سر ورق / افسانہ / لال بس کے مسافر …. پرویزاحمد

لال بس کے مسافر …. پرویزاحمد

لال بس کے مسافر

پرویزاحمد

 پیلی حویلی چوک، کامٹی ضلع ناگپور(مہاراشٹر)۔

فون : 9595559073

          کنڈکٹر نے گھنٹی بجائی اور بس کو چلنے کا اشارہ دیا۔میرے گاو ¿ں کامٹی سے ناگپور کی طرف جانے والی یہ بس ایک گھنٹہ کا سفر طے کرکے اپنے آخری اسٹاپ سیتا بلڈی پہنچتی ہے۔ اگر سیٹ مل جائے تو اس ایک گھنٹہ میں میری کوشش ہوتی ہے کہ موبائل پر ہیڈ فون لگا کر کوئی دینی تقریر، کسی شاعر کا کلام یا کوئی کہانی سن لی جائے۔ لیکن آج رش ہونے اور مجھے سیٹ نہیں ملنے پردروازہ کے سامنے چھت سے فرش کے درمیان لگے ڈنڈے سے لگ کر کھڑا لوگوںکی باتیں سن رہا ہوں اور چہروں کو پڑھ رہا ہوں۔میرے آس پاس اک ہجوم سا ہے جسمیںطالب علم، عورتیں، بوڑھے سب شامل ہیں، کوئی کسی دفتر کا بابو اور چپراسی ہے، کوئی ٹیچر، کوئی مزدور ہر کوالٹی کے لوگ مل جائیں گے اس لال بس میں۔

          آج بہت عرصے بعد مجھے اس احساس سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔میری توجہ کا مرکز پہلے بھی نوجوان ہوا کرتے تھے اور آج بھی انہیں کھڑا دیکھ رہا ہوں اور سوچ رہا ہوں کہ گاو ¿ں سے شہر کی جانب روانہ ہونے والے یہ تعلیم یافتہ نوجوان اس سفر میں ایک دوسرے سے اجنبی کیوں ہوجاتے ہیں؟ایک دوسرے سے نظریں چراکر اپنی اپنی نشستوں اور گوشوں میں دبکے ہوئے ہیں، موبائل اور ہیڈ فون ہی انکا ساتھی ہے۔ہائی وے پررینگتی ہوئی بس میںدوردراز کے دیہاتی مزدورچہک چہک کر بآ واز بلندایک دوسرے سے گپ ہانک رہے ہیں ان دیہاتیوں کو اپنے مقام پر پہنچنے کی کوئی جلدی نہیں ہے۔ جلدی تو تعلیم یافتہ بیگانوں کو ہوتی ہے۔ساتھ بیٹھے لوگ کم ہی باتیں کرتے ہیں جیسے ان کے ذہن کند اورماو ¿ف ہوگئے ہوں برسوں ساتھ ہمراہی رہنے کے باوجود ایکدوجے سے بیگانے۔

          ٹرن ٹرن ٹرن فون کی گھنٹی بجنے لگی نہ جانے کس کا فون ہو۔ہیلو کی آواز آئی بڑا کرخت اور روٹھا ہوا لہجہ تھا۔میرے پیچھے والی سیٹ پر بیٹھا ایک نوجوان کچھ پریشان سا فون پر بات کر رہا ہے اورآس پاس کے لوگ اس کی طرف ہمہ تن گوش متوجہ ہیںاوروہ مارے بوکھلاہٹ کے کسی سے بھی نظر نہیں ملا رہا ہے۔شاید اس کی سسرال سے فون ہے ۔کچھ دنوں سے بیوی مائیکے میںہے۔ ادھر بیوی کی طرف سے شکایتی سوال پوچھے جارہے ہیں، آمدنی اٹھنی ّاور خرچہ روپیہ والا معاملہ ہے۔سسرال کے دیگر لوگوں کی شکایت، گھر کی صاف صفائی،کھانے پکانے اور خانگی کاموںکے مسائل اور نہ جانے کیا کیا کچھ، اوراصرار ہے الگ مکان لیکر رہنے کا۔گھر میں بوڑھے ماں باپ ہے جنہیں اپنے بڑے ہونے کا احساس ہے۔نوجوان ہر سوال پر یہی سمجھانے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔

©” میں کس منھ سے الگ مکان میں رہنے کی بات کروں؟“

          ”آخر میرے ماں باپ ہےں۔چار دن کی زندگی ہے کسی طرح نباہ کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔“

          ”جب حالات ساز گار ہوں گے، تنخواہ بڑھ جائے یا بڑی سیلری والی کوئی جاب دوسرے شہر میں مل جائے، تب پیار محبت سے الگ جا سکیں گے پھر تمہارے سارے ارمان پورے ہوجائےں گے ،فی الحال اسکا موقع نہیں ہے۔“

          ”اچھا واپس کب آرہی ہو؟“

          ”گھر میں چھوٹی اور ببلو کیسے ہیں؟ “

          ”ارے تم وہ والا سوٹ نہیں لے گئیں ساڑی بھی یہیں نظر آرہی تھی۔“

          ”سیما کی شادی کیسی رہی؟“

          ” تم نے کون سی ڈریس پہنی تھی اس دن؟“

          ”یار میں ممبئی میں سب کچھ بہت مس کرتا رہا کیا کروں آفس کا کام ہی کچھ ایسا تھا۔“ یکے بعد دیگرے اس نے کئی سوال پوچھ ڈالے اورایک مسکراہٹ کے ساتھ فون بندکر دیا۔

          آگے کی سیٹ پر بیٹھاشمیم ہمارے گاو ¿ں کے اسکول میں پڑھنے والوں میں ایم ایس سی پاس لڑکا ہے۔وہ انتہائی غریب اور جولاہا کا بیٹا ہے۔ جسے کوئی اسکے اصلی نام سے نہیں پکارتا بلکہ اس کے گھریلو نام’ شمو‘ سے پکارتے ہیں۔ہم دونوں برسوں سے ایک ہی شہر میں نوکری کررہے ہیں لیکن ہم کبھی ملے نہیں ،ایک اتفاقی ملاقات میں اس نے بتایا تھاکہ وہ کسی ادارے میںکانٹریکٹ پر ٹیچر شپ کر رہا ہے۔وہ ڈرائیور سے پچھلی سیٹ پر بیٹھا ہے اور کانوں میں ہیڈ فون لگاکر شایدآکاشوانی کے گانے سن رہا ہے۔ اس نے کئی بار پیچھے مڑ کر دیکھا، آنکھیں چار بھی ہوئیں لیکن ہم دونوں غیر محسوس انداز میں ایک دوسرے کو نظر انداز کرگئے۔اس سفر میں اکثر لوگوں کی ملاقات احساس کمتری و برتری کی وجہ سے بھی نہیں ہو پاتی ہے۔

          آج تو بس میں بہت شور شرابا مچا ہوا ہے۔نہ جانے کہاں سے اتنا ہجوم اس بس میں سوار ہوگیا ہے۔ ہفتہ کا پہلا دن ہے۔دفترو کالج کے لوگوں کو اپنے مقام پر پہنچنے اور نئے کام شروع کرنے کی فکر کھائے جارہی ہے نہ جانے باس آج کیا نیا کام شروع کردے۔کونسا لیکچر شروع ہوگا،پچھلے ہفتہ کا کام ابھی باقی ہے آج رپورٹ جمع کرنی ہے۔سروج اور سیما بھی ہمیشہ کی طرح ایک ساتھ اپنی نشستوں پر براجمان ہیں جیاکوچھیڑ کر ہنسی ٹھہاکے میں مصروف ہیں۔

          ”ارے جیا کیا ہوا؟“سروج نے آواز لگائی۔

          ”کچھ نہیں یار!“

          ”بس صبح صبح باس کا فون آگیا۔“

          ”وہ کل امریکہ جانے والے ہیں، اور مجھے پروجیکٹ رپورٹ بنانے کے لئے کہا ہے۔“

          ”میں دودنوں سے آفس نہیں گئی ناں اسلئے ٹینشن ہورہی ہے۔“

          ”اوروہ شالینی میڈم میری انچارج وہ ذرا بھی سپورٹ نہیں کرتی۔“

          ”اسے معلوم ہے میں دو دن سے آفس نہیں آئی۔ پھر بھی اس کی ذمہ داری میری طرف دی ہے۔“

          ”بہت گھبراہٹ ہورہی ہے۔“ جیا نے اپنا حال بلا جھجھک بتایا۔

           میرے ساتھ اسوقت سریندرجی بھی برابر کے شریک ہیں تمام احساسات میں۔وہ کسی پرائیویٹ فرم میں اسسٹنٹ مینیجر کے عہدہ پر فائز ہیں۔روزآنہ آتے جاتے آنکھیں چار ہوتی رہی اور ایک دن ملاقات کی گھڑی آہی گئی۔آفس پہنچنے کے بعدفیس بک میسنجر پر میسج پڑھا۔

          ”بھائی جان السلام علیکم! پہچانے؟“

          ”ہاں،آپ وہی ہیں ناں بس والے، فرنٹ سیٹ ہولڈر؟“ میں نے جواباًلکھا۔

          ”یس سر!“سریندر جی نے اتراتے ہوئے اسمائیلیزبھیجی۔

           بس وہ دن تھا ہماری ملاقات کا،پھر بات چیت شروع ہوگئی۔اکثر ہم ایک ساتھ سیٹ پر بیٹھ کر جاتے۔ سریندر جی ایک خوش مزاج شخص ہیں۔ہر وقت آنکھوں پر گاگل، لبوں پر مسکراہٹ،کان میں ہیڈ فون سجے رہتے وہ رومانٹک گانوں کے شوقین ہیںاور ہر گانے کے تاثرات انکے چہرے و حرکات و سکنات سے عیاں ہوتے ہیں۔ادھردفتر کا کچھ روٹین بدلنے کے سبب ہماری ملاقاتوں کا سلسلہ تھم سا گیا۔بس فیس بک ہی ہماری ملاقات کا ایک ذریعہ تھا کہ میسج میسج میں کچھ گپ شپ ہوجاتی لیکن ملاقات کی تشنگی باقی رہتی۔پھر سریندر جی فیس بک سے بھی غائب ہوگئے۔تین چار مہینے بچھڑنے کے بعدمیں نے ایک دن انہیں فون کیا۔

          ”ہیلو، سریندر جی!“

          ”کہاں ہیں آپ؟“

          ”ہیلو بھائی جان!“

          ”میں گھر پر ہوں۔“ جواب ملا۔

          ”کافی دنوں سے ملاقات نہیں ہوئی، نہ کوئی فون، نہ میسج۔“

          ”سب ٹھیک تو ہے ناں؟“میں نے پوچھا۔

          ”ہاں ، بس تھوڑا پریشان ہوں۔“ جواب ملا۔

          ”کیوں؟ کیا ہوا؟“ میں نے پوچھا۔

          ”کمپنی میں خسارہ اور ایک یونٹ بندہونے کے سبب بہت سے لوگوں کوتین چار مہینوں سے عارضی چھٹی دے دی گئی ہے۔“ سریندر جی نے بتایا۔

          ”پھر؟“ میں نے پوچھا۔

          ” کوئی دوسرا کام ڈھونڈنا پڑیگا۔“انہوں نے کہا۔

          ”ہمارے دفتر میں اپلائی کردو۔“ میں نے برجستہ کہا۔

          پہلے تو انہیں یقین نہیں آیا لیکن جب میں نے دوبارہ کہا تو انہوں نے حامی بھرلی۔اگلے دن اپلائی بھی کیا۔انٹر ویو کے لئے منتخب بھی ہوئے۔ فائنل رزلٹ کا انتظار تھا۔اس طرح ان کی بے روزگاری کے چھ مہینے مکمل ہوگئے۔ ایک دن انکا فون آیا۔

          ”ہیلو۔ بھائی جان!“

          ” کمپنی کے کام کے سلسلے میں گجرات جانا ہے۔“

          ”ایک پروجیکٹ فائل کرنا ہے، کچھ امیدہے۔“

          ”دعا میں یاد رکھنا۔“

          ”خدا حافظ۔“

          گجرات روانگی کے آٹھ روز بعد دوبارہ فون آیا۔

          ”ہیلو ۔ بھائی جان!“

          ”مبارک ہو۔ پروجیکٹ پاس ہوگیا۔“

          ”اب یونٹ دوبارہ شروع ہوجائے گا۔“

          ”اللہ کا شکر ہے۔ بھائی آپ کو بھی مبارک۔“

          ”پارٹی تو بنتی ہے۔“

          وہ دن تھا اور آج کا دن سریندر جی اسی احترام اور والہانہ پن سے ملتے ہیں۔شاید انہوں نے مجھ سے اور میں نے ان سے کبھی کوئی جھوٹ نہیں بولا۔

          ہم گاو ¿ں سے پڑھ لکھ کر جب شہروں کی طرف کوچ کرتے ہیں تو اپنے ارد گرد کے لوگوں کو یہ امید یاجھانسہ دے کر چلتے ہیں کہ ہم شہر جاکر بہت باعزت مقام پانے والے ہیں۔اس کے بعد ہم خوش فہمی کی دنیا میں خود کو قید کرلیتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ کوئی دوسرا قریب آکر اس کا دروازہ نہ کھولے۔کیا معلوم وہ ہماری اناتک، کسی جھوٹ تک یا کسی نا تمام خواہش تک پہنچ جائے۔ہم اس خام خیالی کے پیچھے بھاگ بھاگ کر اپنی شخصیتوں کو کتنا مسخ کرلیتے ہیں۔۔۔

          اسی ادھیڑ بن میں ہماری منزل مقصود بھی آگئی۔کنڈکٹر نے گھنٹی بجائی اور بس کو رکنے کا اشارہ دیا۔

          ایک گھنٹہ کے سفر میں ہم سفروں سے گہری شناسائیاں بنا لینے والے دیہاتی ایک دوسرے سے گرم جوشی سے مصافحے، سلام اور الوداعی کلمات کہہ کر بس سے اتر رہے ہیں۔جبکہ میرے اور سریندرجی جیسے چند اورخوش پوش جوان جنکے میں نام نہیں جانتا وہ بھی شاید یہی چاہتے ہیں۔ اپنے اپنے گوشہ میں قیدکسی سے علیک سلیک کئے بغیر بس سے اترنے والے ہیں۔

          ہم ایک ہی گاڑی کے مسافر ہیں اور ہماری منزل بھی یقینا ایک ہی ہے۔لیکن ہمارے راستے الگ الگ ہیں۔

٭٭٭

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اپنی جڑوں کی جانب.. سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، ہند

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 38 اپنی جڑوں کی جانب.. سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے