سر ورق / ناول / بلاوا خورشید پیر زادہ قسط نمبر11

بلاوا خورشید پیر زادہ قسط نمبر11

بلاوا

خورشید پیر زادہ

قسط نمبر11

”ایکسکیوز می مس نیرو-“ نیرو کالج کے اندر قدم رکھنے ہی والی تھی کہ اپنا نام سن کر چونک کر پلٹی- ”میں امان ہوں- روہن کا دوست-“ امان نے مسکراتے ہوئے کہا-

پہلے سے ہی غصے میں بھری ہوئی نیرو کی تیوریاں چڑھ گئیں- ”تو؟-“

نیرو کے تیور دیکھ کر امان سہم سا گیا-اس بات کو جانتے ہوئے کہ نیرو نے اس رات روہن او ررویندر کو ایسے ہی نکل جانے دیا تھا ‘ اسے کافی امید بندھی تھی- کچھ دیر رک کر سنبھلتے ہوئے بولا-

”تو- مجھے آپ سے کچھ بات کرنی تھی- اس بار ے میں- آپ چاہیں تو اپنی کسی سہیلی کو بھی ساتھ لے سکتی ہیں-“

”نہیں- مجھے کسی سے کوئی بات نہیں کرنی-“ وہ پلٹی ہی تھی کہ ریتو اور شلپا نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا-

”سن تو لو نیرو- آخر سننے میں کیا حرج ہے؟-“ ریتو نے کہا-”مجھے روہن کی باتوں میں سچائی محسوس ہو تی ہے-“

”اب تم بھی-“ نیرو نے ریتو کو گھورا-

”تمہیں مجھ پر یقین نہیں ہے کیا-“ ریتو نے اس کا ہاتھ دبا کر کہا-

”یار اس میں یقین کی کیا بات ہے- بس مجھے کوئی بات نہیں کرنی-“ نیرو نے اپنے فیصلے پر اڑی رہی-

”دیکھو میں تمہیں روہن کی باتوں کی سچائی کے بہت سے ثبوت دے سکتی ہوں- مگر تم ایک بار ہمارے ساتھ چلو تو- بس ایک بار-“ ریتو نے زور دے کر کہا-

”ساتھ چلوں؟- مگر کہاں-“ نیرو نے کچھ نرم پڑتے ہوئے بولی-

”چلو تم آﺅ تو سہی-“ ریتو نے تقریباً زبردستی کرتے ہوئے اس کو امان کی گاڑی میں بٹھا دیا- ساتھ ہی شلپا بھی بیٹھ گئی-

٭٭٭٭٭٭٭

امان کے گھر پر سب لوگ ساتھ ساتھ بیٹھے تھے- شلپا اور شیکھر ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے تھے- امان ‘ روہن کے ساتھ- اور ان کے سامنے ریتو کے ساتھ بیٹھی ہوئی نیرو خود کو عجیب صورتحال میں الجھی ہوئی محسوس کر رہی تھی- اگر ریتو اس کے ساتھ نہ ہوتی تو ایک پل کے لئے بھی اس کا وہاں ٹھہرنا ناممکن تھا- اس نے ریتو کا ہاتھ کس کر پکڑا ہوا تھا- اچانک رویندر جو شراب کی بوتل چھپانے گیا تھا ان کے سامنے آیا تو اس کے سر پر گومڑ بنا دیکھ کر ریتو کی ہنسی چھوٹ گئی- نیرو نے بھی جیسے ہی اپنا چہرہ اوپر اٹھایا‘ اپنا منہ دبا کر ہنسنے سے خود کو نہ روک پائی-

”نمستے بھابھی جی-“ رویندر نے پہلی بار نیرو کے چہروں پر ستاروں کی جھلملاہٹ جیسی مسکراہٹ دیکھی تھی- موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس نے نیرو کو بھابھی کہہ دیا-

نیرو نے اس کی بات کو ان سنا کر دیا اور ریتو سے بولی -” ہاں اب بتاﺅ- کیا بات کرنی ہے- جلدی بولو– مجھے جانا بھی ہے-“

روہن نے بولنے کے لئے جیسے ہی منہ کھولا سب چپ ہوکر اس کی بات سننے لگے-

اپنے خوابوں سے شروع کرکے آج تک کی ساری کہانی روہن نے ایک تسلسل میں بیان کر دی- صرف اس میں سے شروتی کے ساتھ ہوئے دردناک حادثے کو وہ گول کرگیا- اس دوران شروتی کو یاد کرکے اس کی آنکھیں بھر آئیں- اور یکایک وہ سب غمزدہ ہوگئے جن کو شروتی کے بارے میں پتہ تھا‘ وہ شروتی کو یاد کرکے اور جنہیں پتہ نہیں تھا وہ یہ سمجھ کر کہ روہن نیرو کو کہانی سناتے ہوئے بہک گیا ہے-

”آئی بات سمجھ میں-“ ریتو نے روہن کی بات ختم ہوتے ہی نیرو سے پوچھا-

یہ کہانی سنتے ہی نیرو کا دماغ سن ہو کر اپنے نام بدلے جانے والی کہانی سے جوڑ رہا تھا- مگر جواب میں اس نے صرف اتنا ہی کہ ”چلیں-“

”اب یہ کیا بات ہوئی—- کچھ بولو تو سہی- آخر سب تمہارے جواب کا انتظار کر رہے ہیں-“ ریتو نے غصے میں بھرکر کہا-

نیرو کچھ بولنے کے لئے سوچ ہی رہی تھی کہ اگلے ہی لمحے اس کو بجلی کا سا جھٹکا لگا-

”مجھے امید ہے کہ میں نے آپ سب کو ڈسٹرب نہیں کیا ہوگا-“ بغیر اجازت اندر آنے کے بعد ایک ایک کے چہرے کو گھورنے کے بعد آنندکی آنکھیں نیرو پر آکر ٹک گئیں- ”اوہ- اتنی شرافت اور نزاکت بھری شرارت- میں واقعی امپریس ہوا-“ آنندکے چہرے پر عجیب سی مسکراہٹ تھی-

”آیئے نا انسپیکٹر صاحب- بیٹھیں نا- ہم اس دن انہی نیرو کی بات کر رہے تھے-“ امان انسپیکٹر کے استقبال کے لئے کھڑا ہوتے ہوئے بولا-

نیرو کچھ بول سکنے کی حالت میں ہی نہ تھی- وہ اٹھ کر باہر جانے ہی لگی تھی کہ آنندنے اس کو روک لیا-

”ارے نہیںنہیں- پلیز رک جائیں- یہ تو بہت ہی اچھا ہوا کہ آپ یہیں مل گئیں- روہن کو ہتھکڑی لگانے سے پہلے مجھے آپ کے بیان کی بھی ضرورت پڑے گی- ہا ہا ہا-“ آنندکی بات سن کر سبھی چونک کر اس کی طرف دیکھنے لگے-

”یہ کیا بات کر رہے ہیں آپ- روہن کو ہتھکڑی-“ امان نے حیران ہوتے ہوئے پوچھا-

”فکر نہ کریں – میں سب کچھ ثابت کرکے ہی اس کو یہاں سے لے جاﺅں گا-“ آنندکرسی پر بیٹھ گیا-

روہن کبھی آنندکو اور کبھی نیرو کو عجیب سی نگاہوں سے دیکھنے لگا-

”تو روہن صاحب- آپ رات کو شینو کے گھر میں دراندازی کرتے ہیں-“ آنندنے سب کے چہروں کو اپنی طرف تکتا چھوڑ کر اپنی انٹروگیشن شروع کی-

سوال سنتے ہی رویندر نے اپنے سر کے گومڑ کو ہاتھ سے ڈھک لیا- جیسے ثبوت چھپانے کی کوشش کر رہا ہو- روہن نے مایوس ہو کر شکایتی نظروں سے نیرو کی طرف دیکھا- اس کو یہی اندازہ ہوا کہ نیرو نے اس کے گھر میں گھسنے کی رپورٹ کروا دی ہے- سر جھکا کر وہ اپنا جرم قبول کرنے کے لئے بولنے ہی والا تھا کہ چونک کر اس نے نیرو کی جانب دیکھا-

”نہیں- یہ ہمارے گھر میں کبھی نہیں آئے- “ نیرو کے جواب نے سب کو حیرت میں ڈال دیا-

آنندنیرو کے بولنے سے جھلا کر اٹھا- اس کو نیرو کی آواز سے ہی پتہ چل گیا تھا کہ وہ روہن کو بچانے کے لئے ایسا بول رہی ہے-

”کیا تم سچ کہہ رہو — – شینو عرف نیرو-“ آنند نے ترچھی نظروں سے نیرو کو گھورتے ہوئے کہا-

”ہاں- یہ کبھی ہمارے گھر نہیں آئے-“ نیرو نے نظریں جھکائے ہوئے ہی جواب دیا-

یہ بات سن کر رویندر بھی اچھل پڑا- ”ہاں ہاں ہم بھلا رات کو کیاکرنے جائیں گے- ہیں نا روہن-“

روہن نے نظریں اٹھا کر اس کے گومڑ کو دیکھا اور اس کی ہنسی چھوٹ گئی- اب روہن کافی ریلیکس محسوس کر رہا تھا- جب میاں بیوی راضی تو کیا کرے گا قاضی-

”واہ واہ- روہن کو بچانے کی آپ کی کوشش قابل تعریف ہے نیرو جی- مگر افسوس- اس کو ہتھکڑی لگانے کے لئے جو وجہ میرے پاس ہے- اس میں آپ بھی ا س کی کوئی مدد نہیں کر سکتیں—- اس جرم کے لئے تو میں اس کو سمجھا کر ہی رہوں گا—- آخر تمہیں بھی اس کے ساتھ کورٹ کچہری کے چکر لگانے پڑتے- اور میری طرح کوئی بھی عزت دار آدمی یہ نہیں چاہے گا کہ اس کی ہونے والی بیوی اس طرح کی چھوٹی چھوٹی باتوں کے لئے کورٹ کے جھمیلے میں پڑے-“ آنند نے اپنی آخری با ت کو چبا چبا کر کہا اور نیرو کے گھر ملا خط اس کے سامنے میز پر رکھ دیا-” اب یہ مت کہنا کہ یہ خط بھی آپ کو نہیں ملا تھا– چاچی نے مجھے دیا ہے یہ خط-“

نیرو نے اپنی نظریں جھکا لیں- کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بولی – ”ہاں-“

آنندکے ہونٹوں پر قاتل مسکراہٹ تھی- ”ویری گڈ— پڑھنا ذرا اس کو-“ آنندنے خط روہن کی طرف بڑھا دیا-

روہن‘ رویندر‘ شیکھر اور امان حیرت سے خط کو پڑھنے کے بعد ایک دوسرے کی آنکھوں میں جھانکنے لگے- کسی کی سمجھ میں نہیں آرہا تھا کہ یہ خط والا چکر کیا ہے- سب ایک دوسرے سے اشاروں ہی اشاروں میں سوال سا کر رہے تھے-

”پڑھ لیا؟-“ آنندنے آرام سے پیچھے کی طرف سر ٹکاتے ہوئے پوچھا-

”جی ہاں- مگر اس خط سے ہمارا کوئی واسطہ نہیں ہے-“ روہن نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے کہا-

”مان لیا— چلو اب اس کو پڑھو ذرا-“ آنندنے اور خط روہن کے سامنے میز پر پھیلا دیا-

”یہ—- یہ تو شروتی کا ہے-“ روہن نے خط اٹھا کر دیکھا اور پہلی سطر پڑھتے ہی بول پڑا-

آنندمسکرایا- ”نا- یہ شروتی نے نہیں لکھا- پہلے میں مان چکا تھا کہ شروتی نے خود کشی کی ہے- اور یہ خودکشی سے پہلے یہ خط اپنے ہاتھوں سے لکھا ہے- مگر اب نہیں مانوں گا—- شروتی کا قتل ہوا ہے-“

”کک کیا؟-“ سبھی اچھل کر کھڑے ہوگئے-

بیچاری نیرو کو تو اب تک یہ بھی پتہ نہیں تھا کہ شروتی اب اس دنیامیں نہیں ہے-سب حیرت سے آنندکی طرف دیکھ رہے تھے-

”دونوں خط ایک ساتھ رکھ کر دیکھو- صاف پتہ چل رہا ہے کہ دونوں خط ایک ہی آدمی نے لکھے ہیں-“ آنندکے چہرے پر کامیابی کی چمک ابھر آئی-

سب نے باری باری خط اپنے ہاتھ میں لے کر دیکھا- آنندکی بات سو فیصد سچ تھی کہ دونوں خطوں کی تحریر یکساں تھی- مگر کسی کی کچھ سمجھ میں نہیں آرہا تھا-

”اس کا کیامطلب ہے؟-“ امان نے ہڑبڑا کر پوچھا-

”اس کا مطلب یہ ہے کہ سوسائیڈ نوٹ شروتی نے نہیں لکھا- کسی اور نے لکھا ہے- اور جس نے بھی لکھا ہے- اسی نے شروتی کاقتل کیا ہے-“ آنندتیر چھوڑ کر چپ ہوگیا- اس کو کسی کی جانب سے کوئی جواب نہیں ملا تو مجبوراً اس کو خود ہی ساری بات سمجھانی پڑی-

”دیکھو شروتی مر چکی ہے- اس لئے نیرو کے گھر ملنے والا یہ خط شروتی کے ہاتھ کا لکھا ہوا نہیں ہوسکتا- اب چونکہ دونوں خطوط کی تحریر یکساں ہے ‘ اس کا مطلب یہ ہوا کہ شروتی کا سوسائیڈ نوٹ بھی اس شخص نے لکھا ہے جس نے یہ دوسرا خط لکھا ہے- صاف بات کہ اسی شخص نے شروتی کا خون بھی کیا ہے- اب اگر اس دن کے واقعے پر نظریں ڈالیں تو روہن نے خود کہا ہے کہ آخر میںوہ کنڈی لگا کر شروتی کو اندر چھوڑ آیا تھا- اس کے بعد نتن نے تسلیم کیا ہے کہ جب وہ شروتی کے پاس اندر گیا تو شروتی مر چکی تھی- اگر نتن باہر ہوتا تو میں ایک پل کو مان بھی لیتا کہ ہوسکتا ہے قتل نتن نے کیا ہو- مگر اس کی ضمانت تو کل ہوگی- پھر وہ کیسے نیرو کے گھر خط بھیج سکتا ہے- نہیں نا؟— اس کا مطلب ہے کہانی شیشے کی طرح بالکل صاف ہوگئی ہے- — نتن نے جبراً شروتی کو روہن کے پاس بھیجا او رروہن نے شروتی کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے اس کے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کی- مگر جب وہ نہیں مانی تو زبردستی کے چکر میں ہی اس نے اس کا گلا گھونٹ دیا— اور اس کو پنکھے سے لٹکا کر باہر سے کنڈی بند کرکے آگیا- سمجھے—- نتن پر صرف بلیک میلنگ کا الزام رہے گا— باقی سارا کام تو جناب نے اپنے ہاتھوں سے ہی کیا ہے-“ آنندنے ایک لمبی سانس لیتے ہوئے اپنی کہانی پوری کی-

”آپ بلاوجہ روہن پر شک کر رہے ہیں انسپیکٹرصاحب- یہ خواب میں بھی ایسا نہیں کر سکتا-“ امان نے کہا-

”تو کس پر شک کروں پروفیسر لو صاحب-“ آنندہنسا-”کیا آپ پر کروں- یا باقی لوگوں پر— اس رات کوئی اور موجود تھا ہی نہیں– اگر آپ میں سے کوئی قبول کر رہا ہے کہ یہ قتل اور دونوں خط آپ میں سے کسی نے لکھے ہیں تو ٹھیک ہے— میں اس بات پر سوچ سکتا ہوں- ورنہ سارے ثبوت تو روہن کی طرف ہی اشارہ کر رہے ہیں-“ آنندنے کہا-

”ہم جائیں-“ نیرو کے لہجے میں کڑواہٹ صاف جھلک رہی تھی-

”جی کیوںنہیں- — ویسے اب بھی کوئی مغالطہ بچا ہو تو آپ بھی سوال کر سکتی ہیں-“ آنندنے تیکھی نظروں سے نیرو ی طرف دیکھتے ہوئے کہا-

نیرو‘ ریتو اور شلپا بغیرکچھ کہے باہر نکل گئیں-

”ہم بھی چلتے ہیں پروفیسر لو- تم سے ٹپس لینے پھر کبھی آﺅں گا-“ آنندنے سلام کرنے کے انداز اپنا ہاتھ امان کی طرف اٹھایا اور روہن کا ہاتھ پکڑ کر کھڑاہوگیا- ”روہن کو میں کل صبح عدالت میں پیش کروں گا- مگر مجھے نہیں لگتا کہ چار پانچ مہینے سے پہلے بیل اپلیکیشن لگانے سے کوئی فائدہ ہوگا-

٭٭٭٭٭٭٭

رات کو تقریباً بارہ بجے جاکر آنندکو بستر نصیب ہوا-سارے دن کی بھاگ دوڑ سے اس کو تھکن سی ہو رہی تھی- روہن سے اس نے شروتی والے کیس سے زیادہ نیرو کے بارے میں پوچھ تاچھ کی تھی- یہ جان کر اس کو سکون ملا تھا کہ ابھی تک روہن اس کے دل میں جگہ بنانے میں ناکام رہا ہے- اس کو خود احساس ہو رہا تھا کہ روہن کا نام نیرو کے ساتھ جڑا ہونے کی وجہ سے وہ اس کیس میں کچھ زیادہ ہی دلچسپی لے رہا ہے- دوپہر کو نیرو کے سامنے ہی سارا خلاصہ بیان کرنے کے پیچھے بھی اس کا یہی مقصد تھا- مگر دکھاوے کے لئے اس نے روہن کو اپنے ساتھ ہی کھانا کھلایا اور اسٹاف کے ہی آدمی کے بستر پر سوجانے کو کہہ دیا- وہ خود بھی تھانے میں بنے اپنے ریٹائرنگ روم میں ہی لیٹ گیا-

اچانک دروازے پر ہوئی دستک سے اس کی نیند ٹوٹی – ” کون ہے؟-“ مگر اس کو اپنے سوال کا کوئی جواب نہیں ملا اور وہ کروٹ بدل کر پھر سونے کی کوشش کرنے لگا-

تھوڑی ہی دیر بعد دروازہ لگاتار دو بار جلدی جلدی کھٹکھٹایا گیا- وہ جھلا کر اٹھ بیٹھا اور پینٹ پہن کر اٹھ کھڑا ہوا-

”کیا بات ہے؟-“ دروازہ کھول کر آنندنے پاس ہی کھڑے سپاہی سے پوچھا-

”کچھ نہیں صاحب- کیا ہوگیا-“ سپاہی بھاگ کر دروازے کے پاس آیا-

”دروازہ کیوں کھٹکھٹا رہے تھے-“ آنندنے ہلکے سے غصے سے کہا-

نہیں تو جناب- میں تو آدھے گھنٹے سے یہیں کھڑا ہوں- دروازہ تو کسی نے نہیں کھٹکھٹایا-“

آنندنے عجیب سی نظروںسے اس کو گھورا اور باہر گیٹ کی طرف ٹہلنے چلا گیا- واپس لوٹتے ہوئے وہ روہن کے کمرے میں گھس گیا- روہن ابھی بھی جاگ رہا تھا-

”کوئی دقت تو نہیں ہے نا-“ آنندنے پوچھا-

”آپ کے ہوتے ہوئے اور کیا دقت ہو سکتی ہے-“ روہن نے طنزیہ کہا –

آنندنے کچھ بولنا ضروری نہیں سمجھا اور باہر نکل کر اپنے کمرے میں جاکر بتی بجا کے پھر سے لیٹ گیا- اس کو لیٹے ہوئے مشکل سے پانچ منٹ بھی نہیں ہوئے ہوں گے کہ اچانک کمرے میں لائٹ جل گئی-ہڑبڑا کر آنندایک دم چونک کر اٹھ بیٹھا-

”کون ہے؟-“ مگر ایک بار پھر کسی سے کوئی جواب نہیں ملا- آنندکے دل کی دھڑکن بڑھنے لگی-جو کچھ ہو رہا تھا بے حد پراسرار تھا- وہ بستر سے اٹھا اور دھیرے دھیرے چلتا ہوا الماریوں کے بیچ میں لگے ہوئے سوئچ بورڈ کی طرف بڑھا- وہاں کسی چوہے تک کا بھی نام و نشان نہیں تھا- اس کا دل بلیوں اچھلنے لگا-

”کیا مصیبت ہے؟-“ اس نے جھلا کر لائٹ بند کر دی- پھر جانے کیا سوچ کر وہ پلٹا اور لائٹ دوبارہ آن کر دی- واپس بستر کی طرف آتے ہی جیسے کہ اس کو بجلی کا تیز جھٹکا سا لگا- حیرت اور خوف کے مارے اس کی آنکھیں باہر کو نکل آئیں- دھیمے قدموں سے بڑھ کر اس نے بستر پر کاغذ کے ٹکڑے کو اٹھا- لال رنگ سے کاغذ پر صرف اتنا ہی لکھا ہوا –

”مردے جھوٹ نہیں بولتے-“

آنندکوشدت سے احساس ہو رہا تھا کہ کمرے میں کوئی ہے- مگر کون ہے— یہ اس کی سمجھ سے باہر تھا- یہ تو طے تھا کہ کسی نہ کسی نے کچھ منٹ پہلے وہ کاغذ وہاں رکھا تھا- آنندحیرت سے پاگل ہوا جا رہا تھا – اس نے بستر کے نیچے دیکھا- دوبارہ الماریوں کے پیچھے دیکھا— مگر وہاں کسی کا سایہ تک نہ تھا-

”کون ہے بھائی- یہ آنکھ مچولی کیوں کھیل رہے ہو— سامنے آکر بات کرو-“ آنندایک جگہ کھڑے کھڑے ہی چاروں طرف گھوم کر دیکھ رہا تھا- ”اگر تم روہن یا نتن کو بچانے کے ارادے سے آئے ہو تو سامنے آجاﺅ- میں بھی سچ جاننا چاہتا ہوں- سامنے آجاﺅ یار-“ آنندایسے بول رہا تھا جیسے کسی سے فون پر بات کر رہا ہو- بولتے ہوئے اس کی آنکھیں سامنے دیوار پر ٹھہری ہوئی تھیں-

اس کی باتوں اور چہرے سے لگ رہا تھا کہ اس کو بھوتوں کے تصور پر کچھ کچھ یقین ہونے لگا تھا-اگلے ہی پل اس نے بڑی مشکل سے خود کو بے ہوش ہونے روکا-

اس کی میز پر رکھا ہوا پین پہلے سرکا اور پھر ہوا میں بلند ہوا- پھر پین میز پر اس طرح سے جاکر کھڑا ہو گیا جیسے کسی نے پین ہاتھ میں لے کر میز پر ہاتھ رکھ دیا ہو- حیرت کے مارے آنندپلکیں تک جھپکنا بھول گیا- وہ پیچھے ہٹا اور الماری سے ٹک گیا- ا س کے دیدے باہر آنے کو بے تاب ہو رہے تھے- گلا سوکھ چکا تھا- کچھ بولنے کی اس میں طاقت ہی نہیں رہی تھی- کمرے میں اس کے سانسوں کی تیز آواز گونج رہی تھی- اس کے دل کی دھڑکنیں بھی باآسانی سنی جاسکتی تھیں- کچھ دیر پین ہوا میں ہی لہراتا رہا پھر اچانک اس کی سی ڈی (کیس ڈائری) کے صفحات پلٹنے لگے- جب صفحے پلٹنا بند ہو گئے تو پین ڈائری کے ایک سادہ صفحے پر ٹک گیا- اور اس طرح حرکت کرنے لگا جیسے صفحے پر کچھ لکھ رہا ہو- آنندسانس روکے ڈائر ی پر پین کو چلتا ہوا دیکھتا رہا- آج سے پہلے اس نے کبھی سوچا بھی نہیں تھا کہ ایسا بھی کبھی دیکھنے کو مل سکتا ہے- حالانکہ ابھی تک اس کو کسی طرح کی کوئی تکلیف نہیں پہنچائی گئی تھی- مگر پھر بھی وہ پچھتا رہا تھا کہ ریوارلور اس نے میز کی دراز میں کیوں چھوڑ دیا تھا- مگر پھر اس نے سوچا کہ جو پین اٹھا سکتا ہے وہ ریوالور بھی تو اٹھا سکتا تھا- اچانک ڈائری پین کو اپنے اندر سمیٹے بند ہوگئی- پھر دروازے کی چٹخنی گرنے کی آواز سنائی دی اور دروازہ اپنے آپ کھل گیا- آنندابھی تک بے سدھ سا دروازے کو دیکھ رہا تھا-

سپاہی بھاگا بھاگا آیا- ”جی صاحب- آپ نے بلایا-“

اب آنندسپاہی کو بھی شک کی نگاہوںسے دیکھ رہا تھا- ”نن– نہیں تو-“

”جی- وہ آپ نے دروازہ کھولا- اس لئے مجھے لگا-“ سپاہی سر جھکا کر باہر نکلنے لگا-

”ارے سنو-“ آنندنے اسے آواز دی-

سپاہی جھٹ سے اس کے پاس پہنچ گیا-

”وہ روہن کو یہیں بھیج دو – میر ے پاس-“

٭٭٭٭٭٭٭

تھوڑی دیر بعد روہن اس کے کمرے میں داخل ہو رہا تھا-

”جی آپ نے بلایا-“ روہن اندر آکر بولا-

”ہاں یار- مرتا کیا نہ کرتا- آﺅ-“

کیس ڈائری اب آنندکے ہاتھ میں تھی- ”آﺅ بیٹھ جاﺅ آرام سے- یہیں سو جاﺅ- کل صبح اٹھ کر گھر چلے جانا-“ آنندنے بستر پر بیٹھتے ہوئے کہا-

کچھ دیر پہلے ہوئے واقعے کا اثر اب بھی اس کی آنکھوں میں صاف دکھائی دے رہا تھا-

روہن نے حیرت سے آنندکی طرف دیکھا – ”اس مہربانی کی وجہ جان سکتا ہوں کیا؟-“

”لو یہ پڑھو- “ آنندنے وہ صفحہ کھول کر ڈائری روہن کے ہاتھ میں دے دی-

”یہ کیا ہے؟-“روہن نے بنا ڈائری میں دیکھے ہی پوچھا-

” ارے یار پڑھو تو سہی- بعد میں سب بتاتا ہوں-“ آنندنے مسکرانے کی ناکام کوشش کی-

روہن نے ڈائری کو سامنے رکھا اور پڑھنے لگا-

”آپ کی دنیا کے اس پار کی دنیا بہت عجیب ہے انسپیکٹر صاحب- ہم زندہ نہیں ہوتے- مگر کئی بار مرتے بھی نہیں- آپ مجھے محسوس کرکے بے چین ہو گئے ہو- مگر سچ کہوں تو ہم روحیں زمین کے زندہ انسانوں سے ڈرتی ہیں- لالچ – ہوس- سازش- دھوکہ- فریب- کیا کیا نہیںہوتا یہاں- ہماری دنیا آپ کی دنیا سے لاکھ درجے بہتر ہے- ہم میں سے زیادہ تر آپ کی دنیا سے دور ہی چین سے رہنا چاہتے ہیں- میں بھی شاید واپس لوٹ کر آنے کی کبھی سوچتی بھی نہیں- مگر ادھورا پیار- ہم میں سے کچھ کو مرنے کے بعد بھی اپنے محبوب سے باندھے رکھتا ہے- اور ہم آپ کی اور ہماری دنیا کے بیچ میں ہی لٹک کر رہ جاتے ہیں— یہ پیار چیز ہی ایسی ہے انسپیکٹر صاحب- یہ پانی کی طرح مائع بھی ہے اور برف کی طرح ٹھوس بھی- یہ نازک بھی ہے اور انتہائی طاقتور بھی- طاقتور اتنا کہ ہر چیز کو اپنے سامنے جھکا لیتاہے- پیار کے کچے دھاگے سے بندھے لوگوں کو مرنے کے بعد بھی پوری طرح سے اس دنیا سے چھٹکارا نہیں ملتا- ہم جہاں رہنا چاہتے ہیں وہیں رہتے ہیں- اور اکثر اپنے محبوب کے ساتھ ساتھ— نیرو کو بھی میں نے خط لکھا تھا- ٹھیک ویسے ہی جیسے ابھی آپ کے سامنے لکھ رہی ہوں- میرا مقصد آپ کوڈرانا نہیں ہے- مگر آپ کو اپنی موجودگی کا ثبوت دینا بھی ضروری تھا- معاف کرنا- اگر ضرورت ہوئی تو اپنے ادھورے پیار کی خاطر دوبار ہ آﺅں گی-“

روہن کافی دیر تک حیرت ڈائری کو ہی دیکھتا رہا- پھر سر اٹھا کر بولا-

”یہ کس نے لکھا ہے’“

”شروتی آئی تھی- “ آنند نے لمبی سانس لیتے ہوئے جواب دیا-

——————-

”ابھی تک تمہارا موڈ آف ہے؟— اب بھول بھی جا یار-“ ریتو نے اگلے دن بھی نیرو کو اسی طرح منہ لٹکائے دیکھا تو اس کو سمجھانے لگی-”میری ہی غلطی تھی- میں ہی تمہیں وہاں لے گئی تھی-“

”ارے وہ بات نہیں ہے یار- مجھے کیافرق پڑتا ہے- کیئے کی سزا تو ملے گی ہی-“ نیرو نے منہ لٹکائے ہوئے کہا-

”تو پھر کیا بات ہے- تمہارے چہرے پر بارہ کیوںبج رہے ہیں-“ ریتو نے پوچھا-

”گھر والے میری شادی کرنا چاہتے ہیں- لڑکے والے پرسوں مجھے دیکھنے آرہے ہیں-“ نیرو نے اپنا موڈ آف ہونے کی اصل وجہ بتاتے ہوئے کہا-

”ارے واہ- مبار—-“ ریتو مبارک کہنا ہی چاہتی تھی کہ نیرو کو غصے سے اپنی طرف دیکھتے ہوئے رک گئی-”اوہ – سوری- یہ تو بہت برا ہوا- سچ میں یار- اب تم کیا کرو گی؟-“ ریتو نے اپنے چہرے پر بناوٹی دکھ کا تاثر لاتے ہوئے کہا-

”میری تو کچھ سمجھ میں نہیں آرہا ہے– ابو نے تو صاف کہہ دیا ہے- اس بارے میں میری نہیں چلے گی-“ نیرو بے بسی سے بولی-

”کیوں— اس بار کیا ہوگیا— پہلے بھی تو تمہاری ہر بات مان جاتے تھے وہ-“ ریتو نے بات کو کریدتے ہوئے کہا-

”کہہ رہے ہیں کہ یہ رشتہ ہمیں قسمت سے ملا ہے- اس کو کسی بھی حالت میں وہ ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتے-“

”اچھا- ایسا کس کا رشتہ آگیا ہے ؟-“ ریتو نے تجسس سے پوچھا-

”انسپیکٹر نہیں ہے- کل جو وہاں آیا تھا- آنند-“ نیرو نے منہ بنا کر کہا-

”او – واﺅ-“ ریتو نے اتنا ہی کہا کہ نیرو نے اس کو مارنے کے لئے اپنی کتاب اٹھا لی-”میرا یہ مطلب نہیں تھا یار- مگر گھر والوں کی بات سے میں متفق ہوں-“ ریتو کہے بنا نہیں رہ سکی-

”تو تم کر لو نا شادی- اگر وہ تمہیں اتنا ہی پسند ہے تو—- مجھے شادی نہیں کرنی ہے تو نہیں کرنی ہے-بس-“ نیرو کے ایک ایک لفظ سے اس کا غصہ ظاہر ہو رہا تھا-

”ہائے- کاش میرے لئے ایسا رشتہ آیا ہوتا- میں تو فٹ سے ہاں کر دیتی-“ ریتو نے بتیسی نکال کر کہا اور پھر سنجیدہ ہوگئی- ”مگر تم ٹالو گی کیسے- پرسوں آکر وہ تمہیں اپنا بنا لیں گے— بعد میں انکار کرنے پر تو دونوں گھروں کی بے عزتی ہوگی— ایسا مت کرنا پلیز— تمہیں شادی نہیں کرنی ہے تو پہلے ہی منع کر دینا-“

”وہی تو میں سوچ رہی ہوں یار— کیسے ٹالوں— کچھ سمجھ میں نہیں آرہا-“

”ایک بات اور ہو سکتی ہے؟-“ ریتو نے کچھ سوچتے ہوئے کہا-

”وہ کیا؟-“ نیرو نے اس کی طرف غور سے دیکھتے ہوئے پوچھا-

”آنندنے کل ہمیں روہن کے پاس دیکھا تھا— کیا پتہ- ہوسکتا ہے کہ وہ خود ہی اس رشتے سے منع کر دے-“ ریتو دماغ لڑاتے ہوئے کہا-

”نہیں- اس کو کوئی فرق نہیں پڑا شاید- کل شام کو پھر آیا تھا گھر پر- یہ بتانے کہ اب کوئی پریشان نہیں کرے گا- امی سے بڑے ہنس ہنس کر باتیں کر رہاتھا— میرے تو دل میں آرہا تھا کہ کرسی اٹھا کر اس کے سر پر دے ماروں- نہ رہے گا بانس اور نہ بجے گی بانسری-“ نیرو نے اپنا دکھڑا رویا-

” ہی ہی ہی- آج کل تمہیں دوسروں کے سر پھوڑنے میں بہت مزا آنے لگا ہے-کل اس کا سر دیکھا تھا– سچ مجھے تو بڑا مزا آیا-ہی ہی ہی-“ ریتو نے ہنستے ہوئے کہا-

”تم میری بات کو سیرئیس کیوں نہیں لے رہی ہو-“ نیرو غصے سے بولی-

”لے تو رہی ہوں یار- تم ہی بتاﺅ— کیا کر سکتے ہیں ہم؟-“ ریتو نے سنجیدہ ہوتے ہوئے پوچھا-

”بھاگ جاﺅں گھر سے؟-“ نیرو نے اتنی آسانی سے کہہ دیا جیسے یہ بچوں کا کھیل ہو-

”پاگل ہوگئی ہو کیا- یہ کیا کہہ رہی ہو تم— بھاگنے کا مطلب پتہ ہے تمہیں؟-“ ریتو نے اس کی طرف گھورتے ہوئے کہا-

”ہاں پتہ ہے- میں بدنام ہوجاﺅں گی– کوئی مجھ سے شادی نہیں کرے گا- ہمیشہ کے لئے مسئلہ حل-“ نیرو یقین کے ساتھ بولی-

”کیسی باتیں کر رہی ہو یار- چاچا-چاچی پر کیا گزرے گی- سوچا بھی ہے؟— وہ کیسے رہیں گے— ذرا سوچ– اتنی بھی عقل نہیں ہے کیا؟-“ ریتو جھلا اٹھی-“

”اوہ- مذاق کر رہی ہوں یار- مگر یہ بھی سچ ہے کہ شادی تو مجھے کسی بھی صورت نہیں کرنی ہے— پرسوں تک گھر والے نہیں مانے تو میں دو چار ہفتوں کے لئے کہیں کھسک جاﺅں گی-“نیرو نے کچھ سوچتے ہوئے کہا-

ریتو اس بات پر کچھ کہتی اس سے پہلے ہی شلپا تقریباً دوڑتی ہوئی ان کی طرف آئی-

”مبارک- مبارک-“

نیرو اور ریتو نے چونک کر ا س کو دیکھا-

”تمہیں کیسے پتہ لگا؟-“ ریتو نے حیرت سے پوچھا-

”ارے مجھے تو سب پتہ لگ گیا ہے— تمہیں ہی نہیں پتہ-“ شلپا نے ان کے پاس بیٹھتے ہوئے خوشی سے کہا-

”کیا؟-“ دونوں ایک ساتھ بول پڑیں-

”روہن واپس آگیا ہے– وہ بالکل بے قصور تھا- کل رات ہی اس انسپیکٹر کو ساری بات پتہ چل گئی-“ شلپا نے بتایا-

ریتو کا دل کر رہا تھا کہ شلپا کو بتا دے کہ نیرو کے لئے اسی انسپیکٹر کا رشتہ آیا ہے- مگر نیرو کے سامنے اس کی ہمت نہیں ہوئی-

”اچھا- مگر کیسے-“ ریتو نے پوچھا-

”ساری بات آکر بتاﺅں گی— ابھی مجھے کہیںجانا ہے- میری پراکسی لگوا دو گی نا پلیز-“ شلپا نے منت سی کی-

”جا – جا- عیش کر – آج کل تم غائب بہت رہنے لگی ہو-بعد میں پوچھوں گی کہ آخر راز کیاہے-“ ریتو نے ہنستے ہوئے کہا-

٭٭٭٭٭٭٭

”آج تو بڑی پارٹی ہونی چاہئے- کیوں؟-“ امان‘ روہن اور رویندر کے ساتھ آج سارا دن گھر پر رہا تھا جبکہ شیکھر گھنٹہ بھر پہلے ہی کہیں باہر نکلا تھا- روہن کو آزاد دیکھ کر ان کے چہرے کھل اٹھے تھے- حالانکہ سب کو یقین تھا کہ روہن بے قصور ہے اور جلد ہی واپس آجائے گا- مگر صبح ان کے تھانے میں جانے سے پہلے ہی روہن کو واپس آتا دیکھ کر تینوں کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ ہی نہ رہا- تب صبح سے ہی سب کے چہروں پر خوشی اور اطمینان صاف جھلک رہاتھا-

”کس بات کی پارٹی یار- بلاوجہ نیرو کے سامنے ذلت کا سامنا کرنا پڑا- پتہ نہیں کیا سمجھ رہی ہوگی- میں تو شروتی والا حادثہ اس کو بتانا ہی نہیں چاہ رہا تھا- خواہ مخواہ کرکری ہوگئی-“ روہن نے کہا-

”ارے کچھ نہیں ہوتا-شیکھر نے شلپا کو فون کرکے سب کچھ بتا دیاتھا- اب تک تو نیرو کو پتہ لگ ہی گیا ہوگا کہ تم بے قصور ہو- مگر یار یہ تو کمال ہی ہوگیا— شروتی کی روح خود تمہیں بچانے کے لئے آگئی- حیرت ہے یار-“ امان نے روہن کو اطمینان دلانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا-

”ارے بچانا ہی نہیں- وہ تو روہن اور نیرو کو ملوانا بھی چاہتی ہے- اس کے گھر پر بھی تو خط ملا تھا- کمال ہی کمال ہو رہا ہے یار- کیا فلمی کہانی چل رہی ہے-“ رویندر نے بیچ میں دخل دیتے ہوئے کہا-

”ہوں- مجھے شاہ رخ خان کی اس فلم کا ڈائیلاگ یاد آرہا – وہ کیا ہے – ہاں- ”اتنی شدت سے میںنے تمہیں پانے کی کوشش کی ہے- کہ ذرے ذرے نے ہمیں ملانے کی سازش کی ہے“ سچ میں یار- تمہیں ملانے کے لئے تو جیسے پوری کائنات نے اپنی طاقت جھونک دی ہے- تمہیں ملنے سے اب کوئی نہیں روک سکتا- بے فکر رہو-“ امان گہری سانس لیتے ہوئے روہن کی طرف دیکھ کر مسکرانے لگا-

یہ بات سن کر روہن کا دل خوش ہوگیا اور وہ بھی مسکرانے لگا-

”ابے تم کیوں خوش ہو رہے ہو- کوشش تم نے نہیں- ٹیلے پر تمہارے انتظار میں تڑپ رہی بھابھی جی کے دل نے کی ہے- ہم میں سے کسی نے تھوڑی بہت ہے تو وہ بھی میں نے – یہ دیکھو میراسر اس کا ثبوت ہے- – – مجھے تو لگتا ہے کہ بھابھی جی نے مستقل نشانی دے دی ہے مجھے- کم ہی نہیں ہو رہا یہ گومڑا-“ رویندر نے کہا اور تینوں ہنسنے لگے-

٭٭٭٭٭٭٭

”ریتو-“ شام کو نیرو نے سنجیدہ ہو کر ریتو سے بات کرنی شروع کی- اگلے دن شام کو دونوں نیرو کے گھر پر ہی تھیں-

”ہوں- بولو-“ ریتو نے کہا-

”اب کیا کروں یار؟‘— میرا تو دماغ خراب ہو رہا ہے سوچ سوچ کر-“ نیرو نے اپنا سر پکڑتے ہوئے کہا-

”دیکھو – میں تو یہی کہوں گی کہ گھر والوں کی مان لینے میں ہی تمہاری بھلائی ہے- — کیا فائدہ بیکار میں الجھ کر- جب کچھ ہو ہی نہیں سکتا—- اور پھر شادی کرنے میں برائی ہی کیا ہے— میری یہ سمجھ میں نہیں آرہا ہے کہ تم شادی سے انکار کیوں کر رہی ہو— کوئی اور پسند ہے کیا؟“ ریتو نے سیرئیس ہوتے ہوئے کہا-

”تم بکواس کیوں کر رہی ہو- کوئی آئیڈیا ہے تو بولو-“ نیرو غصے سے بولی-””وہ کل رات آرہے ہیں اور تجھے مذاق سوجھ رہا ہے-“

”مذاق نہیں کر رہی یار- ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہوں- آخر برائی کیا ہے شادی کرنے میں- وہ تو سبھی کرتے ہی ہیں-“ ریتو نے اپنی بات پر زور دیا-

”مجھے نہیں پتہ- مگر مجھے پکا پتہ ہے کہ شادی کرتے ہی میں مر جاﺅں گی-“ نیرو اداس ہوکر بولی-

”اچھا- آج تک تو کوئی مرا نہیں- تمہیں ایسا کیوں لگتا ہے-“ ریتو مسلسل جرح کر رہی تھی-

”میرا دل کہہ رہا ہے اس لئے- اور مجھے پتہ ہے یہ جھوٹ نہیں ہے- مرنا ہی ہے تو کیوںنہ شادی سے پہلی ہی مرجاﺅں-“ نیرو کے چہرے پر گھمبیرتا کے سائے پھیلے ہوئے تھے- ”اپنے گھر میں تو مروںگی-“

”دیکھو- اب بکواس تم کر رہی ہو- پلیز- ایسا مت بولو- کچھ نہیں ہوگا- چاچا- چاچی تمہارا برا تو نہیں چاہے-“مرنے کی بات پر ریتو کو غصہ آگیا-

”ٹھیک ہے تم جاﺅ- تم بھی انہی کی طرفدار ی کرلو- مجھے جو کرنا ہوگا میں کر لوں گی-“ نیرو نے کہا اور لیٹ کر تکئے کے نیچے اپنا چہرہ دبا لیا-

ریتو نے نیرو کے پاس سرک کر اس سے تکیہ چھین لیا-

”اچھا بولو- کیا کرنا ہے- میں تمہارے ساتھ ہوںپاگل-“ ریتو اس کے بالوںمیں انگلیاں پھیرنے لگی-

ریتو کی بات سنتے ہی نیرو خوش ہوکر اٹھ بیٹھی-

”دیکھو‘ میں کل سے ہی امی ابو کے پیچھے پڑی ہوں- مگر ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگ رہی- اب تو بس ایک ہی علاج ہے–“ اتنا کہہ کر نیرو چپ ہوگئی-

”وہ کیا؟-“ ریتو نے توجہ دیتے ہوئے پوچھا-

”کریمہ کے پاس ہاسٹل میں چلی جاﺅں دو چار دن کے لئے- اس کو کچھ پتہ بھی نہیں ہے اس شادی کے چکر کے بارے میں— میں جاکر امی کو فون بھی کر دوں گی کہ شادی نہ کرنے کا وعدہ کرو تو میں آجاﺅں گی— پھر تو ظاہر ہے کہ انہیں میری شادی کرنے کی ضد سے باز آنا ہی پڑے گا-“ نیرو بولی-

”تم نے اپنی تو سوچ لی- ان کی جو بے عزتی ہوگی وہ-“ نیرو نے ا س کو گھورتے ہوئے کہا-

”تو میں اور کیا کر سکتی ہوں یار- میںنے امی سے آنندکا نمبر لینے کی بھی کوشش کی- مگر وہ مانی نہیں- اب بتاﺅ میں کیا کروں-“ نیرو نے مایوس لہجے میں کہا-

”ہوں- دیکھو – میں تو صاف بتا رہی ہوں- مجھے تو تمہارا ایسا کرنا اچھا نہیں لگتا- کل جو ہوتا ہے ہونے دے- بعد میں سوچ لیں گے-“ ریتو نے سمجھانے کی کوشش کی-

”ارے تمہیں پتہ نہیں ہے – وہ کل منگنی کے لئے آرہے ہیں- خالی دیکھ کر جانے کی بات ہوتی تو میں مان لیتی- مگر گھر والوں کا جلدی شادی کرنے کا پروگرام بن گیا ہے— انہی کے کہنے پر- اب تم خود سوچو- اب زیادہ بے عزتی ہوگی یا بعد میں؟-“ نیرو نے پوچھا-

”دیکھو میں کچھ نہیں کہتی- تم کو جو کرنا ہے کولو-“ ریتو گم سم سی بیٹھ کر کچھ سوچنے لگی-

”کہیں تم میرا یہ منصوبہ گھر والوں کو تو نہیں بتا دو گی نا؟-“ نیرو نے اس کو گھورتے ہوئے کہا-

”کچھ نہیں کرتی میں- جو کرنا ہے کرلو—- میں جا رہی ہوں-“ ریتو کھڑی ہوتی ہوئی بولی- اس کے چہرے پر مایوسی اور بے بسی صاف جھلک رہی تھی-

ریتو کو پوری رات نیند نہیں آئی- ساری رات کروٹیں بدلتے ہوئے وہ نیرو کے اس اقدام سے ہونے والے اثرات کے بارے میں ہی سوچتی رہی- کئی بار اس کے دل میں آیا کہ وہ فون کرکے چاچی کو سب کچھ بتا دے- مگر اس کے لئے وہ اپنے اندر ہمت نہیں کر پا رہی تھی-

صبح اس کی ماں اٹھانے آئی تو آتے ہی بولی -”کیا بات ہے بیٹی— طبیعت تو ٹھیک ہے نا-“ یہ کہہ کر ماںنے ریتو کے ماتھے پر ہاتھ لگا کر دیکھا-

وہ تیز بخار سے تپ رہی تھی- اس کی آنکھیں لال اور چہرہ بوجھل سا لگ رہا تھا-

”اوہ- تمہیں بھی آج ہی بیمار ہونا تھا- آج تو لڑکے والے شینو کو دیکھنے آرہے ہیں—- چلو ناشتہ کرکے کوئی گولی کھا لو- ٹھیک ہوجاﺅ گی-“ ماں نے اس کو پچکارتے ہوئے کہا-

ریتو کی آنکھوں میںآنسو تیرنے لگے- اس نے اپنا گھٹنوں میں دبالیا اور سسکنے لگی- اب تک تو سارے محلے کو ہی پتہ لگ چکا ہوگا کہ آج شینو کی منگنی ہے- اب کیا ہوگا- اچانک اس کو اس طرح سے سسکتے دیکھ کر ماں بھی پریشان ہوگئی-

”کیا ہوا بیٹی— ایسے کیوں رو رہی ہو- کوئی بات ہے کیا؟-“ ماں نے اس کے برابر میں بیٹھتے ہوئے کہا اور اس کا چہرہ اپنی چھاتی سے لگا لیا-

”کچھ نہیں ماں-“ ریتو اور زیادہ تیزی سے رونے لگی-

”ارے- میری لاڈلی- کیا ہوگیا ہے کچھ بتاﺅ تو— کوئی بات ہے تو بتاﺅ- تم نے مجھ سے کبھی کچھ چھپایا نہیں ہے-“ ماں اسے تسلی دیتے ہوئے بولی-

”ماں- وہ شینو-“ ریتو لگاتار موٹے موٹے آنسو گراتے ہوئے سسک رہی تھی-

”کیا ہوا—پھر سے لڑائی ہوگئی کیا– – لو چائے تو لو-“ ماں نے میز سے ٹھنڈی ہوتی ہوئی چائے اٹھا کر دیتے ہوئے کہا-

”وہ شادی نہیں کرنا چاہتی ماں- ا س لئے گھر سے جا رہی ہے-“ اپنے دل کا غبار نکالتے ہی ریتو پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی-

”ہائے بھگوان- یہ کیا کہہ رہی ہو تم— گھر والے سمجھتے کیوںنہیں- اب کیا ہوگا؟-“ ماں کے ہاتھ سے چائے کا کپ چھوٹتے چھوٹتے بچا-

”ان کو پتہ ہی نہیں ہے ماں- وہ بنا بتائے جائے گی-“ ریتو نے کہا-

”میں ابھی ان کے گھر جاتی ہوں- ایسے کیسے چلی جائے گی-“ ماں نے ایک پل گنوائے بغیر اپنی چپل پہنی اور تیزی سے باہر نکل گئیں-

”ان کو یہ مت بتانا ماں کہ میں نے تمہیں بتایا ہے- پھر وہ کبھی مجھ سے بات نہیں کرے گی-“ جب تک ریتو اپنی بات پوری کرتی ماں باہر نکل چکی تھی- پتہ نہیں سنا یا نہیں سنا-

٭٭٭٭٭٭٭

ریتو کی ماں نے نیرو کے گھر پر دستک دی- دروازہ نیرو کی امی نے ہی کھولا-

”آﺅ بہن- ہم تو آج بڑی دیر سے اٹھے ہیں-“ نیرو کی امی نے مسکرا کر ان کا استقبال کیا-

”شینو کہاں ہے- “ ریتو کا ماں کا پہلا سوال ہی یہی تھا-

”اوپر – سورہی ہے- کیوں؟-“

”ذرا اسے بلاﺅ- مجھے کچھ ضروری کام ہے- — ٹھہرو رہنے دو – میں اوپر ہی چلی جاتی ہوں-“ ریتو کی ماں ان کو بات بتائے بغیر ہی نیرو کو سمجھانا چاہتی تھی –

”ارے کیوں پریشان ہوتی ہو- آﺅ چائے پی لو تب تک میں بلا کر لاتی ہوں-“ کہتے ہوئے نیرو کی امی اوپر چلی گئیں-

٭٭٭٭٭٭٭

دن نکلنے سے پہلے ہی نیرو گھر سے باہر نکل چکی تھی- جانے کیا بات تھی- مگر اس کا شادی نہ کرنے کا ارادہ مزید مصمم ہوتا جا رہا تھا- باہر نکلنے سے پہلے سے اس کے دل میں اتنی گھبراہٹ نہیں تھی‘ جتنا وہ گھر سے باہر قدم رکھنے کے بعد محسوس کر رہی تھی- یہ تو شکر تھا کہ اس کے سامنے ایک منزل تھی- میرپورخاص کا گرلز ہاسٹل- ورنہ اس کا کیا حال ہوتا-

کبھی گھر والوں کا خیال اور کبھی ان کی عزت کا- اس کا دل کہیں نہ کہیں اس کو ایسا کرنے سے روک رہا تھا- مگر اس کے قدم آگے ہی آگے بڑھتے چلے گئے- بس اسٹینڈ پر جاکر اس نے بجھے ہوئے دل سے میرپورخاص کا ٹکٹ لیا اور بس میں سوار ہوگئی-

٭٭٭٭٭٭٭

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خون ریز امجد جاوید قسط نمبر9

خون ریز امجد جاوید قسط نمبر9 ” میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ انہوں نے کوئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے