سر ورق / یاداشتیں / اردو کہانی کا سفر اعجاز احمد نواب  نمبر 14

اردو کہانی کا سفر اعجاز احمد نواب  نمبر 14

اردو کہانی کا سفر

اعجاز احمد نواب

 نمبر 14

ہماری اماں بالکل ان پڑھ ہیں مگر اے حمید کی عنبر ناگ ماریا سیریز کے بہت سے واقعات انہیں ازبر ہیں جو ہمارے اباجی انہیں ہر روز باقائدگی اور ترتیب کے ساتھ پڑھ کر سناتے تھے موت کا تعاقب سو حصے موت کے تعاقب کی واپسی تقریباً 70 حصے اور عنبر ناگ ماریا اور کیٹی خلا میں کے لگ بھگ 125 حصے…
ابّاجی خود بھی دیوانگی کی حد تک کتابیں پڑھنے کے شوقین تھے اس زمانے میں راولپنڈی ایک چھوٹا سا، گم سُم سہما ہوا پرسکون شہر تھا، سوائے چھاؤنی کے اور اس کی کوئی اہمیت نہ تھی، لوگ سرِ شام ہی بستروں پر پہنچ شام یا سینما گھروں پر رش ہوتا یا پھر لائبریریوں پر بچے بڑے بوڑھے اور خواتین سب ہی کتابوں کے دلدادہ تھے،
ہمارے اباجی صبح سات بجے دوکان کھولتے تو اردو گرد کے دوکاندار اکٹھے ہو جاتے، تقریباً سب ہی ناخواندہ تھے ابا جی جماعتیں پڑھ چکے تھے اور پھر لائبریری کرتے اور مطالعہ کے بے حد شوقین لہذا ان کی اردو پڑھنے اور لکھنے دونوں معاملات میں بہترین تھی لہذا صبح صبح چائے کا دور چلتا اور ساتھ ابا جی اونچی آواز میں اخبار پڑھ کر سب کو سنا رہے ہوتے، اور تمام دوکاندار انتہائی سنجیدگی اور متانت سے خبریں سن رہے ہوتے، اچھا پڑھنا تو شاید کسی کو نہیں آتا تھا مگر اخبار میں چھپی تصاویر کی مدد سے اپنی اپنی پسندیدہ خبر کا انتخاب کرکے ابا جی سے مطلوبہ خبر پڑھنے کا مطالبہ کرتے رہتے ایک بات مجھے یاد ہے اباجی کا ایک انتہائی بزرگ دوست تھا پتہ نہیں ان کا نام کیا تھا پر سب انہیں چٹا استاد کہتے تھے، (ایک کالا استاد بھی تھا، استاد سے مراد سکول ماسٹر نہیں) ابا جی انہماک سے اخبار پڑھ رہے تھے اور سبھی بریکنگ نیوز سننے میں منہمک تھے، کہ اچانک چٹا استاد ایک تصویر پر انگلی رکھ کر بولا… نواب ایہہہ ذرا پڑھیں اے سورن سنگھ کیہہ پونک دا اے( یہ پڑھ کر ذرا سنانا بھارتی وزیرِ خارجہ کیا بھونک رہا ہے) جاتے،
✍️✍️✍️✍️✍️رات کو ابا جی کوئی نہ کوئی ناول گھر لے جاتے اور ہماری اماں کو پڑھ کر سناتے ایک ہی کمرہ تھا لہذا سب کو ہی سننی پڑتی ایک آدھ گھنٹہ پڑھتے تاہم جمعرات ویک اینڈ رات گئے تک داستان گوئی جاری رہتی ہمارا آج کا موضوع چونکہ اے حمید صاحب ہیں لہذا یہ بتانا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہمارے ابا جی نے ہماری اماں کو اے حمید کی موت کا تعاقب عنبر ناگ ماریا سیریز کے لگ بھگ تین سو ناول پڑھ کر سنائے، بلکہ جب تین سو مکمل یا ختم ہوگئے تو اماں کے اصرار پر دوبارہ پہلے حصے سے پڑھنا شروع کردیا اشتیاق احمد کے بھی بے شمار ناول ہماری اماں نے سن رکھے ہیں یہ سطور لکھنے سے قبل میں نے اپنی ماں سے باقاعدہ جا کر پوچھا تو اماں نے تصدیق کی تھی کہ محمود فاروق فرزانہ اور عنبر ناگ ماریا کے بہت سارے ناول میں نے سنے ہوئے ہیں الحمدللہ ہماری اماں نہ صرف حیات ہیں، بلکہ.. اللہ پاک کی رحمت سے چلتی پھرتی ہیں ہاں تھوڑا سا اونچا سننے لگی ہیں، بلکہ انتہائی راز کی بات آپ کو بتاؤں کہ میں دن کا کھانا اپنی ماں کے ہاتھ کا پکا ہوا کھاتا ہوں روزانہ اماں میرے لئے تازہ سالن اور تازہ روٹی پکاتی ہیں،
✍️✍️✍️✍️✍️آج سے تیس برس پہلے تک قلمی دوستی کا زبردست رواج تھا ان دیکھے لوگوں کو اپنا دوست بنانا اور انہیں خط لکھنا، یوں سمجھیں کہ فیس بک… قلمی دوستی کا نیا ترمیم شدہ ایڈیشن ہے، 1986 میں ایک دن میں لاہور گیا، اور نقش پبلی کیشنز کے دفتر میں بیٹھا تھا، نقش محمد اعوان ریٹائرڈ میجر تھے اور مکتبہ اشتیاق میں اشتیاق صاحب کے ففٹی پرسنٹ کے پارٹنر رہ چکے تھے، حال ہی میں ان کی پارٹنر شپ ٹوٹی تھی، اس وقت تک کے چھپے ہوئے اشتیاق صاحب کے آدھے ناول نقش صاحب کے حصے میں آئے تھے، اُدھر اشتیاق صاحب نے نیا ادارہ اشتیاق پبلی کیشنز کے نام سے بنا لیا تھا دونوں دفاتر بالکل ساتھ ساتھ تھے، نقش صاحب نے اشتیاق کے ناولوں کے ساتھ ساتھ کچھ نئے مصنفین سے کتابیں لکھوا کر شائع کرنا شروع کر دی تھیں لیکن اس کے ساتھ

انہوں نے بچوں کے ایک رسالے کا اجراء بھی کیا تھا جس کے پبلشر اور چیف ایڈیٹر وہ خود تھے،
جس دن میں نقش پبلی کیشنز پر پہنچا اس دن بچوں کے اس رسالے کا پہلا شمارہ شائع ہوا تھا، نام تھا ؛ ماہنامہ ننھے شاہین؛ مدیر کے طور پر نام لکھا تھا :منصور احمد بٹ : یہ نام پڑھ کر مجھے یوں لگا جیسے سنا ہوا ہو مانوس سا نام لگ رہا تھا، میں نے ننھے شاہین کے اجراء پر نقش صاحب کو مبارکباد دی اور استفسار کیا کہ یہ منصور احمد بٹ کون ہے، ابھی ملاتے ہیں یہ کہہ کر انہوں نے آفس بوائے سے کہا کہ منصور صاحب کو بُلاؤ .. آفس کے اندر ہی چھوٹا سے الگ کیبن بنا تھا جہاں مدیر صاحب تشریف رکھتے تھے، چند ہی لمحوں میں آگئے اور اسلام وعلیکم کہہ کر ساتھ کرسی پر بیٹھ گئے،
یہ آگئے جی منصور صاحب نقش صاحب نے ہاتھ کے اشارے سے کہا تو ہم دونوں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور مصافحہ کیا، پتلا لمبا نوکدار مونچھیں، بائیس تیس سالہ نوجوان شلوار کرتا اور واسکٹ میں ملبوس، ہاتھ ملانے کے بعد میں نے گفتگو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ آج سے پانچ چھ سال قبل ایک منصور احمد لاہور سے میرے قلمی دوست بھی تھے، جن کی آٹھ آنے قیمت والی کہانیوں کی چار کتابیں، ملک ذکا پبلشر نے چھاپی تھیں، اور ان چار

کتابوں کا ایک سیٹ، موصوف نے مجھے بھی بیس پیسے ٹکٹ لگے ڈاک کے لفافے میں ڈال کر بھیجی تھیں، میری بات سن کر مدیر ننھے شاہین کھڑے ہو گئے.. اور میں منصور بقلم خود اور آپ اعجاز؟؟ … کہہ کر باہیں وا کردیں، ہم دونوں بغل گیر ہوگئے یہی میرے قلمی دوست منصور احمد بٹ تھے
✍️✍️✍️✍️✍️منصور احمد بٹ آج بھی میرے اچھے دوست ہیں ننھے شاہیںن کے بیس بائیس شمارے اِن کی ادارت میں نکلے بعد ازاں ننھے شاہین بند ہوگیا ، اس کے بعد اشتیاق احمد صاحب نے بچوں کے لئے ماہ نامہ چاند ستارے نکالا تو اس کے ادارتی بورڈ کے رکن بھی رہے، بچوں کا ماہنامہ ذہین ایک رسالہ بھی چھپتا تھا جس کے پبلشر ظہور الدین تھے، اس کے مدیر بھی دوسال تک منصور بٹ رہے، اچھرہ لاہور سے رحمان زلفی اور سلیم شاکر ہفت روزہ اخبار پہچان نکالتے تھے منصور بٹ نے بطور ایسوسی ایٹ ایڈیٹر وہاں بھی کام کیا، بغیر ڈیکلریشن کے بچوں کا ایک رسالہ پیام سیریز کے نام سے آتا تھا، اس پر بھی بطور مدیر منصور بٹ کاہی نام تھا، قرطبہ چوک لاہور سے مغرب ٹائمز ہفت روزہ جاری ہوتا تھا وہاں بھی کام کرتے رہے، گلیکسی شاپنگ سینٹر لاہور سے ایک ہفت روزہ اخبار آغازِ سحر کے نام سے شائع ہوا منصور اس میں بحثیت ِ اسسٹنٹ ایڈیٹر اپنے فن کے جوہر دکھاتے رہے، 1993 میں فیملی میگزین میں کچھ عرصہ فکاہیہ کالم بھی لکھا،


✍️✍️✍️✍️✍️انداز پبلی کیشنز کے تحت مشہور و معروف مصنف اشتیاق احمد کے ناول بھی اپنے پارٹنر طاہر ایس ملک کے ساتھ کافی تعداد میں شائع کیے جن پر بطور پبلشر منصور احمد بٹ کا نام لکھا ہوا تھا، منصور بٹ فری لانسر لکھاری بھی ہیں سیکڑوں کتابوں کی تصنیف و تالیف کی جو مختلف اشاعتی اداروں سے شائع ہوتی رہتی ہیں، ان کی تصنیف کردہ چھ کتابیں منسٹری آف ایجوکیشن سے صدارتی ایوارڈ یافتہ کہلا کر نقد انعام اور تعریفی سرٹیفکیٹ حاصل کر چکی ہیں، بچوں کے لئے مختصر کہانیاں لکھنے میں انہیں ملکہ حاصل ہے،سولہ صفحات پر مشتمل بچوں کی کہانیاں جن کی آج کل قیمت پانچ یا چھ روپے ہے منصور بٹ ایسی آٹھ سو سے زیادہ کہانیاں لکھ چکے ہیں، تقریباً چھ شماروں تک بطور ایڑیٹر بچوں کے مشہور ترین رسالے بچوں کی دنیا، میں بھی کام کیا،
✍️✍️✍️✍️✍️غالباً 1996 میں جب اے حمید صاحب کی بچوں کے لئے ٹی وی پر ڈرامہ سیریز عینک والا جن مقبولیت کے ریکارڈ توڑنے لگی تو منصور احمد بٹ نے اپنے کاروباری ساتھی طاہر ایس ملک کے ساتھ مل کر ایک نئے اشاعتی ادارے کی بنیاد رکھی، اور عینک والا جن کی ہر ماہ دو کتابیں شائع کرنا شروع کیں جنہیں ٹی وی ڈرامے کی مشہوری کی بناء پر زبردست رسپانس ملنے لگا، ا اسی زمانے میں میں ایک دن دو روزہ کاروباری دورے پر لاہور پہنچا ، تو اردو بازار غزنی سٹریٹ سے گزرتے گزرتے ترتیب پبلی کیشنز کے ایکسٹرا آرڈنری خوبصورت خوش خط سائن بورڈ پر نگاہ پڑی، بڑے چم چم کرتے شیشے میشے لگے ہوئے تھے، تھوڑا غور سے دیکھا، تو عینک والا جن مصنف اے حمید کی دو نئی کتابوں کا رنگین بڑے سائز کا آرٹ پیپر پر طبع شدہ پوسٹر شیشے پر چسپاں نظر آیا،
میرے اندر کے کتاب فروش نے فوراً سر اٹھا لیا اور میں ٹھٹھک گیا، اور ارادی طور پر سیڑھیاں چڑھ کر ترتیب پبلی کیشنز کے آفس یا دوکان میں بے جھجھک داخل ہو گیا، تو بڑے سے میز کے پیچھے کمپیوٹر پر جھکے منصور احمد بٹ کو سامنے پایا، آہٹ پا کر وہ بھی کمپیوٹر سے نظریں ہٹا کر عینک ناک کے اگلے سِرے تک لا کر سر قدرے جھکا کر عینک کے اوپر سے مجھے دیکھ رہے تھے، یہ صورتحال صرف دو سیکنڈ تک رہی اور بٹ صاحب کھڑے ہو گئے اور جناب… جناب کہہ کر میز کے اوپر سے ہی رسمی معانقہ کرنے لگے اتنی دیر میں طاہر ایس ملک بھی کسی جانب سے نمودار ہوگئے،کھانے کا وقت تھا کھانا منگوایا گیا اور اس کے بعد چائے کا دور جب چل رہا تھا تو منصور بٹ کہنے لگے اعجاز صاحب آج رات لاہور میں ہی ہیں؟؟ میں نے کہا، جی ہاں کل رات کو واپسی ہے پھر تو ٹھیک ہے وقت ہے آپ کے پاس …. خیریت میں نے سوالیہ انداز میں کہا، آئیں آپ کو اے حمید صاحب سے ملواتے ہیں، ان کو پیسے پہنچانے ہیں اور دو نئے مسودے عینک والا جن کے تیار ہیں وہ لے کر آنے ہیں، میں موہوم سی پس و پیش کے بعد راضی ہو گیا ویسے بھی شروع سے ہی مجھے نام ور مصنفین سے ملنے کا شوق رہا ہے، آج سوچتا ہوں کہ اچھا ہوا میں بٹ صاحب کے ساتھ چلنے پر رضا مند ہو گیا کیوں؟ کہ اس کے بعد کبھی اے حمید صاحب سے میری ملاقات نہ ہو پائی، البتہ اس دن ٹھیک ٹھاک ملاقات ہوئی، تھوڑی ہی دیر بعد میں اور بٹ صاحب رکشہ میں سوار اُڑے جا رہے تھے، اور پھر تھوڑی دیر بعد ہم برصغیر اور اردو کے ناقابل فراموش مصنف مزاح نگار سفر نامہ نگار ادیب جناب عبدالحمید عرف اے حمید کی رہائش گاہ کے باہر گیٹ پر کھڑے تھے جن کی کہانیاں پڑھ پڑھ کر میں جوان ہوا تھا، بٹ صاحب نے اطلاعی گھنٹی( کال بیل) پر انگلی کا دباؤ ڈالا، تو میری نظر سفید پتھریلی نیم پلیٹ پر ٹھہری جہاں کالی لکھائی سے قمر ہاؤس مکان نمبر شاید چارسو کچھ تھا، سمن آباد،
گیٹ کے ساتھ ہی اندر دائیں ہاتھ چھوٹا سا باغیچہ تھا جہاں اکا دکا درخت بھی تھے سردیوں کی ماند پڑتی پیلی مائل سبز گھاس کے اوپر بید کی کرسی پر بھلی لگتی دھوپ میں اے حمید تشریف فرما تھے، گھٹنے پر کلپ بورڈ جس میں پر سفید کاغذ لگے تھے، جن پر بال پوائینٹ کی مدد سے ذہن میں موجود یادداشت کو ذخیرۂ الفاظ کی مدد سے صفحہ قرطاس پر سفر نامے کی روئداد کی شکل منتقل کرنے میں مصروف تھے، ہمیں دیکھ کر گہری سانس لی اور کلپ بورڈ پر بال پوائینٹ اٹکا کر گہری سانس لی
سامنے دھری ٹیبل پر رکھ دیا اور… آ آ آ بٹّ وہ منصور بٹ سے مخاطب ہوئے اور ہاتھ ملایا مجھے تو خیر وہ جانتے تک نہ تھے، تاہم خوش اخلاقی اور وقار کے امتزاج سے انہوں نے ہاتھ ملا کر بیٹھنے کا اشارہ کیا، اور وہ پھر منصور بٹ سے محو گفتگو ہوگئے غیر رسمی باتیں جاری تھیں ، میں زندگی میں پہلی بار اے حمید کو دیکھ رہا تھا ، اور یک ٹک انہیں تکے چلا جا رہا تھا دراصل ہم سیدھے سادھے بک سیلر نہیں ہیں جنہیں کتاب سے صرف فروخت کی حد تک دلچسپی ہو، ، بلکہ کتابیں اور ان کے لکھنے والوں کے مقام کو بہ احسن وخوبی جانتا سمجھتا ہوں، میں سمجھ رہا تھا کہ میں اس وقت جس شخصیت کے سامنے بیٹھا ہوں یہ سعادت حسن منٹو کی ہم عصر ہے،، یہ قتیل شفائی، احمد فراز، احمد ندیم قاسمی، کے قبیلے کا فرد ہے،
منصور بٹ اور اے حمید صاحب آپس میں، ضروری باتیں، میں مصروف تھے، عینک والا جن سیریز کے دو مسودات وہ لینے اور پیسے دینے آئے تھے جہاں تک میں سمجھا، اس معاہدے کے وقت اے حمید صاحب نے کچھ رقم پیشگی کے طور پر لی تھی، ہر ماہ دو مسودے دینے کے پابند تھے، اور مسودات کی رقم ہاتھ کے ہاتھ ادا کی جاتی اور پیشگی میں سے کچھ رقم ان مسودوں کے معاوضے سے منہا کر لی جاتی لیکن یہ ساری باتیں میرے لئے زیادہ دلچسپی کی حامل نہ تھیں، کیونکہ ہماری زندگی ایسی باتوں سے لبالب بھری تھی یہ میرے لئے روٹین کی باتیں تھیں
اور میں انتظار کر رہا تھا کہ کب ان لوگوں کی یہ کاروباری باتیں ختم ہوں، اور کوئی گپ شپ کا ماحول پیدا ہو سکے، اسی اثناء میں چائے آگئی، سردیوں کی دھوپ بھری سہ پہر میں چائے پینے کا الگ ہی مزہ ہے، ( بعد میں انہوں نے ہمیں کافی بھی پلائی تھی )
چائے کے سُپ لیتے ہوئے میں نے پھر اے حمید صاحب کو غور سے دیکھا، ان کی آنکھیں یوں تھیں جیسے کسی گہری سوچ میں گُم ہوں، مکمل سفید کھچڑی بال ماتھے سے اُڑے ہوئے دائںیں ہاتھ کی انگلیوں میں سگریٹ گرم شلوار قمیض میں ملبوس ، ماتھے پر تجربہ علم شعور اعتماد کی سلوٹیں، ٹھہرے اور دھیمے انداز میں گفتگو، ایک جو خاص بات ان کی جو میں نے نوٹ کی وہ سگریٹ کے گہرے کش کے بعد ایک خاص انداز سے گاڑھے دھویں کا اخراج اور مرغولے بنانا تھا…….. اور پھر ان کی کاروباری باتیں ختم ہوگئیں، تو اے حمید میری طرف متوجہ ہوئے، نام پوچھا… اپنا نام بتانے کے بعد میں نے اپنی دوکان کا نام بتایا تو مسکرائے اور کہنے لگے سنا ہوا نام ہے، پھر میں محتاط انداز میں ان سے ان کے بارے میں گفتگو کرتا رہا ، کسی بھی معروف شخصیت سے اس طرح کی غیر رسمی ملاقات میں بھی کچھ رسمیں نبھانی پڑتی ہیں، بڑی نپی تْلی باتیں کرنی پڑتی ہیں سو میں نے بھی احتیاط برتی، تاہم جب آدھا گھنٹہ گزر گیا، اور اےحمید صاحب کی کھلی ڈُلی پنجابی باتوں سے تکلف اور اجنبیت کی دھند چھٹی تو باتوں کا مزہ زیادہ آنے لگا ، میں ان کو ان کی ان کتابوں کے نام بتا نے

لگا جو میں نے پڑھ رکھی تھیں، اور ان فہرست طویل تھی جس سے وہ مسرور ہوئے اچانک ہی میرے من میں ایک خیال نے سر اٹھایا کہ، کیوں نہ میں اِن سے اپنے اشاعتی ادارے کے لئے کسی نئے سلسلے کی فرمائش کروں،
میری بات سن کر کہنے لگے کیوں نہیں اگر کوئی خاکہ تمھارے دماغ میں ہے تو بتا دو، دس جلدوں کا سلسلہ لکھ دوں گا تو فوری طور پر میرے دماغ میں ایک آئیڈیا ابھرا جو میں نے انہیں سنایا کہ دو معزور بچے سگے بہن بھائی ہیں ان کے والدین کسی حادثے میں مر گئے اور پھر ان کو ماموں پالتا ہے لیکن ان کی معذوری کے سبب آہستہ آہستہ ممانی ماموں اور ان کے بچے ان سے نفرت کرنے لگتے ہیں، اور پھر ان پر روایتی ظلم شروع ہو جاتا ہے، اسی اثناء میں ماموں کوئی گھر خریدتا ہے جو کہ بھاری یا آسیب زدہ ہوتا ہے،وہاں ایک جن ہوتا ہے جو معصوم بچوں پر ظلم ہوتا دیکھ کر ان کی مدد کرنے کی ٹھانتا ہے، اور پھر اچانک ہی اس معصوم بچے جس کا نام کاکا ہوتا ہے کی زبان سے نکلنے والی کچھ باتیں درست ثابت ہونے لگتی ہیں، جس سے سارے علاقے میں وہ بچہ کاکا سائیں کے نام سے مشہور ہو جاتا ہے،
ون لائن اےحمید صاحب کو بہت پسند آئی، اور انہوں نے کاکا سائیں کے نام سے سیریز لکھنے پر آمادگی ظاہر کردی میں نے انہیں کہا کہ ایک دوماہ تک میں آؤں گا اور معاملات فائنل کرنے کے بعد آپ کو کچھ ایڈوانس دے جاؤں گا، پھر آپ سیریز لکھ دیجئے گا
شومئی قسمت کہ اس کے بعد بوجوہ میں کافی عرصہ لاہور نہ جا سکا، اور اے حمید صاحب سے رابطہ نہ کرسکا اور پھر رہتے رہتے یہ پروگرام میری غفلت کی وجہ سے رہ گیا
اے حمید کا پورا یا اصل نام عبدالحمید تھا، آپ اگست کی 25تاریخ کو 1928 میں برطانوی متحدہ ہندوستان کے شہر امرتسر میں پیدا ہوئے، میٹرک وہیں سے کیا ، تقسیم ہند کے بعد اہلِ خانہ کے ہمراہ پاکستان ہجرت کر گئے ، ایف اے کا امتحان لاہور سے پرائیویٹ سطح پر پاس کیا اور ریڈیو پاکستان سے منسلک ہوگئے، جہاں انہوں نے بہت لمبا عرصہ گزارا بعد ازاں وائس آف امریکہ کے ساتھ بطور اسکرپٹ رائٹر کام کرتے رہے، تاہم افسانوں اور کالمز کی شکل میں آپ کے اندر لکھاری خون اگلتا رہا، یہ وہی خون تھا جو آپ نے تقسیم کے وقت امرتسر کی گلیوں میں بہتا دیکھا تھا انہی بچوں اور خواتین کی آہ و فغاں تھی جو ان کے کانوں میں گونجتی رہتی تھی، ، وہی بے آبرو اور بے یار و مددگار لاشے تھے جو آپ کی نگاہوں سے ہٹتے نہیں تھے، آپ کی ابتدائی تحریروں میں امرتسر کی یادوں گلیوں اور تقسیم کے کرب کا بہت ذکر ملتا ہے،
اے حمید صاحب کے ان گنت افسانوی مجموعے شائع ہوئے تاہم منزل بہ منزل ان کے افسانوں کا پہلا مجموعہ تھا، اردو شعر کی داستان اور اردو نٹر کی داستان ان کی مشہور تخلیقات ہیں، ابنِ انشا کی زندگی پر ایک کتاب سنگ دوست، اور مرزا غالب لاہور میں ایک مزاحیہ تخلیق ہے، مجموعی طور پر اے حمید کی دو سو سے زیادہ کتابیں ہیں جن لاہور کی یادیں، امریکانو اور امرتسر کی یادیں شامل ہیں، اے حمید بنیادی طور پر افسانہ، سفر نامہ نگار ہیں لیکن ان کی زیادہ وجہ شہرت ناول ہیں ان کے پہلے ناول کا نام ڈربے ہے چالیس کے قریب ناول بھی آپ کے موجود ہیں، جن میں سات حصوں پر مشتمل کمانڈو سیریل ہے، بھارت کے فرعون 9جلدوں کا سیٹ جبرو جس کے دو پارٹ ہیں تین ضخیم کتابوں پر مشتمل سلسلہ خزاں کی بارش، بچوں کے 10 ناول عمران ریحان سیریز
طلسم ہوشربا کو بچوں کے لئے ڈرامہ کی طرز پر تلخیص کیا، اے حمید کی ایک ڈرامہ سیریل ٹاہلی تھلے بھی بہت عرصہ پہلے ٹیلی کاسٹ ہوا عنبر ناگ ماریا موت کا تعاقب سیریز کے پہلے سو حصے شیخ غلام علی اینڈ سنز سے شائع ہونے پھر اسی ادارے سے موت کا تعاقب کی واپسی کے نام سے 80کے قریب ناول چھپے اور عنبر ناگ ماریا اور کیٹی خلا میں کے نام سے لگ بھگ 120ایک سو بائیس ناول مکتبہ اقراء سے شائع ہوئے یوں موت کا تعاقب کے تین سو کے قریب پارٹ ہیں، اس کے بعد پی ٹی وی سے اے حمید کی عینک والا جن شروع ہوئی تو بچوں پر ہیجانی کیفیت طاری ہو گئی ، اس کی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے، عینک والا جن سیریز پر کتابیں بھی چھپیں جو ترتیب پبلی کیشنز لاہور نے شائع کیں الغرض اے حمید صاحب نے بچوں اور بڑوں کے لئے لکھا اور خوب خوب لکھا، اور بہت ہی شاندار لکھا 1997 میں حکومت پاکستان نے آپ کی خدمات کے اعتراف میں پرائیڈ آف پرفارمنس عطا کیا! آپ کا ایک بیٹا اور ایک بیٹی ہے آخری دنوں میں سانس لینے میں سخت دشواری محسوس کرنے لگے، اور گفتگو ممکن نہ رہی، کئی دنوں تک آکسیجن مشین کے ذریعے سانس چلایا گیا ، بلکہ ایک معلومات کے گردن میں سوراخ کر کے سانس لینے کا بندوبست کیا گیا، آخر کار 29 اپریل 2011 کو اے حمید.. اللہ کو پیارے ہو گئے، تاہم قلم کی دنیا میں ان نام ہمیشہ زندہ رہے گا ( جاری ہے) بہ احتراماتِ فراواں اعجاز احمد نواب بقیہ واقعات کے لئے انتظار فرمائئے قسط نمبر 15کا جو انشاءاللہ جمعرات 15 اکتوبر کو رات دس بجے آپ کی خدمت میں پیش کر دی جائے گی براہ مہربانی اپنے تاثرات کمنٹس سے ضرور نوازیں اور اردو کہانی کا سفر کو شئیر ضرور کیجئے تاکہ زیادہ سے زیادہ قارئین تک پہنچ سکے، شکریہ

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر  اعجاز احمد نواب پندرھویں قسط

اردو کہانی کا سفر  اعجاز احمد نواب پندرھویں قسط شروع سے میری عادت ہے، میں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے