سر ورق / یاداشتیں / اردو کہانی کا سفر ۔۔  قسط  نمبر ۔۔اعجاز احمد نواب 

اردو کہانی کا سفر ۔۔  قسط  نمبر ۔۔اعجاز احمد نواب 

اردو کہانی کا سفر   قسط  نمبر 12      تحریر  اعجاز احمد نواب

        ✍️✍️✍️✍️✍️پرانے قارئین… اگر ذہن پر زور دیں ، دماغ کی مطالعاتی ونڈوز کا زنگ کُھرچیں تو یاد آئے گا کہ تیس پینتیس سال قبل ہر شہر میں ہر علاقے میں کتابوں کی دوکانوں کا سب سے زیادہ جو نام نظر آتا تھا، وہ تھا… شمع…. یعنی شمع بک سٹال… شمع بک ڈپو…. شمع نیوز ایجنسی… شمع بک ایجنسی…. شمع لائبریری…، اب مجھے سارے شہروں کا تو نہیں پتہ تاہم پھر بھی میں سمجھتا ہوں کہ آج بھی ہر شہر میں شمع کے نام سے کتابوں کی کوئی نہ کوئی دوکان ضرور ہے  مثلاً شمع بک سٹال فیصل آباد، شمع بک ایجنسی کراچی یہ ادارہ ایک ڈائجسٹ بھی نکالتا ہے، لاہور میں بھی شمع بک ایجنسی کے نام سے اشاعتی ادارہ موجود ہے  راولپنڈی میں اس وقت بھی کم از کم تین دکانوں کا نام شمع ہے، اسی طرح بے شمار شہروں میں اس نام سے آج بھی دوکانیں موجود ہیں، یہ الگ بات ہے کہ آج جن بک سٹورز کا نام شمع ہے ان کو شاید خود بھی معلوم نہیں کہ انہوں نے یہ نام کیوں رکھا، لیکن اس کے پیچھے ایک پوری تاریخ ہے،

✍️✍️✍️✍️✍️شاہ عالم مارکیٹ لاہور میں ایک بلڈنگ تھی شاید اب بھی ہو شمع بلڈنگ… اس بلڈنگ میں ایک ڈاکخانہ بھی ہے جسے شمع پوسٹ آفس کہا جاتا ہے،

اسی بلڈنگ میں ایک حبیب بنک بھی تھا (شاید اب بھی بھی ہو)

راولپنڈی میں ایک شاعر ادیب ہیں نام ہے ان کا نثار نازش بنیادی طور پر بینکر تھے وائس پریزیڈنٹ  حبیب بینک ریٹائرڈ ہیں، گزشتہ برس ہی ان کی سوانح حیات مجھے یاد ہے سب ذرا ذرا کے نام سے شائع ہوئی ہے، عمر لگ بھگ اٹھاسی برس ہے ماشاءاللہ صحت مند  ہیں شاعری کے بھی پانچ چھ مجموعے چھپ چکے ہیں، ادبی حلقوں میں جانے پہچانے ہیں، سکاؤٹ کےطور پر بانی پاکستان قائد اعظم رحمۃاللہ سے ہاتھ ملانے کا شرف بھی رکھتے ہیں،

یہ کوئی آج سے سترہ اٹھارہ برس کی بات ہے جب  دو احباب میرے آفس میں تشریف فرما تھے، ایک صاحب مشہور رسالے بچوں کی دنیا کے مدیر تھے، جب کہ دوسرے یہی نثار نازش تھے اور ایک  واقعہ سنا رہے تھے ،  انہوں نے بتایا کہ غالباً سن ستر  سے پہلے کی بات ہے، ، جب وہ بینک منیجر ہوا کرتے تھے، کہ حبیب بنک کی طرف سے شاہ عالمی لاہور میں برانچ کھولنے کا فیصلہ کیا گیا اور مجھے ذمہ داری سونپی گئی، یہ شمع فلمی رسالے کی شمع بلڈنگ تھی،

فرماتے ہیں کہ ہر صورت اکتیس دسمبر سے پہلے برانچ کا افتتاح کرنا تھا ، لہذا میں نے بینک کا بورڈ وغیرہ لگانے کا انتظار نہ کیا، بلکہ کپڑے کابینر پینٹر سے لکھوا کر آویزاں کر دیا اور دومیز اور چار کرسیوں پر مشتمل فرنیچر سے برانچ کا افتتاح کر دیا، پہلے ہی دن صبح ایک صاحب آئے اور انہوں نے اپنا اکاؤنٹ کھلوانے کی خواہش کی، انہوں نے تعارف کروایا کہ میں شمع رسالے کا سرکولیشن مینجر ہوں، تو یوں بینک کا ہم نے باقاعدہ آغاز کر دیا،

  اب آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ آج یہ کیسی بے سر و پا  باتیں ہو رہی ہیں، کہ بات تو شروع ہوئی شمع نام کی دوکانوں کی، اور اب آگئی ہے بینک کے افتتاح پر …. لیکن ان سب کا آپس میں تعلق اور تسلسل ہے،

اب اس کہانی میں عجیب  اور شدید ترین ذہنی جھٹکے والا موڑ اس وقت آتا ہے جب نثار نازش صاحب بینک برانچ کے افتتاح کا ذکر کرتے ہیں تو ان ساتھ بیٹھے بچوں کی دنیا کے مدیر محمد اشرف شیخ صاحب کا مہنہ حیرت سے کھل جاتا ہے اور وہ خوشگوار حیرت اور اضطراری کیفیت سے کھڑے ہو جاتے ہیں اور نثار نازش کی جانب دونوں باہیں پھیلا کر کہتے ہیں  کہ نثار صاحب اکاؤنٹ کھلوانے والا وہ بندہ میں تھا ،  ان کی بات سن کر لمحے بھر کو نثار نازش سناٹے میں آئے اور پھر… انتہہہہائی.. گرم جوشی سے اشرف شیخ صاحب سے بغل گیر ہوگئے،

یہ کسی فکشن کہانی کا سین نہیں، یہ بالکل سچا واقعہ جو میرے آفس میں پیش آیا، جہاں یہ دونوں افراد اپنے کسی الگ الگ کام سے میرے ساتھ ملاقات کے لئے آئے تھے، ان دونوں افراد کی آپس میں یہ ملاقات شاید پینتیس برس بعد ہوئی تھی

✍️✍️✍️✍️✍️فلمی ماہنامہ شمع لاہور، اپنے وقت کا بہہہہہہت بڑا نام تھا، فلمی مضامین فلموں کے اشتہارت نئے اداکاروں کے انٹرویوز  فلمی خبروں کے علاوہ.. جو سب سے خاص بات اس رسالے کی تھی  وہ تھی ، شمع ادبی معمے، جن کے درست حل پر اس زمانے میں بھی ہزاروں روپے کے انعامات دئیے جاتے تھے، ان معموں کا درست حل بینک کے لاکر میں جمع کروا دیا جاتا، اور پھر مقررہ تاریخ کو کھول کر قارئین کے لئے پیش کر دیا جاتا،  جاننے والے جانتے ہوں گے کہ شمع لاہور کتنا بڑا میگزین تھا، میں صرف اتنا عرض کر دوں کہ  شمع کے ڈاک کے ذریعے جو چھوٹے پیکٹ بزریعہ VPP بجھوائے جاتے تھے  وہ اس قدر تعداد میں ہوتے تھے کہ مجبوراً  محکمہ ڈاک کو اپنا ڈاک خانہ اس بلڈنگ میں قائم کر کے اس کا نام ہی شمع پوسٹ آفس رکھنا پڑا، اسی طرح بینک بھی اسی بلڈنگ جس کا نام ہی شمع بلڈنگ تھا میں بنایا گیا  اس بینک کے پہلے منیجر نثار نازش اور اس وقت کے شمع کے سرکولیشن مینجر محمد اشرف شیخ کی ملاقات پینتیس برس بعد میرے آفس راولپنڈی میں ہوئی، یہاں یہ بات دلچسپی کی حامل ہے کہ اسی شمع رسالے کے زیر اہتمام بچوں کے لئے ماہ نامہ بچوں کی دنیا بھی چھپتا تھا، جسے آج مسلسل چھپتے ہوئے انہترواں سال ہے شاید ہی مطالعہ کا کوئی شوقین ہوگا جس نے، بچوں کی دنیا، کا نام نہ سنا ہو گا، یہ کبھی نہ کبھی پڑھا نہ ہوگا،

شمع کی شہرت اور اشاعت اس قدر تھی کہ جس شہر میں فلم میگزین شمع کی ڈسٹری بیوشن جس نیوز ایجنٹ کے پاس ہوتی، اس کا نام ہی شمع نیوز یا بک

ایجنسی رکھ دیا جاتا، سنا ہے کہ جس دن شمع معموں کا درست حل شمع بلڈنگ سے جاری کیا جاتا اس روز شاہ عالمی چوک میں پولیس کی اضافی نفری طلب کی جاتی تھی، ہو سکتا ہے کہ اردو کہانی کا سفر کے قارئین میں کوئی ایسا بندہ موجود ہو  جو شمع معموں میں حصہ لیتا رہا ہو یا کبھی انعام جیتا ہو  یا شالمی چوک کے کسی ایسے منظر کا عینی شاہد ہو،  میں نے تو یہ منظر نہیں دیکھا لیکن سنا بڑے معتبر آدمی سے تھا، اس شخص کا نام سلیم شرقپوری تھا، جو سن اسی کے بعد(جب فلمیں اور شمع زوال پزیر ہو چکے تھے،)  شمع کے مدیر اعلے تھے ان کے بھائی نعیم شرقپوری بچوں کی دنیا کے مدیر تھے، تاہم دونوں پرچے اس زمانے میں سلیم شرقپوری ہی سنبھالتے تھے سلیم شرقپوری اور نعیم شرقپوری کے والد محمد امین شرقپوری شمع اور ،بچوں کی دنیا کے مالک وناشر تھے، پھر سلیم شرقپوری بھی وفات پا گئے، جس کے بعد بچوں کی دنیا  کے مدیر محمد اشرف شیخ صاحب بن گئے جو پرانے زمانے سے شمع کے شعبہ سرکولیشن میں تھےدس بارہ سال قبل ان کی بیگم وفات پا گئیں، ان کی اکلوتی  بیٹی جو کہ لندن میں تھیں، انہوں نے اپنے والد کو بھی لندن بلا لیا، لہذا بچوں کی دنیا کی ادارت کے فرائض ایم یوسف کے کندھوں پر آگئے، جو قبل ازیں بچوں کی دنیا کی کہانیوں کے اسکیچز بناتے اور اس کے علاوہ بچوں کا معروف میگزین  بچوں کا باغ کے مالک تھے، اس کے ساتھ انہوں نے بچوں کا رسالہ جگنو( جو کسی زمانے میں شیخ غلام علی اینڈ سنز لاہور کے تحت نکلتا تھا)  بھی دوبارہ شروع کر دیا،  لیکن چند سال پیشتر ایم یوسف بھی انتقال کر گئے، اور پھر ان کے بیٹے نے یہ ذمہ داری نبھائی، لیکن.. پھر کچھ وقت کے لئے بچوں کی دنیا، بچوں کا باغ اور جگنو بند رہے، تاہم 2018سے بچوں کے یہ تینوں جرائد بچوں کا کتاب گھر (محمد فہیم عالم) کے زیر نگرانی  پوری آب و تاب سے ایک بار پھر شائع ہونے لگے ہیں، اور اب یہ پہلے سے کافی بہتر دِکّھتے ہیں،

✍️✍️✍️✍️✍️لکھاریوں کو جو ابتدائی مکتب ملتا ہے،اتبدائی راستہ ملتا ہے وہ اخبارات میں بچوں کے صفحات اور بچوں کے رسائل ہیں۔ صوفی تبسم، عزیز میرٹھی، عزیز اثری  کو بچوں کے لیے جو مقام و مرتبہ ملا ہے وہ بہت کم لوگوں کو نصیب ہوتا ہے۔

نامور شحصیات کو بنانے سنوارنے میں بچوں کے رسائل اہم رول ادا کرتے ہیں، بچپن میں، لکھی گئی ۔ ہر دور میں، ہر علاقے میں بچوں کے لیے کہانیاں لکھنا اور سنانا ایک فطری ضرورت ہے۔ بڑی بوڑھیاں رات کو بچوں کو جو کہانیاں سناتی تھیں، وہ آج کے میڈیا کے زبردست ڈرامے سے کم نہیں ہوتی تھیں۔ انہی بچوں کی کہانیوں کو لفظوں کی شکل دے کر کاغذ پر اُتارتے گئے تو یہ بچوں کا ادب بنتا گیا اور یہی ادب کسی بھی معاشرے کا بنیادی سرمایہ ہوتا ہے۔  برصغیر پاک و ہند میں بچوں کے ادب کی تاریخ بڑی روشن اور قابلِ رشک ہے آسمان علم و ادب پر چمکنے والے تقریباً سب ستارے بچوں کے ادب سے اُٹھ کر اِن بلندیوں پر پہنچے ہیں۔علامہ اقبالؒ نے بچوں کے لیے بڑی خوبصورت اور فکر انگیز نظمیں لکھیں ”لب پہ آتی ہے دعا بن کے“ سکولوں میں سب بچوں کے لبوں پر اجتماعی (کورس کی ) صورت میں ہوتی ہے۔ یہ دعا گزشتہ سو برس سے ایک ہی طرزِ پر لاکھوں سکولوں میں روزانہ پڑھی جاتی ہے۔

بچوں کے لیے ادب کی تخلیق کرنا خاصا دشوار کام ہے کیونکہ رائٹرز کو بچوں کی ذہنی سطح کے مطابق لکھنا پڑتا ہے اس لیے بچوں کی عمر، ان کے جذبات اور احساسات کو سامنے رکھنا پڑتا ہے۔ ویسے تو آج کا بچہ بہت ذہین ہے اور اس کی ذہنی استعداد بہت زیادہ ہے بقول پروین شاکر

جگنو کو دن کے وقت پرکھنے کی ضد کریں

بچے ہمارے عہد کے چالاک ہو گئے

آج کا بچہ چند عشرے قبل کے بچوں سے زیادہ وُسعت ِ نظر، بلکہ بالغ نظری رکھتا ہے۔ کیونکہ ماضی میں بچوں کو آج جیسی جدید سہولیات میسر نہیں تھیں۔ کمپیوٹر، انٹرنیٹ، موبائلز اُن کے وہم و گمان میں بھی نہ تھے۔ صرف تختی، قلم، دوات اور سلیٹ ہوتی تھی۔ آج کے بچے الف لیلیٰ اور داستانِ امیر حمزہ کی بجائے ہیری پوٹر اور مسٹر بین کی فلمیں اور کہانیاں زیادہ پسند کرتے ہیں۔

قیامِ پاکستان کے بعد بچوں کے لیے جو سبق آموز نظمیں، کہانیاں اور ڈرامے تخلیق کیے گئے ان میں تعلیم ، تفریح، اصلاح، تربیت اور راہنمائی کے اصولوں کو ہمیشہ مدنظر رکھا گیا۔ سکولوں کے نصاب میں ” ربّ کا شکر ادا کر بھائی جِس نے ہماری گائے بنائی“ دریائے سندھ کی یادیں، جگن ناتھ آزاد کے والد تلوک چند محروم کی نظم، خوشی محمد ناظم کی شہرہ آفاق نظم ”کوّے ہیں سب کے دیکھے بھالے“، ”میلہ شالامار لاہور کا“، ”پانچ چوہے گھر سے نکلے“ آج بھی بچپن کی بھولی بسری یادوں کو صدا دیتی ہیں۔

ان سب کی بنیاد بچوں کے رسائل تھے۔ جن میں ایسا شہرہ آفاق ادب نمایاں ہوا قیامِ پاکستان کے بعد ابتداءمیں ماہنامہ ہدایت، لاہور غنچہ، کھلونا، تعلیم و تربیت، نونہال، بچوں کی دنیا اور دیگر رسائل و اخبارات میں بچوں کے صفحات نے بھی اس میں اہم کردار ادا کیا۔

علامہ اقبال نے بچوں کے لیے بے شمار اشعار اور نظمیں لکھی ہیں۔ آج بھی کوئی بچوں کا رسالہ اقبال کے اشعار و افکار کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ حکیم محمد سعید مدیر ”ہمدرد نونہال“ کا، بچوں کے لیے کام اور نام کسی تعارف کا محتاج نہیں۔ انہوں نے بچوں کے لیے ان گنت سفرنامے لکھے ہیں جو بجائے خود ایک ریکارڈ ہے، مجموعی طور پر حکیم صاحب نے بچوں کے لیے سو سے زائد کتابیں لکھیں۔

سعید لخت صاحب نے سالہا سال تعلیم و تربیت کے ادارتی فرائض سرانجام دئیے۔ لگ بھگ گزشتہ پچاس برسوں سے بچوں کے لیے ان تھک کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے خود بھی بچوں کے لیے بے حساب و بے شمار لکھا۔

اے حمید بچوں کے ادب کا مقبول ترین نام ہے۔ بچوں کے مختلف رسائل میں چھپنے والی ان کی کہانیوں کی تعداد شاید ہزار سے اوپر ہے۔ محشر بدایونی نے بھی اپنے دور میں بچوں کے لیے اچھا کام کیا۔ ریڈیو پاکستان سے بچوں کے لیے پروگرام کرتے تھے اور اس میں اپنی لکھی ہوئی نظمیں بھی پیش کرتے تھے۔ بچوں کے بہت سے رسائل میں بھی نظمیں وغیرہ لکھیں اور بچوں کے ادب سے متعلق کئی کتابیں بھی مرتب کیں۔اشرف صبوحی کا طرزِ تحریر الگ اور اسلوب نہایت سلیس اُردو تھا۔ آپ نے بھی بچوں کے لیے کہانیاں اور کتابیں معقول تعداد میں لکھیں۔ بچوں کے ادب کے حوالے سے ایک نام ابن انشاءکا بھی ہے۔ ان کی نظمیں طنز اور نغمگی سے بھرپور ہوتی تھیں۔ اشتیاق احمد کا نام بھی بچوں کے ادب اور رسائل میں اوّلین ترجیح والے مصنفین میں ہوتا ہے۔ ڈاکٹر جمیل جالبی زیادہ تر بچوں کے لیے لوک کہانیاں لکھتے ہیں کئی کتابیں بھی چھپ چکی ہیں محترم شخصیت ہیں۔ محترمہ ثاقبہ رحیم الدین کی بچوں کے ادب کے حوالے سے خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ ان کی ہر تحریر کوئی نہ کوئی سبق دیتی ہے اور دلچسپی سے بھرپور ہوتی ہے۔سائنس کی پروفیسر وحیدہ تبسم کا بچوں کے حوالے سے کام سب سے ہٹ کر ہے۔ یہ عرصہ دراز سے بچوں کے لیے نونہال میں سائنسی مضامین لکھتی رہیں۔ نظموں اور کہانیوں کی تعداد بھی تسلی بخش ہے۔

احمد ندیم قاسمی اور مرزا ادیب بچوں کے رسالے ”پھول“ کے مدیر بھی رہے اور بچوں کے لیے کہانیاں اور نظمیں بھی لکھتے رہے۔ کرشن چندر افسانہ نگار ہیں لیکن کسی زمانے میں ان کی بچوں کے ایک رسالے میں قسط وار کہانی ”چالاک خرگوش“ بڑی مقبول ہوئی تھی۔ یہ بچوں کے لیے غیرملکی ادب سے انتخاب و ترجمہ بھی کرتے تھے۔

مولانا محمد حسین آزاد، امتیاز علی تاج، صوفی تبسم، حفیظ جالندھری، مسلم ضیائی اور بے شمار نام ہیں جنہوں نے بچوں کے لیے ان تھک کام کیا۔ مسلم صیائی نے بچوں کے لیے ایک رسالے ”تارے“ کا اجراءبھی کیا تھا۔ جبار توقیر، آغا اشرف، ایم اے راحت، صفدر شاہین اور مظہر کلیم کے نام سے بھی بچوں کی کہانیوں کی تعداد سیکڑوں میں ہے۔

غلام محی الدین نظر، ، عزیز اثری نے اس شعبے میں اہم کردار ادا کیا۔  محمد حیات خان نیازی نے دس سال کی عمر سے بچوں کے لئے بچوں کے رسائل میں لکھنا شروع کیا، آج پینسٹھ سال کی عمر میں بھی بچوں کے لئے اسی جوش و خروش سے لکھ رہے ہیں،

دعوة اکیڈمی اسلام آباد نے بچوں کے ادب کے لیے ایک علیحدہ شعبہ قائم کر رکھا ہے جہاں پر اس سلسلے میں بہت کام ہو رہا ہے۔ ہر سال بچوں کے رسائل، ایڈیٹر اور لکھنے والوں کو انعامات دئیے جاتے ہیں اور بچوں کے لیے چھپنے والی کتب کو بھی انعام دیتے ہیں۔

نونہال عرصہ انہتر سال سے چھپ رہا ہے ، اس کے ناشر حکیم محمد سعید چیئرمین ہمدرد دواخانہ تھے۔ تعلیم و تربیت پاکستان میں بچوں کا سب سے قدیم ماہ نامہ رسالہ ہے، جس کی اشاعت قیام پاکستان سے بھی قبل سے بلا تعطل جاری ہے،  یہ پاکستان کے سب سے بڑے اشاعتی ادارے فیروز سنز کے تحت شائع ہوتا ہے آج سے پچیس سال قبل یہ چھوٹے سائز میں چھپتا تھا۔ پھول، نوائے وقت، اخبار کا رسالہ ہے۔ سالوں سے بلاتعطل شائع ہو رہا ہے

بچوں کے رسائل میں سے اکثر نکل کر بند ہوتے رہتے ہیں۔ مثلاً ایک ماہنامہ ”چندا ماموں“ شاہ عالمی گیٹ سے نکلتا تھا۔ بچوں کے معروف مصنف اشتیاق احمد کی ادارت میں ماہنامہ ”چاند ستارے“ بھی کچھ عرصہ آتا رہا۔ اسی طرح بچوں کا میگزین نامی ایک راسلہ نکلتا تھا جو بہت ہی خوبصورت رسالہ تھا۔ ایک ”بچوں کا رسالہ“ میگزین بھی کراچی سے نکلتا تھا۔ سہام مرزا اس کے مالک اور مدیر معروف کمپیئر طارق عزیز تھے۔ ایک اور ماہنامہ ”آنکھ مچولی“ نے بھی بڑی دھوم مچائی تھی،

آخر میں بچوں کے رسائل کی فہرست لف ہے جو میرے علم میں ہیں ان میں سے کچھ اب بند ہو چکے ہیں۔ کچھ اب بھی بچوں میں مقبول ہیں اور تواتر سے چھپ رہے ہیں۔ ان میں ماہنامہ تعلیم و تربیت، بچوں کا گوگو، ماہنامہ چندا، ماہنامہ نٹ کھٹ، ماہنامہ انوکھی کہانیاں، ماہ نامہ بھائی جان، بچوں کا پرستان، کرن کرن روشنی، ماہنامہ پیغام، پیغام اقبال، ماہنامہ شاہین، ماہنامہ گلونا (پشتونا)، ماہنامہ فکشن میگزین، ماہنامہ ساتھی کے علاوہ قومی اخبارات میں بھی ہر ہفتے بچوں کے ایڈیشن چھپتے ہیں۔ خصوصاً روزنامہ مشرق سنڈے میگزین میں بچوں کے صفحات، اخبار جہاں، فیملی، اُردو ڈائجسٹ اور روحانی ڈائجسٹ، روزنامہ اسلام کے ساتھ بچوں کا اسلام کے نام سے، بچوں کے لیے صفحات مخصوص ہوتے ہیں۔ روزنامہ جنگ، روزنامہ نوائے وقت، روزنامہ ایکسپریس کے بچوں کے صفحات بہت معیاری ہوتے ہیں جن میں بڑے نامور قلمکاروں کی نگارشات شائع ہوتی ہیں۔ آفاق انسائیکلو پیڈیا کے نام سے بچوں کے لیے بنیادی معلومات پر مشتمل ایک رنگین کتابی سلسلہ بڑے سائز میں باقاعدگی سے ہر ماہ شائع ہوتا ہے۔

بچوں کا ڈائجسٹ، جگنو، آنکھ مچولی، کراچی، انوکھی کہانیاں، کراچی، بچوں کا باغ، لاہور، بزم قرآن لاہور، بچوں کا دوست گجرات، پنکھڑی لاہور، پھول لاہور، پیغام، لاہور، ٹوٹ بٹوٹ کراچی، چھوٹی دنیا، لاہور، خزانہ کراچی، ذہین لاہور، شاہین ڈائجسٹ، پشاور شہباز، کوئٹہ دوست، کراچی، مجاہد کوٹلی، معصوم اسلام آباد، معمارِ جہاں کراچی، نور لاہور، کلیاں کراچی، ہمدرد نونہال، بچوں کی دنیا، بچوں کی کہانیاں، فکشن مسلمان بچے لاہور، اچھے بچے لاہور اور ذوق شوق کراچی،  بچوں کا میگزین  بچوں کا رسالہ بچوں کا پرستان جبکہ انگریزی زبان میں Smash، ٹین ایجر، وی شائین۔ وغیرہ (یہ حتمی فہرست نہیں بلکہ میری یادداشت ہے)

یہ درست ہے کہ ہر دور میں بچوں کے لیے لکھنے والے رسالے تیس چالیس کی تعداد میں موجود رہے۔ آج کل بھی تقریباً 30 کے قریب بچوں کے رسائل ہیں جو مسلسل چھپ رہے ہیں لیکن سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا سات کروڑ پاکستانی بچوں کے لیے یہ رسالے کافی ہیں؟؟؟

سچ تو یہ ہے کہ بڑے بڑے معاوضے اور رائلٹی لینے والے ادبی قلم کار اور ڈائجسٹوں میں لکھنے والے مرد اور خواتین رائٹرز معمولی معاوضے پر بچوں کے لیے کہانیاں لکھنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ لیکن المیہ یہ بھی ہے کہ ڈائجسٹ بھی  رائٹرز کو معقول معاوضہ دینے کو تیار نہیں۔ لکھاری اور پبلشر کے اسی خلاءکی بنا پر ہماری نئی آنے والی نسل معیاری اور حالاتِ حاضرہ کے مطابق ادب کے پڑھنے سے محروم ہو رہی ہے۔…         (جاری ہے)

……

……

……

……

……

……

……

……

……

اردو کہانی کا سفر کے حقوق اشاعت محفوظ ہیں…

اس میں شامل معلومات کو توڑ مروڑ کر کسی دوسرے قلم کار کے نام سے یا کسی دوسرے عنوان سے بغیر اجازت شائع کرنا منع ہے

……

……

……

……

……

……

اردو ناول کی مقبول ترین خاتون مصنفہ رضیہ بٹ کی گزشتہ کل ساتویں برسی تھی، اس حوالے سے اردو کہانی کا سفر کی زیر نظر قسط میں زبردست شاندار معلومات شامل تھیں جو تکنیکی وجوہات کی بناء پر شامل اشاعت نہ ہوسکیں، معزرت خواہ ہوں، اگلی قسط میں شامل کر دی جائیں گی

……

……

……

……

……

ناشران مدیران، تاجران کتب، مصنفین اور قارئین کی  باتوں ملاقاتوں یادداشتوں پر مشتمل یہ ہزار داستان  یہ طلسم ہوش ربا ابھی جاری ہے،……. بقیہ واقعات اردو کہانی کا سفر کی قسط نمبر 13 میں ملاحظہ فرمائیں  جو آئندہ جمعرات 10اکتوبر دس بجے شب شائع کردی جائے گی ( انشاءاللہ)

آپ سے گزارش ہے کہ  اسے شیئر ضرور کردیں  تاکہ زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچ جائے، شکریہ،

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر نمبر 13 . اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر نمبر 13 تحریر اعجاز احمد نواب وزیر آباد شہر کئی حوالوں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے