سر ورق / کالم / لکھاریوں کے قاتل قاری … خرم شہزاد

لکھاریوں کے قاتل قاری … خرم شہزاد

لکھاریوں کے قاتل قاری

خرم شہزاد

            محی الدین نواب اردو ادب کا وہ نام ہے جسے کم از کم اگلی ایک دو صدی تک فراموش نہیں کیا جا سکتا ، اس کے بعد اگر کوئی بھول جائے تو کچھ کہا نہیں جا سکتا۔ جتنا ، جیسا اور جس قدر نواب صاحب نے لکھ دیا وہ اپنی جگہ سند ہو گیا۔ ان کے چاہنے والوں میں ہر عمر کے مردوزن شامل رہے اور آج بھی مداحوں کی تعداد میں کوئی کمی نہیں آئی لیکن سوال یہ ہے کہ اردو ادب کا اتنا بڑا نام کیا اتنا آسودہ حال تھاجتنا اسے ہونا چاہیے تھا ۔عشق کا عین، بیلے کا سیاہ پھول ، وقت کے فاصلے سمیت سینکڑوں لاجواب کہانیوں کے خالق علیم الحق حقی یقینا وہ شخصیت ہیں جنہوں نے محبت کو اتنے منفرد اور دلکش انداز میں لکھا کہ واقعی پڑھنے والے کو محبت سے محبت ہو جائے۔ آپ ایک کہانی پڑھ کر سوچتے ہیں کہ اب محبت کو اور کس رنگ میں بھلا لکھا جا سکتا ہے؟ لیکن دوسری کہانی محبت کا ایک اور روپ، ایک اور انداز آپ کے سامنے پیش کرتی ہے اور خدا تعالیٰ نے یہ کمال حقی صاحب کے قلم کو بخشا تھا کہ انہوں نے محبت سے محبت کرنا سیکھا دیا، لیکن سوال پھر وہی کہ اتنا منفرد لکھاری ساری عمر کس حال میں رہا ؟ کتنی آسودگی اور خوشحالی اس کی زندگی کا حصہ رہی ؟ محبت کی کہانیاں لکھنے والے حقی کے شب و روز کس قدر سخت اور پر آزمائش تھے ، آج یہ سب کہنے اور بتانے کی کوئی ضرورت نہیں کہ ایک زمانہ اس بات کو جانتا ہے۔ اردو ادب کا ایک اور بڑا نام جناب ایم اے راحت کے بارے میں ایک خاص بات یہ کی جا سکتی ہے کہ اگر کسی کو راحت صاحب پسند نہیں تو ترازو کے ایک پلڑے میں راحت صاحب کا کام رکھا جائے اور دوسرے پلڑے میں ان صاحب کو بیٹھایا جائے، یقینا صاحب ہلکے نکلیں گے مگر زندگی کے شب و روز جنون کی حد تک جا کر لکھنے والے ایم اے راحت کو اتنا کچھ لکھنے کا کیا صلہ ملا؟ ایک دو دس یا پچاس کہانیاں اور کتابیں لکھنے کے بعد راحت صاحب کو کیا اس قدر فرصت میسر ہوئی کہ وہ چند بے فکری کی سانسیں لے سکتے اور کچھ دن اپنے گھر والوں اور بچوں کو دے سکتے؟ نہیں ، ان کی جہد مسلسل زندگی میں ایسا کوئی وقفہ یا واقعہ نہیں ملتا کہ انہیں اتنی فرصت میسر آئی ہو۔سوال تو پھر وہی ہے ناں کہ اتنا بڑا نام اور اتنا زیادہ کام آخر کس کام کا کہ ذرا سی بھی آسودگی اور خوشحالی کو لکھاری ترس جائے؟

            کیا زندگی اتنی سفاک ہے یا کہانی اتنی ہی سادہ ہے؟ یقینا دونوں باتیں نہیں ہیں۔آج کل ہم حقیقی دنیا سے زیادہ وقت مجازی دنیا میں لگاتے ہیں اس طرح مجازی دنیا ہی دراصل اب ہماری اپنی دنیا سمجھی اور مانی جاتی ہے اور اس مجازی دنیا میں آپ اگر جرات کر سکتے ہیں تو ایم اے راحت صاحب کے خلاف تین جملے بول کر دیکھائیں، آپ نواب صاحب پر تنقید کرنے کا صرف سوچ لیں یا حقی صاحب کی کسی کہانی کو مسترد کر کے دیکھیں ، ان کے عشاق آپ کا جینا محال نہیں کر دیں گے بلکہ آپ کو ایسا لگے گا کہ یہ لوگ آپ کی قبر میں بھی گھس جائیں گے اور وہاں بھی کہیں گے کہ بولو بھئی بولو، تمہاری جرات کیسے ہوئی ہمارے پسندیدہ لکھاری کے خلاف منہ کھولنے کی؟ آپ ان لکھاریوں کے فین کلب تلاش کریں تو فہرست کو گننا مشکل ہو جائے گا، سوچیں کہ ان کلبوں میں کتنے کتنے عشاق موجود ہوں گے۔آپ ان لکھاریوں کے فین پیچ تلاش کریں تو ہزاوں لوگوں نے ان کے پیج نہ صرف بنائے ہوئے ہیں بلکہ ان کی حیاتی میں تو روزانہ کے حساب سے اپڈیٹ بھی کرتے تھے۔ آپ کو ایسے بہت سے لوگ ملیں گے جن کا دعوا ہو گا کہ ہم نے اپنے پسند یدہ لکھاری کا لکھا ہر لفظ نہ صرف پڑھا ہے بلکہ ہمیں یاد بھی ہے۔ آپ امتحان لیں تو ان لوگوں کی کامیابیاں آپ کو سوچنے پر مجبور کر دیں گی کہ کوئی کسی لکھاری سے اتنی محبت کیسے کر سکتا ہے؟ ان لکھاریوں کے ایک ایک کردار پر لوگ ہفتہ ہفتہ بحث کر سکتے ہیں اور اس تفصیل سے بات کر سکتے ہیں کہ شائد لکھنے والے کو خود بھی اتنے پہلووں کا پتہ نہ ہولیکن ۔۔۔ اور پھر اس لیکن کے بعد کہانی ساری کی ساری بدل جاتی ہے۔ ساری ناموری اور شہرت اپنی جگہ لیکن جب یہ لکھاری کرائے کے مکانوں میں خوار ہو رہے تھے تو یہ سارے فین اور عشاق کہاں مرئے ہوئے تھے؟ جب یہ لکھاری اپنے مکان ، اپنی چھت کی خواہش میں دن رات ایک کر رہے تھے تو ان کے لکھے کی قیمت لگانے والے ہاتھوں کو فالج کیوں ہو گیا تھا؟ ایک ایک لفظ پڑھنے اور یاد رکھنے کے دعوے داروں کے پاس جب گنتی کی چند کتابیں ، اور وہ بھی کسی پرانی کتابوں کی دکان یا کسی دوست سے چرائی ہوئی ملیں تو سوال یہ بھی ہوتا ہے کہ کہاں اور کیسے وہ ایک ایک لفظ پڑھا گیا ہو گا؟ لیکن سوال تو یہ بھی ہے کہ دس ہزار لوگوں کا ایک فین کلب لکھاری کو ایک وقت کی روٹی اچار کے ساتھ مہیا کر سکتا ہے کہ نہیں؟ لیکن سوال تو یہ بھی ہے کہ جب لکھاری ایک ایک ہزار کی فریاد کرتے مر گئے تو کتنے لوگ تھے جنہوں نے مدد کو ہاتھ بڑھائے اور کتنے اس وقت بھی صرف واہ واہ کرنے میں اور لکھے کو پڑھ کر سر دھننے میں مصروف تھے؟

            ان تین نامور لکھاریوں کا ذکر تو صرف نمونے کے لیے تھا ورنہ اس ارض وطن میں ایسے درجنوں لکھاری کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں یا گزار کر جا چکے ہیں کہ ان کے بارے بات کی جائے تو افسوس بہت چھوٹا لفظ لگے اور ان سب کے مشترکہ قاتل اور ذمہ دار ان کے قاری ہیں۔ جو اپنی واہ واہ میں انہیں کچھ اور کرنے نہیں دیتے تھے۔لیکن جب بات معاوضے یا کتاب کی خریداری کی آتی تو یہ تمام عشاق اور فین دنیا کی غریب ترین مخلوق میں ڈھل جاتے جن کی جیب میں ایک وقت کا فاقہ کاٹنے کے لیے بھی پیسے نہیں ہوتے تھے۔ ایک کتاب خریدنا انہیں پورے سال کے بجٹ کو خراب کرنے کے برابر لگتا اور انہیں یہ سمجھ نہ آتی کہ ایک کتاب اگر نئی خرید لی گئی تو اس نقصان کو سال بھر میں پورا کیسے کیا جائے گا؟ لاکھوں عشاق، ہزاروں فین کلب اور پیجز کی موجودگی میں بھی ہمارے ہاں کوئی کتاب دو ہزار کی تعداد میں نہیں چھپتی اور پبلیشر کے مطابق سال میں شائد دو سے تین کتابیں ہوں جو دوسرے ایڈیشن تک جاتی ہیں ورنہ تو سب پڑی ہیں ، لوگ لیتے ہیں نہیں۔ آج جب آن لائن دنیا کا زمانہ آ چکا ہے تو لکھاریوں کے قاتلوں کو نئی راہ مل گئی ہے۔ ابھی پبلیشر نے کتاب لاہور سے کراچی بھیجی نہیں ہوتی کہ آدھے کراچی کے موبائل فونز اور لیپ ٹاپس میں پی ڈی ایف کی شکل میں کتاب موجود ہوتی ہے ، ہر ایک دوسرے کے سامنے دولے شاہ کے دربار پر گھومتے ملنگوں کی طرح منہ بناتے ہوئے پوچھتا ہے کہ لنک تو بھیج دو یار۔ لنک ملنے اور پی ڈی ایف ڈاون لوڈ ہونے کی جلدی ہوتی ہے، کتاب بھلے پھر سال بھر نہ پڑھی جائے لیکن پہلے دن کتاب ڈاون لوڈ کرنا سب سے بڑا معرکہ ہوتا ہے جسے سر کرنا ہر آن لائن مجاہد اپنا فرض سمجھتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ اگر ہر شخص کے منہ کو خون لگا ہو گا، اگر ہر شخص پی ڈی ایف کا لنک ڈھونڈے گاتو لکھاری کو معاوضہ کون دے گا۔ سوال تو یہ بھی ہے کہ کیا ہمارا لکھاری سے یہ رویہ اسے جدوجہد، کسمپری اور غربت کی طرف دھکیلنے کا باعث نہیں ؟ کیا ہم اپنی گردن اور ہاتھوں پر لکھاریوں کا خون دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں یا پھر لکھاری ہماری پھرتیوں اور مستیوں کے باعث ایسے ہی بے موت مرتے جائیں گے اورہم واہ واہ کے ڈنگرے برساتے ہوئے ان کی قبروں پر جشن کی محافل سجانے میں لگے رہیں گے۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

نوخیزیاں /گل نوخیزاختر …کالم نگار بننے کا آسان طریقہ

نوخیزیاں /گل نوخیزاختر کالم نگار بننے کا آسان طریقہ کچھ روز پہلے جھنگ سے ایک …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے