سر ورق / افسانہ / گہرے بادل اسرار گاندھی (الٰہ آباد۔انڈیا)

گہرے بادل اسرار گاندھی (الٰہ آباد۔انڈیا)

عالمی افسانہ میلہ 2019
افسانہ نمبر 19
گہرے بادل
اسرار گاندھی (الٰہ آباد۔انڈیا)

وہ بیوی کو ابھی ابھی سی آف کرکے گھر واپس آیا تھا۔ اس کے وجود پر سکون کا دریا رواں دواں تھا لیکن تھوڑے تھوڑے وقفے سے اسے اضطراب کی لہریں بھی گھیر لیتی تھیں ۔
بیڈروم میں پہنچ کر اس نے سب سے پہلے کمرے کی کھڑیاں مضبوطی سے بند کیں پھر دروازوں کی طرف مڑا اور انہیں بھی بند کردیا۔کھڑکیاں اور دروازے بند کرنے کی وجہ سے کمرے میں اندھیرا چھا گیا تھا۔اسے اندھیرے سے وحشت محسوس ہوئی تو اس نے کمرے کی ٹیوب لائٹ روشن کردی ۔اس کی نگاہیں پورے کمرے کا بغور جائزہ لے رہی تھیں ۔
دیواریں ،چھت،کھڑکیاں اور دروازے ۔
پھرجب اسے پوری طرح یقین ہوگیا کہ اسے کہیں سے بھی نہیں دیکھا جا سکتا تو اس نے اپنے کانپتے ہاتھوں سے اپنے جسم پر چڑھاہوا کوٹ اتارنا شروع کیا ،پہلے دہنی آستین سے اپنا داہنا ہا تھ نکالا اور پھر اسی طرح بایاں ہاتھ، لیکن اس سے پہلے کہ وہ اپنے جسم سے کوٹ الگ کرتا، خوف کی ایک لہر اس پر سے گزر گئی ،اس نے تیزی سے دیواروں اور دروازوں کا جائزہ لیا اور اسے جب ایک بار پھر یقین ہوگیا کہ اسے بغیر کوٹ کے کوئی نہیں دیکھ سکتا تو اس نے وہ کوٹ اپنے جسم سے الگ کرکے وارڈروب میں ٹانگ دیا ۔
اب وہ پھر پوری طرح سے پر سکون دکھائی پڑرہاتھا ۔
وہ پلنگ پر لیٹ گیا اور اپنی آنکھیں بند کرلیں ۔
اس نے جب دوبا رہ آنکھیں کھولیں تو اس کی نگاہ ان تصویروں پر اٹک گئیں جو سا منے کی دیوار پر آویزاں تھیں ۔ ان تصویروں کو دیکھ کر ایک بار پھر وہ نہ جانے کیوں دہشت زدہ ہوگیا ، لیکن پھراس نے آہستہ آہستہ اپنے اوپر قابوپا لیا ۔یہ تصویریں ان جابر لوگو کی تھیں جو ایک کے بعد ایک ،اس پر اور اس جیسے ان گنت لوگوں پر مسلط ہوتے گئے تھے ۔
اس کے ہونٹ نفرت سے سکڑ گئے ۔
اس نے اپنی نظریں با ئیں جانب موڑیں تو آنکھیں اس لائف سا ئز تصویر پر ٹھہر گئیں جو اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ ٹنگی ہوئی تھی ۔چہرئے کے نقوش پرکشش ،چھوٹی سی داڑھی،اسی تناسب سے مونچھیں ،روشن روشن آنکھیں اور سرپر بال خاصے کم ۔پورے وجود سے ذہانت ٹپکتی ہوئی محسوس ہوتی تھی ۔
تصویر دیکھتے دیکھتے اس کی آنکھیں قدرے دھندلاگئیں ،پھر سب کچھ دھندلادھندلاساہوتاگیا ۔کمرے میں ٹنگی تمام تصویریں ،دیواریں ،کھڑکیاں،چھت اور دروازے اور پھر اسی دھند کے درمیان سے کچھ نئی تصویریں ابھرنے لگیں۔اس کے سامنے وہ لمحے روشن ہوگئے جو کبھی بے حد حسین تھے ۔ خوبصورت خواب اور ان کی خوبصورت تعبیریں ،اور وہ بھی ان لوگوں میں شامل ہوگیا جو اس خوبصورت خواب کو حقیقت بنانا چاہتے تھے ۔
پھر اس نے بھی اوروں کی طرح اس کوٹ کو پہن لیا تھا ۔
کوٹ جو نرم تھا ،ملائم تھا اور پرکشش بھی کہ جسے پہن کر عزم آسمان کی بلندیوں کو چھونے لگتے تھے ،لگتا تھا کہ جیسے دنیا کے تمام مسائل منٹوں میں حل ہوجائیں گے اور پوری کائنات ہمارے قدموں میں ہوگی کہ صرف یہی کوٹ امن اور خوشی کا سرچشمہ تھا۔
پھر ایک دن ایک تبدیلی آئی تھی اور یہ کوٹ ہرکسی کے لئے لازمی قراردے دیا گیا تھا ۔
کیسے دن تھے وہ بھی ,
خواب کوپوری طرح حقیقت میں بدلنے کے خواب ۔
نرم گرم جذبوں کی آندھیاں ۔
مضبوط ارادے ۔
امید اور نا امیدی کے درمیان گردش کرتے ہوئے لمحے اور انتظار کی کشمکش ۔
اچانک ایک دن وہ شخص کہ جس کے چہرے پر چھوٹی سی داڑھی تھی اور اسی تناسب سے مونچھیں ،جس کی روشن روشن آنکھوں سے ذہانت ٹپکتی تھی ،جس کے سر کے بال خاصے کم تھے اور جو تبدیلی کی وجہ بن گیا تھا،ایک ایسے سفرپر روانہ ہوگیا کہ جہاں سے کوئی کبھی واپس نہیں آتا ۔

پھر اس شخص کی جگہ ایک دوسرے شخص نے لے لی اور زندگی جو کسی سبک خرام دریا کی طرح رواں واں تھی ،اچانک ہچکولے کھانے لگی ،ہرطرف خوف وہراس ،موت کی آہٹیں ،بے اعتباری،بے بسی اور بے رحمی ہی بے رحمی تھی ۔

اسے اور اس جیسے نہ جانے کتنے لوگوں کو اس کوٹ سے آہستہ آہستہ گھٹن محسوس ہونے لگی تھی ۔اسے لگتا تھا کہ جیسے یہ کوٹ اس کے پورے وجود پر دھیرے دھیرے کستاجارہا ہو،اسے اپنا دم گھٹتاہوا سا محسوس ہونے لگاتھا۔کبھی کبھی ا س کا دل چاہتا تھا کہ وہ اس کوٹ میں کسمساکر اپنے وجود کو ہلکا کرلے لیکن اسے معلوم تھا کہ کسمسانے کی سزا صرف موت ہے اور کچھ نہیں اور نہ جانے کتنے لوگ اس سزا سے دوچار ہوچکے تھے ۔
اسے یاد آیا کہ ایک بار وہ بے خیالی میں اپنی بیوی کے سامنے اس کوٹ سے اپنی نفرت کا اظہار کربیٹھاتھا،پھر کئی دنوں تک اسے ہر وقت موت کی مدھم مدھم چاپ سنائی دیتی رہی تھی ۔کتنا خوف زدہ تھا وہ ان دنوں کہ اسے اپنے اس دوست کا حشر یاد تھا جو اسی کی طرح اپنی بیوی اور بیٹے کے سامنے اس کوٹ سے اپنی نفرت کے بارے میں بتا بیٹھا تھا اور پھر چند دنوں بعد یہ پتا نہ چلاکہ اسے زمین نگل گئی تھی یا آسمان کھا گیا تھا۔؟
وقت کا دریا بہتا رہا لیکن اس میں کوئی اتھل پتھل نہ ہوئی،ایک کے بعد ایک اس کے سرپرمسلط ہوتے رہے اور کیڑوں مکوڑوں جیسی زندگی جیتا رہا کہ وہ اور کر بھی کیا سکتا تھا۔
اچانک اس کی سوچ کے تانے بانے بکھرگئے اور اس کی آنکھوں کی دھندلاہٹ یکلخت دور ہوگئی ۔
سامنے کی دیوار پر آویزاں تصویریں اسے گھوررہی تھیں اور باہر کوئی لگاتار کال بیل بجا ئے جا رہاتھا .
وہ اچھل پڑا اور تیزی سے واڈروب سے اپنا کوٹ نکال کر پہننے لگا ۔بیل اب بھی بج رہی تھی ۔وہ تیز تیز قدموں سے دروازے کی طرف چل پڑا ۔اس کے پیر کانپ رہے تھے اور دل بڑی تیزی سے دھڑک رہاتھا ۔
اس نے سوچا کہ کیا انہوں نے اسے بغیرکوٹ کے دیکھ لیا ؟
شاید وہی ہوں ۔
اُف کیا کرے ؟
پھر کانپتے ہاتھوں سے اس نے دروازہ کھول دیا ،دروازے پر اپنے دوست حمزہ کو کھڑے دیکھ کر اس کی جان میں جان آئی ،وہ سانسیں درست کرتاہوا بولا۔” حمزہ اندر آجاﺅ ،گھر میں اور کوئی نہیں ہے ،ہم تم دیر تک باتیں کرسکتے ہیں ۔“
حمزہ جیسے ہی اندر آیا ،اس نے تیزی سے دروازہ بند کرلیااور اسے لئے ہوئے بیڈ روم میں آگیا ۔
کھڑکیاں اور دروازے اب بھی بند تھے ،کمرے میں ٹیوب لائٹ اسی طرح روشن تھی اور دیواروں پر آویزاں تصویروں کی آمرانہ آنکھیں ان دونوں کو گھور رہی تھیں ، سناٹا کمرے میں پوری شان کے ساتھ براجمان تھا۔
حمزہ کی نظریں اس کا بغور جائزہ لے رہی تھیں ۔جھریوں سے بھرپور چہرے پر کشمکش کی پرچھا ئیاں ،آنکھوں سے چھلکتا خوف اور پیروں میں بے نام سی لرزش ۔
پھر اس سنا ٹے کو حمزہ نے ہی توڑا ۔
”سنو دوست اب اس قدر خوف زدہ ہونے کی ضرورت نہیں ہے ،حالات بدل رہے ہیں ،شا ید ہمیں ایک بار پھر “
حمزہ نے اپنی بات پوری نہیں کی ،وہ خا موش ہوکر اپنے اوپر لدے ہوئے کوٹ میں کسمسانے لگا ۔
”تم چاہو تو اپنا کوٹ اتار سکتے ہو ،ابھی تمہارے آنے سے پہلے میں نے بھی اس کوٹ کو اتار رکھا تھا ۔تمہیں یہاں بغیر کوٹ کے کوئی نہیں دیکھ سکتا ۔“
”ہاں میں بھی ایسا ہی سوچ رہاہوں کہ تھوڑی دیر تو اس جبر سے نجات ملی رہے گی ۔“
پھر حمزہ کے ساتھ ساتھ اس نے اپنا کوٹ دوبارہ اتار دیا ،دونوں کے چہروں پر زندگی سے بھرپور ایک مسکراہٹ پھیل گئی ۔
چند لمحوں کے لئے کمرے میں خاموشی چھاگئی ،پھر وہ حمزہ کی طرف دیکھتا ہوا بولا۔
”حمزہ زندگی کتنی بے معنی ہوگئی ہے ،کٹھ پتلی جیسی جو صرف دوسروں کے اشاروں پر ناچتی ہے ۔“
”ہاں تم ٹھیک کہتے ہو کہ راہ رو کی خود غرضی ،اس کی لالچ اور کبھی کبھی اس کے بے بنیاد خوف پورے کارواں کو منزل سے دور کردیتے ہیں اور پھر زندگی بے معنی ہوجاتی ہے ۔“
”حمزہ کیا اس کوٹ سے کبھی نجات مل سکے گی ؟ ۔“ اس نے حمزہ کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا ۔
”کیا تمہارے کان اس پھسپھساہٹ کو نہیں سن سکتے جو فضاءمیں ہلکاہلکا سا ارتعاش پیدا کررہی ہے ۔“
حمزہ اس کے سوال کا جواب دینے کے بجائے خود ہی سوال کر بیٹھا۔

”ہاں ہاں کیوں نہیں کسی کسی لمحے احساس کی سطح پراس ارتعاش کو ضرور محسوس کرتا ہوں ۔“

”مجھے خوشی ہے کہ کئی دہائیوں کے بیت جانے کے باوجود ،تمہارا احساس ابھی زندہ ہے کہ وقت کے سمندر میں احساس کاآتش فشاں ہی اتھل پتھل کرتا ہے ۔“حمزہ مسکراتا ہوا بولا ۔

حمزہ کو مسکراتے ہوئے دیکھ کر اس کے چہرے پر بھی مسکراہٹ پھیل گئی ،پھر دونوں کی مسکراہٹیں طویل قہقہوں میں بدل گئیں ۔

مسکراہٹوں سے قہقہوں تک کا ایک لمبا سفر اور اس سفر کے درمیان لگاتاربڑھتاہواشور ۔

شور جو ہنگاموں کو جنم دیتاہے۔

اور ہنگامے جو نئی سوچ اور سمجھ کو جنم دیتے ہیں ،پھر یہ سوچ اور سمجھ اپنے وسیع دامن میں کیاکیا کچھ بھرلاتے ہیں ۔

شور ,
ہنگامے
نئی سوچ
ایک مستطیل
اور اس مستطیل کے درمیان وہ حمزہ اور بے شمار لوگ اپنے اوپر لدے ہوئے کوٹ میں بھرپور طریقے سے کسمسارہے تھے۔
ہر طرف چٹ چٹ کی آوازیں بکھررہی تھیں ۔
اس نے محسوس کیا کہ اس کی دونوں بغلوں کی سلائی پوری طرح ٹوٹ کر کھل چکی ہے اور اس کے ہاتھ آزاد ہوچکے ہیں ۔
پھر ایک دن اس کوٹ کہ جس کا رنگ گزرے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ سیاہی مائل ہوچلاتھا ،کی تمام سلائیاںٹوٹ ٹوٹ کر کھل چکی تھیں ۔آستین ،کالر،شولڈر،جیبیں ،کوٹ کے دوسرے حصے سب ہی کچھ ایک دوسرے سے الگ ہوکر ٹکڑوں ٹکڑوں میں بٹ چکے تھے ۔اب نہ کسی قسم کا شور تھااور نہ ہنگامہ ،صرف طوفان کے گزرجانے کے بعد کا سناٹا۔
اور ایک شام وہ اور حمزہ ہاتھوں میں واکنگ اسٹک لیئے نپے تلے قدموں سے چہل قدمی کررہے تھے ۔ان کے سروں پر بے کراں نیلگوں آسمان لامحدود وسعتوں تک پھیلاہوا نظرآرہاتھا۔
وہ چہل قدمی کرتے کرتے اچانک ایک لمحے کے لئے رک گیا اور پھر مڑکر حمزہ کی آنکھوں میں جھانکتاہوابولا۔
”حمزہ تم اتنے خاموش کیوں ہو۔؟“
”اوں“ حمزہ نے ایک لمبی سی سانس لی اور سرکواس طرح ہلکاسا جھٹکادیاکہ جیسے کسی خیال سے پیچھاچھڑاناچاہتا ہو ۔
پھر حمزہ اپنی آنکھیں ،اس کی آنکھوں میں ڈالتاہوابولا ۔
”میں اپنے اندر کہیں دور تک ایک کسک سی محسوس کررہاہوں ،کیاتم ایسا نہیں محسوس کرتے؟ ۔“
وہ جیسے کہیں ایک لمحے کے لئے ڈوب گیاپھرحمزہ کو خالی خالی نظروں سے دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلادیا۔
ان کے سروں پر لا محدود وسعتوں تک پھیلاہوابے کراں نیلگوں آسمان اب قدرے تاریک ہوچلاتھااوراس تاریکی میں اکادکاستارے اپنی روشنی بکھیرنے لگے تھے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اپنی جڑوں کی جانب.. سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، ہند

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 38 اپنی جڑوں کی جانب.. سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے