا کے لیے ہاتھ اٹھا رہی ہو گی،ایسے میں ا سکا فون جائیگا وہ قریب رکھے فون کو اٹھائے گی،اس سے بات کرے گی،ناراضی کا اظہار نہیں کر پائے گی۔
ایسا ہی ہوا…. ماں کی میٹھی،دھیمی اور کم زور سی آواز ا س کی سماعت سے ٹکرائی۔
”کیسے ہو بیٹا….طبیعت ٹھیک ہے نا تمہاری…؟“
محبوب علی خان نے سکون کی ایک گہری سانس لیتے ہوئے کہا:
”تمہاری آواز سننے کے لیے تڑپ رہا تھا….اب سکون ملا ہے…. طبیعت ٹھیک ہو گئی ہے۔“
ماں مصلے پہ بیٹھی تھی،نماز پڑھ کر فارغ ہوگئی تھی،دعا کے لیے ہاتھ اٹھانے والی تھی کہ ا س کا فون آگیا تھا۔
گھنٹی کی آواز سن کر ا س نے دُعا موقوف کردی تھی،بیٹے سے بات کرنا ضروری خیال کیا تھا۔اسکرین محبوب کا نام دیکھتے ہی سمجھ گئی تھی کہ اتنی صبح فون کرنے والا بیٹا ضرور کسی پریشانی میں ہے۔
انہوں نے مسکراتے ہوئے کہا:
”جھوٹ مت بولا کرو محبوب… ماں ہوں تیری،اتنا تو جانتی ہوں کہ بیٹا پریشان نہ ہو تو ماں کو یاد نہیں کرتا،شیر خوا ربچہ بھی بھوک لگنے پر روتا ہے اور ماں کو پکارتا ہے…. بولو کیا بات ہے…سب ٹھیک ہے نا…؟“
محبوب علی خان فوری طور پر کچھ بول نہ پایا،اس کی پشت پر موجود کھڑکی سے صبح کاذب کی روشنی نمودار ہونے لگی تھی مگر ابھی اندھیرا موجود تھا،رات کی سیاہی اپنی شدت کم کر رہی تھی۔
محبوب علی خان نے چند لمحوں کی خاموشی کے بعد ایک گہرے سانسکے ساتھ کہا:
”سب ٹھیک ہے امی…بس دل گھبرا رہاتھا…تمہارا چہرہ بار بار یاد آرہا تھا…سکون نہیں مل رہا تھا،بے چین ہو رہا تھا،اس لیے فون کرلیا…تمہیں تو معلوم ہے…مجھ بے چین کو تم سے بات کر کے ہی سکون ملتا ہے…“
محبوب علی خان کی امی کے چہرے پہ سنجیدہ سی مسکراہٹ پھیل گئی۔وہ ساٹھ پینسٹھ سال کی بوڑھی خاتون تھیں۔بینائی کم ہو گئی تھی،مگر جب روشنی تھی تو انہوں نے اپنی روشن آنکھوں سے دنیا دیکھی تھی۔وہ مسکراتے ہوئے بولیں:
”تم سے کہا تھا نا بیٹا….سکون نہ ملے تو سجدے میں گر جایاکرو…سب کچھ اُسی کے سامنے جھکنے سے ملتا ہے…جو جھک نہیں پاتا،وہ سکھ نہیں پاتا…اور سکون بخشنے والی توایک ہی ذات ہے…. نماز تو پڑھتے ہو ناتم….؟“
محبوب نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے جواب دیا:
”کبھی کبھی…. جب دل بہت گھبراتا ہے تب خدا یاد آتا ہے…“
امی نے سر ہلاتے ہوئے کہا:
”اچھی بات ہے…جس کو پریشانی میں خدا یاد آئے،وہ خدا کے سب سے زیادہ قریب ہوتا ہے…. خوش حالی میں تو کوئی بھی سجدے کرلیتا ہے،اصل امتحان تو پریشانی میں ہوتا ہے…وہ جب بھی یاد آئے،اس کے دربار میں حاضری دے دیاکرو…. جو کچھ بھی غلط کیا ہو ا س کی معافی مانگ لیا کر و….وہ مجھ سے بھی زیادہ شفیق ہے…ماں شاید معاف نہ کر ے،مگر وہ معاف کردیتا ہے…..“
اس نے بھرائی ہوئی آواز میں کہا:
”مگر…. کچھ گناہ معافی کے قابل نہیں ہوتے امی…. اس کے سامنے جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے….“
امی نے ہنس کر کہا:
”خدا سے ڈرنا چھوڑ دوبیٹا…. کچھ بھی ہوجائے،اس کے پاس جانا مت چھوڑنا،کوئی کتنا ہی بھٹک جائے، پھر بھی ا س کے پا س جائے تووہ اسے راستا دکھا دیتا ہے…جو پاس ہی نہ جائے وہ کیسے نجات پائے….“
”اچھا امی…. سمجھ گیا میں….“
امی کو جیسے یاد آیا تو بولیں:
”ارے ہاں…. میں نے کل فون کیا تھا…مگر تمہارا فون بند تھا…“
محبوب چونک گیا۔گذشتہ روز ا س کا فون جارجنگ ختم ہونے کی وجہ سے کچھ دیر کے لیے بند ہو گیا تھا۔شاید اسی وقت امی نے فون کیا ہو گیا۔وہ تیزی سے بولا:
”خیریت تھی نا…کیوں فون کیا تھا….میں اصل میں مصروف تھا… فون چارج نہیں ہو سکا تھا…شایداُس وقت فون کیا ہو گا آپ نے۔“
امی نے دھیرے سے کہا:
”اتنی مصروفیت اچھی نہیں ہوتی…لیکن تم کر بھی کیا سکتے ہو…سکون سے بیٹھنا تو سیکھا ہی نہیں تم نے…. بھاگتے ہی چلے جا رہے ہو…کتنی بار کہہ چکی ہوں….کہیں بیٹھ جاؤ…سکون سے سانس لینا سیکھو…. کیا کرو گے اتنی بھاگ دوڑ کر کے…؟“
امی کی ان باتوں کا اس کے پاس کبھی بھی کوئی جواب نہیں رہا تھا۔وہ ایسی باتوں پر صرف مسکرا کر رہ جاتا تھا۔اس وقت بھی مسکرا کر رہ گیا۔امی کہہ رہی تھیں۔
”تمہاری بہن اور بہنوئی آئے ہوئے ہیں…ان کے بچے بھی ہیں….ابھی تو سو رہے ہیں… اٹھیں گے تو انہیں بتاؤں گی کہ تمہارے چاچو کا فون آیا تھا.“
محبوب نے سر ہلا کر کہا:
”بچوں کو پیار دینا میرا….اور بہن کو سلام کہنا…“
”ٹھیک ہے…“
”سلمی باجی اور جوادبھائی کیسے ہیں….َ؟“
امی نے مختصرجواب دیا:
”ٹھیک ہیں…بہت خوش ہیں….“
وہ جانتی تھیں کہ محبوب سب سے ناراض ہے،اس لیے یہ نہیں کہا کہ بات کرادوں گی۔
محبوب کے پا س باتیں ختم ہو گئیں۔دنیا بھر سے چپڑ چپڑ باتیں کرنے والے کے پاس ماں سے باتیں کرنے کے لیے ہمیشہ لفظ تھوڑے ہی ہوتے ہیں۔اچانک کہا:
”کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتاؤ امی…کیا بھیجوں بولو…“.
امینے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا:
”اتنے پیسے بھیج دیتے ہو….،میرا گزارہ ہو جاتا ہے…. تمہارے بڑے بھائی بھی خیال رکھتے ہیں…. بہت پیسے ہوتے ہیں میرے پاس….ختم ہی نہیں ہوتے، بس تم نہیں ہوتے…تمہاری بہت یاد آتی ہے مجھے ….“
محبوب نے بستر سے اٹھ کر ٹھلتے ہوئے گیلری کے پا س جاتے ہوئے کہا:
”تو آجاؤ کسی دن…. میرے پاس رہ لو کچھ دن….میرا گھر بہت ویران رہتا ہے،تم آجاتی ہو تو کچھ دنوں کے لیے آباد ہو جاتا ہے…“
امی نے جواب دیا:
”میں اگلے ہفتے ؤں گی ….تمہارا دوست ہے نا…زاہد….“
محبوب نے گیلری سے باہر جھانکتے ہوئے چونک کر کہا:
”میرا مینیجر…؟“
”ہاں…. ا س کا نکاح ہے… دس دن بعد… اس نے کہا ہے کہ…. میں نہیں آئی تو وہ نکاح نہیں کرے گا…“
محبوب حیران رہ گیا۔زاہد سارا دن ا س کے ساتھ رہتا تھا،ا س کا ریسٹورینٹ چلارہا تھا۔چھوٹی سے چھوٹی چیز کے لیے بھی اس سے مشورہ کرتا تھا،جوتے بھی لینا ہوں تو اسے بتاتا تھا،کپڑے خریدنے کے لیے بھی ا سکے ساتھ جاتا تھا،اور اس کے نکاح کی خبر اتنی دور سے اس کی امی سنا رہی تھیں۔اس نے تعجب سے کہا:
”کمال ہو گیا…. اس نے مجھے بتایا تک نہیں….اتنی اہم بات اور….مجھ سے چھپائی….“
امی نے ہنستے ہوئے کہا:
”اسے معلوم ہے کہ تم کسی کی شادی میں نہیں جاتے….وہ اپنی شادی کا بتا کر تمہیں وقت سے پہلے دکھ نہیں چاہتا تھا….اسے معلوم ہے تمہیں شادی کے نام سے بھی نفرت ہو گئی ہے….اس لیے بتانا ضروری نہیں سمجھا ہو گا….خیر تم ناراض مت ہونا….شاید کسی وجہ سے نہیں بتایا ہو گا…میں آجاؤں،پھر ساتھ چلیں گے اس کی شادی میں….“
محبوب ابھی تک حیرانی سے کھڑا تھا۔سمجھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ زاہد نے اتنی اہم بات ا س سے کیوں چھپائی۔وہ تو گرل فرینڈ بھی اس کو دکھائے بغیر اپروو نہیں کرتا تھا،کسی کے ساتھ ڈیٹ پر جانے کے لیے پہلے اس سے مشورہ کرتا تھا،اب یہاں اجنبی شہر میں رشتہ فائنل کرلیا۔لڑکی کے گھر والوں سے معاملات کرلیے،نکاح طے کرلیا اور اسے ہوا بھی نہیں لگنے دی۔
اس نے جلدی سے پوچھا:
”کب آرہی ہیں آپ….؟“
”ایک ہفتے بعد…..“
محبوب نے کچھ اور نہیں کہا۔اس کا دماغ اچانک ہی زاہد کی ا س حرکت کو سمجھنے کی تگ و دو میں تھا۔امی نے ا س کے خیالات کا تسلسل توڑا:
”یہاں سے کچھ لاؤ ں تمہارے لیے….سن رہے ہو تم…چپ کیوں ہو گئے…؟“
محبوب نے انکار میں سر ہلادیا۔
”نہیں امی…. کچھ مت لانا…مجھے کسی چیزکی ضرورت نہیں ہے…“
اس کے بعد ا س نے زیادہ بات نہیں کی۔امی سمجھ گئیں کہ وہ اب مزید بات نہیں کرنا چاہتا۔انہوں نے دعائیں دیتے ہوئے خدا حافظ کہہ کر کال کمنقطع کردی اور سوچ میں پڑگئیں۔
ماں سے بات کرنے کے بعد محبوب کی وحشت کم ہو گئی تھی۔
روشنی نمودار ہونے لگی تھی۔اگرچہ زاہد کی حرکت نے اسے کچھ الجھا دیا تھا،مگر یہ کوئی اتنی بڑی بات نہیں تھی کہ وہ ذہن پر سوار کرلیتا۔اس نے سوچ لیا کہ وہ زاہد سے اس بارے میں کچھ نہیں کہے گا۔اگر وہ اس سے چھپا رہا ہے تو وہ باز پرس نہیں کرے گا۔اس نے یہ سوچ کر خو دکو تسلی دی کہ ہوگی ضرور کوئی وجہ….یا شاید وہ اسے سرپرائز دینا چاہتا ہو گا۔
صبح ہو گئی تھی،اب سونے کا تو سوال ہی نہیں تھا۔
وہ گیلر ی میں الگنی سے ٹنگے تولیے کو اٹھا کر واش روم میں فریش ہو نے چلا گیا۔
نہا کر،جسم خشک کرتے ہوئے وہ باہر آیا تواپنے آپ میں عجیب طراوٹ محسوس کر رہا تھا۔
وہ سیدھا کچن میں گیا۔اور کام میں جت گیا۔
انڈے نکال کر پھینٹے تو کسی خیال کے تحت مسکرانے لگا۔انڈے پھینٹ کر اس نے گاجریں کاٹیں،ڈبے میں سے دار چینی نکالی،اور پوری تند ہی سے گاجر اوردار چینی کا کیک بنانے میں مصروف گیا۔
گاجر دار چینی کا کیک اس کی خاص ریسیپی تھی جو وہ عام طور پر اس وقت بناتا تھا جب وہ بہت موڈ میں ہو….
کیک کا آمیزہ سانچے میں ڈال کر ا س نے اوون میں رکھ دیا اور بے چیزی سے بیٹھ کر باقی بچی ہو ئی گاجریں کھانے لگا۔
کیک تیار ہو گیا تو اوون سے نکال کر میز پر رکھا،اور الماری سے بہترین سفید شرٹ اور سیاہ جینز نکالی…،استری کی اور تیار ہونے کے بعد کیک کاغذ کے ایک بیگ میں رکھ کر سیٹی بجاتے ہوئے گھر سے نکلا۔
بازار پہنچ کر،اپنی سیاہ پراڈو پارکنگ میں کھڑی کرکے وہ پیدل چلتے ہوئے خوش گواری کے احسا س کے ساتھ ا س گلی میں داخل ہوا جہا ں دُعا کی بوتیک تھی۔
آج و ہ دُعا کو مرعوب کرنے آیا تھا،اس کا دل خوش کرکے ا س کے دل میں جگہ بنانے آیا تھا۔جانتا تھا کہ ایک بار عورت اپنے دل کا دروازہ کسی مرد کے لیے کھول دے تو وہ اس مردکی کھیتی بن جاتی ہے،پھر جس راستے سے چاہو ا س کے پا سجاؤ،وہ بانہیں پھیلائے کھڑی رہتی ہے۔
بوتیک میں داخل ہوا تودعا ایک طرف کھڑی تھی۔
بوتیک خالی تھی،دعا کے سوا بوتیک میں کوئی نہیں تھا۔وہ دروازے پہ کھڑا اس کو دیکھتا رہا،مسکراتے ہوئے ذہن میں جملے ترتیب دینے لگا کہ کیا کہے گا اور کیسے کہے گا۔
دعا اتنی دیر میں میز کے دوسری طرف جا کر بیٹھ گئی۔ایک کاسٹیوم اٹھا کر اس میں ترپائی کرنے لگی۔
وہ بے حد سنجیدہ دکھائی دے رہی تھی۔
نہیں سنجیدہ نہیں غصے میں محسوس ہو رہی تھی۔اس کی تیوریاں چڑھی ہوئی تھیں۔
وہ منھ بنائے بیٹھی تھی،غصے میں ٹانکے لگا رہی تھی۔
محبوب کیک والا لفافہ ہاتھ میں لیے ہوئے اندر داخل ہو اتو دُعا نے قدموں کی آواز پر نظریں اٹھائیں اور ایک نظر ڈال کر اپنے کام میں لگ گئی۔
محبوب کو سمجھنے میں دیر نہیں لگی کہ ا س کا موڈ کسی وجہ بہت زیادہ خراب ہے۔اس کی آنکھوں میں چھپا غصہ اس نے ایک لمحے میں دیکھ لیا تھا،اور چہرے پر پھیلی سنجیدگی اب بھی دکھائی دے رہی تھی۔
اس نے ایک بار دیکھا تھا،پھر نظریں نہیں اٹھائی تھیں۔
محبوب نے مسکراتے ہوئے اس کے سامنے پہنچ کر کہا:
”good morning“
اب دُعا نے آہستگی سے اپنی پلکیں اٹھائیں،خود نہہں اٹھی نہ اس کی سنجیدگی میں کوئی فرق آیا۔
ا س نے پروفیشنل انداز میں مسکرانے کی کوشش کرتے ہوئے جواب دیا:
”good morning“
محبوب نے دیکھا اس کے سامنے کافی کا ایک کپ رکھا ہوا،وہ کام میں مصروف تھی،خود کھول رہی تھی اور کافی رکھے رکھے ٹھنڈی ہورہی تھی۔
محبوب نے ناک سکیڑ کر کافی کی مہک کو محسوس کرتے ہوئے شوخی سے کہا:
”واؤ… کافی کی مہک…. مجھے بھی کافی ملے گی…“
دُعا بغیر کچھ کہے،ایک سانس لیتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔ہاتھ میں موجودکپڑا ایک طرف رکھ دیا۔
محبوب نے اسی وقت کیک والا شاپر اس کی طرف بڑھادیا:
دُعا نے اس کی طرف دیکھا اور ذرا بد مزاجی سے بولی:
”کافی تو مل جائے گی…لیکن آئی ایم سوری…. کیا آپ اسی طرح شو آف کرتے ہیں…“
محبوب نے دھیرے سے سر ہلا کر اپنے ہاتھ میں موجود شاپر کی طرف اشارہ کیا:
”تمہارے لیے لایاہوں…“
دُعا نے بے تاثر لہجے میں پوچھا:
”یہ کیا ہے….؟
محبوب نے بیگ ا س کے ہاتھ میں تھما کر مسکراتے ہوئے خوش گواری سے کہا:
”کیک…گاجر اور دار چینی کا کیک…“
دُعا نے ایک لمحہ سوچا اور شاپر ہاتھ میں تھام لیا۔
اس میں سے کیک نکال کر میز پر رکھتے ہوئے کیک کی طرف دیکھے بغیر اس کی طرف گھورتے ہوئے گہری سنجیدگی سے بولی:
”میرا خیال ہے…آج توآپ اتفاق سے نہیں آئے….اورنہ ہی اتفاق سے آپ نے یہاں مجھے دیکھا ہے….“
محبوب نے انکار میں سر ہلایا اور میز کے سامنے بیٹھتے ہوئے شوخی سے بولا:
”نہیں….آج میں خاص طور پر آیا ہوں… تم سے ملنے…اورصرف تمہارے لیے….“
محبوب کا خیال تھا کہ وہ اس بات پر مسکرا اٹھے گی،مگر وہ نہیں مسکرائی،غصے سے گھورنے لگی،پھر دوسری طرف جا کر مگ میں کافی پاٹ میں سے کافی نکالتے ہوئے منھ بنا کرکہنے لگی:
”اپنے بیٹے کا ناپ لائے ہو….؟“
محبوب نے انکار میں سر ہلادیا۔
دُعا پلٹ کر آئی اور ا س کے سامنے میز پر بیٹھ گئی۔محبوب کو گھورنے لگی۔محبوب نے جلدی سے کہا:
”نہیں…اصل میں ابھی میری ملاقات نہیں ہوئی اس سے…“
دعا نے طنزیہ انداز میں کہا:
”ظاہر ہے…جو بیٹا ہے ہی نہیں،اس کا ناپ کیسے لو گے…؟“
محبوب مسکراکر رہ گیا،فوری طور پر کوئی جواب نہیں دیا۔ کسمساتے ہوئے اس کی طرف دیکھنے لگا۔
دعا کافی کپ اس کے سامنے رکھتے ہوئے زہریلے لہجے میں بولی:
”تم انوکھے نہیں ہو جس نے بیٹے کا حربہ آزمایا ہے….یہاں ارد گرد میں جتنے بھی اوباش قسم کے مرد ہیں،وہ یہی حربہ آزماتے ہیں…ابھی کچھ دیر پہلے ہی ایک خبیث اپنی بیٹی کا ہاتھ تھامے آیا تھا،بچی کے کاسٹیوم کے بہانے مجھ سے بات کرنا چاہتا تھا….بے غیرت کہیں کا….“
محبوب عجیب سا ہو کرگیا۔وہ لڑنے کے موڈ میں نہیں آیا تھا۔اس لیے ہر بات کا جواب نہیں دے رہا تھا۔مسکرا مسکرا کر اس کو دیکھ رہا تھا۔
وہ ناراضی میں پہلے سے بھی زیادہ حسین محسو س ہو رہی تھی۔
وہ کافی مگمیں چمچہ ہلاتے ہوئے جھاگ بنا رہی تھی اور غصے میں کھولتے ہوئے بدمزاجی سے کہہ رہیتھی:
”سب کو لگتا ہے کہ میں اکیلی ہوں…آسانی سے پھنس جاؤں گی… اپنی بہن یا بھائی کے بیٹے کی انگلی پکڑ کر اندر آتے ہیں…. کپڑے لینے کے بہانے دوستی کرنا چاہتے ہیں….مجھے بے وقوف سمجھتے ہیں….پھرایک دو بار یہاں آنے کے بعد،دو تین ملاقاتوں کے بعد میں انہیں اچھی لگنے لگتی ہوں….دیکھتے ہی دیکھتے انہیں مجھ سے پیار ہو جاتا ہے….. چینی کتنی….“
محبوب اس کی طرف دیکھ رہاتھا،اس کی باتیں سن رہا تھا۔عجیب سا ہو رہا تھا،چینی کی بات پر چونک کر جلدی سے بولا:
”دو چمچے…“
دُعا نے اس انداز میں دو چمچے چینی کپ میں ڈالی،جیسے زہر ملا رہی ہو، اور چمچے سے گھولنے لگی۔جتنی تیزی سے چمچہ ہلا رہی تھی،ا س سے بھی زیادہ تیزی سے اپنے غصے پر قابو پانے کی کو شش کر رہی تھی،چینی ملاتے ہوئے زہریلے لہجے میں کہہ رہی تھی:
”ہر ہفتے میں ان خبیثوں کو دیکھتی رہتی ہوں….وہ اپنے بھانجے اور بھانجیوں کو اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے اندرآجاتے ہیں…ان کی مردہ مچھلیوں جیسی آنکھیں مجھے اوپر سے نیچے تک دیکھتی رہتی ہیں….مجھ کو پھنسانے کے لیے بچوں کو استعمال کرتے ہیں…اور سمجھتے ہیں کہ دو چار بار آنے کے بعد…. مجھے اپنے پیار کا یقین دلائیں گے…اورحرام زادے…سمجھتے ہیں کہ ان ایک دو ملاقاتوں کے بعد وہ مجھے اپنے بستر پہ لے جائیں گے…اور مزے اڑائیں گے…“
محبوب اس کی آخری بات پہ ہنس پڑا،ہنستے ہوئے بولا َ
”سچ کہوں دعا….میں بھی یہی کرنا چاہتا ہوں ….“
اس کا خیال تھا کہ دُعا اس دو ٹوک بات پر جھینپ جائے گی۔چپہو کر ادھر ادھر دیکھنے لگے گی،گھبر ا کر کوئی بات نہیں کر پائے گی۔اور پھر ہنس پڑ ے گی،اس کی سچائی پر اس کو داد دے گی،یا تو ہاں کہہ دے گی یا صاف انکار کر دے گی۔اس کے سوا ایک لڑکی اور کر بھی کیا سکتی ہے۔
مگر ایسا نہ ہوا۔
دُعا بولتے بولتے یک لخت ساکت ہوگئی۔آنکھیں انگارہ ہو گئیں۔
اس کا رُخ اس وقت براہ راست محبوب چہرے کی طرف نہیں تھا۔چہرہ دوسری طرف تھا،اس کا چہرہ وہیں رک گیا جیسے ٹی وی اسکرین ساکت ہ وجائے اور جو چہرہ وہاں دکھائی دے رہا ہووہی تھم جائے۔
اس آنکھوں میں یک دم پوری شدت کے ساتھ نفرت عود کرآگئیمگرمحبوب مسکراتے ہوئے اس کی طرف دیکھ رہاتھا، وہ اس کی طرف نہیں دیکھ رہی اس کی نظریں دوسری طرف تھیں،اس نے چہرہ گھما کر یا نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھنے کی کوشش بھی نہیں کی۔یوں ہی ساکت بیٹھی رہی،خود پر قابو پاتی رہی۔اپنے غصے کو کنٹرول کرتی رہی۔کافی کا مگ اس کے ہاتھ میں تھا،پھر اس نے محبوب کی طرف دیکھے بغیر،پلک جھپکتے میں کافی والے ہاتھ کو جھٹکا دیا،اور گرم گرم کافی محبوب کے چہرے پہ پھینک دی۔
محبوب محبوب گڑ بڑا کر رہ گیا،سٹپٹا کر کھڑا ہو گیا۔
اس کے حلق سے ایک ہلکی سی چیخ نکل گئی۔
اس کی سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ کیا ہو گیا تھا۔
گرم گرم کافی نے اس کے چہرہ سرخ اور سفید شرٹ کتھئی کردی تھی۔
دُعا نے یوں ہی ساکت بیٹھے بیٹھے اس کی طرف دیکھے بغیر غراتے ہوئیسرد لہجے میں کہا:
”دفع ہو جاؤ یہاں سے باسٹرڈ….گٹ آؤٹ…“
محبوب سٹ پٹا کر اس کی طرف دیکھ رہا تھا، سب کچھ اتنی تیزی سے ہوا کہ ا س کی ساری شوخی ہوا ہو گئی۔کچھ سمجھ ہی نہیں آیا کہ کیا کہے اور کیسا رد عمل ظاہر کرے۔
دُعا نے ہسٹریائی انداز میں چیختے ہوئے کہا:
”آئی سے گیٹ آؤٹ…. نکل جاؤ میری شاپ سے…دور ہو جاؤ میری نظروں سے….“
دعا نے ابھی تک ا س کی طرف دیکھنے کی بھی زحمت گواراہ نہیں کی تھی۔یوں ہی ساکت بیٹھی اسی طرف دیکھ رہی تھی جدھر نظریں تھیں،بری طرح کھو ل رہی تھی۔
محبوب کا خون کھول گیا۔ایسی ہتک تو زندگی میں کبھی ہوئی ہی نہیں تھی،ایسی بے عزتی کا اس نے کبھی سامنا ہی نہیں کیا تھا۔
وہ بری طرح دعا کو گھورتا رہا،چہرے پہ جلن ہو رہی تھی اسے برداشت کرتا رہا۔
دعا بھی یوں ہی بیٹھی رہی،اس کی طرف دیکھنے کی ضرورت بھی محسو نہیں کی۔اس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ وہ قینچی اٹھا کر ا س کے سینے میں گھونپ دیتی۔
محبوب توہین کے احساس سے کانپتا رہا،پھر تیزی سے پلٹا اور بوتیک سے باہر نکل گیا۔
دُعا نے اس کے جاتے دونوں ہاتھوں سے چہرہ چھپالیا اور سسکیوں سے رونے لگی۔اس کی سسکیاں اس کی بوتیک میں گونج رہی تھیں۔
برسوں بعد کوئی آیا تھا،ایک لمحے کو ا س کی نظروں کو بھایا تھا۔
کبھی کبھی ایسا بھی ہو تا ہے۔
ایک لمحے میں نظروں میں سمانے والا،ایک ہی مل پیں نظروں سے گر جاتا ہے۔
اوپر سے گرنے والے کو معلوم ہوتا ہے کہ وہ کتنی بلندی سے گرا ہے،اور کتنا نیچے جا کر گرے گا،مگر نظروں سے گرنے والا کبھی نہیں جان پاتا کہ وہ کتنی بلندی سے گرا ہے،اور کتنا نیچے جا گر ے گا۔

(جاری ہے)

دام ِعشق
……….
نو ویں…اور…. دس ویں قسط ….
تحریر: ابن آس محمد
……………..
بے سبب عشق کی کہانی۔
ایک ہوس پرست وحشی کا عشق طولانی
اس کی وحشت اسے جنونی عشق کی طرف لے جا رہی تھی۔
دام عشق میں لا رہی تھی۔
…………………………….
ٍٍٍذلت کے احساس کے ساتھ وہ دُعا کی بوتیک سے باہر نکلا تو اس کا رواں رواں غصے سے کانپ رہا تھا۔
باہر آکر تیز تیز قدموں چلتے ہوئے بازار سے گزر کر پارکنگ کی طرف جانے لگا۔ایک ہاتھ سے چہرے پہ پھیلی کافی نچوڑ کر جھٹک دی۔جیب سے ایک ٹشو پیپر نکال کر چہرہ رگڑتے ہوئے اندھا دھند آگے بڑھنے لگا۔
اس کا خون کھول رہا تھا،چہرہ سرخ ہو رہا تھا،آنکھوں سے چنگاریاں نکل رہی تھیں مگر عجیب بات تھی۔
جس نے ذلیل کیاتھا،اس پر غصہ نہیں آرہا تھا۔غصہ صرف توہین پر آرہا تھا،توہین کرنے والی پر نہیں آرہا تھا….اس کا خیال آرہا تھا تو ا س پر پیار آرہاتھا۔
آدمی بھی عجیب مخلوق ہے۔جو اچھا لگ جائے ا س کی برای بات بھی اچھی لگتی ہے۔ اور جو برا لگ جائے ا س کی اچھائی بھی بری لگتی ہے۔وہ دُعا کی اس حرکت پر تو غصے میں تھے،مگر ا س کا دل دُعا کے قبضے میں تھا۔
وہ الجھ کر رہ گیاتھا۔جوں ہی خیال آتا کہ اس پر کافی تھوکی گئی ہے وہ تلملا اٹھتا،اور جب سوچتا کہ ایسا دُعا نے کیا ہے تو ٹھنڈا ہوجاتا۔
پل میں ماشہ،پل میں تولہ ہو جاتا….
دُعا کے علاوہ کسی اور نے ا س پر یوں کافی پھینکی ہوتی تو شاید جواب میں گھونسا مار کر اس نے اس کا،اس سے بھی زیادہ خون بہا دیا ہوتا،مگر یہ معاملہ کچھ اور تھا۔
وہ ایک لمحے تک اس کو دیکھتا رہا تھا اور پھر بغیر کچھ کہے باہرنکل آیا تھا۔
احساس تو ہو رہا تھا کہ بے عزتی ہوئی ہے،دھتکار دیا گیا ہے،مگر دھتکارنے والی پر جانے کیوں غصہ نہیں آرہا تھا۔پیار آرہا تھا….،اوربار بار آرہاتھا۔
اس کی سفید شرٹ کاندھے سے نیچے تک کتھئی ہو گئی تھی۔کافی کے دھبے ایسے تھے جیسے ا س کی ذات کے داغ نمایاں ہو گئے ہوں۔
وہ چلتے چلتے چور نظروں سے آس پاس سے گزرتے لوگوں کو دیکھ رہا تھا کہ کوئی اس کی طرف دیکھ تو نہیں رہا،اس کی شرٹ پر موجود دھبوں پر کسی کی نگاہ تو نہیں پڑ رہی۔آنے جانے والوں میں سے کوئی اس کی شرٹ پر پھیلی بے عزتی کی طرف متوجہ تو نہیں….
شاید کسی کا اس طرف دھیان ہی نہیں تھا،مگرجس کے دامن پہ داغ ہوں وہ سکون سے نہیں رہ پاتا،یہی احساس ستاتا ہے کہ سب اس کو دیکھ رہے ہیں،اس کی غلطی کو محسوس کر رہے ہیں۔اس کے داغوں کو گھور رہے ہیں۔
اسے بھی ایساہی لگ رہا تھا کہ آنے جانے والوں کی نظریں اس کی شرٹ پر جمی ہوئی ہیں،سب سمجھ رہے ہیں کہ سفید شرٹ پر یہ کافی کا داغ محض کافی گرنے سے نہیں لگا ہے،کسی نے قصدا اس پر کچھ پھنکا ہے۔وہ کسی سے ذلیل ہو کر نکلا ہے۔
یہ احساس ہر قدم پر بڑھتا ہی چلاگیا،اسے شرمندگی ہونے لگی،قدم بھاری ہوتے محسوس ہوئے،تواس کا سارا اعتماد ہوا ہو گیا اوروہ جھٹ سب سے قریب کی ایک شاپ میں گھس گیا۔
اندر جاتے ہی ادھر ادھر دیکھتے ہوئے تیزی سے بولا:
”کوئی ٹی شرٹ ملے گی میرے ناپ کی…؟“
اُس نے دیکھ لیا تھا کہ اضطراری کیفیت میں وہ جس دکان میں داخل ہو ا ہے وہاں چاروں طرف ٹی شرٹس لٹکی ہوئی ہیں۔
دکان دار جانے کس دھن میں بیٹھا تھا،اس نے چونک کر اس کی طرف دیکھا،کافی کے داغ کو دیکھ کراس کے ہونٹ پھیل گئے۔ مسکراتے ہوئے بولا:
”ارے…یہ شرٹ تو بہت گندی ہوگئی…کیچڑ میں گر گئے تھے کیا…؟“
محبوب کو ا س کا بولنا زہر لگا۔اس نے تلملا کر کہا:
”جو کہا ہے ا س کا جواب دو….کوئی ٹی شرٹ دو مجھے میرے سائز کی…؟“
دکان دار نے لطف لیتے ہوئے کہا:
”بھائی ناراض کیوں ہو رہے ہو…پوچھا ہی تو ہے کہ شرٹ پہ کیا لگا ہے…آپ تو غصہ ہو رہے ہیں…“
محبوب برداشت کرتے ہوئے غرایا:
”فضول باتیں مت کرو…. میرے سائز کی ٹی شرٹ نکالو…“
دکان دار نے کاؤنٹر سے نکلتے ہوئے کہا:
”لگتا ہے بیگم نے چائے پھینک دی ہے…یہ بیویاں بھی جب غصے میں آتی ہیں تو قابو میں نہیں رہتیں۔“
محبوب کا خون کھول رہا تھا۔تلملا کر بولا:
”تم چپ نہیں رہو گے…خاموشی سے اپنا کام نہیں کر سکتے…؟“
دکان دار نے ہنس کر کہا:
”بھائی ہم سے کیوں لڑ رہے ہو… گھر سے لڑ کے آئے ہو تو اس میں ہمارا کیا قصور…بھابھی کا غصہ ہم پہ کیوں اتار رہے ہو….“
کہتے ہوئے اس نے ایک لال رنگ کی چھچھوری سی ٹی شرٹ اس کے سامنے رکھ دی۔
محبوب نے شرٹ دیکھی تو جھنجھلا گیا۔ ٹنگی ہوئی شرٹس کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا:
”کیسی گھٹیا شرٹس ہیں یہ….چھچھوری….واہیات….کوئی ڈھنگ کی شرٹ نہیں ہے تمہارے پاس….“
دکان دارنے اس کی سفید اور کتھئی شرٹ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
”کیا اس سے بھی واہیات ہیں…؟“
محبوب خون کے گھونٹ پی کر رہ گیا۔ غصہ برداشت کرتے ہوئے اس کو گھور تا رہا۔اور پھر ہینگرز میں ٹنگی شرٹوں میں گھس کر اپنے لیے ایک شرٹ نکال کر وہیں اپنی سفید اور کتھئی شرٹ اتار کر جلدی سے سیاہ ٹی شرٹ چڑھا لی،اور پیسے دے کر تیز تیز قدموں چلتے ہوئے دکان سے نکل گیا۔
دکان دار اسے جاتے ہوئے دیکھتا رہا۔
جانے والے کی شرٹ پر بڑے حروف میں لکھا ہوا تھا:
”i m stupid“
مگر محبوب اس بات سے بے خبر تھا۔
اُدھر محبوب کے جانے کے بعد دُعا غصے سے کانپ رہی تھی۔
اچانک ہی اس کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے تھے۔اس نے نفرت سے میز پر رکھے ہوئے اُس کیک کی طرف دیکھا جو محبوب اس کے لیے لایا تھا۔
کیک اٹھایا اورپوری شدت سے دیوار پر مارنے والی تھی کہ کیک کی مہک اس کے نتھنوں میں گئی اور اس کا ہاتھ رک گیا۔
کیک میں سے بھینی بھینی مہک آرہی تھی۔اس نے ناشتہ بھی نہیں کیا تھا،اور محبوب اس کا خون کھولاکر چلاگیاتھا۔
اس نے ایک لمحہ سوچا اور پھر شدید غصے کی کیفیت میں بھوکوں کی طرح دانت کچکچا کرکیک کھانے لگی۔جیسے کیک نہ کھا رہی ہو،محبوب کا کلیجہ کھارہی ہو۔
محبوب کا سارا غصہ،محبوب کے کیک پر اُتار رہی ہو۔
………..
محبوب نے گاڑی اپنے ریسٹورنٹ کے باہر مخصوص جگہ پارک کی،اور ریسٹورنٹ میں گھستے ہی اس نے ادھر دیکھا نہ ادھر،تیزی سے سب کی نظروں سے بچتے ہوئے کچن کی طرف بڑھا۔
اس نے آج ایک گھٹیا سیاہ شرٹ پہنی ہوئی تھی اور وہ نہیں چاہتا تھا کہ کسی کی نظر اس پہ پڑے۔
بازار میں پارکنگ تک پہنچتے پہنچتے اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ اس شرٹ میں ضرور کوئی گڑ بڑ ہے،کافی زدہ ق شرٹ دیکھ کر کوئی اس طرح نہیں ہنسا تھا جس طرح لوگ اس کی سیاہ ٹی شرٹ دیکھ کر ہنسے تھے۔
اسے اپنے پیچھے ہنسنے کی آوازیں آئی تھیں۔اس نے پلٹ کر دیکھا تو ہنسنے والے دوسری طرف دیکھنے لگے تھے،وہ سمجھ نہیں پایا تھا کہ لوگ کیوں ہنس رہے ہیں۔کیوں مڑ مڑ کر دیکھ رہے ہیں۔
کچن کے قریب پہنچ کر اس نے کچن کے دروازے میں لگے شیشے میں سے جھانک کر ددیکھا،اندر کم لوگ تھے۔دو ہیلپر ہیں،اور تینوں لڑکیاں موجود تھیں۔
ہیلپر اپنے کام میں مصروف تھے، ان کے ساتھ رابعہ بھی ایک طرف کونے میں کام میں مصروف تھی،جب کہ ببلی اور جولی سینٹر میز کے ساتھ کولھے ٹکائے چائے پی رہی تھیں اور حسب سابق باتیں بگھار رہی تھیں۔
محبوب دھیرے سے دروازہ کھول کر کچن میں داخل ہوا تو ببلی اور جولی چونک کر پلٹیں۔اس کو دیکھتے ہی مسکراتے ہوئے ایک ساتھ بولیں:
”گڈ مارننگ باس….“
محبوب نے ایک نظر ان پر ڈال کر نظریں چراتے ہوئے کہا:
”گڈ مارننگ….“
دونوں حیرانی سے اسے سیاہ ٹی شرٹ میں دیکھ رہی تھیں،انہوں نے محبوب کو کبھی ٹی شرٹ میں نہیں دیکھاتھا۔وہ بہت عمد ہ اور برینڈڈ شرٹ پہنتا تھا،لباس کے معاملے میں بہت حساس تھا۔
آج ٹھیلے پہ ملنے والی سستی سی ٹی شرٹ پہنے دیکھ کر ان کی آنکھیں گھوم گئیں۔
محبوب نے ان کی نظروں کا گھماؤ محسوس کر لیا اور وہیں کھڑے کھڑے غصے میں زور سے کہا:
”اگر کسی نے میری شرٹ کی طرف دیکھا نا….تو میں چھوٹے چاقو سے اس کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے کردوں گا…
ببلی اور جولی کی ہنسی نکل گئی،اور خلاف توقع سب نے پلٹ پلٹ کر محبوب کی شرٹ کی طرف دیکھا تو محبوب کو تتیا کاٹ گیا۔مگر اس نے نہایت سنجیدہ لہجے میں رابعہ کو آواز دی:
”رابعہ…ادھر آو…“
رابعہ نے پلٹ کر دیکھا اور بجلی کی سی تیزی سے ا س کی طرف لپکی۔
”جی باس…؟“
محبوب نے ہاتھ میں پکڑی ہوئی شرٹ ا س کی طرف بڑھاتے ہوئے انتہائی خشک لہجے میں کہا:
”ا س شرٹ کو اچھی طرح دھو دو….اس پہ کافی گرگئی ہے…“
رابعہ نے اپنی ہنسی چھپاتے ہوئے محبوب کے ہاتھ سے اس کی سفید شرٹ والا بیگ لے لیا اور تیزی سے وہاں سے چلی گئی۔کونے یں موجود سنک کی طرف بڑھ گئی۔
اس نے محبوب کی پشت پر موجود انگریزی کا جملہ پڑھ لیا تھا،اور بے ساختہ ا س کی ہنسی نکل گئی تھی۔
ببلی اور جولی بھی معنی خیز نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھیں،سرگوشیوں میں باتیں کر رہی تھیں۔
محبوب نے انہیں قطعا نظر انداز کرتے ہوئے ہیلپرز سے پوچھا:
”لنچ کے لیے کوئی اہم آرڈر ہے ہمارے پا س…جواب دو….؟“
انور نامی ہیلپر جو سبزیاں کاٹ رہاتھا،انکار میں سر ہلاتے ہوئے جوا ب میں بولا:
”کوئی خاص آرڈر تو نہیں ہے…وہ آپ کا ایک جاننے والا تھانا…سنگر…بس ا س کاآرڈر ہے….اس کا نام بھول گیا میں…“
محبوب نے ایک لمحہ سوچا اور تیزی سے کچن کی دیوار کے ساتھ لٹکی اپنی سفید یونی فارم پہننے گا۔
اس نے سیاہ ٹی شرٹ اتار کر ایک طرف پھینک دی۔ شیف کی وردی پہن لی. نیچے پتلون وہی پہنے رہا۔
اتنی دیر میں رابعہ بیگ میں سے محبوب کی سفید شرٹ نکال کر اس کا جائزہ لیتے ہوئے سنک کے قریب پہنچی تو ببلی اور جولی کی نظریں شرٹ پر ہی تھیں۔
جولی نے مسکرا کرببلی کی طرف دیکھا اور سرگوشی میں بولی:
”تم نے دیکھی شرٹ…اس پہ کافی گری نہیں ہے….“
”مطلب…؟“
جولی نے آنکھ دبا کر کہا:
”کسی نے پھینکی ہے…“
اس کے چہرے پہ شوخ مسکراہٹ تھی،جیسے وہ سمجھ گئیتھی کہ کیاہوا ہو گا۔
ببلی بھی سمجھ گئی مگر تعجب سے بولی:
”اتنی صبح صبح کے وقت ….؟“
جولی نے اثبات میں سر ہلا کر شوخی سے کہا:
”یہ نہ صبح دیکھتا ہے نہ شام….جب موقع ملتا ہے کام اُتارنے کی کوشش کرتا ہے… لگتا ہے آج ہاتھ اوچھاپڑا ہے….“
ساتھ ہی دونوں دبی دبی ہنسی ہنسنے لگیں۔
محبوب نے پلٹ کران دونوں کی طرف دیکھا اور سمجھ گیا کہ وہ کیا باتیں کر رہی ہوں گی۔اس نے وہیں سے گھور کر غراتے ہوئے آواز لگائی:
”بہت کھی کھی کر رہی ہو….بہت مزے آرہے ہیں… تم دونوں کو مزے کراؤں کیا ابھی آکر….“
دونوں گھبرا کربھاگتے ہوئے کچن کے دوسرے کونے کی طرف چلی گئیں۔
جولی نے مسکراتے ہوئے محبوب کی طرف دیکھ کردھیرے سے کہا:
”اب یہ جھینپ مٹانے کے لیے تالی بجائے گا…اور کہے گا…کم آن ایوری ون…ہم لوگ یہاں کھانے بنانے آئے ہیں….چلو کھانا بناؤ….“
اس کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی محبوب تیار ہو کر گہری سنجیدگی سیپلٹا اور اور تالی بجاتے ہوئے بولا:
”کم آن ایوری ون….ہم یہاں کھانے بنانے آئے ہیں یا فضول میں وقت ضایع کرنے…چلو کام پہ لگ جاؤ…جلدی…ہری اپ….
ببلی نے ہنس کر سرگوشی میں کہا:
”تم تو ا س کی نس نس سے واقف ہو….“
اسی وقت کچن کا دروازہ کھول کر مینیجر زاہد اندر آگیا۔اس کے ہاتھ میں ایک اخبار تھااوروہ بہت پرجوش دکھائی دے رہا تھا۔
محبوب نے نظر اٹھا کر ا س کی طرف دیکھا تو ا س کامنھ بن گیا۔
زاہد پر نگاہ پڑتے ہی اسے یاد آگیا تھا کہ اس نے اپنی شادی کی ہوابھی نہیں لگنے دی ہے اسے….
زاہد پرجوش انداز میں اس کے قریب آیا،ہاتھ میں موجود اخبار لا کر اس کے سامنے سینٹرل ٹیبل پر ڈال دیا۔
محبوب نے اخبار کی طرف دیکھا تو اس کا غصہ کم ہو گیا۔
اخبار کے اس صفحے پرمقام محبوب ریسٹورنٹ کا آدھے صفحے کا آرٹیکل اور محبوب کا انٹرویو چھپا ہوا تھا۔ایک طرف مقام محبوب اور ایک طرف محبوب کی تصویر کا کٹ آؤٹ بھی تھا۔
محبوب نے خوش ہو تے ہوئے کہا:
”واؤ…شان دار…دل خوش ہو گیا….پڑھ کے سناؤ…اونچی آواز میں….سب کو سناؤ…“.
زاہد نے اخبار اٹھایا اورپڑھنے لگا۔
باقی سب لوگ کام میں مصروف ہو گئے تھے مگر کان اسی طرف لگے ہوئے تھے۔زاہد اونچی آواز میں کہہ رہاتھا:
”لذت کی دنیا میں ایک مزے دار جگہ…. مقام محبوب…“
اس دوران محبوب کھانا پکانے کی تیاری کر رہاتھا۔دستانے پہن رہاتھا اور سر پر رومال وغیرہ باندھ رہا تھا۔زاہد کی آواز کچن میں گونج رہی تھی۔
”ایک مشہور امریکی فوڈ رائٹر نے کہتے ہیں:
”میں ہر وہ چیزکھاناپسند کرتا ہوں….جومحنت، محبت اور شوق کے ساتھ بنائی گئی ہو….اور مقام محمود کے کھانے،محنت،محبت اور شوق سے بنائے جاتے ہیں….“
سب نے ایک دم ہاتھ روک دیے۔بے اختیار تالیاں بجنے لگیں۔سب کے چہروں پہ خوشی دوڑ گئی تھی۔
محبوب سب کے سامنے مسکراتے ہوئے دونوں ہاتھ پھیلا کر آداب بجالانے لگا۔اس کے بعد وہ سب جو کام میں مصروف ہوئے تو شام تک کسی بات کا ہوش نہیں رہا۔
……….
رات خاصی ہوچکی تھی۔
دُعا اپنے اپارٹمنٹ کی کھڑکی کے پاس بیٹھیتھی۔دن جیسے تیسے ڈھل گیا تھا،رات نہیں ڈھل رہی تھی۔رات اتنی آسانی سے ڈھلتی بھی نہیں ہے۔
محی الدین نواب کا ناول آدھا چہرہ اس کے ہاتھ میں تھا،پڑھنے کی کوشش کر رہی تھی مگر پڑھ نہیں پا رہی تھی۔پورے چہرے والی کا آدھیا دھیان کتاب پر اورآدھا دھیان ما ہتاب پر تھا۔
بار بار نظریں کتاب سے ہٹا کر آسمان پرروشن چاند کو دیکھ رہی تھی، محسوس کر رہی تھی کہ چاند بھی بدلی سے جھانک جھانک کر اس کو دیکھ رہا ہے،ا سکی بے بسی،اکیلے پن اور تنہائی وک محسوس کر رہاہے۔
چاند پر سے نظریں ہٹا کر کتاب پر جماتی تو لفظ گڈ مڈ ہوجاتے،اور دماغ کہیں اور پہنچ جاتا۔
پھر جبراًدو چار صفحے پڑھنے کے بعد جب احساس ہوتا کہ اس نے جانے کیا پڑھا تھا، تو پھر سے ورق پلٹ کر پڑھنے لگی،مگر اس کی توجہ کہانی پر مرکوز ہی نہیں ہو رہی تھی۔محی الدین نواب کی تحریر اسے اپنی جانب متوج ہ کرنے میں ناکام ہو رہی تھی اور یہی تشویش کی بات تھی۔نواب صاحب کی تحریر ایسی نہیں ہوتی کہ کوئی پڑھنا شروع کرے تو دماغ کہیں اور بھٹک سکے…
آج سارا دن ا س کاموڈ خراب رہا تھا۔
شام تک سیل بھی زیادہ نہیں ہو ئی تھی۔معمول سے بہت کم لوگ اس کی بوتیک میں آئے تھے۔
دن بھر کی خاموشی اور تنہائی میں وہ بوتیک میں بیٹھی مسلسل صبح والے واقعے کو کھلی آنکھوں سے بار بار دیکھتی رہی تھی۔
گھر آکر بھی بے سکون ہورہی تھی۔
عجیب بے چینی تھی جس نے اس کے وجود میں جگہ بنا لی تھی۔وہ سکون سے بیٹھ ہی نہیں پا رہی تھی۔بار بار محبوب کا کافی میں لتھڑا ہوا چہرہ اس کی آنکھوں کے سامنے آرہا تھا۔
محبوب نے شوخی میں ایک غلط بات کہی تھی اور ا س نے دماغ درست کر دیاتھا۔اب احساس ہو رہا تھا کہ اس نے کچھ زیادہ ہی بد تہذیبی کا مظاہرہ کیا تھا۔بد تہذیبی کا جواب انسلٹ کرنا نہیں ہوتا۔بکسی کی بد تہذیبی پر کاموشی سب سے بہترین جواب ہوتا ہے۔
وہ اسے خاموشی سے اٹھنے ارو باہر جانے کا بھی تو کہہ سکتی تھی۔
اگروہ غلطی کو نظر انداز کردیتی،اور بندے کو ہی نظروں سے گرا دیتی تو معاملہ کچھ اور ہوتا۔اس نے غلطی کے جواب میں غلطی کر دی تھی،جس کو نظر انداز کرنا تھا،اب وہ بار بار نظروں کے سامنے آرہا تھا۔نظر انداز ہی نہیں ہو پارہا تھا۔
اس نے بے چین ہو کر کتاب بند کردی اور کھڑی ہو کر گہرے گہرے سانس لینے لگی۔اس کی سمجھ میں نہیں آرہاتھا کہ وہ کیا کرے….اور کیا نہ کرے….
عین اس وقت جب دُعا اپنا سکون کھو رہی تھی،محبوب کا ریسٹورنٹ بند ہورہا تھا صفائیاں ہو چکی تھی،ریسٹورنٹ میں سناٹاہو گیا تھا۔اس کے فون کی بیل بجی تو وہ چونک گیا۔وہ ذکیہ کا فون تھا۔ذکیہ ایک اسکول میں ہیڈ مسٹریس تھی،ایک بار محبوب کے ریسٹورنٹ میں کھانا کھانے آئی تو شیف سے ملے بغیر واپس نہیں گئی۔دیوانی ہو گئی تھی ا سکی۔
محبوب ایسی خواتین کا بہت احترام کرتا تھا جو ا س کی دیوانی ہو جائیں،بہت عزت اور احترام سے انہیں اپنے اپارٹمنٹ لے جاتا تھا۔چالیس کی تھی،اور ا سکے مطلب کی تھی۔محبوب کا کہنا تھا کہ عورت چالیس کی ہوجائے تو بڑے سے بڑے مرد کا چالیسواں پڑھا دیتی ہے۔مگر اسے محبوب کا پتا نہیں تھا۔محبوب نے اسے ادھیڑ کر رکھ دیا۔وہ کچھ ہی عرصہ بعد گھبرا کر بھاگ گئی،اور کئی ماہ بعد دوبارہ آئی تو محبوب کی رغبت ہی ختم ہو گئی تھی اس میں…. اس نے صاف منع کردیا کہ بی بی میں اپنا شکار کرتاہوں….خود شکارنہیں ہوں….اپنی آسودگی کے لیے عورت کے پا س جاتا ہوں،کسی کی آسودگی کا سامان ہیا کرنے کے لیے پیدا نہیں ہوا…تم اڑتالیس کی ہو رہی ہو….اب تم اللہ کرو….“
ذکیہ کو دھچکا لگا۔اسے محبوب کا نشہ ہو گیا تھا۔تب اس نے محبوب سے ایک ڈیل کی۔اس نے کاہا کہ میں تمہارے لیے کچھ انتظام کرتی ہوں…. بدلے میں کچھ پل مجھے دو گے۔
یہ ایک مختلف آفر تھی۔محبوب راضی ہو گیاتھا اور اب اکثر جب کبھی ذکیہ بیس سے تیس برس کی کسی لڑکی کو دوست بنا کر ا س کے لیے تیار کرتی تو وہ اصل میں اپنی خوراک کا بندوبست کرتی تھی۔
یہ اسی ذکیہ کا فون تھا۔کال رسیو ہوتے ہی ذکیہ نے کہا:
”ہیلو…محبوب…؟“
”ہاں بول رہا ہوں…“ محبوب نے خشک لہجے میں جواب دیا۔
”ایک لڑکی ہے….وہ تم سے ملنا چاہتی ہے…“ دوسری طرف سے کہا گیا۔
”ٹھیک ہے….میں بلا لوں گا…. جب ضرورت ہو گی…“
دوسری طرف سے عجیب سے لہجے میں کہا گیا۔
”نہیں…ایسے نہیں….میرے اپارٹمنٹ پہ آنا ہوگا….جب تم کہو گے بلالوں گی….جیسا ہمیشہ ہوتا آیا ہے…“
”کون ہے….“
”آم کھاؤ…پیڑ کیوں گنتے ہو…. اس نے کسی سے تمہاری تعریف سنی ہے… ملو گے اس سے…؟“
محبوب نے کچھ سوچا اور ایک طویل سانس لے کر جواب دیا:
”ٹھیک ہے…بلا لو….میں آجاؤں گا….“
اس نے کال منقطع کی اور گلاس میں وہسکی انڈیل کر کچن سے نکل کر سامنے والی سیڑھیوں پر بیٹھ گیا جو ریسٹورنٹ کے اوپر فیملی ہال کی طرف لے اتی تھیں۔
یہ ا س کی خاص عادت تھی۔
ریسٹورنٹ میں سروس بند ہونے اور کچن خالی ہونے کے بعد جب سب جانے لگتے تو وہ وہاں سے جانے سے پہلے کافی دیر تک اپنے اکیلے پن کو وہسکی کی تلخی میں گھولتا تھا،اور رات گئے باہر نکلتا تھا۔
محبوب حسب سابق ریسٹورنٹ کی سیڑھی پہ بیٹھاایپرن باندھے وہسکی کی چسکیاں لے رہاتھا۔دیوار پر کسی غیر مرئی نقطے کو گھوررہا تھا۔دن بھر کام کی مصروفیت میں کچھ یاد نہیں رہا تھا،مگر اب تنہائی میں سب کچھ یاد آرہاتھا۔
صبح کا واقعہ ا س کی نظروں کے سامنے گھوم رہا تھا۔
اس کی بات سن کر دُعا کی آنکھیں جس طرح پھیلی تھیں وہ منظر اس کی آنکھوں میں گھوم رہا تھا۔وہ صبح کے ناخوش گوار واقعے کو بھول گیا تھا،مگر دُعا کو نہیں بھول پارہا تھا۔دُعا کا پرشباب سراپا،اب بار بار اس کے تخیل میں لہرا رہا تھا۔
وہ دُعا کوسوچ رہا تھا،ا س کی سوچوں میں گم تھا کہ قدموں کی آواز پر چونک گیا۔نظر اٹھا کر دیکھاتو زاہد دکھائی دیا جو کچن سے نکل کر کاؤنٹر کی طرف جا رہا تھا مگر اس کو سیڑھیوں پہ بیٹھا دیکھ کر اس کے قریب آگیا۔
محبوب نے نظریں دوبارہ دیوار پر جماتے ہوئے پوچھا:
”لڑکیاں چلی گئیں سب….؟“
زاہداس کے بالکل قریب آگیا۔اس کے ہاتھ میں وہسکی کی بوتل تھی،خاموشی سے محبوب کی طرف بڑھائی تو محبوب نے اپنا آدھا خالی گلاس ا س کی طرف بڑھادیا،زاہد نے گلا س میں وہسکی ا نڈیلتے ہوئے جواب دیا:
”ہاں…چلی گئیں…“
محبوب نے ا س کی طرف دیکھے بغیر وہسکی کے گلا س پر نظریں جماتے ہوئے کہا:
”ٹھیک ہے…تم بھی چلے جاؤ….میں لاک کردوں گا….“
زاہدنے اس کے بشرے کاجائزہ لیتے ہوئے پوچھا:
”کسی اور چیز کی ضرورت تو نہیں….“
”نہیں….thanks“
محبوب نے اچانک اٹھتے ہوئے ا س کے ہاتھ سے وہسکی کی بوتل لی اور اوپر والے کیبن کی طرف جانے لگا جہاں وہ ہوٹل خالی ہونے کے بعد کچھ دیر پیتا تھا،اپنی تھکن اتارتا تھا،اور سوچتا تھا کہ گھر کی طرف جائے یا کہیں اور نکل جائے۔
اسی وقت سیل فون کی بیل بجنے لگی۔
محبوب ٹھٹک کر رک گیا۔یہ اس کے فو ن کی آواز تھی۔
زاہد نے چونک کر ادھر ادھر دیکھتے ہوئے کہا:
”آواز کچن کی طرف سے آرہی ہے… تمہارا سیل فون….کچن میں ہی رکھا ہواہے….“
محبوب نے اوپر جانے کا فیصلہ تبدیل کیا اور سیڑھیوں سے اترکر کچن میں چلاگیا۔
اس کا فون ایک طرف موجود چھوٹی میز پہ رکھا تھا اور blinkہو رہا تھا۔
وہ تیزتیز قدموں چلتے ہوئے میز کے قریب پہنچا،فون اٹھا کر دیکھا اس پر کوئی نیا نمبر جھلملا رہا تھا۔یعنی جس کا بھی فون تھا،اس کا نمبر اس کے موبائل میں موجود نہیں تھا۔
اس نے کال رسیو کرکے فون کان سے لگاتے ہوئے کہا:
”ہیلو…؟“
دوسری طرف سے فوری طور پر کوئی آواز سنائی نہیں دی۔جو کوئی بھی تھا دوسری جانب اپنا سانس روکے کھڑا تھا۔
محبوب نے وہسکی کی چسکی لیتے ہوئے کہا:
”ہیلو…کون ہے بھئی…..بولو…“
ایک بار پھر جواب میں دوسری طرف سے خاموشی سنائی دی۔محبوب جھنجھلا کر کال منقطع کرنے ہی والا تھا کہ ایک کھنکتی ہوئی آواز سنائی دی:
”دُعا….ہاں…میں…دُعا بول رہی ہوں….“
دوسری طرف دُعا ہی تھی۔فون اسی نے کیا تھا۔
وہ پچھلے دوگھنٹوں سے بے چینی میں مبتلا تھی،بے سکون ہو رہی تھی،کسی کل چین نہیں پا رہی تھی اور پھر اپنی وحشت سے گھبرا کر ا س نے بے اختیار فون کر ڈالا تھا۔
محبوب اس کی آواز سن کر چونک گیا۔اسے یقین ہی نہیں تھا کہ دُعا کبھی اسے فون بھی کر سکتی ہے،اور صبح والے واقعے کے بعد تو اس کے فون کے بارے میں سوچنا بھی حماقت تھی۔مگر حیرت انگیز طور پر اس کا فون آگیا تھا۔
محبوب نے بے یقینی سے فون کوکان سے ہٹا کر دیکھا،پھر فون کان سے لگا کر تعجب سے کہا:
”دُعا….؟“
دُعا نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ایک گہرا گرم سانس خارج کرتے ہوئے بڑی مشکل سے کہا:
”ہاں…میں نے…میں نے….میں سوری کہنے کے لیے فون کیا ہے….“
محبوب عجیب ساہو گیا۔
”سوری کہنے کے لیے…؟“
”ہاں…سوری کہنے کے لیے…یہ.ٹھیک ہے کہ تم نے…بہت غلط بات کی تھی صبح…مگر مجھے اتنی بد تہذیب نہیں ہو نا چاہیے تھا….سوری…“
دُعا اپنی بات کہہ کر گہرے گہرے سانس لینے لگی۔اسے سکون مل گیا تھا۔ایک پھانس تھی جو نکل گئی تھی۔اس نے اس بار براہ راست محبوب کو تم کہہ کر مخاطب کیا تھا۔
محبوب کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔آپ کہنے والی تم پر آجائے تو وہ گم ہو جاتی ہے۔وہ خود کی نہیں رہتی،کسی کی تم ہو جاتی ہے۔
محبوب نے ہوا میں مکا لہرایا جیسے ہاری ہوئی بازی جیت گیا ہو مگر دوسری طرف دُعا کہہ رہی ہے۔
”تم نے اپنا نمبر کتاب پر لکھ دیا تھا….یہ بھی ایک چھچھوری حرکت تھی…. اس بات پر بھی مجھے تم پر کافی پھینکنا چاہیے تھی….مگر تم جا چکے تھے کتاب دے کر….موقع ہاتھ سے نکل گیا…“
محبوب نے شوخی سے کہا:
”کوئی بات نہیں….ایک بار پھر پھینک لینا…جب تمہارے پاس وقت ہو تو….مجھے بتا دینا،میں آجاؤں گا…فون نمبر لکھنے والی حرکت پر بھی کافی پھینک دینا مجھ پر …“
دُعا مسکرااٹھی۔محبوب نے جلدی سے بات بڑھائی:
”لیکن اس کے بعد… ایک بار پھر تمہیں سوری کہنے کے لیے فون کرنا پڑے گا…اس لیے بہتر ہے کہ اپنے سیل فون میں میرا نمبر سیو کرلو….“
دُعانے فورا انکار میں سرہلاکر کہا:
”میں نے صرف معذرت کے لئے فون کیاہے…. تم اس کے بین السطور کچھ تلاش مت کرو….اس فون کا مقصد کچھ اور نہیں ہے… اس لیے رال مت ٹپکاؤ…“
محبوب کو اس کے تیکھے پر مزہ آگیا۔اس نے فورا سنجیدہ لہجے میں کہا:
”اوہ آئی ایم سوری….اگر تم یہ سمجھ رہی ہوکہ میں کچھ غلط سمجھ لیا ہے تو…“
دُعا نے ذرا تلخ لہجے میں کہا:
”اوہ کم آن….تم اچھی طرح جانتے ہو کہ کسی کو کیسے دکھ پہنچانا ہے…آسانی سے کسی کو بھی غصہ دلانے میں مہارت ہے تمہیں….تم قریب آتے ہو اور ایک منٹ میں خون جلا کر چلے جاتے ہو….“
محبوب نے بے چارگی والے لہجے میں کہا:
”کیا کروں یار….میں دل لگاننے جاتا ہو ں،مگر د ل جلاکر آجاتا ہوں…تم کوشش کرو… دل لگا کر دیکھو….دل لگانے میں بہت مزہ آتا ہے۔“
دُعا نے منھ بنا کر کہا:
”مجھ سے فضول باتیں مت کیا کرو…میں کچھ اور مزاج کی لڑکی ہوں…“
محبوب نے کہا:
”اچھا تم بتادو….میں تم سے کیسی باتیں کیا کروں…ویسی کرلیا کروں گا….نیند نہیں آرہی تمہیں….آجاؤں…تھپک تھپک کے سلادوں….“
دُعا نے غرا کر کہا:
”شٹ اَپ …. یہی تو تمہاری باتیں ہیں جو خون کھولا دیتی ہیں۔“
محبوب نے ہتھیار ڈالتے ہوئے کہا:
”ٹھیک ہے، ٹھیک ہے…. میں مزید کچھ نہیں کہوں گا اب….“
اس سے پہلے کہ دُعا جواب میں کچھ کہتی،محبوب نے جلدی سے کہا:
”اچھا بات سنو….تمہارا نمبر میرے سیل فون پر آگیا ہے….کیا میں اسے سیو کرلوں…؟“
”کیوں پوچھ رہے ہو….؟“
محبوب نے شوخ لہجہ اختیار کر کے جواب دیا:
”اگلی بار جب تم کال کروگی….تو مجھے پوچھنا نہیں پڑے گا کہ کون…میں نام لے کر بات کروں گا….اور تمہیں غصہ نہیں آئے گا…تمہیں اپنا تعارف بھی نہیں کرانا پڑے گا….“
دعا نے طنزیہ انداز اختیار کیا:
”بات سنو مسٹر….میرے پیچھے پاگل ہو نے کی ضرورت نہیں ہے….میں تمہارے ہاتھ نہیں آنے والی…“
محبوب مسکرااٹھا۔
اس کی باتوں میں آجانے والی ہاتھ نہ آنے کی بات کر رہی تھی۔اتنا نہیں سمجھ رہی تھی کہ،جو لڑکی کسی مرد کی باتوں میں آجائے،بانہوں میں بھی آجاتی ہے۔وہ ا سکی باتوں میں آگئی تھی،مسلسل بات کیے جا رہی تھی۔اور سمجھ رہی تھی کہ وہ اسے سنا رہی ہے۔دُعا نے اسی تلخی کے ساتھ سنانے والے انداز میں پوچھا:
”ویسے کیاتمہیں امید ہے کہ میں دوبارہ فون کروں گی تمہیں ….؟“
اس کا لہجہ ایساتھا کہ محبوب سٹپٹا گیا،گڑ بڑا کر بولا:
”نہیں….میرا مطلب یہ نہیں تھا۔ میں توجوک کر رہا تھا….مذاق میں کہا ہے…“
دُعا نے برا سا منھ بنا کر کہا:
”میں پہلے ہی بتاچکی ہوں تمہیں…تمہارے جوک بکواس ہو تے ہیں…ذرا بھی ہنسی نہیں آتی….“
محبوب کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
دُعا نے ذرا برہم ہو کرکہا:
”ویسے ایک بات بتاؤ… مسٹر محبوب…. تمہیں خود پہ اتنا اعتماد کیوں ہے….؟سمجھتے کیا ہو تم اپنے آپ کو….؟“
محبوب نے سوچتے ہوئے کہا:
”میرا خیال ہے دُعا خان….تم نے یہ کال سوری کہنے کے لیے ملائی تھی….عجیب بات ہے…معافی مانگنے کے لیے فون کیا اور ڈانٹ رہی ہو….اور جہاں تک میری بات ہے….میں تو اب بھی تمہارے دل کے دروازے پر دستک دے رہا ہوں….اس میں غلط کیا ہے….تم نے اگرمعذرت کے لیے فون کیا ہے تو کچھ اچھا بولو…کوئی ایسی بات کہو جو مجھے اچھی لگے اور میں بھول جاؤں کہ تم نے مجھ پر کافی پھینک کر کچھ غلط کیا تھا….“
دُعا ایک لمحے کو سوچ میں پڑگئی۔ٹھیک ہی تو کہہ رہاتھا۔
اس نے سوری کہنے کے لیے فون کیا تھا اور اس پر طنز کر رہی تھی۔تلخی سے باتیں کر رہی تھی۔
اس نے ذہن پر زور دیا مگر کوئی بات سمجھ میں نہ آئی کہ ایسا کیا کہے جو اسے اچھا لگے اور وہ بھول جائے کہ اس نے صبح بد تہذیبی کی تھی۔
جب کچھ سمجھ نہ آیا تو وہ کاندھے اچکاتے ہوئے بولی:
”کیک….ہاں کیک اچھا تھا….بہت ٹیسٹی تھا…یہ ٹھیک ہے…اس سے کام ہو جائے گا…؟
محبوب مسکرااٹھا ۔
’’ہاں…. یہ بھی بہت ہے…شکریہ…“
دُعانے ایک بار پھر طنزیہ انداز میں کہا:
”سچ بتانا کہاں سے خریدا تھا…اب یہ مت کہہ دینا کہ تمہاری ماں نے بنایا تھا…“
محبوب باقاعدہ ہنسنے لگا۔ ہنستے ہوئے بولا:
”تم یقین نہیں کروگی…مگر سچ یہ ہے کہ کیک میں اسے بنایاتھا…“
دُعا نے بے یقینی سے کاندھے اچکاتے ہوئے مذاق اڑانے والا اندازمیں کہا:
’ریئیلی….مجھے یقین نہیں….ویسے سچ بتاؤں…کیک واقعی اچھا تھا…میں نے سارا کھالیا…مجھے بہت غصہ آرہا تھا تمہارے جانے کے بعد….میں غصے میں سارا کیک کھا گئی…تمہاراسارا غصہ کیک پہ نکال دیا….“
محبوب کی مسکراہٹ گہری ہو گئی۔
پھر جو باتیں شروع ہوئی تو ختم ہونے کا نام نہیں لیا۔
باتیں کرتے ہوئے محبوب نے کپڑے تبدیل کیے۔ا س نے پہلے ہینڈ فری کان سے لگا لیا تھا،اورکپڑے تبدیل کر تے ہوئے ساتھ ساتھ باتیں بھی کر رہاتھا۔
کپڑے تبدیل کرکے وہ ریسٹورنٹ کو بند کرکے،دُعا سے باتیں کرتے ہوئے باہر آگیا،اپنی گاڑی کی طرف بڑھتے ہوئے کہنے گا:
”تم محبت کرنے والی لگتی ہو،غصہ کرنے والی دکھائی نہیں دیتی ہو،پھر اتنا غصہ کیوں آگیا تھا صبح…؟“
دعا کا جواب ا س کے کانوں میں سنائی دیا:
”تم سے کس نے کہہ دیاکہ میں غصہ کرنے والی نہیں ہوں…. میں بہت غصیلی ہوں…پیار کرنے والی تو میں ہوں ہی نہیں…ہوتی تو اب تک جانے کتنے عشق لڑا چکی ہوتی….اصل میں تمہاری بات سن کر میرا خون کھول گیا تھا…ایسی واہیات اور فضول بات،اور یوں براہ راست کبھی کسی نے مجھ سے نہیں کی تھی….طیش میں آنا ضروری ہو گیا تھا….تمہارے جانے کے بعد میں غصے میں بیٹھ گئی…خو دکو مطمئن کرنے لگی…مگرجب غصہ کم نہیں ہوا تو کیک کھانے لگی….اور سارا کیک کھا گئی….ذرا سا بھی نہیں چھوڑا….“
محبوب گاڑی کے قریب آچکا تھا ا س نے چابی گھما کر دروازہ کھولا اور گاڑی میں بیٹھ گیا۔
دُعا مسلسل بول رہی تھی۔
”اچھا بہت باتیں ہو گئیں… اب ایمان داری سے سچ سچ بتاؤ…وہ کیک کس نے بنایا تھا…کہاں سے لیا تھا….؟اتنا اچھا کیک شاید ہی ہی کھایا ہو گا میں نے….سارا غصہ ختم کر دیا ا س کیک نے…“
محبوب نے گاڑی آگے بڑھاتے ہوئے کہا:
”تمہاری قسم…میں نے بنایا تھا…خود اپنے ہاتھوں سے….صرف تمہارے لیے…“
دُعا ایک لمحے کو چپ ہو گئی۔فورا کچھ کہہ نہیں پائی۔
محبوب نے اس اپنائیت سے اس کی قسم کھائی تھی جیسے ان کا برسوں کا کوئی رشتہ ہو۔وہ ایک لمحے کو خاموش رہی پھر جلدی سے بولی:
”مجھے یقین نہیں آرہا…تم جھوٹ بول رہے ہو…“
محبوب نے طویل سانس لیتے ہوئے کہا:
”میں عام طورپر…عام لوگوں کو اپنے اس ٹیلنٹ کے بارے میں بتاتا نہیں ہوں….صرف تمہیں بتا رہا ہوں…‘.“
دُعا اس کی بات سن کر ٹھٹک گئی،سوچتے ہوئے بولی:
”تو کیا…میں عام نہیں ہوں…؟“
”نہیں….تم بہت اسپیشل ہو….“
دُعا فوری طور پر کچھ بو ل نہ پائی۔
اسپیشل ایک ایسا لفظ ہے جو جسمانی یا ذہنی معذوروں کے لیے استعمال ہو تا ہے۔اس لفظ میں عجیب تاثیرہے۔کسی لڑکی کو کہہ دی اجائے کہ وہ اسپیشل ہے تو وہ گنگ ہ وجاتی ہے،دماغ کام کرنا چھوڑ دیتا ہے۔ذہنی طور پر سدھ بدھ بھول جاتی ہے۔خود کو اسپیشل سمجھنے لگتی ہے۔
دُعا بھی چپ ہوگئی۔سدھ بدھ بھول گئی۔سوچنے سمجھنے کی صلاحیت مفلوج ہوگئی۔
کسی نے آج تک ا س سے یہ نہیں کہا تھا کہ وہ اس کے لیے اسپیشل ہے۔وہ ایک لمحے میں خود کو اسپیشل سمجھتے ہوئے اسپیشل پرسن بن گئی۔
محبوب گاڑی ڈرائیو کرتا رہا،چند لمحوں کی خاموشی کے بعد دُعا نے پھر باتیں شروع کردیں۔اس کا سفر ختم ہو گیا مگر دُعا کی باتیں ختم نہیں ہوئیں۔
حتی کہ وہ اپنے اپارٹمنٹ میں پہنچ گیا۔
غسل وہ ہوٹل کے واش روم میں ہی کر چکا تھا۔
الماری سے کپڑے نکال کر پہنتے وقت بھی وہ ادھر ادھر کی باتیں کرتارہا،ہینڈ فری پر اس کی سنتا رہا۔پھر اسے یقین دلاتے ہوئے بولا:
”تمہیں یقین نہیں آرہا….مگر میں چ کہہ رہاہوں…. تم سچ میں بہت اسپیشل ہو…خود کو عام لڑکی سمجھنا بند کرو… خود کو خود سمجھنے کی کوشش کرو…“
دُعا کچھ سوچ رہی تھی۔وہ بہت دیر سے ٹہل ٹہل کر باتیں کر رہی تھی،بٹہلتے ٹہلتے تھک گئی تھی۔باتیں کرتے کرتے بیڈ پر لیٹ گئی۔لیٹے لیٹے اس سے کلام کرتی رہی۔
محبوب سنجیدہ لہجے میں کہہ رہا تھا:
”تم اپنی جوانی برباد کر رہی ہو… جوانی ایک بار آتی ہے….ضایع کر دوگی تو پھر نہیں آئے گی…“
دُعانے ایک طویل سانس لیتے ہوئے کہا:
”میں ایسی ہی ہوں…. جوانی میں دیوانی ہونا پسند نہیں مجھے….میں ہر کسی سے نہیں ملتی…ہر کسی کو نہیں ملتی….میں عجیب ہی ہوں….سب ملنا چاہتے ہیں مجھ سے..مگر میں سب سے تو نہیں مل سکتی…صرف اسی سے مل سکتی ہوں جس سے خود ملنا چاہوں گی….“
محبوب تیار ہو چکا تھا۔اس نے اپنے کپڑوں پر فیوم اسپرے کرتے ہوئے کہا:
”ٹھیک ہے…جب ملنا چاہو تو ملیں گے پھر….میں ابھی کسی سے ملنے جا رہ اہوں….بعد میں بات کرتے ہیں… بائے….“
اس نے دوسری طرف کی بات سنے بغیر اچانک کال منقطع کردی۔
دُعا بستر پہ لیٹی تھی،ایک دم سے رابطہ منقطہ ہوا تو یوں لگا جیسے وہ سناٹا ہو گیا ا س کے چاروں طرف۔
وہ گھبرا کر ادھر ادھر دیکھنے لگی۔
پھر لیٹ گئی،مگر بے چین ہو کر کروٹ لینے لگی۔ا س کروٹ بھی سکون نہ ملا تو جھنجھلا کر کروٹ بدل لی…. پھر غصے میں تکیے پر ہاتھ مارنے لگی….
اتنی دیر سے سکون میں تھی،ایک دم سے بے سکون ہو گئی تھی۔
اٹھ کر بیٹھ گئی۔جانے کیا بات تھی….اسے چین نہیں مل رہا تھا۔وہ بری طرح بے چین ہو گئی تھی۔کال منقطع ہوتے ہی محسوس ہوا وہ یکہ و تنہا ہوگئی ہے۔
جب کچھ سمجھ میں نہ آیا کہ کیا ہو گیا ہے تو تکیوں میں منھ چھپا کر سونے کی کوشش کرتی رہی،مگر جب تک سو نہ پائی روتی ہی رہی ۔
…………
محبوب تیار ہو کر گھر سے باہر آگیا۔
ریسٹورنٹ بند کرنے سے پہلے جب سب چلے گئے تھے اور دُعا کا فون بھی نہیں آیا تھا ا س قت اس نے کسی کو فون کیا تھا۔ اپنے لیے کچھ انتظام کیا تھا۔
اپنی گاڑی مرکزی سڑک پر لاتے ہی اس نے کال ملادی۔دوسری طرف ایک لڑکی نے فون اٹھایا۔اس کے ہیلو کہتے ہی محبوب نے پوچھا:
”پہنچ گئی تمہاری دوست ….“
دوسری طرف موجود لڑکی کھنکتی ہوئی آواز میں جواب دیا۔
”ہاں… پہنچ گئی ہے….لیکن ایک مسئلہ ہے…“
محبوب کا جسم سرد ہونے لگا۔
”مسئلہ…کیسا مسئلہ ہے….؟“
لڑکی نے جواب دیا:
”وہ آتو گئی ہے….مگروہ نہیں چاہتی کہ کوئی اس کا چہرہ دیکھے….یو نو…وہ اپنے چہرے کو چھپا کر رکھے گی….“
محبوب کے ہونٹوں پہ مسکراہٹ پھیل گئی۔
”ٹھیک ہے…مجھے اس کے چہرے سے کیا لینا دینا….“
لڑکی نے مطمئن ہو کر کہا:
”آجاؤ بس….پھر…ہم انتظار کر رہے ہیں….سب کچھ ریڈی ہے….“
محبوب نے کسی خیال کے تحت پوچھا:
”تم نے بتایا تھا کہ لڑکی اسکول جاتی ہے….گریجویشن کر رہی ہے…“
”ہاں…“ دوسری طرف سے کہا گیا۔
”چھوٹی ہے ابھی وہ…انیس سال کی…. اس لیے…ایک بات کا دھیان رہے…وہ پہلی بار یہ سب کر رہی ہے…انسان بن کے ملنا…جانور مت بن جانا….“
محبوب نے سنجیدگی سے جواب دیا۔
”ٹھیک ہے….میں سمجھ گیا….دس منٹ میں پہنچ جاؤں گا….“
اس نے فون کال منقطع کردی۔
پندرہ منٹ بعد جب وہ مقررہ بنگلے میں موجود ادارے میں پہنچا توساری تیاریاں مکمل تھیں۔
جس کمرے میں اسے لے جایا گیا،وہاں بیڈ پر دو لڑکیاں موجود تھیں،ان میں سے ایک تو وہی تھی جس سے محبوب نے فون پر بات کی تھی،اور دوسری خاصی کم عمر لڑکی تھی مگر ا س نے چہرے پر نقاب لگایا ہوا تھا۔
آنکھوں پر بھی پٹی بندھی ہوئی تھی۔ بدن پر نہ ہونے کے برابر لبا س تھا۔
وہ بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی،جب کہ دوسری لڑکی اس کے ہاتھوں میں ہتھ کڑیاں ڈال کر بیڈ سے باندھ رہی تھی اور سرگوشیوں میں کہہ رہی تھی۔
”گھبراؤ مت…. وہ تمہیں تکلیف نہیں دے گا….ڈرنے کی کوئی بات نہیں …“
لڑکی ذرا گھبرائی ہوئی تھی۔بار بار پوچھ رہی تھی۔
”میرا چہرہ تو نہیں دیکھے گا وہ…؟“
پہلی لڑکی نے انکار میں سر ہلاتے ہوئے کہا:
”نہیں… وہ چہرے سے کپڑا نہیں ہٹائے گا…. یہ بات طے ہوچکی ہے….اسے کبھی معلوم نہیں ہو سکے گا کہ تم کون ہو….اور ویسے بھی میں یہیں ہوں…اسی کمرے میں ہوں….وہ نہ ماسک ہٹائے گا….نہ ٹارچر کرے گا …وہ پیار کرے گابس….اور تم یہی چاہتی ہو نا….تو بس بے فکر رہو….“
محبو ب ان کے قریب ہی کھڑا تھا۔ان کی باتیں سن رہاتھا۔
بستر پہ ہتھ کڑیوں سے بندھی کم عمر لڑک کے پر شباب جسم کو دیکھ رہاتھا۔نقاب والی کو نہیں معلوم تھا کہ آنے والاآچکا ہے اور قریب کھڑا ان کی باتیں سن رہا ہے۔
اور محبوب بستر ذرا فاصلے پہ کھڑا سوچ رہا تھا…
کون ہو سکتی ہے یہ….
بستر کے قریب جاتے ہوئے ا س کا دل دھڑک رہاتھا۔بار بار کہہ رہا تھا۔
”مت جاؤ…. دیکھو…دور رہو…تم ٹھیک نہیں کر رہے….تمہارا جاناٹھیک نہیں ہے….
وہ بستر کے قریب پہنچ کر ر ک گیا۔
جس کا چہرہ چھپا ہو ا س کی شناخت چھپ جاتی ہے۔
بستر پر پڑی نوخیز جوانی اسے دعوت دے رہی تھی اور ڈرا بھی رہی تھی کہ دیکھو،میرا چہرہ چھپا ہے…. بعد میں پچھتا نا مت….
نقاب اٹھتا ہے تو کبھی کبھی قیامت بھی اٹھ جاتی ہے۔
وہ گو مگو کی کیفیت میں مچلتی قیامت کو دیکھ رہاتھا۔
اور فیصلہ نہیں کر پارہا تھا کہ کیا کر ے اور کیا نہ کرے….

(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شہر دل کے باسی نفیسہ سعید قسط نمبر 1

حویلی کی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی۔ دالان میں بچھی دریوں پرلڑکیاں، بالیاں جمع …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے