سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 53 سید انور فراز

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 53 سید انور فراز

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ : قسط نمبر 53

سید انور فراز

ہر شخص کی زندگی میں مختلف اوقات یا زمانوں میں مختلف افراد آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں، جانے والے کسی نہ کسی حوالے سے اپنی یادیں چھوڑ جاتے ہیں، کبھی کبھی یہ یادیں تلخ بھی ہوتی ہیں اور کبھی خوش گوار اور دل گداز۔

ایسی ہی خوش گوار شخصیت کے مالک برادرم حفیظ بریلوی تھے، ہماری ان سے واقفیت خان آصف کے دفتر میں ہوئی ، یہ تاریخی دفتر ناظم آباد میں واقع ریلیکس سنیما کے عقب میں تھا اور اس کے آگے ایک بڑا پارک تھا، اب یہ یاد نہیں رہا کہ پہلی ملاقات کب اور کیسے ہوئی، عام طور پر دفتر کے اوقات تین چار بجے سے شروع ہوتے تھے اور پھر کوئی قید نہیں تھی کہ کب اختتام ہوگا لیکن عموماً رات دس ساڑھے دس بجے تک بیٹھک رہتی پھر دفتر بند کرکے خان صاحب ناظم آباد بس اسٹاپ نمبر 2 پر آجاتے، دفتر میں جو لوگ ان کے ساتھ ہوتے وہ بھی ہم رکاب رہتے، ناظم آباد میں پہلا پڑاو ¿ ماموں کے بک اسٹال پر ہوتا اور پھر اسی فٹ پاتھ پر تھوڑا سا آگے بڑھ کر چند قدم کے فاصلے پر ”تاج میڈیکل اسٹور“ تھا، ہمارے ایک پرانے بزرگ دوست نیاز الدین احمد خان اس اسٹور پر پائے جاتے تھے، خان صاحب انھیں اسٹور سے باہر نکالتے اور اسٹور کے سامنے ہی کیفے عباس تھا اور آج بھی ہے، یہاں چائے پینے پہنچ جاتے۔

ہم اگر دفتر سے ساتھ نہ آتے تو یہیں کہیں موجود ہوتے تھے، یہ پورا علاقہ ایک طرح سے ہماری جولاں گاہ تھا، یہ ہماری آوارہ گردی کا زمانہ تھا، کیفے عباس کے بالکل سامنے اور تاج میڈیکل اسٹور کے برابر میں ایک پرانی سی عمارت تھی،آج بھی ہے اور کسی کھنڈر کا منظر پیش کرتی ہے، اسی عمارت کی ایک دکان میں ”شہنائی میوزک ہاو ¿س“ تھا، اکثر ہم اس دکان میں ہوتے، دکان کے مالک مرحوم معین الدین ہمارے بڑے جگری دوست تھے، ان کے اور ہمارے کئی مشاغل مشترک تھے، وہ موسیقی کے دلدادہ تھے ، یہ مرض ہمیں بھی لاحق تھا، شطرنج کھیلنے کا خبط کی حد تک شوق تھا تو ہم بھی ان سے کسی طرح پیچھے نہیں تھے، مچھلی کے شکار کا شوق اضافی تھا اور ہم ہمیشہ ان کے ساتھ ہوتے، ان کی فیملی کی بھی عجب کہانی ہے جو تقریباً تمام ہی ہماری آنکھوں دیکھی اور کانوں سنی ہے، یہ عروج و زوال کی بہت ہی عبرت اثر داستان ہے، آج ان کے خاندان کے صرف دو افراد زندہ ہیں، ایک ان کی 70 سالہ کنواری بہن اور ایک پاگل بھتیجا جو نفسیاتی سینٹر میں زیر علاج ہے۔

اسی شہنائی میوزک ہاو ¿س کے آگے فٹ پاتھ کے ساتھ سڑک پر کیفے عباس والوں نے لمبی لمبی کرسی نما بینچیں ڈال رکھی تھیں، ہم لوگ یہیں بیٹھتے اور چائے کے ساتھ گپ شپ جاری رہتی، حفیظ بریلوی بڑی پابندی سے دفتر آتے تھے اور اس نشست میں بھی شامل رہتے جو رات بارہ ایک بجے تک جاری رہتی، کبھی کبھی اس سے بھی زیادہ وقت ہوجاتا، بہر حال اس طرح حفیظ صاحب سے یاد اللہ ہوئی لیکن اپنی عادت کے مطابق ہم نے کبھی ان کے بارے میں اور ان کی نجی زندگی کے بارے میں کوئی سوال نہیں کیا، روز ملتے اور بچھڑ جاتے لیکن ظاہر ہے کبھی نہ کبھی ایسی باتیں بھی چھڑ جاتی ہیں جن سے ہم اپنے ساتھ اٹھنے بیٹھنے والوں کے بارے میں جاننے لگتے ہیں۔

ہمیں معلوم ہوا کہ حفیظ صاحب شاعری کا شوق بھی رکھتے ہیں اور کہانیاں بھی لکھتے ہیں، خان صاحب کے داستان ڈائجسٹ میں ان کی معاونت بھی کرتے ہیں، شادی شدہ بال بچے دار انسان تھے اور ناظم آباد سے تھوڑے سے فاصلے پر قصبہ کالونی میں ان کی رہائش تھی، ان دنوں شکیل صدیقی بھی اورنگی ٹاو ¿ن میں رہا کرتے تھے اور حفیظ صاحب سے ان کے بھی اچھے مراسم تھے پھر یوں ہوا کہ آہستہ آہستہ حفیظ صاحب ہم سے کھلتے چلے گئے اور اپنی نجی زندگی کے مسائل بھی بتانے لگے، ان کے تعلقات اپنی بیگم کے ساتھ ٹھیک نہیں تھے اور اس کی وجہ ان کی بیگم کے کچھ نفسیاتی مسائل تھے جنھیں وہ روحانی مسائل سمجھتی تھیں اس حوالے سے ان کا جانا آنا اکثر مزارات پر بہت زیادہ رہتا تھا، اکثر تو خاصے لمبے عرصے کے لیے غائب ہوجاتی تھیں، نہ بچوں کی فکر ،نہ شوہر کا کوئی ڈر۔

حفیظ صاحب بنیادی طور پر ٹیکسٹائل انڈسٹری سے وابستہ رہے تھے، لکھنا پڑھنا ،شعر و شاعری وغیرہ ان کے شوق تھے، ہمیں یاد نہیں کہ ان کی پہلی وائف کے ساتھ کیا واقعہ ہوا، طلاق ہوئی یا انھوں نے خلع لیا لیکن ایک بار ہمیں معلوم ہوا کہ انھوں نے دوسری شادی کرلی ہے اور ان کے بچے جو اس وقت تک خاصے سمجھ دار ہوچکے تھے وہ بھی دوسری بیگم کے ساتھ خوش ہےں ، اتفاق سے دوسری بیگم کی کوئی رشتے داری مرحوم سراج منیر کی فیملی سے تھی، یہ بات ہمیں بہت بعد میں معلوم ہوئی اور یہی سراج منیر سے پہلی ملاقات کا باعث بنی۔

حفیظ صاحب اپنے کام سے کام رکھنے والے انسان تھے، محفل میں بھی بہت زیادہ بولنا یا ہر موضوع میں ٹانگ اڑانا ضروری نہیں سمجھتے تھے جیسا کہ اکثر لوگ کرتے ہیں، بالآخر داستان ڈائجسٹ بند ہوگیا جس کے اسباب اور وجوہات پر ہم پہلے لکھ چکے ہیں، چناں چہ داستان ڈائجسٹ کے ساتھیوں کی یہ محفل جو روزانہ کا معمول تھا، ختم ہوگئی البتہ ہماری اور خان آصف کی روزانہ ملاقات اور طویل نشست کا سلسلہ بعد میں بھی جاری رہا، پرانے ساتھیوں میں حفیظ صاحب بھی کبھی کبھی آجایا کرتے تھے اور اب ان کی زیادہ توجہ اپنے ٹیکسٹائل کے کام پر تھی، البتہ لکھنے لکھانے کا شوق پورا کرنے کے لیے وہ شکیل صدیقی سے جڑ گئے تھے ،شکیل صدیقی ان دنوں مسٹری میگزین کے لیے زیادہ لکھ رہے تھے ، چناں چہ حفیظ صاحب کی کہانیاں بھی مسٹری میگزین میں چھپنے لگیں، حفیظ صاحب ہمیں اکثر و بیشتر اپنی سرگرمیوں سے آگاہ کرتے رہتے، ایک روز وہ ہمارے پاس آئے اور کہا ”سراج منیر کراچی آئے ہوئے ہیں اور آپ سے ملنا چاہتے ہیں“

ہم بہت حیران ہوئے کیوں کہ ہماری کبھی سراج منیر سے کوئی واقفیت نہیں رہی تھی، ہم نے ان کا نام ضرور سنا تھا، لاہور کے حلقہ ارباب ذوق میں انھوں نے بڑی معرکہ آرائیاں کی تھیں، جن کی اطلاع کراچی بھی پہنچتی تھی اور ہم نے سنا تھا کہ وہ پروفیسر محمد حسن عسکری اور سلیم احمد کی روایت کو آگے بڑھانے والوں میں سرفہرست ہیں، اردو ادب میں روایت و جدیدیت کے حوالے سے اس دور میں دو گروپ ایک دوسرے کے مد مقابل تھے، دونوں گروپوں کی معرکہ آرائیاں سامنے آتی رہتی تھیں، لاہو رمیں ڈاکٹر سہیل عمر اور سراج منیر ”روایت“ کا مقدمہ لڑ رہے تھے اور کراچی میں سلیم احمد ، جمال پانی پتی وغیرہ

٭٭

ہم نے حفیظ صاحب سے پوچھا کہ سراج ہم سے کیوں اور کس حوالے سے ملنا چاہتے ہیں تو انھوں نے بتایا کہ ایسٹرولوجی کے حوالے سے ، اس علم سے ہماری دلچسپی کی ابتدا تو 1970 ءمیں ہوئی تھی اور تقریباً دس سال تک اس دشت کی خاک چھاننے کے باوجود ہمارا علم انتہائی محدود تھا، ہم نے حفیظ صاحب سے پوچھا کہ آپ کیسے اور کہاں سراج منیر کو ٹکراگئے؟ انھوں نے بتایا کہ میری موجودہ بیگم کے بڑے بھائی مولانا متین ہاشمی کے عزیزوں میں ہیں، ان کا قیام بفر زون میں ہے اور سراج بھی ان کے قریب ہی ٹھہرے ہوئے ہیں۔

بہر حال ہم حفیظ صاحب کی موٹر سائیکل پر سراج صاحب سے ملاقات کے لیے بفر زون پہنچ گئے، ڈرائنگ روم میں ہمیں بٹھا دیا گیا، چند لمحے بعد ہلکی خشخشی داڑھی ، آنکھوں پر سیاہ فریم کا چشمہ ، لبوں پر مسکراہٹ سجائے ایک صاحب ڈرائنگ روم میں داخل ہوئے اور بڑے پرتپاک انداز میں مصافحہ کیا،نشستوں پر بیٹھنے کے فوری بعد انھوں نے علم نجوم کے حوالے سے پہلا سوال داغا ”آپ نے سدھانت پڑھی ہے؟“

ہم نے کبھی اس کتاب کا نام بھی نہیں سنا تھا، چناں چہ نفی میں سر ہلایا، سراج نے ایک زیر لب ہلکی سی مسکراہٹ سے ہمیں دیکھا پھر نہایت عالمانہ انداز میں اپنی ایسٹرولوجیکل تقریر کا آغاز کیا، فرمانے لگے ”سدھانت اس وقت لکھی گئی تھی جب سیارہ زہرہ دریافت نہیں ہوا تھا، چناں چہ اس کتاب میں زہرہ کا کوئی ذکر نہیں ہے“ اس کے بعد انھوں نے قدیم جوتش ودّیا اور مغربی علم نجوم کے حوالے سے خاصی طویل تقریر کرڈالی، ہم حیرت سے انھیں دیکھتے اور سنتے رہے، آخر میں عرض کیا کہ جناب ہمارا اب تک کا مطالعہ خاصا محدود ہے اور اس حوالے سے پاکستان میں جو اس موضوع پر کتب موجود ہیں ان میں کسی حد تک معیاری کتب حضرت کاش البرنیؒ کی ہیں، باقی کتب سے ہم مطمئن نہیں ہیں، جہاں تک جوتش ودیا یا ویدک سسٹم کا سوال ہے تو اس حوالے سے ہماری معلومات صفر ہےں۔

ہماری صاف گوئی سے وہ بہت خوش ہوئے، انھوں نے ہمیں بتایا کہ آپ نے روزنامہ نوائے وقت میں ”آج کے امکانات“ کا جو سلسلہ شروع کیا ہے، وہ میری نظر سے لاہور میں گزرا اور میں نے نوٹ کیا کہ آپ کم از کم سیاروی نظرات کو مدنظر رکھ کر یہ کالم لکھ رہے ہیں، اس بات نے مجھے آپ کی طرف متوجہ کیا اور میں نے سوچا کہ کراچی میں آپ سے بھی ملاقات کرلی جائے، آپ جن خطوط پر ایسٹرولوجی کی پریکٹس کر رہے ہیں ،میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ آج سے دس سال بعد آپ اس ملک کے سب سے بڑے ایسٹرولوجر ہوں گے۔

 اس بات پر ہم ہنس دیے اور انکساری سے کہا ”یہ ہمارا شوق ہے، ایک مجبوری کے تحت یہ کالم شروع کرنا پڑا کیوں کہ بے روزگاری نہایت شدید تھی، سید قاسم محمود نے ہمیں اس راستے پر ڈال دیا ہے، دیکھیے کب تک یہ سلسلہ چلتا ہے“ سراج منیر کو خود پر اور اپنے علم پر بہت اعتماد تھا اور اسی اعتماد کے تحت وہ بعض اوقات بڑی بڑی باتیں کرجاتے تھے، چناں چہ ہمارے بارے میں بھی انھوں نے جو کچھ فرمایا ، ہم نے اس پر یقین نہیں کیا لیکن بہت بعد میں ، ان کے انتقال کے بعد ایک بار جب ہم لاہور گئے تو ہمیں معلوم ہوا کہ یہ بات انھوں نے لاہور میں بھی اپنے بعض قریبی افراد سے کہی تھی جن میں ان کی بہن بشریٰ اور بہنوئی ڈاکٹر سہیل عمر بھی شامل ہیں، ہمیں بڑی حیرت ہوئی کہ وہ جو بات بھی کرتے تھے ،کس قدر اعتمار کے ساتھ کرتے تھے۔

سراج منیر سے یہ ہماری پہلی ملاقات تھی، وہ العربیہ کے بیوروچیف کی حیثیت سے لندن جارہے تھے، جب تک کراچی میں رہے، انھوں نے بہت سی کتابوں کے نام ہمیں لکھ کر دیے کہ آپ ان کا مطالعہ کریں، ان کے پاس ایک پرانا اور خاصا بوسیدہ رفتار سیارگان کا رجسٹر نما ریکارڈ تھا، وہ بھی انھوں نے ہمیں تحفتاً دے دیا تاکہ زائچہ نویسی میں مددگار ہو، ہندی جوتش کی ایک قدیم کتاب بھی ہماری نذر کی، اس کا نام ”النجوم“ ہے،اردو زبان میں یہ کتاب ایک پرانے مسلمان منجم حصین الدین احمد صاحب کی تصنیف ہے اور شاید 1930 ءمیں لکھی گئی ہے، بے شک ہندی جوتش پر پہلی کتاب ہم نے یہی پڑھی۔

جب تک وہ کراچی میں رہے ان سے روز ملاقاتیں جاری رہیں، انھوں نے بتایا کہ ان کی بہن بشریٰ بھی ایسٹرولوجی سے واقف ہیں اور ان کے استاد لاہور کے ایک بڑے نامور ہومیو پیتھک ڈاکٹر اور ایسٹرولوجر اختر امرتسری صاحب ہیں ، اختر صاحب کے صاحب زادے بھی سراج صاحب کے ہمراہ کراچی آئے ہوئے تھے، ان سے بھی ملاقات رہی، کراچی میں ان کے قیام کے دوران میں ایک نہایت اہم واقعہ ہوا جس کا تذکرہ ضروری ہے ، یہ دلچسپ ترین نشست جناب خالد خُلد صاحب کے آفس میں ہوئی۔

یہ واقعہ سنانے سے پہلے ضروری ہے کہ ایک اور اہم شخصیت کا تعارف کرادیا جائے، یہ شخصیت ان چند افراد میں سے ایک ہے جس نے ہماری زندگی کو درست رُخ پر ڈالنے میں نہایت اہم کردار ادا کیا اور آج ہم جو کچھ بھی ہیں اس میں ان کی مخلصانہ رہنمائی کو فراموش نہیں کرسکتے، نیاز الدین احمد خاں جنھیں ہم اور ان کے تمام احباب صرف نیاز صاحب کہتے ہیں ،الحمد اللہ بقید حیات ہیں اور عمر کی 80 بہاریں دیکھ چکے ہیں، آگرا (انڈیا) میں پیدا ہوئے، نوعمری ہی میں بمبئی چلے گئے اور اداکارہ نمی کے گھر رہے لیکن نمی کے حوالے سے کبھی کھل کر کوئی بات نہیں کرتے تھے، اداکارہ نمی عمر میں ان سے خاصی بڑی تھیں اور جب نیاز صاحب تقسیم سے پہلے اس کے گھر ٹھہرے ہوں گے تو ان کی عمر 6,7 سال ہوگی، تقسیم ہند کے بعد پاکستان آئے، تعلیم حاصل کی ، زبان و ادب پر گہری نظر ، تاریخ ، مذہب، فلسفہ و منطق سے گہرا شغف ، ہماری ان سے پہلی ملاقات ناظم آباد کے مشہور ایرانی ہوٹل کیفے سبحان میں ہوئی تھی، شاید وہ کوئی بہت ہی شبھ گھڑی تھی، نیاز صاحب ان دنوں بی او اے سی میں ملازم تھے، اس وقت تک پاکستان دولت مشترکہ سے علیحدہ نہیں ہوا تھا، نیوی بلیو کلر کے شاندار سوٹ میں جس کی آستینوں اور کالر پر گولڈن کلر کی پٹیاں چمکتی تھیں، یہ بی او اے سی کا یونیفارم تھا، نیاز صاحب کی شخصیت بڑی بارعب نظر آتی، شاید رات کے 12 بجے کے بعد کا کوئی وقت تھا، ہم کیفے سبحان میں چند دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھے اور موضوع پاک بھارت جنگ اور اس کے نتیجے میں ہونے والا سقوط ڈھاکا ، ہماری معلومات بی بی سی کی اردو سروس اور پاکستانی اخبارات وغیرہ تھے ،نیاز صاحب نے جب اس محفل میں انٹری دی اور اپنی وسیع نالج کے دریا بہائے تو ہم ان سے بہت متاثر ہوئے، اب روزانہ رات کے اس آخری پہر میں نیاز صاحب کا انتظار رہنے لگا، معلوم یہ ہوا کہ وہ تو ہر فن مولا ہیں ، کوئی موضوع ہو انھیں گفتگو کرنے میں کبھی مشکل پیش نہیں آتی، اس طرح ہم آہستہ آہستہ نادانستہ طور پر ان کی شاگردی اختیار کرتے چلے گئے ۔

 نیاز صاحب کا حلقہ ءاحباب خاصا وسیع تھا، چناں چہ نیاز صاحب ہی کے ذریعے ہمارے حلقہ ءاحباب میں بھی اضافہ ہونے لگا، خان آصف ، احمد جاوید، جمال احسانی، سید صفدر علی صفدر ، خواجہ رضی حیدر ، سہیل امتثال صدیقی اور بہت سے لوگوں سے ہم نیاز صاحب کی معرفت ہی ملے۔

شاید 1972 ءمیں صدر بھٹو نے دولت مشترکہ سے علیحدگی کا اعلان کیا اور برٹش ایئر لائن نے پاکستان سے اپنا کاروبار سمیٹ لیا، اس طرح نیاز صاحب بے روز گار ہوگئے۔

نیاز صاحب کو اپنی جاب ختم ہونے کا کوئی غم نہ تھا بلکہ ممکن ہے خوشی ہوئی ہو ، فطری طور پر وہ شاہانہ مزاج کے حامل آزادی پسند انسان ہیں، اب نیاز صاحب کے ساتھ شب و روز اس طرح گزرنے لگے کہ ہمیں وقت کا کوئی احساس ہی نہ ہوتا تھا، کب صبح ہوئی اور کب شام ہوگئی، کچھ خبر نہیں، کبھی کسی ہوٹل میں بیٹھے ادب ، تاریخ، مذہب وغیرہ پر یا سیاست پر بحث مباحثے کر رہے ہیں ، کبھی کوئی کتاب جو ہم نے تازہ پڑھی ہو اس پر بات ہورہی ہے اور کبھی کسی لائبریری میں وقت گزر رہا ہے، نیاز صاحب کے ساتھ یہ معمول برسوں جاری رہا، اس دوران میں ان سے اختلاف یا لڑائی جھگڑے بھی ہوتے رہے جو یقیناً ہماری ہی کسی نالائقی یا کم علمی کا سبب ہوتے، ایسا ہی ایک قضیہ علم نجوم تھا، نیاز صاحب اس کی سخت مخالفت کیا کرتے اور اس حوالے سے بعض اوقات ہم پر سخت لعن طعن بھی کیا کرتے اور ہمارے پاس اس علم کی وکالت میں ایسے مضبوط دلائل نہیں ہوتے تھے کہ ہم انھیں چپ کراسکیں، خان آصف کسی حد تک ہمارے مددگار ہوتے تھے، بہر حال یہ جھگڑا ہمیشہ جاری رہا،واضح رہے کہ نیاز صاحب کا کھلا جھکاو ¿ ہمیشہ جماعت اسلامی کی جانب رہا ہے، اگرچہ وہ اس کے باقاعدہ رکن وغیرہ کبھی نہیں رہے مگر مولانا سید مودودی نیاز صاحب کے آئیڈیل تھے۔

سراج منیر کراچی آئے تو ہم نے نیاز صاحب کا ذکر کیا، وہ غائبانہ طور پر نیاز صاحب سے واقف تھے، شاید کبھی احمد جاویدنے ان سے نیاز صاحب کا تذکرہ کیا ہوگا، واضح رہے کہ نیاز صاحب ان لوگوں میں ہمیشہ شامل رہے ہیں جن کی احمد جاوید بہت عزت کرتے ہیں اور ان سے بہت محبت کرتے ہیں۔

ہم نے سراج سے کہا کہ نیاز صاحب کو علم نجوم کے حوالے سے اگر آپ قائل کرسکیں تو ہم آپ کی مناظرہ بازی کی اعلیٰ صلاحیت کے قائل ہوجائیں گے، سراج نے چٹکی بجائی اور کہا ”بسم اللہ، لے آئیں نیاز صاحب کو میدان میں“

چناں چہ طے یہ ہوا کہ خالد خلد صاحب کے دفتر میں ایک نشست رکھی جائے اور تمام احباب وہاں اکٹھا ہوں، وہیں یہ مناظرہ منعقد ہو۔

واضح رہے کہ خالد خلد صاحب بلاشبہ پاکستانی صحافت کے ان لوگوں میں شامل ہیں جنھوں نے نہایت ایماندارانہ طور پر صحافت کے پیشے میں اپنا کردار ادا کیا اور آنے والی نسلوں کے لیے رہنمائی فراہم کی، آج بہت سے لوگ جو اردو صحافت میں موجود ہیں ، کسی نہ کسی طور اور کبھی نہ کبھی خالد خلد صاحب سے وابستہ رہے ہیں اور رہنمائی لیتے رہے ہیں۔

عباسی شہیداسپتال کے بالکل سامنے سڑک پار ایک گلی سیدھی خالد خلد صاحب کے گھر تک جاتی تھی، اسی گلی میں پہلے مشفق خواجہ صاحب کا تین منزلہ مکان تھا اور کچھ آگے جاکر خالد خلد صاحب رہتے تھے، ان کا گھر اور دفتر بھی یہی تھا، روزانہ ان کے دفتر میں دوست احباب جمع ہوتے اور مختلف موضوعات پر گفت و شنید ہوتی، اس نشست کے مستقل ممبران میں سہیل امتثال صدیقی ،نیاز الدین احمد خان، آفاق فاروقی، خان آصف، فائق مرزا (کراچی ویکلی کے نام سے ایک پرچا نکالتے تھے) حفیظ بریلوی وغیرہ شامل تھے، باقی دیگر آنے جانے والوں کی فہرست بھی خاصی طویل ہے، خالد صاحب نہایت وضع دار ،تعلیم یافتہ، مذہبی سوچ کے مالک انسان تھے، ان کا ذہنی جھکاو ¿ اگرچہ جماعت اسلامی کی جانب تھا اور مولانا سید مودودی کے فین تھے لیکن جماعت اور مودودی صاحب سے بعض مسائل میں کچھ اختلاف بھی رکھتے تھے، ان کے گھر کے سامنے ہی پروفیسر لطف اللہ خاں رہائش پذیر تھے۔

خالد صاحب ایسے مناظروں کا زبردست شوق رکھتے تھے، وہ روزانہ کوئی نہ کوئی مسئلہ چھیڑ کر چائے کی پیالی میں طوفان برپا کرنے کے ماسٹر تھے، اس خبر سے نہ صرف خوش ہوئے بلکہ نہایت پرجوش ہوگئے، اس نشست کے لیے ایک دن مقرر کرلیا گیا ،بعد میں معلوم ہوا کہ پروفیسر لطف اللہ خاں صاحب کو جب معلوم ہوا کہ سراج منیر خالد صاحب کے گھر آرہے ہیں تو انھوں نے خالد صاحب سے خصوصی فرمائش کی کہ میری بھی ملاقات کرادیں مجھے کچھ تصوف کے موضوعات پر سراج منیر سے مشورہ کرنا ہے، یہ بڑی بات تھی پروفیسر صاحب جیسا معمر اور زندگی بھر اپنے شعبے میں نمایاں رہنے والا انسان بھی ایک کم عمر شخص سے کسی اہم مسئلے پر رہنمائی کا طلب گار تھا۔

مقررہ روز حفیظ بریلوی سراج منیر کو لے کر آگئے، جہاں تک ہمیں یاد ہے اس نشست میں خالد خلد صاحب جو بہر حال ”میر نشست“ تھے ان کے علاوہ سراج منیر ، حفیظ بریلوی، سہیل امتثال صدیقی، خان آصف اور ہم موجود تھے، گفتگو شروع ہوئی تو تھوڑی ہی دیر میں اچانک سجاد میر بھی تشریف لے آئے ، انھیں بھی شاید اس نشست کی خبر مل گئی تھی۔

ابتدا میں رسمی گفتگو ہوتی رہی پھر اچانک سراج نے نیاز صاحب سے کہا ”سنا ہے آپ علم نجوم کے مخالف ہیں؟“

نیاز صاحب اپنے اندازِ گفتگو میں بہت ہی نرم اور مہذب لہجے میں بات کرنے والے انسان ہیں، انھیں غصہ بھی بہت ہی کم آتا ہے، دلچسپ بات یہ بھی ہے کہ ہم نے ایک طویل عرصہ ان کے ساتھ گزارا لیکن کبھی انھیں کسی بھی صورت میں بے ہودگی ،بدتمیزی یا مغلظات جیسی خرافات میں ملوث نہیں دیکھا، کبھی ان کے منہ سے گالی نہیں سنی، انھوں نے بڑے ہی نرم اور ٹالنے والے انداز میں کہا ”ارے چھوڑیں آپ بھی کیا مسئلہ لے کر بیٹھ گئے، یہ انور فراز کی فضولیات ہیں، ان میں کیا وقت ضائع کرنا“

سراج نے اچانک چہرے پر سنجیدگی طاری کرلی اور کہا ”نیاز صاحب! آپ کیا کہہ رہے ہیں، فضولیات! جناب میرا مو ¿قف تو یہ ہے کہ علم نجوم سیکھنا اسلام میں ضروری ہے اور آپ ماشاءاللہ ایک اسلامی ذہن رکھنے والے آدمی ہیں“

نیاز صاحب ہنس پڑے اور بولے ”آپ بھی کمال کرتے ہیں، اسلام میں علم نجوم سیکھنا ضروری ہے! اب ایسی باتیں نہ کریں“

سراج بولے ”آئیے اس پر مزید گفتگو کرتے ہیں، اس کے بعد موصوف نے اپنی تقریر کا آغاز کیا جو ہمیں اب یاد نہیں لیکن صحیح معنوں میں اب مناظرہ شروع ہوچکا تھا، نیاز صاحب بھی کسی طور کم نہیں تھے ، بالآخر اس بات پر وہ راضی ہوگئے کہ ایک علم کی حیثیت سے کسی بھی علم کو سیکھنا اور جاننا کوئی غلط بات نہیں ہے لیکن اب سراج نے ایک نیا پینترا بدلا، انھوں نے کہا ”نیاز صاحب ! اب میں یہ کہتا ہوں کہ علم نجوم سیکھنا وجوب میں شامل ہے، آپ کیا کہتے ہیں“

نیاز صاحب نے حسب معمول ان کی بات کو مسکراکر رد کیا اور کہا ”بس، بس سراج! بات یہیں تک رہنے دو ، جیسا تم کہہ رہے ہو، ایسا کچھ نہیں ہے، اسلام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے“

بس جناب سراج منیر نے دوبارہ دلائل کا انبار لگانا شروع کردیا اور درحقیقت نیاز صاحب کو خاصی پسپائی اختیار کرنا پڑی لیکن وہ سراج کے دلائل سے مطمئن نہیں تھے کہ اچانک سراج نے ایک اور پینترا بدلا اور کہا ”میں اپنے سابقہ مو ¿قف سے رجوع کرتا ہوں اور اب میرا مو ¿قف یہ ہے کہ علم نجوم حاصل کرنا فرائض میں شامل ہے“

حقیقت یہ ہے کہ سراج علم منطق میں بھی کچھ کم نہیں اور کہا جاتا ہے کہ منطق ایسا علم ہے جس کے ذریعے آپ پتھر کو سونا ثابت کرسکتے ہیںِ ، نیاز صاحب کو وہ مکمل طور سے قائل کرنے میں تو کامیاب نہیں ہوئے لیکن اس روز نشست میں جو علمی مباحث ہوئے وہ نہایت ہی دلچسپ تھے ، کاش اس زمانے میں ریکارڈنگ کا کوئی انتظام ہوتا، سجاد میر کی آمد اور ساتھ ہی پروفیسر لطف اللہ کی موجودگی نے پھر گفتگو کا رُخ تصوف کی طرف موڑ دیا، خیال رہے کہ خالد خلد صاحب تصوف وغیرہ کے سخت خلاف تھے لیکن اس نشست میں وہ صرف کچھ سوالات اٹھانے تک ہی محدود رہے ، باقی گفتگو میں سراج منیر میر مجلس بنے رہے ، سجاد میر یا پروفیسر صاحب ان سے اسی طرح گفتگو کر رہے تھے جیسے کوئی طالب علم اپنے استاد سے بات کرتا ہے، یہ منظر ہم نے ایک بار ٹی وی پر بھی دیکھا تھا ، پی ٹی وی سے ایک پروگرام نشر ہورہا تھا جس میں سراج منیر کے ساتھ اشفاق احمد صاحب اور شاید کوئی اور صاحب بھی موجود تھے ، ہم نے دیکھا کہ اشفاق صاحب جو خود تصوف کے موضوع پر خاصا علم رکھتے تھے، سراج منیر سے اس طرح گفتگو کر رہے تھے جیسے ایک شاگرد استاد سے سوالات کرتا ہے، یقیناً یہ پروگرام پی ٹی وی کے ریکارڈ میں ہوگا۔

سراج منیرکراچی سے سیدھے لندن کے لیے روانہ ہوگئے اور لندن جاتے ہی انھوں نے ہمیں ایک خط لکھا اور خاص طور سے تاکید کی کہ اس روز جو کچھ بھی ہم نے نیاز صاحب کے ساتھ کیا ، اس کے لیے میری طرف سے نیاز صاحب سے معافی کی درخواست ضرور کیجیے گا۔

شاید کچھ روز بعد ہی احمد جاوید کراچی آئے اور انھیں بھی اس واقع کی اطلاع ہوئی تو وہ مسکرائے اور کہا ”سراج منیر ایسے ہی ہیں لیکن انھیں نیاز صاحب سے معذرت کرنا پڑے گی ورنہ ان کی خبر میں لوں گا“(جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر نمبر 13 . اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر نمبر 13 تحریر اعجاز احمد نواب وزیر آباد شہر کئی حوالوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے