سر ورق / ناول / بلاوا خورشید پیر زادہ قسط نمبر10

بلاوا خورشید پیر زادہ قسط نمبر10

بلاوا

خورشید پیر زادہ

قسط نمبر10

ہا ہا ہا ہا ہا – پھر؟— ہا ہا ہا ہا-“ صبح شیکھر اور امان کبھی رویندر کے سر پر ابھرے گومڑ اور کبھی اس کے چہرے پر ابھرے شکایتی انداز کو دیکھ دیکھ کر لوٹ پوٹ ہو رہے تھے-

”پھر کیا- وہ تو اچھا ہوا کہ اس کو ہم پر رحم آگیا- اگر چلا دیتی تو وہاں ہمارا کیا ہوتا- خود ہی سو چ لو- مروا دیا تھا مجھے گدھا کہنے والے نے-“ رویندر نے روہن کو گھورتے ہوئے کہا-

”یہ لو— پلان ا س کا خود کا تھا– مجھے زبردستی لے گیا تھا- اور اب مجھے ہی کوس رہا ہے- میں نے کہا تھا کہا یہ سب کرنے کو-“ بولتے بولتے روہن کی بھی ہنسی چھوٹ گئی-

”پلان میں کیا کمی تھی بول- یہاں دماغ خراب کرکے تمہیں ریہرسل کروائی- آدھے گھنٹے کی بات کو تم نے دو منٹ میں بول دیا- میں کیا کرتا؟“ رویندر نے امان اور شیکھر سے اپنے لئے تائید مانگی-

”پتہ نہیں یار- اس کے سامنے جاتے ہی سب کچھ بھول گیا- کیا کا کیا نکلنے لگا منہ سے- میری خود سمجھ میں نہیں آرہا تھا-“ روہن نے اپنی غلطی خود تسلیم کرلی-

”ہوتا ہے- – ہوتا ہے باس— پیار میں ایسا ہی ہوتا ہے-“ امان بیچ میں بول پڑا-”مگر یہ بات تو صاف ہے کہ نیرو کو تمہاری اس حرکت پر زیادہ غصہ نہیں آیا- اس کا مطلب — چانس تو ہے-“ کہتے ہوئے امان نے خود کو آئینے میں دیکھتے ہو شیکھر کو ٹوک دیا-

”تم کہاں کی تیاری میں ہو بھائی-“

”مجھے کسی سے ملنے جانا ہے-“ شیکھر کے چہرے پر خوشی صاف جھلک رہی تھی-

”کون سی— کس سے ملنے جا رہا ہے بے— تم تو کچھ بتاتے بھی نہیں- ہم سے بھی شیئر کر لیا کرو یار-“ امان نے اس کے چہرے کے تاثر کو بھانپتے ہوئے اس کو چھیڑا-

”بات بن گئی تو ضرور بتاﺅں گا- شام کو لوٹ کر- ہی ہی ہی-“ شیکھر مسکرایا اور باہر نکل گیا-

”واہ بھئی واہ- سب سیٹ ہوتے جا رہے ہیں بھائی رویندر- کہو تو کوشل کو بلا لوں آج- آخر ہم بھی تو انسان ہیں-“ امان نے رویندر کے دیکھتے ہوئے کہا-

رویندر اچانک سنجیدہ ہوگیا- کچھ دیر سوچتا رہا پھر بولا-

”نہیں یار – خالی جسمانی تعلقات سے زیادہ مزا تو ایسے پتھر کھانے میں ہی آجاتا ہے-“ رویندر نے اپنے گومڑ کی طرف اشارہ کیا- ” میں اس کی جگہ ہوتا تو بھابھی جی کو زبردستی اٹھا کر ٹیلے پر لے جاتا— اس کے بعد تو اس کو یاد آہی جاتا نا-“

”فکر مت کرو- میرے دماغ میں ایک اور پلان ہے-“ امان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا-

”مگر اب کی بار میں ساتھ نہیں جاﺅں گا- پہلے سے بتا دیتا ہوں-“ رویندر نے سر پر بنے گومڑ کو سہلایا-

”ٹھیک ہے- اب کی بار تم گھر پر آرام کرنا- میں جاﺅں گا روہن کے ساتھ- امان ہنسنے لگا- ”آخر مجھے بھی تو بھابھی جی کو دیکھنا ہے-“

٭٭٭٭٭٭٭

”تم نے ان کو ایسے ہی نکل جانے دیا— پکڑوا کیوں نہیں دیا– ان کی تو دھنائی ہونی چاہئے تھی– ایسے کیسے گھس آئے گھر میں– عجیب آدمی ہیں-“ کالج کے بعد نیرو کے گھر بیٹھی ریتو نے اس کی داستان سننے کے بعد رائے دی-

”پتہ نہیں یار- میں نے بھی پہلے ایسا ہی سوچا تھا- پھر جانے کیوں ان پر ترس سا آگیا– – شریف ہی لگتے ہیں بیچارے- ورنہ کمرے میں گھسنے کے بعد تو وہ میرا منہ بھی دبا سکتے تھے- کچھ بھی کر سکتے تھے- میں کیا کر لیتی— میرے لائٹ جلاتے ہی ان کے چہرے ایسے سفید پڑ گئے تھے کہ کوئی اور ہوتا تو انہیں چور سمجھ لیتا-“ نیرو ہنسنے لگی-

”یہ بات تو ہے شینو- مگر ہیں دونوں عجیب- بھلا یہ بھی کوئی طریقہ ہے لڑکی پٹانے کا– شرافت سے دن میں سیدھے آکر بات کرنی چاہئے تھی— خوابوں میں آنے کا ڈرامہ کیوں کیا-“ ریتو نے بات آگے بڑھائی-

”ہوں- یہ آئیڈیا اب تم ان کو دے دیناکہ سیدھے آکر بات کرنی چاہئے تھی-“ نیرو نے منہ بنا کر ریتو کی نقل کی-”جیسے میں ان کا انتظار ہی کر رہی ہوں یہاں-“

”ارے کسی نہ کسی سے تو شادی کرنی ہی ہے تمہیں— پھر اس میں کیا کمی ہے– اسمارٹ ہے— شریف ہے— مجھے کہتا تو میں تو جھٹ سے تیار ہوجاتی- مگر قدرت دیتی ہی اس کو ہے جس کو اس کی ضرورت نہیں ہو— تم ساری عمر ایسے ہی بیٹھی رہو گی کیا؟-“ ریتو نے اپنے دل کی بات کہہ دی-

”ہاں- بیٹھی رہوں گی ایسے ہی- مجھے تو شادی کے نام سے ہی نفرت ہے-“ نیرو نے جواب دیا-

”مگر کیوں یار— تم ایسی کیوں ہو؟-“ ریتو نے پوچھا-

”پتہ نہیں ریتو- مگر میرا یہ پکا ارادہ ہے کہ میں شادی نہیں کروں گی- اب اس موضوع کو بند کرو اور کتاب کھولو- آئندہ اگر انہوں نے کوئی حرکت کی تو میں انہیں چھوڑوں گی نہیں-“ نیرو نے کہتے ہوئے اپنی کتاب نکال لی-

٭٭٭٭٭٭٭

”ہائے شلپا-“ شیکھر نے کالج سے تھوڑی دور ہٹ کر کھڑی اس کا انتظار کرتی شلپا کے پاس گاڑی روکتے ہوئے کہا-

شلپا نظریں تک نہیں اٹھا سکی- ہاتھ میں پکڑی کاپی کو یونہی سینے سے چپکائے کھڑی رہی-

”ہائے-“ شیکھر نے دوسری طرف جھک کر دروازہ کھول دیا-”آﺅ بیٹھو نا-“

شلپا نے نظریں اٹھا کر دائیں بائیںدیکھا او رپھر جھٹ سے گاڑی میں بیٹھ گئی- شیکھر نے گاڑی گھمائی اور شہر سے باہر نکال کر سرپٹ دوڑا دی-

”کہاں جا رہے ہو-“ شلپا نے اپنے چہرے پر لٹکنے والی بالوں کی لٹ کو پیچھے کرتا ہوئے نظریں ہلکی سی شیکھر کی طرف اٹھاتے ہوئے پوچھا-

 ”کہاں چلنا چاہئے-“ شیکھر نے گاڑی کی رفتار دھیمی کی اور مسکرا کر اس کی طرف دیکھنے لگا-

شلپا سہمی ہوئی سی بیٹھی تھی- ”مجھے کیا پتہ— کہیں بھی چلو-“ شلپا نے سنبھل کر بیٹھتے ہوئے کہا-

”مگر بلایا تو تم ہی نے تھا– اور اب کس کو پتہ ہوگا؟-“ شیکھر شرارت سے مسکرانے لگا- ”مطلب یہ کہ تم آنا نہیں چاہتی تھیں- ہے نا-“

شلپا نے شکایتی نظروں سے شیکھر کی آنکھوں میں جھانکا-

”یہ کس نے کہا؟-“

شیکھر ہنسنے لگا-

”ایسے کیوں ہنس رہے ہو؟ میں نے بلا کر کوئی غلطی کر دی کیا-“ شلپا کاچہرہ اتر گیا-

”تم تو اب بھی ویسی ہی ہو- بات بات پر چڑ جاتی ہو- میں تو سوچا کرتا تھا کہ تم بڑی ہوکر سمجھدار ہوگئی ہوگی- ہا ہا ہا-“ شیکھر کی بات سن کر شلپا کے چہرے پر چمک سی آگئی-

”کیا تم سچ میں میرے بارے میں سوچا کرتے تھے ؟-“

”اور نہیں تو کیا-“ شیکھر نے کہا اور اچانک چپ ہوگیا-

شلپا کے بدن میں چھپن چھپائی والی بات یاد کرتے ہی جھرجھری سی دوڑ گئی- پھر منہ پھیر کے اپنے جذبات کو شیکھر سے چھپاتی ہوئی بولی-

”کیا سوچا کرتے تھے؟-“

شیکھر نے روڈ سے گاڑی اتار کر ایک ٹیلے پر لے جا کر کھڑی کر دی اور شلپا کو عجیب سی نگاہو ں سے دیکھنے لگا- شلپا کو اس کی نظریں اپنے کمسن بدن میں گھڑتی ہوئی سی محسوس ہو رہی تھیں- اس نے اپنا چہرہ پھر گھما لیا اور باہر کی طرف دیکھنے لگی-

”بولو نا- کیا سوچا کرتے تھے؟-“

”یہی کہ میں تمہیں بھول کیوں نہیں پاتا-”شیکھر نے مسکراتے ہوئے کہا-” اور یہ بھی کہ تو بھی مجھے یاد کرتی ہوگی یا نہیں— کرتی تھیں کیا؟-“

شلپا نے اچانک اپنا چہرہ گھما کر اپنی نظریں ا س کی نظروں سے ملا دیں-شیکھر کا اس کو ”تو” کہہ کر بولنا اسے بہت پیارا اور اپنا سا لگا- وہ یونہی اس کی آنکھوں میں دیکھتی رہی- مگر کچھ بولی نہیں-

”تم سچ میں بڑی نہیں ہوئی ہو شلپا-“ شیکھر بھی اس کی جھیل سی آنکھوں میں ڈوبتا ہوا بولا-

شلپا کی نظریں شرم کے مارے جھک گئیں اور گورے گالوں پر حیا کی لالی نظر آنے لگی-

”ایسا کیوں کہہ رہے ہو-“

”اور نہیں تو کیا؟— بڑی ہوگئی ہو تیں تو مجھ سے پیار ہونے کے باوجود اتنے دن بعد یوں ملنے پر اب تک چپ نہ بیٹھی رہتیں—- مجھ سے لپٹ گئی ہوتیں اب تک- “ شیکھر نے اپنا ہاتھ بڑھا کر اس کے گالوں کو چھو لیا-اس کا چھونا ہی تھا کہ شلپا اس کی بانہوں میں ڈھیر ہوگئی- بانہیں شیکھر کے گلے میں ڈال کر اس سے چپک کر سسکنے لگی-

”تم نہیں جانتے شیکھر- ایک ایک پل میں تمہیں کتنی بار یاد کیا ہے میں نے—- کتنی تڑپی ہوں میں—- تمہارے لئے— اب تو میں نے امید ہی چھوڑ دی تھی کہ تم میری زندگی میں دوبارہ لوٹ آﺅ گے-“ شلپا کے بدن میں عجیب سی سنسناہٹ ہو رہی تھی-”اب واپس تو نہیں جاﺅ گے نا-“ شلپا کے منہ سے آہ سی نکلی-

”جاﺅں گا-“ شیکھر پھر مسکرانے لگا- مگر تمہیں ساتھ لے کر-“

شلپا چونک کر پیچھے ہٹی اور پیار سے ایک گھونسا اس کے سینے پر مار کر واپس سینے سے چپک گئی‘ دوگنے جوش کے ساتھ-

”میں نے ممی پاپا سے بات کر لی ہے- وہ شام کو تمہارے گھر پر فون کریں گے-“ شیکھر اب بھی مسکرا رہا تھا-

شلپا اتنی بڑی خوشی کو دل میں دبا کر نہ رکھ سکی- اس کی آنکھوں سے جھر جھر آنسو بہنے لگے- جذبات میں بہکتے ہوئے اس نے اپنے ہونٹ شیکھر کے گال پر رکھ دیئے-

”آئی لو شیکھر-“

٭٭٭٭٭٭٭

رات کو اپنے کمرے میں اسٹڈی کرتے ہوئے نیرو کو رہ رہ کر کچھ عجیب سا لگ رہا تھا- جانے ایسا کیوں تھا— مگر وہ بار بار سامنے والی کھڑکی کی طرف دیکھ رہی تھی- پردے کی ہلکی سی ہلچل بھی اس کا دھیان اپنی طرف کھینچ لیتی- کل رات کو روہن اور رویندر اسی کھڑکی سے اندر آئے تھے- اچانک کچھ یاد کرکے نیرو اٹھی اور کھڑکی کے پاس گئی- اس نے پردہ ہٹا کر دیکھا- کھڑکی آج بند تھی- اس نے چٹخنی کھولی اور باہر جھانکنے لگی- کھڑکی کے ساتھ ساتھ پانی کا ایک پائپ اوپر کی ٹنکی تک جا رہا تھا– – وہ ضرور اسی پائپ کے سہارے اوپر چڑھے ہوں گے- اچانک نیرو کو ہنسی آگئی- وہ مڑی اور ہنستے ہوئے ہی بستر پر جاکر لیٹ گئی-

”ایڈئیٹ-“ نیرو کے منہ سے نکلا- لائٹ جلتی ہی چھوڑ کر اس نے کتابیں میز پر رکھیں اور کمبل میں گھس گئی- کل رات کے خیالوں میں کھوئے کھوئے ہی اس کو کب نیند آگئی پتہ ہی نہیں چلا-

”کون ہے؟-“ اچانک کمرے میں ہوئی آہٹ سے اس کی آنکھ کھل گئی اور چونکتے ہوئے اس نے اپنی آنکھیں کھول دیں-

آج اس کے دل میں ڈر کم او رغصہ زیادہ تھا- وہ سیدھی پردے کی طرف دیکھتے ہوئے بولی-

” کون ہے وہاں– بولو— ورنہ میں شور مچا دوں گی-“ مگر ادھر سے کوئی جواب نہیں ملا- پردے کی ہلچل نیرو کو عام طرح کی نہیں لگ رہی تھی- اس نے جھٹ سے ایک بار پھر پیپر ویٹ اپنا ہاتھ میں تھام لیا- ”لگتا ہے آج پھر تمہارا سر پھوٹے گا— چپ چاپ واپس جاﺅ-“ نیرو نے مارنے کے لئے اپنا ہاتھ اوپر اٹھایا اور کچھ سوچ کر واپس نیچے کر لیا-

”تمہاری پرابلم کیا ہے- اندر آ جاﺅ-“ کوئی جواب نہ ملنے پر نیرو چپکے سے اٹھی اور احتیاط سے کھڑکی کی طر ف بڑھنے لگی- پردے کے پاس جاکر وہ کچھ دیر کھڑی رہی اور اچانک پردہ ایک طرف سرکا دیا- وہاں کوئی نہیں تھا-

”اف-“ نیرو نے کھڑکی سے باہر جھانکا- مگر پوری سڑک سنسان تھی- اپنے ماتھے پر ہاتھ رکھ کر نیرو نے لمبی سانس لی اور کھڑکی اندر سے بند کر دی- مگر واپس مڑتے ہی اس کی سانس اوپر کی اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی-

بستر پر جہاں سے وہ ابھی اٹھ کر آئی تھی- پیپر ویٹ کے نیچے دبا ایک کاغذ کا ٹکڑا پھڑپھڑا رہا تھا-شدید حیرت کے مارے نیرو لرز کر رہ گئی-

”یہ کیسے ہو سکتا ہے؟-“ نیرو اپنے آپ ہی بڑبڑائی اور کمرے میںچاروں طرف کسی کی موجودگی کو محسوس کرنے کی کوشش کرنے لگی- مگر کوئی ہوتا تو ملتا- بھاری اور تھکے ہوئے قدموں سے نیرو بستر کی طرف بڑھی اور کاغذ کا ٹکڑا پیپر ویٹ کے نیچے سے نکال کر پڑھنے لگی-

”پیار امر ہوتا ہے نیرو- وہ کبھی نہیں مرتا- تم سوچ بھی نہیں سکتیں کہ تم دونوں ایک دوسرے سے کتنا پیار کرتے تھے- آج خود روہن کو بھی احساس نہیں ہے کہ تم اس کے لئے کیا تھیں- اور وہ تمہارے لئے کیا تھا- مجھے پتہ ہے کہ تمہیں کچھ یاد نہیں ہے- مگر قدرت تم دونوں کو پھر سے ملانا چاہتی ہے- اس بات کو نظر انداز مت کرو- اپنی حقیقت کو جاننے کی کوشش کرو- جاننے کی کوشش کرو کہ تمہارے گھر والے تمہارا نام نیرو سے بدل کر شینو رکھنے پر کیوں مجبور ہوئے— روہن سے ملو— اس کے دل میں تمہارے لئے اس کے جذبات اور عظیم پیار کو محسوس کرنے کی کوشش کرو-“

نیرو کا دماغ چکر اگیا- اس نے ڈر کے باوجود کمرے کا کونا کونا چھان مارا- مگر کوئی نہیں ملا- مشکل سے ایک منٹ کے اندر یہ سب ہوگیا تھا- کوئی اندر آیا اور خط رکھ کرواپس چلا گیا- ہلکی سی آہٹ کئے بنا- کون ایسا کر سکتا ہے؟-“ اچانک باتھ روم میںشروع ہوئی پانی کی ٹپ ٹپ نے تواس کی جان ہی نکال کر رکھ دی- زور سے چیختے ہوئے وہ بد حواس سی ہوکر باہر نکلی اور نیچے کی طرف بھاگی- چیخ سن کر پہلے ہی امی اور ابا اپنے کمرے سے باہر نکل کر آچکے تھے-

”کیا ہوا بیٹی-“ دونوں نے ایک ساتھ پوچھا-

نیرو نیچے جاتے ہی اپنی ماں سے لپٹ گئی- اس کا بدن تھر تھر کانپ رہا تھا-

”اوپر— اوپر کوئی ہے امی-“ نیرو کی اوپر دیکھنے کی ہمت تک نہیں ہو رہی تھی-

نیرو کی بات سنتے ہی ابا اوپر کی طرف بھاگے- کمرے میں جاکر انہوں نے ایک ایک چیز کا جائزہ لیا-بستر پر رکھے اس کاغذ کے علاوہ وہاں کچھ بھی نہیں ملا- اچھی طرح دیکھ بھال کر نیچے واپس آئے اور نیرو سے پوچھا-

”یہ کیا ہے شینو؟-“

”پتہ نہیں- میں بس ایک منٹ کے لئے بستر سے اٹھی تھی- واپس آئی تو وہاں یہ رکھا ہوا ملا- پتہ نہیں کس نے اورکیسے رکھ دیا-“ یہ کہہ کر نیرو رونے لگی-

”رو کیوں رہی ہو بیٹی؟– تمہیں کوئی پریشان کر رہا ہے کیا-“ امی نے نیرو کو باپ سے الگ لے جاتے ہوئے پوچھا-

سوال سنتے ہی نیرو کے ذہن میں روہن اور رویندر کی تصویر ابھر آئی- پھر کچھ دیر رک کر بولی-

”نہیں امی- ایسا تو کچھ نہیں ہے-“

”کہیں ایسا تو نہیں کہ کسی نے تمہاری کتاب میں یہ خط رکھ دیا ہو- اور کھولتے ہوئے بستر پر گر گیا ہو-“ ابا نے پاس آتے ہوئے پوچھا-

”نہیں ابا- بستر پر یہ پیپر ویٹ کے نیچے دبا ہوا تھا- کسی نے ابھی رکھا ہے- تھوڑی دیر پہلے-“ نیرو نے ابا کی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

ابا کا چہرہ لٹک گیا اور پیشانی پر فکر اور غصے کی لکیریں ابھر آئیں- اچانک کچھ سوچ کر انہوں نے فون نکالا اور انسپیکٹر آنندکا نمبر ڈائل کیا-

”نمستے چاچا- اتنی رات کو کیسے یاد کیا؟-“ آنندکسی گشت سے واپس آرہا تھا-

”کوئی شینو کو پریشان کر رہا ہے بیٹا- ٹائم ملے تو آجا نا ایک بار– یہیں بیٹھ کر بات کر لیں گے-“

”کیوں نہیں چاچا- — پرابلم زیادہ سیرئیس ہے تو میں ابھی آجا تا ہوں-“ خدابخش نے ادب سے کہا-

”نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے- تم کل آجانا—- میں تو صبح جلدی ہی نکل جاﺅں گا تم اپنی چاچی سے بات کرلینا-وقت ضائع کئے بغیر مسئلے کا کوئی علاج ہوجائے تو بہتر ہوتا ہے-“

”کوئی مسئلہ نہیں ہے چاچا- میں کل جلد سے جلد آنے کی کوشش کروں گا-“

”ٹھیک ہے بیٹا- اب فون رکھتا ہوں-“ کہہ کر ابا نے فون کاٹ دیا-

تینوں نیچے ہی لیٹ گئے تھے- نیرو اسی ادھیڑبن میں تھی کہ کل آنند کے سامنے روہن اور رویندر کا ذکر کرے یا نہ کرے- سوچتے سوچتے اس کا دماغ خط میں لکھی بات پر چلا گیا-

”اپنی حقیقت کو جاننے کی کوشش کرو- جاننے کی کوشش کرو کہ تمہارے گھروالے تمہارا نام نیرو سے بدل کر شینو رکھنے پر کیوں مجبور ہوگئے-“

”امی-“ نیرو اٹھ کر بیٹھ گئی-

”ہاں بیٹی کیا بات ہے؟-“ امی نے پیار سے پوچھا-

” تم مجھے بتاتی کیوں نہیں ہو کہ میرا نام کیوں بدلا-“ نیرو نے کہا-

”سو جاﺅ بیٹی- صبح بات کریں گے-“ امی نے نیرو کا ہاتھ کھینچ کر اس کو زبردستی لٹانے کی کوشش کی-

نیرو چڑ گئی- ”مجھے نیند نہیں آرہی ہے امی—- آخر ایسی کیا بات ہے جو آپ بار بار ٹال رہی ہیں-“ نیرو نے ابا سے سوال کیا جو اس کی باتیں سن کر اٹھ بیٹھے تھے-

”شینو اب بڑی ہوگئی ہے- میرے خیال سے بتانے میںکوئی حرج نہیں ہے-“ ابا نے امی سے رائے لی-

”مگر بابا جی نے منع کیا تھا-“ امی نے ابا کی طرف انکاریہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا-

کچھ دیر چپ چاپ سوچتے رہنے کے بعد ابا حقیقت کی یادوں میں کھوتے چلے گئے-

”تم اس وقت پانچ سال کی تھیں شینو- ایک دن اچانک مجھے تمہاری پرنسپل نے فون کرکے ہسپتال پہنچنے کو کہا- میری تو جان ہی نکل گئی تھی- بدحواس سا ہسپتال پہنچا تو جاکر پتہ لگا کہ تم کوئی نام بار بار دوہرا کر چلاتے ہوئے بے ہوش ہوگئی تھیں- نام یاد نہیں آرہا-“ ابا نے دماغ پر زور دیتے ہوئے کہا اور پھر آگے بتانے لگے-

”ہسپتال سے چھٹی کے بعد میں تمہیں سیدھا گھر لے آیا- آنکھیں کھولنے کے بعد بھی تم سہمی سہمی سی لگ رہی تھیں- پہلے پہل ہم نے اس بات کو زیادہ توجہ نہیں دی- مگر تمہارا عجیب رویہ بڑھتا ہی چلا گیا- تم زیادہ باتیں نہیں کرتی تھیں حالانکہ تم بہت باتونی تھیں- اور اس دن کے بعد تم نے بچوں کے ساتھ کھیلنا بھی چھوڑ دیا تھا- تم یونہی گم سم سی رہنے لگیں— اس بات کو بھی ہم نظر انداز کر دیتے – مگر جب تم نے سوتے میں چلانا شروع کر دیا تو ہمیں بڑی فکر ہونے لگی- کئی اچھے ڈاکٹروں کو دکھایا- کراچی تک لے گیا تمہیں- مگر کہیں بات نہیں بنی- کچھ ڈاکٹروں نے بتایا بھی کہ اس عمر کے بعض بچوں کو عجیب عجیب خواب آتے رہتے ہیں- یہ بھی ایسا ہی کیس لگ رہا ہے اس لئے گھبرانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے—– رشتے داروں کے بار بار کہنے پر ہم تمہیں شاہ بابا کے پاس لے گئے- مجھے تو یقین تھا ہی نہیں کہ کچھ اثر ہوگا- مگر انہوں نے تو معجزہ ہی کر دکھایا- ایک عمل کرنے کے بعد انہوں نے تمہارا نام نیرو سے شینو رکھنے کو کہا- انہوںنے بتایا تھا کہ تمہارے بدن میں گھس کر کوئی روح تمہارے اندر گذشتہ صدیو ں کی کوئی یاد جگانے کی کوشش کر رہی ہے- انہوں نے زیادہ کچھ نہیں بتایا- صرف اتنا ہی کہا تھا کہ نام بدل کر یہاں سے لے جائیں- وہ روح دوبارہ اسے تنگ نہیں کرے گی اور نہ ہی پریشان کرے گی- انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ تمہیں اس بار ے میں کبھی کچھ نہ بتایا جائے- تمہارے اس بارے میں زیادہ سوچنے سے پچھلی صدیوں کی وہ دردناک یادیں دوبارہ زندہ ہوسکتی ہیں—- اس کے بعد ہم تمہیں گھر لے کر آگئے- مجھے یہ سب مذاق جیسا لگ رہا تھا- مگر تمہارے چہرے پر دوبارہ لوٹ آنے والی مسکراہٹ نے میری سوچ بدل دی- پھر میں نے ہر ریکارڈ میں تمہارا نام بدلوا دیا- یہی بات ہے جو ہم تمہیں بتا کر بلاوجہ پریشان نہیں کرنا چاہتے تھے- “ ابا چپ ہو کر نیرو کی آنکھوں میں دیکھنے لگے-

نیرو چپ چاپ سی روہن اور اس پراسرارخط کے بارے میں سوچنے لگی-

٭٭٭٭٭٭٭

نیرو‘ ریتو کے ساتھ کالج جانے کے لئے نکلی ہی تھی کہ گھر کے سامنے پولیس جیپ آکر رکی- گاڑی کو خود آنندہی ڈرائیو کرکے لایا تھا-نیرو نظریں جھکائے گاڑی کے پاس سے گزرتی چلی گئی اور گاڑی کے اندر ہی بیٹھے ہوئے آنندنیرو کو اس وقت تک دیکھتا رہا جب تک وہ نظروں سے اوجھل نہیں ہوگئی- اس دنیا میں ایک نیرو ہی تھی جو آنندکو پسند تھی- بے حد پسند- نیر و کے چہرے کی خوبصورتی اور نزاکت‘ اس کا سنجیدہ انداز اور نظریں ہمیشہ نیچی کرکے چلنا آنندکا دل موہ لیتی تھیں- مگر یہ بھی نیرو کا رکھ رکھاﺅ ہی تھا جس نے آنندکو آج تک اپنے دل کی بات اس کے آگے ظاہر کرنے سے روک رکھا تھا- یہی وجہ تھی کہ وہ سوچتا تھا کہ اس کو پیارجتانا ہی نہیں آتا—- اچانک اس نے ایک لمبی سانس لی اور گاڑی سے اتر کر دروازے پر دستک دی- چھ فٹ لمبے‘ گھٹیلے بدن پر چھبیس سال کی عمر میں ہی پولیس کی وردی خوب جچ رہی تھی- اور اس پر لگے تین اسٹار تو کسی بھی لڑکی کا سپنا ہوسکتے تھے-

”آگئے بیٹا- شینو بھی ابھی ابھی کالج کے لئے نکلی ہے-“ امی نے دروازہ کھولتے ہوئے کہا-

”ہاں چاچی – میں نے اس کو راستے میں دیکھا تھا-“ آننداندر آکر بیٹھتے ہوئے بولا-

امی کچن میں چلی گئیں-

”ارے اس کو واپس کیوں نہیں لے کر آئے- اسی کے بارے میں تو بات کرنی ہے-“ امی نے افسوس سا جتایا-”میں اس کی سہیلی کے فون پر کال کرکے اس کو واپس بلاتی ہوں-“ امی نے باہر آکر ایک فون کیا اور واپس اندر چلی گئیں-

”مجھے تو اس سے بات کر تے ہوئے ڈر سا لگتا ہے چاچی- وہ تو کبھی دیکھتی تک نہیں میری طرف- جانے کتنی ہی بار آمنا سامنا ہوجاتا ہے ہمارا- مگر انجان ہستی کی طرح سائیڈ سے نکل جاتی ہے- اب بتاﺅ بھلا میں راستے میں اس کو کیسے ٹوکتا-“ آنندیہ کہہ کر ہنسنے لگا-

” ارے نہیں بیٹا- تم تو جانتے ہو – اس کا انداز ہی ایسا ہے- مجھے تو ڈر لگا رہتا ہے – پرائے گھر کی امانت ہے- شادی کے بعد بھی اس کا رویہ نہیں بدلا تو-“ امی نے چائے کا کپ بنا کر آنندکو دیا اور ا س کے پاس بیٹھ گئی-

”کک کیا اس کی شادی پکی کر دی؟-“ آنندتڑپ کر بولا-

”ابھی کہاں— مگر کوئی ڈھنگ کا رشتہ ہو تو بتانا— اس کے ابو تو بے چین ہو رہے ہیں اس کی شادی کے لئے- تم تو سب جانتے ہی ہو-“ امی نے مسکرا کر کہا-

”اوہ- ضرور-“ آنندکے کلیجے کو ٹھنڈک ملی-”وہ چاچا کچھ ذکر کر رہے تھے- کیا معاملہ ہے؟-“ امی اٹھیں اور دراز میں سے خط نکال کر آنندکو دیا- آنندکھول کر پڑھنے لگا-

”پیار امر ہوتا ہے نیرو- وہ کبھی نہیں مرتا- تم سوچ بھی نہیں سکتیں کہ تم دونوں ایک دوسرے سے کتنا پیار کرتے تھے- آج خود روہن کو بھی احساس نہیں ہے کہ تم اس کے لئے کیا تھیں- اور وہ تمہارے لئے کیا تھا- مجھے پتہ ہے کہ تمہیں کچھ یاد نہیں ہے- مگر قدرت تم دونوں کو پھر سے ملانا چاہتی ہے- اس بات کو نظر انداز مت کرو- اپنی حقیقت کو جاننے کی کوش کرو- جاننے کی کوشش کرو کہ تمہارے گھر والے تمہارا نام نیرو سے بدل کر شینو رکھنے پر کیوں مجبور ہوئے— روہن سے ملو— اس کے دل میں تمہارے لئے اس کے جذبات اور عظیم پیار کو محسوس کرنے کی کوشش کرو-“

”یہ روہن کون ہے؟— میں نے یہ نام کہیں سنا ہے-“ آنندنے دماغ پر زور ڈالا- مگر روہن کا نام اور اس کی طرف سے لیا گیا نیرو کا نام اس کے ذہن سے اتر گیا تھا-

”پتہ نہیں بیٹا— اگر شینو کو بھی پتہ ہوتا تو وہ ضرور بتا دیتی- اس کو بھی معلوم نہیں ہے کچھ- کل رات کو بھاگتی ہوئی نیچے آئی تھی- بہت ڈری ہوئی تھی- کسی نے اس کے کمرے میں یہ خط رکھ دیا تھا- اسی سے اتنی پریشان ہوگئی بیچاری- پھر معاملہ بڑھانے سے پہلے ہی نمٹ لیں تو بہتر ہوتا ہے- لڑکی ذات ہے- بات باہر نکل گئی تو لوگ جانے کیسی کیسی باتیں کرنے لگتے ہیں-“ امی نے دکھ بھرے لہجے میں کہا-

”مگر یہ خط تو نیرو کے نام پر لکھا گیا ہے-“ کہتے ہوئے آنندپھر سے پہلی لائن سے پڑھنے لگا-

”یہی با ت تو ہماری سمجھ میں نہیں آرہی ہے بیٹا- دراصل پہلے شینو کا نام یہی تھا- مگر بہت چھوٹی تھی تبھی بدل دیا تھا یہ نام- جانے کس موئے کو یہ بات پتہ چل گئی- اور اب اس کو پریشان کرنے پر تلا ہوا ہے-“

”ہاں- میں نے بھی سنا تھا ایک بار کہ شینو کا نام پہلے نیرو تھا-“

امی سے باتیں کرتے ہوئے آنندخط پڑھتا جا رہا تھا- اچانک ایک جگہ رک کر اس کی آنکھیں سکڑگئیں اور کچھ سوچ کر وہ اچھل پڑا-

”اوہ-“

”کیا ہوا بیٹا؟-“ امی نے حیران ہوکر پوچھا-

” ایک منٹ-“ آنندباہر گیا اور جیپ سے کیس ڈائری نکال کر لایا- واپس آکر اس نے کچھ صفحات پلٹے اور کاغذ کا ایک ٹکڑا اس میں سے نکال کر دونوں کو میز پر ساتھ ساتھ رکھ دیا-

”یہ کیا ہے بیٹا؟-“ امی کو اس کی یہ حرکت سمجھ میں نہیں آرہی تھی-

”کچھ نہیں- آپ فکر نہ کریں- آپ کا مسئلہ تو سمجھیں کہ حل ہو ہی گیا- اب میں چلتا ہوں-“ کہہ کر آنندتیزی سے کھڑا ہوگیا-

”ٹھیک ہے بیٹا- اپنے چاچا سے اگر کوئی بات کرنی ہو تو فون کر لینا-”امی بھی ساتھ کھڑی ہوتے ہوئے بولیں-

”ایک بات کہوں چاچی – اگر برا نہ مانیں تو-“ آنندنے واپس پلٹتے ہوئے کہا-

”ہاں بولو نا بیٹا- کیا بات ہے؟-“امی نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا-

”ویسے تو– یہ بات گھر کے بڑوں کو ہی کرنی چاہئے– مگر مجھے شینو بہت پسند ہے- آپ اور چاچا اگر-“ آنندچپ ہوگیا-

آگے اس کی سمجھ میں ہی نہیں آرہا تھا کہ کیسے بات پوری کرے- بات سمجھ میں آتے ہی امی کا چہرہ کھل اٹھا-

”یہ تو اس کے لئے بڑی خوشی کی بات ہوگی بیٹا- میں اس کے ابا کے آتے ہی بات کرتی ہوں- وہ تمہارے گھر فون کردیں گے-“ امی خوشی سے پھولی نہیں سما رہی تھیں- انہوں نے اپنا ہاتھ آنندکے سر پر رکھ کر اسے دعا دی- آنندکا بھی یہی حال تھا- جانے کتنے دنوں کے بعد وہ کسی سے اپنے دل کی بات کہہ پایا تھا- جیسے ہی آنندباہر نکلا اس کو سامنے سے نیرو واپس آتی دکھائی دی- اس نے لاکھ کوشش کی اس کو روکنے کی- مگر اس کے منہ سے ہائے تک نہیں نکلا- نیرو سر جھکائے ہوئے ہی سائیڈ میں کھڑی ہوکر آنندکے راستہ چھوڑنے کا انتظار کرنے لگی- آنندسر کھجاتا ہوا اس کے سامنے سے ہٹ کر گاڑی میں جا بیٹھا- اور نیرو اس کی طرف دیکھے بغیر ہی اندر چلی گئی-

٭٭٭٭٭٭٭

”اوہ آپ ایک بار بات تو کرلیں اس سے- اتنا اچھا رشتہ خود چل کر آیا ہے- میں تو کہتی ہوں کہ بات بن جائے تو چٹ منگنی اور پٹ بیاہ کر دیں گے شینو کا- “ آنندکے نکلتے ہی امی نے نیرو کے ابا کو فون لگا لیا تھا-

”اچھا ٹھیک ہے- میں ابھی بات کرکے بتاتا ہوں- مگر ان کو بولوں کیا؟-“ ابا نے الجھتے ہوئے پوچھا-

”اب یہ بات بھی کیا میں ہے سمجھاﺅں— بول دینا کہ آنندکو پسند ہے- اور ہم بھی بہت خوش ہیں اس رشتے سے-“ امی نے بات پوری بھی نہیں کی تھی کہ نیرو دروازہ کھول کر اندر آگئی-

”کس کے رشتے کی بات ہو رہی ہے امی- “ نیرو اندر آتے ہوئے بولی-

”اچھا فون رکھتی ہوں- آپ بتا دینا مجھے بھی-“ امی نے یہ کہہ کر فون رکھ دیا-

”کیا ہوا امی آنندآیا تھا- کچھ پتہ چلا-“ نیرو نے امی کے فون رکھنے کے بعد پوچھا-

”آنندآیا تھا-“ امی نے منہ ٹیڑھا کرکے مذاق مذاق میں اس کی نقل اتاری- تم تو جیسے گھر والوں کے علاوہ کسی کو جانتی ہی نہیں ہو- اس سے بات نہیں کر سکتی تھیں کیا؟-“

”میں کیوں بولوں- مجھے اچھا نہیں لگتا یوں سرراہ کسی سے بات کرنا- بتاﺅ- آپ نے اس خط کی بات کی یا نہیں- اور مجھے کیوں بلایا ہے-“ نیرو نے جواب دیتے ہوئے سوال کیا-

”ہاں کہہ رہا تھا کہ اب میں سب سنبھال لوں گا- اور کچھ ہو نہ ہو ہمیں بہت اچھا دولہا مل گیا- اپنی گڑیا رانی کے لئے-“ امی نے نیرو کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لے کر گالوں کو چومتے ہوئے کہا-

یہ بات سن کر نیرو بھڑک گئی- ”یہ آپ کیا کہہ رہی ہیں امی—- میں نے کہہ دیا ہے کہ میں نے نہیں کرنی شادی وادی- آپ بار بار یہ ذکر نہ کیا کریں- میرا دم گھٹنے لگتا ہے-“

”اری- سن تو لے ایک بار کہ رشتہ کس کا ہے- اپنے آنندکا- کتناخوبصورت اور چھیل چھبیلا ہے- اور تھانیدار بھی ہے- تم موج کرو گی اس کے ساتھ-“ امی نے سمجھاتے ہوئے کہا-

”تھانیدار ہوگا اپنے گھر کا- مجھے نہیں کرنی کسی سے بھی شادی- دیکھ لینا- اگر بات آگے بڑھائی تو -“غصے سے بھری نیرو نے اپنی کتابیں اٹھائیں اور پیر پٹختی ہوئی واپس کالج جانے کے لئے باہر نکل گئی-

”یہ لڑکی بھی نا-“ امی نے بڑبڑاتے ہوئے ماتھے پر ہاتھ مارا ہی تھا کہ فون کی گھنٹی بج اٹھی- امی نے لپک کے جھٹ سے ریسیور اٹھایا- ”ہاں جی-“

”سچ میں آج کا دن تو بہت ہی مبارک ہے- وہ بھی بہت خوش ہوئے یہ بات سن کر- جھٹ سے تیار ہوگئے-“ ابا کی آواز آئی-

”اچھا-“ امی چہکتی ہوئی بولیں اور پھر اچانک نیرو کی بات یاد آتے ہی مایوس ہو گئیں-”مگر نیرو کا کیا کریں—- وہ تو کسی سے بھی شادی کرنے سے انکار کر رہی ہے-“

”کیوں کیا ہوا-“ ابا نے بے چین ہوکر پوچھا-

”کہہ رہی تھی اس کو شادی وادی نہیں کرنی- مجھ سے لڑ کر واپس کالج چلی گئی-“ امی کا چہرہ اتر گیا-

”اوہ- تم نے تو مجھے ڈرا ہی دیا تھا- ایسا تو ہوتا ہی ہے- لڑکی ہے آخر اور کیا شادی کی بات سن کر ناچنے لگ جائے گی—- لڑکیاں تو ایسا ہی کرتی ہیں- تم اس کی فکر مت کرو- وہ تو اس اتوار کو دیکھنے آنے کی بات کہہ رہے ہیں-“ ابا نے بات کو آگے بڑھایا-

”اوہ– مگر اتوار میں صرف تین ہی دن رہ گئے ہیں- “ امی سوچ کر بولیں-

” تو تمہیں کیا کرنا ہے— ان کی دیکھی بھالی تو ہے ہی- بس آجائیں گے اور پھول مٹھائی کی رسم کر جائیں گے— تم کسی بات کی فکر مت کرو- ٹھیک ہے نا-“

فون کٹنے کی آواز سن کر امی نے ریسیور رکھ دیا – وہ خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھیں-

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شہر دل کے باسی نفیسہ سعید قسط نمبر 1

حویلی کی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی۔ دالان میں بچھی دریوں پرلڑکیاں، بالیاں جمع …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے