سر ورق / ناول / خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 2 کاوش صدیقی

خانقاہ

قسط نمبر 2

کاوش صدیقی

”کیا ہو رہا ہے۔؟“کسی نے میر ے شانے پر شفقت آمیز تھپکی دی۔”رو لو۔! رونے سے کثافت دھل جاتی ہے۔ زنگ چھٹنے لگتا ہے۔ “ ملنگ نے نہایت محبت آمیز لہجے میں کہا ۔

                دفعتاً میں نے سر اٹھایا تو میرا دماغ حیرت کے جھٹکے سے شل ہو گیا۔

                وہ ملنگ نہیں قادری سرکار تھے۔ ان کے چہرے پر ہمیشہ کی طرح ایک دل آویز من موہنی سی مسکراہٹ کھیل رہی تھی۔ جیسے مخاطب کو اپنے دائرے میں قید کر رہی ہو۔

                اگلے ہی لمحے میں ہوش و خرد سے بےگانہ ہو چکا تھا۔

٭٭٭

                                ”تم یہ میرا چھوٹا سا کام کر دو۔!“ میں نے بڑی لجاجت سے کہا ۔

                ” یہ چھوٹا سا کام ہے۔؟“ قدیر چیخا ” جب بھی آتا ہے کوئی نا کوئی پنگا کھڑا کر کے آتا ہے۔ا حمق کا پٹھا۔“

                میں چپ چاپ اس کی شکل دیکھتا رہا۔ بولا کچھ نہیں۔

                ” تو خود ہی بتا اتنی جلدی سب کچھ ہو سکتا ہے۔!“ میرے اوپر وہ اپنے جملوں کا ردِ عمل نہ دیکھ کر دھیما پڑ گیا۔

                ”ہونے کو کیا نہیں ہو سکتا۔؟ “میں نے آہستگی سے کہا ۔” ایک لمحے میں زندگی مل سکتی ہے۔، موت آسکتی ہے۔ دکھ ، سکھ کی خبر آسکتی ہے۔ زلزلہ آ سکتا ہے۔ کیا نہیں ہو سکتا۔ ؟“

                ”کاش میں احمق کا پٹھا تجھ جیسے احمق کے پٹھے کا دوست نہ ہوتا۔ “وہ اتنی بے چارگی سے بولا کہ بے ساختہ مجھے ہنسی آگئی ۔

                ”یہ کیا ڈرامہ ہے۔؟“قدیر نے میری ہنسی کی پرواہ کئے بغیر میرے ہا تھ سے کاغذات کا پلندہ چھین لیا۔

                ” یہ خطوط ہیں۔“ میں نے کہا ۔

                ”کس نے، کس احمق کے پٹھے کو لکھے ہیں۔” احمق کا پٹھا قدیر کا تکیہ کلام تھا ۔

                ”مجھ احمق کے پٹھے نے تیری اماںکو لکھے ہیں۔ “ میں نے چیخ کر کہا۔

                قدیر نے ہاتھ میں پکڑا ہوا چائے کا کپ میرے سر کا نشانہ لیکر پھینکا۔ میں اپنے جملے کے شعوری رد عمل کے لئے تیار تھا۔ میں نے جھکائی دی اور کپ سیدھا ہوا میں اڑتا ہوا قدیر کے ابا کے ماتھے سے جا ٹکرایا۔ جو دروازے سے اندر داخل ہو رہے تھے۔

                ”پاجی ،گدھے کے بچے باپ کو پھوڑ دیا۔ “ یہ قدیر کے ابا کا تکیہ کلام تھا ۔

                قدیر ہڑ بڑا کے دوڑا ”ابا۔۔۔ابا میں نے آپ کو نہیں مارا تھا۔ یہ احمق کا پٹھا جھکائی دے کر بچ گیا ۔“

                ”تو تنزیل کو مار رہا تھا پاجی۔۔۔گدھے کے بچے۔۔۔“وہ کراہتے ہوئے دفترکی سیٹھی پر ڈھیر ہو گئے۔

                میں اس تما م عرصے میں خاموشی سے تماشا دیکھتا رہا ۔

                قدیر نے جلدی سے جیب سے رومال نکالا اور منہ کی بھاپ سے گرم کر کے ان کے ماتھے کو سیکنے لگا۔

                دوسرے ہی لمحے زور دار تھپڑ قدیر کے منہ پر پڑا اور ساتھ ہی قدیر کے ابا گرجے۔ ” پاجی ،گدھے کے بچے سگرٹیں پی پی کر باپ کو سینک رہا ہے۔“

                ”ابا آپ تو بس۔۔۔!“قدیر کے گالوں پر ابا کی پانچوں انگلیاں چھپ گئی تھیں۔ در اصل تھوڑی دیر پہلے وہ سگریٹ کے لمبے لمبے کش لے رہا تھا اور پھر ابا کی سینکائی کرنے لگا۔ تو اس کو یاد ہی نہ رہا کہ اس کے منہ میں سگریٹ کی باس بھری ہوئی ہے۔

                اس سے پہلے کہ مزید کوئی اور واقعہ رونما ہوتا قدیر کی اماں نے دروازے سے سر نکالا۔” ارے میں کہتی ہوں صبح سے یہاں پڑے کیا کر رہے ہو۔قدیر کے ابا اندر آجاﺅ چائے تیار ہے۔!“

                ”اس پاجی کے جوتے کھانے آےا تھا۔“قدیر کے ابا نے دانت کچ کچا کر قدیر کو دیکھا اور اپنا ماتھاسہلاتے ،پیر پٹختے ہوئے اندر چلے گئے۔

                قدیر کے ابا کے اندر جاتے ہی اند ر دبی ہوئی ہنسی نے گویا حلق کا راستہ پکڑ لیااور ہم دونوں قہقہے مار کرہنسنے لگے۔ہنستے ہنستے ہماری آنکھوں میں آنسو آگئے، پیٹ دُکھنے لگا، پسلیاں توبہ توبہ کرنے لگیں، کھل کر ہنسنا بھی بدن کے کتنے حصے متاثر کرتا ہے۔ یہ ہمیں آج پتا چل رہا تھا۔

                ” یہ سب تیری وجہ سے ہو رہا ہے۔“ قدیر پیٹ پکڑ کے کراہایا۔

                ” ہر چیز کسی نہ کسی سبب سے مشروط ہے۔!“ میں نے فلسفانہ کہا۔

                ”فلسفہ مت جھاڑ۔!“قدیر بھنا کر بولا ۔” یہ بتا کہ یہ معاملہ کیا ہے۔؟“ اس نے کاغذوں کا پلندا ہاتھ میں پکڑ کر لہرایا۔

                ” وہ روحی آئی تھی۔ “میںنے آہستہ سے کہا۔

                ”کیا ۔۔۔؟“ مارے حیرت کے قدیر کا منہ کھلا رہ گیا۔” وہ آئی تھی۔۔۔ اتنے برسوں کے بعد۔۔۔!“

                ” ہاں ۔۔۔! “ میں نے کہا۔

                ”کیوں۔؟“

                ” بہت پریشان تھی۔ میرے خط اس کے میاں نے دیکھ لئے تھے۔ اس کی ازدواجی زندگی شدید بھونچال سے دو چار ہے۔“

                ” جہنم میں جائے !“ قدیر نے بے اعتنائی سے کہا۔ ”اس کے ساتھ ایسا ہی ہونا چاہئے تھا۔،بہت بڑی آدمی بننا چاہتی تھی نا۔،وہ ۔۔۔بن گئی۔؟اُن کے گھر چلی گئی جن کے باتھ روم دو۔ دو مرلے کے ہوتے ہیں۔اور دل ننھے ، چھچھورے۔۔!“

                قدیر میرے ماضی کا گواہ تھا ۔روحی کو اچھی طرح جانتا تھا۔ہم سب ایک ہی محلے میں رہتے تھے۔ وہ ہماری محبت کا راز دار تھا۔ایک ایک لمحے کا شاہد تھا۔

                ان دنوں جب روحی میرا جنون تھی، جذبہ تھی، احساس تھی۔ پھر ایک پارٹی میں اس کو ارسلان نے دیکھ لیا۔ جو کروڑ پتی باپ کا اکلوتا بیٹا تھااور جس کے گاڑیوں کے شو روم ملک بھر کے تمام بڑے شہروں میں پھیلے ہوئے تھے۔ اس نے روحی کے گھر اپنے والدین کو بھیجااور پھر وہی ہوا جو کہ صدیوں سے ہوتا آیاہے۔ کم مائیگی ، بے چارگی ،افلا طونی محبت ،روپے کی گرمی،وسائل کی حدت ،امارت کے اصولوں سے ہار گئی۔

                مگر ملکیت میں شراکت کہاں ہوتی ہے اور پھر وہ عورت ،جس کو اپنی سطح سے نیچے اتر کر اٹھایا جائے۔

                یہی مرحلہ روحی کی زندگی میں آگیا تھا۔

                ”تو سچ کہتا ہے لیکن۔ “ میں نے ایک گہری سانس لیکر کہا” میں بے مروت نہیں ہوں ۔!“

                ” پھر کیا کرے گا۔؟“ قدیر نے پوچھا۔

                ” ان کو فٹا فٹ چھاپ دے ۔۔۔“میں نے کاغذات کے پلندے کی جانب اشارہ کیا۔ ”یہ خطوط ہیں جو راز بک شیلف میں سجا ہو ،وہ اپنا سحر کھو دیتا ہے۔“

                قدیر ایک پرنٹنگ پریس چلاتا تھا،کمپوزنگ ، ڈیزائننگ ،بائنڈنگ اس کا کوئی مسئلہ نہیں تھا۔اگر مسئلہ تھا تو صرف وقت۔ !

                ”لیکن یہ چار دن میں کیسے چھپے گا۔؟“

                ” ہمت کرے انساں تو کیا ہو نہیں سکتا۔!“ میں نے ہنس کر کہا۔

                پتا نہیں میری ہنسی میں کیا تھاکہ قدیر نے مجھے کھینچ کر اپنے سینے سے لگا لیا۔کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں ،جو آپ کے اندر تک اُتر جاتے ہیں ،آپ کی ہر کیفیت کے نکتہ رس بن جاتے ہیں۔ نہ آپ ان سے کچھ چھپا سکتے ہیں ،بتانے کی توشائد ،انہیں ضروت ہی نہیں ہوتی ،قدیر ایسے ہی لوگوں میں سے ایک تھا، میرا دوست۔۔۔!

٭٭٭

                پتا نہیں ! قدیر نے کیا جادو دکھایا۔ کتاب مکمل ہو کر میرے ہاتھ میں تھی۔پانچ دن میں اس نے کتاب چھاپ دی تھی۔نام بھی کتاب کا اُس نے خود ہی رکھا تھا۔” سندیسے جو کھو گئے“ روحی کے خطوط کے ساتھ ساتھ اس میں دیگر لڑکیوں کے نام کے خطوط بھی شامل تھے ۔ اب روحی کے خطوط ایک راز کی بجائے ایک کتاب کی صورت سامنے آگئے تھے ،بلکہ یہی نہیں قدیر نے چار پانچ سکہ بند ادیبوں کے قلمی تاثرات بھی اِن میں شامل کر دیئے تھے۔

                وہ کتاب مجھے دیتے ہوئے بولا۔”یار مجھے تو معلوم ہی نہیںکہ تو اتنا اچھا رائٹر ہے۔؟“

                ” یار یہ تو مجھے بھی نہیں پتا تھا۔“میں نے فراغ دلی سے اعتراف کیا۔

                ”لیکن جن لوگوں سے رائے تو نے لکھوائی ہے۔ وہ تو بڑے مشہورو معروف ادیب ہیں۔ اتنی جلدی انہوں نے کیسے پڑھ لی۔؟“

                میںواقعتاحیرت زدہ تھا۔

                ” ابے سب ہم سے کتابیں چھپواتے ہیں۔ سال سال بھر کا ادھار کرتے ہیںمیں نے سب کو بلوایا،چائے پلائی ،ایک ایک خط پکڑایااور کہا کہ پڑھ کر رائے لکھ دیں ۔ انہوں نے لکھ دی۔!“ قدیر ہنسا۔

                ”ایک خط پڑھ کر پوری کتاب پر رائے دے دی !“میں بے حد حیران ہوا۔

                ”ابے دیگ کے چند ہی چاول چکھے جاتے ہیں یا پوری دیگ کھائی جاتی ہے۔؟“قدیر نے کہا۔” احمق کے پٹھے پہلے تعلقات کی بنیاد پر بانس پر چڑھا دیتے ہیں۔ اگر وہ باصلاحیت ہو اور ان سے آگے نکل جائے تو پھر خود ہی اس کے پیچھے لٹھ لیکر پڑ جاتے ہیں۔ادب شدب کچھ نہیں،سب کاروبارو مصلحت۔“ قدیر نے چند جملوں میں ادب کا نقشہ کھینچ دیا۔

                پھر میری طرف جھک کر بولا۔”ایک بات بتا!“

                ”بول۔؟“

                ” روحی کو تو میں جانتا ہوں ۔۔۔پر دیگر لڑکیاں کون ہیں ۔کب تیری زندگی میں آئیں۔مجھے کیوں نہیں پتا چلا۔؟“

                ” روحی کے سوا کوئی نہیں۔“ میں نے کہا۔”باقی سب لڑکیاں تو تخیل کی پیداوار ہیں۔ روحی کی ازدواجی زندگی بچانے کےلئے جھوٹ گھڑنا اور لکھنا پڑا تو کیا ہوا۔میں اس کو کچھ نہ دے سکا تو کم از کم اس کی ازدواجی زندگی تو بچا لوں۔،اس کے تین بہت ہی پیارے پیارے بچے ہیں۔ “میں نے آہستگی سے کہا۔

                قدیر نے اپنی انگلیوں سے میرے آنسو پونجھے ،جو نہ جانے کب بہہ نکلے تھے۔

                آنسو۔۔۔ جذبے ۔۔۔ انتقام اور محبت کسی میں ہمارا، اختیار کہاں ہوتا ہے۔؟

                ”یار تو اس کو بہت پیار کرتا ہے آج بھی۔!“

                ”محبت بھولنے کے لئے نہیں ہوتی۔،دھیمے ،دھیمے جلنے کے لئے ہوتی ہے۔،اس کی آنچ تا زندگی ساتھ دیتی ہے۔بشرطیکہ آپ کے اندر سچائی ہو۔روحی تومجھ پر نازل ہوئی تھی صحیفہءمحبت کی طرح۔!“

                قدیر کچھ نہ بولا۔ بس چپ رہا۔

                ہم دونوں کے درمیان خاموشی رقص کرتی رہی اور ہم دونوں چپ کی مارسہتے رہے۔

٭٭٭

                ” تمہاری کتاب آئی تم نے مجھے بتایا بھی نہیں۔ !“میں اپنے کمرے سے باہر نکلا۔ دالان میں اماں بیٹھی سروتے سے چھالیا کاٹ رہی تھیں۔مجھ پرنظر پڑتے ہی وہ بولیں۔

                ”اماں قدیر نے چھاپ دی۔ !“ میں نظریں چراتے ہوئے تخت کے ایک کونے پر ٹک گیا۔ آدھے صحن میں دھوپ اتر چکی تھی۔ اماں کے پاندان کی تھالی میں پانوں کے ساتھ ساتھ بہت ساری بیلے کی کلیاں رکھی ہوئی تھیں۔ یہ مومی کا شوق تھا۔ وہ صبح ہی صبح سارے پھول توڑ کر کچھ میرے سرہانے اور کچھ اماں کے پاندان میں رکھ دیتی تھی۔

                ”اچھی کتاب ہے۔!“اماں نے تبصرہ کیا۔

                میںنے کن اکھیوں سے ان کی طرف دیکھا۔ ان کی آنکھوں اور تاثرات میں طنز کا کوئی شائبہ تک نہیں تھا۔

                ”جو دوسروں کی عزت سنبھالتے ہیںوہ بڑا مرتبہ پاتے ہیں۔“ اماں دھیمے سے بولیں۔

                ”جی۔۔۔؟“میں نے حیران ہو کر ان کی طرف دیکھا۔

                ”تمہیں معلوم نہیں ان۲۱ برسوں میں تم نے کیا حاصل کیا۔؟“ انہوں نے میری طرف سوالیہ نگاہوں سے دیکھا۔

                میں کچھ نہیں بولا۔بس ایک ٹک ان کی طرف دیکھتا رہا۔

                وہ بولیں ” جب انسان دھیرے دھیرے کسی جذبے کے تحت سلگتا ہے۔ توپھر اس کی روح میں نکہار پیداہوتا ہے۔لفظوں کا ذخیرہ تو تعلیم و معاشرہ ہمارے اندر بھر دیتا ہے۔ مگر ان کو برتنے کاسلیقہ ہمارا اپنا، اپنا ہوتا ہے۔ اور اسی سلیقے سے پہچان بنتی ہے ،تمہیں اندازہ نہیں کہ تم لکھ سکتے ہو۔!“

                ” اماں۔۔!“ میںتخت پر پھیل کر ، اماں کی گود میںسر رکھ کے لیٹ گیا۔اماں بہت نرم مزاج تھیں ۔ مگر تربیت کے معاملے میں بہت سخت تھیں، غصہ بہت آتا تھا۔ کھری سیّدانی تھیں۔جلال کا،جمال کا پیکر!

                انہوں نے سروتا ایک طرف رکھااور میرا سر سہلانے لگیں۔

                (جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

دام عشق : ابن آس محمد۔۔قسط نمبر8..9.. اور10

” دام عشق ” آٹھ ویں قسط …. تحریر: ابن آس محمد …………………. بے سبب …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے