سر ورق / افسانہ / جگنوؤں کی بارات ذکیہ مشہدی پٹنہ بہار انڈیا

جگنوؤں کی بارات ذکیہ مشہدی پٹنہ بہار انڈیا

عالمی افسانہ میلہ 2019
افسانہ نمبر 24
جگنوؤں کی بارات
ذکیہ مشہدی پٹنہ بہار انڈیا

’’اس شہر میں اپنے بچپن کے تین سال میں نے گزارے تھے ۔ تین خوب صورت سال ‘‘گوہر نے ہولے سے کہا۔برآمد ے میں پڑی کرسیوں پربیٹھے وہ سب چائے پی رہے تھے۔ شہر بارش میں بھیگ رہاتھا ۔ ان کالان بھی۔ چاروں طرف لگی باڑھ پر تھوڑی دیربعد جگنوچمکنے لگیں گے۔

گوہر کی بات پرکسی نے کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا وہ سب گرماگرم پکوڑوں پرہاتھ صاف کرنے میں مصروف تھے ۔گوہر کاشوہر واصف جوکھانے کابہت شوقین تھا اور ان کے دونوں جوان بیٹے جواپنی اپنی چھٹیوں میں گھر آئے ہوئے تھے ۔

وہ خاموشی سے چائے کے چھوٹے چھوٹے گھونٹ بھرنے لگی ۔’’میرا ماضی صرف میراہے۔ یہاں بیٹھے باقی لوگوں کااس میں کوئی حصہ نہیں۔‘‘

’’ جگنو!‘‘ ارے ابھی تواندھیرا بھی نہیں ہواتھا۔ اس نے ہاتھ سے پیالی رکھ دی ۔ اس کی آواز میں مسرت تھی۔ ’’جگنومیرے بچپن کابہت ہی واضح نقش ہیں۔ میں انہیں کرتے کے دامن میں بھرلیا کرتی تھی ۔ دو پٹے کے آنچل میں بھی۔ ‘‘ وہ پھر بھول گئی کہ یہاں بیٹھے لوگوں میں سے کوئی اس کے ماضی میں شریک نہی ں رہاتھا۔

’’ یاربہت بورکرتی ہوکبھی کبھی !‘‘اس کے شوہر نے پکوڑے بھرے مونہہ سے کہا۔

’’ ممی ’ سنٹیا‘ رہی ہیں، پاپا‘‘ بڑے بیٹے نے ہنس کرکہا۔

’’ پھر …پھروہی بے ہودہ زبان !جانے کیسے اوٹ پٹانگ الفاظ بولتے ہوتم لوگ۔‘‘گوہر نے مصنوعی غصے کااظہار کیا۔

’’ ہاں …وہ ابھی کچھ کہاتھا ناانہوں نے کہ بچپن کے تین سال …نہیں ، تین خوب صورت سال انہوں نے یہاں گزارے تھے …بات ہے تو سنٹیانے …آئی ایم سوری ۔ میرامطلب ہے کہ یہ ہےذراسینٹی مینٹل ایشو …‘‘

’’ دوسرے بیٹے کاجملہ پھراس کے شوہر نے کاٹ دیا۔’’یہ بتاؤگوہر تم کبھی بچی تھیں؟ میرامطلب یہ کس سن کی بات ہے ؟‘‘

’’ ہاہاہا…سن 1912ء کی ۔‘‘ بڑے بیٹے نے مرچوں کے مارے سوسوکرتے ہوئے کہا۔

’’ ارے بدتمیز و!اس گھرمیں کبھی کوئی سنجیدہ ہوسکتاہے !‘‘ اس نے مونہہ پھلالیا۔

’’ اب گوہر بیگم واقعی ’’سنٹیا ‘‘ گئیں۔‘‘ دھیرے سے اس کے شوہر نے کہا۔ دونوں بیٹے زورسے ہنسے ۔پاپا جب سینگ کٹاکر بچھڑوں میں مل جاتے تو انہیں واقعی بڑامزاآتا۔

’’ ارے ممی پیاری ،ناراض مت ہوا کرو۔‘‘ دونوں لڑکے اٹھ کھڑے ہوئے اورتیل ، مرچوں اورٹماٹر کی چٹنی بھری چپ چپ کرتی انگلیوں سے اس کے گالوں کوچھوا۔ ’’تم بتاؤ نا…ہم سننے کوتیارہیں۔تم نے اس شہر میں بچپن کے تین سال گزارے تھے ۔سن 12میں نہ سہی توسَن …اچھاخیر ہم تمہاری عمرکا راز قطعی نہیں کھولیں گے ۔اور ممی پیاری ، وہ دیکھوایک اور جگنو۔ جگنوؤں کے اس شہر میں اب ہمارے پاپا کا ٹرانسفرہواہے جہاں کبھی تمہارے پاپا کاہواتھا اور بتاؤناکچھ ہمیں ۔ہماری معلومات عامہ بے حد محدود ہیں۔ ہمیں تویہ بڑا ہونق ساشہر لگ رہاہے ۔ …ہاں توجب تم بچی تھیں…‘‘ وہ ایک سانس میں جلدی جلدی اتنا کچھ بول گئے۔

گوہرنے دونوں کودھکادے کر الگ کیا اورنیپکن سے گال پونچھے ۔ ان کودھکا دینا بھی آسان کام نہیں تھا۔اس کی کلائی میں ایک ٹیس سی اٹھی یہ لانبے لانبے مضبوط بدن کے نوجوان ان میں سے ایک تعلیم ختم کرچکاتھااورسال بھرسے ایک اچھی ملازمت پرکام کررہاتھا۔ دوسرےکاانجینئرنگ کاآخری سال تھا کچھ ہی دن میں دونوں مسخروں کے لئے دلہنیں ڈھونڈنی ہوں گی ۔ کتنا پیارکرتے تھے وہ ماں سے۔ گھرآتے تواس کے آس پاس ہی منڈلاتے رہتے۔

’’یہاں ایک تالاب ہواکرتاتھا ۔‘‘ گوہر پھربھول گئی کہ وہ تینوں مل کر ابھی اسے کتنا چھیڑرہے تھے ۔ ملازم اورگرم پکوڑے نکال لایاتھا اورچائے بھی دوبارہ دم ہوئی تھی

’’ وہ اب خشک ہوگیاہوگا۔‘‘

’’ کیا پتہ ۔‘‘ گوہر نے شوہر کے لہجے میں غیر سنجید گی کونظرانداز کرکے بڑی سنجید گی سے گردن ہلائی ۔ ’’اس کے پاس وہ اسکول تھا جہاں میں پڑھنے جاتی تھی۔ اسکول کی پشت پرمسلمانوں کاقبرستان تھا۔‘‘

’’ تب توممی تمہیں بہت سے بھوت بھی دکھتے رہےہوںگے؟‘‘

’’ وہاں تونہیں دیکھے ۔شادی کے بعد ہی بھوتوں سے واسطہ پڑا پنجے جھاڑکر پیچھے پڑگئے میرے۔ ’’گوہر نے ہنس کرکہااور اٹھ کھڑی ہوئی۔یہاں آئے صرف تیسرا دن ہوا تھا زیادہ ترسامان بندھا پڑاتھا، بہت سے کام نمٹانے تھے۔

جب وہ ممی پاپا کے ساتھ آئی تھی تو کون ساگھر تھا ان کا ؟کہاں رہتے تھے وہ لوگ ؟آس پاس ہی رہے ہوںگے ۔ ایک عجیب اتفاق تھا کہ پاپا بھی ریلوے میں تھے اوراس کاشوہر بھی۔ فرق صرف اتناہے کہ پاپا بہت معمولی سے عہدے پر تھے جب کہ اس کا شوہر اعلیٰ عہدہ دارہے۔

رات کے کھانے کا انتظام کرانے کے بعدجب گوہر باورچی خانے سے باہر نکلی تواس نے دیکھاکہ لین ٹینا کی باڑھ پر جگنوؤں کی بارات اتررہی ہے ۔ جگنوؤں کی بارات …وہ اس ڈرسے چپ رہی کہ ابھی تینوں باپ بیٹے مل کر اسے چڑائیں گے۔ تصویری کیفیت لئے ہوئے لفظوں کی ترکیب اس نے یہیں سیکھی تھی چونکہ وہ اس اس کے بچپن کاوہ ابتدائی دورتھا جہاں صرف مٹھاس تھی ۔ محبت کی اورٹافیوں کی اورپیار ے پیارے کھلونوں کی اور مس الزبتھ نارٹن کی ۔ الزبتھ نارٹن ۔ خدا جانے اب کہاں ہوںگی کیسی ہوںگی؟ کبھی اسے یاد بھی کرتی ہوںگی ؟ وہ تو انہیں کبھی نہیں بھولی ان کے بعدنہ جانے کتنے لوگوں سے ملاقات ہوئی کتنوں سے بچھڑناپڑا۔

الزبتھ نارٹن اس کے اسکول میں نہیں پڑہاتی تھیں۔ وہ ایک مقامی مشن اسکول کی ٹیچر تھیں اس اسکول میں زیادہ ترغریب عیسائی بچے تھے یا نچلی ذاتوں کے ہندو۔ مسلمان اوراونچی ذات کے ہندواس اسکول میں اپنے بچوں کونہیں بھیجتے تھے اگرچہ وہاں پڑھائی اورڈسپلن دونوں کامعیار اچھاتھا اورٹیچر لگن اور محنت سے پڑھاتے تھے ۔

’’مرے سب کوعیسائی بنالیویںہیں۔‘‘پاپا کے آفس کے ساتھی پانڈے جی کی بیوی نے آتے ہی امی کوبتایاتھا ۔ ’’وہاں متی پڑھائیو منی کو۔‘‘

پانڈے جی کی سیدھی سادی بیوی گوہر کے یہاں کوئی پکی ہوئی چیز نہیں کھاتی تھیں ان کی خاطر داری پھلوں سے کی جاتی تھی یاوہ وادی کے پان دان سے چھالیہ اورلونگ الائچی لے لیاکرتی تھیں۔مگرانہیں گوہر کاایمان بچانے کی اتنی ہی فکر تھی جتنی اپنا دھرم محفوظ رکھنے کی کہ وہ سب اپنی اپنی متوسط طبقے کی قدروں کے محافظ تھے ۔

ایک بات ضرور تھی ۔مشن اسکول کی ٹیچروں کی لیاقت اورمحنت کی شہر میں بڑی دھاک تھی اوروہاں انگریزی ایک مضمون کی حیثیت سے پہلے درجے سے ہی پڑھائی جاتی تھی اس لئے عام خیال تھا کہ سرکاری اسکولوں کی نسبت وہاں کے بچوں کی انگریزی زیادہ اچھی ہوتی ہے ۔کٹرمٹربولنا بھی سیکھ جاتے ہیں اس لئے پاپا کوجب گوہر کے لئے ٹیوشن کی ضرورت محسوس ہوئی تو لوگوں نے مشن اسکول کی مس الزبتھ نارٹن کانام تجویز کیاجوکسی کے گھر تو نہیں جاتی تھیں ، لیکن بچے کو ان کے یہاں پہنچا دیاجائے تو ٹیوشن کے لئے تیار ہوجاتی تھیں۔

ان سے ملنے سے پہلے گوہر کوصرف امی اچھی لگتی تھیں، جو نازک نازک بیلوں سے سجے دوپٹے اور غرارے پہنا کرتیں اورسیدھی مانگ نکال کر ایک لانبی چوٹی بناتیں ۔ انکی موٹی موٹی آنکھوں میں سرمے کے دنبالے ہوتے تھے اوران کاجسم ذرا گدبداتھا۔ گوہر کووہ ان تمام عورتوں سے زیادہ حسین لگتی تھیں جنہیں اس نے اپنی چھوٹی سی نودس سالہ زندگی میں دیکھا تھا۔

الزبتھ مس (وہ اپنے طلبا اور طالبات میں اسی نام سے جانی جاتی تھیں) نے آڑی مانگ کاڑھ کردو چوٹیاں بنارکھی تھیں۔ جن کے سروں پر گلابی ربن سے پھول بنے ہوئے تھے انہوں نے ساڑی باندھ رکھی تھی ۔ ان کاہلکا پھلکا جسم بالکل تیتری جیساتھا ۔ امی کے برعکس ان کا رنگ گورا نہیں ، بلکہ خاصا سانولاتھا اور چہرہ کاجل یاپان کی سرخی جیسی کسی بھی آرائش سے عاری لیکن ان کے نقوش بڑے سجل تھے اورچہرے پر ایک عجیب ساسلونا پن اور ایسی کشش کہ امی کی پرستار گوہر کووہ فوری طورپر پسند آگئیں۔وہ اگر چہ شرمائی شرمائی سی پاپا کے پیچھے کھڑی اپنے کرتے کاکونامروڑرہی تھی لیکن بار بار چورنظروں سے ان کاچہرہ دیکھ رہی تھی اورسوچ رہی تھی کہ کیسی پیاری ہیں یہ۔ پاپا سے بات کرنے کے بعدانہوں نے بڑی محبت اورنرمی سے اس کا ہاتھ پکڑکراسے اپنے قریب کھینچا اوربولیں تھیں’’وہاٹ اے سوئیٹ چائلڈ ‘‘ ان کی آواز میں چاندی کی گھنٹیاں تھیں۔

انگریزی میں گوہر ابھی ’’سی اے ٹی کیٹ ، کیٹ معنی بلی اورآراے ٹی ریٹ ریٹ معنی چوہا‘‘ والی اسٹیج پرتھی گھر پر کوئی انگریزی نہیں بولتا تھا اس لئے پاپا نے جلدی سے کہاتھا ’’دیکھو ، کتنی اچھی ہیں تمہاری ٹیچر کہہ رہی ہیں کیسی پیاری بچی ہے پڑھوگی نہ ان سے ؟‘‘ اوروہ فی الفورراضی ہوگئی۔ پاپا اسے وہاں چھوڑ کر چلے گئے تواسے قطعی ڈرنہیں لگا۔

پھر الزبتھ مس کے یہاں ہفتے میں تین دن جانا اس کا معمول بن گیا۔ وہ دولڑکیوں کواورپڑھاتی تھیں جو گوہر سے بڑی تھیں۔ ان کے ساتھ ان کاملازم آیا کرتا تھا جووہیں بیٹھا رہتا اورسبق ختم ہوتے ہی رکشا لاکر انہیں واپس لے جاتا ۔ پاپا سائیکل سے کھڑکھڑکرتے خود آتے ۔ انہیں اکثر پندرہ بیس منٹ کی دیرہوتی۔ کبھی آدھے پون گھنٹے کی بھی۔ اس دوران الزبتھ مس اسے کہانیاں سناتیں۔ سنڈریلاکی اوراسنو وہائٹ اور سات بونوں کی اور جادو نگری میںایلس کی ۔گوہر کو الزبتھ مس سنڈریلالگتیں اورجادو نگری میں ایلس وہ خود تھی ۔ اسے دنیا کے بڑے انوکھے اورنئے تجربے ہورہے تھے ۔ ایک تجربہ الزبتھ مس کی ماں تھیں ۔ جنہیں وہ ’’ماما‘‘ کہاکرتی تھیں ۔ شروع میں گوہر کووہ بڑی عجیب لگی تھیں اس لئے کہ وہ نیچی نیچی ، جھولاسی فراک پہنتی تھیں۔ گوہر نے کسی ادھیڑ عمرعورت کوفراک پہنے نہیں دیکھا تھا اور اس کے گھر میں ’’ماما‘‘ گھر میں کرنے والی ملازمہ کوکہاجاتا تھا وہ الگ تھلگ بیٹھی کروشیاسے لیس بناتی رہتیں کشیدہ کاری کرتی ہوتیں یا چھوٹی سی ،ایک کمرے برآمدے اورننھے سے باورچی خانے پر مشتمل کاٹج کے پیچھے بنی کیاریوں کی دیکھ بھال کرتی نظرآتیں۔بنیادی طورپر وہ بڑی مسکین سادہ مزاج اورشفیق عورت تھیں۔ کچھ دنوں کے اندرگوہر کی ماما سے بھی دوستی ہوگئی۔

انہوں نے گوہر کے ہاتھ میں کروشیا تھمائی اور اون ، سلائیاں اورکشیدہ کاری کی رنگ برنگی ریشم کی لچھیاں ۔ دادی ’’مرے عیسائیوں ‘‘ کی اس بات سے بہت خوش ہوئیں کہ گوہر ان کے یہاں جاکر دست کاری سیکھنے لگی تھی اوراس کے دل میں اس بات کا شوق پیدا ہوگیاتھا۔ ورنہ دادی توچھوٹی چھوٹی باتوں پر ناراض ہوتی تھیں اورسرے سے گوہر کے ٹیوشن پڑھنے کے ہی خلاف تھیں۔ ایک دن پاپا کو پہنچنے میں کچھ دیرہوئی توالزبتھ مس نے گوہر کے گھنے لانبے بال کھول کر ان میں کنگھی کی اور دوچوٹیاں گوندھ دیں ۔اپنا ڈبا کھول کرانہوں نے ربن نکالے اوران سے پھول بھی بنادیئے۔ گوہر بے حد خوش ہوئی لیکن گھر آئی تووادی نے اسے بہت ڈانٹا :’’ یہ عیسائیوں کی سی وضع قطع مجھے قطعی پسندنہیں ۔خبردار جواب دوچوٹیاں گوندھیں وہ بھی ٹیڑھی مانگ نکال کر۔‘‘

’’ کیا حرج ہے اماں؟ یہ بال سنوار نے میں مذہب کادخل کہاں سے ہوگیا ؟‘‘ اباہنس کربولے۔

’’ توتوچپ ہی رہ ‘‘ دادی نے ابا کوبھی ڈانٹ دیا۔’’ روز روز عیسائیوں کے یہاں آتے جاتے ان کی طرف داری بھی کرنے لگا۔ میں کہتی ہوں کہ اتنی انگریزی پڑھانے کی ضرورت ہی کیاہے؟‘‘

’’ یہ توخود انگریزی پڑھنے لگے ہیں آج کل ‘‘امی ہنس کر بولیں۔

’’ اوں ۔ کیا ہمارے پاپا کوانگریزی نہیں ا ٓتی جو اب پڑھیں گے ؟‘‘ گوہر ٹھنکی وہ باپ کی بڑی لاڈلی تھی اوران کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں سن سکتی تھی۔

’’جانتے توتھے لیکن اب بولنے بھی لگے ہیں۔‘‘امی نے شرارت سے ان کی طرف دیکھ کر کہا۔

گوہرنے شایداس تبدیلی کومحسوس نہیں کیاتھا رضاحسین’’سوری‘‘اور’’ تھینک یو‘‘ بہت بولنے لگے تھے ۔ بات پیچھے ’’پلیز‘‘ کااضافہ بھی کرتے ۔روزمرہ کی بول چال میں انگریزی الفاظ اورکچھ چھوٹے چھوٹے جملوں کی بھر مار ہوگئی تھی کچھ طور طریقے بھی تبدیل ہوئے تھے گھرمیں پہلے چائے المونیم کی کیتلی میں بناکر پیالیوں میں لائی جاتی تھی اب پاپاٹی سیٹ خرید کرلے آئے تھے۔ گوہر کی کشیدہ کاری کے بہانے ایک ٹی کوزی کاکور بھی بنا،ٹیکوزی بھی بنی پھرچائے کشتی میں لگ کر چینی کی چائے دان میں بن کر آنے لگی دودھ اورشکر الگ ہوتے۔ چائے دان پر خوب صورت کشیدہ کاری والی ٹی کوزی ڈھکی ہوتی جیسے الزبتھ مس کے یہاں ہوتی تھی ۔

الزبتھ مس خاصی غریب تھیں۔ گھر میں تھیں تو صرف ماں بیٹی لیکن مشن اسکول تنخواہ بہت ہی کم دیتاتھا۔ وہ ایک دوسرے کاگلاکاٹنے والے مقابلوں کا دور نہیں تھا اس لئے پرائیوٹ ٹیوشن پڑھوانے کی روایت بھی کم تھی ۔ چھوٹا شہرہونے کی وجہ سے ٹیوشن اوربھی کم تھیں۔ بس گزربسر ہوجاتی تھی اس تنگ دستی میں سلیقہ شعاری اورانتظامی صلاحیت غضب کی تھی۔ معمولی لکڑی کی میز پرکڑھا ہوا میز پوش پڑاہوتا۔ اس پرکھانا کھایا جاتایا چائے ٹرے میں لگاکررکھی جاتی ۔ مشن کمپاؤنڈ کے احاطے کے ایک الگ تھلگ گوشے میں انہیں یہ چھوٹی سی رہائش گاہ ملی ہوئی تھی ۔ آس پاس جھاڑ جھنکاڑ بہت تھا۔اور نمی اورسبزہ ۔ انہوں نے اپنی یہ میزبرامدے میں ڈالی ہوئی تھی۔ اسی پروہ اپنے شاگردوں کو پڑھاتیں جیسے ہی سبق ختم ہوتا ان کے لئے میز خالی کرکے اس پرچائے رکھ دیتیں۔

اب وہ ایک پیالی چائے پاپا کوبھی آفرکرنے لگی تھیں۔ آئیے حسین صاحب چائے پیجئے۔

ایک دورمرتبہ کی پس وپیش کے بعد پاپا نے چائے کا کپ قبول کرنا شروع کردیاتھا۔ چائے پیتے تو کچھ دیربیٹھتے بھی۔ کچھ بات چیت بھی کرتے ۔درمیانی طبقے کی عام مسلمان خواتین کی طرح گفتگو کرنے میں الزبتھ مس کوجھجھک تھی نہ ماماکو ویسے ماماکم سخن تھیں۔ زیادہ تر اپنے کاموں میں مصروف رہتیں۔گوہر، ایک دن پاپانے کہا تمہاری الزبتھ مس اچھی ہیں۔

پاپا وہ بے حد خوش ہوکر بولی۔وہ ہمیں چائے بھی پلاتی ہیں اورپاپا ،انہوں نے ٹافیاں بھی دیں تھیں۔‘‘

’’بیٹا اچھانہیں لگتاکہ ہم برابر ان سے کچھ لیتے ہی رہیں۔ تمہاری استانی ہیں وہ۔چلوہم آج انہیں کچھ دیتے ہیں۔‘‘

گوہر نے خوش ہوکر تالی بجائی۔ ان لوگوں نے راستے سے کئی چیزیں خریدیں پھل اور بسکٹ کے ڈبے اورماما کے لئے کشیدہ کاری کاکچھ سامان ۔پاپا نے گوہرسے کہا’’ مگر بیٹا ۔ گھر میں اس بات کا ذکر نہ کرنا۔‘‘

’’ کیوں پاپا؟‘‘

’’دادی ناراض ہوںگی نا؟‘‘

’’اچھا توامی سے توکہہ سکتی ہوں۔‘‘ گوہر اپنی خوشی میں کسی کو شریک کرنا چاہتی تھی۔

پاپا جیسے ایک دم پریشان ہواٹھے ۔’’ نہیں امی سے توہر گزنہیں۔‘‘

’’کیوں پاپا؟‘‘

’’ وہ ۔ وہ ایسا ہے نابیٹا کہ وہ دادی سے کہہ دیں گی۔‘‘

پاپا کی رازداربن کر گوہر نے خود کو بہت اہم ہستی سمجھا ۔وہ پاپا کے ساتھ ایک میٹھی دل خوش کن سازش میں شریک تھی ۔ الزبتھ مس کوکچھ دے کراسے بے حد خوشی ہوتی۔ چھوٹے چھوٹے تحفوں کاسلسلہ بن گیا، وہ بڑے خود دار لوگ تھے، کرسمس پرماں بیٹی نے بھی دیدہ ریزی کے بعداپنے ہاتھ کابنایا ہوا عمدہ چکنے کپڑے کا کرتاپاپا کوتحفے میں دیا اورگوہر کو بہت سی ٹافیاں،ربن، بالوں میں لگانے کے کلپ اور ایک قیمتی گڑیا۔ باقی دو نوں شاگردوں کوصرف ٹافیاں دی گئیں ۔کرسمس پران لوگوں نے گوہر اوراس کے پاپا کو کھانے پربھی مدعو کیاجس کے لئے ماں اوربیوی کے ڈرسے رضاحسین نے انکار کردیا۔

لیکن جس سال ان کا ٹرانسفر ہوناتھا اس کرسمس پرجوان کی جان پہچان کا چوتھا اورآخر کرسمس تھا ، پاپا نے ان کے یہاں کھانا کھانے کی دعوت قبول کرلی اور الزبتھ مس کے لئے ایک اچھی سی ساڑی اوران کی ماں کے لئے اونی شال لے کر گئے ۔گوہربھی ساتھ تھی۔ عمر کے تیرہ برس پورے کرکے وہ بہت سی باتیں سمجھنے لگی تھی یاکم از کم ان پر غور ضرو ر کرنے لگی تھی خواہ وہ اس کی سمجھ میں نہ آئیں۔ وہ کافی دیر تک یہ سمجھنے کی کوشش کرتی رہی کہ الزبتھ مس اور پاپا دونوں اتنے خاموش کیوں تھے۔

پندرہ دن بعدہی گوہر کا کنبہ دوسرے شہرچلاگیا جانے سے پہلے وہ اپنی اس دل کش شفیق اور مہربان ٹیچر کے یہاں گئی۔ وہ اسے گلے لگاکر پھوٹ پھوٹ کر روئیں۔گوہر تو کئی دن تک انہیں یادکرکے روتی رہی ۔

’’ان جادو گرنیوں سے اللہ بچائے ۔باپ بیٹی دونوں پرسحرکردیاتھا خدا کا شکر کہ چھٹکارا ملا ۔امی نے کہاتو گوہرکی سمجھ میں قطعی نہیں آیا کہ امی ان سے اتنا کیوں چڑتی تھیں اسے امی پربہت غصہ آیا۔ پہلے اسے امی کی کسی بات پر غصہ نہیں آتاتھا لیکن اب کئی باتیں اسے بہت بری لگی تھیں ۔ وہ اکثرپاپا سے جھگڑبیٹھتی تھیں ۔ ایک دن تو حد کردی ۔ پاپاپر خوب چلائیں اوران کا لایاہوا دوپٹہ پھاڑ کر پھینک دیا۔ پاپا کاچہرہ سرخ ہوگیا وہ ایک لفظ نہیں بولے ۔ بس خاموشی سے اٹھ کر چلے گئے۔ پھردادی آئیں کمرے میں،کہنے لگیں۔ ’’کل ہی چلتے ہیں مولوی صاحب کے یہاں تعویذلے کر آئیں گے ۔ یہ لڑکا یوں نہیں سننے والا‘‘۔

پھرنہ جانے کتنے لوگ ملے کتنے چھوٹے کتنے بڑے ٹرانسفرہوئے پاپا کے۔ گوہر پڑھنے میں بہت اچھی نکلی پاپاہمیشہ کہتے کہ اس کی بنیاد مس الزبتھ نے مضبوط کی تھی۔ انگریزچلے گئے انگریزی چھوڑگئے دیکھو گوہر کا اچھے کالج میں ایڈمیشن کرایاگیا تواسے کبھی احساس کم تری نہیں ہوا صرف اس لئے کہ اس کی انگریزی مضبوط تھی۔

ہماری لڑکی ذہین ہے کسی کے پڑھانے سے کیا ہوتاہے ؟ امی کہیتں۔

’’تم احسان فراموش ہو‘‘ پاپا جھنجھلاتے۔

’’ خدا کاشکرہے جس نے مجھے اس چڑیل سے نجات دی ۔‘‘

اس جواب پر جس پرامی کی تان ٹوٹتی، ابا خاموش ہوجاتے، اگرچہ ان کا چہر سرخ ہوجاتا ۔ بڑا ضبط اورتحمل تھا ان میں دھیرے دھیرے مس الزبتھ نارٹن کاذکرہی ختم ہوگیا ان دونوں کے درمیان۔ وقت سارے زخم بھردیتاہے ۔آنکھ اوٹ پہاڑ اوٹ اگرچہ کچھ یا دیں بالکل ہی نہیں مٹ جاتیں پتہ نہیں پاپا کیامحسوس کرتے تھے ۔نوجوانی کے سنہری گرم دھوپ ا وررم جھم کرتی رومانی پھواروں سے آراستہ دنوں میں بھولے بسرے لوگ اوربھولی بسری جگہیں بہت کم یادآتی ہیں۔زندگی ایسی ہی ہل چل بھری ہوتی ہے۔ لیکن جب بچے جوان ہوجاتے ہیں اوروقت آنکھوں کے گرد اپنے پنجوں کے نشان چھوڑ نے لگتاہے توماضی ایک بارپھر سطح پر ابھرنے لگتاہے۔ اس شہر میں الزبتھ مس نے تہہ سے سرابھاراتھا اوراپنی یادوں کی مٹھاس سے اس کوشرابور کرگئی تھیں۔

گھر کاسارا سامان ترتیب سے رکھاجاچکاتھا دونوں لڑکے اپنی اپنی جگہوں پرواپس جاچکے تھے ۔خالی بیٹھے بیٹھے ایک دن گوہر نے شہر کا چکرلگانے کی سوچی اسے خیال آیاکہ ذرا مشن کمپاؤنڈ بھی جائے۔ شاید وہاں کسی کو معلوم کو کہ الزبتھ مس آج کل کہاں ہیں پتہ نہیں شادی بیاہ کرکے کہیں چلی گئیں ہوں ۔ ہوں بھی یانہیں ۔ کسی کی عمر کا کیاٹھکاناکہ کون کتنی لے کرآیا ہے۔ ان کے ملنے کی امید تونہیں لیکن وہ جگہ دیکھنا اچھاہی لگے گا جہاں پاپا سائیکل پربٹھا کرچھوڑ جاتے اورپھرلینے آیاکرتے تھے ہفتے میں تین بار ، تین سال سے کچھ اوپر کی مدت تک لگاتار۔

جگہ بالکل ویسی ہی تھی بس بلڈنگ زیادہ پرانی ہوچکی تھی بڑے سے احاطے میں کوئی عمارت سازی نہیں ہوئی تھی ۔جھاڑجھنکاڑبھی اپنی جگہ تھا چھوٹے شہراپنا سفربہت دھیرے دھیرے طے کرتے ہیں۔

کالک لگی کھپریل والی کاٹج بھی اپنی جگہ تھی اس میں کوئی تھا۔ ایک ہیولا۔ کسی عورت کا ہیولا ۔ ایک جھکے ہوئے شانوں والی بوڑھی سی عورت کاہیولیٰ۔ میانے قدکی دبلی پتلی عورت چھوٹے تراشے ہوئے سفیدبال ،کناری دار سفید ساڑی میں ملبوس اس نے آنکھوں پرہاتھ کا چھجابنایا ۔وہ کاردیکھ کر باہرآگئی تھی۔اپنی ساری متانت عمر ، تعلیم اور مرتبے کا وقار بھول کر گوہر زورسے چیخی ’’ماما ‘‘

’’مجھے کون ماما کہہ رہاہے؟ مجھے تو ماں بننے کا فخر کبھی حاصل نہیں ہوسکا۔ ‘‘عورت نے دل میں سوچا اور گوہر کے ٹھیک سامنے آکر کھڑی ہو گئی۔گوہر نے اس کی آنکھوں میں دیکھا ، دانتوں سے ہونٹ دباکے اوربہت دھیرے سے بولی’’ الزبتھ مس ‘‘ وہ بالکل اپنی ماماجیسی ہوگئی تھیں۔ ویسی ہی وضع قطع ویسی ہی بوڑھی۔

مجھے افسوس ہے میں نے آپ کونہیں پہچانا۔ انہوں نے رسان سے کہا۔

’’آپ کی فیملی؟‘‘

’’ ماماکے انتقال کوپندرہ سال سے زیادہ ہوگئے ۔ اپنی فیملی میں خود ہوں۔‘‘ انہوں نے سینے پرہاتھ رکھ کر کہا۔

’’شادی نہیں کی؟‘‘پوچھتے ہوئے گوہر کی زبان کی ذرا لڑکھڑائی۔

’’اس وقت تم بہت چھوٹی تھیں۔ …‘‘ وہ گوہر کے شانوں پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنے اکلوتے کمرے لے آئیں ۔ تم لوگ جس سال گئے ہو میری شادی بات چل رہی تھی ۔ہم لوگ اتنی کم تعداد میں ہیں کہ پڑھے لکھے لڑکے مشکل سے ملتے ہیں ۔جونظر آئے میں سب سے معقول رابرٹ ہی تھا اسے تمہارے ابانے نامنظورکردیا کہنے لگے کہ اس کے طورطریقے ٹھیک نہیں ہیں۔پڑھالکھا بھی کم ہے ۔ الزبتھ کے لئے اس سے کہیں اچھالڑکا چاہئے۔ بہت اچھا وہ بہت اچھالڑکا کبھی نہیں ملا۔‘‘

’’کبھی کوئی بہت اچھا لگا ہی نہیں؟‘‘گوہرنے رسان سے کہا۔ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ جھکے ہوئے شانوں کے ساتھ چائے بنانے میں مشغول ہوگئیں۔ اتنی دیرخاموشی طاری رہی۔ پھرانہوں نے ٹرے لاکر میزپررکھی۔ برآمد ے کابانس کاٹڑ تک ایساہی تھا سامنے کاسبزہ بھی۔ اور ہوا بالکل پینتیس سال پہلے کی طرح سرسراتی پھر رہی تھی۔

الزبتھ مس ۔ پاپا ہمیشہ کہتے رہے کہ آپ نے میری تعلیم کاسنگ بنیاد رکھ اتیرہ چودہ سال کی کچی عمر میں ادب کاذوق پیدا کیا۔ میری بعد کی ساری کامیابیوں کا سہراپاپا آپ کے سرباندھتے رہے‘‘

’’کہاں ہیں وہ اب ؟کیسے ہیں وہ ؟‘‘ ان کے لہجے میں بے چینی تھی۔

’’وہ اب نہیں ہیں ، الزبتھ مس ۔‘‘

چائے کی پیالی ان کے ہاتھوں میں ذرا سی لرزی پھرٹھہرگئی ۔

’’ گوہر۔ ان ہوںنے لمحہ بھرکے توقف کے بعد کہا اہل ہنود کے گرودکشنا کے تصورسے واقف ہوتم۔ ایک ٹیچر کے لئے سب سے بڑی گرود کشناوہی ہے جو تم میرے لئے لے کرآئی ہو… یہ اعتراف کہ تمہاری کام یابیوں میں کہیں میرا بھی کچھ حصہ تھا یقین جانو اگر ایک ٹیچر کی ساری زندگی میں کوئی ایک شاگر د بھی اس کا اعتراف کرلے…‘‘

’’ آپ کے بارے میں تو بہتوں نے یہ اعتراف کیاہوگا۔ ہوسکتاہے وہ آپ کے سامنے نہ کہہ سکے ‘‘گوہر کے لہجے میں صداقت تھی ۔’’ میں اب چلوںگی ‘‘اس نے خالی پیالی میز پر رکھ دی ۔پھرآؤں گی اطمینان سے اورجب تک یہاں ہوں آپ سے ملتی رہوںگی۔ وہ اٹھ کھڑی ہوئی اچانک اس کی نظرلکڑی کی کارنس پر پڑی اور اسے جیسے کاٹھ مارگیا۔ چھوٹے سے فریم میں پاپا کی تصویر مسکرارہی تھی ۔ اس کے نوجوان ، باپ رضا حسین کی تصویر۔ دوسرے سرے پر الزبتھ مس کی بوڑھی ماں تھیں ۔ وہ دوانسان جوالزبتھ مس کی زندگی میں انتہائی اہم تھے۔ وہ دوانسان جواب اس دنیا میں نہیں تھے۔

الزبتھ نارٹن نے گوہر کی طرف دیکھا ۔پھر ایک ایک لفظ پرزوردے کرہولے ہولے بولنے لگیں۔’’رضا میری زندگی میں ایک خوش گوار جھونکے کی طرح آئے ۔ ایک پاکیزہ دوستی اورہم آہنگی کے جذبے سے روشناس کرایا انہوں نے۔ ایسی مکمل ہم آہنگی جیسے وہ میرے ہی وجود کانصف حصہ ہوں مگرگوہرمیں نے تمہاری ماں کی امانت میں خیانت کبھی نہیں کی ۔ یہاں سے جانے کے بعد رضا نے ایک بار مجھے لکھاتھا :’’ میری بیو ی کہتی ہے کہ میں ایک عیسائنی کے چکر میں پڑگیاہوں ۔کیا واقعی میں تمہارے چکر میں ہوں لز؟ ‘‘ اس خط کے بعد میں نے انہیں خط لکھنا بند کردیا۔ سارے ناطے توڑلئے ۔کبھی نئے سال کی مبارک باد بھی نہیں دی۔ دھیرے دھیرے انہوں نے بھی خط لکھنا چھوڑدیا۔ کب تک یک طرفہ تعلق چلتا ۔ پھر مجھے کوئی خبرنہیں ملی ان کی۔ صرف ان کی یاد روشن رہی دل میں۔ ایک چراغ کی طرح۔ اگریہ گناہ ہے تو میں اس گناہ کا اعتراف کرتی ہوں ۔ تمہارے دل میں میرے لئے جوعزت اورمحبت تھی گوہر …اس میں کمی نہ کرنا۔‘‘

الزبتھ مس، گوہر کے گلے میں آگے کچھ کہتے ہوئے پھندا ساپڑگیا۔ اس نے ان کے کم زور، دبلے کاندھوں پراپنا ہاتھ رکھا اور گاڑی کی طرف بڑھ گئی۔

ان دونوں کے درمیان کیاتھا؟ اس نے ذہن پر زورڈالا ۔ وہ اس سبزہ بھرے سنسان حصے میں دھیرے دھیرے ٹہلتے تھے اور مدھم لہجے میں باتیں کرتے جاتے تھے۔ ان کے چہرے کسی اندرونی خوشی سے روشن ہوا کرتے تھے ۔ پاپا کاگورا اورالزبتھ مس کا سلونا چہرہ۔ ہفتے میں تین دن کبھی پندرہ مٹ کبھی آدھا گھنٹہ اس سے زیادہ نہیں ۔پاپا امی کابہت لحاظ کرتے تھے اوران سے ڈرتے بھی تھے ۔ وہ جب مرض الموت میں گرفتار ہوئے توامی ان کے سرہانے تھیں اورالزبتھ کوسوں دور… کیاان لمحات میں انہوںنے الزبتھ مس کویاد کیاتھا(جنہیں وہ ’’لز‘‘کہنے لگے تھے) یاوہ ان کے لئے زندگی کاایک پڑاؤ تھیں جہاں انہوں نے لمحہ بھرکورک کرآرام کیاتھا؟ اس سوال کا جواب توآپ کبھی نہیں دے سکیں گے پاپا …گوہر پلٹی…اس نے روم میں باپ کی برسوں پرانی تصویر پرایک نظر اورڈالی ، جس میں ان کی مسکراہٹ اورجوانی منجمد ہواٹھے تھے۔‘‘

مس الزبتھ نارٹن کی زندگی میں ایک بار جگنوئوں کی بارات اتری تھی جولمحاتی روشنی دے کر اڑگئی۔ لیکن اس روشنی کےپرتو نے ان کے دل کو اب بھی منور کر رکھا تھا۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اپنی جڑوں کی جانب.. سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، ہند

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 38 اپنی جڑوں کی جانب.. سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے