سر ورق / ناول / ہم تو در بدر ہوئے گل جان قسط نمبر2

ہم تو در بدر ہوئے گل جان قسط نمبر2

ہم تو در بدر ہوئے

گل جان

قسط نمبر۲

چوہدری شہاب الدین دراصل خط کی وہ لائن پڑھنا نہیں چاہتا تھا ،

انھیں وہی منظر دکھائی دینے لگا تھا اور پھر وہ بانو کے سامنے نہیں پڑھنا چاہتے تھے خیر چوہدری شہاب الدین نے دل ہی دل طیبہ کا خط پڑھنا شروع کیا ،

میں نے ایم بی اے کر لیا ہے اور مجھے ڈگری مل گئی ہے میرے ایک ساتھی روان بھی ہیں انھوں نے بھی میرے ساتھ ہی ایم بی اے کیا ہے بہت ہی دلچسپ انسان ہیں جب آ پ ملیں گے تو آ پ کو بھی ان سے مل کر بہت خوشی ہو گی ۔ لالہ! روان پاکستانی ہیں ، وہ ایک اچھے انسان ہیں ، میں انھیں چاہنے لگی ہوں اور وہ بھی مجھ سے محبت کرنے لگے ہیں آپ یقینا میری اس خوشی کے بارے میں سوچیں گے ۔ چوہدری شہاب ایک گہری سوچ میں ڈوب جاتے ہیں انھیں بانو والا منظر دکھائی دینے لگا تھا

 چوہدری شہاب الدین نے اپنے سسرال میں فون کیا ، وہ جانتے تھے کہ طیبہ کا بھی بانو جیسا حال نہ ہو

جی! بھائی صاحب کیسے فون کیا بنا مطلب کے تو نہیں کیا ہوگا اگر تو ہماری بہن سے بات کرنا چاہتے ہو تو یہ تمھاری سب سے بڑی بھول ہو گی

 وہ تم سے کبھی بات نہیں کرے گی سنا تم نے ، چوہدری حیات نے بہت ہی غصے میں کہا

 اگر ایسی ہی بات ہے تو بڑے چوہدری صاحب سے بات کرا دیجیے وہ تو کریں گے ہی نا ، چوہدری شہاب الدین نے ماتھے سے پسینہ ہٹاتے ہوئے کہا

 او!پتر جی کیسے ہو اج ہماری یاد کیسے آگئی بڑے چوہدری صاحب نے ملک حیات سے فون لیتے ہوئے کہا

بس جی وہ ایک ضروری بات کرنی تھی آپ سے

 دیکھو پتر جی ! اگر تو کلثوم کے بارے میں بات کرنا چاہتے ہو تو یہ تمھاری بھول ہو گی

 جی میں جانتا ہوں کہ کلثوم یہاں کیو ں آئی ہے

جانتے ہو تو پھر ہاں کرنے میں کیوں دیری کر رہے ہو

 دیکھیے چوہدری صاحب آپ تو جانتے ہی ہیں کہ بانو کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے پھر آپ یہ بات کیوں کر رہے ہیں

 دیکھو پتر جی ! اس نے سدا تو ایسے نہیں رہنا کبھی تو ٹھیک ہو گی بس اب اور انتظار نہیں ہو تا

آپ جتنا زور مرضی لگا لیں ، میں ٹس سے مس نہیں ہوں گا میں فیصلہ کر چکا ہو ں آپ طیبہ کا رشتہ لیں لیں ۔

 چوہدری شہاب الدین نے بہت ہی زیادہ پریشانی کے عالم میں کہا یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ کسی اور سے پیار کرتی ہے لیکن اپنے خاندانی وقار کو برقرار رکھنے کے لیے ایسا کہا تھا ،

 بڑے چوہدری صاحب بہت ہی جوشیلے انداز میں چلائے جب بات بانو کی ہوئی تھی تو طیبہ کہاں بیچ میں آگئی کہیں اسے عشق تو نہیں ہو گیا کسی سے جو تم ایسا بول رہے ہوپتر جی اج تم وہ والے چوہدری نہیں رہے جو ہو اکرتے تھے بڑے چوہدری صاحب نے طنزیہ انداز میں چیخنے کے سے انداز میں کہا ، ،

نہیں چوہدری صاحب ایسی بات نہیں ہے میںفیصلہ کر چکا ہوں اگر آپ کو منظور ہے تو ہاں کر دیں ورنہ آپ کو پورا حق ہے انکا ر کرنے کا اور آپ کلثوم کو بھی گھر میں رکھیے

 پتر جی ! آپ تو ناراض ہو گئے ٹھیک ہے بانو نا صحیح طیبہ ہی صحیح لیکن پتر جی طیبہ کی تو کوئی خبر ہی نہیں ہے پھر رشتہ کیا ہم دیوار سے کریں گے

بڑے چوہدری صاحب نے تشویش کر ڈالی

 چوہدری صاحب ! طیبہ کا خط آیا ہے وہ جلد ہی آرہی ہے

 اچھا ! واقعی یہ کب ہو ا ٹھیک ہے پتر جی اگر وہ واقعی آرہی ہے تو چٹ منگنی پٹ بیاہ ، بڑے چوہدری صاحب نے خوش ہونے والے انداز میں کہا ،

بڑے چوہدری صاحب بہت خوش نظر آرہے تھے لیکن ملک حیات کے چہرے پر بل پڑے ہوئے تھے

 ابا جی ! یہ آپ نے کیا کیا ملک حیات نے رونے کے سے انداز میں کہا ، ملک لگتا ہے تجھے سیاست میں دلچسپی نہیں یا تم نے سیاست کھیلی نہیں

 بڑے چوہدری صاحب بہت ہی زیادہ کھلکھلا کر ہنسے تم خود ہی سمجھدار ہو اگر اس نے ہماری کلثوم بیٹی کو کچھ بھی کہا تو ہما را بیٹا ملک نیاز چوہدری شہاب الدین کی بہن سے کیا سلوک کرے گا تم اچھی طرح جانتے ہو اور پھر یہ رشتہ نہیں انتقام ہے ۔

انتقام کیسا انتقام ملک حیات نے حیرانی کے عالم میں کہا

مجھے آج بھی وہ دن یاد ہے جب ہماری بہن راشدہ اور تمھاری پھوپھی سے شہاب الدین کے باپ چوہدری اسفندیار نے اسے اپنے عشق کے جال میں ایسا پھانسا کہ پوچھو مت ؟آپ چپ کیوں ہو گئے بولیے بولیے !

 وہ رات بہت طوفانی تھی تم بہت چھوٹے تھے ، تم ، ملک نیاز اور کلثوم اپنی ماں کے ساتھ اپنی نانی کے ہاں چھٹیاں منانے گئے ہوئے تھے میں حویلی میں اکیلا تھا

 رات بہت بیت چکی تھی اور بارش تھمنے کا نام ہی نہیں لے رہی تھی یہ راشدہ کہاں رہ گئی یہ کہ کر میں دروازے کی طرف بھاگا تو کیا دیکھتا ہوں کہ ایک گاڑی آکر رکی

 اور راشدہ کو پھینک کر چلی گئی ، چوہدری صاحب کچھ دیر کے لیے چپ ہوگئے تو ملک حیات نے انھیں جنجھور ڈالا آگے کیا ہوا بولتے رئیے انتقام کو دبا کر نہیں رکھنا چائیے ملک حیات نے حوصلہ دیا ، چوہدری صاحب پوری طرح پسینے میں بھیگ چکے تھے ۔

میں یک دم باہر کی طرف بھاگا ، اور زور زور سے راشدہ راشدہ پکارنے لگا لیکن میری آواز کون سنتا ! ہاں ! کون سنتا

 کیا ہو ا راشدہ کیا ہوا راشدہ میری بہن آواز میرے حلق میں پھنس کر رہ گئی تھی کہ کانٹا ہی چبھ گیا تھا مجھے سانپ سونگھ گیا تھا مجھے کچھ سمجھ نہیں پا رہا تھا

 میں نے پھر ہمت کر کے راشدہ سے پوچھا کیا ہو ا میری بہن کچھ تو بول تیری یہ حالت کس نے کی

بھائی جی! یہ کہ کر وہ مجھ سے لپٹ گئی اور رونے لگی پگلی تھی جو اس کمزاد کی باتوں میں آگئی تھی اور عشق بھی کس سے کیا جس سے ہمارا ہمیشہ خدا واسطے کا ویر ہی رہا

 راشدہ ! میری بہن کچھ تو بول تیرا یہ حال کس نے کیا ہے بول ورنہ میں تجھے ابھی کے ابھی زمین میں گھاڑ دوں گا ۔

خدا کے لیے بھائی جی کسی سے مت کہیئے گا ورنہ جو طوفان میرے اندر پل رہا ہے وہ لاوا بن کے سب کے سامنے آجائے گا یہ بات سن کر میں اپنے ہوش وحواس کھو بیٹھا سب سے پہلے میں نے اپنی چادر اتار ی اور راشدہ کو ڈھانپا ، وہ سر سے لے کر پاﺅ ںتک بلکل ہی رسوا ہوچکی تھی ، میں واقعی ہی سب کچھ بھول چکا تھا ۔

 اور اگر میں واقعی ہی راشدہ کو زندہ چھوڑ دیتا تو صبح کا سورج ہمارے لیے امیدی کی کرن بن کر نہ پھوٹتا ۔

گاﺅں کا ہرشخض اسے بے عزت کر کے رکھ دیتا اور کوئی بھی شخض ہمیں ووٹ نہ دیتا

راشدہ راشدہ راشدہ تین بار میں مسلسل چیخا ، کون ہے وہ جس نے تیرا یہ حال کیا ہے

خدا کے لیے بھائی جی ! مجھے معاف کر دیں ، مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی ہے مجھے معاف کر دیں میں آپ کے پیر پڑتی ہوں

 میں نے تم سے جو پوچھا ہے صرف اس کا جواب دو کون ہے وہ حرامزادہ جس نے تیری عزت کو پامال کیا ہے

 بھائی جی بھائی جی وہ چوہدری اسفندیار !

 کیایہ سن کر میں سب کچھ بھول چکا تھا میں حویلی کے اندر گیا اور اپنی بندوق لے آیا راشدہ میرے پیروں میں گر گئی اور چوہدری اسفندیار کے لیے خیرکی دعا مانگنے لگی ۔

کیسی عورت ہے تو جس نے تجھے عرش سے زمین پر پہنچا دیا یہاں تک کہ تجھے ریت کے سوا کچھ نہیں ملا اور تو کہتی ہے کہ میں اسے زندہ چھوڑ دوں ۔

 نہیں بھائی جی میں نہیں چاہتی کہ آپ کے ہاتھوں کوئی خون ہوراشدہ بہت چلائی لیکن میں نے اس کی ایک نہیں سنی ٹھیک ہے پھر تم مرنے کے لیے تیار ہو جاﺅ ۔

اور یہ کہ کر میں نے راشدہ کے سینے میں گولیوں کی برسات کر دی اور اسے خود ہی لے جاکر گاﺅں کے قبرستان میں دفنا دیا اور اس طرح بدنامی سے خود کو بچانے کے لیے میں نے راشدہ کا خاتمہ کر دیا اور اس کے اندر پلنے والے طوفان کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے سلا دیا ۔ ابھی میرا غصہ ختم نہیں ہو ا تھا ابھی کہا نی باقی تھی اور اس کہانی کااختتام صرف اسفندیا ر کے خون سے ہی ہونا تھا ۔ میں گھوڑا دھوڑاتا ہی جا رہا تھا مجھے کسی کی پرواہ نہیں تھی کتے بلیوں کی آواز مسلسل آرہی تھی بارش کہیں کہیں ہو رہی تھی ۔ لیکن مجھے پرواہ نہیں تھی مجھے ہر حال میں اسفندیا ر چاہیے تھا کیو ںکہ اگر وہ کمزاد زندہ بچ جاتا تو مجھے زندگی بھر یہ پچھتاوا رہتا اور وہی ہوا جو میں سوچ رہا تھا کبھی کبھی انسان جو سوچتا ہے وہ ہوتا نہیںبلکہ اس کا الٹا ہی ہوتا ہے ابھی میں جا ہی رہا تھا کہ مجھے چوہدری اسفندیار کا منشی دور سے آتا ہوا دکھائی دیا میں نے گھوڑا وہیں روک دیا اور تیز تیز قدموں سے منشی کی طرف ہو لیا

کہاں ہے چوہدری اسفندیار بول منشی کہاں چھپا کر رکھا ہے تونے اپنے مالک کو

 یہ خط لیں لیں مجھ سے اس میں سب کچھ لکھا ہے

 خط تو میں لے ہی لوں گا تم یہ بتاﺅ کہ اسفندیار کہاں ہے

بولومنشی بولو میری بہن کی عزت سے کھیلنے والے کو تم نے کہاں چھپا دیا ہے

وہ ملک چھوڑ کر چلے گئے ہیں اور میرا خیال ہے کہ اس نے اچھا ہی کیا کم از کم تمھارے منہ تو نہیں لگے گا آج کے بعد ، منشی تیز تیز قدموں سے چلنے لگا لیکن میں نے اس کے قدم اپنی طرف پلٹ دیے اس کا مطلب ہے منشی تم سب کچھ جانتے تھے ، میں نے بہت زیادہ گرجتے ہوئے کہا ، منشی منشی دیکھ تیری موت تیرے سامنے کھڑی ہے یہ کہ کر میں نے منشی کا بھی خاتمہ کر دیا ، اور خط بھی جلا دیا اور اس طرح میں نے دو دو خون کر ڈالے لیکن مجھے اس پر آج تک پچھتاوا نہیں ہے اور نہ ہی ہوگا ۔

خون کرنے کے بعد بھی میرے اندر کا انتقام ختم نہ ہوابلکہ وہ دن بدن لاوا بن کر میرے اندر پھوٹتا رہا اور وہ دن ہے اور آج کا دن ہے میں روز ہی انتقام کی آگ میں جلتا اور مرتا رہتا ہوں ، چوہدری صاحب نے پوری کہانی کی تشریح کر ڈالی ۔ ابا جی! اگر ایسی ہی بات ہے تو چوہدری شہاب الدین کی حویلی کے نام و نشان کو میں مٹادوں گا اور اگر انھیں میں نے سڑک پر لا کر کھڑا نا کیا تو میرا نام بھی ملک حیات نہیں ملک حیات نے ساری کہانی سننے کے بعد بڑے غوروفکر سے ، گہرائی میں جا کر کہانی کو ختم کرنے کا سوچا ۔ مجھے تم سے یہی امید تھی جیتے رہو میرے لال! بڑے چوہدری صاحب نے ملک حیات کو تھپکی دی اور ہاں ان باتوں کا کلثوم اور ملک نیاز کو پتا نہیں لگنا چاہیے اب میں انھیں بتاﺅں گا کہ میں بھی کوئی چیز ہوں اگر کلثوم کو ذرا بھی خراش آئی تو ملک نیاز کیا سلوک کرے گا ان کی بہن سے یہ وہ جانتے ہی نہیں اور ویسے بھی ملک نیاز سگریٹ بھی پیتا ہے ، پان بھی کھاتا ہے ، شکار بھی کھیلتا ہے ، طوائفوں کے کوٹھوں پر بھی جاتا ہے اور ابا جی ہم جیسے جب طوائفوں کے کوٹھوں پر نہ جائیں تو دیا ہی نہیں جلتا ہمارے ہی دم سے ان لوگوں کی دال روٹی چلتی ہے ملک حیات نے بڑے چوہدری صاحب کی بات کاٹتے ہوئے راستہ پھلانگنے کی کوشش کی ،               خوش کر دیا ہے تم نے مجھے ملک حیات مجھے تم پر فخر ہے اور ایک بات اور اپنے دماغ میںبٹھا لو یہ بات صرف میں جانتا ہوں جس دن میں نے منشی کو قتل کیا اس سے اگلے دن میں نے گاﺅں میں یہ مشہور کر دیا کہ چوہدری اسفندیار نے راشدہ کی عزت سے کھیلنے کی کوشش کی اور اس نے اپنے آپ کو بچانے کے لیے بڑی بھاگ دوڑ کی اور چوہدری اسفندیار کے منشی نے اسے بچانے کی کوشش کی لیکن چوہدری اسفندیار نے دونوں کو مار دیا اور خود بھاگ گیا میں نے گاﺅں کے ایک بندے کو اعتماد میں لے کر اس سے ایک انجان خط لکھوایا ۔ اور حیرت کی بات مجھے اس وقت ہوئی جب مجھے بھی ایک خط ملا اور دینے والا وہی بندہ تھا ۔ جس میں لکھا تھا کہ چوہدری اسفندیا ر نے لاہور کے ایک بدنام علاقے جہاںکوئی بھی شریف آدمی وہاں کا رخ نہیں کرتا سو بار اسے سوچناپڑتا ہے

سبیلہ بھائی جو ناچنے کے ساتھ ساتھ دوسرا دھندا بھی کرتی تھی۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟   (جاری ہے )

                  Cell No  03224180633 , 03155532334

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دام عشق : ابن آس محمد۔۔قسط نمبر8..9.. اور10

” دام عشق ” آٹھ ویں قسط …. تحریر: ابن آس محمد …………………. بے سبب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے