سر ورق / کہانی / بڑا ہاتھ …. گل جان

بڑا ہاتھ …. گل جان

بڑا ہاتھ
گل جان

کام چھوٹا بڑا نہیں ہوتا لیکن پھر بھی پتا نہیں کیوں انسان بڑا ہاتھ مارنے کا سوچتا رہتا ہے ۔

وقت اس کے ہاتھ سے نکل گیا تھا
اور وہ عمر کے اس حصے میں تھا جہاں نوجوان انسان اگلی منازل طے کرنے کے بعد جدو جہد شروع کر دیتے ہیں کام شادی بچے ترقی اور بعد میں ایک پر سکون زندگی کا آ غاز لیکن وہ کبھی بھی کچھ نہ کر پایا ہاتھ پر ہاتھ دھڑ کر بیٹھا ہی رہااور وقت ضائع کرتا رہا اب وہ بالکل ہی ہمت چھوڑ کر بیٹھ گیا تھا اسے ایسا لگتا تھا کہ جیسے وہ کبھی بھی کڑوڑ پتی نہیں بن پائے گا ۔
طارق نے کبھی بھی چھوٹا کام کرنے کے بارے میں کبھی نہ سوچا ہمیشہ بڑے کام کو ہی ترجیع دی کبھی بھی ایک جگہ ٹک کر کام نہ کر پایاجہاں جہاں طارق کے باپ کا ہاتھ پڑا وہاں وہاں وہ طارق کو لگواتا رہا لیکن جب طارق نے ہڈ حرامی کا ثبوت دینا شروع کر دیاتو طارق کے گھر والوں نے بھی اس سے منہ موڑ لیا ، ایک ایک کر کے سارے رشتے طارق سے کوسوں دور ہوتے چلے گئے طارق کا باپ بہن بھائی یہاں تک کہ جگری یار بھی جن کو طارق اپنی چکنی چپڑی باتوں میں الجھا کر ان سے مطلب نکلوانے کی کوشش کرتا رہااور ان سے پیسے نکلوا کر اپنا مطلب پور ا کرتا رہا ، سارے دوست جان چکے تھے کہ طارق کی اصلیت کیا ہے اور گھر میں طارق کی حیثیت کیا ہے گھر والوں نے طارق کو اس کے حال پر چھوڑ دیا تھا ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
زندگی کی رفتار بڑی تیزی سے گزرتی جا رہی تھی ۔
جیسے پہلے کی طرح طارق وقت کو پکڑ نہ سکا اب بھی طارق نے وقت ضائع کرنے کی ٹھان رکھی تھی اور سارے کا سارا ملبہ وہ اپنے جگری دوست ذولفقار زلفی پر ڈالتا رہا کہ میرا وقت ضائع کرنے والا صرف اور صرف زلفی ہی ہے کیسی عجیب بات ہے وقت ضائع ہم کرتے ہیں اور سارے کا سارا الزام ہم اپنے کسی دوست پر ڈال دیتے ہیں وہ دوست جو ہماری ہر ضروریات کا خیال رکھتا ہے پیار کرتا ہے ہمارا احساس کرتا ہے لیکن ہم اسے جیتے جی مار ہی ڈالتے ہیں اور مرنے کے بعد اس کی برائیاں شروع کر دیتے ہیں اس کی کسی رحم دلی کو یاد نہیں رکھتے ،
اس کے کندھوں پر بندوق رکھ کر اس سے اس کی زندگی کا دارو مدار چھین لیتے ہیں ۔
نہر کنارے ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر طارق ایک لمبا ہوکا بھڑتا ہے اور دل ہی دل میں اپنے دوست زولفقار زلفی کو کوستا ہے ،
زلفی کے طارق کو چھوڑنے کی سب سے بڑی وجہ اس کی فیملی اور ماں باپ تھے جن کے لیے وہ کچھ کرنا چاہتا تھا دس سال تک وہ طارق کی ہر چھوٹی موٹی ضروریات کو پورا کرتا رہا کبھی اسے لیپ ٹاپ لے کر دینا ، کبھی موبائل لے کر دینا کبھی کپڑے دلوانا ، کبھی کسی اچھے ہوٹل سے کھانا کھلانا وغیرہ وغیرہ لیکن طارق زلفی سے بڑا کام لینا چاہتا تھا کہ زلفی پیسے لگوا کر کسی نہ کسی طرح طارق کو باہر بھجوا دے لیکن زلفی کی دولت کی چابی صرف اور صرف اس کے باپ کے پاس تھی اور زلفی کا بھی حال کچھ طارق جیسا ہی تھا ، زلفی کو دس سال بعد احسا س ہو گیا تھا کہ طارق کے ساتھ رہ کر وہ کبھی بھی اپنے خوابوں کو پورا نہیں کر سکے گا لہذا وہ خود ہی طارق کو بتائے بغیر غائب ہو گیا اور ایسا غائب ہوا کہ پھر اس نے کبھی بھی پلٹ کر طارق کی خبر نہیں لی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طارق سب سے بڑا تھا طارق سے چھوٹی دو بہنیں تھیں اور سب سے چھوٹا بھائی تھا جو طارق سے ۰۲ سال چھوٹا تھابہنیں زیادہ تر اپنے کمروں میں بند رہتی تھیں یا پھر گھر کے کاموں میں خود کو مصروف رکھتیں ، باپ کی پر چون کی دکا ن تھی ماں کی وفات ہو چکی تھی دو مرلے کا پنا ذاتی گھر تھا ، طارق جب بی اے کر چکا تو طارق کے باپ شمس نے اسے اپنے ساتھ پر چون کی دکان میں بیٹھنے کے لیے کہا کہ اگر تم ابھی سے شروعات کرو گے توآ گے چل کر ہماری دکان اچھی چل سکتی ہے محنت اور دیانتداری سے کام کرتے رہے تو وہ دن دور نہیں جب تمھیں تمھاری محنت کا میٹھا پھل ملے گا ، اپنے باپ کے منہ سے دیانت دری کی باتیں سن کر طارق آ گ بگولہ ہو جاتا ہے اور اپنے باپ کو کھڑی کھڑی سناتا ہے کہ یہ دیانت داری کا لیکچر آ پ اپنے پاس ہی رکھیے مجھے آ پ کے ساتھ بیٹھنے کا کوئی شوق نہیں میرے خواب بہت اونچے ہیں میں کوئی بڑ ا ہاتھ مارنا چاہتا ہوں ، طارق کے منہ سے اس طرح کی باتیں سن کر شمس بھی غصے میں آ جاتا ہے اور طارق پر ہاتھ اٹھانے لگتا ہے لیکن دل پسیج کر رہ جاتا ہے اور ہاتھ روک لیتا ہے طارق دروازے کو غصے سے لات مار کر چلا جاتا ہے بہن بھائی سارا منظر دیکھ کر خاموش رہتے ہیں ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت اتنی تیز رفتاری سے گزرا کہ ایک ایک کر کے سارے رشتے کھو جاتے ہیں اور طارق کو اپنا آ پ اکیلا محسوس ہونے لگتا ہے نہ ہی کوئی نوکری کی نہ ہی کوئی ہنر سیکھا اور نہ ہی ابھی شادی ہوئی اور نہ اپنے باپ کے ساتھ پرچون کی دکان پر بیٹھا بے کار بیٹھے بیٹھے ہی وقت گزار دیا اور الزام دیتا رہا اپنے دوست زلفی کو اور زلفی کے علاوہ کئی دوستوں کو مورد الزام ٹھہراتا رہا وقت کی قدر کھونے والا بے قدرا بن گیا چہرے پر چیچک کے داغ پڑ گئے وقت سے پہلے اپنے آ پ کو بوڑھا محسوس کرنے لگا ، زندگی کی ۹۳ بہاریں دیکھنے کے بعد طارق کو تشویش ہوتی ہے کہ نہ ہی ابھی اس کی شادی ہوئی ہے اور نہ ہی اس کے پاس کوئی پیسہ ہے وہ بڑا ہاتھ مارے تو کیسے مارے اور کیسے وہ راتوں رات کڑوڑ پتی بن سکتا ہے یہی سوچتے سوچتے طارق اپنا بیگ تیار کر کے رات کے اندھیرے میں گھر سے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے چلاجاتا ہے ،
ذمے داریوں سے بھاگنے والاگھر والوں پر ذمے داری ڈال کر رفو چکر ہو جاتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

رات کے اندھیرے میں پیدل چلتے چلتے طارق کو پیاس لگنے لگتی ہے لیکن دور دور کہیں پانی نہیں ملتا ، اچانک ایک بلیک کلر کر گاڑی آ کر رکتی ہے اور طارق کے چہرے پر مسلسل ہیڈ لائیٹس پڑتی ہیں طارق جلدی سے اٹھ کر جانے لگتا ہے کہ ایک آ واز طارق کے کانوں میں رس گھولتی ہے طارق پیچھے مڑ کر دیکھتا ہے تو طارق کے محلے کا دوست رشید کھڑا ہے جو طارق کی طرح بڑا غریب تھا اب رشید رشید سے سیٹھ رشید بن چکا ہے رشید اپنی کہانی کو غلط مڑوڑ کر پیش کرتا ہے کہ کیسے وہ روتوں رات امیر بنا ، طارق بت بنا رشید کی ساری کہانی کو دلچسپی سے سنتا ہے جب رشید طارق کو شیشے میں اتارنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو رشید اسے تسلی دیتا ہے کہ تم فکر مت کرو میرے ساتھ رہو گے تو عیش کرو گے
زندگی دے سارے مزے کیش کرو گے طارق ہنسنے لگتا ہے اور رشید اسے گلے لگا کر اسے اگلی منزل کی طرف دھکیل دیتا ہے ۔
رشید کا بہت بڑا بنگلہ دیکھ کر طارق کی آ نکھیں کھلی کی کھلی رہ جاتی ہیںاتنا بڑا بنگلہ اس نے اپنی زندگی میں کسی کا نہیں دیکھا تھا زلفی کا بھی نہیں نہ ہی زلفی نے کبھی اپنا گھر دکھانے کی کوشش کی تھی ، رشید جن کے لیے کام کر رہا تھا دراصل بنگلہ انھی کا تھا اور رشید کے باس نے اسے جس کام پر لگا یا ہوا تھا وہ کام بڑا پیچیدہ تھا جو رشید کے لیے بڑا مشکل تھا جب رشید کی نظر طارق پر پڑتی ہے تو رشید کو ایک مہرہ مل جاتا ہے اور رشید سوچ میں پڑ جاتا ہے کہ وہ بڑی آ سانی سے طارق سے کام لے سکتا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
عادل مراد کے ڈیفنس میںتین تین کنال کے تین گھر ہیں اور وہ دو تین ملٹی نیشنل کمپنی کا ایم ڈی بھی ہے اور اس کی قصور میں ۰۰۲ ایکڑ زمین بھی ہے عادل مراد کی بیوی بھی ایک کمپنی کی مالک ہے اور اپنا فیشن ہاﺅس بھی چلا رہی ہے ، اور تو اور عادل مراد کی اکلوتی بیٹی ثانیہ جو
لمس یونیورسٹی سے ایم بی اے کر رہی ہے حد سے زیادہ مغرور اور نک چڑی ہے بے حد خوبصورت اور بیجا لاڈ پیار نے ثانیہ کو بگاڑ کر رکھ دیا ہے
Smoking Person ہے اور کبھی کبھی شراب بھی پی لیتی ہے دوستوں کے ساتھ شغل کرنا اور کبھی کبھی رات باہر گزارنا اس کا پسندیدہ مشغلہ ہے ثانیہ کی اسی عادت کو لے کر عادل مراد اور اس کی بیوی سخت پریشان ہیں کہ ان کے بعد ثانیہ کا کیا بنے گا وہ ثانیہ کو سمجھا سمجھا کر تھک جاتے ہیں اور پھر اسے اس کے حال پر چھوڑ دیتے ہیں ۔
تین مہینے چوکیدار کی نوکری کرتے کرتے طارق کو عادل مراد کے گھر کی ساری خبر ہو جاتی ہے کہ عادل مراد کی پراپرٹی کہاں کہاں ہے اور وہ کس سے ملتا ہے کس سے نہیں کون اس کے گھر میں آ تا جاتا ہے اور کون نہیں کون سی فائل کس دراز میں پڑی ہے اور عادل کی بیٹی پر بھی طارق کی نظر ہے جس پر طارق کا دوست رشید بھی لٹو ہے ، طارق کو اپنے دوست زلفی کی بات یاد آ جاتی ہے کہ تمھیں کوئی اپنے گھر میں چوکیدار تو رکھ سکتا ہے لیکن کوئی بھی کڑوڑ پتی شخض تمھیں اپنی بیٹی کا رشتہ نہیں دے سکتا طارق جنجھور کر رہ جاتا ہے ، طارق رشید کو ایک ایک بات بتانے لگتا ہے رشید ، باس جمشید جانی اور باقی لوگ طارق کو کہتے ہیں کہ فلاں دن تم نے عادل مراد کی بیٹی ثانیہ کو اغوا کر کے اسے فلاں جگہ لے کر
آ نا ہے اور عادل سے کیا کیا مطالبہ منوانا ہے یہ ہم تمھیں بتائیں گے اس کام کا تمھیں اچھا خاصہ منافع ملے گا یہ سن کر طارق کی باچھیں کھل جاتی ہیں کہ وہ بہت جلد کڑوڑ پتی بننے والا ہے ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
طارق اپنے باس جمشید جانی کے پلان کے مطابق ثانیہ کو یونیورسٹی چھوڑنے کی بجائے کسی اور راستے پر گاڑی کو لے جانے کی کوشش کرتا ہے
ثانیہ گاڑی کی کھڑکی سے باہر دیکھ کر مدد کے لیے پکارنے لگتی ہے لیکن طارق اسے اندر کی طرف جھٹکتا ہے اور اسے نشے آ ور رومال سونگھا کر بے ہو ش کر دیتا ہے ، جب ثانیہ مدد کے لیے پکار رہی تھی تو عین موقعے پر عادل کی کمپنی کا ملازم دیکھ لیتا ہے اور وہ اپنی بائیک کو گاڑی کے پیچھے دوڑاتا ہے جس رستے سے گاڑی جا رہی ہے اسی رستے پر عادل کی کمپنی کا ملازم بھی جا رہا ہے ایک ویران جگہ پر گاڑی رکتی ہے
طارق ثانیہ کو ایک فارم ہاﺅس میں لے جا کر قید کر دیتا ہے اور ہاتھوں اور پاﺅں میں زنجیریں باندھ کر جمشید جانی کو فون کرتا ہے اور اسے خوشخبری سناتا ہے ، جمشید جانی طارق کو وہیں رکنے کے لیے کہتا ہے اور اسے بڑا محتاط رہنے کے لیے کہتا ہے ، ادھر عادل کی کمپنی کا ملازم سارا منظر دیکھنے کے بعد عادل مراد کو فون کر کے ساری حقیقت سے آ گاہ کرتا ہے اور اسے پتا بھی لکھواتا ہے ۔
طارق اندر کا جائزہ لیتا ہے اور ایک نظر ثانیہ کو دیکھتا ہے تو طارق کی نیت بدل جاتی ہے وہ ہوس زدہ بن جاتا ہے اور ثانیہ کے ہاتھ پاﺅں کھولتا ہے اور منہ پر لگی پٹی کھولتا ہے اور ثانیہ کے بالوں کو چھونے لگتا ہے ثانیہ طارق کے منہ پر تھوک پھینکتی ہے طارق ایک زور دار تھپڑ ثانیہ کو مارتا ہے
اور ثانیہ کی طرف بڑھتا ہے ثانیہ طارق کو پیچھے ہٹاتی ہے ثانیہ دیوار پر جا کر گرتی ہے اسے زمین پر خنجر نظر آ تا ہے اور وہ طارق کی طرف کرنے لگتی ہے طارق قہقہ لگاتا ہے اور آ گے بڑ ھتا ہے ثانیہ کو اپنے ماں باپ کی باتیں یاد آ نے لگتی ہیں کہ کیسے انھوںنے مجھے روکا تھا کہ آ زادی کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ تم دلدل میں جا گرو ، جب طارق اور ثانیہ کے درمیان فاصلہ تھورا رہ جاتا ہے تو ثانیہ کے پاس خود کشی کرنے کا کوئی راستہ نہیں بچتا وہ خنجر اپنے پیٹ میں گھسا کر موت کی وادی میں چلی جاتی ہے طارق ڈر جاتا ہے اور چہرے پر پسینے چھوٹ جاتے ہیں اتنے میںعادل مراد پولیس کو لے کر آ جاتا ہے ، عادل مراد اپنی بیٹی کو خون میں لت پت دیکھ کر آ نسوﺅں میں ڈوب جاتا ہے عادل مراد کا دوست ڈی ایس پی اسے تسلی دیتا ہے لیکن اکلوتی اولاد کے مرنے کا دکھ کوئی عادل سے ہی جانے لیکن اس میں غلطی عادل کی بھی تھی جس نے اپنی بیٹی کو حد سے زیادہ آ زادی دے رکھی تھی ، پولیس طارق کو گرفتار کر لیتی ہے طارق سلاخوں کے پیچھے چلا جاتا ہے اور طارق کی بدولت طارق کے ساتھی بھی پکڑے جاتے ہیں سب کے سب جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں ۔
چھوٹی کلاس کے طبقے والے لوگ جب بڑے خواب دیکھتے ہیں تو بڑا ہاتھ مارنے کا سوچتے ہیں لیکن کمبخت بھول جاتے ہیں کہ ہمیشہ
شارٹ کٹ رستے سے دولت کمانے والے جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہی ملتے ہیں ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ابھِیمنیو کی خودکشی راجیندر یادو /عامر صدیقی

ابھِیمنیو کی خودکشی راجیندر یادو /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. راجیندر یادو۔پیدائش: ۸۲ اگست،۹۲۹۱ ئ، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے