سر ورق / یاداشتیں / اردو کہانی کا سفر  اعجاز احمد نواب پندرھویں قسط

اردو کہانی کا سفر  اعجاز احمد نواب پندرھویں قسط

اردو کہانی کا سفر

 اعجاز احمد نواب
پندرھویں قسط

شروع سے میری عادت ہے، میں کسی کتاب کی تقریب رونمائی میں نہیں جاتا، یعنی بہت ہی کم نہ ہونے کے برابر اور محفلِ مشاعرہ میں تو آج تک کبھی گیا ہی نہیں، حالانکہ میرے چھوٹے بھائی’ ارشد ملک’ ایک جانے پہچانے شاعر ہیں، اور وہ باقائدگی سے مشاعروں میں بلائے جاتے ہیں، اور اپنے ڈرائینگ روم میں بھی اکثر مشاعرے کراتے ہیں، لیکن مشاعروں اور کسی کتاب کی تقریب رونمائی کی تقریب میں شرکت میرے لئے سوہانِ روح ہے، اس کی کیا وجہ ہے، آگے چل کر آپ کو بتاتا ہوں، لیکن اس سے پہلے ایک مثال پیش خدمت ہے، گزشتہ ماہ کسی چھٹی کے دن ایک دوست پڑوسی کی پر زور فرمائش پر بحریہ ٹاؤن کے کسی فیز کے ریستوران کے چھوٹے سے ہال میں ایک شعری مجموعے کی تقریب رونمائی میں شرکت کی، جہاں مقررین نے صاحب کتاب کےفن کے حق میں زمین و آسمان کے قلابے ملا دئیے، اور پھر تمام شرکاء میں اس مجموعے کے دو دو نسخے تحفتاً تقسیم کیے گئے بعد ازاں پرتکلف عصرانہ پیش کیا گیا، کتاب ہاتھ میں آتے ہی میرے تجربے نے بتا دیا، کہ نمبر ایک یہ کسی پبلی کیشنز ادارے سے نہیں چھپی، یہ ذاتی طور پر چھپوائی گئی ہے اور دوسرا یہ کہ پرانی کتاب ہے، میں نے تاریخ اشاعت دیکھی تو 2012لکھا ہوا نظر آگیا،
میں اپنا تحفہ ارادتاً میز پر ہی چھوڑ آیا، اس بات سے یہ نتیجہ اخذ کرنا بہت آسان ہے کہ یقیناً اس کتاب کی یہ پہلی تقریب رونمائی نہیں تھی بلکہ بار بار ایسی رونمائیاں کروائی گئ ہوں گی اور جب تک پورا ایڈیشن ختم نہیں ہو جاتا ایسی رونمائیاں منعقد ہوتی رہیں گی،
اس سے یہ ثابت ہوا کہ سات آٹھ سال پہلے یہ شعری مجموعہ کسی سے پیسے دے کر چھپوایا گیا، یقینی طور پر اس وقت بھی ایسی تقریب منعقد ہوئی ہو گی تب بھی کتاب مفت تقسیم ہوئی ہو گی، کیا بے توقیری ہے کتاب کی! کتاب کی فروخت کی صورتحال تیزی سے بگڑ رہی ہے، اس میں ایسی بے وقعت کتابوں کا ہاتھ ہے، جن کو چھپنے کی کوئی ضرورت نہ تھی، دیکھا گیا ہے سنا گیا ہے اور ایسا ہوتا ہے، کہ یار لوگ اپنی تخلیقات کو کتابی شکل میں چھپوا کر دستخط کر کے زبردستی مختلف لوگوں کو بجھواتے ہیں نامور لوگوں کو کسی تقریب میں مل کر جبری تھماتے ہیں اور پھر فون کر کر کے استفسار کیا جاتا ہے کہ جناب آپ نے اپنے تاثرات نہیں دئیے، ایسی باتوں سے کتاب اور صاحب کتاب کی عزت میں کوئی اضافہ نہیں ہوتا،
ایسے لوگ بھی پائے جاتے ہیں، جو کسی بھی ملنے والے سے جاتے ہیں، تو ہاتھ میں ایک فائل کے ساتھ ایک آدھ اپنی خود ساختہ کتاب ہوتی ہے جو ٹیبل پر فائل کے اوپر نمایاں کر کے جان بوجھ کر رکھیں گے، تاکہ کوئی پوچھے تو اپنی اور اپنی کتاب کی تعریف میں زمین آسمان ایک کر سکیں، یہی فلاپ شاعر اور فلاپ ادیب کہلاتے ہیں، اور لمحے کی تاخیر کے بغیر اپنے دستخطوں سے اپنی کتاب کسی کو دینے میں ذرا تامل نہیں کرتے،
آج بے شمار شاعر ادیب لکھاری نوحہ کناں ہیں، کہ پبلشر ظالم ہیں، کتاب کا معاوضہ نہیں دیتے، لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو ، پبلشر بزنس مین ہے، اسے اپنے سرمائے کی واپسی کا یقین ہو گا تو کتاب چھاپنے میں بالکل تاخیر نہیں کرے گا، جو کتاب پبلشر چھاپنے سے انکاری ہوتے ہیں ان کے لکھنے والوں کو یقین کرلینا چاہئیے، کہ ان کی کتاب سرمایہ واپس لانے سے قاصر ہے
شاعر یا مصنف کے طور پر اپنے آپ کو منوانے کا درست ترین طریقہ یہ ہے کہ آپ پہلے بھر پور مطالعہ کریں، مثال کے طور پر آپ محسوس کرتے ہیں کہ میں کچھ لکھ سکتا ہوں، تو یہ بڑی خوش آئند بات ہے آپ کو چاہیے کہ بچوں کے رسائل زیادہ تعداد میں پڑھیں، اخبار جہاں فیملی میگزین میں بھی بچوں کے لئے باقاعدہ الگ صفحات مختص کئے جاتے ہیں، بچوں کی کہانیاں پانچ دس روپے قیمت والی ہزاروں کے حساب سے دستیاب ہیں، ان کو پڑھتے جائیں، آج کل تو یو ٹیوب پر بھی کہانیاں موجود ہیں خوب پڑھیں، یہ مستقبل کے مصنفین اور شعراء کے لئے پرائمری اسکول ہیں، اس بعد آپ آنگلو بانگلو چھن چھنگلو انسپکٹر جمشید سیریز اور بچوں کے ناولوں پر آجائیں، امیر حمزہ عمرو عیارکی طلسم ہوش ربا، عنبر ناگ ماریا، اور سیکڑوں لکھنے والوں کی ہزارہا ناول ہیں انہیں پڑھیں تعلیم و تربیت نونہال وغیرہ میں اشعار نظمیں جنرل نالج اور چھوٹی چھوٹی کہانیاں لکھنے کی کوشش جاری رکھیں، ہو سکتا ہے پہلی دس بیس تیس تحریریں شائع ہی نہ ہوں، کوئی بات نہیں مشق سخن جاری رکھیں،
میں پہلے بھی عرض کر چکا ہوں کہ پہلے آپ کم از کم پانچ سال تک مسلسل اپنی کہانیاں یا شاعری مختلف ڈائجسٹ رسائل اخبارات اور ادبی جرائد میں چھپوائیں، پھر کسی کو استاد بنائیں اور اس سے اصلاح لیں شاعری کی بھی اور کہانیوں کی بھی، پھر کہیں جا کر کتاب چھپوانے کے بارے سوچیں، یہاں صورتحال یہ ہے کہ پہلی ہی کوشش کو کتابی شکل میں دیکھنے کا خبط دیوانگی کی حد تک سر پر سوار ہو جاتا ہے،
دوتین عشرے پہلے تک صورتحال بہترین تھی، مصنفین اور شعراء اپنی تخلیقات مدیران کو بھیجتے یا اپنے مسودات پبلشرز کو دیکھاتے وہ فیصلہ کرتے کہ آیا لکھاری قابلِ اشاعت ہے یا نہیں، اگر تین چار پبلشر یا ایڈیٹرز انکار کر دیتے تو بندہ یقین کر لیتا، کہ کوئی نہ کوئی مسئلہ ہے، جو مسودہ یا تخلیق اشاعت کے لئے قبول نہیں کیا جا رہی لیکن آج معاملہ برعکس ہو چکا ہے، آج پیسے دے کر کتاب چھپوا لی جاتی ہے، کوئی اصلاح کرنے والا نہیں، کوئی سمجھانے والا نہیں، کوئی سمجھنا بھی نہیں چاہتا، جانے کس زعم میں خود کو بہت بڑا لکھاری قرار دے دیا جاتا ہے، خاص طور پر شعراء خواتین وحضرات تو پچیس تیس آزاد یا نثری نظمیں ہی لے کر چھپوانے کے لئے بھاگ کھڑے ہوتے ہیں، نتیجتاً سیلف فنانس کے تحت چھپنے والے 99%نثری شعری مجموعے ناقابل فروخت ہوتے ہیں، اپنے پیسوں سے کتاب چھپوانے کے اس رحجان نے کتاب کی فروخت پر خوفناک حد تک برے اثرات مرتب کیے ہیں، جس طرح پلاسٹک کے شاپنگ بیگ، کبھی گلتے نہیں کبھی ختم نہیں ہوتے، عین اسی طرح یہ کتابیں بھی کبھی بِکتی نہیں، ایسی کتابیں بک سٹالوں ڈرائینگ رومز، کتابوں کی الماریوں، چھپوانے والوں کے گھروں میں پریسوں میں ہر جگہ پڑی ہوئی ہیں، انہی نہ بِکنے والی مطبوعات کی وجہ سے یہ تاثر قائم ہو چکا ہے کہ کتاب نہیں بِکتی،
عموماً لکھنے والے لکھتے ہیں کہ لکھنے والا بڑا مظلوم اور پبلشر نہایت ظالم، لالچی، کتاب دشمن ہے، یہ غلط بات ہے اس کا پرچار وہ لکھنے والے کرتے ہیں، جو چاہتے ہیں کہ ان کا لکھا ہوا ہر صورت پبلشر اپنا سرمایہ لگا کر شائع کرے، جب کہ ایسا ممکن نہیں، یہ پبلشر بہتر سمجھتا ہے کہ کون سی کتاب بک سکتی ہے اور کون سی ناقابل فروخت ہے، یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ کتاب ایک ھزار فروخت ہو سکتی ہو، اور پبلشر سرمایہ کاری سے انکار کر دے، اگر کوئی ایسا کرتا ہے، تو یقیناً پاگل ہے، لیکن نہ فروخت ہونے والی کتاب پر سرمایہ کاری کرنے والا پبلشر تو اس سے بھی بڑا پاگل اور بیوقوف ہوگا،
یاد رکھیں کہ ڈائجسٹ یا رسالے میں بےشمار کہانیاں معلومات غزلیں اور دیگر دلچسپیاں ہوتی ہیں درجنوں لکھنے والوں کی محنت ہوتی ہے، جب کہ کتاب کا وزن صرف ایک رائٹر نے اٹھانا ہوتا ہے، اور ہر سو میں سے ایک لکھنے والا کتاب کا وزن اٹھا سکتا ہے، اور پبلشر بھی ہر سو میں سے ایک کو ہی چھاپتے ہیں، کتاب شائع کرنا، اور پھر اس کو فروخت کرنا اور پھر اس کے بل وصول کرنا ایک انتہائی طویل پیچیدہ مشکل اور اعصاب شِل کر دینے والا کام ہے، یہ کوئی برگر حلیم یا چاول چھولے بیچنے والا کام نہیں ہے، اگر پبلی کیشنز کا کام آسان ہوتا تو اس میں سرمایہ دار پیسہ لگاتے، آپ میں سے اکثر لوگ ہوں گے جو رقم اکٹھی ہونے پر سونا، پرائز بانڈ یا پلاٹ خرید لیتے ہیں کہ مہنگا کر کے بیچیں گے، کتابیں کیوں نہیں چھاپتے، کبھی اپنی جمع پونجی خرچ کر کے کتابیں چھاپ کر دیکھ لیں، آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہو جائے گا،
گزشتہ کچھ عرصہ سے ڈائجسٹ و رسائل کی اشاعت تیزی سے گری ہے، بے شمار رسائل یہ جھٹکا نہیں سہہ سکے اور بند ہوگئے، خوفناک ڈائجسٹ، جواب عرض، اس سے کافی عرصہ قبل آداب عرض اور چاند (مزاحیہ رسالہ) بھی اشاعت سے محروم ہو چکے ہیں، ماہ نامہ ریشم، مسٹری میگزین اور ایڈونچر بھی اب بہت عرصہ سے دکھائی نہیں دے رہے، فلمی ماہنامہ فاصلہ اور فیشن میگ رابطہ بھی قارئین کی بے اعتنائی کا شکار ہو کر تاریخ کا حصہ بن کر رہ گئے ہیں خواتین کے ڈائجسٹوں میں آئیڈیل، صائمہ، شمع، ڈائجسٹ، نازنین، یہ سب کہاں گئے، ان کی اشاعت بھی معطل ہو چکی ہے، ہیرالڈ نیوز میگزین بھی گزشتہ کچھ عرصہ سے دکھائی نہیں دے رہا،…….. آندھیاں غم کی یوں چلیں کہ باغ اجڑ کے رہ گیا………
اپنی کتاب کو خود چھاپنا کے عمل نے کتاب کی اشاعت کا تشویشناک حد تک بیڑہ غرق کیا ہے، یہ ایسے ہی ہے کہ بندہ پروڈیوسر بھی نہ ہو اور پیسہ لگا کر اپنی فلم یا ڈرامہ بنائے اور خود ہی ہیرو آجائے،،
آج ہر لکھنے والا صاحبِ کتاب بننے کے چکر میں خود ہی پیسہ لگا کر خود ہی پبلشر بن رہا ہے اور اس میں ناکامی کی شرح 96%سے زیادہ ہے، اور مزے کی بات یہ ہے کہ اس طرح کتاب چھپوانے والوں کی اکثریت پریس پر جاتی ہے کہ کتاب چھاپ دیں، جب کہ پریس اور پبلی کیشنز الگ الگ چیزیں ہیں، کیا اس بات کا پتہ ہے ان میں سے کسی کو؟؟؟ بلکہ کم علمی کی انتہا یہ ہے کہ لوگ بائینڈر اور کمپوزر سے بھی کتاب چھپوا رہے ہیں، ان لوگوں سے بھی کتاب چھپوائی جا رہی ہے جو صرف روٹا مشین لگا کر وزیٹنگ کارڈ اور لیٹر پیڈ چھاپنے کا کام ہی کرتے ہیں
اب سوچنے کی بات یہ ہے کہ جن لکھنے والوں کو اس بات کا ادراک بھی نہیں کہ کتاب چھاپنا ناشرین کا کام ہے، کسی اور کا نہیں، وہ بھی کالمز اور تجزیوں میں پبلشر کو نشانہ بنا رہے ہیں، کہ ہماری کتاب نہیں چھاپتے اور اگر چھاپیں تو معاوضہ نہیں دیتے، یاد رکھیں ہر لکھنے والا چھپ نہیں سکتا جیسے ہر پڑھے لکھے کو جاب نہیں مل سکتی،،

 جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز ڈائجسٹوں کی دنیا میں صفِ اوّل کا نام ہے، معراج رسول صاحب کا نام ہر ڈائجسٹ پڑھنے والا جانتا ہے، ابھی گزشتہ برس ہی ان کا انتقال پُرملال ہوا ہے، ڈائجسٹوں کی تاریخ معراج رسول کا نام لکھے بغیر لکھی ہی نہیں جا سکتی، بروقت ترین اشاعت میں ان کے ادارے کا کوئی ثانی نہیں سسپنس ڈائجسٹ جاسوسی ڈائجسٹ سرگزشت پاکیزہ کے نام سے تو شاید بہت سے پڑھنے والے واقف ہوں لیکن اسی ادارے سے خواتین کا ماہانہ دلکش اور ایک بڑے سائز کا ماہنامہ محور بھی کافی عرصہ چھپتے رہے، بڑے بڑے نامی گرامی مصنفین اس ادارے کے ڈائجسٹوں میں چھپنے کے لئے خواب دیکھتے ہیں، اردو کو بے شمار مصنفین معراج رسول نے دئیے ہیں،

…………….. یہ 1989 کا واقعہ ہے، رمضان کا مہینہ تھا، جولائی یا اگست کے شدید حبس کے دن روزہ رکھا ہوا، دن گیارہ بجے کا وقت، میں اپنے کتابوں کے گودام میں پنکھے کے نیچے، گتے کے کارٹن بچھا کر اور موٹی موٹی دو اردو لغات کو تکیہ بنا کر لیٹا ہوا انیسویں صدی کا سفر نامہ مسعود کمبل پوش پڑھ رہا تھا، کہ دفعتاً.. انٹر کام کی سمع خراش آواز سے کمرہ گونجنے لگا، گرمی اور روزہ کی وجہ سے طبعیت میں کسلمندی اور جھنجھلاہٹ عود کر آئی تھی، انٹر کام اپنی غیر مسحور کُن موسیقی مسلسل بکھیرے جارہا تھا، بالآخر طوعاً وکرھا”چاروناچار بادل نخواستہ ریسیور اٹھا کر کان سے لگایا تو دوسری طرف بڑے بھائی اشرف صاحب تھے فرمانے لگے، کراچی سے کوئی مہمان آئے ہیں دوکان پر رش ہے، اندر گودام میں بجھوا رہا ہوں ذرا ٹھیک طرح سے دیکھ لینا،،
میں شش و پنج کے ساتھ انتظار کرنے لگا، کہ کراچی سے کون آسکتا ہے، انتظار کی گھڑیاں ایک دو منٹ تک رہیں، دوکان کا ملازم اپنے ساتھ ایک جنٹل مین بندے کو لے کر ڈیوڑھی سے اندر آرہا تھا،
صاف سُتھری پینٹ شرٹ اورنوکیلی چونچ والے غیر معمولی چمکتے بوٹ اچھی صحت درمیانہ قد سانولی سے گہری رنگت آگے کی طرف جھکاؤ دے کر پروقار چال چلتے ہوئے ایک چالیس سالہ شخص دھیمی چال سا چلا آرہا تھا، ڈیوڑھی کے بعد صحن سے گزرتے ہوئے کمرے میں داخل ہونے سے قبل دہلیز پر کھڑے ہو کر گردن پہلے دائیں اور پھر بائیں گھما کر صورتِ حال کا جائزہ لیا، اور السلام و علیکم کہہ کر پہلے مجھے اکلوتے لمحے تک بغور دیکھا، اور پھر دایاں ہاتھ ڈھیلے سے انداز میں آگے بڑھا کر اپنا تعارف کرواتے ہوئے گویا ہوئے…. اعجاز رسول….
جی وعلیکم السلام میں نے قدرے مرعوبیت سے ہاتھ ملایا، اور کرسی گھسیٹ کر پیش کی،
اور خود دوسری کرسی تلاش کرنے کے انداز میں اِدھر اُدھر دیکھ کر ناکامی کے بعد قریب ہی بچوں کی آٹھ آنے والی کہانیوں کے بڑا ڈھیر (چَکّا) لگا تھا اسی کے اوپر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گیا، تمھارا کیا نام؟ اعجاز رسول صاحب نے پوچھا .. جی اعجاز…
واہ پھر تو ہم دونوں ہی معجزہ ہیں
ان کی بات سے میں جبری مسکرانے کی کوشش کرنے لگا.. دراصل میں ابھی تک ڈیسائڈ ہی نہ کر سکا تھا کہ ان کے ساتھ بات چیت کس انداز اور لہجے میں کرنی ہے
یہ تو مجھے پتہ تھا کہ یہ کتابیات پبلی کیشنز کراچی تعلق رکھتے ہیں گمراہ مفرور صدیوں کا بیٹا چھلاوہ اور دیوتا جیسے طویل کتابی سلسلے انہی کے ادارے سے ہمیں آتے ہیں ، اور یہ سسپنس جاسوسی پاکیزہ سرگزشت جیسے ڈائجسٹ شائع کرنے والے شخص معراج رسول صاحب کے سگے بھائی ہیں، شاید اسی کاروباری رعب کی بناء پر میرا کانفیڈینس نہ بن رہا تھا، سرکاری ملازمین میری اس بات کو یوں سمجھیں کی نویں سکیل والے کے دفتر میں اچانک انیسویں بیسویں گریڈ کا افسر آجائے،
شاید اعجاز رسول اس ساری صورتحال کو بھانپ چکے تھے، اسی لئے، بے تکلفی سےےکہنے لگے، یار بات یوں ہے کہ میں شوگر کا مریض روزہ نہیں رکھا، آپ کا یہ گودام طائرانہ انداز میں انہوں نے آنکھیں گْھمائیں گھر نما ہے، اگر بغیر میٹھے کے چائے مل جائے تو…….. انہوں نے جملہ جان بوجھ کر ادھورا چھوڑ دیا،
ہمارا گھر قریب ہی تھا، انٹر کام سے رابطہ بھی تھا فوراً چائے کا کہہ کر ملازم کو سائیڈ پر لے جا کر پیسے دے کر بھیجا کہ موتی بازار کی نُکڑ پر پکوڑے والے سے پاؤ بھر پکوڑے لے آئے اور کسی بیکری سے پانی کی ٹھںنڈی ٹھار بڑی بوتل بھی لے آئے،
ملازم کے جاتے ہی میں پھر اُن کے پاس آکر بیٹھ گیا،
کچھ رسمی گفتگو ہونے لگی وہ اپنی کتابوں کی فروخت کی صورتحال پوچھنے لگے، اس زمانے میں کتابیات پبلی کیشنز کراچی بہت کامیاب اشاعتی ادارہ کہلاتا تھا جو جاسوسی سسپنس میں چھپنے والی تمام قابل ذکر مکمل کہانیوں اور قسط وار طویل سلسلوں کو کتابی شکل میں شائع کرتا تھا اعجاز رسول صاحب کا ایک اور ادارہ بھی تھا، جس کا نام تھا :مکتبہ نفسیات : اس اشاعتی ادارے سے ٹیلی پیتھی، پامسٹری ہپناٹزم، شمع بینی، شعبدہ بازی اور دیگر پراسرار علوم کے علاوہ موسیقی سیکھنے والی کتابوں کی اشاعت ہوتی علاوہ ازیں اعجاز رسول صاحب ایک ذاتی ڈائجسٹ ماہ نامہ نفسیات بھی ہر ماہ پابندی سے شائع کرتے تھے، ان ساری باتوں کے علاوہ اعجاز صاحب معراج رسول کے بھائی اور ان کے رائیٹ ہینڈ تھے اور معراج رسول صاحب کی غیر موجودگی میں تمام معاملات انہی کے ہاتھ ہوتے، اس زمانے میں معراج صاحب کے ڈائجسٹ راولپنڈی میں ہمارے پاس نہیں بلکہ کسی دوسرے نیوز ایجنٹ کے پاس آتے تھے اور ہم بھی اپنی ضرورت کے مطابق انہی سے لیتے تھے، تاہم کتابیات پبلی کی کتابیں ان کے پاس بھی آتیں اور ہمارے پاس بھی آتیں،
میں ایک خاص مقصد کے لئے یہاں آیا ہوں
اعجاز صاحب سنجیدگی سے بولے
بھائی صاحب (معراج رسول) نے جاسوسی ڈائجسٹ کی بلٹی دے کر بھیجا ہے ادارے کے نیوز ایجنٹ کے ذمہ بہت زیادہ رقم ہو گئی ہے، بھائی صاحب نے کہا ہے کہ اگر رقم دیں تو بلٹی ان کے حوالے کر دیں اور اگر نہ دیں تو کوئی نیا نیوز ایجنٹ مقرر کر کے پیسے لے کر بلٹی اس کے حوالے کر دی جائے،( بلٹی اس رسید کو کہتے ہیں جو مال بک کرنے کے بعد ریلوے پارسل والے مال بک کروانے والے کے حوالے کرتے ہیں)

اور پھر انہوں نے میرے پاس سے ہی اپنے نیوز ایجنٹ کو فون کر کے ساری بات کہی اور کہا کہ میں اپنے ایک دوست کے ہاں ٹھہرا ہوا ہوں ایک گھنٹے تک دوبارہ فون کروں گا جو صورتحال ہو مجھے بتا دیں، یہاں یہ بات ینگ جنریشن کے لئے قابلِ ذکر ہے کہ.. اْن وقتوں میں موبائل تو خیر تھے ہی نہیں Ptcl کے فون پرCLI بھی نہیں ہوتا تھا، اور یہ پتہ چلانا بہہہہہہت ہی مشکل تھا فون کرنے والا کون ہے اور کہاں سے کر رہا ہے
اعجاز رسول صاحب مزید ڈیڑھ گھنٹہ میرے پاس رہے اس دوران میرے دوسرے بھائی اشرف صاحب اور فیاض صاحب بھی وہیں آگئے، اور ہم اس دوران مذاکرات کر کے کتابیات پبلی کیشنز کی کتابوں پر اپنی کمیشن مزید 5%بڑھانے میں کامیاب رہے، اس دوران ہم بھائیوں نے الگ ہو کر ان امکانات پر بھی غور کیا کہ اگر اعجاز رسول صاحب کے اپنے نیوز ایجنٹ سے مذاکرات ناکام ہو جاتے ہیں، تو جاسوسی سسپنس وغیرہ کی راولپنڈی اسلام آباد کے لئے ڈسٹری بیوشن کیا؟؟؟ ہمیں مل سکتی ہے؟ اور اس کے لئے کیا ممکنہ شرائط ہو سکتی ہیں،
لیکن سب خواب اس وقت چکنا چور ہو گئے جب انہوں نے دوبارہ اپنے نیوز ایجنٹ کو فون کیا تو اس نے اپنے بقایا جات میں سے ہینڈ سم رقم کی ادائیگی کا اعلان کردیا،
اور وہ بلٹی لے کر ٹیکسی میں بیٹھ کر اس نیوز ایجنٹ کی طرف چلے گئے،
اس واقعے کو بمشکل ایک ماہ ہی گزرا تھا کہ ایک دن اعجاز رسول صاحب کا فون آگیا، بھائی نے فون اٹھایا انہوں نے میرا پوچھا تو فون مجھے دیا گیا علیک سلیک کے بعد فرمانے لگے، میں کل اسلام آباد ائیر پورٹ پہنچوں گا، آپ نے مجھے ائیر پورٹ سے لے کر کسی اچھے سے ہوٹل میں کمرہ لے کر دینا ہے میں ویزہ کے حصول کے لئے آرہا ہوں، میں نے فوراً ہی خوشدلی سے حامی بھر لی،

تحریر: اعجاز احمد نواب
……
……
……
……
……
……
اردو کہانی کا سفر ابھی جاری ہے بقیہ واقعات کے لئے انتظار فرمائئے قسط نمبر 16 کا جو انشاءاللہ جمعرات 31 اکتوبر کی شب دس بجے آپ کی خدمت میں پیش کر دی جائے گی اگر یہ تحریر آپ کو پسند آئے تو براہ مہربانی شیئر ضرور کردیں آپ کے تاثرات(کمنٹس) میرے لئے بہت قیمتی ہیں یہ سلسلہ ابھی جاری ہے، پڑھتے رہئیے اردو کہانی کا سفر!!

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر اعجاز احمد نواب  نمبر 14

اردو کہانی کا سفر اعجاز احمد نواب  نمبر 14 ہماری اماں بالکل ان پڑھ ہیں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے