سر ورق / ناول / ۔ ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر17 آخری قسط

۔ ان لمحوں کے دامن میں مبشرہ انصاری قسط نمبر17 آخری قسط

ان لمحوں کے دامن میں

مبشرہ انصاری

قسط نمبر17

آخری قسط

”دیا! تمہیں کچھ نہیں ہو گا۔ میں تمہیں کچھ نہیں ہونے دوں گا۔“ دیا کو تکلیف میں دیکھ کر، وہ آنکھوں کو میچے ایک بار پھر سے آگے بڑھ گیا۔

چوبیس گھنٹوں کے بعد جب دیا کو ہوش آیا تو ڈاکٹرز نے اسے کمرے میں شفٹ کر دیا۔

”ابھی پیشنٹ کی حالت ایسی نہیں کہ وہ بیان دے سکے، اس لیے بہتر ہو گا کہ پولیس کو پیشنٹ سے دور رکھا جائے۔“

”شیور ڈاکٹر!“ اسجل نے ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرتے ہوئے انسپکٹر کو ڈاکٹر کی بات سے آگاہ کیا انسپکٹر اثبات میں سرہلاتے ہوئے بولا….

”ٹھیک ہے، ہم مزید چوبیس گھنٹوں تک انتظار کریں گے، کیونکہ معاملہ بہت گمبھیر ہے، آپ نے مس دیا کے شوہر کے خلاف جو بیانات لکھوائے ہیں، ہمیں مس دیا کے بیان کے بعد ہی ان تمام بیانات پر ایکشن لینا ہے۔“

انسپکٹر سے بات کرنے کے بعد وہ بھی کمرے میں چلا آیا تھا۔ دیا آنکھیں موندے شاید سو رہی تھی۔ وہ دبے قدموں چلتا ہوا بیڈ کی سائیڈ چیئر پرجا بیٹھا۔ کرسی پر بیٹھتے ہی اس کی نظریں دیا کے معصوم چہرے پر ٹک سی گئی تھیں۔ وہ اُمید بھری نظروں سے دیا کی جانب دیکھے چلا جا رہا تھا۔

کچھ ہی دیر بعد دیا کی پلکوں نے جنبش کی تھی۔ پھر دھیرے دھیرے آنکھیں کھولتے ہوئے اس نے کمرے کی چھت کو دھندلائی نظروں سے دیکھا اور دھیرے سے ہونٹوں کو جنبش دینے لگی۔ جنبش دینے کے دوران ایک درد بھری کراہ اس کے منہ سے نکلنے پر سائیڈ پر بیٹھا اسجل ایک دم الرٹ ہو کر بولا۔

”دیا!“ دیا نے ایک بار پھر سے آنکھیں موند لی تھیں۔ پھر بولنے کی چاہ میں اس نے ایک بار پھر سے ہونٹوں کو جنبش دی اور بہت ہی مدھم آواز میں بولی۔

”معید!“

”نہیں، میں اسجل ہوں، معید یہاں نہیں ہے۔“

”پلیز، اسے میرے پاس کبھی مت آنے دینا۔“

”تم بات مت کرو، بس آرام کرو۔“

”تھینکس اسجل! مجھے بچانے کے لیے۔“ وہ آہستہ آہستہ ایک بار پھر سے نیند کی وادیوں میں کھو گئی تھی۔ اسجل کے چہرے پر ہلکی سی مسکراہٹ پھیلی اور وہ ایک بار پھر سے کرسی پر سیدھا ہو بیٹھا تھا۔

دل پہ کیا گزری

وہ انجان کیاجانے

پیار کسے کہتے ہیں

وہ نادان کیا جانے

ہوا کے ساتھ اُڑا لے گیا گھر پرندے کا

کیسے بسا تھا گھونسلہ وہ طوفان کیا جانے

ض……..ض……..ض

اگلے دن صبح تقریباً آٹھ بجے کے دوران دیا نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں اور پوری طرح سے ہوش میں آنے کے بعد اس نے سائیڈ چیئر پر نیم دراز ہوئے اسجل کی جانب دیکھا۔ گھڑی پر نظر دوڑاتے ہی اس نے اٹھنے کی ناکام کوشش کی اور اگلے ہی پل درد کی شدت کی بنا پر کراہ کر رہ گئی۔ اتنی خاموشی میں اس کی کراہ آنکھیں موندے نیم دراز اسجل کے کانوں سے ٹکرائی تو وہ ہڑبڑا کر سیدھا ہو بیٹھا اورپھر لپک کر دیا کی جانب بڑھتے ہوئے بولا۔

”کیا ہوا دیا؟ تم ٹھیک ہو؟“

”مجھے پیاس لگ رہی ہے۔“ اسجل نے فوراً کھڑے ہو کر سائیڈ ٹیبل پر پڑے منرل واٹر کو شیشے کے صاف گلاس میں انڈیل کر ایک بار دیا کی جانب دیکھا اور پھر بوتل کو بند کرتے ہی اس نے آگے بڑھ کر سٹریچر کو تھوڑا سا اوپر کی جانب سیٹ کیا، دیا جب سٹریچر پر لیٹے لیٹے ہی نیم دراز ہو بیٹھی تو اس نے ٹیبل پر سے گلاس اٹھا کر دیا کے منہ سے لگا دیا۔ تین سانسوں میں پانی پینے کے بعد دیا نے لمبی سانس کھینچی پھر آنکھیں زور سے میچتے ہوئے درد کی شدت کو برداشت کرتے ہوئے بولی۔

”آپ ابھی تک یہاں ہیں؟“ اسجل نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے دھیرے سے کہا۔

”تمہیں اس حالت میں اکیلا چھوڑ کر جانے کو دل نہیں چاہا، اب…. اب کیسا فیل کر رہی ہو؟“

”میں ٹھیک ہوں، بس ہلنے اور اٹھنے میں تھوڑی پرابلم ہو رہی ہے۔“

”ہاں زخم ابھی تازے ہیں اسی لیے۔“ ایک بار پھر سے لمبی سانس کھینچتے ہوئے وہ لب بھینچ گئی اور اسجل دوبارہ کرسی پر براجمان ہوتے ہوئے ایک بار پھر سے گویا ہوا تھا۔

”کیا میں پوچھ سکتا ہوں کہ اس رات کیا ہوا تھا؟“ دیا نے ایک اچٹتی سی نگاہ اس پر ڈال کر سامنے لگی گھڑی پر نظریں جماتے ہوئے دھیمے لہجے میں جواباً کہا۔

”وہ رات…. میری زندگی میں…. دوسری قیامت کی رات تھی اور میں دوسری بار بھی بچ گئی۔“ کہتے کہتے اس کا لہجہ بھیگ گیا اور پھر وہ دبی آواز میں رو دی۔ اسجل خاموش بیٹھا پریشانی کے عالم میں اس کی جانب دیکھے چلا جا رہا تھا۔ جب وہ رو رو کر خاموش ہو گئی تو اسجل نے خاموشی توڑتے ہوئے ایک بار پھر سے پوچھا۔

”کیا ہوا تھا دیا! بتاﺅ مجھے۔“ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ ایک بار پھر سے جواباً بولی۔

”اس رات معید نے مجھے ہمیشہ ہمیشہ کے لیے اپنی زندگی سے بے دخل کر دیا، جب وہ آفس سے لوٹا تو بہت اچھے موڈ میں تھا۔ بہت اچھا برتاﺅ کر رہا تھا۔ کہنے لگا کہ وہ میرے والدین کے نام پر ایک ہاسپٹل بنانے جا رہا ہے، جس کے لیے اسے میرے نام کی گئی تمام پراپرٹی درکار ہے۔ میں اپنے والدین کے نام کا ہاسپٹل بننے کا سن کر خوشی سے پھولے نہ سما رہی تھی۔ خوشی کے عالم میں، میں نے ان تمام کاغذات پر سائن کر دئیے جن جن پر معید سائن کرنے کا کہہ رہا تھا۔ پیپرز سائن کروانے کے بعد وہ کہیں باہر چلا گیا۔ تقریباً دو گھنٹوں بعد لوٹا تو شدید غصہ کے عالم میں بنا بات مجھے مارنے پیٹنے لگا۔ اس نے کہا کہ میں اب اس کی زندگی میں کوئی معنی نہیں رکھتی اور نہ ہی مجھے اب جینے کی کوئی ضرورت ہے۔ نشے کی حالت میں اس نے مجھے قتل کرنے کی پوری کوشش کی اور پھر اس قتل کو خودکشی کی شکل دے ڈالی، تاکہ وہ کسی بھی قسم کی مشکل میں نہ پھنسے۔“ بات کرنے کے دوران وہ بار بار روتی اور پھر لب بھینچتے ہوئے اپنی کلائیوں پر بندھی پٹی کی جانب دیکھتے ہوئے پھر سے بولتی۔ اسجل خاموش بیٹھا ترس بھری نگاہوں سے اس معصوم لڑکی کو آنسو بہاتے دیکھ رہا تھا۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد وہ دھیمے سے بولا۔

”اپنے کسی عزیز یا بہن بھائی کا نمبر دو، تاکہ میں انہیں اس تمام صورتحال سے آگاہ کر سکوں۔“ اسجل کی بات پر وہ نم بھری نگاہیں اٹھا کر براہ راست اس کی جانب دیکھنے لگی تھی۔ آنسوﺅں کا گولہ اس کے حلق میں اٹک کر رہ گیا تھا۔ پھر لمبی سانس کھینچتے ہوئے نظروں کا زاویہ بدل کر وہ گہری ڈوبی آواز میں بولی۔

”میرا اپنا اگر اس دنیا میں کوئی ہوتا تو آج میری اتنی بدتر حالت نہ ہوتی۔“ وہ حیران کن انداز میں اس کی جانب دیکھنے لگا۔

”مطلب؟“

”میں اپنے والدین کی اکلوتی اولاد تھی۔ معید میرے چچا کا بیٹا تھا۔ ہم بچپن سے ہی ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔ چچا اپنی فیملی سمیت سڈنی منتقل ہو گئے، معید نے وہاں جاتے ہی کسی گوری سے شادی کر لی۔ چچا نے بابا کو زبان دی ہوئی تھی، نجانے کیسے سمجھا بجھا کر وہ معید کو واپس پاکستان لے کر آئے۔ مجھ سے بیاہ کرنے کے لیے۔ باباکو جب معید کی پہلی شادی کا علم ہوا تو انہوں نے اسے گھر سے باہر نکال دیا یہ کہہ کر کہ وہ زندگی بھر اس کی صورت نہیں دیکھنا چاہتے۔ مجھے اس تمام واقعے کی کان و کان خبر نہ ہوئی اور نہ ہی میں نے بابا سے انکار کی وجہ پوچھی۔معید اور اس کی فیملی کو پتا تھا کہ بابا کی تمام جائیداد کی اکلوتی وارث میں ہوں، اس دن تو وہ لوگ خاموشی سے واپس چلے گئے لیکن معید سائے کی طرح میرے پیچھے پڑا رہا اور لاہور میں ہی کرائے کا مکان لے کر یہیں شفٹ ہو گیا۔ پھر ایک دن میں اپنے والدین سمیت اپنے آبائی شہر مظفرآباد گئی، اگلی صبح میں واک کے ارادے سے گھر سے باہر نکلی، مجھے کیا خبر تھی کہ واپسی پر میری دنیا ہی اُجڑ جائے گی۔ واک کے دوران ہی زلزلے کے خوفناک جھٹکوں سے دل اُچھل کر حلق کو آگیا۔ خوف کے مارے میں وہیں زمین پر ہی بیٹھ گئی۔ پھر کچھ ہی لمحوں میں تیز دھماکے دار آوازیں گونجیں، ایسے جیسے قیامت آ گئی ہو۔ میری آنکھوں کے سامنے گھراس طرح سے زمین بوس ہو رہے تھے جیسے وہ گھر اینٹوں سے نہیں بلکہ کچی مٹی سے بنے ہوں۔ وہ منظر میرے لیے ناقابل یقین تھا۔مجھے لگا جیسے میں کوئی ڈراﺅنا خواب دیکھ رہی ہوں۔ پر وہ حقیقت تھی۔ایک خوفناک حقیقت۔“ اس نے اپنی غم بھری داستان سناتے سناتے بہتی آنکھوں سے سائیڈ چیئر پر حیران و پریشان بیٹھے اسجل کی جانب دیکھا، اسجل کی آنکھیں بھی بھر آئی تھیں۔

” مجھ میں اتنی ہمت نہ تھی کہ میں اٹھ کر اپنے آبائی گھر کی طرف دوڑ لگاتی۔ جب زلزلے کے جھٹکے رکے تو میں ہوش میں آئی۔ گھر پہنچی تو گھر کی جگہ ایک کھلا میدان ملا جہاں جابجا ٹوٹے ہوئے مکانوں کی اینٹوں کے ڈھیر پڑے تھے۔ ہر طرف ماتم کا سا سماں تھا۔ کچھ لوگ وہاں موجود تھے، جو اس قیامت خیز منظر کو دیکھ کر آنسو بہا رہے تھے، لیکن میں اس وقت نہیں روئی تھی، بس بت بنی بے یقینی کے عالم میں اپنے آبائی گھر کے ملبے کی جانب دیکھے چلی جا رہی تھی۔ اس ملبے تلے میرے بابا، مما زندہ دفن ہو چکے تھے۔ میرا پورا خاندان مظفرآاباد میں رہائش پذیر تھا اور اس دن میرا پورا خاندان اس ہیبت ناک زلزلے کا شکار ہو گیا تھا۔ میری زندگی میں وہ پہلی قیامت تھی۔“ گہری خاموشی ان دونوں کے بیچ بہت دیر تک چھائی رہی تھی۔ اسجل پریشان کن انداز میں لب بھینچے کسی گہری سوچ میں گم ہو گیا تھا،جبکہ دیا نے آنسو بہاتے ہوئے ایک بار پھر سے اپنی ادھوری داستان سنانی شروع کی تھی۔

”معید کی فیملی اس وقت سڈنی میں تھی اور وہ خود لاہور میں تھا اسی لیے وہ اور اس کی فیملی اس قیامت سے بچ نکلے۔ میری بقیہ زندگی کو قیامت خیز بنانے کے لیے وہ اگلے ہی دن مظفرآباد چلا آیا اور مجھے واپس لیے لاہور واپس آ گیا۔ لاہور آتے ہی اس نے مجھ سے نکاح کیا۔ اتنا رحمدل اور ہمدرد بنا وہ چند دن مجھے بیوقوف بناتا رہا، پھر ایک رات نشے کی حالت میں گھر آیا تو مجھ پراس کی تمام حقیقت عیاں ہوئی۔ اس نے نشے کی حالت میں اپنی پہلی شادی سے بھی آگاہ کیا اور وہ پہلا دن تھا جب اس نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا۔ اپنی بے عزتی کا بدلہ لینے کے لیے اس نے میرا جینا حرام کر دیا۔ ہر روز نئی اذیت دیتا اور میں خاموش رہتی۔ میرے پاس خاموش رہنے کے سوا کوئی دوسرا آپشن نہ تھا۔چپ چاپ اس کے ظلم سہتی رہی اور پھر اس رات جب آپ نے آ کر معید کو مجھ پر ہاتھ اٹھانے سے روکا تو مجھ میں بھی تھوڑی ہمت آئی کہ گھر واپس جانے سے انکار کر سکوں، پر واپس تو جانا ہی تھا، اس رات میں نے پہلی بار گھر سے بھاگنے کی کوشش کی تھی…. پر وہ درندہ صفت انسان مجھے گھسیٹتا ہوا گھر واپس لے گیا۔“ اسجل نے اس کے خاموش ہوتے ہی ایک خاموش نگاہ اس کے سپاٹ چہرے کی طرف دوڑائی اور پھر نظریں چرا کر زمین کو دیکھنے لگا، تبھی دیا کی آواز ایک بار پھر سے اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔

”میں آج سوچتی ہوں کہ کاش میں بھی اس دن اپنے والدین سمیت زندہ زمین میں دفن ہو جاتی تو آج اتنی ذلت بھری زندگی نہ گزار رہی ہوتی۔ میرا اس دنیا میں کوئی بھی نہیں۔“ وہ ایک بار پھر سے رو دی تھی۔ اسجل کے پاس کہنے کو کچھ نہ بچا تھا تبھی وہ لمبی سانس کھینچتے ہوئے خاموشی سے کھڑا ہوا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔

ض……..ض……..ض

پولیس کو اپنا بیان لکھوانے کے دو دن بعد ہی دیا کو ہاسپٹل سے ڈسچارج کر دیا گیا تھا۔ ڈرائیونگ کرتے اسجل کے ساتھ فرنٹ سیٹ پر بیٹھا دیا گم صم نگاہوں سے باہر دوڑتی گاڑیوں کو بڑی خاموشی سے دیکھے چلی جا رہی تھی۔ چند ثانیے بعد اسجل نے گلی کاا موڑ کاٹتے ہی اس کی جانب دیکھتے ہوئے اسے مخاطب کیا۔

”آں…. مجھے لگتا ہے کہ تمہارا اس گھر میں اب رہنا کسی خطرے سے خالی نہیں، میرا مطلب ہو سکتا ہے کہ معید پھر سے وہاں آئے۔“

”تو کیا کروں؟ کہاں جاﺅں؟ میرے پاس اس گھر کے سوا اور کوئی پناہ گاہ نہیں۔“ دیا نے نظروں کا زاویہ بدلے بغیر باہر دوڑتی گاڑیوں پر ہی نظریں جمائے لمبی سانس کھینچ کر کہا تو ساتھ بیٹھا اسجل حیران کن انداز میںاس کی جانب دیکھ کرگویا ہوا۔

”پناہ گاہ؟ تم اس گھر کو پناہ گاہ کہہ ری ہو جہاں سب سے زیادہ خطرہ ہے تمہیں۔“ اس بار وہ خاموش ہی بیٹھی رہی اسجل نفی میں سرہلاتے ہوئے بولا….

”نو! تم اب وہاں نہیں رہو گی، میں تمہارے ساتھ چل رہا ہوں، تم اپنا سامان پیک کر لو۔“

”پھر؟“ اس بار اس نے پلٹ کر براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ سامنے لگے بیک مرر میں اچٹتی نگاہ ڈال کر ڈرائیونگ کرتے ہوئے گہری سنجیدگی سے گویا ہوا۔

”ہمارا پراپرٹی کا بزنس ہے، ایک دو گھر ابھی رینٹ آﺅٹ نہیں ہوئے، معید کے اریسٹ ہونے تک تم وہاں رہو گی۔“

”لیکن!“

”لیکن ویکن کچھ نہیں، تم جلدی سے سامان پیک کرو اور چلو میرے ساتھ۔“ دیا کے گھر کے باہر گاڑی روکتے ہی اس نے حکم دیتے ہوئے کہا…. فرنٹ سیٹ پر بیٹھی دیا کچھ سوچتے ہوئے لمبی سانس کھینچ کر گاڑی کا دروازہ کھول کر گاڑی سے باہر نکل آئی۔

اسجل نے سامان پیک کروانے میں دیا کا پورا پورا ساتھ دیا تھا۔ کارڈ بورڈ باکسز اور سوٹ کیسز پیک کرنے کے بعد وہ لاﺅنج کی سائیڈ ٹیبل پر رکھے فریم کی طرف چلی آئی۔ دیا اور معید کی شادی کی تصویر اس فریم میں چسپاں تھی جس میں وہ دونوں ہی مسکراتے ہوئے دکھائی دے رہے تھے۔ فریم کو اٹھا کروہ نم نگاہوں سے اس تصویر کی جانب دیکھتے ہوئے دل ہی دل میں ہم کلام ہوئی تھی۔

”میری زندگی کی سب سے بڑی غلطی تھے تم معید! میں تمہیں کبھی معاف نہیں کروں گی۔“ نفرت بھری نگاہ تصویر پر ڈالتے ہوئے اس نے اپنی پوری طاقت سے فریم اُچھال کر سامنے دیوار میں دے مارا تھا۔ کانچ ٹوٹنے کی آواز پراسجل تقریباً دوڑتا ہوا کمرے سے باہر آیا۔ لاﺅنج کی دیوار کے پاس ٹوٹا فریم دیکھ کر وہ دیا کی جانب دیکھتے ہوئے پوچھنے لگا تھا۔

”آر یُو اوکے؟“

گالوں پر لڑھکتے آنسوﺅںکو انگلیوں کے پوروں سے صاف کرتی دیا اثبات میں سر ہلا کر نظروں کا زاویہ بدل گئی تھی۔ اسجل ایک بار پھر سے ٹوٹے فریم کی جانب دیکھتے ہوئے سوٹ کیس اٹھاتا باہر کی جانب بڑھ گیا تھا۔

ض……..ض……..ض

دیا کو گھر شفٹ کیے ایک مہینہ ہو چلا تھا، اسی دوران اسجل بھی کبھی کبھی دیا کی خیرخیریت معلوم کرنے اس سے ملنے چلا آتا تھا۔ آج ٹھیک ایک مہینہ بعد جا کر معید پولیس کے ہاتھ لگا تو اسجل بنا فون کیے دیا سے ملنے چلا آیا۔ دروازہ کھولتے ہی دیا نے اسے اندر آنے کی اجازت دی وہ صوفے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے پوچھنے لگی۔

”بیٹھئے، چائے لاﺅں آپ کے لیے؟“

”نہیں، صرف چائے نہیں، آج تو تمہاری طرف سے ٹریٹ بنتی ہے، اس لیے کھانا کھاﺅں گا۔“ اسجل نے دھیرے سے مسکرا کر کہا ۔ وہ سوالیہ نگاہوں سے اس کی جانب دیکھتے ہوئے اس کی بات دہرا کر بولنے لگی۔

”ٹریٹ؟ کس بات کی ٹریٹ؟“

”معید اریسٹ ہو گیا ہے۔“ اتنا سننا تھا کہ حیرانی، خوشی اور نفرت کی ملی جلی کیفیات کے مارے اس کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔ اسجل ابھی بھی مسکرا رہا تھا۔

”کیا ہوا؟ تمہیں خوشی نہیں ہوئی؟“

”کس بات کی خوشی مناﺅں؟ اریسٹ ہو گیا ہے تو کچھ عرصہ بعد واپس رہا بھی ہو جائےگا اور پھر جب اسے معلوم پڑے گاکہ میں زندہ ہوں تو وہ ایک بار پھر سے میری زندگی برباد کرنے….“

”نہیں، ایسا نہیں ہو گا۔ وہ اب تم تک نہیں پہنچ سکے گا۔“ اسجل نے اس کی بات کاٹتے ہوئے کہا تھا تو وہ حیرانگی سے اس کی جانب دیکھ کر بولی۔

”کیسے نہیں پہنچ سکتا؟ جب اسے معلوم پڑے گا کہ میں زندہ ہوں تو وہ لازمی مجھ تک پہنچنے کی کوشش کرے گا۔“

”میں نے کہا ناں ایسا کچھ نہیں ہو گا، خیر تم جلدی سے تیار ہو جاﺅ۔“

”لیکن!“

”ارے اتنی بڑی خوشخبری سنائی ہے، ٹریٹ تو بنتی ہے ناں؟“ اسجل کے انداز پر وہ مسکرا دی تھی اور پھر مثبت انداز میں سر ہلاتی ہوئی اپنے کمرے کی جانب بڑھ گئی تھی۔

کھانا کھانے کے بعد ریسٹورنٹ سے باہر نکلتے ہوئے اسجل کا سامنا ایک ایسی شخصیت سے ہوا جس کا سامنا وہ زندگی بھرنہیں کرنا چاہتا تھا۔

تراشیدہ شولڈ کٹ بالوں کو پونی ٹیل میں قید کیے وہ پتلے پتلے نین نقش والی خوبصورت لڑکی اس کے مقابل کھڑی نم نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ رہی تھی۔ اسے اپنے عین سامنے کھڑے دیکھ کر وہ ایک لمحے کے لیے رُکا تھا اور پھر اگلے ہی لمحے اپنے ساتھ کھڑی دیا کا ہاتھ پکڑ کر بہت ہی دھیمے انداز میں گویا ہوا تھا۔

”چلو دیا!“

پہلی بار اپنے ہاتھ پر اس کے ہاتھ کا لمس محسوس کرتے ہی وہ چونک کر اس کی اور پھر سامنے حیران کھڑی لڑکی کی جانب دیکھنے لگی تھی جو اس وقت اسجل سے مخاطب تھی۔

”اسجل! میری بات تو سنو۔“ لیکن وہ اس کی آواز کو اَن سنا کر کے آگے بڑھ گیا تھا۔ گاڑی کے نزدیک پہنچتے ہی اس نے دیا کا ہاتھ چھوڑتے ہوئے سر جھکا کر شرمندگی کا اظہار کیاتھا….

”آئی ایم رئیلی ویری سوری!“ دیا بنا کچھ بولے پلٹ کر گاڑی کی دوسری جانب بڑھ گئی۔

ڈرائیونگ کے دوران کافی دیر تک دونوں کے بیچ خاموشی چھائی رہی، پھر تھوڑی دیر بعد دیا نے اسجل کی جانب دیکھتے ہوئے دھیمے انداز میں پوچھا۔

”آپ نے اپنے بارے میں کبھی کچھ نہیں بتایا؟“

”ایک عام سا آدمی ہوں، دو آنکھیں ہیں، دو کان، ایک ناک اور….“

”میں نے یہ نہیں پوچھا۔“

”اور کیا جاننا چاہتی ہو؟“

”آپ ایک رحمدل، خوش اخلاق اور شریف انسان ہیں، اس کے علاوہ آپ کے بارے میں اور کچھ نہیں جانتی۔“

”اتنا کافی نہیں؟“

”ہوں۔“

وہ اب خاموشی سے باہر سڑک پر دوڑتی گاڑیوں کو دیکھنے لگی تھی۔ چند ثانیے بعد اسجل کی آواز ایک بار پھر سے اس کے کانوں سے ٹکرائی تھی۔

”میری مما ہاﺅس وائف ہیں، بابا ریٹائرڈ آفیسر، دو بہنیں ہیں، شادی شدہ اور ایک میں ایم بی اے کرنے کے بعد اپنا خاندانی بزنس جوائن کیا ہوا ہے،دیٹس آل۔“ دیا نے لب بھینچتے ہوئے اس کی جانب دیکھ کر پوچھا۔

”اور وہ لڑکی کون تھی؟“ گہری سنجیدگی چہرے پر سجائے وہ کچھ دیر خاموشی سے ڈرائیو کرتا رہا اور پھر بولا۔

”کزن ہے، جو کبھی میری منگیتر بھی تھی۔“

”تھی؟“

”ہاں شادی سے ایک ماہ پہلے اس نے شادی کرنے سے انکار کر دیا تھا۔“

”کیوں؟“

”یونیورسٹی میں شاید مجھ سے بہتر کوئی مل گیا تھا۔“

”لیکن آج تو وہ….“

”آئی نو، پشیمان لگ رہی تھی، کیونکہ جس کے لیے اس نے مجھے چھوڑا تھا وہ اسے چھوڑ کر چلا گیا اور اب یہ محترمہ میری زندگی میں واپس آنا چاہتی ہیں۔“

”تو؟“

”تو کیا؟ کسی اور کے لیے اس نے مجھے دھتکارا اور پھر اس کے دھتکارے جانے پر وہ واپس پلٹ کر میری زندگی میں آئے،اس کی اجازت میں اسے ہرگز نہیں دوں گا۔ ویسے بھی میرے دل میں اس کے لیے اب کوئی جگہ نہیں۔“ گاڑی گھر کے گیٹ پر روکتے ہی اس نے گہری سنجیدگی سے اپنی طرف دیکھتی دیا کی جانب دیکھا تھا وہ نظروں کا زاویہ بدل کر گاڑی کا دروازہ کھولنے لگی، اتنے میں اسجل ایک بار پھر سے گویا ہوا تھا۔

”تم معید سے ہمیشہ کے لیے چھٹکارا حاصل کرنا چاہتی ہو؟“ اس کی بات پر وہ وہیں ساکت ہو گئی تھی اور پھر اس کی جانب دیکھتے ہوئے دھیمے سے جواباً بولی۔

”افکورس۔“

”ہوں، صبح تیار رہنا، میں تمہیں پک کر لوں گا، اراﺅنڈ ٹین او کلاک۔“

”کہاں جانا ہے؟“

”لائر کے پاس، تمہاری خلع کے لیے۔“ اب کی بار وہ بنا پلکیں جھپکائے اس کی جانب دیکھتی رہی تھی اور پھر تھوڑی ہی دیر بعد لب بھینچے ہوئے نظریں جھکائے وہ گاڑی سے اُتر کر گھر کے اندرونی حصہ میں داخل ہوئی تھی جبکہ اسجل کافی دیر تک وہیں کھڑا کچھ سوچتا رہا تھااور پھر گاڑی ریورس گیئر میں ڈال کر اس گھر کی حدود سے کوسوں دور چلا گیا تھا۔

ض……..ض……..ض

رشتوں کی بہار انسان کے لیے ایک عجب احساس پیدا کرتی ہے، ہم پر وقت کی عنایات کے دروازے کھلتے ہیں۔ لوگ ہمارے ساتھ شریک ہو کرہماری خوشی میں اضافہ کرتے ہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ ہم دیکھے اور سوچے جا رہے ہیں، ہم محسوس کیے جا رہے ہیں، ہم ایک وسیع اور عظیم زندگی کا لازمی حصہ بن گئے ہیں، ہمارے بغیر زندگی نامکمل تھی، ہمارے آنے سے سب کچھ ہوا، لوگ ہمارا انتظار کر رہے تھے، زندگی ہمارے استقبال میں کھڑی تھی، ہم خود کو نہایت ہی ایک اہم فرد سمجھتے ہیں، ہم نہ ہوتے تو شاید کچھ بھی نہ ہوتا، لیکن…. یہ لیکن ایک اُداس لیکن ہے۔

کچھ ہی عرصہ میں سب کچھ بدلنا شروع ہو جاتا ہے۔ ہم پر برسنے والے پیار کے بادل، بے اعتنائی کی آندھی سے اُڑ جاتے ہیں، محبت کرنے والے محبت کرنے والے نہیں رہتے، ہماری خوشیاں ہمارے غم بننا شروع ہو جاتی ہیں۔ ہمارے، ہمارے نہیں رہتے، ہمارا وجود زندگی میں ہی غیرموجود ہونا شروع ہو جاتا ہے، ہمارے تذکرے زبانوں سے اُتر جاتے ہیں، ہماری محبت ہماری آزمائش بن جاتی ہے۔

رشتے دم توڑ دیتے ہیں، کچھ لوگ ہمیں چھوڑ دیتے ہیں تو کچھ لوگوں کو ہم چھوڑ دیتے ہیں۔ کچھ ہمیں بھول جاتے ہیں اور کچھ کو ہم۔ جن کے بغیر گزارا نہیں ہوتا تھا، ان کے ساتھ گزارا مشکل ہو جاتا ہے۔ رشتوں کی داستان شروع سے چلی آ رہی ہے۔ رشتے پیدا ہوتے ہیں، بنتے ہیں، بنائے جاتے ہیں پھر رشتے ٹوٹتے ہیں اور جزا و سزا مرتب کرت ہیں۔ اس سے پہلے کہ دیا معید کے لیے کوئی سزا مرتب کرتی، اس نے اپنے لیے خود ہی ایک سزا چن لی تھی۔ عدالت جاتے دوران ہی پھرتی سے ایک سپاہی کی گن چھین کر معیدنے خود کو گولی مار کر زندگی سے آزاد کر دیا تھا۔

معید کی موت کی خبر سنتے ہی دیا نے نم بھری نگاہوں سے آسمان کی طرف دیکھا تھا۔ لمبی سانس کھینچتے ہوئے وہ پُرسکون اور رُندھی آواز میں گویا ہوئی تھی۔

”معید چلا گیا، ہمیشہ کے لیے، اب وہ مجھ پر ظلم کرنے کہیں سے نہیں آئے گا، آج سے میں آزاد ہوں۔“ لب بھینچ کر وہ بہتی نگاہوں سے مسکراتے ہوئے سامنے کھڑے اسجل کی جانب دیکھنے لگی تھی، جو اس کے مسکرانے پر دھیمے سے مسکرا دیا تھا۔

ض……..ض……..ض

لمحے منٹوں میں، منٹ گھنٹوں میں، گھنٹے دنوں میں، دن ہفتوں میں اور ہفتے مہینوں میںبدلنے لگے تھے۔ پلک جھپکتے دو مہینے گزر گئے تھے۔ دیا اور اسجل اکثر فون پر اک دوجے کی خیریت معلوم کر لیا کرتے تھے۔ اسجل پچھلے ایک مہینے سے سے آﺅٹ آف کنٹری گیا ہوا تھا، اسی دوران دیا نے جاب کے لیے اپلائی کر دیا۔ جاب کا لیٹر موصول ہوتے ہی اس نے اپنے آفس کے نزدیک ایک اپارٹمنٹ بھی کرائے پر رہنے کے لیے منتخب کر لیا۔ اسجل کے اس پر ڈھیرں احسانات تھے، لیکن اب وہ مزید اسجل پر بوجھ ہرگز نہ بننا چاہتی تھی۔ اس رات زوروں کی آندھی چل رہی تھی، بجلی اور بادل ایک ساتھ گرج کر ماحول میں چھائی خاموشی پر حاوی ہو جاتے۔

اسجل کی گاڑی رات کی تاریکی میں دیا کے گھر کے گیٹ کے باہر آ رُکی تھی۔ اس نے گاڑی سے باہر نکل کر اطلاعی بیل بجائی تھی۔ دو سے تین بار اطلاعی بیل بجانے کے بعد اندر سے دیا کی آواز سنائی دی۔

”کون ہے؟“

”میں ہوں اسجل!“ دیا نے آواز سنتے ہی فوراً آگے بڑھ کر گیٹ کھول دیا تھا، اجازت ملتے ہی وہ دیا کے ہمراہ گھر کے اندرونی حصہ میں داخل ہو گیا تھا۔

”لگتا ہے بارش ہونے والی ہے۔“

”ہوں۔“ اسجل نے اندرونی حصہ میں داخل ہوتے ہی پلٹ کر دیا کی جانب دیکھتے ہوئے کہا تھا وہ مثبت انداز میں سر ہلاتے ہوئے آگے بڑھ کر بولی۔

”آپ واپس کب آئے؟“

”آج ہی، تمہیں کافی کالز کی تھیں، پر تم اٹینڈ نہیں کر رہی تھیں، اسی لیے تم سے ملنے چلا آیا، سب ٹھیک ہے ناں؟“

”جی سب ٹھیک ہے، میں آپ کے لیے چائے لاتی ہوں۔‘

”ہوں، اس سے پہلے ایک پانی کا گلاس، بہت پیاس لگ رہی ہے۔“

”اوکے!“ دیا سر ہلاتے ہوئے کچن کی جانب بڑھی تھی صوفے پر براجمان ہوتے اسجل کی نظر سامنے پیک پڑے کارڈ باکسز اور سوٹ کیسز پر پڑی، وہ حیران کن نگاہوں سے پیک سامان کی جانب دیکھتا ہوااٹھ کر کچن کی جانب بڑھ گیا۔

”دیا! یہ باہر سوٹ کیسز اور باکسز….؟‘ اس سے پہلے کہ وہ اپنا سوال مکمل کرتا، دیا گلاس اس کی جانب بڑھاتے ہوئے گہری سنجیدگی سے گویا ہوئی۔

”میں نے جاب کے لیے اپلائی کیا تھا، پچھلے ہفتے مجھے لیٹر موصول ہوا تو میں نے آفس کے نزدیک ہی کرائے پر ایک اپارٹمنٹ لے لیا، آفس جانے میں آسانی رہے گی۔“

”اوہ۔“ سیٹی بجانے والے اندازمیں وہ اپنے ہونٹوں کو سکیڑے گلاس ہاتھ میں تھامے خاموشی سے واپس لاﺅنج میں چلا آیا۔ اس کے لاﺅنج میںآتے ہی دیا بھی تیزی سے چلتی ہوئی لاﺅنج میں چلی آئی تھی۔

”اسجل!“

”ہوں۔“

”آئی ایم سوری! میں آپ کو پہلے ہی بتانا چاہتی تھی، لیکن….“

”اٹس اوکے دیا! یہ تمہاری لائف ہے ۔ آل اَپ ٹو یُو۔“ اسجل گہری سنجیدگی سے گویا ہوا تھا دیا نظریں جھکا گئی۔ پانی کا گلاس سامنے ٹیبل پر رکھتے ہی اسجل نے اپنے قدم واپس بیرونی دروازے کی جانب بڑھادیئے تھے…. دیا جلدی سے بولی۔

”کہاں جا رہے ہیں؟“

”جب تم مجھے کچھ بھی بتانا ضروری نہیں سمجھتیں تو وائے شڈ آئی ٹیل یو ایوری تھنگ؟“

”آئی سیڈ ایم سوری!“

”سوری بولنے سے کیا ہوتا ہے؟“ وہ ایک بار پھر سے نظریں جھکا گئی تھی اسجل دھیمے انداز میں گویا ہوا۔

”دیا! تمہیں جوکرنا ہے کرو، میرا کوئی حق نہیں کہ میں تم سے کچھ بھی پوچھوں، روکوں یا ٹوکوں، پر…. ایک بار مجھ سے کہہ تو دیتیں، اگر آج میں یہاں نہیں آتا تو، کل تک تم غائب ہو چکی ہوتیں۔“

”نہیں میں آپ کو بتا کر جانے والی تھی۔“ اسجل اس بار براہ راست اس کی آنکھوں میں دیکھنے لگا تھا…. وہ کسی چور کی طرح اپنی آنکھیں چرا گئی۔

”فائن! گڈ لگ۔“ پھر وہ دروازہ کھولتے ہی گھر کے بیرونی حصہ میں چلا آیا۔ دیا ایک بار پھر سے تقریباً دوڑتی ہوئی اس کے پیچھے لپکی تھی۔

”اسجل!“ وہ اس کے سامنے آ کھڑی ہوئی تھی۔

”میں نے کہا ناں سوری۔“

”اوکے!“

”پھر اس طرح ناراض ہو کر کیوں جا رہے ہیں؟“

”تمہیں کیا فرق پڑتا ہے۔“

”فرق پڑتاہے، آپ میرے محسن ہیں اور اپنے محسن کو ناراض کرنے والے سے اللہ بھی ناراض ہو جاتا ہے۔“ کچھ دیر خاموشی سے اس کی جانب دیکھنےکے بعد وہ گہری سنجیدگی سے گویا ہوا تھا۔

”کیوں جارہی ہو یہ گھر چھوڑ کر؟“

”آپ کے پہلے ہی مجھ پر ڈھیروں احسانات ہیں، میں آپ پر مزید بوجھ ہرگز نہیں بننا چاہتی۔“

”کس نے کہا کہ تم مجھ پر بوجھ ہو؟“

”کسی کے کہنے کی ضرورت نہیں، میں جانتی ہوں۔“

”توٹھیک ہے ناں، جاﺅ پھر۔“ خاموشی سے نظریں جھکائے وہ لب بھینچ گئی اسجل نے آگے بڑھ کر اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے دھیمے لہجے میںکہا۔

”ڈونٹ گو، پلیز!“

”میرے پاس اور کوئی آپشن نہیں اسجل! آخر ایسا کب تک چلتا رہے گا؟ آس پاس کے لوگ اور آپ کی فیملی کو یہ بات یقینا ناگوارگزرے گی کہ آپ روز مجھ سے یہاں ملنے آئیں، کل کو لوگ باتیں بنائیں گے، مجھ پر انگلی اٹھائیں گے اور آپ ہی نے تو کہا تھا کہ معید کے اریسٹ ہونے تک میں یہاں رہ سکتی ہوں، اب تو معید کا سایہ بھی مجھ تک نہیں پہنچ سکتا، میں آزاد ہوں، مجھے معید کا ڈربھی نہیں پھر…. پھر اب آپ مجھے کیوں روکنا چاہتے ہیں؟“ وہ بہتی نگاہوں سے اس کی جانب دیکھ کر بولی تھی اسجل کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد گہری سنجیدگی سے گویا ہوا۔

”بی کوز…. آئی لَو یُو۔“ اتنا سننا تھا کہ دیا کے دل کی دھڑکن ایک دم زوروں سے دھڑکنے لگی۔ وہ پھٹی نگاہوں سے اسجل کی جانب دیکھنے لگی تھی، جو سامنے کھڑا اسی کی جانب دیکھتے ہوئے اسی سے مخاطب تھا۔

”اور نہ ہی میں تمہیں اب مزید کسی مشکل میں دیکھنا چاہتا ہوں۔“ آنسو تھے کہ پورے بند توڑ کر بہہ نکلنے کو تیار تھے، مگر وہ بوجھل ہوتی نم نگاہوں میں حیرانگی بھرے سامنے کھڑے اس شخص کو دیکھے چلی جا رہی تھی، کافی دیر خاموش رہ کر اس کے جواب کا انتظار کرنے کے بعدوہ مایوس ہو کر دھیمے انداز میں بولا۔

”آئی ایم سوری!“ اپنا جملہ کہتےہی وہ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا گیٹ کی جانب بڑھ گیا اور پھر اس کے قدم تب تھمے تھے جب دیا کی بھیگی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔

”آئی لَو یُو ٹو۔“ دیا کی آواز پراس نے بجلی کی سی تیزی سے پلٹ کر آنسو بہاتی دیا کی جانب دیکھا تھا، اسے اپنی جانب دیکھتے پا کر وہ ایک بار پھر سے اس کے مقابل آ کھڑا ہوا، آنکھوں میں حیرانگی اور ہونٹوں پر مسکراہٹ سجائے وہ بے یقینی کے عالم میں پوچھنے لگا تھا۔

”رئیلی!“ مثبت انداز میں سر ہلاتی ہوئی وہ اس کی جانب دیکھنے لگی اسجل نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے ایک بار پھر سے پوچھا۔

”سو، وِل یو میری می؟“ اس کے انداز پر وہ آنسو بہاتے ہوئے مسکرا دی تھی، تبھی اسجل نے ایک بار پھر سے اس کے دونوں ہاتھ تھامتے ہوئے خوشی کا اظہار کیا۔

”آئی لَو یو سو مچ، اور میں تم سے وعدہ کرتا ہوں کہ آج کے بعد تمہاری ان خوبصورت آنکھوں میں کبھی آنسو نہیں آنے دوں گا، آئی پرامس۔“ لب بھینچے آنکھوں میں نمی لیے وہ ایک بار پھر سے مسکرائی تھی اسجل اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں کے پوروں سے اس کے گال پر اٹکے آنسو کو صاف کرتے ہوئے دھیمے لہجے سے بولا۔

”اٹ واز لاسٹ ٹائم!“ اور پھراسے اپنی بانہوں کے گھیرے میں لیے وہ گھر کے اندرونی حصہ میں داخل ہو گیا تھا۔ رات کی گہری تاریکی کے بعد ان دونوںکی زندگی نئے سویرے میں ڈھلنے جا رہی تھی، جہاں صبح کا اُجالا اور زندگی کی تمام خوشیاں بانہیں پھیلائے ان کا استقبال کرنے کو تیار تھیں، اندھیرے، مشکلیں اور غم دور کہیں بہت دور چھوٹ گئے تھے۔

ض……..ض……..ض

The end

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خون ریز امجد جاوید قسط نمبر9

خون ریز امجد جاوید قسط نمبر9 ” میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ انہوں نے کوئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے