سر ورق / افسانہ / لا علاج معظم شاہ ، کیمبلپور، پاکستان

لا علاج معظم شاہ ، کیمبلپور، پاکستان

عالمی افسانہ میلہ 2019

افسانہ نمبر22

لا علاج

معظم شاہ ، کیمبلپور، پاکستان

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

طاہرہ نے اس کے لیئے کچھ تصویروں کا انتخاب کیا تھا ۔ وہ بوڑھی اس کی این جی او نے لکھنؤ کی سڑکوں سے پکڑی تھی ، میلے کچیلے کپڑوں میں اپنے آپ سے بے خبر گھومتی رہتی ، کسی نے کچھ دے دیا تو کھا لیا ، جہاں پناہ دیکھی پڑ رہی ، وہ بہت کم بولتی تھی ، بولتی تو لگتا کہانی سنا رہی ہو ، اس کے بے ربط الفاظ بھی کسی ایک منظر کی ہلکی سی جھلک دکھا کر الجھ جاتے تھے جیسے ٹی وی پر اچھا بھلا منظر کالے اور سفید رقص کرتے نقطوں میں بدل جائے ۔ اس کے لہجے سے طاہرہ نے اندازہ لگا لیا تھا کہ وہ کشمیری ہے ۔

طاہرہ کو بطور سائکالوجسٹ اس این جی او کے ساتھ کام کرتے پندرہ برس ہو چکے تھے ، اس عرصے میں اس نے بہت سے لوگوں کی نفسیاتی مدد کی تھی لیکن یہ اس کی زندگی کا مشکل ترین کیس تھا ۔ بوڑھی سے نام پوچھو تو "امی” کہتی تھی ۔۔۔۔۔پہلے تو وہ سمجھی کہ اپنی ماں کی بات کرتی ہے ، لیکن جلد ہی اس نے جب پیار سے کہا امی ۔۔۔۔۔۔اور بوڑھی نے چونک کر سر اٹھا کر اسے دیکھا تو اسے لگا وہ کسی حد تک اس کے درد سے اٹے وجود میں داخل ہو چکی ہے تبھی اس نے کچھ تصاویر منتخب کی تھیں بوڑھی کو دکھانے کے لیئے ۔

کئی سیشنز گزر جانے کے بعد بوڑھی اب کھل کر بولنے لگی تھی وہ چھوٹی چھوٹی کہانیاں سناتی ، اس کے اپنے بارے میں پوچھو تو چپ سادھ لیتی اور پھر کسی بات کا جواب نہیں دیتی تھی ۔۔۔ دوسرے تیسرے دن بمشکل وہ اس کی زبان کھلوا پاتی اس لیئے اب اس نے بوڑھی کی ذات کے بارے میں سوالات کو گویا نصاب سے باہر کر دیا تھا ، بس وہ محبت سے اس کا ہاتھ تھام لیتی اسے اپنے ساتھ لپٹا لیتی اور اس کے جھریوں والے ہاتھ سہلاتی رہتی پھر کوئی نہ کوئی تصویروں کا سیٹ دکھاتی اور بوڑھی بولنے لگتی ۔ وہ ان کہانیوں کو ریکارڈ کر رہی تھی ، گھر جا کر انہیں سن کر نوٹس تیار کرتی اور بڑھیا کی فائل میں لگا دیتی

آج اس نے کشمیر کے ایک سکول کی تصاویر منتخب کی تھیں اور بوڑھی دیکھ کر بے اختیار بولنے لگی تھی ۔۔دوسرے دن اس نے بچوں کی کچھ تصاویر نکالیں اور بوڑھی نے ایک اور سمت میں الفاظ کے قدم اٹھا دئے لیکن اسے لگا کہ آج کی کہانی کل کی کہانی سے ربط رکھتی ہے اس نے سنتے سنتے اگلے دو تین دن کے لیئے منتخب سیٹ بھی آج ہی نکال لینے کی ٹھان لی ۔ بڑھیا کے چہرے پر کوئی تاثر نہیں تھا ، وہ بس ایسے ہی بولے جا رہی تھی جیسے کسی اور کا قصہ سنا رہی ہو خوشی کی بات پر دھیرے سے مسکرا دیتی ، غم کی بات پر اس کا چہرہ دکھ بولنے لگتا لیکن اس کی آنکھیں ۔۔۔۔۔اف اتنی ویران آنکھیں ۔۔۔۔۔۔۔ان میں ویرانی کے سوا کوئی تاثر نہیں آتا تھا ۔

بالآخر طاہرہ نے کہانی مکمل کر لی ، اس نے اسے پڑھنا شروع کیا

وہ اپنے گھر سے نکلی اور مغرب کی جانب مڑی آنندی میڈیکل ہال اس کے سامنے تھا ۔ کچھ ہی دیر میں وہ مین مارکیٹ پہنچ گئی مارکیٹ ابھی کھلی نہیں تھی اس کے قدم تیزی سے قدیم پونچھ سے باہر کی جانب اٹھ رہے تھے ۔ وقت پر سکول پہنچنا اس کی عادت تھی ۔پرانے قلعے کی حدود سے آگے نکل کر اس کے قدم مزید تیز ہو گئے گورنمنٹ گرلز ہائی سکول پونچھ میں وہ گزشتہ کئی سال سے انگریزی پڑھا رہی تھی ، دن بھر سکول میں بچیوں کو اس زبان سے آشنا کرنا جو ان کی مادری زبان کے قریب بھی نہیں تھی ایک کار دارد تھا لیکن اسے پڑھانا آتا تھا وہ فطرتاََ استاد تھی شاید یہی وجہ تھی کہ اس کی طالبات اس پر جان چھڑکتی تھیں

فاطمہ اور اس کا بیٹا گھر کے دو ہی تو لوگ تھے ، وہ ماضی کے بارے میں سوچنا ہی نہیں چاہتی تھی تو اس نے بڑی کوشش سے ماضی کو دماغ سے کھرچ کر نکال دیا تھا ، اب اسے احمد بھی یاد نہیں آتا تھا جو علی کو ایک ماہ کا چھوڑ کر بھارتی فوجوں کے سر چ آپریشن کا شکار ہو کر منوں مٹی تلے جا سویا تھا ۔ احمد کے بعد فاطمہ نے اپنی توجہ کا مرکز علی کو بنا لیا ۔ معمولی سی توجہ پر کھلکھلا کر ہنسنے والا علی نہیں جانتا تھا کہ وہ یتیم ہو چکا ہے ، کبھی کبھی تو اسے لگتا جیسے احمد چھوٹا ہو کر اس کی گود میں آ گیا ہے ۔ علی کو دودھ پلاتے اسے کئی بار احمد کی سرگوشیاں یاد آتیں اور اس کا وجود تپنے لگتا ۔ وہ اندر سے کانپ جاتی اور علی کو اپنی چھاتیوں کے ساتھ بھنچ لیتی ممتا اس کی پور پور سے چھلک رہی ہوتی ۔ علی میں اس کی جان تھی ، وہ صبح جاگتے ہی علی کو دیکھتی رات کو نیند کی دھندلی وادی میں قدم رکھتے ہوئے وہ علی کو دیکھ رہی ہوتی ۔ دن بھر علی کا خیال جو اب چار ہاتھ پاؤں پر چلنے لگا تھا ۔ وہ دن اس کے لئے کتنی بڑی خوشی کا دن تھا جب علی نے پہلا قدم اٹھایا تھا موٹے موٹے سفید پاؤں گول مٹول روشنی دیتے چہرے پر انتہائی روشن چمکتی ہوئی سبز آنکھیں ، سر پر سیاہ کالے بال اس نے علی کی نظر اتاری ۔

وقت گزرتا گیا ، علی سکول جانے لگا ۔ وہ دن بھر بچیوں کو پڑھاتے ہوئے علی کو سوچتی رہتی اب کلاس میں ہو گا ، اب بریک ٹائم میں کھیل رہا ہو گا ، کسی بچے سے اس کا جھگڑا نہ ہو جائے ، کوئی اسے مار نہ بیٹھے ۔۔۔اس کے دل میں وسوسے گھر بناتے اور وہ بے چین ہو اٹھتی تھی ۔ علی دوسرے بچوں کی طرح نہیں تھا جو بڑے ہونے کے ساتھ ساتھ ماں سے دور ہونے لگتے ہیں ، وہ جوں جوں عمر میں بڑھ رہا تھا ، ماں کے دکھوں کو سمجھ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔اور ۔۔۔۔۔۔ایسے میں وہ ماں سے زیادہ قریب ہوتا جا رہا تھا
چھٹی جماعت سے اس نے ایک بھرپور مرد کی طرح گھر کی ذمہ داریاں سنبھال لی تھیں ، وہ سکول سے تھکی ہاری گھر پہنچتی تو علی موسم کے لحاظ سے چائے کا کپ یا ٹھنڈے پانی کا گلاس لیئے آ جاتا ، اسے اس پر بے پناہ پیار آتا ، کتنا سمجھدار ہے میرا علی اور کتنا خیال رکھنے والا ۔۔۔۔۔۔۔اس کا دل تشکر سے بھر جاتا ۔۔۔۔۔۔۔وہ بنا کہے اس سے پیسے لے کر گھر کی ضرورتوں کے مطابق سامان لے آتا ۔۔۔۔۔۔اس کا کھانے پکانے میں ہاتھ بٹاتا ۔۔۔۔۔۔۔تو وہ اس کے ہاتھ چوم لیتی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اس تمام عرصے میں اس نے پوری کوشش کی تھی کہ علی کو اس کے باپ کی شہادت کا پتا نہ چلے ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ احمد کو کھو چکی تھی علی کو کھونا نہیں چاہتی تھی ۔

وہ ایک سخت گرم دوپہر تھی ، آج صبح سے اس کا دل ہول رہا تھا ۔۔۔۔۔ایک انجانا سا خدشہ اس کے دل سے نکل ہی نہیں رہا تھا ۔۔۔۔۔۔۔اسے بار بار علی کا خیال آتا ۔۔۔۔۔۔یا اللہ اسے خیریت سے رکھنا ۔۔۔۔۔۔۔یا اللہ میرے علی کو کچھ نہ ہو ۔۔۔۔۔۔۔اسے بات بات پر رونا آ رہا تھا ۔۔۔۔۔۔بمشکل اس نے چھٹی تک کا وقت گزارا اور بوجھل قدموں سے گھر کی طرف چلی ۔۔۔۔۔۔اسے جسم سے جان نکلتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی ۔۔۔۔۔۔وہ گھر پہنچی تو علی کی عجیب حالت تھی وہ غصہ ضبط کرتے کرتے رونے لگا ۔۔۔۔۔۔۔بہت پوچھنے پر اس نے سوال کیا ۔۔۔۔۔۔امی، ابو کیسے شہید ہوئے تھے ؟

یہ سوال نہیں تھا ، گویا ایک پرسکون زندگی کی تباہی کا آغاز تھا ۔۔۔۔۔۔۔اس نے بہت کوشش کی کہ اسے جھٹلا سکے لیکن بتانے والے نے ایسا تیر نہیں مارا تھا جو اثر نہ کرتا ۔۔۔۔۔۔۔اس نے بالآخر علی کو سبھی کچھ سچ سچ بتا دیا ۔۔۔۔۔میری زندگی ہو تم ، تمہیں کچھ ہو گیا تو میں بھی جی نہیں سکوں گی ۔۔۔۔۔روتے روتے اس کی ہچکی بندھ گئی ۔۔۔۔۔۔علی نے اسے سینے سے لگا لیا ۔۔۔۔۔۔۔کہنے لگا ۔۔۔۔۔امی، ماں کی اجازت کے بغیر تو جہاد کی بھی اجازت نہیں ۔۔۔۔۔۔آپ کیوں پریشان ہوتی ہیں ۔۔۔۔۔۔۔اس نے چونک کر اسے دیکھا اور اس کی آنکھوں میں اسے احمد کی آنکھیں ملیں ، اعتماد سے بھرپور ، تسلی دیتی ہوئیں ۔۔۔۔۔۔۔۔اس نے علی کو زور سے اپنے ساتھ لپٹا لیا اور اسے سمجھانے لگی ۔

یہ علی کا سکول میں آخری سال تھا ، وہ کالج کی زندگی کی باتیں کرتا رہتا ۔۔۔۔۔۔وہ اپنی امیدوں کو جوان ہوتا دیکھ کر خوشی سے رو دیتی ۔۔۔۔۔سجدے میں جا کر سر اٹھانا بھول جاتی ۔۔۔۔۔۔اب وہ اپنے سکول میں چھٹی ساتویں کی بچیوں کو اس نظر سے دیکھنے لگی تھی کہ کون اس کے علی کے لیئے بہتر رہے گی ۔۔۔۔۔۔۔اسے خود پر حیرت ہوتی کہ وہ ابھی سے اس کی شادی کے خواب دیکھ رہی ہے ۔۔۔۔۔اس دن اچانک اس کا دل بیٹھنے لگا ۔۔۔۔۔اسے لگا جیسے کوئی بہت بڑا سانحہ ہونے کو ہے ۔۔۔۔۔اس نے سکول سے جلد رخصت لی اور گھر کی جانب بھاگی ابھی وہ مارکیٹ کے قریب نہیں پہنچی تھی کہ اس نے سڑک پر ان درندوں کو دیکھا جنہوں نے اس سے اس کا احمد چھین لیا تھا ۔۔۔۔۔۔وہ اگر بچوں کو نہ دیکھتی تو شاید راستہ بدل کر نکلنے کی کوشش کرتی لیکن سکول کے بہت سے بچوں کو انہوں نے ایک لائن میں ہاتھ سر کے پیچھے بندھوا کر سڑک پر بٹھا رکھا تھا ایک بچہ زمین پر الٹا لیٹا ہوا تھا جس کا چہرہ اس کی جانب تھا اور اس کے منہ اور سر پر ایک کتے نے پاؤں رکھا ہوا تھا ۔۔۔۔۔۔فل یونیفارم میں وہ ان درندوں کا افسر تھا جس نے لانگ فوجی بوٹ پہنے تھے اور ایک پاؤں سے بچے کے سر اور منہ پر دباؤ بڑھا رہا تھا ۔۔۔۔۔۔پتا نہیں کس ماں کا لال ہے ؟ ۔۔۔۔۔اس کے قدم اور تیز ہو گئے ۔

وہ قریب پہنچی تو اس کی آنکھوں میں اندھیرا چھا گیا ۔۔۔۔۔۔وہ شاہین کی مانند اس افسر پر جھپٹی ۔۔۔۔۔۔امی ی ی ی ی ی۔۔۔۔۔علی کی آواز اس کے کانوں میں گونجی اور ایک بندوق کا بٹ اس کے سر پر پڑا ۔۔۔۔۔۔۔علی کے ساتھ دو ہاتھ اسے بھی گھسیٹ کر گاڑی میں ڈال کر لے گئے ۔۔۔۔۔۔۔اس کے بعد اس نے علی کی شکل نہیں دیکھی ۔۔۔۔۔۔۔۔وہ اس سے ان مجاہدین کا پوچھتے رہے جنہیں اس نے کبھی نہیں دیکھا تھا ۔۔۔۔۔۔کئی درندوں نے ایک وقت میں اسے کئی کئی بار روندا ۔۔۔۔۔۔۔وہ علی علی پکارتی رہ جاتی ۔۔۔۔۔ان کی منتیں کرتی کہ اسے اس کے علی سے ملا دیا جائے ۔۔۔۔۔۔۔عذاب کے کئی دن گزر گئے تو اہل پونچھ نے سڑکوں پر ایک پاگل عورت کو دیکھا جو لوگوں کو روک روک کر پوچھ رہی تھی ۔۔۔۔۔۔میرے علی کو دیکھا ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔وہ بھوکا ہو گا ۔۔۔۔۔۔اسے کہو نا گھر واپس آ جائے ۔۔۔۔۔۔۔میں اسے کبھی نہیں ڈانٹوں گی ۔۔۔۔۔۔۔۔پھر کسی اور راہرو سے پوچھتی ۔۔۔۔۔۔میرے علی کو دیکھا ہے ؟ ۔۔۔۔۔۔۔۔گھر نہیں آتا پگلا ۔۔۔۔۔۔میں احمد کو کیا جواب دوں گی ؟

طاہرہ نے سر اٹھایا تو اس کی آنکھیں مکمل طور پر دھندلا چکی تھیں ۔۔۔۔۔۔اسے اپنے چہرے پر بہتے آنسو انگاروں کی طرح محسوس ہو رہے تھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔بہت سوچ کر اس نے ایک فیصلہ کیا ۔۔۔۔۔وہ فاطمہ کو گھر لے آئی ۔۔۔۔اپنی ماں کی طرح اس کی خدمت کرنے لگی ۔۔۔۔۔لیکن اس نے فاطمہ کا علاج کرنے کی کوشش کبھی نہیں کی ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اپنی جڑوں کی جانب.. سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، ہند

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 38 اپنی جڑوں کی جانب.. سلیم سرفراز، آسنسول، بنگال، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے