سر ورق / کہانی / فاصلے ہیں درمیاں…. عثمان عثمت

فاصلے ہیں درمیاں…. عثمان عثمت

کہانی ؛ فاصلے ہیں درمیاں

عثمان عثمت

دوپہر کی سخت دھوپ جھلسا دینے والی دھوپ ہے ۔

اور پیدل چلتے چلتے تو مزید تھکا دیتی ہے ، نیمل ایک پوش علاقے کی بلڈنگ سے بوجھل اور اداس قدموں سے انٹر ویو دے کر نکلتی ہے تو آنکھوں میں آ نسو تھمنے کا نام نہیں لیتے پاس ہی وہ ایک بینچ پر بیٹھ کر بس کاانتظار کرتی ہے ایک اوباش لڑکا نیمل کو مزید گھورنے لگتا ہے نیمل کو بہت برا لگتا ہے لیکن یہ سوچ کر چپ ہو جاتی ہے کہ سب مرد ایک جیسے ہی ہوتے ہیں انٹرویو دینے والے باس نے انٹرویو کیا لینا تھا وہ بس نیمل کی غریبی کا مذاق اڑا رہا تھا اور کسی قسم کی کوئی کسر نہیں چھوڑ رہا تھا اور آ خر میں اس نے یہ کہہ کر نیمل کو بھیج دیا کہ اگر کوئی Vacancyہوئی تو آ پ کو بتا دیا جائے گا فی الحال آ پ جا سکتی ہیں سوچتے سوچتے نیمل پھر سے رونے لگتی ہے لیکن پھر دوپٹے کے پلو سے اپنی آ نکھیں صاف کرتی ہے ایک اور اوباش لڑکے کے ساتھ کچھ اور کا بھی اضافہ ہو جاتا ہے جو نیمل کو بد نیتی کی نظر سے دیکھنے لگتا ہے نیمل اپنا چہرہ دوسری طرف کر لیتی ہے جیسے ہی بس آ تی ہے تو نیمل بس پر چڑھ کر اگلی منزل کی طرف رواں دواں ہو جاتی ہے بس میں کچھ لڑکوں کی نظریں نیمل کو تلاش کرتی ہیں لیکن نیمل اپنا چہرہ کھڑکی کے باہر ہی رکھتی ہے ۔

       ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

نیمل اندرون محلے کی ایک تنگ سی گلی میں ایک مرلے کے مکان میں رہتی تھی دو کمرے چھوٹا سا صحن اور ایک بوسیدہ سی چھت تھی باپ ایک فیکٹری میں ملازم تھا جو چند سال پہلے فوت ہو گیا تھا ماں پہلے لوگوں کے گھروں میں کام کرتی تھی بعد میں اشرف کے مرنے کے بعد اور بیمار ہونے کے بعد گھر کی ہو کر رہ جاتی ہے نیمل سے چھوٹے دوسرے بہن بھائی بھی ہیں جن کی کفالت نیمل کی ذمے داری ہے نیمل کی ما ں نے نیمل کے باپ کے مرنے کے بعد دوسرے بچوں کو بھی تعلیم سے اٹھا لیا تھا نیمل نے پرائیوٹ بی اے کیا تھا لیکن وہ جہاں بھی انٹرویو کے لیے جاتی تو دھتکا ر دی جاتی کیوں کہ اسے کوئی تجربہ نہیں تھا اور محض اس کی بی اے کی ڈگری کو ڈگری نہ سمجھا جاتا اور پھر پرائیوٹ سمجھ کر اسے باہر کا رستہ دکھایا جاتا ، زندگی مشکل سے مشکل تر ہوتی جارہی تھی اور گھر میں کھانے کے لالے پڑے ہوئے تھے ماں بیماری کے ساتھ لگ کر چڑچڑی ہو گئی تھی ہسپتال جانے کے لیے بھی پیسے نہیں تھے یہی سوچ سوچ کر نیمل کی اپنی صحت گر رہی تھی کہ اگر یہی حال رہا تو پھر اللہ ہی مالک ہے ، ما ںکو نیمل کی شادی کی بالکل فکر نہیں تھی ایک دو بار محلے کی عورتوں نے نیمل کی ماں سے ذکر کیا تھا لیکن نیمل کی ماں کا ترشت جواب سن کر چپ ہو جاتی ہیں کہ اگر نیمل کی شادی ہو گئی تو گھر کی ذمے داری کون اٹھائے گا میرے بعد باقی بچوں کا خیال کون رکھے گا اور کون سی نیمل کی عمر بھاگی جا رہی ہے ابھی چوبیس سال کی تو ہے یہ سوچ کر محلے کی عورتیں نیمل کے گھر آ نے جانے سے کنارہ کشی اختیار کر لیتی ہیں اور دوبارہ کبھی رخ نہیں کرتیں ۔

      ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کبھی کبھی نیمل کو لگتا کہ جیسے اس کی ماں اس کی سوتیلی ماں ہے جسے اس کی شادی کی کوئی فکر نہیں نیمل اندر ہی اندر گھٹی جاتی ہے لیکن زندگی کی گاڑی چلانے کے لیے اسے پھر سے امتحان سے گزرنا تھا اور آ خر کار وہ زندگی کے کٹھن مرحلے سے گزر کر امتحان پاس کرنے میں کامیا ب ہو ہی جاتی ہے بڑی مشکل سے اسے ایک پرائیوٹ کمپنی میں ریسپشنسٹ اینڈ کمپیوٹر آ پریٹر کی جاب مل ہی جاتی ہے تنخواہ بھی بس ٹھیک ٹھاک تھی گھر والے بھی خوش تھے نیمل کی ما ں کا بھی علاج ہو رہا تھا زندگی اپنی ڈگر پر چل پڑی تھی نیمل کے بہن بھائی گھر پر ہی قرآ ن پاک پڑھنے لگے تھے اور تھورا بہت گھر پر ہی سکول کا کام کر لیتے تھے بہن بھائی ابھی چھوٹے تھے اور زندگی کی رفتار بہت لمبی تھی ایک تھکا دینے والی زندگی کسی نہ کسی طرح سے کنارے لگ ہی گئی تھی ۔ نیمل کو اپنے آ فس میں کام کرتے ہوئے چھ مہینے گزر چکے تھے اور نیمل کے باس شیرازی بیگ نے اس کی تنخواہ میں کچھ اضافہ بھی کر دیا تھا اور وہ نیمل کو کچھ زیادہ ہی اہمیت دے رہا تھا ایک دن موقع پا کر شیرازی بیگ نیمل کو اپنے کمرے میں بلاتا ہے اور اس سے باہر ٹائم پاس کرنے کے لیے کہتا ہے یہ سن کے نیمل کے ہوش اڑ جاتے ہیںاور وہ انکار کر دیتی ہے انکار سن کر شیرازی بیگ طیش میں آ جاتا ہے اور وہ زبردستی نیمل کا ہاتھ پکڑ لیتا ہے اور مڑوڑنے کی کوشش کرتا ہے یہ سن کر نیمل ایک زور دار تھپڑ اپنے باس کو مارتی ہے اور کمرے سے چلی جاتی ہے اپنے منہ پر تھپڑ پڑتا دیکھ کر شیرازی بیگ کھل کھلا کر ہنستا ہے اور دل ہی دل میں بڑ بڑا تا ہے کہ اگر میں نے اسے اپنے قدموں میں نہ جھکایا اور اسے بدنام کر کے نہ درکھا تو میرا نام بھی شیرازی بیگ نہیں ، ایک زور دار قہقہ لگا کر شیرازی بیگ سگریٹ کا دھواں اڑاتا ہے ۔

نیمل جیسے ہی گھر پہنچتی ہے تو جا کر کمرے میں بند ہو کر دروازہ بند کر لیتی ہے اور رونے لگتی ہے ماں اور بہن بھائی دروازہ کھٹکھٹاتے ہیں لیکن نیمل دروازہ نہیں کھولتی اور فیصلہ کر لیتی ہے کہ وہResign کر دے گی ابھی وہ انھی سوچوں میں ہی ڈوبی ہوتی ہے کہ نیمل کی ماں ایک بار پھر دروازہ کھٹکٹانے لگتی ہے

کیا ہوا میری بچی دروازہ تو کھول کسی نے کچھ کہا ہے دیکھ جب تک تو بتائے گی نہیں مجھے پتا کیسے چلے گا

نیمل کو دروازہ کھولنا ہی پڑتا ہے اور وہ ساری بات بتانے لگتی ہے سب بڑے دھیان سے سن رہے ہیں بس اماں میں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ کچھ بھی ہو میں اس کمپنی میں کام نہیں کروں گی ، نیمل دو ٹوک الفاظ میں اپنی ماں کو متوجہ کرتی ہے

یہ تو کیا کہہ رہی ہے نوکری چھوڑ دے گی تو پھر سے سارے گھر کا معاملہ ویسے ہی ہو جائے گا جیسے کہ پہلے تھا اور پھر نوکریاں کون سی روز روز ملتی ہیں اور پھر یہ امیر لڑکوں کے چونچلے ہوتے ہی ایسے ہیں جوان اور حسین لڑکیوں سے شرارت کرتے ہی رہتے ہیں ۔

اماں ! جسے تم لڑکا کہہ رہی ہو وہ پچاس ساٹھ سال کا بڈھا ہے نیمل کی بات سن کر نیمل کا بھائی بیچ میں آ ن ٹپکتا ہے

آ پاں اب اس کی اتنی بھی عمر نہیں ، تم اپنی زبان بند ہی رکھو پپو تم نہیں جانتے ان بڈھے لوگوں کو جب کسی غریب لڑکی کو نوکری دیتے ہیں تو ساتھ ہی ان کی ۔۔۔۔۔۔نیمل چپ ہو جاتی ہے ، نیمل کے بہن بھائی ٹکٹکی باندھ کر اس کی بات پر حیران ہیں کہ ان کی بڑی بہن کیا بات کرنے والی ہے ساتوں کے سات نیمل کو چھوڑ کر ادھر ادھر ہو جاتے ہیں نیمل کی ماں ایک بار پھر اسے تلقین کرتی ہے کہ خدا کے لیے میری بچی نوکری مت چھوڑ بڑی مشکل سے گھر کنارے لگا ہے ایسا نہ ہو کہ پھر سے دریا کی نذر ہو جائے ماں باہر چلی جاتی ہے لیکن نیمل کے دماغ میں اپنی ماں کی باتیں ٹیس بن کر اس کے دماغ کو پگھلاتی ہیں ۔

    ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 شیرازی بیگ پچاس ساٹھ سال کے لگ بھگ تھا لیکن اپنی Personality کی بدولت تیس چالیس سال لکا لگتا تھا کئی لڑکیوں کے ساتھ اس کے تعلقات تھے اور ہر تعلق بنا کر چھوڑ دینا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا کئی کمپنیوں کا مالک کئی فارم ہاﺅس کئی غیر قانونی دھندوں میں ملوث تھا لیکن آ ج تک کسی قسم کی قانونی کرپشن کے زمرے میں وہ نہیں آ یا تھا جب بھی کوئی مجبور لڑکی شیرازی بیگ کو اس کا اصل چہرہ دکھانے کی کوشش کرتی تو شیرازی بیگ اسے سگریٹ کی طرح مسل کر رکھ دیتا ، غریب رشتے داروں سے مکمل طور پر کٹا ہوا انسان تھا ، انسانیت کیا ہوتی ہے اسے کبھی پتا ہی نہیں تھا شیرازی بیگ کی ماڈرن بیوی Highly societyکا ایک اعلی نمونہ تھی اور بیٹا فارس بیگ باپ سے بھی دو ہاتھ آ گے تھالندن کی University of Sunsex سے ایم بی اے کر رہا تھا لندن جا کر فارس کا ایسا دل لگ گیا تھا کہ اس نے یونیورسٹی میں قدم رکھتے ہی کئی انگریز لڑکیوں سے دوستی کر لی تھی لیکن یہ دوستی فرضی تھی کیوں کہ فارس کا لندن میں سیٹل ہونے کا کوئی ارادہ نہیں تھا اس کے لیے پاکستان ہی اس کا لندن تھا جہاں اسے ہر آ سائش میسر تھی سمارٹ خوبصورت لا ابالی پن فلرٹ کرنا شراب پینا سگریٹ نوشی کرنا اور Kissingکرنا ، سپورٹس میں اسے ریسنگ کار میں حصہ لینا بیڈ منٹن کھیلنا اس کے پسندیدہ مشغلے تھے ، فارس بیگ سے چھوٹی بہن امریکہ کی یونیورسٹیStanford University سے بی بی اے کر رہی تھی فیشن ایبل زندگی کی حسین پرور دلدادہ تھی بھائی کی طرح کئی انگریز لڑکے فارعہ کے دوست تھے ، فارعہ بھی اپنے بھائی کی طرح اس کی طرح کے پسندیدہ مشغلوں میں Involve تھی ۔

نیمل کی ساری رات کروٹ بدلتے ہی گزر جاتی ہے صحیح طرح سے نیند بھی پوری نہ ہوئی آ نکھیں سوجھی ہوئی تھیں کھانا بھی اس نے واجبی سا کھایا تھا اور بوجھل دل کے ساتھ گھر والوں کو Ignore کر کے آ فس کے لیے نکلتی ہے صرف اپنی ماں کے کہنے پر ورنہ وہ جانتی تھی کہ اس معاشرے میں ایک غریب لڑکی کبھی بھی امیر لوگوں کے پیروں تلے روندھی جا سکتی ہے ، کیسے کیسے معصوم چہروں کے پیچھے بھیڑیے چھپے بیٹھے ہیںکوئی نہیں جانتا اور ان بھیڑیوں کے ہاتھ بھی کتنے لمبے ہوتے ہیں قانون تک منسٹروں سیاستدانوں تک ان کی پہنچ ہوتی ہے ، سوچوں کے غرقاب سے سے نکل کر جیسے تیسے فاصلہ طے کر کے نیمل آ فس پہنچتی ہے چپ چاپ کسی سے بات کیے بغیر کام شروع کر دیتی ہے اور شکر ادا کرتی ہے کہ باس نے اسے اپنے کمرے میں نہیں بلایا جیسے ہی چھٹی ہو تی ہے تو نیمل اپنا کام سمیٹ کر آفس سے نکل جاتی ہے ابھی تھوری دور ہی جاتی ہے کہ ایک وائٹ کلر کی مزدہ نیمل کا رستہ روکتی ہے اور نیمل کو زبردستی گاڑی میں ڈال کر چلی جاتی ہے نیمل ہاتھ پاﺅں مارنے کی کوشش کرتی ہے لیکن اس کے ہاتھ باندھ دیے جاتے ہیں اور منہ پر پٹی باندھ دی جاتی ہے اور گاڑی شہر سے دور ایک ویرانے میں آ کر رکتی ہے اور نیمل کو نکال کر اسے اٹھا کر ایک فارم ہاﺅ س میں لا کر اسے قید کر لیا جاتا ہے ، آ دھی رات کو بوٹوں کی آ ہٹ ہوتی ہے اور آ ہستہ

 آ ہستہ قدموں سے دروازہ کھول کر کوئی اندر آ تا ہے فارم ہاﺅس کے کمرے میں مکمل طور پر اندھیرا ہے نیمل ڈر سی جاتی ہے کچھ بول بھی نہیں سکتی کیوںکہ ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور منہ پر پٹی بندھی ہوئی ہے ایک انجان آ دمی نیمل کو کندھوں سے پکڑ کر زور سے ہنستا ہے اور ہنستا ہی چلا جاتا ہے ۔

        ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تین مہینے گزر جاتے ہیں اور ان تین مہینوں میں نیمل کی ماں پولیس تھانوں کے چکر لگا لگا کر ہلکان ہو جاتی ہے نیمل کے بہن بھائی الگ پریشان ہیں کہ ان کی بہن آ خر کار ان تین مہینوں میں کس نکڑے لگ گئی ہے کہ کسی کو بھی کانوں کان خبر نہ ہوئی کچھ محلے کی عورتیں تسلی کے کچھ بول بول کر نیمل کی ماں کی ڈھارس بندھاتی ہیں لیکن کب تک ، رہ گئے پولیس والے تو وہ بھی بے بس تھے کیا کر سکتے تھے شیرازی بیگ کے سامنے قانون بے بس تھا جس کی پہنچ ہی اوپر تک تھی اور وہ ان غریب غربا کو اپنے پاﺅں کی جوتی سمجھتا تھا ۔ نیمل کی ماں سے بھی زیادہ اگر کوئی پریشان تھا تو وہ خاور تھا جو نیمل کے محلے میں رہتا تھا اور نیمل سے شدید محبت کرتا تھا لیکن اس نے کبھی بھی نیمل کو نہیں بتا یا تھا کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے اس نے ایک بار نیمل کی ماں سے پوچھا تھا کہ نیمل کس کمپنی میں کام کرتی ہے اور اس کے باس کا نام کیا ہے نیمل کی ماں اس معاملے میں بالکل گونگی بن جاتی ہے ۔

شیرازی بیگ لان میں بیٹھا اخبار پڑھ رہا ہے مین گیٹ سے تیز تیز قدم اٹھائے S.H.Oطاہر بگٹی آ کر شیرازی بیگ کو سیلوٹ کرتا ہے اور مصافحے کے لیے ہاتھ آ گے بڑھاتا ہے شیرازی بیگ چہرے پر مسکراہٹ لائے اٹھ کر طاہر بگٹی سے مصافحہ کرتا ہے دونوں بیٹھ کر بات چیت میں مشغول ہو جاتے ہیں ۔

کیا حکم ہے سر جی ، طاہر بگٹی بات کا آ غاز کرتا ہے

اس گھر کو جلا کر راکھ کر دو اور یہ کام تم نے کیسے کرنا ہے تم اچھی طرح جانتے ہو

آ پ نے کہہ دیا اور میں نے کر دیا لیکن یہ تو بتائیے وہ لڑکی کہاں ہے

شیرازی بیگ کھل کھلا کر ہنستا ہے ،

 جیسے ہی میرا کام مکمل ہو گا میں اس لڑکی کو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آ زاد کر دوں گا اور ہاں اب تم نے یہا ں نہیں آ نا میری بیگم کو ذرا سا بھی شک ہو گیا تو کمبخت سو کے سو سوال پوچھے گی ۔

آ پ فکر ہی نہ کریں سر جی آ پ کا کام ہو جائے گا اور میں بھی اب یہاں نہیں آ ﺅں گی ، طاہر بگٹی ہاتھ سے کوئی اشارہ کرتا ہے شیرازی بیگ طاہر بگٹی کا اشارہ سمجھ جاتا ہے ۔

تمھیں تمھاری پیمنٹ مل جائے گیDont worry اور کام جلد از جلد ہو جانا چاہیے اور اس قصے کو بھی ختم ہو جانا چاہیے

طاہر بگٹی شیرازی بیگ سے ہاتھ ملا کر چلا جاتا ہے اور شیرازی بیگ مطمئن ہو کر ایک لمبی سانس لیتا ہے ۔

کچھ دنوں بعد شیرازی بیگ کو یہ خبر سننے کو ملتی ہے کہ نیمل کے گھر کو آگ کے دہکتے شعلوں نے اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے اور کوئی بھی نہیں بچا ۔

       ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ایک سال بعد شیرازی بیگ کا بیٹا فارس لندن سے ایم بی اے کر کے آ تا ہے تو اس کی خوشی میں ایک شاندار پارٹی دی جاتی ہے ، فارعہ کے آ نے میں ابھی کچھ وقت باقی ہوتا ہے وہ نہیں آ تی شیرازی بیگ کے تمام بزنس مین دوست آ تے ہیں اور مسز شیرازی کی بھی تمام فرینڈز آ تی ہیں خوب ہلا گلا ہوتا ہے شراب نوشی ڈانسنگ ، سنگنگ اور خوب مرغ مسلم اڑائے جاتے ہیں نیمل اپنے ایک سال کے بچے کو لیے شیرازی بیگ کے بنگلے کے قریب سے گزرتی ہے تو نیمل کا بچہ بھوک سے بلبلا اٹھتا ہے نیمل سے اپنے بچے کی بھوک دیکھی نہیں جاتی ہے وہ سیکورٹی گارڈ کے منع کرنے کے باوجود زبردستی اندر آ گھستی ہے اسے اندر آ تے دیکھ کر سارے مہمان ہکے بکے رہ جاتے ہیں سیکورٹی گارڈ بھی نیمل کے پیچھے اندر آ تا ہے

صاب ! یہ زبردستی اندر آ گئی ہم نے اسے بوت روکا لیکن یہ نہیں رکا

شیرازی بیگ نیمل کی طرف انگلی اٹھا تا ہے اور غصے سے سیکورٹی گار ڈ کو کہتا ہے اے خان اس دو ٹکے کی لڑکی کو اٹھا کر باہر پھینک دو

نیمل غصے سے چیختی چلاتی ہے سیٹھ دو ٹکے کی میں نہیں تم ہو تم نے شاید مجھے پہچانا نہیں ، تم مجھے پہچانو گے بھی کیسے تمھاری آ نکھوں پر تو دولت کی پٹی جو بندھی ہوئی ہے عمر ہو گئی پر عقل نہ آ ئی تجھے ۔

ہے ذلیل لڑکی کیا اول فول بک رہی ہے چل دفع ہو یہاں سے ، مسز شیرازی بیگ جس نے پنک کلر کی ساڑھی پہنی ہوئی ہے اور کمر اور پیٹ دونوں واضح ہیں آ گے ہوتی ہے اور نیمل کا ہاتھ پکڑ کر اس کی آ نکھوں میں دیکھتی ہے سنا نہیں تم نے کیا کہا ہے شیرازی نے چل دفع ہو یہاںسے بڑی آ ئی اور ہاں جو بچا کچھا کھانا بچ گیا ہے وہ ڈوس لینا خان اسے باہرکا رستہ دکھا ﺅ

جی بیگم صاحبہ ! چلو لڑکی ، سیکورٹی گارڈ لڑکی کا ہاتھ پکڑنے لگتا ہے نیمل جھٹک دیتی ہے

ہے سیٹھ آ ج میں تیرا پول سب کے سامنے کھول کر ہی رہوں گی میری عزت لوٹنے والا دلال ہے تو اور یہ جو بچہ میری گود میں ہے یہ تیرا اپنا خون ہے آ واز ٹکراتی ہے جس سے سب ہل کر رہ جاتے ہیں ، یہ تیرا اپنا خون ہے یہ تیرا اپنا خون یے یہ تیرا اپنا خون ہے ،

شیرازی کے چہرے پر پسینے چھوٹ جاتے ہیں غصے سے مٹھیاں بھینچ لیتا ہے اس بار فارس آ گے ہو کر نیمل کے گالوں پر ایک زور دار چماٹ مارتا ہے اور نیمل کا ہاتھ پکڑ کر دھکے دیتا ہے نیمل بولتی رہتی ہے چیختی چلاتی ہے بددعا دیتی ہے لیکن اس کی آ واز سننے والا کوئی نہیںسوائے اللہ کے ، اللہ کی لاٹھی بے آ واز ہے جس پر بھی چل جائے وہ اس کی پکڑ میں آ ہی جاتا ہے لیکن پھر بھی لو گ غافل رہتے ہیں اور دولت سمیٹنے کے چکر میں پڑے رہتے ہیں عیاشیوں میں ڈوبے رہتے ہیں اور اپنا ایمان تازہ کرنے کے لیے جلدی سے اللہ والے بن جاتے ہیں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 چھ مہینوں بعدفارس پر حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ اس کا باپ کیا ہے اور اس کی ماں کیا ہے آ ج کل اس کا باپ شیرازی ایک نئی لڑکی کے ساتھ رنگ رلیاں منا رہا ہے اور ماں نے بھی ایک بوائے فرینڈ بنا لیا ہے فارس پاکستان آ کر ماﺅف ہو جاتا ہے کہ بچپن سے ہی وہ جس ماحول میں پلا بڑھا ہے پاکستان اور لندن میں کوئی فرق نہیں اگر ایسا ہی چلتا رہا تو پاکستان امریکہ اور لندن بن جائے گا یہاں بھی لڑکیاں ٹائٹ جینز اور ہاف ٹی شرٹ پہن کر گھومتی ہیں لڑکوں کے ساتھ رنگ رلیا ں مناتی ہیں Kissingکرتی ہیں سموکنگ کرتی ہیں اور تو اور لڑکوں کے ساتھ سیکس کرنے میں بلکل ہی عار نہیں کھاتیں تعلیم یافتہ رئیس ماں باپ کی بگڑی بیٹیاں ، خدا ہر والدین کو بیٹے بیٹی کی اچھی تربیت کرنے کی توفیق عطا فرمائے ! آ مین ۱

آ دھی رات کو شراب کے نشے میں دھت ساٹھ سالا بڈھا عیاش شیرازی بیگ نیم برہنہ جواں سال چوبیس سالہ لڑکی کے ساتھ گھر کے ٹی وی لاﺅنج میں جیسے ہی داخل ہو تا ہے تو فارس تالیاں بجا کر شیرازی کا سواگت کر تا ہے اور خان کو آ واز دیتا ہے خان اس لڑکی کو باہر کا رستہ دکھاﺅ

جی صا ب چلو لڑکی ، لڑکی بھی شراب کے نشے میں دھت ہے خان لڑکی کا ہاتھ پکڑ کر اسے گیٹ کے دروازے پر ہی چھوڑ کر آ جاتا ہے شیرازی بیگ صوفے پر دھرام ہو کر گر جاتا ہے دوسرا دھچکا فارس کو تب لگتا ہے جب اس کی ماں شراب کے نشے میں دھت اپنے سے دس بیس سا ل چھوٹے بوائے فرینڈ کے ساتھ اندر داخل ہوتی ہے فارس لڑکے کو دیکھ کر گرتے گرتے بچتا ہے کیوں کہ لڑکا فارس کا گہرا دوست فرخ ہے جو لندن میں اس کے ساتھ پڑھتا تھا لڑکا ڈر کر دوڑھ جاتا ہے اور مسز شیرازی بیگ بھی اندر گرتے گرتے فرش پر گر جاتی ہے اب فارس کے لیے ایک منٹ بھی رکنا محال تھا فارس اور اس کے ماں باپ کے دمیان کئی فاصلے حائل ہو چکے تھے ، فارس سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لیے لندن چلا جاتا ہے اور خود کو لندن کے ماحول میں ڈھال لیتا ہے ۔

 کچھ مہینوں بعد مسز شیرازی بیگ شیرازی بیگ سے طلاق لے کے طلحہ نامی بزنس مین سے شادی کر لیتی ہے جو عمر میں اس سے پندرہ سال چھوٹا ہے مسز شیرازی طلحہ کے ساتھ شادی کر کے ورڈ ٹور پر چلی جاتی ہے شیرازی بیگ بالکل تنہا رہ جاتا ہے اور تنہائی اسے بالکل کھوکھلا کر دیتی ہے خوبصورت لڑکیاں اب شیرازی سے دور بھاگتی ہیں بزنس بھی ٹھپ ہو کر رہ جاتا ہے ۔

ایک دن شیرازی بیگ کو اطلاع ملتی ہے کہ اس کی بیٹی فارعہ نے کسی انگریز لڑکے سے شادی کر لی ہے امریکہ میں ہی اوراب وہی انگریزلڑکا اب اپنی بیوی کی ننگی ویڈیوز بنا کر مارکیٹ میں سیل کرتا ہے یہ خبر سن کر شیرازی کو دل کا جا ن لیوا دورہ پڑتا ہے اور وہ اپنے گھر کے کمرے میں مردہ حالت میں پایا جاتا ہے

ساری زندگی دولت اور عیاشی میں رہنے والا شیرازی بیگ آ خر کار اپنے انجام کو پہنچ جاتا ہے ، زمانہ ازل سے امیر اور غریب کے درمیان فاصلے حائل ہیں جنھیں ختم کرنا کسی کے بس کی بات نہیں اسی لیے کسی غریب کو غریب مت کہو اور کسی امیر کو سر پر اتنا مت چڑھاﺅ کہ سورج کی تپش اسے اندر سے ختم ہی کر دے

اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے انتقام کی سولی پر لٹکا ہی رہے ۔

                (ختم شد )

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ابھِیمنیو کی خودکشی راجیندر یادو /عامر صدیقی

ابھِیمنیو کی خودکشی راجیندر یادو /عامر صدیقی ہندی کہانی ……………….. راجیندر یادو۔پیدائش: ۸۲ اگست،۹۲۹۱ ئ، …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے