سر ورق / ناول / ہم تو در بدر ہوئے گل جان قسط نمبر ۳

ہم تو در بدر ہوئے گل جان قسط نمبر ۳

ہم تو در بدر ہوئے

گل جان

قسط نمبر ۳

کہانی اپنے دوسرے موڑ پر پہنچ تھی.

 جب میں نے سبیلہ بھائی کا خط پڑھنا شروع کیا ، تو مجھے یقین نا آیا ۔ پھر دھیرے دھیرے میں نے خط کا بند باندھ لیا ۔

لکھا تھا ! سرتاج آپ کہاں چلے گئے ہیں آپ کے جانے کے بعد میری زندگی بلکل اجیرن ہو گئی ہے میں بلکل تنہا ہوگئی ہوںصرف آپ کی نشانیوں کو دیکھ کر ہی میری صبح ہوتی ہے ورنہ تو ہر پل میرا اجیرن میں گزرتا ہے آپ کی خاطر میں نے کیا کیا نہیں چھوڑا ، گھر باڑ ، جائیداد ، حیثیت ، اور سب سے بڑھ کر اپنی شناخت اور آپ اچھی طرح جانتے ہیں کہ شناخت نا ہو تو زندگی زندگی نہیں رہتی راکھ کا ڈیر بن جاتی ہے اب آپ مجھے گاﺅ ںبلائیں یا نا بلائیں میں گاﺅ ں آرہی ہوں اپنے بچے کے ساتھ ، میںاپنا حق لے کر ہی رہوں گی خط میں بھی اس کی بدنامی کی جھلک صاف نظر آرہی تھی ۔ اب وہ بیچاری کس سے اپنا مدعا بیان کرتی ، چوہدری اسفندیار تو گاﺅں چھوڑ کر نہ جانے کس نکڑے لگ گیا تھا ۔ اس کا باپ تو پہلے ہی مر چکاتھا ، ایک میں ہی تھا جو اس کی فریاد سن سکتا تھا ۔ اب مجھے ہر حال میںسبیلہ بھائی کا انتظار کھائے جا رہاتھا راشدہ کے انتقام نے مجھے بلکل اندھا کر دیا تھا ، کہ مجھے کچھ بھی سجھائی نہیںدے رہا تھ آخروہ دن بھی آگیا جب سجیلہ نے آنا تھا دیکھنے میںوہ اچھی خاصی لگ رہی تھی ایسا لگتا تھا جیسے وہ واقعی اس محلے کی نہیں ہے اسے پتا چل گیا تھا کہ اسفندیار کہیں چلا گیا ہے اور اب اس کا آنا ممکن نہیںاسے راشدہ اور اسفندیار کے تعلقات کا بھی پتا چل گیا تھا۔سارا کھیل میری مٹھی میںتھا لیکن کمبخت منشی کا بھائی نا بیچ میں آتا تو مسئلہ ہی نہیں تھا اس نے آکر سارا معاملہ سنبھال لیا اس نے انھیں حویلی میں لا کر بٹھا دیا اور سجیلہ کو ، اور اس کے بچوں کو چھت دے دی یہ سوچ کر میں کچھ دیر کو پیچھے ہٹ گیا پھر ایک دن اچانک موقع دیکھ کر میں نے سجیلہ کو شادی کا پیغام دے دیا حالانکہ تمھاری ماںموجود تھی یہ سوچ کر بھی مجھے خیال نا آیا راشدہ کی عزت کے لوٹنے کے ساتھ ساتھ میں ہر عورت کے حسن کا پیاساہوگیا سجیلہ نے مجھ سے شادی سے انکار کر دیا ، اور مجھے دھمکی دی کہ چوہدری اپنی حرکتوں سے باز آجاﺅ ورنہ انجام اچھا نہیں ہو گا ۔ سجیلہ کا جواب سن کر میں آگ بگولا ہو گیا مجھے لگا کہ میرے پیروں میں چھالے پڑگئے ہیں میرے جسم میںکیڑے مکوڑے رینگنے لگے تھے اس وقت تو میں چپ ہو گیا لیکن میری چپ میں بھی انتقام چھپا ہو اتھا میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ جو بھی ہو جائے میں سجیلہ کے حسن کو نیلام ضرور کروں گا میں انتظار کی سولی پر لٹکا ہوا جوگی بن گیا تھا آخر وہ دن بھی آپہنچا جس کا مجھے انتظار تھا گاﺅں میں جشن کا سماںتھا ، کیوں کہ سجیلہ اور اس کے بچے کو حق دیا جا رہا تھا جو مجھ سے ذرا بھی برداشت نہیں ہو رہا تھا اب وہ سجیلہ بھائی سے سجیلہ چوہدرائن بن گئی تھی ۔ یہ سب اس منشی کے بھائی کا کیا دھرا تھا ، نہ صرف سجیلہ کو اس کا حق ملا بلکہ منشی کے بھائی کو بھی منشی کا خطاب مل گیا میںنے موقع دیکھ کر گاﺅں کے ایک بندے کو اپنے بس میں کیا اور سجیلہ کو بہانے سے حویلی کے بچھواڑے میں بلایا،وہاں ایک مکان تھا جہاں کوئی نہیں رہتا تھا ، اور نہ ہی وہاں سے کسی کا گزر ہوتا تھا میں چوہدری اسفندیار سے لگے ہوئے ہر ایک نشان کو مٹادینا چاہتا تھا ۔

 کون ہے کون ہے میںنے کہا کون ہے اور مجھے یہاں کیوں بلایا ہے کیا کام ہے مجھ سے ، بولتے کیوں نہیں

میں سجیلہ کی مجبوری کا مزہ لے رہا تھا مجھے معلوم تھا کچھ دیر کے بعد وہ سجیلہ نہیں رہے گی اور نہ ہی چوہدرائن ، سجیلہ سجیلہ ارے میری بلبل میں ہوں تیرا عاشق

عاشق چوہدری میرا ناںاے عاشق چوہدری ، آپ ۔۔۔۔۔یہ کہ کر وہ ڈر سی گئی اور بھاگنے لگی لیکن میں نے اسے بھاگنے نہیں دیا جھٹ سے پکڑ لیا اور چند سیکنڈ میں ہی اس کی عزت کو ملیا میٹ کر دیا ۔ سجیلہ لٹ چکی تھی ، برباد ہو چکی تھی میرے سامنے راشدہ والا منظر نامہ گھوم گیا کہ کس طرح وہ بھی تڑپی ہو گی چیخی ہو گی اگر اسفندیار ہوتا تو دیکھتاکہ کیسے اس کی بیوی کی عزت کے چیتھڑے ہوئے ہیں

یہ تم نے کیا کیا چوہدری عاشق میں نے تمھارا کیا بگھاڑا تھا تم کو حویلی چاہیے تھی تو میں دے دیتی ، پیسہ چاہیے تھا میںدے دیتی لیکن تم نے میری عزت کا کھلوار کر دیا ، بڑے عرصے کے بعد تو مجھے عزت ملی تھی ، تم نے وہ بھی مجھ سے چھین لی اب کیا عزت رہ جائے گی میری گاﺅں میں ، اس سے تو اچھی میں اپنے کوٹھے میں ہی تھی ، ناچتی بھی تھی اور دھندا بھی کرتی تھی ۔

 میں بہت ہی زیادہ چیخا ، اور چلایا ، تمھیں صرف اپنی عزت کا خیال ہے دوسروں کی عزت کا تمھیں کوئی خیال نہیں تمھارے شوہر نے میری بہن کی عزت کو عزت نہیں سمجھا اسے طوفانی رات میں لوٹ کر نہ جانے کہاں چھپ گیا ، بزدل کہیں کا آج میں نے بدلہ لے لیا ہے لیکن میرا بدلہ ابھی پورا نہیں ہو ا ابھی بہت کچھ تباہ کرنا باقی ہے ۔کمبخت ! یہ کہ کر وہ اٹھی ، میری عزت لوٹ کر تیرے سامنے وہ منظر نہیں گھوما ، اپنی بہن کا کیا میں تیری بہن نہیں تو یہ کیسے بھول گیا کہ کسی کودیر بعد ہی سہی عزت ملے اور وہ چادر تن سے جدا ہو جائے تو اس کے پلے کچھ نہیں رہتا کیا فرق رہ گیا ہے تجھ میں اور اسفندیا ر میں وہ مجھے بچے کے سہارے چھوڑ کر چلا گیا اور تو ، تو مجھے دنیاکے حوالے کر رہا ہے ایسی دنیا جہاں صرف مطلب کے لوگ بستے ہیں اک طرف تم لوگ اللہ اللہ کرتے ہو اور پھر اسی اللہ کے بندوں کی توہین کرتے ہولعنت ہے تم پر لعنت ہے تم پر

اس کی یہ آواز آسمانوں میں گونجے لگی ، میں تمھیں بددعا دیتی ہوں سنا تم نے چوہدری عاشق بددعا دیتی ہوں ، ایک عورت کی بددعا ہے ، ایک عورت کی جو ماں بھی ہے ، بہن بھی ہے ، بیٹی بھی ہے ، اور بیوی بھی ہے ، اور کئی رشتے جڑے ہیں اس سے اس کی بددعا ہے جس طرح تم نے مجھے پامال کیا ہے تمھاری بیٹی بھی پامال ہو گی

یہ سننا تھا کہ میں واقعی برداشت نہیں کر سکا اور میں نے سجیلہ کے پیٹ میں خنجر گھونپ دیا اور میں نے اسی بندے کو پولیس کے ہاتھوں پکڑوا دیا یہ کہ کر کہ اس نے سجیلہ کی عزت لوٹ لی اور اسے بعد میں پھانسی ہو گئی میں اسفندیار کے بچوں کے سامنے اچھا بن گیا

وقت گزرتا رہا ، گزرتا رہا ، اسفندیار کا بیٹا چوہدری شہاب الدین جوان ہو گیا اور ادھر کلثوم بھی ، پھر ان دونوں کی میں نے شادی کر دی منصوبے کے ساتھ

ساری کہانی سننے کے بعد ملک حیات نے صرف اتنا ہی کہا آپ فکر نہ کریں ۔۔۔۔حویلی اور دولت ہمارے قدموں میں ہو گی ۔

 ملک حیات کہانی سننے کے بعد ٹھنڈی ہوا کھانے حویلی کے باہر چلا جاتا ہے ۔۔۔۔۔۔کہانی کیا تھی اک مکمل تشریح تھی ۔

 یہ کس کا فون آگیا اس وقت

ہیلو ! دوسری طرف سے ایک زنانہ سی آواز آئی

 جناب میں بول رہی ہوں، الماس بھائی ایک تو ہم آپ کو یاد ہی نہیں رہتے

 ہاںبو لو ، جلدی ، کیا پیسے ختم ہو گئے ہیں

 جناب پیسے تو ابھی ہیں بس ایسے ہی فون کیا تھا

 ایسے ! اور تم فون کرو ، یہ نہیں ہو سکتا کام کی بات کرو

 آپ کی تو شہر میں کافی جان پہچان ہے ، آپ کسی ڈایکٹر کو کہیں نہ ہماری بے بی وفا کے لیے کہ اسے فلم میں ہیروئن کا رول مل جائے

بس اتنی سی بات ہو جائے گا ، لیکن تم بھی وفا کو کن چکروں میں ڈال رہی ہو

 میری مانو تو اسے اب گھر بٹھا دو اور اس سے مجرا کرایا کرو

کہتے تو آپ ٹھیک ہیں لیکن وہ مانتی نہیں کہتی ہے فلم میں جو مزہ ہے وہ اور کہاں ۔

 مرضی ہے اس کی ابھی نادان ہے اور ہاں اب تم اس کی شادی کی تیاری کرومیرا دل آگیا ہے اس پر

 جانے دیں آپ حضور ! دل اور آپ کا خوب جانتی ہوں میں آپ کو دل پھینک ہیں

 الماس بھائی نے ہنستے ہو ئے کہا

 اچھا تو تمھیں یقین نہیں ہے کل ہم آکر تمھیں بتائیں گے

 خداحافظ !

 خدا حافظ!

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بابوشہر جانے کی تیاری کر رہا ہے اور بانو اداس نظروں سے بابو کو جاتا ہوا دیکھ رہی ہے بابو جب اپنا بیگ اپنی جیپ میں رکھتا ہے تو بانو بابو کو روکنے کے لیے گانا گاتی ہے اور رقص کرتی ہے بابو جیپ دوڑھا کر جا رہا ہے اور بانو بابو کو روکنے کے لیے پیچھے دوڑھتی ہے

رک جا او جانے والے

دل تو بس تجھ کو پکارے

 تو تو میری جان ہے

دل تجھ پہ قربان ہے

کیوں چھوڑ کے تو

 مجھ کو جائے ۔۔۔۔

 رک جا او جانے والے

 دل تو بس تجھ کو پکارے

 تیرے جانے کے بعد صنم

 ہم بھلا کیا کریں گے

 تو نا ملا ہمیں تو گھٹ گھٹ

 کے مر جائیں گے

 رک جا ! او جانے والے

دل تو بس تجھ کو پکارے

جب بانو بابو کی جیپ کے آ گے آ نے لگتی ہے تو بابو کو جیپ روکنی ہی پڑتی ہے بانو جیپ کے اوپر چڑھ کر منہ دوسری طرف کر لیتی ہے بانو نے گھاگھرا پہنا ہوا ہے اور دونوں ہاتھوں میں چوڑیا ں پہنی ہوئی ہیں بابو مسکرا کر بانو کا چہرہ اپنی طرف کرتا ہے اور اس کے گالوں پر بوسہ دیتا ہے بانو بھی مسکرا کر اور شرما کر رہ جاتی ہے

لگتا ہے تم مجھے نہیں جانے دو گی آج جانے دو میں وعدہ کرتا ہوں ،میں جلد لوٹ آﺅں گا اور پھر اپنے ماں باپ کو تمھارے گھر رشتے کے لیے بھیج دوں گا تا کہ ہم ہنسی خوشی زندگی بسر کر سکیں کتنے میٹھے الفاظ تھے بابو کے جس نے ایک معصوم کی جان لے لی ۔

بانو بابو کی باتو ں میں ایسی الجھ گئی کہ اسے نہ اپنی ، اور نا کسی کی عزت کا خیال رہا ۔ وہ زندہ ہوتے ہوئے بھی ایک مردہ سی زندگی گزار رہی تھی

نہیں بابو ! صرف آج کی رات رک جاﺅ پھر میں تمھیں کبھی نہیں روکوں گی کیوں کہ پھر تم ہمیشہ ہمیشہ کے لیے میرے ہوجاﺅ گے

بانو نے التجائیہ نظروں سے بابو کو روکنے کی کوشش کی ٹھیک ہے تم کہتی ہو تو رک جاتا ہوں، بابو نے سگریٹ سلگاتے ہوئے پھیکی مسکراہٹ کے ساتھ ہوکابھڑتے ہوئے کہا

کیا آج رات میرے ساتھ بتا سکتی ہو ، بولو چپ کیوں ہو میں نے تم سے بہت سی باتیں کرنی ہیں ، بابو نے زبردستی بانو کا ہاتھ پکڑنے کی کوشش کی میں جانتا ہوں تم پوری زندگی تو دور کی بات، ایک رات سے بھی ڈر جاﺅ گی، اور ابھی تم مجھے روک رہی تھی صرف اتنا سا اعتماد ہے مجھ پر

نہیں بابو ! میں تمھارا امتحان لے رہی تھی چلو مجھے اس دنیا سے دورلے چلو جہاں صرف تم اور میں ہوں اور ہمیں کوئی روکنے والا نہ ہو

وہ یک دم زور سے بولنے لگی کہ اس کی آواز آس پاس جانوروں میں بھی سماعت کرنے لگی ، چلو میرے ساتھ ، ڈرو نہیں ، میں تمھیں کھانہیں جاﺅں گا یہ کہ کر بابو نے اپنا ہاتھ بانو کے ہاتھ میں تمھا دیا او ر بانو بھی بابو کے ساتھ ساتھ چل دی وہ رات بانو کے لیے کسی قیامت سے کم نہیں تھی اس کے بعد سے لے کر بانو کی وہی حالت ہے جو

 آ پ دیکھ رہے ہیں ، منشی نے بانو کے بارے میں سب کچھ ڈاکٹر کو بتا دیا

 تو یہ بات ہے ؟ ڈاکٹر نے اطمینان سے سانس لے کر کہا یہ کچھ دوائیں میں لکھ کر دے رہا ہو ں چوہدری صاحب سے منگوا لیجیے گا اور میری مانیں تو بانو کو لاہور کے کسی مینٹل ہاسپیٹل میں داخل کرا دیں ڈاکٹر تو چلا گیا لیکن منشی ایک گہری سوچ میں ڈوب گیا ۔

اب مجھے چلنا چاہیے ، رات کافی ہوچکی ہے ، چوہدری شہاب الدین جو مس وفا کے ساتھ صوفے پر بیٹھا ہوا تھا

 یہ کیا بات کر رہے ہیں چوہدری صاحب ، کبھی کبھی تو آپ کا دیدار نصیب ہوتا ہے اور آپ جانے کی بات کرتے ہیں

 نہیں مس وفا ! ایسی بات نہیں ہے ، آج ہماری بہن طیبہ آرہی ہے لندن سے اسی لیے مجھے جانا ہو گا فی الحال آپ اپنی والدہ کو دیکھیں ، مجھ سے ناراض لگتی ہیں ،

 انھیں میرا ٓنا پسند نہیں ہے ۔۔۔۔۔چوہدری شہاب ایک دم کھڑے ہو گئے

 ارے آپ نے ماما کی باتوں کا کچھ زیادہ ہی اثر لے لیا ہے ، وہ ایسی نہیں ہیں اس سے پہلے کہ وفا کچھ کہتی

 چوہدری صاحب دروازے کی جانب چل دیے

 وفا ! جلدی آﺅ دروازہ بند کر کے ، ایک کھرختی آواز نے وفا کو چونکا دیا

جی امی ! ابھی آئی ، وفا دروازہ بند کر کے جیسے ہی پلٹی ، تو دوبارہ دروازہ کھٹکھٹا نے پر ڈر گئی

 دیکھا ! تو سامنے ملک حیات کھڑے تھے

ایسے کیوں دیکھ رہی ہے کبھی دیکھا نہیں مجھے جا اپنی ماں کو میرا بتا

کون ہے وفا ، الماس بھائی نے پردے کے پیچھے جھانکنے کی کوشش کی

 امی ! ملک صاحب آئے ہیں

اچھا ! تو انھیں بٹھا ! میں ابھی آئی اور ہاں ان کے لیے کچھ کھانے پینے کا بھی انتظام کر سمجھی

جی ! اچھا یہ کہ کر وفا اندر چلی جاتی ہے

 جلدی سے کھانا تیار کر ملک صاحب کے لیے اور اک گل اور اپنے پلے باندھ لے کہ اج کے بعداسفندیار کا داخلہ ممنوع ہو گا سمجھی ! پاگل ہی ہو گئی ہے تو اس کے پیچھے جانتی ہے وہ اک بچی کا باپ ہے

 تو کیا ہو ا اماں ، اس سے کیا فرق پڑ تا ہے ، اگر اس کا داخلہ ممنوع ہے تو پھر ملک صاحب کے لیے کھانا بھی خود ہی بنالینا ۔

 یہ لڑکی تو مجھے پاگل کر کے ہی چھوڑے گی ، ارے او چھیمے ، ارے او دلدار ، کہاں مڑ گئے ہو سب لگتا ہے مجھے ہی اٹھنا پڑے گا الماس بھائی نے تنگ آکے کہا

زہے نصیب ! زہے نصیب ملک صاحب آج ہماری یاد کس طرح آگئی آپ کو ©‘الماس بھائی ملک کی آمد پر پرسکون ہو جاتی ہے

 تو بھی کمال کرتی ہے یہ نا بھول کہ ہمارے ہی پیسوں سے تیرا کوٹھا چلتا ہے ، یہ لے پکڑ پچاس لاکھ ،

الماس بھائی ملک حیات سے پیسے لیتے ہوئے بڑی پر سکون ہو جاتی ہے ، میں وفا کو بلاتی ہوں ،

 تم ٹھرو میں خود ہی اس کمرے میں چلا جاتا ہوں کیا ہمارا حق نہیں ہے اس پر

 کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ ملک جی آپ کا اپنا کوٹھا ہے میں آپ کے لیے کھانے پینے کا انتظام کرتی ہوں ۔

 وفا اپنے کمرے میں کپڑے بدل رہی ہوتی ہے کہ ملک کو دیکھ کر گبھر ا جاتی ہے ، ملک جی آپ اور میرے کمرے میں‘تو بہت بھولی ہے وفا‘چل میں تجھے لینے آیا ہوں

 کہاں ملک جی ! اور اس وقت، وفا نے گبھراتے ہوئے کہا

 تیری ماں کو پورے پچاس لاکھ دیے ہیں تیری ماں نے تجھے بیچ دیا ہے ۔۔۔۔۔ملک حیات کھسیانی ہنسی ہنستے ہوئے

یہ نہیں ہو سکتا یہ نہیں ہو سکتا میری ماں ایسا نہیں کر سکتی ، اس سے پہلے کہ وفا چیختی چلاتی ، ملک حیات اسے اٹھا کے کمرے سے نکل جاتا ہے

 الماس بھائی بھی اپنی بیٹی کی آواز سن کر باہر آجاتی ہے ، ملک جی یہ آپ کیا کر رہے ہیں ، وفا کو کہاں لے کر جا رہے ہیں میں نے آپ سے پیسے اس لیے نہیں لیے تھے کہ میں اپنی بیٹی کو بیچ دوں ، ملک حیات کھلکھلاکر ہنسا اور ایک زور دار قہقہ گھونجتا ہے کہ درودیوار بھی ہل جاتے ہیں ۔

 تجھے میں نے پورے پچاس لاکھ دیے ہیں ، اس لیے نہیں دیے کہ تو اپنی دھی کو گھر بٹھا کے رکھے سمجھی ، پیچھے ہٹ

 ملک حیات الماس بھائی کو پیچھے دھکیلتے ہوئے

 نہیں میں پیچھے نہیں ہٹوں گی ، میں وفا کو آپ کے ساتھ نہیں جانے دوں گی ، میں پولیس کو فون کرتی ہوں

 ہٹتی ہے ، یا دوں ایک ریپٹہ تو ایسے نہیں مانے گی ، یہ کہ کر ملک الماس بھائی پر گولی چلا دیتا ہے اس سے پہلے کہ وفا دوڑھ کر اپنی ماں کے پاس جاتی ملک اسے لے کر باہر جا جا چکا تھا ۔۔۔۔۔میلوں دور جہاں وفا کی آواز سننے والا کوئی نا ہو ۔

 الماس بھائی گرتی گراتی دوبارہ پولیس کو فون کرتی ہے لیکن وہ موقع پر ہی دم توڑ دیتی ہے ۔

 ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 یہ کس کا فون آگیا چوہدری شہاب الدین موبائل پر نظر ڈالتے ہوئے ہاں منشی ، بولو کیوں فون کیا ہے سب ٹھیک تو ہے نہ

نہیں چوہدری صاحب بانو بی بی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے وہ جی طیبہ بی بی آئی ہیں اور ان کے ساتھ ایک مہمان بھی ہے انھی کو دیکھ کر بانو بی بی کو دورہ پڑا ہے بڑی مشکل سے ان کو کمرے میں بھیجا ہے آپ جلدی سے آجائیں منشی نے چوہدری صاحب کوبانو کی تفصیل بتائی

ہاں میں رستے میں ہی ہوں ، بس آرہا ہوں ، ابھی چوہدری شہاب الدین گاﺅں بھی نہیں پہہنچے تھے کہ تیز آندھی نے جکڑ لیا اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے جل میں تھل ہو گیا ۔۔۔۔۔

سارا جہاں جو گھروں میں ایک طرف نیند کی کروٹیں لے رہا تھا ، وہیں کچھ مست جیالے بارش میں بھیگ رہے تھے ، چوہدری صاحب نے بھی ایک جگہ قیام کر لیا ۔

 جہاں ایک طرف خدا کی رحمت برس رہی تھی وہیں ملک حیات وفا کی عزت کا پیاسا ہو رہا تھا

وفا چیخ رہی تھی ، چلا رہی تھی ، لیکن اسے کوئی پرواہ نہیں تھی ۔

چھوڑ دے مجھے ذلیل انسان چھوڑ دے تو بھی اک دن دربدر ہو گا جس طرح تو مجھے دربدر کر رہا ہے ، سب لوگ اپنے اپنے گھروں میں سوئے ہوئے تھے ۔

اچانک بارش کا زور کچھ کم ہوا دور سے ایک شخض گھوڑے پر آتا دکھائی دیا ، وفا کی کچھ جان میں جان آئی ، اور وفا دوڑھ کر اس کے پاس جا پہنچی ´لیکن وہ نہیں جانتی تھی کہ یہ شخض بھی اس کے حسن کا دیوانا ہو جائے گا

ملک حیات کے ماتھے پر پسینے چھوٹ جاتے ہیں جب وہ اپنے چھوٹے بھائی ملک نیاز کو آتا ہوا دیکھتا ہے

 ملک نیاز ملک حیات کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہے کیوں بھائی جی! اکیلے اکیلے مال ہڑپ کرنے کا ارادہ ہے ، مجھے بھول ہی گئے تم اپنے چھوٹے پرا کو

 چھوٹے ہٹ جا میرے رستے سے اور گھر چلا جا ورنہ انجام اچھا نہیں ہو گا ، ملک حیات نے نہایت ہی غصے سے کہا

 تو کیا بھائی جی ! تو کیا ! آپ مجھے جانتے نہیں ملک نیاز نا ںہے میرا ، جس کی راتیں ہی کوٹھوں پر گزرتی ہیں اور آپ مجھے جانے کے لیے کہ رہے ہیںواہ بھائی جی ! واہ ! تالیاں بجانے کو دل کرتا ہے آپ پر ، یہ کہ کر وہ وفا کو زبردستی لے جانے کی کوشش کرتا ہے ۔۔۔۔۔رانی بنا کر رکھو ںگا تجھے ، بہت بڑی سپرسٹا ر بنادوں گا تجھے ۔

اوئے کمزادو ! چھوڑ دو مجھے ،خدا کے لیے مجھے چھوڑ دو ، جس طرح تم مجھے رسوا کر رہے ہو تمھاری بہن بھی کسی مرد کے ہاتھوں رسوا ہو گی ۔

وفا نے گرگراتے ہوئے اور روتے ہوئے کہا

ایک زور دار تھپر ملک حیات وفا پر رسید کرتا ہے اور وفا دور جا کر گرتی ہے

 حرامزادی مجھے سمجھا رہی ہے اور سن ملک نیاز ہٹ جا میرے رستے سے ورنہ میں کچھ بھی کر سکتا ہوں ۔

 واہ بھائی جی ! واہ آپ نے مجھے گدھا سمجھ رکھا ہے جو اتنی خوبصورت بلبل کو چھوڑ کر چلا جاﺅں اور اپنے ہاتھوں میں چوڑیاں پہن لوں نہ بھائی جی ! نہ میں نہ ہٹوں جو کرنا ہے کر لو ، اور ویسے بھی اپن کا دل آگیا ہے اتنی خوبصورت حسینہ کے ہوتے ہوئے میں چلا جاﺅ ں ، یہ نہیں ہو سکتا جانا ہے تو آپ جاﺅ

 ملک نیاز نے اپنے بھائی ملک حیات کو تنبیہ کی

 چھوٹے تو تو بڑا سیانا ہو گیا ہے ، میں تو تجھے واقعی گدھا سمجھتا تھا تو تو بڑا نڈر ہو گیا ہے یہ کہ کر ملک حیات ملک نیاز پر جپھٹتا ہے ، دونوں بھائیوں میں لڑائی ہو جاتی ہے کبھی ملک حیات ملک نیاز پر جپھٹتا ہے اور کبھی ملک حیات ملک نیاز پر جھپٹتا ہے پھر اچانک ملک نیاز سے گولی چل جاتی ہے                      اور ملک حیات قدموں کے بل نیچے گرتا ہے لیکن وہ بھی ملک نیاز پر گولی چلا دیتا ہے                                                 اور دونوں بھائی زمین میں گر جاتے ہیں ملک نیاز یک دم رونے کے انداز میں ہنستا ہے دیکھیے بھائی جی ! میں آپ سے چھوٹا ہوں اسی لیے آپ کے بعد جا رہا ہوں ،

 ہاں چھوٹے تو نے اپنا حق ادا کر دیا لیکن میں اپنا حق ادا نہیں کر سکا ، ملک حیات رونے لگ گیا

 کیسا حق ! بھائی جی ! ملک نیاز نے جاسوسی نگاہوں سے ملک حیات کودیکھا

 ملک حیات پھر رونے لگ گیا ، مجھے معاف کر دیجیے گا ابا جی ! میں آپ کا وعدہ پورا نہیں کر سکا مجھے معاف کر دینا ابا جی

 یہ کہ ملک حیات آنکھیں بند کر لیتا ہے

نہیں بھائی جی ! آپ نہیں مر سکتے ابا جی کو آپ کی ضرورت ہے ، آپ ہی ان کے قریب تھے ، میرا کیا ہے میں تو ایک آوارہ سا پنچھی تھا

وفادونوں بھائیوں کا منظر دیکھنے کے بعد بھاگنے کی کوشش کرتی ہے لیکن ملک نیاز اس پر گولیوں کی برسات کر دیتا ہے بھاگ رہی تھی حرامزادی ، یہ دیکھ تیرا خاتمہ کر دیا میں نے ، دیکھیے بھائی جی میں نے آپ کی محبوبہ کوختم کر دیا کسی نے سچ ہی کہا ہے بھائی جی ، بیوی اور محبوبہ دونوں بھائیوں کے بیچ کی دیوار ہیں یہ کہ کر ملک نیاز ہنستے ہنستے بڑے آرام سے اپنی آنکھیں بند کر لیتا ہے اور اس طرح بدنامی کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے لیکن سلسلہ ابھی ختم نہیں ہوا ، نہ جانے کتنی وفائیں چوہدریوں ، وڈیروں اور امیروں کے ہاتھوں برباد ہو رہی ہیں اور نہ جانے کب تک ہوتی رہیں گی ، نہ جانے کب تک ؟

   ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

 کہاں ہے بانو ! کہاں ہے بانو ! کیا وہ ٹھیک تو ہے ، چودھری شہاب الدین نے حویلی میں قدم رکھتے ہی سب سے پہلے منشی سے بانو کا پوچھا

 جی چودھری صاحب بانو بی بی اپنے کمرے میں ہے ، ڈاکٹر نے ابھی ابھی انجکشن لگایا ہے اور کچھ دوائیں لکھ دیں ہیں خدا نے چاہا تو وہ ضرور ٹھیک ہو جائیں گی

کیا مطلب منشی ! وہ ضرور ٹھیک ہو جائے گی چودھری شہاب الدین بہت زیادہ جذباتی ہو گئے اور تفتیشی نگاہوں سے منشی کو دیکھنے لگے

 منشی یہ سب کیسے ہو ا شہاب الدین بہت زیادہ بے چین ہو گئے

 حضوروالا ! جی وہ طیبہ بی بی آئی ہیں اور ان کے ساتھ جو مہمان آئے ہیں

 بس پھر کیا تھا انھی مہمان کو دیکھتے ہی ان کو دورہ پڑ گیا ، بڑی مشکل سے ان کو کمرے میں لے کر گئے ہیں

 شہاب الدین نے ہوکا بھڑ ا ، منشی ہو نہ ہو یہ وہی بابو ہو ، اور خدا کی قسم اگر یہ یہی بابو ہے تو میں اسے نہیں چھوڑ وں گا

منشی نے شہاب الدین کو روکنے کی کوشش کی

 یہ آپ ! کیا کہ رہے ہیں حضور والا ! ہو سکتا ہے یہ وہ نہ ہو اور پھر آپ تو بانو بی بی کو جانتے ہی ہیں

طیبہ بی بی اور اس کے ساتھ جو مہمان آ یا ہے وہ کہاں ہے

 جی ان دونو ں کا کمرہ میں نے بانو کے کمرے کے ساتھ ہی طے کر دیا ہے

 شہاب الدین کو بہت ہی زیادہ تشویش ہوئی

 کیا طیبہ ! بانو کے کمرے میں نہیں ہے

 جی نہیں حضور والا ،منشی نے ڈرے ہوئے لہجے میں کہا ¾

منشی تم مجھ سے کچھ چھپا رہے ہو بتاﺅ کیا بات ہے

 جناب چھوٹا منہ اور بڑی بات ۔۔۔۔۔

 چھوٹی بی بی نے شادی کر لی ہے اسی مہمان سے

کیا ! یہ لفظ چودھری شہاب الدین کے حلق میں اٹک کر ہی رہ جاتا ہے اور چوہدری شہاب الدین کے چہرے کی رنگت زرد پڑ جاتی ہے

                  (جاری ہے )

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خون ریز امجد جاوید قسط نمبر9

خون ریز امجد جاوید قسط نمبر9 ” میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ انہوں نے کوئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے