سر ورق / ناول / دلربا نفیسہ سعید قسط نمبر 5 آخری قسط

دلربا نفیسہ سعید قسط نمبر 5 آخری قسط

دلربا

نفیسہ سعید

قسط نمبر 5

آخری قسط

دو دن بعد مہر علی نے آنا تھا وہ بہت خوش تھی ایک، ایک پل اسے گزارنا مشکل ہو رہا تھا۔ دل چاہتا وقت پر لگا کر اڑ جائے اور مہر علی اس کے سامنے آکھڑا ہوا، ابھی بھی مہر علی سے ملنے کےلئے درمیان میں اڑتالیس گھنٹوں کا وقت حائل تھا۔ صدوری اس کی یہ بے قراری کب سے نوٹ کر رہی تھی۔ لیکن کچھ بول نہ پائی، کیونکہ اس وقت اس کا ذہن بہت الجھا ہوا تھا۔ حسیب اللہ نے آج ہی رضیہ کو اس کے گھر واپس بھیج دیا تھا، جس کا علم دریہ کو نہ تھا، وہ تو اپنی خوشی میں مگن حویلی والوں کے بدلے رویے بھی نہ جانچ سکی، اسے پتا ہی نہ چلا کہ پندرہ دن میں ایک بار بھی حویلی نہ آنے والی اس کی نندیں آج صبح سے وہاں کیوں موجود ہیں؟ وہ تو مہر علی کی ہدایت کے مطابق اپنے کمرے میں ہی موجود تھی، اسے کیا خبر تھی کہ اس کا کمرا ہی اس کی قتل گاہ بننے والا ہے۔

مہر علی کے بدترین اندیشے درست ثابت ہونے والے تھے، اس کے گرد ملک الموت کا پھیلایا جانے والا جال کس دیا گیا تھا۔ کاش وہ مہر علی کی بات مان لیتی، لیکن وہ جو کہتے ہیں کہ موت کا ایک وقت مقرر ہے تو بالکل درست کہتے ہیں۔ دریہ نے اپنا وہ بیگ کھولا ہوا تھا جس میں صدوری نے ڈھیروں ڈھیر چھوٹے چھوٹے کپڑے ڈال کر بھر دیا تھا، وہ سارے کپڑے بیڈ پر پھیلا کر بیٹھی تھی، صرف دو ماہ بعد اس کا سب سے بڑا خواب پورا ہونے والا تھا۔ وہ ماں بننے والی تھی، دنیا کی سب سے بڑی اور سچی خوشی اس سے محض چند قدموں کے فاصلے پر کھڑی تھی۔ وہ فیصلہ کر چکی تھی کہ ماں بنتے ہی سب سے پہلے مہر علی کے ساتھ جا کر ارم سے ملے گی اور اپنی تمام غلطیوں، نافرمانی اور کوتاہیوں کی معافی مانگے گی، جیسے جیسے ولادت کا وقت قریب آرہا تھا اس کا دل عجیب سی کیفیات میں گھرتا جا رہا تھا۔ اسے احساس ہو رہا تھا کہ اس نے اپنے ماں، باپ کا دل دکھا کر گناہ کبیرہ کیا ہے۔

”بس میرے اللہ مجھے خیریت سے فارغ کرنا، میں ضرور اپنے ماں، باپ سے معافی مانگوں گی۔“ دل ہی دل میں پختہ ارادہ کرتی وہ بستر پر نیم دراز ہو گئی کہ ایک دم ہی اس کے نتھنوں میں پٹرول کی تیز بو آئی، جس کی شدت سے اس کا دل متلا گیا، وہ اٹھ کر بیٹھ گئی۔

”یہ بدبو کہاں سے آ رہی ہے؟ شاید جنریٹر میں پٹرول ڈالا گیا ہے۔“ اس کے کمرے میں کھڑکی باہر گیلری میں کھلتی تھی جہاں ایک عدد جنریٹر رکھا ہوا تھا، اس خیال کے آتے ہی وہ اٹھ کھڑی ہوئی اسے متلی سی محسوس ہو رہی تھی۔ باتھ روم جانے کیلئے وہ کھڑکی کے پاس سے گزری تو اچانک ہی کھڑکی کی گرل سے کسی نے اس پر سیال پھینکا بدبو مزید تیز ہو گئی، وہ سر سے پاﺅں تک بھیگ گئی۔

”پٹرول….“ اسے یہ بدبو اپنے کپڑوں سے آئی۔

”یہ مجھ پر پٹرول کس نے ڈالا ہے۔“ وہ یکدم گھبرا گئی، ایک لمحے کے ہزارویں پل میں ہی اس کی چھٹی حس نے اسے کسی خطرے کا احساس دلا دیا، وہ متلی کرنا بھول گئی اور پلٹ کر دروازے کی طرف بھاگی، دروازہ کھلا ہوا تھا، وہ باہر نکل آئی، دالان میں کوئی نہ تھا، جانے کیوں وہ مزید خوف زدہ ہو گئی، اپنے وجود کو گھسیٹتی ہوئی وہ بمشکل باہر کی طرف بھاگی، جہاں صحن میں سب ہی جمع تھے، وہ بھاگتے بھاگتے صدوری کے سامنے جاکھڑی ہوئی جو بڑی خاموشی سے اس کی جانب تک رہی تھی۔

”ادی…. ادی۔“ اس کی سانس پھول گئی، اس سے بات کرنا دشوار ہو گیا، اسے لگا وہ ابھی گر جائے گی اس کے قدموں نے اس کا بوجھ اٹھانے سے انکار کر دیا۔

”یہ مجھ پر کس نے پٹرول پھینکا ہے۔“ وہ اٹک اٹک کر اپنی بات مکمل کر گئی۔

”کسی نے نہیں، میں نے پھینکا ہے؟“ ایک سفاک آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی، اس نے پلٹ کر دیکھا یقینا وہ حسیب اللہ تھا ہاتھ میں تیل کا ڈبا اٹھائے ہوئے اس سے قبل کہ وہ کچھ کہتی کوئی وضاحت طلب کرتی، اس نے ڈبے کا سارا تیل اس کے قریب فرش پر گرا دیا، وہ جیسے ہی آگے بڑھی سلپ ہو گئی اور گرتے گرتے اس نے صدوری کے ہاتھوں میں ماچس کی ڈبیا دیکھ لی، وہ ہراساں ہو گئی، اسے صدوری کی آنکھوں میں اپنے لئے واضح نفرت اور درندگی جھلکتی نظر آرہی تھی اور یہ ہی نفرت اور سفاکی اس سے کچھ دور کھڑے تمام افراد کے چہروں پر درج تھی، اس کی ٹانگوں میں جان ہی نہ رہی، وہ اٹھ کر کھڑی بھی نہ ہو سکی، جب اس نے ماچس کی تیلی کو اپنی جانب بڑھتے دیکھا، اس کے حلق سے نکلنے والی دلدوز چیخ نہایت ہی بھیانک اور درد ناک تھی جو اس حویلی کی اونچی اونچی دیواروں میں گھٹ کر دم توڑ گئی۔

QQQQ

اس سے پہلے کہ بچھڑ جائیں گے

دو قدم اور مرے ساتھ چلو

ابھی دیکھا نہیں جی بھر کے تمہیں

ابھی کچھ دیر مرے پاس رہو

مجھ سا پھر کوئی نہ آئے گا یہاں

روک لو مجھ کو اگر روک سکو

جانے کب کا آیا ہوا دریہ کا مسیج مہر علی کئی بار پڑھ چکا تھا لیکن ہر بار پڑھنے پر وہ اسے نیا ہی محسوس ہوتا ور اس کا دل دریہ کی محبت سے سرشار ہو جاتا کراچی ایئر پورٹ سے باہر نکلتے ہی اس نے ایک بار پھر دریہ کو فون کیا جانے کیوں پچھلے دو دن سے اس کا موبائل آف تھا جبکہ وہ جانتی تھی کہ آج مہر علی نے آنا ہے پھر فون کیوں آف ہے؟ اسی سوچ نے اسے پریشان کر رکھا تھا جبکہ بابا جان کی موجودگی میں اپنی پریشانی وہ ظاہر نہ کرنا چاہتا تھا۔

”ہو سکتا ہے بیٹری ختم ہو گئی ہو یا شاید فون ہی خراب ہو گیا ہو۔“ اس خیال سے اس نے اپنے دل کو تسلی دینے کی کوشش کی لیکن جانے کیوں پچھلے دو، تین دنوں سے اس کا دل گھبرا رہا تھا پورے پندرہ دن اس نے روزانہ دریہ سے بات کی تھی اگر بابا جان کی مصروفیت کے سبب وہ فون نہ کر پاتا تو دریہ خود کر لیتی لیکن ان پچھلے دو دنوں سے دریہ نے اس سے رابطہ ہی نہ کیا تھا اور یہ ہی بات اس کی پریشانی بڑھانے کا سبب بن رہی تھی باہر غلام رسول گاڑی لے کر ان کا منتظر تھا وہ چاہتا تھا کہ بابا جان کے ساتھ اسی وقت گاﺅں روانہ ہو جائے لیکن بابا جان بے حد تھکے ہوئے تھے لندن سے کراچی تک کے سفر نے انہیں تھکا دیا تھا یہ ہی وجہ تھی کہ وہ رات مہر علی کے فلیٹ پر گزار کر صبح روانہ ہونا چاہتے تھے اور مہر علی ان کی حکم عدولی کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا ورنہ اس کیلئے تو اب ایک پل بھی دریہ کے بغیر گزارنا دشوار تھا گھر جاتے ہی نہا دھو کر فریش ہونے کے بعد اس نے ایک بار پھر دریہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی۔ جو ممکن نہ ہو سکا بے شک وہ بہت تھکا ہوا تھا لیکن دریہ کی یاد نے اسے بے چین کر رکھا تھا۔

صبح سویرے ہی بائی روڈ وہ اپنے گاﺅں کی جانب روانہ ہو گیا پانچ گھنٹوں کا یہ سفر اسے پانچ صدیاں محسوس ہو رہا تھا لیکن جانے کیا بات تھی جیسے جیسے گاﺅں قریب آرہا تھا مہر علی کو اپنا دل ڈوبتا ہوا محسوس ہوتا تھا اسے لگ رہا تھا کہ شاید وہ اب کبھی دریہ کو نہ دیکھ سکے گا۔ اس عرصہ میں اس نے کئی بار دریہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن لا حاصل اس کا رابطہ حسیب اللہ سے ضرور ہوا لیکن وہ دریہ کے متعلق کوئی سوال نہ کر سکا۔ جیپ حویلی کی چار دیواری میں اندر داخل ہوئی تو حویلی کی چہل پہل معمولی سے کچھ زیادہ تھی وہ اندر کی جانب بڑھا دالان میں بچھی دریوں پر بیٹھی عورتوں میں دریہ نہ تھی۔

”دریہ کہاں ہے؟“ بالآخر اس سے صبر نہ ہو سکا اس نے صدوری سے سوال کیا جو ابھی ابھی بابا جان کو کمرے میں پہنچا کر واپس آئی تھی اور صدوری کے جواب نے مہر علی کے حواس پربجلیاں گرا دیں اسے حویلی کے درو دیوار خود پر گرتے ہوئے محسوس ہوئے صدوری کی دی ہوئی خبر نے علی کو ہوش و حواس سے مکمل طور پر بے گانہ کر دیا۔

”دریہ کا سوئم….“ یہ خبر تھی یا کوئی بم دھماکہ جس نے مہر علی کے پرخچے اڑا دیئے اور پھر جو وہ بے ہوش ہو کر گرا تو پورا ایک ہفتہ لگا اسے مکمل طور پر ہوش میں آنے کیلئے۔

QQQQ

جانے کیوں آج صبح سے ہی شہ پارا کا دل بہت چین تھا کبھی وہ اوپر جاتی کبھی نیچے ارم کے پاس آجاتی لیکن اسے کہیں بھی سکون نہ مل رہا تھا سمرن، شاہ ویز اور بچوں کے ساتھ اسلام آباد گئی ہوئی تھی جبکہ ولید بھی ان کے ساتھ ہی تھا فاریہ اور سادیہ سے اس کی ویسے بھی کبھی نہ بنی تھی لے دے کر ارم ہی تھی جس کے پاس وہ کچھ دیر جا کر بیٹھ جاتی تھی۔

”سمرن نے کب آنا ہے؟“ کبھی سمرن کےلئے اتنی بے قراری اس کے لہجے میں نہ آئی تھی جانے کیا بات تھی جو آج اسے سمرن کا بے چینی سے انتظار تھا یہ بات ارم نے محسوس تو کی لیکن کچھ بولی نہیں۔

”میرا خیال ہے کل تک آجائیں گے آپ کو کوئی کام ہے اس سے۔“ ارم غور سے شہ پارا کو دیکھتے ہوئے بولی جس کے چہرے پر چھائی بے چینی کسی انہونی کا پتا دے رہی تھی۔

”آں…. ہاں کچھ نہیں وہ اصل میں دریاب کا فون پچھلے کچھ دنوں سے مسلسل بند ہے بس اسی لئے میرا دل ہول رہا ہے۔“ دل کا خدشہ زبان تک آہی گیا۔

”ہو سکتا ہے اس نے نمبر تبدیل کر لیا ہو۔“ ارم اطمینان سے کہتی کپڑے تہہ کرتی رہیں۔

”اس کے میاں سے پوچھ لیں اس کا نمبر بھی تو ہو گا آپ کے پاس۔“

”نمبر تو ہے لیکن وہ یہاں نہیں ہے لندن گیا ہوا ہے۔ دریہ بھی گاﺅں اپنی سسرال میں ہے میں نے تو منع بھی کیا تھا نہ سوکن پر اعتبار کر نہ جا گاﺅں میرا دل نہیں مان رہا لیکن اس نے کبھی، کسی کی سنی ہو جو اب سنتی اسے تو ہمیشہ سے عادت رہی ہے اپنی من مانی کرنے کی جو دل میں آیا صرف وہ ہی کیا۔“ ساری تفصیل بتاتے بتاتے شہ پارا کی آواز بھرا سی گئی اور وہ خاموشی سے اٹھ کر اوپر چلی گئی جبکہ ارم حیران سی اسے پیچھے تک دیکھتی رہیں اور پھر جلد ہی شہ پارا کی بے چینی کا راز سب پر کھل گیا۔

QQQQ

سمرن آگئی تھی ابھی ابھی وہ اپنے کپڑے وغیرہ الماری میں رکھ کر فارغ ہوئی تھی شہ پارا دو تین چکر لگا کر جا چکی تھی وہ جب بھی آتی سمرن کو مصروف دیکھ کر بنا کچھ کہے خاموشی سے پلٹ جاتی لیکن سمرن اس کی بے چینی بھانپ چکی تھی تیسری بار جب وہ اوپر آئی تو سمرن پوچھے بنا نہ رہ سکی۔

”کیا بات ہے امی کوئی کام ہے آپ کو مجھ سے۔“

”ہاں ذرا دریاب کا تو پتا کرو گاﺅں سے آئی ہے کہ نہیں اس کا موبائل بند ہے، گھر کا فون بھی کوئی نہیں اٹھا رہا۔“ شہ پارا کے لہجے کا خوف سمرن کو بھی محسوس ہو چکا تھا۔

”جب اس کا فون ہی بند ہے تو کیسے پتا کروں۔“ سمرن کی بات سنتے ہی شہ پارا نے ایک چھوٹی سی ڈائری اس کی سمت بڑھائی۔

”اس میں مہر میں کا نمبر ہے ملا کر دیکھو شاید وہ باہر سے آگیا ہو۔“

مہر علی نے دوسری ہی بیل پر فون ریسیو کر لیا اس نے جیسے ہی شہ پارا کی آواز سنی بلک بلک کر رو دیا اس کا رونا شہ پارا کو کسی انہونی کا احساس دلا رہا تھا وہ مزید خوف زدہ ہو گئی۔

”مما دریہ اب ہم میں نہیں رہی چلی گئی ہے مجھے اس دنیا میں اکیلا چھوڑ کر دریہ مر گئی مما۔“ الفاظ تھے یا کوئی بم جو شہ پارا کو اپنے گرد بلاسٹ ہوتا محسوس ہوا اس کے ہاتھ سے فون ہی گر گیا جبکہ اسے آگے بڑھ کر سمرن نے سنبھال لیا۔

”کیا ہوا امی خیریت تو ہے؟“ وہ گھبرا اٹھی۔ اس سے پہلے کہ شہ پارا کوئی جواب دیتی اس کا فون پھر بج اٹھا دوسری طرف یقینا مہر علی تھا۔ سمرن نے فوراً فون ریسیو کیا اس سے قبل کہ وہ ”ہیلو“ کہتی مہر علی کی کرلاتی آواز میں ایئر پیس سے ابھری۔

”میں لندن سے آیا تو مجھے پتا چلا دریاب جل گئی ہے مما میرے گھر والوں کا کہنا ہے کہ رضیہ کی غیر موجودگی کی بنا پر وہ بغیر کسی سے کہے چائے بنانے کچن میں گئی تھی جہاں شاید چولہا کھلا رہنے کے سبب گیس بھر چکی تھی ماچس جلاتے ہی اسے آگ نے پکڑ لیا رات زیادہ تھی اس لئے اس کی چیخ و پکار پر جب تک سب پہنچے وہ نوے فیصد جل چکی تھی وہ جل گئی مما اس کا جسم جل کر کوئلہ ہو گیا اور میں کچھ نہ کر سکا۔“ وہ بلک بلک کر رو رہا تھا سمرن حیرت سے گنگ رہ گئی اس کے منہ سے کوئی لفظ ہی نہ نکلا وہ دکھ اور غم کی شدت سے مہر علی سے بھی نہ پوچھ سکی کہ دریاب تو چائے ہی نہ پیتی تھی پھر وہ کیوں کچن میں گئی؟

اس سے ملنے والا ہر شخص جانتا ہے کہ چائے پینا تو درکنار اس نے تو کبھی خود سے اٹھ کر چولہا جلانے کی بھی زحمت نہ کی تھی کیونکہ وہ حد درجہ کام چور اور کاہل تھی اور پھر اس حالت میں، اتنی خرابی طبیعت کے باوجود کیا مجبوری تھی جو دریاب کو آدھی رات کو کچن میں لے گئی۔ اتنے ملازمین کے ہوتے ہوئے وہ کیوں کچن میں گئی لیکن مہر علی کی مخدوش حالت کے پیش نظر وہ کچھ نہ بول سکی اس سے قبل کہ وہ خاموشی سے فون رکھ دیتی مہر علی کی آواز پھر سنائی دی اس کی آواز کا کرب سمرن کا دل ہولا رہا تھا۔

”میں نے سمجھایا تھا کہ میرے گھر والے قابل اعتبار نہیں مگر وہ نہ مانی کیونکہ وہ کبھی کسی کی نہ مانتی تھی اس نے صدوری پر بھروسہ کیا، صدوری سے محبت کرکے بہت غلط کیا مما آپ تو جانتی ہیں ناکہ دریاب کبھی چائے نہیں پیتی تھی ان سب نے مل کر اسے مار دیا اور میں کچھ بھی نہ کر سکا۔“ مہر علی کی آواز سرگوشی میں ڈھل گئی۔

”تو یہ خود بھی سب کچھ جانتا ہے، آگہی رکھتا ہے پھر تو میرا کچھ بھی کہنا بے کار ہی ہو گا۔“ یہ سوچتے ہی سمرن نے خاموشی سے فون بند کر دیا او وہیں زمین پر بیٹھتی چلی گئی اس کا دل غم کی شدت پھٹ رہا تھا اس کی نگاہوں کے سامنے ہنستی مسکراتی خوبصورت ترین دریاب آگئی جو اپنی خوبصورتی کا بہتر استعمال جانتی تھی جو خوبصورتی سے محبت کرتی تھی اس دریاب کا خوبصورت جسم جل کر کوئلہ بن گیا اس کے تصور میں دریاب کا جھلسا ہوا جسم اور چہرہ آگیا اسے جھر جھری سی آگئی۔

”اف میرے خدایا دنیا میں ہی سزا اور جزا کا حساب کر دیا۔“

اس سوچ کے آتے ہی وہ شہ پارا کے گلے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دی اسے آج احساس ہوا کہ دریاب جیسی بھی تھی ان کی اپنی تھی اور اپنوں کا دکھ انسان کو کس طرح اندر تک چیر کر رکھ دیتا ہے اس کا ادراک سمرن کو ابھی ابھی ہوا تھا دریاب کی بے بسی اورموت کی اذیت کے احساس نے سمرن کے کلیجے چھلنی کرکے رکھ دیا اور وہ بے ساختہ ہی دھاڑیں مار مار کر رونے لگی۔

QQQQ

ختم شد

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

”جس دن سے!“ ۔۔۔ صادقہ نواب سحر ۔۔۔ قسط نمبر 01

”جس دن سے!“ صادقہ نواب سحر قسط نمبر 01  ٭ ڈیلیوری بوائے  ” ڈیلیوری …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے