سر ورق / افسانہ / رضاکار … قیصر نذیر خاورؔ ، لاہور ، پاکستان

رضاکار … قیصر نذیر خاورؔ ، لاہور ، پاکستان

عالمی افسانہ میلہ 2019
افسانہ نمبر :37
رضاکار

قیصر نذیر خاورؔ ، لاہور ، پاکستان

وادی میں جنگ جاری تھی ۔ نیچے وہ تھے جو خود کو ’ مجاہدین دین ‘ کہلاتے تھے جبکہ پہاڑوں پر ہمارے علاقے سے ملحقہ اس ملک کی فوج کے مورچے تھے جو دنیا کی ایک سُپر پاور کا ایک بڑا اتحادی تھا ۔ پہلے کبھی وادی میں امن تھا اور ہم آزاد تھے ۔ ہمارا اپنا نظام تھا ، اپنے جرگے تھے لیکن پھر باہر سے کچھ لوگ آئے جن کے پاس جدید اسلحہ تھا ۔ تب سے وادی میں ہمارے اپنے سرداروں کا کنٹرول بھی نہ رہا ۔ یہ وہ لوگ تھے جو ہمارے علاقے کی ایک اور سرحد سے لگتے ملک سے آئے تھے جہاں وہ اس سے پرے کے ایک ملک کی فوج کے ساتھ لڑتے رہے تھے ۔ اُس ملک کی فوج اِس ملک میں قائم کردہ اپنی کٹھ پُتلی حکومت کو بچانے آئی تھی ۔ اُس فوج کو پسپا کرنے کے بعد یہ لوگ اِس ملک پر قابض ہونے کے علاوہ ہمارے علاقے میں بھی آ گئے اور اس پر حاوی ہوتے چلے گئے ۔

ایک روز جب ہم سو کر اٹھے تو میرا بھائی اپنے بستر سے غائب تھا ۔ میری ماں چولہے میں لکڑیاں دہکا رہی تھی کہ مرجانہ نے اسے بتایا تھا کہ اس کا شوہر رات میں کسی پہر اس کے پہلو سے اٹھا اور پھر واپس نہیں لوٹا تھا ۔ دیوار پر لٹکی ، اس کی بندوق بھی غائب تھی ۔ ماں نے چھاتی پیٹی اور مجھے آواز دی ۔ وہ چاہتی تھی کہ میں جاﺅں اور اپنے بھائی کو تلاش کروں ۔ اس کے یوں غائب ہو جانے سے ہم سب پریشان تھے لیکن ہمیں یہ معلوم نہیں تھا کہ وہ کہاں گیا اور کن کے ساتھ جا ملا تھا ۔

مجاہدین دین نے وادی بھر میں اشتہار لگا رکھے تھے جن میں وہ ہمارے لوگوں سے حق و باطل کی اِس جنگ میں رضاکاروں کے متمنی تھے ۔ اس کے برعکس وہاں ایسے بھی اشتہار تھے جو پہاڑوں پر ڈیرے ڈالے فوجیوں کی جانب سے طیاروں سے گرائے گئے تھے ۔ انہیں بھی رضاکاروں کی ضرورت تھی اور وہ بھی حق و باطل کی اِس جنگ میں خود کو حق پر سمجھتے تھے ۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی تھی کہ جب دونوں کا مذہب ایک تھا تو یہ لڑائی حق و باطل کی کیسے ہو سکتی تھی لیکن ایسا ہی تھا کہ دونوں خود کو حق پر ہی سمجھتے تھے ۔

مرجانہ ، میری بھابھی ، پیٹ سے تھی ۔ اس کا تربوز کی طرح پھولا پیٹ اس بات کا مظہر تھا کہ وہ جلد ہی بچہ جننے والی تھی ۔ میں ماں کی بات سن کر شَش و پنج کے عالم میں چولہے کے قریب ہی چوکی پر بیٹھ گیا ۔ مجھے سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اپنے بھائی کو کہاں تلاش کروں ۔ ماں نے توے پر ڈالی پہلی روٹی سینکی اور پیالے میں قہوہ ڈال کر تھالی میرے آگے سِرکا دی ۔ مرجانہ بھی پاس ہی ایک چوکی پر بیٹھی مجھے کِن اَکھیوں سے دیکھ رہی تھی ؛ اس کی آنکھوں میں ایک ایسی امید تھی جیسے کہ میں اس کے شوہر ، اس کے پیٹ میں پلتے بچے کے باپ اوراپنے بڑے بھائی کو واپس لے آﺅں گا ۔ میں نے جلدی جلدی روٹی کے بڑے بڑے نوالے نِگلے اور قہوہ سُڑکا ۔ مجھے مرجانہ کی اس اُمید سے الجھن ہو رہی تھی ۔ اس سے پہلے کہ ماں مرجانہ کے سامنے روٹی اور قہوہ رکھتی ، میں وہاں سے اٹھ کھڑا ہوا اور اندر جا کر اُجلی شلوار قمیض اور واسکٹ پہننے لگا ۔

” کیا وہ مجاہدین دین سے جا ملا ہو گا یا پھر پہاڑوں پر گیا ہو گا ۔ ۔ ۔؟ “ ، میں نے سوچا ۔ پہاڑی مورچوں والے جنگ میں قدرے بہتر پوزیشن میں تھے جبکہ مجاہدین وادی کی مختلف بستیوں میں منتشر تھے ۔ ان حالات میں ، اگر میں اپنے بھائی کی جگہ پر ہوتا تو پہاڑوں کا رخ کرتا اور اس پہاڑی کھوہ کی طرف جاتا جس کے پاس ایک بڑے بینر پر لکھا تھا ؛

” رضاکار یہاں آئیں ۔ ہتھیار ساتھ مت لائیں ۔ سفید جھنڈی ہاتھ میں اور ہاتھ ہوا میں بلند رکھیں ۔ ۔ ۔ ۔ “

” لیکن میرا بھائی تو بندوق بھی ساتھ لے کر گیا تھا ۔ ۔ ۔ “ ، میں نے پھر خیال کیا ۔” تو کیا وہ مجاہدین دین سے جا ملا ہو گا ۔ ۔ ؟ “ ، میں ڈول گیا ۔ بے اختیاری میں میرا ہاتھ دیوار پر ٹنگی اپنی بندوق کی طرف بڑھا ۔ میں نے اسے اتارا اور ہاتھ میں پکڑے کچھ لمحے خالی ذہن کے ساتھ وہیں کھڑا رہا ؛ یہ ایک روسی کلاشنیکوف تھی جسے میں نے طالبان سے خریدا تھا ۔

” خانا ! اب نکلو بھی ۔ ۔ ۔ “ ، ماں کی آواز سے میں چونکا ۔ میں نے بندوق واپس دیوار پر ٹانگی اور باہر نکلا ۔ میں فیصلہ کر چکا تھا کہ میں پہاڑوں کی طرف جاﺅں گا ۔

مرجانہ صحن میں دروازے پر ٹنگے ٹاٹ کے پاس ہینڈ پمپ کے نیچے بیٹھی برتن دھو رہی تھی ۔ میں نے ماں کی طرف دیکھا لیکن کچھ کہے بِنا ٹاٹ کا پردہ ہٹایا اور باہر نکل گیا ۔ بستی کی کچی ، کیچڑ بھری گلیوں سے ہوتا ، میں اس پگڈنڈی کی جانب بڑھنے لگا جو اس کھوہ کی طرف جا رہی تھی ۔ میرے دونوں اطراف بمباری سے تباہ شدہ کئی مکان تھے اور کہیں کہیں میرے ہم وطنوں کی اِکا دُکا لاشیں بھی پڑی ہوئی تھیں جنہیں لوگ دفنانے کے لئے ابھی اٹھا نہیں پائے تھے ۔ میں نے اپنی سفید پگڑی اتاری اور اسے لہراتا اوپر چڑھنے لگا ۔

” غدار ۔ ۔ ۔ ۔ غدار ۔ ۔ ۔ غدار “ ، نیچے وادی سے مختلف بستیوں سے آوازیں ابھریں اور ساتھ ہی مجاہدین دین کی طرف سے چلائی گئی کئی گولیاں سنسناتی ہوئی میرے پاس سے گزریں ۔ میں نے خود کو سُکیڑا اور جُھک کر آگے بڑھنا شروع کر دیا تاکہ نیچے سے آنے والی گولیوں سے بچ سکوں ۔

کچھ دیر بعد مجھے کھوہ کا دہانہ نظر آنے لگا اور پھر اس میں بیٹھے فوجیوں کے ہیلمٹ ، چہرے اور مشین گنوں کے منہ بھی ۔ وہاں سے کوئی گولی نہ چلی ۔ جب میں اور نزدیک پہنچا تو کھوہ سے ایک فوجی رینگتا ہوا باہر نکلا اور مجھے بھی رینگنے کا اشارہ کیا ۔ جلد ہی میں اس کے ہمراہ کھوہ میں تھا ۔

انہوں نے میری جامہ تلاشی لی اور جہاں کھوہ سب سے زیادہ چوڑی تھی ، وہاں لے گئے ۔ ایک فوجی جو غالباً ان سب فوجیوں کا افسر تھا ، ٹاٹ کی بنی کرسی پر بیٹھا تھا ۔ میں نے اسے بتایا کہ میں اپنے بھائی کی تلاش میں نکلا ہوں ۔ میں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اس کی بیوی حاملہ ہے اور وہ کسی وقت بھی بچہ جننے والی ہے ۔ اس نے میری بات سنی اَن سنی کرتے ہوئے مجھ سے شناخت اور اسلحہ چلانے کے حوالے سے کچھ سوال پوچھے اور پھر پاس پڑی وردیوں میں سے ایک وردی مجھے تھمائی اورایک بڑے پتھر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔

” اس کے پیچھے جا کر اسے پہن لو ۔“

میں نے پتھر کی اوٹ میں جا کر وردی پہنی ۔ یہ تنگ تھی اورمیں اسے مشکل سے ہی اپنے جسم پر چڑھا پایا ۔ وہیں مجھے کھوہ کے پچھلی طرف ایک سوراخ نظر آیا جس میں سے ایک یا دو آدمی مشکل سے باہر نکل سکتے تھے ۔ دیکھنے میں یہ قدرتی نہیں لگتا تھا ، اسے شاید اِن فوجیوں نے دستی بموں سے اڑا کر بنایا تھا ۔ میں وردی چڑھا کر مشکل سے چلتا پھر سے فوجی افسر کے سامنے آیا ۔

” پچھلے دو دنوں میں یہاں کوئی نہیں آیا ۔ وہ یقیناً ان خنزیروں کے پاس گیا ہو گا ۔ یہ لو اور اُدھر سے باہر نکل جاﺅ ۔ “ ، اس نے مجھے روسی کلاشنیکوف سے ملتی جلتی ایک رائفل اور گولیوں کی پیٹی تھماتے ہوئے سوراخ کی طرف اشارہ کیا ۔

” وہاں کھڑا جوان تمہیں وہاں لے جائے گا جہاں دوسرے رضاکار اُن سے لڑ رہے ہیں ۔ ہو سکتا ہے کہ وہیں کہیں تمہارا ، اپنے بھائی سے آمنا سامنا ہو جائے ۔“ ، یہ کہہ کر وہ چُپ ہو گیا ۔ میں اس کے مزید بولنے کا منتظر رہا لیکن اس نے بولنے کی بجائے آنکھ کے اشارے سے سوراخ کی طرف بڑھنے کا اشارہ کیا ۔

سوراخ سے رینگ کر نکلتے ہوئے میری خاکی قمیض کی ایک آستین بغل کے پاس سے پھٹ چکی تھی اور مجھے لگا جیسے میری پتلون بھی چوتڑوں پر کہیں سے چِر گئی ہو ۔

میں وہاں کھڑے فوجی کے ساتھ کچھ دیر پہاڑوں میں چلتا رہا اور پھر ہم ترائی میں اترتے چلے گئے ۔ سامنے وادی میں ایک بستی تھی جس کے بیشتر کچے مکان زمین بوس تھے ۔ چند جو ابھی تک کھڑے تھے ، ان میں سے وقفے وقفے سے گولیوں کی بوچھاڑ نکلتی اور پہاڑیوں سے آ ٹکراتی ۔ وہیں ان پہاڑیوں کی اوٹ میں میرے جیسے کئی رضاکار ، فوجیوں کی سربراہی میں اسلحہ تانے بیٹھے تھے ۔ جب بستی کی طرف سے گولیاں چلتیں تو یہ بھی جوابی فائرنگ کرتے ۔ ۔ ۔ اور جب انہیں کسی زمین بوس مکان کی اوٹ یا مکان کے اندر حرکت محسوس ہوتی تو یہ خود بھی نہ صرف گولیوں کی بارش کر دیتے بلکہ مارٹر گولےاور راکٹ بھی پھینکتے ۔

میرے ساتھ آئے فوجی نے ، مجھے وہاں کے کمانڈر کے حوالے کیا اور اسے سیلوٹ مار کر خود واپس مڑ گیا ۔ کمانڈر نے مجھے ایک پہاڑی کی اوٹ میں ، جہاں ایک فوجی اور میرے جیسے تین رضاکار بیٹھے تھے ، جانے کا اشارہ کیا ۔ یہ چٹان بستی کے بالکل پاس تھی ۔

رات پڑنے تک ، ہماری گولیوں اور مارٹر گولوں نے بستی میں کتنوں کو ہلاک کیا ، یہ تو مجھے پتہ نہ چلا لیکن اُس طرف سے آنے والی گولیوں سے ہم میں سے چھ مارے گئے ؛ ان میں چار رضاکار جبکہ دو فوجی تھے ۔ کمانڈر نے وائرلیس پر کسی سے بات کی ۔ کچھ دیر بعد چند فوجی آئے ، ان کے بازوﺅں پر سفید پٹیاں بندھی تھیں جن پر ہلال احمر کا نشان بنا تھا ۔ انہوں نے چاروں رضاکاروں کو ایک کونے میں ڈھیر کیا اور مرے ہوئے دونوں فوجیوں کی لاشیں اٹھا کر واپس مڑ گئے ۔ میرا خیال تھا کہ وہ لوٹیں گے اور باقی لاشیں بھی اٹھا لے جائیں گے لیکن وہ پھر نہ پلٹے ۔ پو پھٹنے سے کچھ دیر پہلے بستی کی طرف سے گولیاں چلنا بند ہو گئیں اور پھر اذان کی آواز ابھری اوریہ ویسے ہی پہاڑیوں سے آ کر ٹکرائی جیسے گولیاں آ کر ٹکراتی تھیں ۔ ہم رضاکاروں اور ایک دو فوجیوں نے ہوا میں ہی تیمم کیا اور اپنی اپنی جگہ پر ہی نماز نیت لی ۔

نماز ادا کرنے کے بعد مجھ پر نیند حاوی ہو گئی ؛ ایسے میں ، میں نے اپنے بھائی کو دیکھا جو کسی بستی میں مجاہدین دین کے ہمراہ نماز ادا کر رہا تھا ، پھر منظر بدلا اور میرے گھر کا صحن میرے سامنے تھا ۔ یہ عورتوں سے بھرا تھا ۔ میری ماں اور بھابھی ان میں نہیں تھیں ۔ صحن کے دروازے کے باہر میرا والد ہاتھ میں ایک ننھا کمبل اورمٹی کے بنے کچھ کھلونے لیے کھڑا تھا ۔ فضا میں طیاروں کی گھن گرج نے میری نیند توڑی ۔ ابھی سورج نہیں نکلا تھا ، میں نے آنکھیں کھول کر نیم تاریک آسمان کی طرف دیکھا جس پر مجھے چند بمبار طیارے شِکروں کی طرح وادی پر چکر کاٹتے نظر آئے ۔ پھر میں نے بموں کی سیٹیاں اور گولیوں کی تڑتڑاہٹ سنی ، ساتھ ہی بستی سے شعلے اٹھنے لگے ۔ فضا کالے دھویں سے بھر گئی جس میں فاسفورس ، گندھک اور بارود کی بو کے علاوہ انسانی چمڑی کی باس ، زخمیوں کی چیخ و پکاراور بین بھی شامل تھے ۔ مجھے ایسا لگا جیسے میرا اپنا گاﺅں جل رہا ہو؛ میری ماں جل رہی ہو ؛ مرجانہ اور اس کے پیٹ میں میرے بھائی کا بچہ اور ہماری اگلی نسل جل رہی ہو ۔

سورج کی روشنی پھیلی تو کمانڈر نے دوربین سے بستی کا جائزہ لیا ، ہم سب کو اکٹھا کیا اور ہم سے مخاطب ہوا ۔ اس کے خطاب کا لب ِ لباب یہ تھا کہ ہم نے بستی میں داخل ہو کر بچے کچھے افراد کا صفایا کرنا اور وہاں سبز ہلالی پرچم لہرا کر وہاں اپنی پوزیشن مستحکم کرنا تھی ۔

ہم پانچ پانچ کی ٹولیوں میں آگے بڑھے جن میں ایک ایک فوجی ہمارا سربراہ تھا ۔ ہم نے بستی کے نزدیک پہنچ کراُس کا گھیراﺅ کیا اور رُک گئے ۔ کمانڈر نے پھر اپنی دوربین سے بستی کا جائزہ لیا اور ہمیں آگے بڑھنے کا اشارہ دیا ۔

بستی میں کوئی زندہ نہ بچا تھا ۔ ہم ساری لاشوں کو الٹا پلٹا کر دیکھتے رہے اور ہمیں جس میں بھی زندگی کی ذرا سی رمق نظر آتی ، اسے گولیوں سے چھلنی کر دیتے ۔ میرے سامنے جب بھی کوئی زخمی آتا تو ہر بار میری آنکھوں کے سامنے ان چار رضاکاروں کی لاشیں آ جاتیں جنہیں فوجیوں نے پہاڑیوں کے پیچھے ہی بے گور وکفن چھوڑ دیا تھا ۔ میں ایک گولی چلانے پر ہی اکتفا کرتا اور یہ بھی نہ دیکھتا کہ یہ اسے لگی تھی بھی یا نہیں ۔ ایک زمین بوس ہوئے مکان ، جہاں ابھی آگ سلگ رہی تھی اور دھواں بھی اٹھ رہا تھا میں ، مجھے اوندھے منہ پڑی ایک جھلسی ہوئی لاش نظر آئی ۔ میں نے اسے الٹا پلٹا کر دیکھا ۔ اس کا چہرہ پہچان میں نہیں آ رہا تھا لیکن اس کے جُثے سے مجھے شک ہوا کہ وہ میرے بھائی کی لاش تھی ۔ گو اس کا جسم بری طرح جھلسا ہوا تھا لیکن اس کے دائیں کندھے کے پاس گولی کا وہ بھرا ہوا زخم جھلسے ہونے کے باوجود نظر آ رہا تھا ؛ یہ گولی عرصہ پہلے اسے تب لگی تھی جب ہمارے قبیلے کی لڑائی ایک دشمن قبیلے سے ہوئی تھی ۔ اس کے دائیں بازو پر بندھا چمڑے کا امام ضامن بھی پوری طرح جل نہیں پایا تھا اور یہ ویسا ہی تھا جیسا میرے بازو پر ماں نے باندھا تھا ۔

میں اپنے بھائی کی لاش لیے اپنے گاﺅں کیسے پہنچا ، یہ ایک الگ کہانی ہے ۔ بیٹے کی لاش دیکھ کر میری ماں بین کرنے لگی ۔ مرجانہ کی چیخیں گھٹ گھٹ کر نکل رہی تھیں ؛ وہ اپنی گود میں سوئے بچے کی وجہ سے کھل کر رو بھی نہیں پا رہی تھی ۔ مجھ سے ان کی حالت دیکھی نہ گئی اور میں بھائی کی لاش کو صحن میں چارپائی پر پڑا چھوڑ کرباہر نکل آیا ۔ جھلسی لاش کو غسل دینا مشکل تھا ویسے بھی گاﺅں کے مولوی کا کہنا تھا کہ شہید کو غسل نہیں دیا جاتا ۔ اُسے عصر کی نماز کے بعد دفن کرنا طے پایا ۔ ظہر تک ہمارا گاﺅں بہت سے اجنبی لوگوں سے بھر گیا ۔ یہ کہاں سے آئے تھے مجھے معلوم نہ تھا ، لیکن گاﺅں کا مولوی انہیں جُھک جُھک کر مل رہا تھا ۔ گاﺅں کے کچھ اور لوگ بھی ان کے ساتھ عزت سے پیش آ رہے تھے ؛ ان میں پختون تو تھے ہی لیکن افغانی ، ازبک ، عربی ، افریقی اور کئی گورے بھی تھے ۔ سب باریش تھے اور باریش بھی ایسے کہ سر اور چہرے کے بالوں میں تمیز مشکل تھی ، البتہ اکثر کی مونچھیں نہیں تھیں اور اگر تھیں بھی تو منحنی اور اچھی طرح ترشی ہوئی ۔ جلد ہی مجھے سمجھ آ گیا کہ یہ سب مجایدین دین تھے اور اپنے ساتھی کے جنازے میں شرکت کے لیے آئے تھے ۔ مجھے اپنے وہ چار ساتھی یاد آئے جن کی بے گور و کفن لاشیں اوپر پہاڑیوں میں پڑی ہوئی تھیں ۔ میرا دل وہاں موجود فوجیوں کے خلاف غصہ بھر گیا جو اپنے ساتھیوں کی لاشیں تو اٹھا کر لے گئے تھے ، لیکن میرے جیسے رضاکاروں کے مردہ جسموں کو وہیں پڑا رہنے دیا تھا ۔ عصر کا وقت قریب آیا تو فضا میں طیاروں کی گھن گرج سنائی دینے لگی اور وہ وادی پر چکر کاٹنے لگے ۔ گاﺅں کے مولوی اور اجنبیوں کے لیڈروں نے آپس میں مشورہ کیا اور پھر انہوں نے میرے بھائی کی میت اٹھائی اورنزدیکی پہاڑیوں کی اوٹ میں لے گئے ۔ گاﺅں کے دیگر لوگوں نے بھی انہی پہاڑیوں کی اوٹ میں جا کر پناہ لے لی ۔ بھائی کی نماز جنازہ وہیں پڑھائی گئی جبکہ طیاروں نے عین عصر کے وقت بم اور گولیاں برسانی شروع کر دیں ۔ میں پہاڑیوں کی اوٹ سے اپنے گاﺅں کے مکانوں کو زمین بوس ہوتے دیکھتا رہا ۔ ان کی یہ کاروائی تب تک جاری رہی جب تک ان کے پاس بم اور گولیاں ختم نہ ہو گئیں ۔

میں ، جب ، بھائی کو پہاڑیوں کی اوٹ میں پتھروں سے بنی قبر میں دفنا کر اپنے مکان کی طرف لوٹا تو وہ دیگر کئی مکانوں کی طرح زمین بوس ہو چکا تھا اور گاﺅں کی مسجد کا بھی یہی حال تھا ۔ بموں نے گاﺅں کے قبرستان میں بھی کئی قبروں کو کھول دیا تھا ۔ اِرد گِرد سے آئے سارے اجنبی مجھ سے گلے مل کر ایک ایک کرکے جانے لگے ۔ ان کے لیڈروں نے سب سے آخر میں مجھے گلے لگایا اور پرجوش طریقے سے مصافحہ کیا ۔ میں نے ان کی آنکھوں میں ان کی خواہش پڑھ لی تھی ؛ وہ چاہتے تھے کہ میں ان کے ساتھ چلوں ۔ ۔ ۔ اور اس وقت میں بھی ان کے ساتھ جانا چاہتا تھا تاکہ اپنے بھائی کی موت کا بدلہ لے سکوں ۔ میں مڑا اور اپنے زمین بوس گھر کے صحن میں داخل ہو کر ملبے میں سے اپنی رائفل تلاش کرنے لگا ۔ ماں اور مرجانہ مجھے کچھ دیر تو فقط دیکھتی رہیں ، پھر ماں آگے بڑھی ۔

” تم اس ملبے میں کیا تلاش کر رہے ہو ؟ “ ، وہ بولی ۔

” اپنی بندوق ۔ ۔ ۔ “ ، میں جواب دیا ۔

” رک جاﺅ ۔ ۔ ۔ ! “ ، انہوں نے کہا ۔

میرا ہاتھ رک گیا اور میں نے سوالیہ نظروں سے ماں کو دیکھا ۔

” میں ایک بیٹا کھو چکی ہوں ۔ ۔ ۔ اب دوسرا نہیں کھونا چاہتی ۔ یہ جنگ ہمیں کچھ نہیں دے گی ۔ “

” لیکن ماں ! بھائی کی موت کا بدلہ نہ لینا ہماری ریتی رواج کے خلاف ہے ۔ ۔ ۔ “

” ہماری روایت یہ بھی تو ہے کہ جب ہم پر زمین تنگ ہو جائے تو ہم وہاں سے ہجرت کر جاتے ہیں ۔ ہمیں یہاں سے جانا ہو گا ۔ ہمیں اس معصوم بچے کو زندہ رکھنا ہو گا کہ ہماری نسل آگے بڑھ سکے ۔“ ، اس نے مرجانہ کی گود کی طرف اشارہ کیا ۔

” لیکن ماں ۔ ۔ ۔ “

” تم کہیں نہیں جاﺅ گے ۔ یہ میرا حکم ہے ۔ ۔ ۔ ۔ جائیں گے تو ہم سب ۔ ۔ ۔ ۔ ہم اس وادی کو چھوڑ کر کسی ایسی جگہ جا بسیں گے ، جہاں خدا اور اُس کے رسول کو ماننے والے یوں نہ لڑیں کہ ان کا اپنا تو سب کچھ بچا رہے لیکن ہمیں اپنے علاقے ، اپنا گھر بار ، کھیت کھلیان سب چھوڑنا پڑیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تم مرجانہ کو پھر سے سہاگ لوٹاﺅ گے اور ہم ایک نئی زندگی شروع کریں گے ۔ ۔ ۔ “ ، وہ اتنا کہہ کر چُپ ہو گئیں ۔

‎میری نظر مرجانہ کی طرف مڑی ۔ اس کی نظریں نیچی تھیں لیکن میں اس کی جھکی آنکھوں میں موجود التجا محسوس کر سکتا تھا جس نے مجھے وہیں پتھر کر دیا ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

بالغ عورت شکیلہ رفیق ۔ ٹورنٹو ، کینیڈا

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر 141 بالغ عورت شکیلہ رفیق ۔ ٹورنٹو ، کینیڈا …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے