سر ورق / یاداشتیں / ڈائجسٹوں کی الف لیلہ … سید انور فراز .. قسط نمبر 54

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ … سید انور فراز .. قسط نمبر 54

آنکھوں میں اُڑ رہی ہے لٹی محفلوں کی دُھول

عبرت سرائے دہر ہے اور ہم ہیں دوستو!

ڈائجسٹوں کی الف لیلہ

سید انور فراز

قسط نمبر 54

اسرار الحق مجاز کی ناگہانی موت کے بعد کہا گیا تھا کہ اردو شاعری میں ایک ”کیٹس“ پیدا ہوا تھا جسے بھیڑیے اٹھالے گئے،سراج منیر بھی ایک نابغہ ءروزگار شخصیت تھی جسے سیاسی بھیڑیے اٹھالے گئے۔

ایک نہایت مذہبی گھرانے میں جنم لینے والے سراج منیر نے مذہب ، فلسفہ ، منطق، ادب، تصوف اور آخر میں سیاست میں بھی نمایاں مقام حاصل کیا، مولانا متین ہاشمی پاکستان کے معتبر علماءمیں سے تھے، ظاہر ہے صاحب زادے کی ابتدائی تربیت ان کی ہی نگرانی میں ہوئی جس کی وجہ سے ابتدا ہی سے سراج منیر ادب میں بھی ترقی پسندی یا جدیدیت سے دور رہے، ادب میں انھوں نے پروفیسر محمد حسن عسکری اور سلیم احمد کی روایتی فکر کو آگے بڑھایا اور ترقی پسند تحریک یا ادب میں جدیدیت کے رجحانات کے خلاف علم بغاوت بلند کیا، وہ یکم جون 1951 ءکو سیدپور، مشرقی پاکستان میں پیدا ہوئے، سقوط ڈھاکہ کے بعد لاہور آگئے اور بہت جلد علمی ادبی حلقوں میں اپنا مقام بنالیا۔

پہلی بار ان کے نام کا چرچا اس وقت ہوا جب انھوں نے حلقہ ءارباب ذوق لاہور میں اپنا ایک طویل مقالہ پیش کیا اور اس کے بعد پھر پلٹ کر نہیں دیکھا، ہمیشہ ان کی معرکہ آرائی ترقی پسندی اور جدیدیت کے حامی دانش وروں سے رہی ، کراچی میں قیام کے دوران بھی وہ ایسا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے ، ہمیں یاد ہے انہی دنوں لاہور سے مبارک احمد کراچی آئے ہوئے تھے، ممکن ہے اب بہت سے لوگ مبارک احمد کا نام بھول گئے ہوں، وہ نثری نظم کے شاعر اور نقاد تھے، سارا شگفتہ کو ”سپر پوئٹ“ کا خطاب انھوں نے ہی دیا تھا، بائیں بازو کی فکر سے تعلق تھا، جب کراچی آتے تو ان کا پسندیدہ ٹھکانہ انور سن رائے کا ڈرائنگ روم ہوتا، بلاشبہ انور اور عذرا عباس کی کشادہ دلی قابل تعریف ہی نہیں حیرت انگیز تھی، ناظم آباد پولیس اسٹیشن کے عقب میں انور سن رائے کی رہائش تھی، ڈرائنگ روم کے علاوہ شاید دو کمرے مزید تھے، دونوں میاں بیوی کے علاوہ چار بچے ، دو بیٹیاں اور دو بیٹے یہاں رہتے تھے، ڈرائنگ روم ہمیشہ رات و دن ادبی شخصیات کی بیٹھک بنا رہتا تھا، اس ڈرائنگ روم میں ادب کی اس زمانے کی تمام ہی بڑی بڑی شخصیات اکثر آتی جاتی رہتی تھیں لیکن مستقل ڈیرہ ہم نے مبارک احمد ہی کا دیکھا۔

کراچی میں قیام کے دوران میں سراج منیر نے جب سنا کہ مبارک احمد انور سن رائے کے گھر مقیم ہیں تو ان کی ”رگِ مناظرہ“ پھڑکی ، کہنے لگے ”چلو آج مبارک احمد سے دو دو ہاتھ کرلیے جائیں“

ہم سراج کے ساتھ تقریباً شام پانچ بجے انور کے گھر پہنچ گئے، حسب معمول مبارک صاحب کی مجلس گرم تھی، ہمیں اس وقت یاد نہیں کہ اور کون کون وہاں موجود تھا، بہر حال ابتدائی رسمی گفتگو کے بعد اچانک سراج نے مبارک احمد کو مخاطب کرکے اعلان جنگ کردیا، انھوں نے کہا ”مبارک صاحب ! کیا آپ لینن سے آج تک کسی ایک سیکولر شخص کا نام بتاسکتے ہیں، اپنے علاوہ؟“

مبارک صاحب نے مسکراتے ہوئے سراج منیر کو دیکھا اور کہا ”میں تو اپنا ہی نام لوں گا“

سراج نے انگلی اٹھاکر تنبیہ کرتے ہوئے کہا ” میں پہلے ہی یہ شرط لگاچکا ہوں کہ اپنے علاوہ کسی ایک سیکولر شخصیت کا نام بتائیں؟“

مبارک صاحب نے گفتگو کو کسی اور سمت موڑنے کی بہت کوشش کی لیکن سراج نے انھیں قائل کرلیا کہ کوئی ایک آدمی بھی لینن سے آج تک سیکولر نظر نہیں آتا لہٰذا سیکولرازم کا فلسفہ یا نظریہ باطل ہے، تقریباً ایک گھنٹے جاری رہنے والی یہ بحث جب اختتام کو پہنچی تو سراج بڑے فاتحانہ انداز میں اٹھ کھڑے ہوئے اور ہمارے ساتھ روزنامہ نوائے وقت کے دفتر پہنچ گئے، خیال رہے کہ اس نشست میں مبارک احمد کے علاوہ انور سن رائے اور کچھ دوسرے لوگ بھی موجود تھے جو سب ہی سیکولر نظریے کے حامی تھے۔

ان دنوں ناظم آباد میں ہماری رات کی نشست ایک ڈھابے نما پٹھان کے روایتی ہوٹل میں ہوا کرتی تھی، ہمارے علاوہ خان آصف ، سہیل امتثال صدیقی ، آفاق فاروقی، حفیظ بریلوی اور بہت سے احباب یہاں جمع ہوتے تھے، سراج منیر کو بھی ایک بار اس تاریخی ڈھابے کی چائے پلائی گئی ، آفاق فاروقی ابتدا ہی سے سیکولر نظریات رکھتے تھے اور مکمل طور پر نہ سہی لیکن آدھے کامریڈ ضرور تھے اور شاید اس نظریاتی وابستگی کا سبب ان کے ایک بہت ہی قریبی اور عزیز ترین دوست کامران علی توحید تھے،دونوں کی دوستی الحمد اللہ آج تک قائم ہے لیکن اول دن سے دونوں کے درمیان جو جنگ و جدل کا بازار ہم نے گرم دیکھا وہ بھی آج تک جاری ہے جس کا مظاہرہ کبھی کبھی فیس بک پر بھی نظر آجاتا ہے۔

آفاق ہمیشہ سے منہ پھٹ اور دلیر بندہ رہا، منافقت سے ہمیشہ دور اور بروقت اور برمحل لگی لپٹی رکھے بغیر بات کرنے والا، اکثر اپنے استاد جیسے خالد خلد صاحب سے بھی احترام ملحوظ رکھتے ہوئے الجھ پڑتا، ڈھابے کی اس نشست میں وہ سراج منیر کو چھیڑ بیٹھے اور پھر جو ایک لمبی تقریر سراج نے شروع کی تو آج بھی اس کی یاد آفاق کے ذہن میں تازہ ہے، ہمارے ذہن سے یہ واقعہ محو ہوگیا تھا، آفاق ہی نے یاد دلایا۔

ہمارے لیے وہ زمانہ تقریباً بے روزگاری کا تھا، روزنامہ نوائے وقت میں ایسٹرولوجی کا ایک کالم ”آج کے امکانات“ لکھ رہے تھے، اس کا معاوضہ چالیس روپے فی کالم ملتا تھا، سراج نے ہم سے کہا کہ فلاں انشورنس کمپنی کا مالک میرے حلقہ ءاثر میں ہے، میں اس سے کہہ دیتا ہوں کہ آپ کو 2000 روپے ماہانہ دے دیا کرے، آپ اس کی ایسٹرولوجیکل رہنمائی کرتے رہیں، یہ کوئی ملازمت نہیں ہوگی، بس جب وہ آپ کو بلائے تو چلے جائیے گا لیکن ہم نے اس قسم کی جاب سے انکار کردیا اور صاف صاف کہہ دیا کہ ایسٹرولوجی میں ابھی ہم خود کو اس قابل نہیں سمجھتے کہ کسی کی رہنمائی کریں، سراج لندن چلے گئے اور پھر کافی عرصے تک ان کی کوئی خیر خبر نہیں ملی، ہمیں یہ معلوم تھا کہ جنرل ضیاءالحق انھیں بہت پسند کرتے تھے اور یہ بھی معلوم تھا کہ جنرل ضیاءالحق کو افغان وار میں شریک ہونے پر آمادہ کرنے والوں میں سراج منیر کا بھی بہت اہم کردار تھا، انھوں نے ایک طویل خط جنرل ضیاءالحق کو لکھا تھا اور اس جنگ میں حصہ لینے کے لیے دلائل دیے تھے، کہتے ہیں کہ اس کے بعد ہی ضیاءالحق صاحب سراج منیر کے مداح ہوگئے تھے، ہر سال ایوان صدر میں عید میلاد النبی کی تقریب ہوتی تھی جس میں سراج منیر کو لندن سے بلایا جاتا تھا،وہ اس پروگرام کو کنڈکٹ کیا کرتے تھے،1985 ءمیں جنرل ضیاءنے انھیں ادارئہ ثقافت اسلامیہ کا ڈائریکٹر بنادیا اور وہ دوبارہ لاہور آگئے، یہاں انھوں نے اس ادارے کے لیے بہت کام کیا اور اسلامی اور روایتی فکر کے حامل افراد کو اپنے ارد گرد اکٹھا کرلیا تھا، انھی کی کوششوں سے احمد جاوید کو اقبال اکیڈمی میں جاب ملی، مبین مرزا بھی اس ادارے میں ان کے ساتھ تھے، ایک اور صاحب بھی تھے جن کا نام یاد نہیں رہا، جب سرگزشت نکلا تو انھوں نے ہم سے رابطہ کیا اور سراج کا حوالہ دے کر ہم سے قریب ہوگئے،انھوں نے سرگزشت کے لیے لکھا بھی ، مبین مرزا بھی ہمارے پاس سراج منیر ہی کے حوالے سے آئے تھے اور ان سے بھی ہم نے سرگزشت کے لیے کام لیا، کئی معرکے کی چیزیں مبین مرزا نے لکھی تھیں۔

٭٭

ہمیں نہیں معلوم لاہو رمیں قیام کے دوران میں سراج منیر کب اور کس طرح نواز شریف کے انتہائی قریب ہوگئے اور پھر سیاست میں ان کی مصروفیات بڑھتی چلی گئیں،انھوں نے ایک شادی بھی مزید کرلی تھی جو ان کے لیے وبال جان ثابت ہوئی، اقبال اکیڈمی کے سابق ڈائریکٹر ڈاکٹر سہیل عمر سراج منیر کے بہنوئی ہیں، ایسٹرولوجی سے دلچسپی رکھنے والی ان کی بہن بشریٰ سے سہیل عمر کی شادی ہوئی تھی، تقریباً دو سال پہلے بشریٰ کا بھی انتقال ہوگیا، ہم جب بھی لاہور جاتے تو یہ ممکن نہیں تھا کہ سہیل عمر اور احمد جاوید سے ملاقات نہ ہو۔

دیگر علمی، ادبی اور سیاسی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ علم نجوم سے سراج منیر کا شغف بھی جاری رہا، 1990 ءمیں انھوں نے مرحوم غلام مصطفیٰ جتوئی سے سے کہا ”سائیں میں آپ کو پاکستان کا وزیراعظم دیکھ رہا ہوں“

جتوئی صاحب بہت حیران ہوئے اور حیرت سے سراج منیر کو دیکھنے لگے، وہ سمجھے کہ شاید سراج ان سے مذاق کر رہے ہیں لیکن 6 اگست 1990 ءکو صدر غلام اسحاق خان نے اسمبلیاں توڑ دیں اور محترمہ بے نظیر بھٹو کی حکومت ختم کردی، نگراں وزیراعلیٰ کے طور پر جناب غلام مصطفیٰ جتوئی کے نام کا اعلان ہوا، جتوئی صاحب نے اسلام آبادمیں وزیراعظم کا حلف اٹھانے کے بعد شاید پہلا کام یہی کیا ہوگا کہ سراج منیر کو فوری طور پر اسلام آباد بلالیا اور ایک اہم عہدے پر تعینات کردیا، یہ خبر ہمیں بھی ملی تو بہت خوشی ہوئی مگر اس سے بھی زیادہ خوشی اس وقت ہوئی جب ہمارے آفس کے ٹیلی فون آپریٹر نے ایک روز ہمیں بتایا کہ اسلام آباد سے کوئی سراج منیر آپ سے بات کرنا چاہتے ہیں۔

فون پر سراج کی چہکتی ہوئی آواز ابھری ”کیا ہورہا ہے منجم الملک؟“

ہم نے جواب دیا ” فی الحال نجوم کی کتاب بند ہے، ایک نئے ڈائجسٹ کی تیاری ہورہی ہے“ یاد رہے کہ جولائی میں ماہنامہ سرگزشت کا ڈکلیریشن مل چکا تھا اور ہماری مکمل توجہ سرگزشت کے کام پر مرکوز تھی۔

 ہم نے سراج کو بتایا کہ سرگزشت کس ٹائپ کا پرچا ہوگا تو وہ بہت خوش ہوئے، چند لمحے گفتگو ہوتی رہی اور پھر بولے ”آپ جو کر رہے ہیں ، ضرور کریں لیکن میں آپ کا مستقبل بہر حال علم نجوم ہی میں دیکھ رہا ہوں، ایک روز بہر حال آپ کو اسی طرف آنا پڑے گا“

ایمان داری کی بات یہ ہے کہ ہم نے نہ کبھی پہلے اور نہ اس وقت تک اس حوالے سے کچھ بھی سوچا تھا، چناں چہ ہم نے قہقہ لگایا اور سراج سے کہا ”علم نجوم کے ساتھ اور بھی سارے شوق دریا برد ہوگئے ہیں، اب تو صورت حال یہ ہے کہ بقول فیض تجھ سے بھی دل فریب ہیں غم روزگار کے۔“

سراج نے فوراً پوچھا ”آپ اس ادارے میں مطمئن ہیں؟ “

ہم نے جواب دیا ”مطمئن تو نہیں تھے لیکن اب ایک نئے پرچے کے اجرا سے کچھ نئی امیدیں وابستہ ہوگئی ہیں“

سراج نے کہا” زیادہ امیدیں وابستہ نہ کریں ورنہ بعد میں مایوسی ہوگی، اگر آپ مطمئن نہیں ہیں تو بتائیں ، اب آپ کا بھائی اس پوزیشن میں ہے کہ آپ کے لیے کچھ بھی کرسکتا ہے“

ہم نے جواب دیا ” نہیں، میں مطمئن ہوں اور یہ نیا پرچا سرگزشت میرے لیے بہت اہم ہے“

سراج منیر سے یہ ہماری آخری بات چیت تھی، 25 ستمبر 1990 ءکو خبر ملی کہ انھوں نے دنیا ہی چھوڑ دی، رات تھکے ہارے ہم گھر پہنچے تو ہماری بیگم نے ہمیں اطلاع دی کہ ابھی ٹی وی پر آپ کے دوست سراج منیر کے انتقال کی خبر چل رہی تھی، ہم سناٹے میں آگئے، بھوک اڑگئی، معمول کے مطابق جب ہم گھر میں داخل ہوتے ہیں تو بیوی فوراً کچن کا رُخ کرتی ہیں، ہم ٹی وی کھول کر بیٹھ گئے کہ دوبارہ شاید وہ خبر پھر سامنے آجائے اور ممکن ہے ہماری بیوی نے کچھ غلط سنا ہو مگر ایک انہونی ہوچکی تھی، بہت ہی کم عمری میں ایک ایسا انسان اس دنیا سے رخصت ہوگیا تھا جس سے مستقبل میں بڑے اہم کارناموں کی توقع تھی، انا للہ وانا الیہ راجعون۔حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا۔

سرگزشت کی بے پناہ مصروفیات نے تقریباً دو سال تک ہمیں کسی اور طرف دیکھنے کی مہلت ہی نہ دی لیکن مئی 1992 ءمیں ہم لاہور گئے تو احمد جاوید اور ڈاکٹر سہیل عمر سے بھی ملاقات ہوئی، پھر سراج منیر کے حوالے سے بہت تفصیل کے ساتھ گفتگو رہی ، بہت سے دیگر افراد کے علاوہ سابق سفیر امریکا حسین حقانی بھی ان لوگوں میں شامل ہیں جن کی تربیت سراج منیر کی زیر نگرانی ہوئی تھی لیکن ہمیں اس وقت بہت افسوس ہوا جب ایک بار ہماری ملاقات ایسٹرولوجی کے حوالے سے حسین حقانی سے ہوئی۔

سال ہمیں یاد نہیں لیکن یہ ان دنوں کی بات ہے جب حسین حقانی کی شادی ناکام ہوچکی تھی جو بے نظیر صاحبہ کی مقرب خاص ناہید صاحبہ کی بہن سے ہوئی تھی اور ان دنوں وہ راندئہ درگاہ تھے۔

ہمارے بہت پیارے بلکہ دلارے دوست طہارت علی خان نے ایک روز ہمیں فون کیا اور پوچھا ”کیا آپ کسی وقت ہمارے دفتر آسکتے ہیں؟“

”خیریت! کیا مسئلہ درپیش ہے؟“

انھوں نے بتایا کہ آپ کو ایک صاحب سے ملوانا ہے، ہم نے نام پوچھا تو انھوں نے کہا ”حسین حقانی“

ہمیں فوری دلچسپی پیدا ہوگئی اور ہم نے وعدہ کرلیا کہ ہم آرہے ہیں، مقررہ وقت پر ہم ان کے آفس پہنچ گئے اور چند ہی لمحے بعد حسین حقانی بھی آگئے، رسمی سلام دعا کے بعد اس سے پہلے کہ ان کے زائچے پر گفتگو ہوتی ہم نے ان سے پوچھا کہ آپ نے ایک زمانے میں سراج منیر صاحب کے ساتھ بھی کام کیا ہے؟ انھوں نے اثبات میں سر ہلایا مگر سراج کا نام سن کر ان کے انداز میں کوئی گرم جوشی یا خوشی ہم نے محسوس نہیں کی، ایسا نہیں ہے کہ انھوں نے سراج کے حوالے سے کوئی منفی بات کی ہو لیکن بہر حال انداز بڑا روکھا پھیکا سا تھا، چناں چہ ہم نے بھی اس موضوع پر ان سے مزید بات نہیں کی اور پھر گفتگو علم نجوم تک محدود رہی ، اس کے برعکس اور بھی ایسے لوگوں سے جب ہماری ملاقات ہوئی جو سراج منیر کے ساتھ کام کرچکے تھے اور سراج کے علمی مرتبے کے ساتھ اعلیٰ اخلاق و خلوص کے بھی قائل تھے، جن لوگوں کے ساتھ سراج کے نظریاتی یا سیاسی اختلافات تھے ، ان کی بات اور ہے، باقی کبھی کسی سے ہم نے سراج منیر کی برائی نہیں سنی۔

مئی 1992 ءمیں سراج کے انتقال کے بعد جب ہم لاہور گئے تو سرگزشت تیزی سے مقبولیت کی طرف بڑھ رہا تھا اور عام قارئین کے علاوہ اہل علم و ادب بھی سرگزشت میں دلچسپی لے رہے تھے چناں چہ ہم نے مناسب سمجھا کہ سرگزشت کے کچھ شمارے احمد جاوید کے لیے لیتے جائیں، وہ یقیناً اس پرچے کو دیکھ کر خوش ہوں گے، لاہور پہنچنے کے بعد ہم ان سے ملاقات کے لیے اقبال اکیڈمی کے آفس پہنچے ، وہ حسب معمول نہایت گرم جوشی اور محبت سے ملے اور حسب معمول ہی ہم نے بیٹھ کر پہلے کراچی اور کراچی کے احباب پر گفتگو شروع کی ، جاوید کا معمول ہے کہ وہ تمام پرانے احباب کے بارے میں فرداً فرداً رپورٹ لیتے ہیں ، خاص طور سے نیاز صاحب اور منظر امام کا انھیں بہت خیال رہتا ہے اور منظر امام کو چوں کہ ہمارے ادارے ہی سے وابستہ تھے اور ہم سے روزانہ کا خاص تعلق تھا، آخر میں ہم نے سرگزشت کے شمارے ان کے سامنے رکھے، انھیں بتایا کہ یہ ایک جداگانہ طرز کا ڈائجسٹ ہے، انھوں نے ٹائٹل پر نظر ڈالی اور برا سا منہ بنایا پھر ایک موٹا بلیک مارکر دراز میں سے نکال کر ٹائٹل پر موجود حسینہ کے چہرے کو سیاہ کرنا شروع کردیا۔

ہم چوں کہ تقریباً 1971 ءسے احمد جاوید سے واقف رہے ہیں اور انھیں ہر رنگ میں دیکھا ہے، ہمیں معلوم تھا کہ وہ تصوف کی طرف اپنے فطری جھکاو ¿ کی وجہ سے باقاعدہ طور پر نقش بندیہ سلسلے میں بیعت ہوچکے تھے اور ان دنوں عبادات و ریاضت کا بہت زور تھا، گفتگو بھی کم کم ہی کرتے، عام لوگوں سے ملنا جلنا بھی بہت محدود کردیا تھا، ہم نے انھیں چھیڑنے کے لیے کہا ”وجود زن سے ہے تصویرِ کائنات میں رنگ“

جاوید مسکرائے اور بولے ”میں وجود زن کا نہیں ، نمود زن کا مخالف ہوں“ ہم خاموش ہوگئے، ان سے کسی بحث میں ان دنوں الجھنا نہیں چاہتے تھے۔

بہر حال تمام پرچوں کے ٹائٹل بلیک کرکے انھوں نے پرچے اپنے پاس رکھ لیے تھے، بعد میں انھیں پڑھا یا نہیں ، ہمیں نہیں معلوم، امید یہی ہے کہ نہیں پڑھا ہوگا، خاصا طویل عرصہ وہ ایک عالم استغراق میں رہے، کراچی آتے اور ہم ملاقات کے لیے پہنچتے تو ان کی یہ کیفیت محسوس کرتے تھے، ہمیں اپنے سلسلے میں بیعت کی دعوت بھی دیتے رہتے تھے اور نماز کی پابندی کی تاکید کرتے۔(جاری ہے)

نابغہ ءروزگار اورسیاسی بھیڑیے۔۔۔ مبارک احمد۔۔۔ انور سن رائے اور عذرا عباس کی کشادہ دلی۔۔۔ ”رگِ مناظرہ“۔۔۔تاریخی ڈھابے کی چائے۔۔۔ آفاق فاروقی اور کامران علی توحید۔۔۔ ضیاءالحق صاحب سراج منیر کے مداح۔۔۔۔ ادارئہ ثقافت اسلامیہ کا ڈائریکٹر۔۔۔۔ سہیل عمر اور احمد جاوید۔۔۔۔ منجم الملک۔۔۔۔ دلارے دوست طہارت علی خان۔۔۔۔”میں وجود زن کا نہیں ، نمود زن کا مخالف ہوں“

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر  اعجاز احمد نواب پندرھویں قسط

اردو کہانی کا سفر  اعجاز احمد نواب پندرھویں قسط شروع سے میری عادت ہے، میں …

2 تبصرے

  1. Avatar
    سلیم انور عباسی

    بہت خوب وقت کیسے برق رفتار سے گزر گیا۔۔۔۔خوشی ہوئی آپ کی الف لیلیٰ54 برس کی ہوئی۔اسے ہم اثاثہ کہیں تو بے جا نہ ہوگا۔۔۔باقی یادِ ماضی عذاب نہیں اک سرور ہے کہ جانے والے بھی آپ کی تحریر میں حیات ہیں۔۔۔اللہ سے دعا ہے تاعمر یہ ہزار داستان چلتی رہے ہر ہزار کے پچاس ہزار رنگوں کے ساتھ۔۔۔اس توجہ دل جمعی محبت آمیز قصے پر مبارک باد

  2. Avatar

    یادش بخیر پٹھان کے اس ڈھابے کا نام شنبے ہوٹل تھا اور اب اسکا نام منؤر خان بنگش ہوٹل ہے جو کہ ناظم آپاد سے حبیب بینک جاتے ہوئے مسرت سینما سے ذرا پہےلے اور نادریہ ہوٹل کے تتقریباؐ سامنے واقع تھا اور میں بی کم سنی کے اوجود وہاں برپا ہونے والی علمی و نظری ہنگامہ آرائیوں اورمحافل میں گاہے بگاہے شریک ہوکے چپکا بیٹھے رہ کر یہہ سب مناظر دیکھا کیا ہوں ،، ان محافل میں ایک شب خیز صاحب بھی آتے تھے اور کبھی کبھی الیاس شاکر صاحب بھی ۔۔۔ ایک اطلاع فراز صاحب کو یہ بھی دیدوں کہ ناظم آباد سٹاپ کے ماموں بک اسٹال والے ماموں کے بڑے بیٹے عبدالغفار کا ایک ماہ پہلے انتقال ہوگیا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے