سر ورق / ناول / ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر16

ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر16

ان لمحوں کے دامن میں

مبشرہ انصاری

قسط نمبر16

سات سال بعد….

ایک ننھا چھ سالہ معصوم فرشتہ، ابراہیم وِلا کے بڑے سے لان میں بھاگ رہا تھا…. اس کی سفید شرٹ، گیلی مٹی کی وجہ سے خاصی گندی دکھائی دے رہی تھی…. وہ اپنی ننھی منی آنکھوں میں حیرت سموئے لان اور پورچ کے درمیان، پنک ہیٹ اور رائیڈنگ ڈریس میں ملبوس کھڑی ننھی چھ سالہ پری کی جانب دیکھنے لگا….

”تم کہاں جا رہی ہو؟“

وہ اس کے نزدیک دوڑاچلا آیا…. اس کے قریب آتے ہی اس نے معصومیت سے پوچھا…. ننھی پری اپنے رائیڈنگ ڈریس پر اتراتی، فخر سے اپنا ہیٹ درست کرتی ایک ادا مگر معصومیت سے جواباً بولی….

”میں رائیڈنگ کے لیے جا رہی ہوں…. جو تم سے نہیں ہوتی…. ہونہہ!….“

وہ اپنی چِن کو اوپر کو اٹھاتی، خود پر اِترانے لگی….

”میں سائیکل بہت اچھی چلاتا ہوں…. سمجھی تم؟“

ننھے فرشتے کو چھوٹا چھوٹا سا غصہ آ گیا….

”میں سائیکل کی بات نہیں کر رہی ….“

وہ پری ایک دم چلّا اٹھی….

”میں Horse Riding! کی بات کر رہی ہوں….“

اس نے اپنی ننھی منی سی شہادت کی انگلی اٹھا کر، لان میں کھڑے الحان کے سفید گھوڑے کی جانب اشارہ کیا….

”تمہیں Horse Riding! نہیں آتی آنیہ!“

ننھا فرشتہ طنز کرنے لگا…. اور طنز کرتے ہی وہ ڈرتے ہوئے دو قدم دور ہٹ کھڑا ہوا…. کیونکہ اسے ڈر تھا کہ سامنے کھڑی ننھی پری آنیہ ہمیشہ کی طرح غصہ میں پھنکارتی اس پر جمپ لگا کر اسے پیٹنا شروع کر دے گی…. لیکن آنیہ نے ایسا نہ کیا…. بلکہ وہ تیوری چڑھاتی، غصہ کے عالم میں اپنے فیس پر بکھری بالوں کی لٹوں کو بیدردی سے رگڑتی، فیس سے پیچھے ہٹانے لگی….

”میں تمہیں رائیڈنگ کر کے دکھاﺅں گی…. دیکھو مجھے، میں کیسے رائیڈنگ کرتی ہوں….“

”تم کسی بڑے کی مدد کے بغیر رائیڈنگ نہیں کر سکتیں….“

اس نے پھر سے زبان کھولی….

”میں بڑی ہو گئی ہوں…. میں رائیڈنگ کر سکتی ہوں….“

وہ اِترا کر بولی…. الحان ابھی ابھی آفس سے واپس لوٹا تھا…. گاڑی سے باہر نکلتے ہی اس نے آنیہ کی بات سن لی تھی…. تبھی وہ اپنی مخصوص مسکراہٹ لبوں پر سجاتا اس کے قریب چلا آیا….

”نہیں…. آپ بڑی نہیں ہوئیں میری جان! آپ میری ننھی سی پری ہو….“

”نہیں بابا! میں بڑی ہو گئی ہوں….“

اس ننھی پری نے غصہ کا اظہار کرتے ہوئے اپنا ایک پاﺅں اٹھا کر زور سے زمین پر مارا…. وہ چلّا رہی تھی….

”اور بہت جلد میری شادی بھی ہونے والی ہے….“

وہ الحان کی جانب دیکھتی غصہ کا اظہار کر رہی تھی…. الحان ایک ٹانگ کے سہارے بیٹھتے ہوئے گرتے گرتے بچا…. اسے اس ننھی پری کی بات سن کر یقینی طور پر چکر آنے لگے تھے….

”شادی؟…. کس سے؟“

وہ حیرانگی کا اظہار کرنے لگا….

”عماد سے….“

وہ زور سے چلاّئی….

آنیہ سے دو قدم دور کھڑا بچہ یکایک چونک اٹھا …. وہ ایک دم اُچھل پڑا…. اس کے چہرے پر خوف کے سائے لہرانے لگے…. وہ اپنے بچاﺅ کے لیے چیخا….

"No!”

”کیا مطلب "No?

آنیہ اب اس کی جانب متوجہ ہوئی…. وہ چلاّئی تھی….

”میں تم سے شادی نہیں کروں گا….“

وہ ڈرتے ہوئے دو قدم اور پیچھے ہٹا….

”کیوں؟“

وہ پھر سے چلاّئی….

”کیونکہ تم بہت چھوٹی ہو…. اور میں تم سے بہت بڑا ہوں…. میں تم سے شادی نہیں کروں گا….“

”تم بڑے نہیں ہو…. تم چھ سال کے ہو…. میں بھی چھ سال کی ہوں….“

اس بار ننھی آنیہ کی آنکھوں میں آنسو تیرتے دکھائی دئیے…. الحان بُری طرح سے قہقہہ لگا دینے کو بیقرار تھا…. لیکن اس نے ننھی پری کے غصہ کے ڈر سے، خود کو یہ گستاخی کرنے سے باز رکھا….

”آئی ڈونٹ کیئر…. میں تم سے شادی نہیں کروں گا….“

ننھا فرشتہ عماد غصہ میں پھنکارتا، دوڑتا ہوا، محل کے اندرونی حصہ میں داخل ہو گیا….

”بابا!“

وہ الحان کی جانب دیکھتی بُری طرح سے رو دی…. ایسے جیسے کوئی اس کی من پسند چاکلیٹ یا کھلونا، اس سے چھین کر بھاگ گیا ہو….

”سویٹ ہارٹ! آپ کسی کو خود سے شادی کرنے کے لیے فورس نہیں کر سکتیں….“

الحان پیار بھری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتا، اس کے آنسو پونچھنے لگا…. آنیہ، گڑیا کی طرح پلکیں جھپکانے لگی….

”لیکن آپ نے ماما کو خود سے شادی کے لیے فورس کیا تھا ناں؟“

اس کی رُندھی آواز میں کہا گیا جملہ سنتے ہی الحان کی مسکراہٹ پلک جھپکتے غائب ہوتی دکھائی دی….

”آپ سے کس نے کہا؟“

”اندر کبیر انکل، عماد کی ماما، میری ماما، دادی، دادو، سب بول رہے تھے…. جب تک انہوں نے ہاں نہیں بول دی…. اس کا مطلب آپ نے ماما کو فورس کیا ناں؟“

وہ گڑیا کی طرح پلکیں جھپکاتی، رُک رُک کر الحان کو ڈیٹیل بتانے لگی…. الحان اپنا سر تھام کر رہ گیا….

”آپ کی ماما بھی مجھ سے شادی کرنا چاہتی تھیں….“

آنیہ خاموشی سے اس کی جانب دیکھنے لگی…. پھر بولی….

”عمادبھی مجھ سے شادی کرے گا پھر….“

ننھی آنکھوں میں پھر سے آنسو تیرنے لگے…. الحان اسے اپنی بانہوںمیں دبوچتا، اس کے رخسار پر بوسہ دیتا، اسے بانہوں میں اٹھاتا، محل کے اندر داخل ہو گیا…. اندر بیٹھے سبھی لوگ چائے پینے میں مصروف تھے…. الحان کے اندر داخل ہوتے ہی سب لوگ اسی کی جانب متوجہ ہوئے…. الحان کی بانہوں میں آنسو بہاتی آنیہ کو دیکھتے ہی مانہ تڑپ کراٹھ کھڑی ہوئی…. وہ الحان کی جانب دوڑی….

”کیا ہوا آنیہ؟“

آنیہ الحان سے دور ہٹتی، مانہ کی بانہوں میں چلی آئی…. وہ اسے زور سے گلے ملتی اپنے آنسو صاف کرنے لگی….

”کیا ہوا ہے میری جان! آپ رائیڈنگ کے لیے گئی تھیں ناں؟ کیا ہوا؟“

الحان اس کے نزدیک چلا آیا….

”آنیہ کہتی ہے کہ اسے عماد سے شادی کرنی ہے….“

الحان نے مانہ کے کان میں سرگوشی کی…. مانہ ایک دم مسکرا دی…. وہ اسے پیار سے تھپکتی مامتا بھرے انداز میں گویا ہوئی….

”او میری جان! جاﺅ اوپر جا کر چینج کر لو…. شاباش!“

آنیہ اس کی بانہوں میں مچلنے لگی…. ضد کرنے لگی….

”جاﺅ ناں میری جان!…. جاﺅ جلدی سے چینج کر کے واپس آﺅ….“

”مجھے صاحبہ آنٹی کے گھر جانا ہے….“

وہ سوں سوں کرتی سرگوشی کرنے لگی….

”صاحبہ آنٹی، عاشر انکل کے ساتھ پاکستان گئی ہیں آنیہ…. اگلے ہفتے واپس آئیں گی تو ہم سب ان سے ملنے جائیں گے….“

وہ اسے پیار سے سمجھانے لگی….

”پھر مجھے زرین آنٹی کے گھر جانا ہے….“

”زرین آنٹی ماما کی بک کے ساتھ بزی ہیں بیٹا! آپ کو معلوم ہے ناں؟“

مانہ نے اسے نیچے اُتار دیا….

”چلو جاﺅ شاباش! چینج کر کے جلدی سے واپس آﺅ…. اور ہاں اب آپ عماد کے ساتھ جھگڑا نہیں کریں گی…. اوکے!“

آنیہ غصہ بھری نگاہوں سے ، کبیر کی گود میں کھیلتے عماد کی جانب دیکھتی، سر جھٹکتی، دوڑتی ہوئی سیڑھیاں پھلانگنے لگی…. اس کے جاتے ہی مانہ کھلکھلا کر ہنس دی…. الحان لمبی سانس کھینچتا کبیر اور اپنی فیملی کے بیچ آ بیٹھا…. ابراہیم صاحب مسکراتے ہوئے الحان کی جانب دیکھنے لگے….

”کیا ہوا؟ کیوں رو رہی تھی ہماری آنیہ؟“

”جناب عالیہ بڑی ہو گئی ہیں…. وہ شادی کرنا چاہتی ہیں….“

الحان نے حیرانگی کا اظہار کیا تھا…. اس کے ساتھ ساتھ سبھی لوگ حیرانگی سے اس کی جانب دیکھنے لگے….

”کس سے؟“

مسزابراہیم مسکراتے ہوئے پوچھ رہی تھیں….

”عماد صاحب سے….“

”کیا؟….“

”ہا ہا ہا ہا….“

یک آواز قہقہے کی گونج سنائی دی…. سبھی لوگ آنیہ کی فرمائش پر دل کھول کر ہنس دئیے تھے….

”میں ہماری آنیہ کو سمجھاتی ہوں…. کہ شادی کے لیے انتظار کرنا پڑتا ہے….“

مسزابراہیم اٹھ کھڑی ہوئیں….

”آپ کہاں جا رہی ہیں؟“

مانہ پوچھنے لگی….

”آنیہ کو سمجھانے….“

مانہ بھی اٹھ کھڑی ہوئی….

”میں بھی آپ کے ساتھ آتی ہوں….“

”اور میں بھی….“

کبیر کی وائف بھی اٹھ کھڑی ہوئی…. وہ تینوں اب چلتی ہوئی آنیہ کے کمرے کی جانب بڑھنے لگیں….

عماد، کبیر کی گود میں بیٹھا چلّا اٹھا….

”میں آنیہ سے شادی نہیں کروں گا….“

”کیوں نہیں؟“

اس بار کبیر بولا….

”کیونکہ وہ مجھے مارتی ہے…. میرے بال کھینچتی ہے….“

اس بار تینوں مردوں کا قہقہہ ہوا میں بلند ہوا…. عماد منہ بسور کر بیٹھ گیا….

ض……..ض……..ض

”الحان! کیا ہو گیا ہے آپ کو؟…. آنیہ چھوٹی بچی ہے…. اور بچے ایسی باتیں کر دیتے ہیں…. آپ کیوں اتنا پریشان ہو رہے ہیں؟“

اس رات الحان نائٹ ڈریس میں ملبوس، بیڈ پر لیٹاہی تھا کہ سامنے ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی، ہاتھوں کا مساج کرتی مانہ سے آج کا قصہ چھیڑ بیٹھا…. وہ خاصا پریشان دکھائی دے رہا تھا…. مانہ مسکراتے ہوئے اسے سمجھانے لگی تھی….

”وہ صرف چھ سال کی ہے…. اور ابھی سے شادی کی بات؟“

”ہاں! وہ چھ سال کی ہے…. اور وہ اپنی لائف میں بہت کچھ کرنا چاہتی ہے…. مگر اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ جو سوچ رہی ہے وہ سب ابھی سے ممکن ہو جائے گا….“

”تو مطلب کہ تمہیں اس کی شادی والی بات نے بالکل سرپرائز نہیں کیا؟“

وہ پوچھ رہا تھا…. مانہ مسکراتی ہوئی بیڈ پر اس کے برابر میں آ بیٹھی….

”بیٹیوں کی مائیں ان کی پیدائش پر ہی ان کی شادی کے خواب دیکھنے لگتی ہیں….“

”مانو! وہ صرف چھ سال کی ہے….“

”مجھے معلوم ہے الحان کہ آپ کی بیٹی چھ سال کی ہے…. لیکن ایک نہ ایک دن ہم نے اس کی شادی تو کرنی ہی ہے….“

الحان سوچ میں پڑ گیا…. پھر بولا….

”نہیں…. میں آنیہ کو خود سے جدا نہیں کر سکتا…. میں اسے خود سے دور ہرگز نہیں جانے دوں گا….“

وہ بچوں کی طرح منہ بسورنے لگا…. مانہ کھلکھلا کر مسکرا دی….

”الحان! آپ بچوں کی طرح ری ایکٹ کر رہے ہیں….“

”بس کہہ دیا…. وہ کہیں نہیں جائے گی….“

مانہ مسکرا دی….

”جب وہ بڑی ہو جائے گی…. تو وہ سب کچھ کرے گی جو وہ چاہتی ہے…. آپ اسے نہیں روک سکتے…. وہ آپ ہی کی بیٹی ہے…. آپ کی طرح ضدی….“

مانہ نے سرگوشی کی…. پھر وہ مسکرانے لگی…. الحان اسے گھورنے لگا….

"I Love You!”

مانہ مسکراتے ہوئے پھر سے سرگوشی کی…. الحان ایک دم مسکرا دیا….

"I Love You Too!”

وہ اسے کھینچ کر اپنی بانہوں میںجکڑ بیٹھا….

ض……..ض……..ض

رات گہری ہو گئی تھی…. مانہ گہری نیند میں گم پُرسکون نیند سو رہی تھی…. الحان ابھی تک جاگ رہا تھا…. نجانے وہ اتنا اَپ سیٹ کیوں تھا…. اس نے پُرسکون نیند سوتی مانہ پر نگاہ دوڑائی…. پھر آہستگی سے اٹھتا، بیڈ سے نیچے اُترا…. دبے قدموں چلتا وہ کمرے سے باہر نکل آیا…. کمرے سے نکلتے ہی اس نے بغل والے کمرے کا دروازہ کھولا…. آنیہ اپنی ماما کی طرح پُرسکون نیند سو رہی تھی…. الحان دبے قدموں چلتا آنیہ کے قریب چلا آیا…. وہ سوتے میں مسکرا رہی تھی…. الحان حیرانی سے اس کی جانب دیکھنے لگا….

”کہیں یہ خواب میں اپنی اور عماد کی شادی دیکھ کر تو نہیں مسکرا رہی؟….“

اسے اچننبھہ ہوا…. وہ لب بھینچتا من ہی من میں ہمکلام ہوا…. پھر دھیمے سے مسکرا دیا…. جھک کر اس کا بلینکٹ درست کرتا، وہ اس کی پیشانی پر بوسہ دیتا، دبے قدموں کمرے سے باہر نکل آیا…. وہ واپس اپنے کمرے میں آ گیا تھا…. مانہ ویسے ہی سو رہی تھی…. الحان آہستگی سے بیڈ پر لیٹ گیا…. اس نے مانہ کی جانب دیکھا…. اس کے چہرے پر سکون تھا…. الحان فخر سے مسکرا دیا…. پھر مانہ کو آہستگی سے کھینچ کر اپنی بانہوں میں قید کرتا، اس کی پیشانی پر بوسہ دیتا، آنکھیں موند گیا…. مانہ کسمساتی، اس کے سینے پر سر ٹکاتی، پُرسکون نیند سوتی رہی….

زندگی کتنی حسین تھی…. دراصل زندگی جب چاہے جہاں چاہے شروع ہو سکتی ہے…. منزل اپنے آپ قدموں تلے چلی آتی ہے…. منزل حاصل کرنے کا کوئی خاص فارمولا نہیں ہے…. یہ منزل کا اپنا کمال ہے…. کہ وہ اپنے مسافروں کواپنے حضور طلب کرتی رہتی ہے…. خود ہی ان میں ذوق پیدا کرتی ہے…. خود ہی سفر کا انتظام کرتی ہے…. اور خود ہی ہمسفری کے فرائض ادا کرتی ہے…. اور کسی بھی وقت کسی بھی نقطے پر اپنے مسافروں کو خوش آمدید کہتی ہے…. پھر انسان زمین پر رہتے ہوئے محسوس کرتا ہے کہ آسمانوں پر رہ رہا ہے…. انسان پر کبھی راستہ بندنہیں ہوتا…. یہ بات یاد رکھی جائے کہ ہر دیوار کے اندر دروازہ ہے، جس میں سے مسافر گزرتے رہتے ہیں…. مایوسیوں کی دیواروں میں اس کی رحمت امید کے دروازے کھولتی رہتی ہے…. انتظار ترک نہ کیا جائے تو رحمت یقینا ہوتی ہے…. امید کا چراغ جلتا ہے…. وہ وقت جس کا بے چینی سے ہم انتظار کرتے ہیں، ایک نہ ایک دن ضرور آتا ہے…. مایوسیوں کے بادل چھٹ جاتے ہیں…. چراغاںہوتا ہے…. پتھر موم ہو جاتے ہیں…. دل محبت سے معمور ہو جاتے ہیں پیشانیاں سجدوں سے سرفراز ہو جاتی ہیں…. زندگی کو زندہ رہنے کا استحقاق مل جاتا ہے…. بس چلتے چلیں، منزلیں خود سلام کریں گی…. دنیا کے خلاف فریاد نہ کریں…. کوشش کریں کہ کوئی آپ کے خلاف فریاد نہ کرے…. دوسروں کو خوش کرنے سے خوشی اپنے آپ میسر ہو جایا کرتی ہے…. اور یہی جینے کا جواز ہے…. محبت بہت بڑا کرشمہ ہے…. جو اللہ کی طرف سے عطا ہوتا ہے…. اور اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے…. ہمیشہ سے…. ہمیشہ کے لیے….

مانہ کی زندگی جس قدر دشوار تھی، اب اس قدر حسین ہو گئی تھی…. اس نے صبر کیا تھا…. اوراللہ نے اس کے صبر کے عوض اسے الحان ابراہیم جیسے خوبصورت تحفے سے نوازا تھا…. جسے دیکھ دیکھ کر وہ جینے لگی تھی…. وہ امر ہو گئی تھی….

تیری صورت کو نگاہوں میں بسائے رکھوں….

دل یہ کرتا ہے، تجھے تجھ سے چرا کے رکھوں….

تجھے دیکھوں، تجھے چاہوں، تجھ سے پیار کروں….

تیرے رنگ و رُوپ کو میں سب سے چھپا کے رکھوں….

کر لو ں قید اپنے دل میں تیرے جیون کو….

تجھے میں عشق کی زنجیر پہنا کے رکھوں….

کوئی بھی جان نہ پائے تیری آنکھوں کی گہرائی….

میں تجھے ایسے کنول جھیل بنا کے رکھوں….

دل یہ کہتا ہے،تیرے بعد کوئی تجھ سا نہ ہو….

میں تجھے آخری تحریر بنا کے رکھوں….

تجھے اپنی آنکھوں میں چھپا کے رکھوں….

دل یہ کرتا ہے، تجھے تجھ سے چرا کے رکھوں….

ض……..ض……..ض

سامنے ہے سویرا

”دل…. ٹشو پیپر کی طرح سمجھتے ہیں لوگ اسے، ایک پل کے لیے ساتھ رکھا اور پھربے دردی سے دھتکار پھینکا زمین پر۔“ وہ اس پھسلتی سڑک سے سینکڑوں بار گزرا تھا، مگر آج یہ سڑک اسے بہت عجیب اور اجنبی لگ رہی تھی، وہ سر جھکائے چلتے ہوئے اپنے ہی ہر اٹھنے والے قدم کو کھوئے کھوئے انداز میں دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں خود سے الجھ رہا تھا، زمین پر پڑے ٹشو پیپر کو پاﺅں سے اُچھال کر وہ آگے بڑھاتھا۔

”اب کیا مقصد ہے میری زندگی کا؟“ وہ گہری سانس لے کر ایک لمحے کو رُکا تھا۔

”اس نے میرے ساتھ ایسا کیوں کیا؟“ دل میں بہتے آنسوﺅں کی نمی آنکھوں میں اُتری تو آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر لمبی سانس کھینچتے ہوئے آنکھوں کی نمی کو اندر دھکیلا اور ٹھوس اندازمیں خود سے مخاطب ہوا۔

”زندگی میں دوبارہ پیار جیسی بھیانک غلطی کبھی نہیں کروں گا،کبھی نہیں۔“ اس نے اک سرد آہ بھری اور بوجھل قدموں سے ایک بار پھر سے چلنا شروع کر دیا، یوںلگ رہا تھا کہ سڑک خاص اس سفر کے لیے بچھائی گئی ہے جو منزل پر پہنچتے ہی لپٹ کر صفحہ ہستی سے مٹ جائے گی، اسے لگ رہا تھا کہ کسی بھی پل سب کچھ غائب ہو جائے گا۔

اسجل کو اپنے دماغی توازن پر شک ہونے لگا تھا۔ اس نے انگشت شہادت اور انگوٹھے سے پپوٹوں، ماتھے کی جلد کو سہلانا شروع کیا، اپنے اردگرد کے ماحول پر کوشش سے شعوری نگاہ کی، سب کچھ اپنی جگہ تھا، کچھ بھی تو نہ بدلا تھا۔ آسمان پر چھائی کالی چادر اب ہلکے نیلے رنگ میں بدلنے لگی تھی، اسے احساس ہوا کہ وہ کل رات سے سڑکوں پر مارا مارا پھر رہا تھا۔

پوری رات بیت چکی تھی، تھکاوٹ اور چڑچڑاپن چہرے کے ہر زاویہ سے عیاں ہو رہا تھا، اسے اس پل دنیا اور دنیا والوں سے شدید نفرت محسوس ہو رہی تھی۔ بالوں کو انگلیوں میں جکڑتے ہی وہ اپنی آنکھیں موند کر لب بھینچ گیا، اسی پل بادلوں کی گھن گرج نے اسے چونکنے پر مجبور کر دیا، آسمان پر نگاہیں جماتے ہوئے وہ ایک بار پھر سے ہم کلام ہوا۔

”میرے اندر بھی ایسی ہی گھنگھور گھٹائیں چھائی ہیں، اس نے…. اس نے یہ سب محسوس کیوں نہ کیا؟ Why she cheated on me?“۔ درد بھری مسکراہٹ لبوں پر سجائے نفی میں سرہلاتے ہوئے اس نے نم بھری نگاہیں گھما کر اپنے اردگرد کا جائزہ لیا اور آگے بڑھ گیا۔

جیسے ہی اس نے گلی کا زاویہ بدلا تو اس کی نگاہوں نے کچھ ایسا دیکھا، کچھ ایسا جو وہ کبھی کسی کے ساتھ ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا، اس نے ایک گہری نگاہ اس لمبے چوڑے نوجوان پر ڈالی جو ایک بیس سالہ نازک سی لڑکی کو مار پیٹ رہا تھااور اس پر چیخ رہا تھا۔

”میں تمہاری وجہ سے ذہنی طورپر بیمار ہو گیا ہوں، تم میری بربادی کی وجہ ہو، نفرت کرتا ہوں میں تم سے ، سمجھیں تم۔“ وہ نوجوان اپنے کہے گئے ہر جملے کے ساتھ اس نازک لڑکی کے گال پر ضرب لگا رہا تھا، ایک ہی لمحے میں لگ بھگ پانچ چانٹے اس نے اس نازک لڑکی کے چہرے پر دے مارے تھے۔

اسجل سے رہا نہ گیا تو وہ لپک کر آگے بڑھا اور مداخلت کرتے ہوئے بولا:

”ایکسکیوز می سر! یہ کوئی طریقہ نہیں ہے عورت ذات سے بات کرنے کا، ایک نازک کمزور لڑکی پر ہاتھ اٹھا کر آپ کیا ثابت کرنا چاہتے ہیں؟ وہ بھی اس طرح سڑک کے بیچ و بیچ؟“

”بیوی ہے میری، جو مرضی سلوک کروں اس کے ساتھ، تو کون ہوتا ہے مجھے روکنے والا؟ چل شاباش نکل لے یہاں گے۔“ وہ نوجوان نشے میں جھومتے ہوئے اسجل کی طرف پلٹ کر بولا تو پاس کھڑی وہ نازک لڑکی بے دردی سے اپنے نازک گورے گالوں کو رگڑتے ہوئے نظریں جھکاگئی۔

”دیکھئے سر! یہ آپ کی جو بھی ہیں، مجھے بالکل پسند نہیں کہ کوئی آدمی اس طرح سڑک کے بیچ و بیچ کسی عورت ذات پر اس طرح بھڑکے اور اس پر ہاتھ بھی اٹھائے۔“ نشے میں دُھت اس نوجوان نے اس بار اسجل کو بڑے غور سے دیکھا تھا اور پھر خباثت زدہ چہرے پر طنزیہ ہنسی سجاتے ہوئے دانت پیس کر بولا:

”یا تو سڑک پر چلنا چھوڑ دے، یا پھر آنکھیں بند کر کے چلنا شروع کر دے سمجھا؟“ اسجل کے شولڈر پر ہاتھ رکھ کر اس نے اسے تاکید کی اور پھر واپس اس لڑکی کی طرف پلٹ کر بولا۔

”چلو دیا! گھر چلیں۔“ وہ لہجہ بدل کر شیریں انداز میںبولا تو اسے اپنی جانب پلٹے دیکھ کر دیا گھبرائے ہوئے انداز میں کانپتے وجود کے ساتھ وہیں کھڑی رہی، اسے وہیں کھڑے دیکھ کر وہ دانت پیستے ہوئے غصیلی آواز میں بولا۔

”میں نے کہا گھر چلو۔“

”نن…. نہیں…. مم…. مجھے آپ کے ساتھ نہیں جانا۔“ لڑکی نے کانپتے ہوئے اپنی بات کہی تو وہ لڑکا غصیلی نگاہوں سے اسے گھورتے ہوئے اس کے قریب آ کر دانت پیستے ہوئے حکمرانہ انداز میں بولا۔

”دیا بیگم! جب میں تمہیں کچھ کرنے کے لیے کہوں، تو تمہیں وہ ہر حال میں کرنا ہے، پھر چاہے تمہیں وہ اچھا لگے یا نہ لگے، سمجھیں تم؟ "Now come on!

اس بار اس نے اسے اپنے ساتھ چلنے کا مطالبہ کیا تھا لیکن دیا اپنی جگہ ڈھیٹ بنی کھڑی زمین کو دیکھتے ہوئے بولی۔

”نہیں…. میں آپ کے ساتھ ہرگز نہیں جاﺅں گی۔“ دیا کو گھورتے ہوئے اس نے اس کے بازوﺅں کو اپنی مضبوط گرفت میں لیا اور اسے تقریباً گھسیٹتا ہوا آگے بڑھ گیا۔ دیا اپنے بازو اس کی مضبوط گرفت سے چھڑانے کی ناکام کوشش کرتی ہوئی اس کے ساتھ سامنے والے گھر میں گھسیٹتی چلی جا رہی تھی۔

”چھوڑیں مجھے…. چھوڑیں۔“

اسجل وہیں کھڑا غصے اور کراہیت بھری نگاہوں سے اس ظالم انسا ن کو دیکھتا رہا، وہ نہیں جانتا تھاکہ اسے کیا کرنا چاہیے، کیونکہ یہ اس کا معاملہ تو ہرگزنہ تھا، لیکن وہ اس لڑکی یا اس جیسی کسی بھی لڑکی کو اس طرح ہرٹ ہوتے ہوئے نہیں دیکھ سکتا تھا، وہ یقینا ایک خوبصورت لڑکی تھی، اس کا معصوم پری زاد چہرہ، آنکھوں میں خوف اور خوف سے کانپتا اس کا نازک وجود اسجل سے چھپا نہ رہا تھا۔

اس نوجوان نے خود کو چھڑاتی دیا کو زوردار دھکا دے کر زمین پر گرایا اور پھر اسے اس کے بالوں سے پکڑ کر اٹھایا اور ایک بار پھر سے گھسیٹتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔

”یہ تم ٹھیک نہیں کر رہے، میںپولیس میں تمہاری رپورٹ لکھواﺅں گا۔“ اسجل ایک دم بھڑک اٹھا تھا۔ گھر کی جانب بڑھتے اس شخص کے قدم وہیں پر تھم گئے تھے، غصے سے پلٹ کر اس شخص نے اسجل کو پوری طاقت سے پیچھے جھٹکا دیا تھا۔

”کیا لگتی ہے تیری؟ جو تجھے اتنی تکلیف ہو رہی ہے؟ اپنے کام سے کام رکھ اور نکلتا بن یہاں سے، ورنہ یہیں بھون کر رکھ دوں گا تجھے سالے۔“

اسجل وہیں کھڑا دانت پیس کر رہ گیا تھا، جبکہ وہ شخص اس لڑکی کو گھسیٹتے ہوئے اس بڑی سی کوٹھی میں داخل ہو گیا تھا۔ وہ مسلسل رو رہی تھی اور اس بار اس کے چہرے پر تکلیف خاص طور پر عیاں تھی۔ گیٹ کے اس پار جاتے ہی اس شخص نے گیٹ اندر سے لاک کر دیا تھا۔ اسجل غصہ بھری نگاہوں سے بند گیٹ کی جانب گھورتے ہوئے دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوا۔

”کیسے کیسے لوگ ہیں دنیا میں، انسانیت تو مانو جیسے کہیں سے چھو کر بھی نہیں گزری۔“

بادلوں کی گھنگھور آواز نے ایک بار پھر سے اپنی جانب دیکھنے پر مجبور کر دیا۔ وہ پُرشکوہ نگاہوں سے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے لمبی سانس کھینچ کر رہ گیا۔

ض……..ض……..ض

اگلے دن جب وہ جوگنگ ٹریک پر دوڑتے دوڑتے تھک گیا تو دوڑتے قدموں کی رفتار دھیرے دھیرے کم کرتے ہوئے بینچ کی جانب بڑھ گیا۔ بینچ پر بیٹھتے ہی اس نے سوکھتے لبوں کو زبان سے تر کرتے ہوئے ایک اچٹتی سی نگاہ اپنے اردگرد دوڑائی، سامنے والی بینچ پر بیٹھے ایک شناسا چہرے کو دیکھتے ہی وہ کچھ سوچتے ہوئے دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوا۔

”اسے میں نے کہیں دیکھا ہے، پر کہاں؟“ لبوں کو دانتوں تلے بھینچتے ہوئے وہ اپنے دماغ پر زور دینے لگا تھا۔

”ہاں!…. یہ تو وہی لڑکی ہے۔“ یاد آتے ہی اس نے نظروں کا زاویہ ادھر اُدھر گھماتے ہوئے متلاشی نگاہوں سے اس کے ظالم شوہر کو ڈھونڈنے کی کوشش کی تھی۔

”وہ جلاد نظر نہیں آ رہا۔“ پھر نجانے کیا سوچتے ہوئے وہ اٹھ کر سامنے والی بینچ کی جانب بڑھ گیا۔

”ایکسکیوزمی!“ بھاری مردانہ آواز کانوں سے ٹکرائی تو بت بنی وہ پری زاد اک ہی لمحے میں گھبرا گئی۔

”آپ گھبرائیے مت، میں یہاں آپ کو ڈسٹرب کرنے نہیں آیا۔“ دیا بدستور گھبرائے ہوئے انداز میں پریشانی سے لب بھینچ گئی۔

”کیا میں یہاں بیٹھ سکتا ہوں؟“ خوف بھری نگاہیں اٹھا کر اس نے اک لمحے کے لیے اس لمبے چوڑے انسان کی جانب دیکھا اور پھر نظریں جھکائے اٹھ کھڑی ہوئی۔

”آپ…. آپ بیٹھیے، میرا مقصد آپ کو تنگ کرنے کا ہرگز نہیں، میں دراصل آپ کے لیے کافی فکرمند تھا،کل صبح اس لڑکے کو آپ کے ساتھ اس طرح بدسلوکی کرتے دیکھ کر مجھے بالکل اچھا نہیں لگا، اسے آپ کے ساتھ اس طرح کی بدسلوکی ہرگز نہیں کرنی چاہیے۔“ دیا کو اس طرح اٹھ کر جاتے دیکھتے ہی وہ ایک دم الرٹ ہو کر بولا تو سامنے کھڑی دیا خوف کے مارے کانپتی آواز میں گویا ہوئی۔

”د…. دیکھئے…. آ…. آپ جو کوئی بھی ہیں…. آپ کی ہمدردی کے لیے شکریہ…. اب آپ یہاں سے چلے جائیے…. مم…. مجھے کسی اور مرد کی طرف آنکھ تک اٹھا کردیکھنے کی اجازت نہیں ہے۔“

”وہ یہاں نہیں ہے…. مس! میں یہاں آپ کو مزید ہرٹ کرنے ہرگز نہیں آیا…. میں صرف آپ کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔“

”آپ کیا پویس والے ہیں؟“

”نہیں مس! میں ایک عام سا آدمی ہوں، لیکن آپ ڈرئیے مت، مجھ سے ایک بار بات کرنے میں کوئی حرج نہیں۔“ دیا نے ایک لمحے کے لیے اس اجنبی کی جانب دیکھا اور پھر دل ہی دل میں خود سے مخاطب ہوئی۔

”میں اس طرح کسی اجنبی سے بات نہیں کر سکتی…. لیکن…. مجھے لگتا ہے کہ کسی نہ کسی سے تو بات کرنی ہی پڑے گی۔“ اسجل کی جانب دیکھتے ہوئے وہ بہت دھیمے سے گویا ہوئی تھی۔

”ٹھیک ہے…. آپ …. بیٹھیے۔“ مثبت جواب ملتے ہی وہ فوراً لپک کر بینچ پرجا بیٹھا تھا، دیا کے بینچ پر بیٹھتے ہی اسجل نے اپنا تعارف کرایا تھا۔

”میرا نام اسجل ہے، ڈیفنس بلاک ڈی میں رہتا ہوں، آپ کا نام؟“

”دیا!“

”آپ کے گھر والے آپ کے شوہر کو روکتے نہیں اس طرح بدسلوکی کرنے سے؟“

”نہی…. معید کی فیملی سڈنی میں رہتی ہے اور یہ گھر وہ جگہ ہے جہاں معید مجھے لاک کرتے ہیں، دن بھر آفس میں رہنے کے بعد جب گھر لوٹتے ہیں تو زبردستی نائٹ پارٹیز پر لے کر جاتے ہیں، گھر آتے ہی پھر سے لاک کر دیتے ہیں۔ مجھے نہ کسی سے بات کرنے کی اجازت ہے نہ ہی اکیلے کہیں باہر جانے کی، کبھی موڈ اچھا ہو تو صرف واک کے لیے اس پارک میں آنے کی اجازت مل جاتی ہے۔“ دیا کی باتیں سنتے ہی وہ دکھ بھری نگاہوں سے اس کی جانب دیکھنے لگا تھا۔ کچھ دیر کی خاموشی کے بعد وہ بہت دھیمے لہجے میں گویا ہوا تھا۔

”اتنا سب کچھ ہو نے کے باوجود آپ اس ظالم شخص کے ساتھ ہی رہتی ہیں؟“ اسجل کی بات پر دیا نے دردبھری مسکراہٹ لبو پر سجائی اور پھربالکل سپاٹ لب و لہجے میں گویا ہوئی۔

”میں معید کے ساتھ خوش ہوں، وہ ایک اچھے انسان ہیں۔“ اسجل نے دیا کی بات پر حیران ہوتے ہوئے اپنی ایک آئی برو اُچکائی اور اس کی جانب دیکھتے ہوئے حیران کن لہجے میں بولا۔

”وہ آپ کے ساتھ اتنا بُرا سلوک کرتاہے، پھر بھی آپ؟“

”کیونکہ میں اچھی شریک حیات نہیں ہوں۔“ اسجل نے سپاٹ چہرے والی اس لڑکی کو ایک بار پھر سے حیران کن نگاہوں سے دیکھا تھا۔

”تو آپ اس شخص کے ساتھ کیوں رہتی ہیں؟“

”کیونکہ میں ان سے پیار کرتی ہوں۔“ اسجل کی نظروں نے زاویہ بدل کر زمین پر بکھری اس سرسبز گھاس کی جانب گھورنا شروع کر دیا تھا۔ اس نے دیا سے زیادہ خوبصورت، سادہ وار معصوم لڑکی آج سے پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔ گوری رنگت، گہری سبز آنکھیں، پتلے پتلے نین نقش اور ڈارک براﺅن لمبے گھنے بالوں نے اس کی شخصیت کو چار چاندلگا دئیے تھے۔اتنی پیاری لڑکی اس قدر اذیت بھری زندگی کی حقدار تو نہ تھی۔اسجل اس کے لیے کچھ کرنا چاہتا تھا، اسے اس جانور سے نجات دلانا چاہتا تھا، مگر کیسے؟ یہی سوچ اسے پریشان کیے جا رہی تھی۔

”میں اب چلتی ہوں، معید نے دیکھ لیا تو بہت بُری طرح پیش آئیں گے۔“ دیا کی آواز نے اسے چونکنے پر مجبور کر دیاتھا، تبھی وہ مثبت انداز میں سر ہلا کر رہ گیا۔

دیا نے اٹھتے ہی اپنے قدم گیٹ کی جانب بڑھا دئیے تھے۔ اسجل وہیںبیٹھا پریشان کن نگاہوں سے اسے گیٹ کی جانب بڑھتے دیکھ رہا تھا۔ چند قدم چلتے ہی دیا لڑکھڑاتے ہوئے زمین پر گر پڑی تھی۔ اسے زمین پر گرتے دیکھ کر اسجل لپک کر اس کی جانب بڑھا تھا۔ پارک میں موجود لوگوں نے بھی اردگرد جمگھٹا بنا لیا تھا۔

”دیا! کیا ہوا؟ آپ ٹھیک تو ہیں ناں؟“ گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے اس نے دیا کو مخاطب کیا تو وہ درد سے کراہتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی۔

”میں ٹھیک ہوں، آپ لوگ پلیز اپنا کام کریں۔“

”آپ مجھے ٹھیک نہیں لگ رہیں، میں آپ کوڈاکٹر کے پاس لے کر جاتا ہوں۔“ بوجھل ہوتی نگاہوں سے اسجل کی جانب دیکھتے ہوئے وہ نفی میں سر ہلا کر بولی۔

”نہیں…. میں ٹھیک ہوں۔“ چکاچوند روشی ایک دم اندھیرے میں بدلی اور وہ آنکھیں موندے وہیں زمین پر ڈھے سی گئی۔

”دیا…. دیا!“

ض……..ض……..ض

اس نے دھیرے دھیرے اپنی آنکھیں کھولیں، سامنے کا منظر بہت ہی دھندلا دکھائی دے رہا تھا۔ آنکھیں زور سے میچتے ہوئے اس نے اپنا بایاں ہاتھ اٹھا کر پیشانی پررکھ لیا تھا۔ دیا کے بیڈ کی رائٹ سائیڈ پر پریشان بیٹھے اسجل نے فوراً الرٹ ہوتے ہوئے آگے بڑھ کراسے مخاطب کیا تھا۔

”دیا! کیا آپ ٹھیک ہیں؟“ اجنبی آواز کانوں سے ٹکرائی تو وہ ایک بار پھر سے آہستگی سے آنکھیں کھول کر اپنی رائٹ سائیڈ پر دیکھتے ہوئے دھیمے سے بولی۔

”میں …. کہاں ہوں؟“

”آپ ہاسپٹل میں ہیں۔“ دیا نے اٹھنے کی کوشش کی، لیکن اگلے ہی لمحے وہ درد کی شدت کی تاب نہ لاتے ہوئے واپس بیڈ پر لیٹ گئی۔

”آپ اٹھیے مت…. ڈاکٹر نے مجھے بتایا کہ آپ کے Stomach پر ایک گہرے کٹ کا نشان ہے، ہم سب آپ کے ہوش میں آنے کا انتظار کر رہے تھے، تاکہ آپ بتا سکیں کہ آپ کے ساتھ کیا حادثہ پیش آیا؟“ اسجل نے پریشانی سے آگے بڑھ کر اسے اٹھنے سے باز رکھا اور ساتھ ہی ساتھ ڈاکٹر کی بتائی گئی بات دہراتے ہوئے پریشانی کے عالم میں ہی اس کی جانب دیکھتا رہا، اسجل کی بات سنتے ہی اس نے اپنے خشک ہوتے لبوں کو زبان سے تر کرتے ہوئے التجائیہ انداز میں کہا۔

”دیکھئے! میں اب بالکل ٹھیک ہوں، مجھے ابھی اسی وقت گھر جانا ہے۔“ اسجل نے حیرانگی ظاہر کرتے ہوئے کچھ کہنے کو لب کھولے ہی تھے کہ ڈاکٹر نرس کے ہمراہ روم میں داخل ہوا اور دیا کو ہوش میں پاتے ہی مسکرا کر گویا ہوا۔

”اب آپ کیسا فیل کر رہی ہیں؟ پین تو نہیں ہو رہی ناں؟“

”میں بالکل ٹھیک ہوں، مجھے گھر جانا ہے ڈاکٹر!“

”لیکن مس دیا! آپ کا گھاﺅ ابھی تازہ ہے، میں اس طرح آپ کو گھر جانے کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتا اور ویسے بھی یہ سراسر ایک پولیس کیس ہے، آپ کے Stomach پر جو گہرا گھاﺅ ہے وہ کس نے اور کیوں کیا، یہ سب آپ بنا ڈرے پولیس سے کہہ سکتی ہیں۔ ہم سب آپ کا ساتھ دیں گے۔“ پولیس کا نام سنتے ہی اس کا سارا درد اُڑن چھو ہو گیا۔ پریشانی کے عالم میں وہ ایک جھٹکے سے اُٹھ بیٹھی تھی۔

”نن…. نہیں…. مم…. میںٹھیک ہوں، بالکل ٹھیک ہوں، مجھے ابھی اسی وقت گھر جانا ہے ڈاکٹر پلیز!“ اپنی بات مکمل کرتے ہی وہ اگلے لمحے بیڈ سے نیچے اُتر کھڑی ہوئی۔ نرس اور ڈاکٹر حیران کن انداز میں دیا اور پھر اسجل کی جانب دیکھنے لگے۔ وہ خود حیران مورت بنا دیا کی جانب دیکھے چلا جا رہا تھا۔

”دیا! یہ…. یہ کیا کر رہی ہیں آپ؟“ اسجل نے آگے بڑھ کر اسے روکنے کی کوشش کی تو اسی لمحے دیا نے ہاتھ اٹھا کر اسے اپنے نزدیک آنے سے باز رکھتے ہوئے تلخ لہجے میں کہا۔

”Stop مجھے کسی کی ہمدردی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ میں بالکل ٹھیک ہوں، میرے ساتھ کوئی حادثہ پیش نہیں آیا۔ مجھے بیکار میں کسی پولیس ولیس کے چکر میں ہرگز نہیں پڑنا۔ آپ سب لوگوں کی بڑی مہربانی، میںبالکل ٹھیک ہوں۔“ وہ ان تینوں کو حیران و پریشان کمرے میں چھوڑے باہر نکل آئی۔

کاریڈور میں آتے ہی اس نے ایک بار پھر سے درد کی شدت محسوس کی، اگلے ہی پل سنبھلتے ہوئے وہ لڑکھڑاتے قدموں سے چلتے ہوئے آگے بڑھ گئی۔ اسجل تقریباً دوڑتا ہوا اس کے پیچھے چلا آیا تھا۔

”دیا!“ اس کی آواز سنی اَن سنی کر کے وہ اپنے قدم آگے بڑھاتی چلی جا رہی تھی، تبھی اسجل نے آگے بڑھ کر اس کا راستہ روکتے ہوئے لمبی سانس کھینچ کر اسے مخاطب کیا۔

”اچھا ٹھیک ہے، یہاں کوئی پولیس نہیں آئے گی، آپ چلیے، زخم بھرنے تک آپ کا یہاں سے جانا بالکل ٹھیک نہیں۔“

”مجھے کہیں نہیں جانا۔“

”اپنی حالت تو دیکھئے! آپ ٹھیک نہیںہیں۔“

”میں ٹھیک ہوں، خدارا میرا راستہ چھوڑئیے۔“ اس کی رُندھی آواز پر وہ چند ثانیے یونہی کھڑا اسے دیکھتا رہا اور پھر ہتھیار گراتے ہوئے اسے راستہ دے کر اس کے ساتھ ساتھ باہر جانے والے راستے پر قدم دھرنے لگا۔ پارکنگ ایریا میں پہنچتے ہی دیا نے رکشہ کی جانب اپنے قدم بڑھائے تو اسجل نے ایک بار پھر سے اس کا راستہ روک کر اسے مخاطب کیا۔

”میں آپ کو ڈراپ کر دیتا ہوں۔“ دیا نے ایک چبھتی نگاہ اس کے چہرے پر ڈالتے ہوئے غصیلی آواز میں جواباً کہا۔

”مجھے آپ کے احسان کی ضرورت ہرگز نہیں، میں خود چلی جاﺅں گی۔“

”لیکن آپ اس حالت میں رکشہ کا سفر نہیںکر پائیں گی، یہ آپ کی صحت کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔“

”میرے لیے کیا ٹھیک ہے اور کیا نہیں، یہ مجھے آپ سے پوچھنے کی ضرورت نہیں۔“ وہ اپنی بات مکمل کرتے ہی غصیلے انداز میں سامنے کھڑے رکشہ کی جانب بڑھ گئی۔ اسجل وہیں کھڑا اسے رکشہ کی جانب بڑھتا دیکھ رہا تھا۔

رکشہ ڈرائیور کو ایڈریس سمجھاتے ہی وہ رکشہ میں سوار ہو گئی۔ کچھ دور جاتے ہی رکشہ ایک سپیڈ بریکر سے جمپ لگاتے ہوئے جھٹکے سے آگے بڑھا۔ رکشہ کی جمپ پر دیا کے درد کی شدت میں مزید اضافہ ہو چلا تھا۔ وہ اب باقاعدہ طور پر کراہنے لگی۔ اسجل نے رکشہ رکتے ہی اس کی جانب دوڑ لگائی۔

”معاف کرنا باجی! سپیڈ بریکر دکھائی نہیں دیا۔“ رکشہ ڈرائیور مڑ کر دیا کی طرف دیکھتے ہوئے معافی مانگنے لگا تھا۔ درد کی شدت کے باعث وہ آنکھیں میچے اور لب بھینچے بیٹھی تھی۔ اسجل نے رکشہ کے قریب پہنچتے ہی پریشان کن انداز سے دیا کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھا تھا۔

”آپ ٹھیک ہیں مس دیا؟ اور تم؟ دیکھ کر رکشہ نہیں چلا سکتے؟“

”دیا! آپ چلیں میرے ساتھ۔“ رکشہ ڈرائیور کو جھاڑ پلانے کے بعد اس نے دیا کو سہارا دے کر رکشہ سے باہر نکالا اور اپنی گاڑی کے قریب لے آیا۔

”مجھے گھر جانا ہے۔“ دیا نے نیم بیہوشی کے عالم میں سرگوشی کی تو وہ اپنی بلیک ہونڈا سٹی کا فرنٹ دروازہ کھولتے ہوئے دھیرے سے جواباً بولا۔

”ٹھیک ہے، میں آپ کو گھر ڈراپ کرتا ہوں، آپ بیٹھیں۔“ دیا کو گاڑی میں بٹھاتے ہی اس نے فوراً اپنی ڈرائیونگ سیٹ سنبھالی اور بڑی آہستگی سے گاڑی گیٹ سے باہر جانے والے راستہ کی جانب بڑھا دی۔اب گاڑی بہت ہی آہستہ آہستہ رفتار سے سڑک کے بیچ و بیچ چل رہی تھی۔ اسجل وقتاً فوقتاً فرنٹ سیٹ کی پشت سے ٹیک لگائے بیٹھی دیا کی جانب دیکھ رہا تھا۔

کافی دیر سے خاموش رہنے کے بعد اسجل نے خاموشی توڑتے ہوئے سامنے دوڑتی گاڑیوں پر نظریں ٹکاتے ہوئے بڑے ہی دھیمے انداز میں اسے مخاطب کر کے پوچھا۔

”آپ کو یہ زخم کیسے آیا؟“ دیا کچھ دیر خاموش بیٹھی باہر دوڑتی گاڑیوں کو دیکھتی رہی اور پھر بہت ہی سپاٹ لہجے میں گویا ہوئی۔

”معید نشے کی حالت میں کیا کچھ کر گزرتے ہیں، اس کا شاید انہیں خود بھی اندازہ نہیں۔ ایک دم بھڑک اٹھتے ہیں، خوب مارتے ہیں اور پھر…. سب بھول جاتے ہیں۔“ دو آنسو لڑھک کر اس کے گال پر آ ٹھہرے تھے۔ اسجل نے ایک دم گاڑی روک دی تھی۔ وہ اب بظاہر طور پر دیا کی جانب دیکھنے لگا تھا۔

”دیا! آپ اس شخص کو اپنے ساتھ ایسا کیسے کرنے دے سکتی ہیں؟ اس طرح خاموش رہ کر آپ اپنے ساتھ خود زیادتی کر رہی ہیں؟“ انگلیوں کی پوروں سے گالوں پر لڑھکتے آنسوﺅں کو صاف کرتے ہوئے وہ بہت ہی دھیمی آواز میں گویا ہوئی۔

”اگر میں نے معید سے چھوڑنے کا مطالبہ کیا تو وہ مجھے جان سے مار ڈالیں گے۔“

”کیا آپ واقعی معید سے پیار کرتی ہیں؟“

”ہاں! کبھی کبھی وہ بہت اچھا برتاﺅ کرتے ہیں۔ میرا دل چاہتا ہے کہ وہ ہمیشہ ایسے ہی رہیں۔ لیکن کبھی کبھی وہ ہر حد پار کر دیتے ہیں۔“ اسجل نے اس بار ایک لمبی گہری سانس کھینچی تھی۔ اس کے پاس کچھ کہنے کو الفاظ ہی نہ رہے تھے، تبھی ایک بار پھر سے دیا کی آواز اس کی سماعت سے گزری تھی۔

”مجھے جلدی گھر جانا ہو گا، اس سے پہلے کہ معید گھرپہنچیں، مجھے گھر پہنچنا ہو گا، اگر میں انہیں گھر پر موجود نہ ملی تو وہ پھر بہت بُرے پیش آئیں گے۔“ دیا نے خوفزدہ لہجے میں رات کی کالی چادر آسمان پر پھیلتے دیکھ کر کہا اسجل گہری سنجیدگی سے گویا ہوا….

”نہیں دیا! مجھے نہیں لگتا کہ آپ کو گھر جانا چاہیے۔“

”آپ کی ہیلپ کے لیے بہت بہت شکریہ! اب آپ مجھ سے دور رہیے گا۔“ اس نے تلخ لہجے میں اپنی بات کہتے ہی گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر نکل گئی۔ اسجل اسے پکارتا رہ گیا تھا لیکن وہ اسے اور اس کی گاڑی کو بہت پیچھے چھوڑے آگے ہی آگے نکلتی چلی گئی تھی۔

ض……..ض……..ض

ایک ہفتہ گزر چکا تھا، مگر اسجل کا ذہن ابھی بھی دیا کی طرف اٹکا ہوا تھا۔ وہ ان دنوں اپنا غم بھلا کر اسی اجنبی کے غم کو دل سے لگائے ہوئے تھا۔

”پتا نہیں وہ ٹھیک بھی ہے یا نہیں؟“ گاڑی ڈرائیو کرتے ہوئے وہ پریشان کن انداز میں سرگوشی کرنے لگا تھا۔

”ہفتہ بیت چکا ہے، وہ پارک میں بھی دکھائی نہیں دی۔“ سنسان سڑک پر سٹریٹ لائٹس کے نیچے گاڑی روکتے ہی وہ لبوں پر ہاتھ پھیرتے ہوئے دل ہی دل میں ہمکلام ہوا تھا۔

”مجھے ایک بار اس کے گھر جا کر اس کی خبر لینی چاہیے۔“ ذہن میں اُبھرتی بے شمار سوچوں کو دفن کرتے ہی وہ گاڑی کا رُخ دیا کے گھر کی جانب موڑ بیٹھا تھا۔

گاڑی گھر کے گیٹ پر روکتے ہی اس نے ایک گہری نگاہ گھر پر ڈالی اور پھر خشک ہوتے لبوں کو زبان سے تر کرتے ہوئے وہ گاڑی کا دروازہ کھول کر باہر نکل آیا۔

”تمام لائٹس آف ہیں، یعنی وہ دونوں گھر پر نہیں ہیں۔“ گھر کا جائزہ لیتی نگاہیں اب خالی سڑک پر مرکوز ہو چکی تھیں۔ بالوں میں انگلیاں پھنسائے وہ کچھ سوچتے ہوئے ایک بار پھر سے گھر کی جانب دیکھنے لگا تھا۔

”ہاں…. دیا نے بتایا تھا کہ وہ جلاد اسے روز نائٹ پارٹیز پر لے کر جاتا ہے۔“ سرد ہوا کا جھونکا اس کے گالوں سے ٹکرایا تو آسمان کی جانب نگاہیں اٹھاتے ہوئے وہ ایک بار پھر سے ہمکلام ہوا تھا۔

”شاید ابر برسنے کو ہے، مجھے گھر جانا چاہیے۔“ ایک اچٹتی سی نگاہ سامنے گھر پر دوڑاتے ہوئے وہ واپس گاڑی میں آ بیٹھا تھا۔ جیسے ہی اس نے گاڑی سٹارٹ کی، سرد ہوا کے جھونکوں سے اُڑتے پتے اس کی گاڑی سے ٹکراتے ہوئے زمین پر جا گرے۔ گیئر لگاتے ہی اس نے گاڑی ریورس کی تھی۔ تیز ہوا کے ساتھ ساتھ بوندا باندی بھی شروع ہو چکی تھی۔ اس سے پہلے کہ وہ گاڑی آگے بڑھاتا، اسی پل تیز ہواکے زور پر دیا کے گھر کا گیٹ ایک جھٹکے سے کھل کر ہوا سے جھولنے لگا تھا۔ اسجل ایک دم چونک اٹھا تھا۔ کھلے گیٹ کو نظروں کا محور بنائے وہ کافی حیران نظر آرہا تھا۔

”گیٹ کھلا ہے؟“ گاڑی سڑک کے بیچ و بیچ روکتے ہی وہ حیران کن انداز میں گاڑی سے باہر نکلا تھا۔ دبے دبے قدموں سے آگے کی جانب بڑھتے ہوئے وہ کافی حیران کن انداز میں گھر کا جائزہ لے رہا تھا۔

گھر کی اطلاعی بیل پر انگلی کا زور دیتے ہی اس نے خشک ہوتے لبوںکو ایک بار پھر سے زبان سے تر کیا تھا۔ بارش کی بوندا باندی اس کو بھگوئے چلی جا رہی تھی مگر پھر بھی وہ ڈھیٹ بنا گیٹ کے سامنے کھڑا بیل بجائے چلا جا رہا تھا۔

کافی دیر تک بیل بجانے کے باوجود اندر سے کوئی جواب نہ آیا تو وہ گلی میں نظر دوڑاتے ہوئے دل ہی دل میں ہمکلام ہوا۔

”کیا مجھے بنا اجازت اندر جانا چاہیے؟ نجانے کیوں میرا دل مٹھی میں ہے، کیا میرا بنا اجازت اندرجانا ٹھیک ہو گا؟ نہیں…. مجھے واپس گھر چلے جانا چاہیے۔“ دل ہی دل میں جب وہ سوال جواب کرتے تھک گیا تو پلٹ کر واپس اپنی گاڑی کے پاس آ کھڑا ہوا۔ کچھ سوچتی نگاہیں گیٹ سے آر پار ہوئیں تو اسے محسوس ہوا کہ گیٹ کے اندرونی حصہ کا دروازہ بھی ہوا کے جھونکے سے جھول رہا تھا۔ اسجل کی حیرانی اب پریشانی میں مبتلا ہو چکی تھی۔

”اندرونی دروازہ بھی کھلا ہے؟ معاملہ کچھ گڑبڑ ہے۔ مم…. مجھے پولیس کو اطلاع دینی چاہیے، شاید کوئی چور یا ڈاکو ان دونوں کی غیر موجودگی میں ڈکیتی کر رہا ہو، ہاں…. یہی ممکن ہے۔“ اس نے ہڑبڑا کر فوراً گاڑی کا دروازہ کھولا اور ڈیش بورڈ پر پڑا اپنا آئی فون اٹھاتے ہی نمبر ڈائل کرنے لگا۔

”ہیلو!“

پولیس کو تمام حالات سے آگاہ کرنے کے بعد وہ لمبی سانس کھینچ کر گھر کی جانب دیکھتے ہوئے واپس گاڑی میں بیٹھ گیا، گیئر لگاتے ہی اس نے آہستہ رفتار میں گاڑی آگے کی جانب بڑھا دی تھی۔ تقریباً پندرہ منٹ میں ہی پولیس موبائل دیا کے گھر کے سامنے آن رُکی تھیں۔

اسجل بھی تھوڑی ہی دیر میں وہاں دوبارہ چلا آیا۔ پولیس انسپکٹر سے ہاتھ ملانے کے بعد وہ تمام واقعہ ایک بار پھر سے دہراتے ہوئے انسپکٹر سمیت گھر کی جانب دیکھنے لگا۔ چار پولیس مین الرٹ ہو کر اپنی اپنی گن سمیت گھر کے اندرونی حصہ میں داخل ہو گئے، جبکہ اسجل انسپکٹر کے ہمراہ باہر ہی کھڑا پریشان کن نگاہوں سے گھر کی جانب دیکھے چلا جا رہا تھا۔

ٹارچ کی تیز روشنی کے تعاقب میں وہ چار پولیس مین دبے قدموں لاﺅنج میں داخل ہوئے تھے۔ اردگرد کا جائزہ لینے کے بعد اب وہ سامنے والے ماسٹر روم کی جانب بڑھنے لگے۔ روم کا دروازہ کھولتے ہی ایک عجیب قسم کی بو نے ان چاروں کا استقبال کیا تھا۔ ناک پر ہاتھ رکھے ٹارچ پکڑے پولیس مین نے ٹارچ کی روشنی زمین پر ماری تو اس کی نظر زمین پر خون کے تالاب میں لت پت دنیا جہاں سے بے خبر صنف نازک کے وجود پر پڑی۔ اس نے اپنے تینوں ساتھیوں سمیت آگے بڑھ کر اس لڑکی کو سر سے پیر تک دیکھا۔ دیاکے چہرے پر جابجا چوٹ کے نشان تھے۔

پیٹ پر لگے کٹ سے ابھی تک خون بہہ رہا تھا۔ اس کی دونوں کلائیوں کی وینز بھی کاٹی جا چکی تھیں۔ تمام حالات سے صاف واضح تھا کہ یہ حادثہ کچھ ہی دیرپہلے پیش آیا تھا۔ ایک پولیس مین نے فوراً باہر آ کر انسپکٹر کو اندرونی حالات سے آگاہ کیا جسے سنتے ہی اسجل کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی۔

”کیا؟ وہ دیا ہے انسپکٹر!“ انسپکٹر کی طرف دیکھتے ہوئے وہ تقریباً دوڑتا ہوا گھر کے اندرونی حصہ میں داخل ہو گیا۔ انسپکٹر اور پولیس مین بھی اس کے پیچھے پیچھے اندر چلے آئے تھے۔

”دیا!“ وہ دوڑتا ہوا کمرے میں داخل ہوا تھا اور سامنے بے سدھ پڑی دیا کو اس حالت میں دیکھتے ہی وہ لپک کر اس کے قریب گھٹنوں کے بل بیٹھتے ہوئے اسے پکارنے لگا۔

”دیا…. دیا!“

”سر! مجھے یہ لڑکی زندہ لگ رہی ہے۔“ وہاں کھڑے ایک پولیس مین نے انسپکٹر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا نیچے دیا کے پاس پریشان بیٹھا اسجل فوراً کھڑے ہوتے ہوئے بولا۔

”انسپکٹر! اسے ہاسپٹل لے کر جانا ہو گا، جلدی۔“ انسپکٹر کا اشارہ ملتے ہی اس نے دوبارہ لپک کر دیا کی جانب اپنے قدم بڑھائے تھے۔

ض……..ض……..ض

آسمان پر چھائی کالی چادر اب دھیرے دھیرے نیلے رنگ میں بدلنے لگی تھی۔ دیا کو آئی سی یو میں شفٹ کیا جا چکا تھا۔ انسپکٹر اپنے دو سپاہیوں کو اسجل کے ساتھ ہاسپٹل چھوڑ کر وہاں سے روانہ ہو گیا تھا۔ آئی سی یو کے باہر بے چینی سے چکر کاٹتا اسجل پریشانی کے عالم میں بار بار رُک کر آئی سی یو کے دروازے پر لگے چھوٹے سے شیشے سے جھانکتے ہوئے شیشے کے اس پار دنیا جہاں سے بے خبر سٹریچر پر بیہوش لیٹی دیا کی جانب دیکھتا اور لمبی سانس کھینچ کر ایک بار پھر سے ادھر سے اُدھر بے چینی کے عالم میں چکر کاٹتا۔

”دیا ایسی لڑکی ہرگز نہیں کہ خود کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرے، یا پھر ہو سکتا ہے کہ معیدنے دیا کو اس قدر مجبور کر دیا ہو کہ وہ معید سے جان چھڑانے کے لیے اس حد تک چلی گئی ہو…. ہاں…. یہ ممکن ہے۔“

آئی سی یو کے سامنے رکتے ہی اس نے ایک بار پھر سے پریشانی کے عالم میں شیشے کے اس پار لیٹی دیا کی جانب دیکھا اور پھر دل ہی دل میں ہمکلام ہوا۔

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی ”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے