سر ورق / افسانہ / لمحہء موجود … فرزانہ روحی اسلم،کراچی۔ پاکستان

لمحہء موجود … فرزانہ روحی اسلم،کراچی۔ پاکستان

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر :16

لمحہء موجود

فرزانہ روحی اسلم،کراچی۔ پاکستان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

محبت بھی کبھی سابقہ ہوتی ہے؟ محبت نہ سابقہ ہوتی ہے نہ ہی اس کا کوئی لاحقہ ہوتا ہے۔محبت صرف محبت ہے۔جس کا وجود، لمحہء موجود ہے،گویا محبت حال ہے۔ فقط حال۔اس کا نہ ماضی ہے نہ مستقبل۔جس طرح خوشبو کا کوئی ماضی اور مستقبل نہیں ہوتا۔خوشبو ہے ہی وہی جو اپنے اصل کے ساتھ وجود رکھے۔خاتمے کے بعد خوشبو،خوشبو نہیں رہتی،صرف ایک خالی بوتل رہ جاتی ہے۔اسی طرح اگر محبت نہ رہے تو انسان بھی خالی بوتل کی طرح رہ جاتا ہے۔تاہم اسے یوں لگتا تھا جیسے اس کے دل میں وہ محبت ہمیشہ جواں رہی۔اس کی آنکھوں کے پیالے مئے محبت سے لبریز رہے۔اس کے ڈوبتے ابھرتے دل کی دھڑکنیں اس کے خیال سے ہی سنبھلنے لگتی تھیں۔لب اب بھی تنہائیوں میں تبسم ریز ہوجایا کرتے،اور سانسوں میں امید کی پروائی چلنے لگتی۔وہی امید،جس پر دانشوروں نے دنیا کے قیام کی نوید دے رکھی ہے۔اس کے من کی دنیا بھی امید پر ہی بیدار رہی۔اسی امید کی بدولت ہی وہ آج پورے قد سے اس کے روبرو تھا۔

”آپ نے مجھے پہچانا۔۔۔؟ “

اس نے گردن گھما کر آواز کی جانب دیکھا۔کچھ تاخیر کے بعد اس کے لب گویا ہوئے۔”اوہ،تم۔“

”مجھے یقین تھا کہ بہت وقت بیت جانے کے بعد بھی آپ کے سامنے میری شناخت کا مسئلہ درپیش نہ ہوگا۔“

”ہوں۔بہت ترقی کر لی تم نے۔“ابھی تک اس کا وہی مختصرا ندازِ گفتگوتھا۔

”جی،اللہ کی کرم نوازی ہے۔نہ ہی آپ سپر وائزر رہیں،نہ ہی میں ایک عام سا فیکٹری ملازم۔“

”بہت خوشی ہوئی،تمھیں اس نمایاں حیثیت میں دیکھ کر۔تم پہلے بھی بہت محنتی تھے۔“

”اور آپ پہلے بھی بہت سخت مزاج باس تھیں۔“

”اچھا۔“پھیکی سی ہنسی اس کے لبوں پہ پھیل گئی۔

”میں ذرا،دیگر شخصیات سے مل لوں۔“یہ کہ کر اس نے اپنے قدم آگے بڑھا دیئے۔وہ بھی اس کے ہم رکاب رہا۔”آپ سے کچھ مشورہ چاہوں گا۔اپنے شعبے کے حوالے سے۔“اس نے ٹھیر ٹھیر کر اپنی بات کی وضاحت کی۔

”ہاں ضرور،یہ سیمینار تو شام تک چلے گا۔میں موجود رہوں گی۔ملتے ہیں پھر۔“

”ملتے ہیں پھر۔“اسے ایسا محسوس ہوا جیسے اسے ذاتی ملاقات کا کہا ہو۔حالاں کہ اسے اندازہ تھا کہ جو وہ سمجھ رہا ہے ویسا ہرگز نہیں ہے۔اس نے رسماََاک بات کی،اور اس کا دل شام تک وہاں ٹھیرے ر ہنے کا خود کو پابند سمجھ بیٹھا۔اس نے اپنی سکریٹری کو فون کر کے آج کی تمام مصروفیات کینسل کرنے کا کہ دیا۔

سیمینار کے منتظم اس بڑی کاروباری شخصیت کا اتنا وقت دینے پر بار بار متشکر تھے۔تاہم اس راز سے صرف اسے ہی واقفت تھی کہ اس کے قدم خاتون وزیرِتجارت نے تھام رکھے ہیں،جو کبھی کسی فیکٹری میں اس کی سپروائزر تھی اور اس سے کہیں زیادہ اس کی آنکھوں میں بسی رہتی تھی۔

وہ اپنا ماضی بہت پیچھے کہیں چھوڑ چکا تھا۔جب اس میں اتنی بھی ہمت نہ تھی کہ اس سے سر اٹھا کر بات کر سکے،مگر اب صورتِحال یکسر تبدیل ہو چکی تھی۔اس کی مضبوط شخصیت اور کاروباری حیثیت نے اس نئی وزیرِ تجارت کے سامنے اسے کسی امتیاز کے بغیر،مساوی حیثیت میں لا کھڑا کیا۔اسے اپنا دل انگڑائیاں لیتا محسوس ہوا۔ایک توانائی سی رگوں میں دوڑنے لگی۔

”تمھاری کامیابی کی خبریں اخبارات سے ملتی رہی ہیں لیکن مجھے یہ نہیں معلوم تھا کہ تم وہی ہو۔اگر آج تم اپنا تعارف خود نہ کراتے تو شاید میں تمھیں پہچان بھی نہ پاتی۔“چائے کے وقفے میں اس نے پر مسرت انداز میں کہا۔

”لیکن۔میں نے تو ہمیشہ آپ کو یاد رکھا ہے۔“اس کی آواز دھیمی تھی،مبادا کوئی سن نہ لے۔

”باس تو یاد رہ جاتے ہیں نا!“اس نے چائے کو گھونٹ لیتے ہوئے خوش مزاجی سے جواب دیا۔

”تم۔۔۔چائے تو لو۔“

”میں چائے نہیں پیتا۔“

”شاید تم پہلے بھی چائے نہیں پیتے تھے۔“

وہ چونک پڑا۔یک بارگی اس کا دل زور سے دھڑکا۔”آپ کو یہ بات کیسے یاد رہی؟“

”اس فیکٹری کے دوہزار کارکنوں میں کوئی ایک ایسا تھا جو چائے نہیں پیتا تھا،پھر وہ تم ہی ہوگے۔“دفعتاََ اس کی دھڑکنوں پر جیسے اوس پڑ گئی۔

اوہ۔۔۔،اس کی تو یادداشت بہت مضبوط ہے۔میں سمجھا میری خاموش محبت کا کمال ہے۔وہ دھیرے سے بولا۔

’]اس فیکٹری میں جب تک آپ رہیں میں نے آپ کو دیکھ کربہت کچھ سیکھا۔“

”مثلاََ۔۔۔؟“اس نے چائے کا کپ اپنے ہونٹوں تک لے جاتے ہوئے پوچھا۔

”مثلاََ۔۔۔ہمت،حوصلہ۔اپنے کام سے لگن،مقابلہ،آگے بڑھنے کی جستجو وغیرہ وغیرہ۔“

”اوہ،اچھا۔۔۔پھر تو یہ تمھاری خوبی ہوئی نا۔۔۔۔کہ تم نے مجھے اپنی باس اور ایک”عورت“ہونے کے علاوہ بھی بہت کچھ سمجھا۔میری خوبیاں دیکھیں۔ان سے سیکھا۔ورنہ تو اس سماج میں عورت کتنی ہی ترقی کیوں نہ کرجائے اسے عورت ہی سمجھا جاتا ہے۔۔۔۔ہے نا؟“

”جی جی۔۔۔۔بالکل ایسا ہی ہوتا ہے۔“اس نے پانی کا گھونٹ لیتے ہوئے نہایت مؤدبانہ انداز میں کہا۔

”تم جیسے لوگ سامنے آئیں گے تو امید رکھتی ہوں کہ یہ روایت بھی اب ٹوٹے گی۔“اسے اس بار اپنا قد اس کے آگے دراز ہوتا محسوس ہوا۔لیکن اس کا دل جو نغمہ گا رہا تھا۔صد شکر کہ اس کی آواز صرف وہی سن سکتا تھا ورنہ اسے اپنے دل کو دونوں ہتھلیوں میں چھپا لینا پڑتا۔پھر بھی اس نے اپنی نگاہیں جھکا لیں کہ کہیں اس میں چھلکتے ارماں وہ دیکھ نہ لے۔

سیمینار اب اپنے اختتام کی جانب گامزن تھا۔سیلفی لینے کے لیے اب لوگوں کا ہجوم بڑھنے لگا تھا۔اسے اسٹیج پر بلایا گیا مختصر گفتگو کے بعد فوٹو سیشن کا آغاز ہوا تو اس نے اشارے سے اسے بھی بلا کر اپنے مقابل کھڑا کیا۔وہ سرشاری کی کیفیت میں تصاویر کھنچواتا رہا۔بہت جی چاہا کہ اپنا سیل فون نکال کی خود ہی اس کے ساتھ ایک سیلفی لے۔ مگر دل کی کہی کو دماغ نے ان سنی کردی۔

دوسری شام وہ اپنے دفتر میں کافی دیر تک موجود رہے۔اخبارات میں شایع ہونے والی تصاویر میں اسے اپنے ساتھ کھڑا دیکھتے رہے۔ان کے لبوں نے سرگوشی کی۔محبت لمحہء موجود ہے اور بس۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اپنی جڑوں کی جانب.. سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، ہند

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 38 اپنی جڑوں کی جانب.. سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے