سر ورق / ناول / خون ریز امجد جاوید قسط نمبر9

خون ریز امجد جاوید قسط نمبر9

خون ریز

امجد جاوید

قسط نمبر9

” میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ انہوں نے کوئی بات ہی نہیں کی۔ بس وہ آئے اور انہیں مارنا شروع کردیا۔“ اس نے بتایا

” ٹھیک ہے، اگر آپ بہتر محسوس کرتی ہیں تو گھر جائیں اور پروین کی آخری رسومات کا بندوبست کریں۔ میں دیکھتا ہوں وہ قاتل کون ہے؟“ میںنے اسے دلاسادیا۔ اس پر وہ خالی خالی نظروں سے میری طرف دیکھتی رہی اور سرجھکا لیا۔ میں اب وہاں بیٹھ نہیں سکتا تھا۔ میں اٹھا اور لڑکے کو ایک طرف لے گیا ۔اپنی جیب میں سے کافی ساری روپے نکال کر اسے دیے تاکہ وہ پروین کی آخری رسومات اچھی طرح سے کر سکے۔

میں آصف کے پاس چلا گیا۔ وہ ابھی تک بے ہوش تھا۔اس کے رشتے دار اس کے قریب تھے ، کچھ باہر کھرے تھے ۔ ڈاکٹر نے مجھے بتایا ابھی وہ خطرے سے باہر نہیں ہے۔ میں نے ڈاکٹر کا نمبر لیا تاکہ اس سے رابطے میں رہ سکوں اور ہسپتال سے نکلتا چلا گیا۔

 مجھے کچھ بھی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ یہ کون لوگ ہو سکتے ہیں۔ میرے دماغ میں کوئی ایسا اشارہ بھی نہیں تھا، جس سے میں سمجھ سکتا۔ میں تو آصف اور پروین کو بھی اتنا نہیں جانتا تھا۔ میرے خیال میں اگر کوئی سراغ مل سکتا تھا تو پیجے لوہار ہی سے مل سکتا تھا ۔ میرا دل کہہ رہا تھا وہ اس واقعہ میں کہیں نہ کہیں ضرور موجود ہے ۔

 میں واپس بنگلے پر آگیا۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آرہاتھا کہ میں قاتلوں کو تلاش کرنے کے لئے کیا کرو ں؟کس سے بات کروں؟ کس سے کہوں؟ کسی پر شک ہوتا تبھی ممکن تھا کہ میں اسی ہی سے تلاش کا آغاز کرتا۔ میرا ارادہ تھا کہ میں پیجے لوہار کو بلا کر اس سے بات کروں۔ لیکن میں جانتا تھا کہ وہ مجھے کچھ نہیں بتائے گا۔ میںاس سے کچھ اگلوا نہیں سکتا۔ کیونکہ وہ سیدھے رستے سے مجھے کبھی بات نہیں بتائے گا۔ دوسری صورت میں معاملہ خراب بھی ہو سکتا تھا ۔ میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ میرا سیل فون بجنے لگا اسکرین پر انور کے نمبر جگمگا رہے تھے۔ میں نے فون کال ریسیو کی تو اس نے کہا

 ”یار، ہم تمہاری طرف آرہے ہیں۔“

” میری طرف، کیوں؟ “

” وہیں سے واپس لاہور چلے جائیں گے ۔“ اس نے کہا

”ارے یار اتنی جلدی ، اتنی دور آئے ہو تو چند دن رہو ۔“ میںنے اس سے کہا

”صحرا کا ہمارا شوق تو ہوگیا پورا ۔تم بھی بزی ہو ۔ اچھا یار باقی باتیں وہیں تیرے پاس آ کے کرتے ہیں۔“

” ٹھیک ہے پھر آ جاﺅ ۔“ میں نے کہا اور فون بند کر دیا۔

میرا دماغ اس وقت پروین کے قتل کی طرف لگا ہوا تھا۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کون لوگ ہو سکتے تھے ۔اب جب کہ مجھے سمجھ نہیں آ رہی تھی اور اس وقت تک مجھے سمجھ بھی نہیں آ سکتی تھی جب تک میں اس کے بارے میں کسی سے بات نہ کرتا۔ سب سے پہلے میرے ذہن میں جو نام آیا وہ آصف کا تھا۔ وہی مجھے بتا سکتا تھا کہ وہ کون لوگ تھے۔ وہ بے ہوشی کے عالم میں تھا۔میں اس وقت تک کچھ نہیں سوچ سکتا تھا ، جب تک وہ مجھے کوئی بات نہ بتا دیتا ۔

میں اس وقت پیجے لوہار کے بارے میں سوچ رہا تھا۔ انہی لمحات میں عارف کا فون آگیا۔ کچھ تمہیدی باتوں کے بعد اس نے کہا

” مجھے کچھ مزید وقت یہاں روہی میں رہنا ہوگا ۔“

” وہ کیوں ؟“ میں نے پوچھا

” ہمارے کچھ ماہرین آ رہے ہیں ۔تمہیں تھوڑی سی تکلیف دوں گا ۔“ اس نے ہچکچاتے ہوئے کہا

” بولویار ، اس طرح کیوں کہہ رہے ہو ؟“ میںنے تیزی سے کہا تو وہ بولا

” وہ ماہرین تو ہیں لیکن انہیں اس طرح لانا ہے جیسے وہ بھی صحرا دیکھنا چاہتے ہیں ۔پتہ نہیں لگنا چاہئے ۔“ ا س نے کہا تو میں نے اعتماد سے کہا

” میں سمجھ گیا تم بے فکر ہو جاﺅ۔میرا رابطہ کروا دو ۔ باقی میں دیکھ لوں گا ۔“

”چلو ٹھیک ہے ۔ وہ تمہارے دوست چلے گئے یا ….“ اس نے ہنستے ہوئے پوچھا

” او نہیں یار ، وہ حویلی میں ہیں ۔ آج چلے جائیں گے ، مجھے یہاں شہر آ نا پڑا۔“میںنے اسے بتایا

” کیوں ؟“ اس نے پوچھاتو میں نے آصف اور پروین کے بارے میں اسے بتایا۔ اس نے میری ساری بات بڑے تحمل سے سنی اور پھر کہا

” تم اسے مجھ پر چھوڑ دو، میں اس کے بارے میں پوری تفصیلات معلوم کرلوں گا۔“

” تم کیسے کرو گے؟“ میں نے بے ساختہ پوچھا

” یا ر، اب یہی تومیرا کام ہے۔ میں کرلوں گا، تم پریشان نہ ہو۔“

” چلو ٹھیک ہے ،میں نہیں سوچتا اس کے بارے میں۔ مگر یہ یاد رہے وہ مظلوم سے لوگ …. “ میں نے کہنا چاہا تو وہ بولا

” جب سارا معاملہ سامنے آگیا تب ساری بات کا پتہ چل جائے گا۔ پولیس تو کیا ،کوئی بھی ہوگا، وہ ہم سے بچ نہیں سکے گا۔اب یہ میرے ذمے رہا ۔ میرے مہمان شام تک پہنچ جائیںگے ۔“ اس نے کہا اور پھر فون بند کر دیا ۔

دوپہر کے وقت میں بنگلے ہی میں تھا جب انور سب کو ساتھ لے کر آگیا ۔ ہم لاﺅنج بیٹھے تو میں نے اس سے پوچھا

” یار اتنی جلدی کیوں جا رہے ہو؟“

 تبھی آنٹی نے تیزی سے کہا

 ”ہمارا تو شوق پورا ہو گیا صحرا دیکھنے کا۔ میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی وہاں اس قدر خوفناک منظر دیکھنے کو ملے گا۔“

آنٹی کے یوں کہنے ذہن میں خیال آیا ۔ شکر ہے انہیں کچھ بھی پتہ نہیں یا ان کا دھیان اس طرف نہیں گیا کہ صحرا میں ایسا کیا تھا ۔ وہ یہ نہیں سوچ رہے تھے کہ عارف وغیرہ وہاں پر کیوں ہیں ۔وہ ایسا سوچیں ہی نہ ، اور ان کا دھیان پوری طرح اس معاملے سے ہٹانے کے لئے میںنے کہا

” ایسا خوفناک تو کچھ بھی نہیں ہے ۔یہ تو وہاں پر معمول کی باتیں ہیں۔“

” معمول کی باتیں۔“ آنتی نے حیرت سے کہا

” دیکھیں جہاں پر ویرانی ہوتی ہے وہاں پر ایساکچھ نہ کچھ دیکھنے کو ملتا ہی رہتا ہے۔ مگر اس سے ڈرنے کی کیا ضرورت ہے۔ اس مخلوق نے ہمارا کونسا نقصان کیا ہے؟“ میں نے سکون سے کہا

” وہاں کوئی مخلوق تھی؟“ آنٹی نے خوف سے ادھر اُدھر دیکھتے ہوئے خوفزدہ لہجے میں کہا

” آ نٹی، ایسی مخلوق تو وہاں دکھائی دیتی رہتی ہے لیکن اس مخلوق کو پتہ ہے کہ وہاں روہی میں کون رہتا ہے۔ کون مہمان ہیں، وہ کچھ نہیں کہتے۔ وہ تو آپ سب کی وجہ سے ذرا شغل لگا رہے تھے۔ ظاہر ہے انہیں بھی تو شرارت سوجھی ہو گی نا۔“ میںنے بھی مزہ لیتے ہوئے سنجیدگی سے کہا تو مزید خوفزدہ ہو گئی۔ اس نے اردگرد دیکھتے ہوئے پوچھا

” علی کہیں وہ ہمارے ساتھ یہاں تو نہیں آ گئے ہوں گے خیال کرنا؟“

 اس پر مجھے بہت زیادہ ہنسی آئی لیکن میں خود پر قابو پا کر مسکراتے ہوئے بولا

” ارے نہیں، وہ مخلوق وہاں سے نہیں نکلتی۔ اپنا گھر کون چھوڑتا ہے ۔ہم یہاں رہتے ہیں، اس لئے ہمیں کچھ نہیں کہتے۔کوئی نیا جائے تو اس کے ساتھ تھوڑا بہت شغل مذاق کر لیتے ہیں ۔“

 ” میں تو یہاں سے جلدی نکلوں گی ۔“ آنٹی نے خوف زدہ لہجے میں کہاتو صوفے پر ایک طرف بیٹھی ہوئی ماہ نور نے میری طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

” کیا ثبوت ہے کہ وہاں پر ایسی مخلوق ہوتی ہے؟“

 ”تم نے شاید صحرا کے بارے میں ایسا نہیں سنا ہوگا لیکن وہاں پر بہت ساری ایسی کہانیاں موجود ہیں۔ رات کے وقت روشنی ادھر ادھر پھرتی رہتی ہیں۔ دراصل یہ روشنی ہی ان دیکھی مخلوق ہوتی ہے ۔ ان میں اچھی مخلوق بھی ہوتی ہے اور بری بھی۔“ میں نے یونہی ایک بات گھڑ دی

” کیسے پتہ چلتا ہے؟اچھی بری کا ؟“

” جو نقصان پہنچا ہے وہ بری ،جو ہمارا فائدہ کر دے وہ اچھی۔“میں نے مسکراتے ہوئے کہا

” علی تم مذاق تو نہیں کر رہے ہو؟“ ماہ نور نے مسکراتے ہوئے پوچھا

 ”دیکھو اگر تمہیں یہ مذاق لگتا ہے تو چند دن صحرا میں رہ کر دیکھو ۔تمہیں سب سمجھ آجائے گا۔“ میں اپنی بات پر ڈٹ گیا تو ایک دم سے فیصلہ کن لہجے میں بولی

” ٹھیک ہے میں یہیں رہوں گی بلکہ صحرا میں ضرور وقت گزاروں گی۔“

” یہ تم کیا کہہ رہی ہو ماہ نور ، ہوش میں تو ہو ؟ اگر کچھ ایسا ویسا ہو گیا تو ؟“ آنٹی نے تیزی سے احتجاج زدہ لہجے میں پوچھا

” کوئی بات نہیں مجھے دیکھنا ہے، وہاں پر کیا ہوتا ہے۔ میں دو چار دن بعد آ جاو ¿ں گی۔“ وہ سکون سے بولی

” نہیں نہیں میں تمہیں رکنے نہیں دوں گی۔“ آ نٹی نے کہا

” جب میں ان کو نہیں چھیڑوں گی تو مجھے نقصان نہیں پہنچائیں گے۔“ اس نے سنجیدگی سے کہا

” ماہ نور اگر یہاں پر رہنا چاہتی ہے تو رہنے دیں۔“ انور نے تشویش بھرے لہجے میں کہا

” اپنا شوق پورا کرکے آجائے گی۔“ رضا نے کاندھے اچکاتے ہوئے کہا

” بھئی ہم تو جائیں گے ابھی،لیکن ماہ نور ہم تمہارے اس فیصلے کے ذرا بھی ذمے دار نہیںہیں ۔“ آنٹی نے کہا تو باقی مہمان بھی کچھ نہ کچھ کہنے لگے۔

” آپ لوگوں کی مرضی، میں تو نہیں کہہ رہا کہ آپ جاو ¿ ۔ ویسے چائے تو پئیںگے یا نہیں ۔“میں نے ہنستے ہوئے پوچھاتو انور نے میری بات سمجھتے ہوئے کہا

” وہ تو ہم پئیںگے۔“

 یوں ہی مذاق کرتے رہے اور گپ شپ چلتی رہی ہے۔ یہاں تک کہ میرے ملازموں نے لان میں چائے لگا دینے کا بتایا۔ ہم لاﺅنج سے نکل کر باہر لان میں آ گئے ۔چائے پینے کے دوران میں نے انہیں یہ باور کرا دیا کہ میں جو کچھ کہہ رہا تھا یہ مذاق ہی تھا لیکن یہ حقیقت ہے کہ صحرا میں ایسی چیز نظر آتی رہتی ہیں ۔ بھوت پریت کی الجھی باتیں کر کے ان کے ذہن سے یہ بات نکال دینا چاہتا تھا کہ وہاں کچھ دوسرا بھی ممکن ہے ۔وہیں بیٹھے باتیں کرتے ہوئے سورج مغرب میں ڈوب گیا ۔تبھی وہ سب جانے کو تیار ہو گئے ۔ لیکن ماہ نور کھڑی رہی۔

 ”تم واقعی نہیں جاو گی؟“ آنٹی نے پوچھا

” میں دوبارہ صحرا میں ضرور جاو ¿ں گی۔“ اس نے سنجیدگی سے پختہ لہجے میں کہا

 ”تمہاری مرضی۔“ آنٹی نے کاندھے اچکاتے ہوئے اجنبی انداز میں کہا

 میں ماہ نور سے نہیں کہہ سکتا کہ تم چلی جاو ¿۔ ممکن ہے اس کے دماغ میں کوئی اور بات ہو۔ اگر وہ واقعی صحرا میں جانا چاہتی تھی تو یہ سوچنے والی بات نہیں تھی۔ اگر وہ کسی دوسرے مقصد کے لئے وہاں ٹھہر نا چاہتی تھی تو یہ سوچنے والی بات تھی ۔ وہ سب چلے گئے۔ ماہ نور رہ گئی۔ ہم دوبارہ لاﺅنج میں آکر بیٹھ گئے۔ماہ نورکے ٹھہر جانے سے مجھے خوشگواریت کا احساس ہو رہا تھا ۔وہ تھی بھی ایک خوشگوار حسن ۔میں نے اس کے سراپے کو دیکھتے ہوئے میں نے یوں ہی بات بڑھائی ۔

 ”ماہ نور تم نے اپنے بارے میں نہیں بتایا۔“

 وہ چند لمحے میری طرف دیکھتی رہی پھر وہ اپنے بارے میں بتایا۔

ماہ نور اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ اس کاباپ ڈی ایس پی کے عہدے سے ریٹائر ہو چکا تھا۔ وہ ایک سخت گیر آفیسر تھا لیکن باپ نے بیٹی کے معاملے میں بہت ہی نرم دل تھا۔ اس بیٹی کے علاوہ اس کی کوئی اولاد نہ ہوئی تھی۔ اس نے اپنی ساری محبتیں اپنی بیٹی پر نچھاور کردی تھیں۔ شروع شروع میں ماہ نور کی پرورش اور تربیت لڑکوں کی طرح ہوئی لیکن جلد ہی اس کی ماں کے بھرپور احتجاج پر اسے لڑکے کی بجائے لڑکی کی طرح تربیت اور پرورش کی جانے لگی۔ وہ مہنگے سے مہنگے اسکول میں پڑھتی رہی اور اس کی تربیت بڑے اچھے انداز میں ہوتی رہی۔ اس کی والدہ ایک سکول میں ہیڈ ماسٹرس تھی ۔ دونوں میاں بیوی کی آپس میں بنتی نہیں تھی۔ باپ اپنی محکمانہ پوسٹنگ کی وجہ سے مختلف شہروں میں رہا جبکہ اس کی ماں نے اسکول ملازمت میں بہت زیادہ طویل وقت گزارا۔ اب وہ بھی ریٹائر ہو چکی تھی۔ ماہ نور نے اپنی زندگی کے فیصلے خود کیے تھے۔ اسے بچپن سے یہ احساس تھا کہ وہ بہت خوبصورت ہے۔ سو اس نے نہ صرف خود کو بچا کر اپنے تحفظ کے لئے بہت کچھ کیا ۔ باپ نے جائز اور ناجائز آمدنی سے اپنی جائیداد بنائی تھی، وہ ساری کی ساری صرف ماہ نورہی کی تھی۔ ماہ نور کو کسی طرح کامعاشی مسئلہ نہیں تھا ۔وہ خود کو ایسے انداز میں رکھنا چاہتی تھی کہ لوگ اسے جانیں اور اس کے کام سے پہچانیں۔ کچھ عرصہ پہلے ہی اس نے اپنی تعلیم مکمل کی تھی۔ اب وہ ایک تنظیم کے ساتھ مل کر عملی زندگی میں آنا چاہتی تھی اور ایک بھرپور زندگی گزارنے کی خواہش رکھتی تھی۔

 ماہ نور نے تعارف کروایا لیکن اس نے پوری طرح نہیں بتایا۔ مجھے لگا جیسے وہ بہت کچھ ان کہا چھوڑ گئی ہے ۔ میں اس سے بڑی باتیں کرنا چاہتا تھا ۔ خوبصورت لڑکی جب سامنے ہو تو بہت سارے خیالات تتر بتر ہو جاتے ہیں۔ مجھے اطمینان تھا کہ وہ ابھی یہیں ہے ۔باتیں ہو تی رہیں گی ۔ ہم باتیں کر ہی رہے تھے کہ میرا فون بج اٹھا۔ دوسری طرف آصف کا وہی کزن تھا جس نے مجھے اس کے بارے میں اطلاع دی تھی

”ہاں بولو۔“ میںنے کہا

” سر آصف کو ہوش آگیا ہے۔“ اس نے لرزتی ہوئی آ واز میں کہا تو میںنے تیزی سے پوچھا

” یہ تو بہت اچھا ہو۔ا اب طبیعت کیسی ہے اس کی؟“ مجھے ایک انجانی سی خوشی ہوئی۔

” صرف آپ کو یاد کر رہا ہے ۔“اس نے کہا

” ٹھیک ہے میں آتا ہوں۔“ یہ کہہ کر میں نے فون بند کر دیا تبھی میں نے ماہ نور سے معذرت خواہانہ لہجے میں کہا

” مجھے ایک ضروری کام سے جانا ہے۔میں کچھ دیر میں ….“

میں نے کہنا چاہا تو وہ میری بات کاٹتے ہوئے بولی

”اگر کوئی مسئلہ نہ ہو تو مجھے بھی اپنے ساتھ لے جائیں۔ میں یہاں کیا کروں گی ۔“

 ”دراصل میںاسپتال جا رہا ہوں ایک مریض کے لئے۔“ میں نے اسے بتایا

” کوئی بات نہیں، مجھے بھی ساتھ لے جائیں۔

” چلو ٹھیک ہے، چلتے ہیں۔“ میںنے کہا اور اٹھ گیا ۔ کچھ ہی دیر میں ہم ہسپتال کے لیے چل نکلے

 تقریباًدس منٹ بعد میں آصف کے پاس تھا۔ اسے ہو ش آ چکا تھا ۔مجھے دیکھتے ہی وہ کسمسا کر اٹھنے لگا لیکن میں نے اسے لیٹے رہنے دیا۔ میں اس کے پاس بیٹھ گیا تو وہ میری طرف دیکھ کر رو دینے والے انداز میں بولا

” میرا تو سب کچھ لُٹ گیا“

 ”مجھے یہ بتاو ¿ ہوا کیا تھا؟“ میں نے اس سے پوچھا

 ”میں پروین کے پاس یہی کہنے کے لئے آیا تھا کہ اب وہ خوفزدہ نہ ہو۔ بہت جلد ہماری شادی ہو جائے گی۔ میں نے اپنے والدین کو منا لیا تھا۔ یہی بات کرنے میں ان کے گھر گیا تھا تاکہ اس کی امی کو بھی بتا دوں ۔ لیکن مجھے نہیں پتہ تھا کہ حملہ آور میرے انتظار میں تھے۔“

 ”ہوا کیا تھا،یہ بتاو ¿؟“ میںنے پوچھا

 ”میں ، پروین اور اس کی امی باتیں کر رہے تھے۔ اچانک دروازہ کھلا اور پانچ چھ آدمی اندر آگئے۔ ان میں سے ایک نے مجھے پکڑ لیا اور مارنا شروع کردیا۔ پروین چھڑانے کے لئے آگے بڑھی۔ ایک نے اس کو اٹھا کر دیوار پر دے مارا شاید اس کے سر پر کچھ ایسی چوٹ لگی کہ وہ بے ہوش ہو گئی ۔ وہ پھر اٹھی ہی نہیں ۔ انہوں نے اس کی امی کو بھی مارا۔مجھے بھی مارتے رہے ۔ جیسے ہی انہیں پتہ چلا کہ پروین مر چکی ہے۔ وہ فورا مڑے اور جس طرح آئے تھے اسی طرح چلے گئے ۔پتا نہیں ان کا قتل کا ارادہ تھا یا نہیں؟ یا صرف مجھے مار نے آئے تھے ۔ میں کچھ بھی نہیں کہہ سکتا۔“ اس نے ٹھہر ٹھہر کر تفصیل بتا دی تو میںنے پوچھا

” تمہیں پتہ ہے وہ کون لوگ تھے؟“

” میں نے پہلے انہیں کبھی نہیں دیکھا تھا۔“ اس نے کہا

” کیا تم سمجھتے ہو کہ پیجے لوہار کے لوگ تھے۔“ میںنے پوچھاتو نفی میں سر ہلاتے ہوئے بولا

” وہ ابھی اتنا طاقتور نہیں اور نہ ہمت رکھتا ہے۔“

” یہ لڑکیوں کے چکر میں رہنے والے غنڈے اتنے غیرت والے نہیں ہوتے۔ ایسے بے غیرت لوگ ہی کرتے ہیں۔ لڑکیوں کے چکر میں اپنے اخلاقی قدریں بھول جاتے ہیں۔ خیر تم فکر نہ کرو، میں کچھ نہ کچھ ضرور کروں گا۔“ میںنے کہا اور پھر اس سے پوچھا

” تمہیں کسی چیز کی بھی ضرورت ہو تو مجھے بتاﺅ۔“

” سر مجھے سب نے سنبھال لیا ہے۔ بس مجھے پروین کا دکھ کھا رہا ہے۔ وہ بچاری میری محبت میں ماری گئی۔“

” دکھ تو ہے۔ بہرحال دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔“ میں نے کہا اور اسے حوصلہ دیتا رہا۔ یہاں تک کہ میں اس کے پاس کافی دیر تک بیٹھا رہا۔ مجھے ماہ نور کا بھی خیال تھا سو کافی دیر بعد میں ہم ہسپتال سے باہر آگئے ۔

 میرے دل پر دُکھ طاری تھا۔ بچارے آصف سے ایسا کیا گناہ سرزد ہو گیا تھا جس کی اتنی بڑی سزا دی گئی تھی۔ اس کے ساتھ ساتھ میرے ذہن میں یہ بھی تھا۔ ممکن ہے جو منظر میرے سامنے نظر آ رہا ہے ویسا نہ ہو؟ اس کے پیچھے کچھ اور معاملات ہوں؟ جو کھل کر میرے سامنے نہیں آئے ۔ہوسکتا ہے پروین کا معاملہ کچھ ایسا ہو؟ سو میں نے اپنے دل پر پھیلے ہوئے اس دکھ کو دور کیا اور پارکنگ کی طرف بڑھا ۔میں بھی فور وہیل تک نہیں پہنچا تھا کہ عارف کا فون آگیا

 میرے ہیلو کہتے ہیں اس نے کہا

 ”علی کہاں ہو تم؟“

” میں یہاں ہسپتال میں ہوں۔ وہ آصف کو ہوش آگیا تھا، اسے دیکھنے آیا تھا ۔“

” اچھا میں اسی کے بارے میں بتانے لگا تھا ۔وہ جو لڑکی کے گھر پر حملہ آور لوگ تھے۔ ان کے بارے میں پتہ چل گیا ہے۔“ اس نے عام سے انداز میں بتایا

” کون ہیں وہ لوگ؟“ میںنے تجسس سے پوچھا

 ” اتنا تو پتا نہیں چلا مگر میرے لوگوں نے اسی علاقے میں کچھ لوگوں سے پوچھ تاچھ کی ہے۔ دو سی سی ٹی وی کیمرے ایسے ملے ہیں، جن سے ان کی فوٹیج مل گئی ہے۔ اس سے اندازہ ہو رہا ہے کہ وہ لوگ کون ہوسکتے ہیں۔ مزید پتہ کیا جاسکتا ہے اور وہ میرے لوگ کر رہے ہیں۔“ اس نے بتایا

” یہ تو بہت بڑی اچیومنٹ ہے۔“ میںنے پر جوش لہجے میں کہا تو وہ بولا

 ”ممکن ہے جلد ہی یہ معاملہ حل ہو جائے۔“

” تمہارے لوگ کب تک پہنچیں گے۔“ میں نے پوچھا

” دیکھیں کب تک آتے ہیں۔“ اس نے کہا

” چلو ٹھیک ہے ۔“میں نے کہا اور فون کال بند کر دی

فور وہیل میں بیٹھ کر جب ہم ہسپتال سے نکلے، تب تک خاموشی سے سب کچھ دیکھتے رہنے والی ماہ نور نے مجھ سے پوچھا

 ”علی، معاملہ کیا ہے؟“

 تب میں نے اسے ساری بات بتا دی ۔ تب تک ہم ایک ریستوارن کے سامنے آ رُکے۔

ریستوران میں کافی رش تھا ۔ہم ایک کونے میں جا کر بیٹھ گئے۔ ماہ نور خاموش تھی۔ تبھی میں نے اس سے پوچھا

 ”خاموش کیوں ہو؟“

 وہ چند لمحے میری طرف دیکھتی رہی دھیمے سے بولی

” علی، یہ جو آصف اور پروین کا معاملہ ہوا ہے۔ اس کی وجہ سے دل بجھ سا گیا ہے۔ پتہ نہیں انہوں نے آپس میں کیسے خواب دیکھے ہوں گے، کیا سوچا ہوگا، کس طرح کی زندگی جینا چاہتے ہوں گے۔ مگر چند لوگوں کی وجہ سے سب کچھ ختم ہو گیا۔ آصف بیچارہ کس طرح زندگی گذارے گا؟“

” وقت کے ساتھ زخم جو ہوتا ہے وہ مندمل ہو جاتا ہے وہ بھی زندگی گزار لے گا۔“ میں نے ہولے سے کہا

” تم ٹھیک کہتے ہو علی۔ مگر جو زخم لگ چکا ہوتا ہے نا اس کی ٹیس بہت دکھ دیتی ہے، یہ جانتے ہو تم؟“ اس نے افسردہ لہجے میں کہاتومیں بولا

 ”ہاں، دُکھ تو ساری زندگی رہتا ہے۔“

”جب بھی پروین کی یاد آئے گی، ایک خنجر تو دل میں لگے گا نا۔“ اس کی اداسی اب تک نہیں جا رہی تھی ۔ تب میں نے کہا

” لیکن ایک بات ہے ماہ نور، اگر اس کے قاتل پکڑے جاتے ہیں، انہیں سزا ہو جاتی ہے پھر کچھ نہ کچھ ڈھارس مل جائےگی ۔“

” کچھ نہ کچھ تو فرق پڑے گا لیکن دکھ نہیں جاتا علی ۔“ اس نے کہا اور زخمی سی مسکان اپنے ریشمی لبوںپر سجا لی۔

ہم ایسی باتیں کرتے ہوئے وہاں کافی دیر تک بیٹھے رہے۔ وہ اپنے بارے میں بتاتی رہی کہ وہ کیا کرنا چاہتی ہے۔ اس کے خواب کیا ہیں، خواہشیں کیا ہیں ۔وہ کیا کچھ کرنا چاہتی ہے۔ میں بس سنتا رہا۔میں اس کی باتوں سے زیادہ اس کے حسن سے مسحور ہو رہا تھا۔ میں اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔ کتنی بڑی بڑی مخمور سی آنکھیں ہیں۔ سیاہ بھنورا سی آ نکھیں۔جو لفظوں سے زیادہ اشاروں سے باتیں کر رہی تھیں۔ گلابی گال جذباتی باتیں کرتے ہوئے خاصے سرخ ہو چکے تھے۔ اس لب یوں تھے جیسے ابھی ان سے خون ٹپک پڑے گا ۔ صاف شفاف جلد ،لمبی گردن، گدگداتا ہوا بدن ۔ میں اس کھویا ہوا تھا۔ مجھے نہیں پتہ اور نہ مجھے یاد رہا کہ وہ کیا باتیں کرتی رہی تھی۔میں بس اسے دیکھتا رہا مجھے یوں لگا جیسے وہ کوئی مقنا طیس ہے اور وہ مجھے اپنی طرف کھینچی چلی جا رہی ہے۔میں وہاں پر کچھ وقت گزارنا چاہتا تھا ۔ مجھے سی سی ٹی وی کیمرے کی اس فوٹیج کا انتظار تھا ۔

 کھانے کے دوران ہی میرے سیل فون پر وہ فوٹیج آ گئیں ۔میں انہیں غور سے دیکھنے لگا ۔جیسے جیسے میں انہیں دیکھ رہا تھا ، میرا دماغ گھومنے لگا تھا ۔ مجھے بہت کچھ سمجھ میں آ نے لگا تھا ۔میں کھلی آ نکھوں سے اس فو ٹیج کو دیکھ رہا تھا ۔ یہ وہی لوگ تھے جو اسلم اے ایس آئی کے ساتھ تھے ۔ جنہوں نے مجھے ٹارچر کیا تھا ۔میں نے ایک نہیں، کئی بار اس فوٹیج کو دیکھا۔ میں ان کے چہرے کہاں بھول سکتا تھا ۔ پوری طرح اطمینان کر لینے کے بعد میں اٹھا اور ایک طرف جا کر میں نے عارف سے بات کی ۔اسے ماضی میں ہو نے والے واقعہ کے بارے میں بتا کر کہا

” یوں میں ان لوگوں کو جانتا ہوں ۔“

” تو پھر سیدھا اسلم ای ایس آ ئی کو پکڑا جائے ، سب کچھ سامنے آ جائے گا ۔“ اس نے کہا

” اوکے ، میں دیکھتا ہوں ۔“میں نے کہا تو وہ بولا

”تم اس وقت ہو کہاں ؟“ اس نے پوچھا تو میں نے ریستوران کا نام بتادیا ۔تب اس نے کہا ،” تم وہی بیٹھو ، میں کال کر تا ہوں ۔“ یہ کہہ کر اس نے فون بند کر دیا ۔میں واپس آ کر ماہ نور کے سامنے بیٹھا تو ا س نے میرے چہرے پر دیکھ کر کہا

” سب ٹھیک تو ہے نا ؟“

” ہاں ، سب ٹھیک ہے ۔“ میںنے اس سے کہا لیکن میرا لہجہ پہلے والا نہیں تھا ۔ اس نے ماتھے پر تیوریاں لا کر کہا

” نہیں بتانا چاہتے ہو تو یہ الگ بات ہے۔ مگر تمہارا چہرہ بہت کچھ بتا رہا ہے ۔“

میں نے اس کی بات سنی ان سنی کرتے ہوئے کہا

 ”ماہ نور کیا تم بنگلے تک چلی جاو ¿ گی؟“

” مگر تم کہاں جا رہے ہو؟“ اس نے حیرت سے پوچھا

” کسی سے مجھے پرانا حساب چکانا ہے۔“ میں نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے کہا

” حساب چکانا ہے تو پھر کیا ہوا، میں تمہارے ساتھ چلتی ہوں۔“اس نے تیزی سے کہا

” وہاں پر کچھ بھی ہوسکتا ہے ۔میں نہیں چاہتا تمہیں کچھ نقصان ہو۔“ میں نے تیزی سے کہا

” علی تم صرف مجھے ایک لڑکی مت سمجھو ۔مجھے ساتھ لے چلو۔“ اس نے کہا اور اپنی انگلی سے سیل فون کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھا،” وہی فوٹیج ہے؟“

” ہاں، وہی ہے۔“ میرے منہ سے بے ساختہ نکل گیا

” اوکے ، کوئی بات نہیں ۔ اطمینان سے کھانا ختم کرو۔ “ اس نے کہا اور سکون سے کھانے کی طرف متوجہ ہو گئی ۔مگر میری بے چینی اپنی حدوں کو چھو رہی تھی ۔

مافیا ایسے لوگوں کا گروہ ہوتا ہے جو اپنے فائدے کے لئے کسی کو بھی نقصان پہنچانے سے نہیں چوکتے ۔وہ ایک دوسرے کی نہ صرف مدد دیتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کی حفاظت بھی کرتے ہیں۔ یہ وہاں پر زیادہ تعداد میں ہوتے ہیں جہاں اختیارات ہوتے ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں میں یاکسی دوسری جگہ پر اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہیں ۔ اختیارات غلط استعمال کرکے اپنی طاقت بڑھاتے ہیں۔ ایک دوسرے کا ”فائدہ“ انہیں تقویت دیتا چلا جاتا ہے۔ یوں مافیا کی طاقت بڑھتی چلی جاتی ہے ۔جس سے ظلم و بربریت بڑھ جاتی ہے۔ اسلم اے ایس آئی بھی ایسے ہی کسی مافیا کا حصہ تھا۔ وہ نہ صرف اپنے اختیارات کا ناجائز فائدہ اٹھاتا تھا بلکہ ظلم و بربریت کا حصہ بن چکا تھا۔ اپنے ادارے کی آڑ میں لاقانونیت کے درپے تھا۔ وہ ربورٹ بن چکا تھا یا وہ ربورٹ بن رہا تھا ۔ وہ جو بھی تھا، بس زمین پر بوجھ بن چکا تھا۔ میں جس قدر اس کے بارے میں سوچتا چلا جا رہا تھا، میرا غصہ اتنا ہی بڑھتا جا رہا تھا۔ بلاشبہ یہ سب کچھ میرے چہرے سے عیاں ہو رہا تھا۔ اسی لئے میرے سامنے بیٹھی ہوئی ماہ نور نے کی آواز مجھے دور سے آ تی ہوئی سنائی دی۔

” غصے میں کیا گیا فیصلہ اکثر نقصان دیتا ہے۔“

 اس کی بات سن کر چونک گیا۔ چند لمحے مجھے سمجھ ہی نہ آئی کہ اس نے کیا کہا ہے پھر جیسے ہی اس کی بات سمجھ آئی تو میں نے خود پر قابو پاتے ہوئے کہا

” میں جس کے بارے میں سوچ رہا ہوں، میرا اس سے بڑا پرانا حساب ہے۔ میں نے اسے معاف تو نہیں کیا تھا لیکن نظر انداز ضرور کر دیا تھا۔ اب اسے حساب چکانا پڑے گا۔“

” یہاں بیٹھے رہنے سے کیاہوگا۔اسے تلاش کرو ۔“ ماہ نور نے ہلکے سے مسکراتے ہوئے کہا تو میں سر ہلا کر رہ گیا

ہم اس وقت ریستوران سے نکل کر پارکنگ کی جانب بڑھ رہے تھے۔انہی لمحات میں میرا سیل فون بج اٹھا۔ دوسری جانب عارف تھا۔ میرے ہیلو کے جواب میں وہ بولا

” میں تمہیں ایک نمبر بھیج رہا ہوں۔ اس پر کال کرنا۔ اس کا نام محسن ہے۔ وہ تمہیں ساری تفصیل بتا دے گا ۔بلکہ وہ سب کرے گا جو تم اسے کہو گے۔ اعتماد والا بندہ ہے۔“ اس نے ٹھہر ٹھہر کر مجھے سمجھاتے ہوئے کہا

” ٹھیک ہے۔“ میں نے کہا تو اس نے کال ختم کر دی ۔میں نے سیل فون کے ان باکس میں دیکھا۔ ایک فون نمبر آ گیا تھا۔ میں نے اس پر کال کر دی۔ چند لمحوں ہی میں رابطہ ہوگیا۔ میں نے جب اپنے بارے میں بتایا تو وہ مجھے یوں پہچان گیا جیسے میرے ہی انتظار میں ہو۔ تب میں نے تحمل سے پوچھا

” بولو کیا تفصیل ہے؟“

” وہ اس وقت یہاں سے دو کلومیٹر کے فاصلے پر موجود ایک گاو ¿ں میں ہے۔ دراصل وہاں انہوں نے ایک اپنا ایک ٹارچرسیل بنایا ہواہے ۔وہاں یہ تفتیش کے نام پر بہت ظلم کرتے ہیں لوگوں پر ۔ اس وقت وہاں پر وہ اپنے ساتھیوں کے ساتھ وہیں موجود ہے ۔“

” تم کہاں ہو؟“ میں نے پوچھا

” میں اُس گاو ¿ں سے تقریبا آدھا کلومیٹر کے فاصلے پر ہوں۔ میرے ساتھ کچھ لوگ ہیں۔ اگر آپ ابھی آنا چاہیں تو میں تیار ہوں۔“ اس نے کہا تو میں بے ساختہ بولا

” میں آ رہا ہوں، کچھ چاہیے تو بتاﺅ؟“

” سب کچھ ہے ،بس آپ آجاﺅ۔“ اس نے اعتماد سے کہا تو میں تیزی سے بولا

” میں آ رہا ہوں۔“

 بات کرتے ہوئے میں اپنی فور وہیل سٹارٹ کر چکا تھا۔ ماہ نور پسنجر سیٹ والے دروازے کی جانب کھڑی تھی ۔میں نے اسے پیچھے والی سیٹ پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اس نے پچھلی نشست پر آکر بیٹھتے ہوئے پوچھا

 ”آگے کیوں نہیں؟“

” سیٹ کے نیچے دیکھو، کچھ پڑ ا ہوا ہے؟“ میں نے پوچھا تو اس نے کوئی جواب نہیں دیا بلکہ فورا ہی سیٹ کے نیچے دیکھنے لگی۔ میں نے فور وہیل بڑھا دی۔ اس دوران میں روڈ پر نکل آیا تھا جب وہ بولی

 ایک پسٹل اور کچھ پالتو میگزین پڑے ہیں۔“

” انہیں نکال کر میرے ساتھ والی سیٹ پر رکھ دو ۔“ میں نے کہا تو اس نے سب پسنجر سیٹ پر رکھ دیا۔ میں نےپوری توجہ سڑک پر مرکوز کردی تھی۔

 میں فور ہیل تیزی سے جا رہا تھا۔ کچھ ہی دیر بعد میں نے اپنے بنگلے کے سامنے فور وہیل روکی اور ماہ نور سے اندر جانے کو کہاتو وہ بولی

” مجھے بھی ساتھ لے چلو ۔“

” وہاں زندگی اور موت کا کھیل ہے ، میں نہیں چاہتا تمہیں ذرا سی بھی خراش آ ئے ۔“ میں نے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا

” پھر کیا ہوا ، میں تمہارے ساتھ ….“ اس نے کہنا چاہا تو میں نے اس کی بات کاٹتے ہوئے حتمی لہجے میں کہا

” نہیں تم جاﺅ اندر ۔“

ایک نے ایک بار میری جانب دیکھا ، فور وہیل سے اتری اور پھر بنگلے کے اندر جانے کے لئے قدم بڑھا دئیے۔

میں نے شہر سے نکلتے ہی میں نے محسن کو کال کر دی ۔تو اس نے پوچھا

” کہاں پر ہیں؟“

” میں نے ابھی کھاد والا گودام پار کیا ہے۔“ میں نے بتایا

” بس ٹھیک ہے، میں آپ کو تھوڑے سے فاصلے پر سڑک کنارے ہی ملوں گا۔“اس نے کہا اور کال ختم کر دی

 تقریباً پانچ منٹ سفر کیا تھا کہ سڑک کے بائیں جانب ایک جیپ کھڑی دکھائی دی۔ میں نے رفتار کم کر دی اور فون کی طرف ہاتھ بڑھانے لگا تھا کہ میرا فون بجنے لگا ۔میں نے کال ریسیو کی محسن نے پوچھا

 ”اسی فور وہیل میں آپ ہیں؟“

” ہاں میں ہی ہوں ۔“میں نے کہا۔ تب تک میں اس کے پاس پہنچ چکا تھا۔

” اچھا تو پھر بریک لگائیں۔“ اس نے کہا تو میں نے جیپ کے آگے جاکر فوروہیل روک دی۔ میں نے بیک مرر میں دیکھا ۔ایک نوجوان جیب سے اترا اور بڑے سکون سے چلتا ہوا پسنجر سیٹ والے دروازے پر آ کر کھڑا ہو گیا۔ اس نے دروازہ کھولا اور سامنے پڑا پسٹل دیکھ کر اسے اٹھایا، میرے ساتھ بیٹھتے ہوئے اس نے سب ڈیش بورڈ پر رکھ کر بولا

 ”یہ دیکھیں۔“

 اس کے ہاتھ میں ایک کاغذ تھا جس پر لکیریں کھینچی ہوئی تھیں۔اس نے وہ کاغذ میرے سامنے کیا تو وہ ایک نقشہ تھا۔

”یہ کیا ہے ؟“ میںنے کہا تو وہ کاغذ پر انگلی رکھ کر مجھے سمجھاتے ہوئے بولا

” گاو ¿ں سے تھوڑا سا ہٹ کر یہ وہ جگہ ہے، جہاں اس وقت وہ ہیں ۔ہم نے یہاں جانا ہے ۔“یہ کہتے ہوئے اس نے ایک جگہ پر انگلی رکھ دی۔ وہ ان لکیروں پر انگلی رکھ کر مجھے اپنا پلان سمجھانے لگا ۔ وہ پلان مجھے اس لئے بہت اچھا لگا کہ اس نے وہاں سے نکلنے کا راستہ پہلے ہی سے سوچ رکھا تھا۔ وہ مجھے سب سے سمجھا چکا تو چلنے کا اشارہ کیا۔

 اگلے پندرہ منٹ میں ہم اس سولنگ پر تھے جو اس گاو ¿ں کو جاتا تھا۔ گاو ¿ں کے بالکل قریب پہنچ کر وہ سولنگ گاو ¿ں کی جانب مڑ گیا جبکہ کچی سڑک آگے نکل گئی۔ ہم آگے بڑھتے چلے گئے۔ محسن مسلسل رابطہ رکھے ہوئے تھا۔ رابطہ کار ڈیرے کے آس پاس تھا جو اسے معلومات دے رہا تھا۔ سامنے ڈیرہ دکھائی دینے لگا تھا۔ ڈیرے کے باہر ایک ٹیوب ویل تھا، جو اس وقت چل رہا تھا۔ اردگرد کافی سارے درختوں کا جھنڈ تھا ۔ ڈیرے کی کچی چار دیو ا ر ی میں سامنے ہی لکڑی کا بڑا سارا پھاٹک بند تھا۔ اس نے مجھے ٹیوب ویل سے تھوڑی دیر پہلے ہی رکنے کا اشارہ کیا۔ میں نے بریک لگائے کر محسن سے پوچھا

” یہی وہ ڈیرہ ہے نا؟“

” جی ، یہی ہے ۔“ اس نے ہلکے سے کہا تو میں نے ڈیش بورڈ سے پسٹل اور میگزین اٹھالئے ۔

 ہم فوروہیل سے نیچے اتر آئے ۔ محسن نے جیکٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے ہوئے تھے ۔جیپ میں سے چند افراد باہر آ گئے تھے۔ وہ ہم سے تھوڑا فاصلہ رکھتے ہوئے پھیل کر بڑھ رہے تھے۔ میں اور محسن پھاٹک کے پاس جاکر رک گئے تھے۔ پھاٹک کا چھوٹا دروازہ کھلا ہوا تھا۔ میں اندر داخل ہو گیا۔ ملجگی سی روشنی میں میرے سامنے کچا صحن تھا۔ جس کے دائیں جانب ٹریکٹر کے پاس دوکاریں کھڑی ہوئی تھیں۔ سامنے برآمدے میں تین لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ ان میں سے ایک اسلم اے ایس آئی تھا۔ میں اسے پہلی نگاہ میں ہی پہچان گیا تھا۔ وہ مجھے پوری توجہ سے دیکھ رہا تھا۔ شاید پہچاننے کی کوشش کر رہا ہو۔ اس کے ساتھ بیٹھے لوگ بھی ہمیں دیکھ رہے تھے۔ جیسے ہی ہم تینوں ان کے پاس پہنچے، اسلم ہمیں دیکھ کر بری طرح چونک کر یوں کھڑا ہوا جیسے کرنٹ لگ گیا ہو۔ اس کے پاس بیٹھے ہوئے دونوں آدمی اٹھ کر کھڑے ہو گئے تھے۔

 ”اوئے، تم یہاں ….؟“اس نے دھاڑتے ہوئے پوچھا میں رکا نہیں بلکہ اس کے پاس پہنچ کر کہا

” کیا میں یہاں نہیں آسکتا؟ تمہارا کیا خیال ہے تمہیں تلاش نہیں کیا جاسکتا؟“ میں نے کہا ہی تھا کہ اس نے چارپائی پر پڑا ہوا پسٹل اٹھانا چاہا۔ تب میں نے تیزی سے پسٹل نکالتے ہوئے کہا ،”نہیں آرام سے کھڑے رہو اسلم۔“

” کیا کرنے آئے ہو ؟“اس نے تیزی سے پوچھا

 ”کچھ باتیں کرنی ہیں، سچ بتا دو گے تو جس طرح یہاں آیا ہوں ، ویسے ہی واپس چلا جاو ¿ں گا۔“ میں نے پرسکون انداز میں کہا

 ”ورنہ کیا کرو گے تم؟“ اس نے حقارت سے کہا

” وہ کچھ ہوگا جس کے بارے میں ابھی تم نے سوچا نہیں ہے۔“ میں نے پھر اسی سکون سے کہا تو وہ لمحہ بھر کے لئے خاموش ہوا۔پھر پرسکون سے لہجے میں بولا

 ”بولو کیا بات کرتے ہو؟“

 ” پروین نامی لڑکی کو تمہارے جن بندوں نے قتل کیا ہے، بس وہ مجھے دے دو، میں انہیں لینے کے لئے آیا ہوں۔“ میں نے سرد لہجے میں کہا

” کون پروین؟ میرے لوگوں کا ایسی کسی لڑکی سے کیا تعلق ؟“ اس نے شدید حیرت سے یوں کہا کہ میں اس کی اداکاری دیکھ کر دنگ رہ گیا۔ اگر میں نے ویڈیو فوٹیج نہ دیکھے ہوتے تو میں ایک بار ضرور ڈگمگا گیا ہوتا۔ تب میں نے بھی اس کے ساتھ گیم کھیلنے کا فیصلہ کر لیا۔ میں نے چند لمحے سوچا اور بڑے تحمل سے بولا

 ”اسلم تیری میری دشمنی اپنی جگہ، مجھے وہ لوگ چاہیں۔“

”یقین جانو ہمارا اس قتل سے کوئی تعلق نہیں ۔تمہیں کسی نے غلط رستے پر لگا دیا ہے۔“ اس نے لاپرواہی سے کہا ۔

” چلو میں تمہاری بات مان لیتا ہوں لیکن میری معلومات غلط نہیں ہیں۔“میں نے آگے بڑھتے ہوئے یقین سے کہا

” تو میں کیا کر سکتا ہوں؟‘ اس نے کندھے اچکاتے ہوئے لاپرواہی سے کہا

” چلو ہم ایک سودا کرتے ہیں۔“ میں نے پرسکون لہجے میں اس کے کاندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا

” سودا کیسا سودا؟“ اس نے چونک کر پوچھا

 ” ظاہر ہے تمہاری یا تمہارے بندوںکی پروین سے کوئی دشمنی نہیں تھی۔وہ حادثاتی قتل تھا، یہ میں جانتا ہوں۔ بس مجھے صرف یہ ثبوت دے دو کہ تم نے یہ سب کس کیلئے کیا ہے؟ میں پروین کی ماں کوپانچ دس لاکھ دے کر مطمئن کر دوں گا۔ مجھے صرف نام بتادو پھر میں جانوںاور وہ جانے ۔میں ابھی خاموشی سے واپس چلا جاو ¿ں گا۔“

 میری آفر پر وہ چند لمحے سوچتا رہا۔ اس نے سر اٹھا کر میری جانب دیکھا اور بولا

 ”اس کی کیا گارنٹی ہے کہ میرا نام نہیں آئے گا۔“

” میری زبان۔“ میں نے کہا تو وہ قہقہ لگا کر ہنسنے لگا پھر اسی قہقہ بار انداز میں بولا

 ”زبان کا کوئی اعتبار نہیں۔اس نے دس لاکھ دئیے ، تم پندرہ دے دو ، سب بتا دوں گا۔“

 لفظ اس کے منہ ہی میں تھے کہ میں نے چشم زدن میں اس کے منہ پر گھونسا مارا۔ وہ فطری طور پر پیچھے کی جانب ہوا۔ تب تک میں نے اس کی گردن اپنی کلائی کے شکنجے میں جکڑ لی۔ اس کے ساتھ ہی پسٹل اس کے سر پر رکھ دیا۔

انہی لمحات میں مجھے اپنے دائیں جانب کمرے میں ذرا سی حرکت محسوس ہوئی۔ میں نے اس جانب دیکھنا چاہا تو میرے پیچھے سے فائر ہوا ۔میں نے کمرے کی طرف دیکھا۔ وہاں ایک شخص سینہ پکڑے تڑپ رہا تھا۔ مرنے والے کے ہاتھ سے گن چھوٹ کر دور جا گری تھی۔ اسلم کی آنکھیں باہر آگئی تھیں۔اس کے منہ سے بے ساختہ نکلتا چلا گیا

 ”یہ…. یہ…. یہ…. کیا…. کیا۔“

” یہ وارننگ ہے۔ اس کے علاوہ کچھ بھی نہیں ہے ۔میں بات کیے بنا بھی تمہیں ختم کر سکتا ہوں۔ اپنے لوگوں کو سمجھاو ¿۔“

تبھی اس نے اونچی آواز میں سب کو سناتے ہوئے کہا

 ”رُکو کوئی کچھ نہیں کرے گا۔“ پھر اپنے گردن موڑ ے بنا ہی مجھ سے بولا

” مجھے چھوڑ دو ۔“

 میں نے اس کی بات کا جواب نہیں دیا بلکہ اسے لے کر دیوار کے ساتھ لگ گیا ۔ محسن نے پاس کھڑے بندوں کو زمین پر لیٹ جانے کا کہا۔ وہ ادھر ادھر دیکھتے ہوئے زمین پر لیٹ گئے ۔ مجھے سب سے زیادہ خطرہ کمرے کے اندر موجود لوگوں سے تھا۔ تبھی محسن نے اونچی آواز میں کہا

”جو لوگ اندر کمروں میں ہیں۔ وہ سن لیں ،اپنے سر پر ہاتھ رکھ کر باہر آجائیں۔ میں بس تین تک گنوں گا ،پھر ہینڈ گرنیڈ اندر پھینک دوں گا۔“‘

 مجھے یقین تھا کہ اندر موجود لوگوں نے محسن کی آواز سن لی ہو گی۔ محسن نے اسلم کے سامنے اپنی جیب میں سے ہینڈ گرنیڈ نکال لیا۔ اسلم میرے شکنجے میں تڑپنے لگا ۔تب اسلم نے ایک دم سے اونچی آ واز میں چیختے ہوئے ہذیانی انداز میں کہا

” اُوئے سارے باہر نکلو ،جلدی ….“

اسلم کی آ واز کے ساتھ ایک دم سے سناٹا چھا گیا تھا ۔وہ خاموش تو ہو گیا تھا لیکن اس کے بدن کا جھرجھری لے رہا تھا ۔ وہ شاید سمجھ چکا تھا کہ میں معاف کرنے والا نہیں ہوں ۔ اس پر خوف طاری ہو چکا تھا ۔میں نے اس کے کان کے پاس منہ لے جا کر کہا

” بندے باہر بلا ﺅ، ورنہ تیرے سمیت سبھی مر یں گے ۔“

میرے کہنے کے ساتھ ہی اس نے پھر سے اونچی آ واز میں سب کو باہر آ نے کا کہا ۔ اتنی دیر میں محسن نے پکارتے ہوئے کہا

” ایک ….“

” دو ….“

اس کے تین کہنے سے پہلے مختلف دروازوں سے کئی آ دمی باہر نکل آ ئے ۔انہوں نے اپنے ہاتھ سروں پر رکھے ہوئے تھے ۔کچھ دیر تک جب کوئی بھی باہر نہیں آیا تو محسن نے اپنے بندوں سے کہا

” اندر دیکھو کوئی ہے تو نہیں ۔“

اس کے ساتھ آ ئے لڑکے بڑے محتاط انداز میں اندر گئے ۔ذرا سی دیر میں ایک نے باہر آ کر کہا

” دو بندے اندر بندھے ہوئے پڑے ہیں ۔“

” و ہ ملزم ہیں ۔“ اسلم نے تیزی سے کہا

کمرے سے برآ مدہو نے والے لوگوں کومحسن باہر صحن میں لے گیا تھا ۔ میرے قریب جو زمین پر لیٹے ہوئے تھے ، انہیں بھی میں نے صحن ہی میں بھیج دیا ۔میںنے اسلم کی گردن پر سے ہاتھ ہٹا لیا مگر اسے کور کئے رکھا ۔وہ ساکت سا کھڑا رہا ۔میں اسے لے کر صحن میں آ گیا ۔ وہ وہ سارے میرے سامنے کھڑے تھے ۔ محسن اور اس کے ساتھی لڑکے ان کے پیچھے اِدھراُدھر کھڑے تھے ۔محسن نے ایک لڑکے کو اشارہ کیا تو اس نے اپنی جیکٹ میں سے نائیلون کی رسی کا گچھا سا نکالا اور ان سب کے ہاتھ پشت پر باندھنے لگا ۔تبھی اسلم نے پوچھا

” یہ کیا کر رہے ہو ؟“

” تم کسی بات پر نہیں آ ئے تو میں نے اپنی بات تو کرنی ہے نا ۔“ میں نے اس کے چہرے پر دیکھتے ہوئے کہا

”چلو جیسا تم چاہتے ہیں ویسا کر لیتے ہیں ۔“ اس نے سکون سے کہا تو میں بولا

” بتاﺅ ، کون ہے وہ جس نے پروین کو مارنے کے لئے کہا تھا ، یا پھر اسے مارنے کی وجہ بات دو ۔“

” میرے ان بندوں کی اس لڑکی کے عاشق سے ان بن تھی ، یہ بس انہیں ڈرانے دھمکانے گئے تھے ۔“ اس نے سکون سے کہا تو میںنے پسٹل سیدھا کیا اور اس کے پیروں کی جانب نال کر کے فائر کر دئیے ۔دو نوں فائر اس کی پنڈلی اور گھٹنے میں لگے ۔وہ درد کی شدت سے ناچنے لگا ۔ اس کے منہ سے کراہیں نکل رہی تھیں ۔اس کے ساتھ ہی وہ زمین پر گر گیا ۔میں نے اس کے سینے پر پاﺅں رکھتے ہوئے دھاڑ کر کہا

”غلط بیانی کرے گا تو مار دوں گا ۔“

” میں …. میں ….“ اس نے کہنا چاہا تو میںنے کہا

” کہتے ہیں جس جانور کی ٹانگ ٹوٹ جائے ، اگر وہ حلا ل ہے تو ذبح کر دیں ، ورنہ مار دیں ۔کیا تم چاہتے ہو کہ میں تمہیں گولی مار کر ختم کردوں ؟“میں نے سرد سے لہجے میں کہا

”میں سخ….خت…. اذی…. یت ….مے …. ہوں ….مجے…. چھور …. دو ۔“ اس نے کراہتے ہوئے کہا

”بتاﺅ گے یا مار دوں تمہیں ؟ تم نہیں بتاﺅ گے تیرے یہ لوگ بتا دین گے ۔“ میںنے کہا تو وہ سر ہلاتے ہوئے بولا

” بتاتا ہوں ۔“

میںنے اپنا پاﺅں ہٹا تے ہوئے کہا ۔

 ” بولو….“

”افضل سردار نے ۔دس لاکھ دئیے اس نے ۔“

” چلو پھ رفون نکالو اور اسے بتاﺅ کہ تم کس حالت میں ہو ۔“ میں نے کہا تو اس نے تیزی سے اپنا فون نکالا اور نمبر ملانے لگا ۔اس کے خیال میں یہ اچھا ہو اتھا کہ اسے پتہ چل جاتا ۔نمبر ملتے ہی رابطہ ہو گیا ، میںںے اس کے ہاتھ سے فون لیا اور اس کا اسپیکر آ ن کر دیا ۔

” ہیلو …. او ہیلو ….“ دوسری جانب سے آ واز آ رہی تھی

”افضل …. میں مر…. رہا…. ہوں ۔“ اس نے کراہتے ہوئے کہا

” او کیا ہو گیا ؟“ اس نے پوچھا

”وہ لڑکی پروین ….جسے ….تمہارے ….کہنے پر مارا، اس کے لئے…. بندے…. مجھ تک…. پہنچ گئے ہیں ۔“

” ہاں تو بھگتو، میںنے تمہیں نوٹ دئیے ہیں ۔“ اس نے حقارت سے کہا

” تمہیں …. پتہ نہیں …. وہ کون ہے؟“ اس نے پوچھا

”کوئی بھی ہو ، مجھے کیا۔“اس نے کہا تو میںنے فون پکڑ کر دھاڑتے ہوئے کہا

” او سن اوئے ، میں علی ہوں ۔علی احسن ۔“

” اوہ ، تم پہنچ گئے ۔“ اس نے حقارت سے کہا

” انتظار کرو ، اب تم تک پہنچ کر پوچھوں گا کہ تم سے ہی پوچھوں گا کہ وہ قتل کیوں کروایا ۔“ میںنے غصے میں کہا تو اس نے قہقہ لگاتے ہوئے فون بند کر دیا ۔

”اب مجھے …. چھوڑ دو ۔“ اسلم نے کہا

” ابھی تو بہت حساب ہے تیری طرف ۔“ یہ کہتے ہوئے میںنے اس کے سینے پر بھر پاﺅں رکھا ۔ پسٹل کی نال اس کے ماتھے پر رکھی اور کہا ،” تم نے میرے با باکو گالی دی تھی ، یاد ہے نا ،یہ اس کی سزا ہے ۔“ یہ کہتے ہی میںنے ٹرائیگر دبا دیا ۔وہ میری پاﺅں کے نیچے تڑپا اور ساکت ہو گیا ۔میں نے سیدھا ہو کر سامنے کھڑے لوگوں کو دیکھا، پھر ان سب کی طرف دیکھ کر بولا،” موت چاہتے ہو یا عمر قید ؟“

” ہمیں چھوڑ دیں ، ہم آ پ کے بہت کام آ ئیں گے ۔“

” اچھا ،، تو چلو باہر ۔“ میںنے کہا تو وہ سب باہر کی جانب چل دئیے ۔ تبھی محسن نے مجھے اشارہ کیا ۔ میں سمجھ گیا ۔ وقت کافی ہو گیاتھا ۔میں نے یہ کھیل یہیں پر ختم کر دینا چاہا۔ میں نے ایک لڑکے کے پاس گن دیکھی تھی ، اسے قریب آ نے کا اشارہ کیا ۔ وہ میرے پاس آ یا تو میںنے اس کی گن لے کر برسٹ مارا ۔ وہ میرے سامنے تڑپنے لگے ۔ وہاں چیخ و پکار مچ گئی ۔ میںنے ایک نگاہ سب کو دیکھا ، پھر باہر نکلتا چلا گیا ۔

میں سیدھا بنگلے پر چلا گیا ۔ میں جانتا تھا کہ کچھ دیر میں افضل سردار کو پتہ چل جائے گا کہ میں نے اپنا انتقام لے لیا ہے ۔ اس نے واویلا مچا دینا تھا ۔میں وہاں سے نکلتا ہوا سیدھا بنگلے چلا گیا ۔ محسن میرے ساتھ شہر تک آ یا ، پھرواپس لوٹ گیا ۔جب میں حویلی تک آ یا تب تک رات کا دوسرا پہر ختم ہو چکا تھا ۔ میں لاﺅنج میں آ یا تو میرا ملازم میرا منتظر تھا ۔

٭….٭….٭

 اگلی صبح میرا اور ماہ نور کا سامنا ناشتے کی میز پر ہوا۔ وہ میرے سامنے بیٹھی ہوئی تھی ۔وہ میری جانب نہیں دیکھ رہی تھی ۔ جبکہ میں ا س کے نکھرے ہوئے حسن کو گاہے گاہے تک رہا تھا ۔اچانک مجھے احساس ہوا ماہ نور کا مسحورکن حسن مجھے اپنی سحر میں لے رہا ہے ۔اگر وہ چند دن میرے ساتھ یونہی رہی تو میں اس کے حسن میں جکڑا بھی جا سکتا ہوں ۔کہیں یہ حسن میری کمزوری نہ بن جائے ۔اگر وہ حسن میری کمزروی بن گیاتو میں اس کا بے دام غلام ہو جاﺅں گا ۔یہ خیال آتے ہی میرے اندر پھیلا ہوا اس کے حسن کا خمار تحلیل ہوتاچلا گیا ۔کچھ دیر بعد ہی وہ میرے لئے ایک عام سی لڑکی کی حیثیت میں تھی۔ میں اس کے سحر سے نکل آیا تھا۔ ہم خاموشی سے ناشتہ کرنے کے بعد لاو ¿نج میں پڑے ہوئے صوفوں پر آ بیٹھے۔ میرے ہاتھ میں چائے کا مگ تھا ۔کچھ دیر یوں ہی بیٹھے رہنے کے بعد وہ دھیمے لہجے میں سے بولی

” میرا خیال ہے کہ مجھے آج واپس چلے جانا چاہئے ۔“

”خیریت۔ اتنی جلدی کیا آن پڑی؟“ میں نے حیرت سے پوچھا

 ” تمہارے پاس وقت ہی نہیں ہے تو ….“ اس نے شکوہ بھرے انداز میں کہا

 ”ہاں یہ تو ہے۔ کب، کس وقت ،کوئی کام آن پڑے یہ تو نہیں کہا جاسکتا۔ لیکن تم نے ابھی روہی جانا تھا، وہاں رہنا تھا ۔پھر اتنی جلدی کیوں؟“ میں نے سکون سے پوچھا

” ہاں وہ تو جانا تھا لیکن مگر یہ تو پتہ ہو نا کہ جانا کب ہے؟” اس نے مسکراتے ہوئے پوچھا

” آج ہی چلتے ہیں۔ میں صرف آصف کی وجہ سے یہاں پر تھا۔ پتہ نہیں اب وہ کس حال میں ہوگا ۔“یہ کہتے ہوئے مجھے ایک دم سے آصف کا خیال آیا۔ وہ خاموش رہی تو میں نے پرخیال انداز میں کہا،” اس کا پتہ کرتے ہیں۔ اگر وہ بہتر ہوا تو پھر آج ہی رو ہی نکل چلیں گے۔“

” نہیں آج میں واپس جاﺅں گی ، روہی پھر کسی وقت سہی۔“ اس نے سنجیدگی سے کہا تو میں نے مزید اصرار نہیں کیا۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آئی کہ اس نے اچانک اپنا فیصلہ کیوں بدل لیا تھا۔ میں نے اپنے ملازم کو بلوایا اور اسے لاہور کے لئے گاڑی تیار کرنے کو کہا۔ وہ چلا گیا تو میں نے پوچھا

” ماہ نور، کہیں تم مجھ سے ناراض تو نہیں ہو؟“

” نہیں میں ناراض کیوں ہوں گی۔ مجھے کچھ کام یاد آگئے ہیں ۔وہ نپٹا کر میں واپس آ جاو ¿ں گی۔ میں تمہارے ساتھ کچھ دن رہنا چاہتی ہوں ۔“ اس نے مسکراتے ہوئے کہا تو میں کسی حد تک مطمئن ہو گیا۔ ہم یوں ہی باتیں کرتے رہے تھے کہ میرا ملازم آگیا۔ پھر کچھ دیر بعد وہ لاہور کے لیے نکل گئے۔

٭….٭….٭

 میں نے ہسپتال کے پارک میں گاڑی روکی اور سیدھا میں اس وراڈ جاپہنچا ہے جہاں پر آصف کورکھا ہوا تھا۔ اس کے کمرے میں اس کی والدہ بیٹھی ہوئی تھی ۔ وہ بہتر حالت میں تھا۔ میرے آنے پر اس کی والدہ اس کے پاس سے اٹھ کر باہر چلی گئی۔ جیسے ہی کمرے میں تنہائی ہوئی، میں نے اسے دھیمے میں لہجے میں کہا

” پروین کے سارے قاتل ٹھکانے لگ گئے ہیں۔“ میرے یوں کہنے پر اس کی آنکھیں پھیل گئیں ۔وہ چند لمحے میری جانب دیکھتا رہا پھر شدتِ حیرت سے بولا

” کون تھے وہ ؟“

 ” اسے چھوڑو، پیجا لوہار بہرحال نہیں تھا۔“ میں نے اسے مطمئن کرنے کے لئے کہا ۔پتہ نہیں اسے اطمینان ہوا تھا یا نہیں اس کے دماغ میں سوال پیدا ہوا جانا فطری تھا ، اِسی لئے اُس نے پوچھا

”کون ہوسکتے ہیں پھر؟“

” میرے خیال میں ابھی تم اپنے دماغ پر زیادہ زور مت دو۔ تھوڑا وقت گزرنے دو، سب کچھ سامنے آ جائے گا۔ بس تم جلدی سے صحتمند ہو جاو ¿۔“ میں نے اسے دلاسہ دیتے ہوئے کہا تو وہ خاموش ہو گیا ۔میں کچھ دیر مزید اس کے پاس بیٹھا رہا پھر وہاں سے اٹھتا ہوا باہر آ گیا۔

 اس وقت میرا ارادہ تھا کہ میں حویلی چلا جاو ¿ں ۔مجھے عارف کے مہمانوں کا انتظار تھا۔ ان کے بارے میں کوئی حتمی اطلاع نہیں تھی کہ وہ کب آتے ہیں؟ الیکشن کے کاغذات جمع ہوجانے والے تھے، پھر گہما گہمی شروع ہو جانا تھی۔ میں ہسپتال سے اس راستے پر ہو لیا جو شہر سے باہر نکل کر گاو ¿ں کی طرف جاتا تھا۔ ابھی میں شہر سے نکلا ہی تھا کہ راو ¿ظفر کا فون آگیا

 ”علی بھائی کہاں ہو؟“

” آپ بولیں کیا بات ہے؟“ میں نے سکون سے اطمینان بھرے لہجے میں پوچھا

 ”کچھ باتیں کرنا تھی آپ سے۔ مجھ پر بڑا دباو ¿ ہے۔“ اس نے مجھے اشارے میں سمجھاتے ہوئے عام سے لہجے میں کہا

” آپ کا دباو ¿ کم ہوا ہے کبھی ۔ یہ دباو ¿ ہی تو ہے جو ہمیشہ رہتا ہے۔“ میں نے ہنستے ہوئے کہا

”یہ تو ہے لیکن میں آپ سے باتیں….“ اس نے کہنا چاہا تو میں جلدی سے بولا

” اگر تھوڑی بہت بات کرنی ہے تو میں وہیں آ جاتا ہوں جہاں آپ کہتے ہیں۔ اگر تفصیل سے باتیں کرنی ہیں تو میں حویلی ہوں، آ جائیں ،سکون سے بات کرتے ہیں۔“

”میں حویلی آتا ہوں۔“ اس نے کہا

”میں انتظار کر رہا ہوں۔“ میں نے کہا اور کال ختم کر دی۔ میں جانتا تھا کہ وہ مجھ سے کیا بات کرنا چاہتا ہے۔

میرے حویلی پہنچنے کے تھوڑی دیر بعد راﺅ ظفر بھی آ گیا ۔میں اسے لے کر مہمان میں بیٹھا ہوا تھا ۔ کچھ دیر ادھر اُدھر کی باتوں کے بعد اس نے سنجیدگی سے کہا

”اسلم اور کے ساتھیوں کا قتل شاید چھپ جاتا اگر آپ افضل سردار کو فون نہ کرتے ۔“

” ایسا موقعہ ہی نہ آتا اگر آپ انہیں نہ پالتے ۔“ میں نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے کہاتو وہ ایک دم سے خجل سا ہو گیا ۔اس نے سر جھکا لیا ، میں نے یہی سمجھا کہ وہ شرمندگی محسوس کر رہا ہے ۔ وہ چند ثانئے بعد بولا

”سارا الزام مجھ پرہی دھر ا جا رہا ہے ۔افضل سردار اوپر تک اس معاملے کو لے جانے کی دھمکی دے رہا ہے ۔“

” تو پھر میں کیا کروں ؟“ میںنے پوچھا

”آپ کے ساتھ جو لوگ تھے ، ان کے بار میں بتا دیں ، باقی میں دیکھ لوں گا ۔“اس نے کہا تو میں بولا

” میں اگر آپ کو بتا بھی دوں تو آپ انہیں پکڑنا تو کیا ، ان کی طرف دیکھ بھی نہیں پائیں گے ۔ وہ زمین کا بوجھ صاف کرنے پر مامور ہیں ۔اگر آپ نے مزید سوچا بھی تو ….“ میں کہتے کہتے رک گیا، پھر اس کی چہرے پر دیکھتے ہوئے بولا ،”میں تو رات شہر میں تھا ہی نہیں ۔“

”دیکھیں میری بات سنیں ، وہ ….“اس نے کہنا چاہا تو میں اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا

” منافق کی سزا کیا ہوتی ہے یہ آپ جانتے ہی نہیں ہو۔ آپ کی سزا شروع ہو چکی ہے ۔ اب تبادلہ بھی کروانا چاہو گے تو نہیں ہوگا ۔“

”میرے لئے مشکل پیدا نہ کریں ۔“ اس نے پھنسی ہوئی آ واز میں کہا

” میں اس میں کچھ بھی نہیں کر سکتا ۔میںچاہوں یا نہ چاہوں ۔ظلم نے ایک دن ختم تو ہونا ہی ہوتا ہے ۔“ میں نے اطمینان سے کہا تو وہ خاموش ہو گیا۔ وہ سوچ میں پڑ چکا تھا ۔ اب اس کے لئے فرار کا کوئی راستہ نہیں تھا ۔

” علی بھائی ، اس پورے علاقے میں اب آپ کا سامنا کرنے والا کوئی بندہ ہے تو وہ صرف افضل سردار ہے ۔ میں جا نتا ہوں وہ کبھی بھی نہیں رکے گا ۔اگر کسی طرح اسے روک دیا جائے تو ….“ اس نے کہا تو میں سمجھ گیا وہ کیا چاہتا تھا ۔ بڑے آرام سے اس نے مجھے افضل سردار سے ٹکرا جانے کا مشورہ دے دیا تھا ۔لیکن میں اس وقت تکاس کا سامنا نہیں کر نا چاہتا تھا جب تک وہ سیدھے مجھ پر کوئی وار نہ کرے یا پھر کچھ ایسا ثابت ہو جائے جو میں سوچ رہا تھا ۔پروین کو اس نے ناحق قتل کروایا تھا ، کیوں کروایا ، یہ ابھی میںنے اس سے پوچھنا تھا ۔

” راﺅ صاحب ، مجھے ایک بات بتائیں ، اس نے پروین کو قتل یوں کروایا ؟ وجہ کیا تھی ؟“ میںنے پوچھا

” میںنہیں جانتا ۔“ اس نے صاف کہہ دیا ۔

” لیکن آپ یہ تو جانتے تھے نا کہ پروین کے قاتل کون ہیں ؟“ میرے پوچھنے پر وہ چند لمحے خاموش رہا ، پھر دھیمے سے سر ہلا تے ہوئے بولا۔

” ہاں ، پتہ تھا ۔“

” تو پھر میرے پاس کیا لینے آ ئے ہیں ، مجھے پکڑنے آئے توپکڑ لیں ، مجھ پر جو ثابت ہو تا ہے کر لیں ۔ لیکن پھر میں نہیں بخشوں گا، یہ ذہن میں رہے ۔“میںنے دبے دبے غصے میں کہا تو اس نے بے چارگی سے میری طرف چند لمحے دیکھا پھر اس نے حتمہ لہجے میں کہا

” مجھے استعفی ہی دینا پڑے گا ۔“

” دے دو ، لیکن حساب بے باق تو نہیں ہو گا۔“ میں نے ہنستے ہوئے کہا تو وہ منت بھرے انداز میںبولا

”خدا را میرے لئے امتحان والی صورت نہ بنا دیں ۔میں تو وہ کٹھ پتلی ہوں ….“ اس نے کہنا چاہا تو میں نے اس کی بات کاٹتے ہوے کہا

” آپ اگر منافق نہ ہوتے تو شاید میرا فیصلہ کچھ دوسرا ہوتا، منافق دھرتی کا بوجھ ہیں ،یہی میرا حتمی فیصلہ ہے ۔“

میں یوں کہنے پر وہ چند لمحے سوچتا رہا پھر اٹھتے ہوئے بولا

” ٹھیک ہے میں چلتا ہوں ۔“

میں نے اس کے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھا، اس سے ہاتھ ملایا تو اس نے سختی سے میرا ہاتھ دبا دیا ۔ گویا اس طرح کر کے اس نے مجھے باور کرانے کی کوشش کی تھی کہ جو چاہے کر لوں ، وہی ہوگا جو وہ چاہت گا ، اس اک ایک مطلب یہ بھی ہو سکتا تھا کہ اگر تم سخت ہوتو میں بھی ہوں ۔ اس کا مزید مطلب تھا کہ اگر تم سخت رویہ اپنائے ہوئے ہو تو میں بھی سخت ہوں ۔میں نے اس کے ہاتھ کے لمس کو محسوس کیا اور پھر خود بھی اس کا ہاتھ دباتے ہوئے بولا

”وقت ہی سب سے بڑا منصف ہوتا ہے راﺅ صا حب ، اب دیکھیں کس کے نصیب میں کیا ہے ۔“

” یہ تو ہے ۔“ یہ کہتے ہوئے اس نے میری آ نکھوں میں دیکھا پھر میرا ہاتھ چھوڑ کر تیزی سے باہر نکل گیا ۔

 ٭….٭….٭

شام ڈھل رہی تھی ۔میں سو کر اٹھا تو فریش تھا ۔ لاﺅنج کی جانب جاتے ہوئے میں نے اماں کو کچن میں دیکھا تو اس جانب بڑھ گیا ۔ ہماری ملازم ریشماں بھی وہیں تھی ۔ میں اماں کے پاس جا کر کھڑا ہو تو وہ صدقے واری ہو تے ہوئے بولیں

” آ ﺅ علی بیٹھو ۔“

” اماں ، خیر ہے آج کچن میں کیا بنانے میں مصروف ہیں ؟“ میں نے یونہی اماں کی جانب دیکھ کر کہا، حالانکہ زیادہ تر وہی کچن میں کام کر لیتی تھیں ۔ انہوں نے ممتا بھرے لہجے ،میں کہا

” تم ہو نا گھر میں ، تمہاری پسند کا کھانا بنا رہی ہوں ۔“

” اچھا ، ٹھیک ہے ، جلدی بنا لیں بڑی بھوک لگی ہے ۔“ میں نے کہا تو وہ ہنس دی پھر بولیں

”ابھی کچھ دیر اپنے بابا کے پاس جاﺅ ، تھوڑ ی باتیں کرو ، میں کچھ دیر بعد بلاتی ہوں تمہیں ۔“

” جی بہتر ۔“ میںنے کہا اورکچن سے نکلتا چلا گیا ۔

بابا اپنے کمرے میں تھے۔ان کے پاس اکبر بھائی بیٹھا ہوا تھا ۔ میں سلام کر کے ان کے پاس بیٹھ گیا تو اکبر بھائی نے بابا کیطرف دیکھتے ہوئے مجھ سے کہا

” علی تمہاری مصروفیات کچھ زیادہ نہیں بڑھ گئی ہیں ؟“

” ہاں ، ایسا تو ہے ۔“ میں نے سکون سے مانتے ہوئے کہا ۔ میں جانتا تھا کہ وہ بھی میرے بارے میں سب جانتے ہیں ۔ میں انہیں وقت ہی نہیں دے پا رہا تھا ۔ تبھی بابا نے کہا

” تم جانتے ہو کہ تمہارے ہی مشورے پر اکبر الیکشن لڑ رہا ہے ، اور تم اسے وقت نہیں دے رہے ہو ؟“

” جی بابا ، میں جانتا ہوں ۔لیکن ایسا نہیں کہ میں اس الیکشن سے غافل ہوں ۔“ میں نے مودب لہجے میں کہا

” یہ کیا بات ہوئی ؟“ انہوں انے الجھتے ہوئے پوچھا

” بابا، ایک ہوتے ہیں سامنے کے حالات ، جو سب کو دکھائی دے رہے ہوتے ہیں ۔اس میں جوڑ توڑ ہوتا ہے ، برادریوں کو علاقت کے ان لوگوں کو ساتھ ملانے کی کوشش کی جاتی ہے جن کے پاس ووٹ ہوتا ہے ۔ یا ….“میںنے کہنا چاہا تو وہ اکتائے ہوئے لہجے میں پوچھا

” اور جو سامنے نہیں ہوتے تم ان کے لئے محنت کر رہے ہو ؟ کیا تم یہی کہنا چاہتے ہو ؟“

” جی بالکل ، میں یہی کہنا چاہ رہا ہوں ۔آپ کو نہیں معلوم جو حالات دکھائی نہیں دے رہے ہیں ، وہ بہت گھمبیر ہو رہے ہیں ، بلکہ حالات کو ہمارے لئے ایسا بنایا جا رہا ہے کہ ہم اُلجھ کر رہ جائیں ۔“میںنے سکون سے بتایا

” ایسے کیا حالات ہیں ؟“ انہوںنے پریشان ہو تے ہوئے پوچھا تو میں بولا

” یہی تو بات ہے کہ میں آپ کے ساتھ شیئر نہیں کرتا ۔آپ پریشان ہو تے ہیں ۔آپ کی ساری توجہ اسی طرف ہو جائے گی ۔ آپ یہ مجھ پر چھوڑ دیں باقی آپ اپنا کام کریں ۔“

” علی مجھے صاف بتاﺅ ، بات کیا ہے ؟“ بابا نے سختی سے پوچھاتو میں چند لمحے خاموش رہا پھر بولا

”افضل سردار کبھی نہیں چاہے گا کہ یہ سیٹ اس کے ہاتھ سے چلی جائے ۔ وہ اس سیٹ کے لئے ہر ممکن حد تک جانے والا ہے ۔ یہ میں جانتا ہوں ۔یہ سیٹ جیتی نہیں جانی بلکہ اسے چھیننا پڑے گا ۔“

” ایسی کیا بات ہے ؟“ اکبر نے تشویش بھرے لہجے میں پوچھا تو میںنے اسے سمجھاتے ہوئے کہا

”اس کے ساتھ جتنے بھی لوگ ہیں ، وہ سب جرائم پیشہ ہیں ۔وہ لوگ پیسہ کما نہیں رہے تھے بلکہ پیسہ چھین رہے تھے ۔ وہ کس طرح چاہیں گے ان کا سب دھندہ بندہو جائے ۔ اس کے لئے انہیں خون کی ہولی بھی کھیلنا پڑی تو وہ کھلیں گے ۔“

” کیا ایسا بھی ہے ؟“ اکبر نے سنجیدگی سے پوچھا

” جی بالکل ، میں اس کا سامنا کر رہا ہوں ۔لیکن ایک بات یاد رکھنا ، یہ الیکشن ہم نے ہی جیتنا ہے ۔“ میںنے کہا تو اکبر ہنس دیا ، اس نے مسکراتے ہوئے کہا

”میں مانتا ہوں ، ایسا ممکن ہے ، مجھے اس کا سب احسا س ہے ۔افضل کسی بھی حد تک جا سکتا ہے ۔“ اکبر نے میری بات سمجھتے ہوئے کہا

” بس پھر محتاط رہنا ۔وہ جو بھی کرے ، اس کا رد عمل نہیں دینا ، میں ہوں یہ سب کر نے کے لئے ۔“ میںںے ہنستے ہوئے کہا

” مجھے تیری کوئی بات سمجھ میں نہیں آ رہی ۔“ بابا نے الجھتے ہوئے کہا تو میںنے ہنستے ہوئے کہا

” آپ چھوڑیں ان باتوں کو ، آپ بس وہ کریں جو آپ نے کرنا ہے ، برادریوں کو اکھٹا کریں ۔جہاں کہیں مشکل ہو تو مجھے بتا دیں ۔“ میںنے حتمی لہجے میں کہا تو وہ خاموش ہو گئے ۔ میں اکبر سے پوچھنے لگا کہ حالات کیسے چل رہے ہیں ۔ وہ مجھے بتاتا رہا ۔اس دوران بابا نے کہا

” یہ جو تم نے نشیﺅں کا علاج کروایا ہے ، وہ تو پورا گاﺅں ہمارے ساتھ ہے مگر اس کے ساتھ والا گاﺅں ہے ، وہاں سے خبریں ٹھیک نہیں آ رہی ہیں ۔ وہ لوگ ہمارے مخالف ہیں ۔“

” کیا کہتے ہیں وہ ؟“ میںنے پوچھا

” وجہ تو کوئی نہیں بتاتے لیکن یہی سننے آ رہے ہیں کہ اگر ہم وہاں ووٹ مانگنے گئے تو وہ ہمارے ساتھ برا پیش آ ئیںگے ۔“ بابا نے تشویش بھرے لہجے میں کہا

” کچھ نہیں ہوتا ، وہی ہمارے لئے کام کر یں گے ۔آپ بس کاغذات جمع کروائیں ۔“ میںننے انہیں حوصلہ دیتے ہوئے کہا تو اکبر علی نے کہا

” تایا جی ایسا تو ہوتا ہی رہتا ہے سبھی کہاں حمایت کرتے ہیں ۔ مخالفت تو ….“

” اس طرح نہیں ہوتی جیسا وہ کہہ رہے ہیں ۔“ بابا نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا

” کوئی بات نہیں میں دیکھ لوں گا ، جو میںنے کہا ہے وہی ہوگا ۔ کہا ہے نا جو مشکل ہو مجھے بتا دیں ۔“ میں نے اعتماد سے کہا تو بابا خاموش ہو گئے ۔

” کل کاغذات جمع کروانے ہیں ۔میرا خیال ہے کہ وہی جو روائتی انداز ہے ، ویسے نہیں جانا ۔بلکہ سکون سے جائیں گے اور ….“ اس نے کہا تو میں بولا

” ارے یار ۔خوب دھوم دھڑکے سے جانا ، میں بھی ساتھ جاﺅں گا۔ آپ نے بندے اکھٹے کئے ہیں یا نہیں ؟“

” نہیں ، میرے خیال میں ….“ اس نے کہنا چاہا تو میں نے بات کاٹتے ہوئے کہا

” ارے نہیں یار ، علاقے میں پتہ چلنا چاہئے ۔“

” کیا کہتے ہیں آپ؟“ اس نے بابا سے پوچھا تو وہ ہولے سے بولے

” جیسے یہ کہتا ہے ، ویسے کر لو ۔“

”میں ابھی لوگوں سے کہتا ہوں ۔آپ بھی کریں کوشش ۔“ میں نے کہا اوراپنا سیل فون نکال لیا۔ میںنے اپنے چند دوستوں کو کال کی اور لوگوں کو جمع کرنے کا کہا ۔اسی دوران عارف کا فون آ گیا ۔ میںنے اس کی کال رسیو کرلی ۔

” کہاں ہو ، میرے خیال میں حویلی میں ہو گے ۔“

” تمہارا اندازہ بالکل درست ہے ۔“ میںنے خوشگوار لہجے میں کہا تو وہ بولا

” اچھا وہ میرے مہمان آ رہے ہیں ، کچھ دیر میں تم تک پہنچ جائیں گے ۔“

” مطلب یہاں حویلی میں ؟“ میںنے پوچھا

” ہاں ہاں ، کچھ دیر وہ تمہارے پاس ٹھہریں گے ، تم انہیں لے کر اپنے مہمان بنا کر روہی لے آ نا ۔“ اس نےمجھے سمجھاتے ہوئے کہا تو میں بولا

” اوکے اوکے میں سمجھ گیا ۔میں سب دیکھ لوں گا ۔“

 ” اوکے پھر میں تمہارا انتظار کر رہا ہوں ۔“ اس نے کہا اور پھر کال ختم کر دی ۔میںنے سیل فون دوبارہ جیب میں رکھتے ہوئے اکبر علی سے کہا

” اکبر یار، میرے کچھ مہمان آ رہے ہیں ، انہیں لے کر مجھے روہی جانا ہے ۔ باقی تم دیکھ لینا ۔“ میںنے کہا اور ٹھ کر کچن کی جانب چلا گیا ۔مجھے اماں کو بتانا تھا کہ مہمان آ رہے ہیں ۔

تقریباً آ دھے گھنٹے بعد مہمان آ گئے ۔ پورچ میں فو وہیل رکی تو اس میں سے دو ادھیڑ عمر مرد تھے ۔ ایک فربہ مائل اوردوسرا مضبوط جسامت والا لمبا سا تھا ۔اس کے پیچھے چوڑے شانوں والی ، مرد نما ادھیڑ عمر خاتون تھی ، جس کا چہرہ کسی بھی میک اپ جیسی شے سے بے نیاز تھا ۔اس کے پیچھے ایک جواں سال لڑکی تھی ۔ اس کا چہرہ بھی بالکل سادہ تھا ۔ موٹی بھنوئیں ، کالی آ نکھیں ، گلابی چہرہ اور درمیانے سے قد کی پتلی سی ۔اس نے جین اور شرٹ پہنی ہوئی تھی ۔ اس کے ساتھ سلیو لیس جیکٹ تھی ۔دائیں ہاتھ میں ہلکی سی گھڑی اور پاﺅں میں بندلیدر شوز تھے ۔ ڈرائیونگ سیٹ پر جو نوجوان بیٹھا ہوا تھا، وہ عارف کا خاص آ دمی تھا ۔ میں نے مسکراتے ہوئے سب سے مصافحہ کیا اور انہیں لے کر لاﺅنج میں آ گیا ۔وہ سب صوفوں پر بیٹھ گئے تو ایک ادھیڑ عمر فربہ مائل نے اپنا تعارف کراتے ہوئے کہا

” مجھے ڈاکٹر سہیل طارق کہتے ہیں۔“

” او ر میں ڈاکٹر مصدق اظہار ہوں ۔“ مضبوط جسامت والے ادھیڑ عمر نے کہا

” میں عالیہ ہدایت اور ان کی طرح ہی ڈاکٹر ہوں ۔“ ادھیڑ عمر خاتون نے بتایا تو نوجوان لڑکی نے سنجیدگی سے کہا

” میں رابعہ صمد ہو ں۔ابھی ڈاکٹر نہیں ہوں ۔“

” میر اتعارف تو ہوگا آپ سے ، مجھے ….“میںنے کہنا چاہا تو رابعہ بولی

” جی علی ، آپ کے بارے میں ہمیں بتا دیاگیا ہے ۔“

” میرا خیال ہے باتیں تو چلتی ہی رہیں گی ، ہم ڈنر لے لیں ۔“ میں نے ان سب کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا

” بالکل ڈنر لیتے ہیں ۔ پھر چائے پی کر ہی نکلیں گے ۔“ میڈم عالیہ نے بتایا تو میں اٹھ کھڑا ہوا ۔

ڈنر پر چونکہ سبھی گھر والے ساتھ تھے ، اس لئے سوائے ادھر اُدھر کی باتوں کے کوئی خاص بات نہیں ہوئی ۔خوشگوار ماحول میں ڈنر کے بعد ہم نے لاﺅنج میں چائے پی ۔ پھر کچھ دیر بعد ہم روہی کے لئے روانہ ہو گئے ۔

عارف ہمارا منتظر تھا ۔ تما م راستے میرا اس سے رابطہ رہا ۔ مجھے ان کی باتوں سے یہی پتہ ملا کہ وہ تینوں ادھیڑ عمر مختلف شعبوں سے تعلق رکھتے تھے اور اپنے اپنے شعبے میں ماہر ترین تھے ۔ رابعہ ان کے ساتھ اسسٹنٹ کے طورپر تھی ۔ میں نے ان کی باتوں میں مداخلت نہیں کہ بلکہ خاموشی سے ان کی باتیں سنتا رہا ۔وہی نوجوان ڈرائیونگ کر رہا تھا اور میں اس کے ساتھ بیٹھا ہوا تھا ۔

رات کا پہلا پہر ختم ہو نے کو تھا کہ ہم روہی میں اس ڈیرے پر جا پہنچے جہاں عارف اور اس کے ساتھی موجود تھے ۔اگر چہ میرا ان کے ساتھ کوئی کام نہیں تھا بس دنیا دکھاوے کے طور پر انہیں میں اپنے ساتھ لایا تھا ۔ تاہم مجھے بھی تجسس تھا کہ آ خر یہاں ہو کیا رہا ہے کہ اتنے ماہرین کو یہاں آ نا پڑا۔وہاں جاتے ہی عارف نے انہیں اپنے حصار میں لے لیا ۔ ایک ان دیکھا پروٹوکول اور حفاظتی حصار دینا اس کی ڈیوٹی تھی ۔ میرے پاس کرنے کے لئے کوئی کام نہیں تھا ۔ مجھے بس ان کے ساتھ رہنا تھا ۔ ڈیرے کے ایک کونے میں بار بی کیوکا اہتمام کیا گیا تھا ۔ مہمانوں کے لئے خاص طور پر ہرن کا گوشت تیار تھا ۔میں اندر ایک کمرے میں گیا تو وہاں اکیلا بخشو ایک چار پائی پر بیٹھا ہوا تھا ۔ مجھے دیکھتے ہی روائتی طریقے سے ملا ۔ میرے بیٹھتے ہی وہ دوسری چار پائی پر بیٹھ گیا ۔وہ مجھ سے وہاں کی باتیں کرنے لگا ۔ تقریباً آ دھے گھنٹے کے بعدعارف نے مجھے بلا بھیجا ۔ وہ سب بار بی کیوں والے کونے میں کھڑے تھے ۔ ان کے ہاتھوں میں پلیٹیں تھیں ، قریب ہی سودے کی بوتلیں تھیں ۔ میںان کے پاس گیا تو وہی بات چل رہی تھی کہ کس طرح مکھ مل کے ناچ کے دوران وہ بجلی گری تھی ، جبکہ آ سمان پر بادل کا ایک ٹکرا بھی نہیں تھا ۔ تبھی میں نے کہا

” اس مکھ مل نامی لڑکی نے ایسا کئی بات دیکھا ہے ۔“

”رائیلی ….“ ڈاکڑ مصدق نے دلچسپی لیتے ہوئے پوچھا

” جی اس نے مجھے خود بتایا تھا ۔“ میںنے بتایا

”کیا وہ لڑ کی ہمیں مل سکتی ہے ؟“ یہ کہہ کر اگلی ہی سانس میں اس نے کہا ،” مطلب ہمارے سامنے وہ پھر ایسی بات کر سکتی ہے ؟“

” کیوں نہیں ، اگر وہ کہیں گئی نہ ہوئی تو ہم ابھی اسے بلا لیتے ہیں ۔“ میںنے کہا تو میڈم عالیہ نے کہا

” اسے فور اً بلاﺅ ۔“

میںنے اندر سے بخشو کو بلایا ۔ وہ آ گیا تو میںنے اس کی طرف دیکھ کر اپنے اندازز میں پوچھا

” اوئے بخشو تمہیں پتہ تھا کہ میرے مہمانوں نے یہاں آ نا تھا؟“

” نہیں سائیں ، مجھے نہیں پتہ تھا ، بس تھوڑی دیر پہلے پتہ چلا ، مجھے صفائی کے لئے کہا گیا تب ۔“ یہ کہتے ہوے اس نے ہاتھ جوڑتے ہوئے پوچھا ،” کوئی غلطی ہو گئی سائیں ۔“

” اُو نہیں یار ، مکھ مل کو بلانا تھا ، اس کے ساتھ ہی رات رنگین ہو تی ہے ۔“ یہ کہتے ہوئے میں نے اسے آ نکھ ماری تو وہ خوش ہو گیا ۔اسکے ساتھ ہیجیب میں ہاتھ دال کر فون نکالتے ہوئے بولا

” ابھی پوچھ لیتے ہیں سائیں ۔“

اس نے فون پر نمبر ملائے اور پھر بات کر نے لگا ۔ وہ بات کر چکا تو میںنے پوچھا

” ہاں ، کیا کہتی ہے ۔“

” آ رہی ہے سائیں ۔“ اس نے بتا ی ا

” تو چلو پھر اپنے ساتھ بندے لو ، اور جا کر بندو بست کرو۔“ میںنے کہا تو وہ فوراً پلٹ گیا ۔

ان چاروں کے علاوہ میں اور عارف ان کے پاس کھڑے تھے ۔ ایک نوجوان بار بی کیو کے لئے کھڑا تھا ۔ ہم سب کھا رہے تھے ۔ عارف اسے انہیں اب تک کی وی ساری معلومات دے رہا تھا جو اسے معلوم تھیں ۔آ نکھوں دیکھا احو ا ل تھا ۔ وہ بہت غور سے سن رہے تھے ۔

جب ہم کافی کھا پی چکے تو عارف کے ساتھ ہم ڈیرے سے باہرٹیلوں کی جانب چل دئیے ۔ یہی باتیں کرتے ، روہی کے بارے میں باتیں کرتے ہم اس ٹیلے پر جا پہنچے جہاں مکھ مل ناچی تھی اور وہیں بجلی گری تھی ۔ اس سے ذرا سے فاصلے پر بخشو کچھ لوگوں کے ساتھ بندو بست کر رہا تھا ۔ اس نے دریاں بچھا دیں ۔ جنریٹر لا کر رکھ دیا تھا بس پول نصب کر رہے تھے ۔ہم ان سے تھوڑے فاصلے پر جا کر کھڑے ہو گئے ۔

” سر آپ کی معلومات کیا ہیں ، آپ کیا کہتے ہیں اس کے بارے میں ؟“ عارف نے ڈاکٹر مصدق کی طرف دیکھ کر پوچھا تو وہ سر ہلاتے ہوئے بولا

”میں کل بتاﺅں گا ، لیکن وہ بھی حتمی بات نہیں ہوگی ۔“

” سر کیا یہ اتنا ہی پیچیدہ بات ہے ؟“ میںنے اکتائے ہوئے انداز میں پوچھا

” جو ہم سوچ رہے ہیں ،ممکن ہے اُ س سے بھی زیادہ ہو ۔خیر یہ ا بھی ایک مفروضہ ہے ۔ اصل میںکیا سامنے آ تا ہے، اس پر ہم بعد میں بات کریں گے ۔“ ڈاکٹر مصدق نے یوں کہا جیسے وہ اس پر بات نہیں کرنا چاہتا ہے ۔وہ خاموش ہو گیا ۔عارف کے پاس بھی وہ معلومات ختم ہو گئی تھیں ، جو اب تک وہ دے چکا تھا ، اس پر مزید کہنے کے لئے کچھ نہیں تھا ۔میں وہاں سے ان لوگوں کی طرف چل پڑا ، جو انتظامات کر رہے تھے ۔ انہوں نے ویسا ہی ماحول بنا دیا تھا ۔ روشنی ہو گئی تھی ۔ جنریٹر چل رہا تھا ۔ دریاں بچھ چکی تھیں ۔

زیادہ وقت نہیں گزرا تھا کہ مکھ مل اپنے سازندوں کے ساتھ آگئی ۔ ہم سب اس کی جانب متوجہ ہو گئے ۔آج بھی اس نے وہی سیاہ لباس پہنا ہوا تھا ۔ بڑا سارا چمک دار گھاگھرجو ناف سے کافی نیچے تک تھا ۔ اس کی انتہائی مختصر سیاہ چولی تھی ۔جس سے اس کے کاندھے عیاں تھے ۔ اس نے ایک بڑی ساری چادر اوڑھ رکھی تھی ۔سازندے اپنے ساز بجانے لگے اور وہ تھرکنے لگی۔ یوں لگا جیسے صحرا بھی اس کے ساتھ تھرکنے لگا ہو ۔وہ ایک الگ سا ناچ تھا ۔ اس کے ساتھ وہ گا بھی رہی تھی ۔ تقریباً ایک گھنٹے تک وہ ناچتی رہی ، گاتی رہی ۔ ویسا کچھ بھی نہیں ہوا ، جیسا ہم تو قع کر رہے تھے ۔مکھ مل تھک چکی تھی ۔وہ کچھ دیر سانس لینے کو بیٹھی تو ڈاکٹر عالیہ نے کہا

” میرا خیال ہے اس دن اتفاق ہوگا ۔ “

” ممکن ہے ۔“ ڈاکٹر مصدق نے کہا تو ڈاکٹر سہیل بولا

” چلیں واپس ڈیرے پر چلتے ہیں اور لڑکی سے باتیں کر تے ہیں ۔“

اس پر عارف نے میری طرف دیکھا۔ میں سمجھ گیا کہ وہ کیا چاہتا تھا ۔ مکھ مل سے بات کرنا اور اس سے معلومات لینا بھی ضروری تھا لیکن اسے پتہ بھی نہیں چلنا چاہئے تھا۔میں نے اس ایک طرف آ نے کا اشارہ کیا ۔ وہ غیر محسوس انداز میں الگ ہو ا اور میرے پاس آ کر یہی بات کہہ دی

”اب ایک دم تو اس سے بات نہیں کی جا سکتی ۔اس موضوع پر لانے کے لئے اسے راہ پر لانا تو ہوگا ۔“

” کچھ بھی کرو، یہ سب غیر محسوس انداز میں ہو نا چاہئے ۔“

” چلو میں کرتا ہوں کچھ ، تم اپنے مہمانوں کو سنبھالو ، انہیں لے چلو ۔“میں نے کہا تو وہ مجھ سے الگ ہو کر مہمانوں کے ساتھ ڈیرے کی جانب چل دیا ۔ میں جانتا تھا کہ بخشو میرے پاس آ ئے گا تاکہ مکھ مل اور سازندوں کو رقم دی جائے ۔جب سارے چلے گئے ، سازندے اور مکھ مل وہیں رہ گئی تو بخشو میرے پاس آ گیا ۔ میںنے اسے رقم دی ۔ وہ لے کر سازندوں کی جانب چلا گیا ۔ میں نے دیکھا ، انہی لمحات میں مکھ مل میری طرف دیکھ رہی تھی ۔ میںنے اسے اشارے سے اپنے پاس بلا لیا ۔ وہ مجھ سے ذرا فاصلہ چھوڑ کر کھڑی ہوئی ۔ میں نے اس کے صحرائی حسن کو دیکھتے ہوئے کہا

” مکھ مل ، کیا ایسا نہیں ہو سکتا ،آج رات ہم دونوں کچھ دیر تنہائی میں بیٹھ کر باتیں کریں ۔“

میرے یوں کہنے پر اس نے چونک کر مجھے دیکھا۔ اس کی آ نکھیں چمک اٹھیں تھیں ، جیسے میں نے کوئی انہونی بات کہہ دی ہو ، پھر ایک دم سے مرجھا گئی ۔ وہ چند لمحے سوچتی رہی پھر بولی

” سائیں ، جی صدقے ، میں باندی ایک رات کیا جتنی راتیں کہو ، رہنے کو تیار ہو ں پر ….“

” پر کیا ….؟“ میں نے پوچھا

”شاید جو کچھ تم چاہتے ہو ویسا ممکن نہ ہو پائے ۔“ اس نے دھیمے سے انداز میں کہا تو مجھے حیرت ہوئی

” میں سمجھا نہیں ؟“ میں نے پوچھا

” آپ مجھ سے چاہتے کیا ہو ؟“ اس نے صاف بات پوچھ لی تو میں نے کہا

” بس تمہیں پاس بٹھا کر ، تم سے بہت ساری باتیں کرنا چاہتا ہوں ۔“

” بس اتنا ہی ….؟“ اس نے دبے دبے جوش سے پوچھا تو میں نے سکون سے کہا

” ہاں تو اور کیا ۔“

” ٹھیک ہے ، جیسا آ پ کہو ۔“وہخوش ہو تے ہوئے بولی

” اپنے ان سازندوں کو واپس بھیج دو ، صبح ہم تمہیں بحفاظت تمہاری بستی پہنچا آ ئیں گے ۔“میںنے اعتماد سے کہا تو خوش ہو تے ہوئے بولی

” کوئی بات نہیں ، بخشو چھوڑ آ ئے گا ، یا کوئی آ کر لے جائے گا ۔ ٹھہرو ، میں انہیں بتا دوں ۔“ اس نے کہا اور اپنے سازندوں کی جانب چلی گئی ۔ وہ کچھ دیر تک انہیں سمجھاتی رہی ، وہ سر ہلاتے رہے ۔ کچھ دیر بعد مکھ مل میرے پاس آ کر بولی

” لو سائیں ، میں صبح تک تمہارے ہی پاس ہوں ۔“

” آ ﺅ چلیں ۔“ میںنے اسے ڈیرے کی مخالف سمت چلنے کو کہا تو میرے ساتھ چل دی ۔ہم دنوں چلتے گئے ۔ میں اس سے یونہی اس کے بارے میں پوچھتا رہا ۔وہ بتاتی رہی ۔یہاں تک کہ ہم اندھیرے میں آ گئے ۔میں نے اسے تھوڑا سا بے تکلف کرنے کے لئے اس کا ہاتھ پکڑ لیا ۔ تبھی مجھے احساس ہوا کہ وہ لرز رہی تھی ۔میں چونک گیا ۔

” مکھ مل تم کانپ رہی ہو ؟ کای مجھ سے کوئی خوف ہے تو ہم واپس چلتے ہیں ؟“ میں نے کہتے ہوئے اس کا ہاتھ چھوڑ دیا تو اس کی خمار بھری آ واز اندھیرے میںابھری

” نہیں سائیں ، ایسی بات نہیں ، میں تو تیرے ساتھ کی وجہ سے کانپ رہی ہو ں ۔کہاں آپ اور کہاں میں ….“

 ” مت گھبراﺅ، میں تمہیں کچھ نہیں کہوں گا ، جو تم سوچ رہی ہو ۔“ میں نے اسے اعتماد دیتے ہوئے کہا

” یہی تو دکھ ہے سائیں ، تم مجھے اپنے قریب نہیں کر سکو گے ۔مجھے بھی یہی حسرت رہے گی ، میں یہاں تنہائی میں تمہارے ساتھ ہوں پر ….“ وہ کہتے ہوئے رُک گئی ، میں سمجھ نہ سکا کہ ہو ایسا کیوں کہہ رہی ہے ۔ میں نے سامنے ٹیلہ دیکھ کر اس سے کہا

” اچھا تم تھک گئی ہو گی ، کچھ دیر یہاں بیٹھتے ہیں ، پھر واپس چلتے ہیں ، کمرے میں بیٹھ کر باتیں کریں گے ۔“

” جیسے حکم سائیں ۔“ اس نے کہاتو میں ٹیلے پر بیٹھ گیا ، وہ بھی میرے ساتھ بیٹھ گئی ۔تبھی ایک ناخوشگوار بو میرے نتھنوں سے ٹکرائی ۔ ہلکی ہلکی بو سے الجھن ہونے لگی تھی ۔

” چلو یہاں سے مکھ مل ، یہاں بُو آ رہی ہے ۔“ میںنے کہا تو وہ بولی

” سائیں میں جہاں بھی ہو ں گی ، یہ بُو آ ئے گی ۔“

” مطلب یہ بُو تم سے آ رہی ہے ؟“ میںنے حیرت سے پوچھا تو وہ بولی

” ہاں ، یہ مجھ ہی سے آ رہی ہے ۔ “

” تم ….؟“ میں نے کہنا چاہا لیکن کہنے کو میرے پاس لفظ نہیں تھے ۔ اس لئے وہ بولی

” یہ بد بو ہمیں محسوس نہیں ہوتی لیکن دوسروں کو ہم سے بُو آ تی ہے ۔ہمارا سارا قبیلہ ہی ایسا ہی ہے ۔ اسی لئے وہ سازندے مجھے بے خوف یہاں چھوڑ گئے ہیں ۔“

” یہ کیوں آ تی ہے بُو؟“ میں نے پوچھا

” شاید ہم سب کچھ کھا جاتے ہیں ، وہ جانور بھی جو مردہ ہو گئے ہوں ، جنہیں آپ حرام سمجھتے ہیں ۔“ اس نے وضاحت کی تو میں سمجھ گیا کہ وہ کس صحرائی قبیلے سے تعلق رکھتی تھی ۔

” پھر تم گھبرا کیوں رہی ہو ؟“ میںنے پوچھا

” میں کب گھبرا رہی ہوں سائیں ، میں تو خود چاہتی ہوں کہ تم مجھ پر بارش کی طرح برس جاﺅ ، مجھے پوری طرح بھگو دو ۔ جل تھل کر دو ۔ نجانے کب کی پیاسی ہوں ۔“ یہ کہتے ہوئے اس کی آ واز لرزنے لگی تو میں پر سکون ہو گیا ۔ میں نے خود پر جبر کرتے ہوئے اس کا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے کہا

” مکھ مل ، میں ایسا نہیں ہوں ، مجھے تمہارا ناچ اچھا لگا ، تم اچھی لگی ہو ، تم خوبصورت ہو ، پیاری ہو ، دل کیا تمہارے ساتھ کچھ وقت گزارا جائے ،بس اتنا ہی ، مجھے تمہارے جسم کی کوئی طلب نہیں ۔“

”لیکن میں اور میری قسمت ، کنویں کے پاس آ کت بھی پیاسی ہوں ۔“ اس نے دکھ بھرے لہجے میں کہالیکن میں نے اس کی بات نظر انداز کر دی ۔چند لمحے یونہی خاموشی میں گزر گئے تو میں نے اس سے کہا

”آ ﺅ ڈیرے پر چلتے ہیں ، وہیں بیٹھ کر باتیں کریں گے ۔ تم کچھ پینا بھی چاہو تو وہاں سے پینے کو بھی مل جائے گا ۔“

” چلو ۔“ اس نے کہا اور اٹھ گئی ۔ سناٹے میں اس کے کنگن اور پائل چھنک اٹھی تھیں۔ میںنے مکھ مل کے لئے بخشو سے کچھ پینے پلانے کا بندوبست کر نے کو کہا

ہم ڈیرے پر آ گئے ۔ ڈیرے کے صحن میں لکڑیوں جوڑ کر آگ لگائی ہوئی تھی ۔ تینوں ڈاکٹر، اسسٹنٹ اور عارف وہاں کر سیو ں پر بیٹھے ہوئے تھے ۔ہم بھی خالی پڑی ہوئی کرسیوں پر جا بیٹھے ۔ وہیں بات اس کے ناچ ہی سے شروع ہوئی تھی ۔ تبھی عارف نے سلسلہ جوڑتے ہوئے کہا

” پچھلی بات بہت مزہ آ یا تھا لیکن وہ اچانک ایک عجیب سا واقعہ ہوا ، بجلی گری تو سب مزہ ہی جاتا رہا ۔“

” عجیب سی بجلی ، کیا مطلب ؟“ ڈاکٹر عالیہ نے یہیں سے بات کو اٹھا لیا ۔ انہی باتوں کے دوران بخشو نے مکھ مل کو ایک گلاس میں شارب دے دی ۔ وہ ایک ہی سانس میں پی گئی اور مزید کی طلب کی ۔ تب تک میں نے مکھ مل سے کہہ دیا کہ وہ بھی کچھ بتا رہی تھی ۔ اس نے جو دیکھا تھا ، وہ بتانے لگی ۔سب غور سے سنتے رہے ۔درمیان میں کوئی سوال بھی ہو جاتا ۔ بخشو ایک بار پھر اسے گلا س دے گیا ، وہ گھونٹ گھونٹ پینے لگی۔کافی دیر تک باتیں کر تے رہنے کے بعد ڈاکٹر عالیہ نے کہا

” میرا خیال ہے کہ اب سویا جائے ۔ باقی باتیں صبح کر لیں گے ۔“

گویا یہ اعلان تھا کہ اب مکھ مل کے پاس مزیدکوئی بات نہیں ہے ۔ ان کی دلچسپی ختم ہو گئی تھی ۔ وہ سارے اٹھ کر اندر چلے گئے تھے ، جہاں ان کے لئے بستر لگے ہوئے تھے ۔ میں اور مکھ مل وہیں آ گ کے پاس بیٹھے رہے ۔بخشو اسے تیسرا گلاس دے کر جا چکا تھا ۔ مکھ مل کھوئی ہوئی میرے سامنے بیٹھی ہوئی تھی ۔ سیاہ گھاگھرا ، چولی اور چادر لئے وہ میرے سامنے تھی ۔اس کی نگاہوں میں مستی چھائی ہوئی تھی ۔کچھ دیر بعد وہ مخمور سے لہجے میں بولی

” سائیں ، یہ تمہارے مہمان کچھ عجیب سے نہیں ہیں ؟“

” عجیب سے مطلب ؟“ میں نے چونکتے ہوئے پوچھا

”مجھے تم بھی عجیب لگتے ہوسائیں ۔“ اس نے دکھ بھرے لہجے میں میری جانب دیکھتے ہوئے کہا

” میں بھی ….“ میں نے حیرت سے کہا پھر اس کی حالت سمجھتے ہوئے مسکرا کر بولا،” نہیںمکھ مل ، کوئی بھی عجیب نہیںہے ، تم بھی نہیں ہو، عجیب وہ شے ہے جس اس وقت تماہرے اندر جا کر اپنا رنگ دکھا رہی ہے ۔“

” نہیں سائیں نہیں یہ بات نہیں ہے ۔جتنی میں نے پی لی ہے ، اس سے چار گنا بھی پلا دو تو مجھے کچھ نہیں ہوتا ، میں پورے ہوش میں ہوں ۔“اس نے ایک ٹک میری جانب دیکھتے ہوئے کہا

” ہر شرابی یہی کہتا ہے ۔“ میںنے عام سے لہجے میں کہا

”میں سمجھ رہی ہو ں سائیں ، پوری بات سمجھ رہی ہوں ۔ تم بھی مجھے اکیلے میں کیوں لے کر گئے ۔“

”کیوں لے کے گیا ؟“ میں نے پوچھاتو وہ دکھ اور احتجاج بھرے لہجے میں کہتی چلی گئی

” اگر تم مجھے اکیلے میں لے جاتے ، چاہئے کچھ بھی نہ کہتے ہم واپس آ جاتے تو مجھے دکھ نہ ہوتا ، لیکن یہ جو یہاں لا کر ، پلا کر ، مجھ سے باتیں پوچھی جا رہی ہیں ، یہ عجیب ہے ، بلکہ اب مجھے عجیب نہیں لگ رہا ، تم صرف مجھ سے باتیں پوچھنے کے لئے مجھے خوبصورت بھی کہہ رہے ہو ، پیاری بھی کہہ رہے ہو ، میرا ناچ بھی اسی لئے پسند ہے اور ….“

” اور کیا ….؟“ میںنے غصے میں کہا تو وہ بولی

” یہ جس بجلی کی بات کرتے ہیں نا ، مجھے پتہ ہے ، ایسا کیوں ہوتا ہے ۔لیکن یوں نہ پوچھتے مجھ سے ….“ اس نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا

” تمہیں پتہ ہے ؟“ میںنے پوچھا

” ہاں مجھے پتہ ہے ، سب پتہ ہے ۔“ یہ کہہ کر اس نے میری طرف غور سے دیکھا ، پھر بولی ،” تم کہہ رہے ہو سائیں کہ میں نشے میں ہوں ، میں نشے میں ہوتی تو سب کہہ دیتی ، میں نشے میں نہیں ہوں تو یہ ساری باتیں سمجھ گئی ہوں ۔“

” اچھا کیا ہے پھر ،یہ بجلی ….“ میں نے کہنا چاہا تو وہ بولی

”میری پیاس بجھا دو ، میں سب بتا دوں گی ۔“ اس نے اپنے لبوں کو زبان تر کرتے ہوئے کہا تو میں میرے اندر ایک دم سے غصہ ابھر کر میرا دماغ خراب کرنے لگا ۔

(ان شاہ اللہ ۔ باقی آ ئندہ )

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

شہر دل کے باسی نفیسہ سعید قسط نمبر 1

حویلی کی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی۔ دالان میں بچھی دریوں پرلڑکیاں، بالیاں جمع …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے