سر ورق / Uncategorized / خانقاہ قسط نمبر 3 کاوش صدیقی

خانقاہ قسط نمبر 3 کاوش صدیقی

خانقاہ

قسط نمبر 3

کاوش صدیقی

” مجھے اچھا لگا کہ میرا بیٹا اپنی ذمہ داری سمجھتا ہے۔ جو دوسروں کو آسانی دیتے ہیںاللہ انہیں آسانی دیتا ہے۔محبت کو برداشت کر نا ہی اصل مردانگی ہے۔یہ بہت بوجھ ہوتی ہے، بہت وزنی۔۔۔!“

                اماں کی انگلیوں کا لمس ،لہجے کا رس،انداز کے گدازسے پتا نہیںکیوں میرے اندر اتھل پتھل مچ گئی اور اندر کا سارا غبار باہر نکلنے لگا۔

                یہ مائیں خدا کی طرح اندر تک اُتری ہوئی ہوتی ہیں۔سب کچھ جانتی ہیں۔مگر چپ رہتی ہیں۔آہستگی سے زندگی میں حصہ بنی رہتی ہیںاور طاقت دیتی رہتی ہیں،آگے بڑھنے کی، حالات کو فتح کرنے کی ،مسلسل مہمیز دیتی رہتی ہیں۔

٭٭٭

                ”زندگی مسلسل آگے بڑھنے کا نام ہے۔! “وہ کہہ رہے تھے۔

                مریدین ،عقیدت مند، نہایت احترام سے ان کے ارشادات سے مستفید ہو رہے تھے۔

                ”بعض اوقات ہمیں احساس ہوتا ہے کہ شائد ہم بے تکی زندگی گزار رہے ہیں ۔صبح شام کچھ نہیں ہو رہا۔،سب کچھ ضائع ہو رہا ہے۔،مگر یہی بظاہرزیاں بہت کار آمد ہوتا ہے۔ یاد رکھیئے۔ اللہ تعالیٰ کا کوئی کام مصلحت سے خالی نہیں ہوتا۔ہمیں اپنی بہت سی صلاحیتوں کا علم نہیں ہوتا۔اوٹ پٹانگ زندگی ، گزرا وقت، کسی حادثے کے باعث ،کارآمد ہو جاتا ہے۔اس کی پوشیدہ صلاحیتیں منظر عام پر آجاتی ہیں۔

                اگر آپ غور کریں تو آدمی تین قسم کے ہوتے ہیں۔ایک وہ جو بڑے عروج والے ،بڑے نام والے ہوتے ہیں۔مگر انڈے کی طرح حادثے کی ضرب سے ٹوٹتے ہی بہہ جاتے ہیںاور خالی خول رہ جاتا ہے ۔ دوسرے وہ جو بہت لش پش ہوتے ہیں۔معتبری کاجھنڈا ،نسب کا حصار انہیںبلند تر کرتا رہتا ہے ،مگر پیاز کے چھلکے کی مانند جب ان پر اُفتاد آپڑتی ہے تو پرت اُترتے ،اُترتے کچھ نہیں بچتا،بے روح، بے فکر کھوکھلا۔ ماجرا سامنے آتا ہے اورہاتھ میں صرف بُو رہ جاتی ہے ۔تیسرے وہ ہوتے ہیں جوسیپ کی طرح ،صدف کی طرح، پانیوں میںلہروں سے لڑتے بھڑتے رہتے ہیں،اور سخت سیپ کا خول توڑ کر دیکھو تو اندر سے نہایت آب دار موتی نکلتا ہے۔ بھر پور ۔روح کے ساتھ۔ ہتھیلی پر رکھو ،تو ہتھیلی سج جاتی ہے۔

                اوردوستو ۔! آدمی توتیسری ہی قسم کے ہوتے ہیں ۔سچے ، مہنگے، مگر انہیں ڈھونڈنا پڑتا ہے۔“وہ گہری سانس لیکر خاموش ہو گئے ۔

                ”سبحان اللہ۔۔۔واہ ۔۔۔واہ۔۔۔حضور نے کمال کر دیا ۔ سرکار کی مثالیں ،سبحان اللہ۔۔۔“مریدوں کے جملے، نعرئہ ہائے تحسین، عقیدت بے ساختہ باہر آرہی تھی۔

                مجھے پہلی بار احساس ہوا قادری سرکار دوسروں سے بہت مختلف ہیں۔ ان کے اندر کچھ تھا۔۔۔لیکن مجھے ادراک نہیںہو رہا تھا۔ مجھے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ میں وہاں کیوں آتا تھا؟

                میں انہیں محویت سے دیکھنے لگا۔

                دفعتاً ان کی نگاہیں میری طرف مرتکز ہو گئیں۔پھر جیسے سناٹا سا طاری ہو گیا۔

                اچانک شور ہونے لگا۔ ہٹوبچو کی آوازوں نے ماحول بدل دیا۔ میں نے چونک کر دیکھا ۔پولیس کمانڈوز خانقاہ کے بیرونی دروازے کو گھیر رہے تھے۔

٭٭٭

                دیکھتے ہی دیکھتے تیس چالیس کمانڈوزنے صحن کو بھر دیاان میں سے کسی نے درشت لہجے میںعقیدت مندوں اور مریدین کو پیچھے ہو جانے کا اشارہ کیا۔ کچھ مصلحت پسند عقیدت مندوں نے باہر کا رُخ کر لیا۔جبکہ اکثریت نے دیواروں سے چپک کر وہیں رہنے کو ترجیح دی ،بعض مریدوں نے احتجاج شروع کر دیا ۔مگر قادری سرکار نے اشارے سے چپ رہنے کا حکم دیا،سرگوشیاں ،آوازیں یک لخت اس طرح تھم گئیںکہ جیسے کسی نے اچانک پر شور ڈیک کا والیم آف کر دیاہو۔ہر طرف سناٹا چھا گیا۔

                چند ہی لمحوں میں ایک سروقد آدمی دو گھوڑے بوسکی کا کرتا،کڑ کڑاتاہوا گھیردار شلوار، سیاہ واسکٹ زیب تن کئے ہوئے مرکزی دروازے سے اندر داخل ہوا۔

                اس پر نظر پڑتے ہی کئی آوازیںتحیر آمیز لہجوں کے ساتھ بلند ہونے لگیں” ارے یہ۔۔۔ یہ تو شاہ صاحب ہیں!یہ کیسے آگئے؟ ان کا یہاں کیا کام۔۔۔؟؟“

                شاہ ہارون گیلانی بہت اہم منسٹری کے وزیر تھے۔ مرکزی حکومت میں ان کے خاندان کے کئی نامور لوگ شامل تھے ۔ ان کی سیاسی وسعت کا یہ عالم تھا کہ لوگ یہ معلوم نہیں کر پاتے تھے کہ یہ اپوزیشن میں زیادہ ہیں یا حکومت میں ۔۔۔بڑے ٹھسے کے وزیر تھے۔ان کے جلال کے قصے زباں زدو عام تھے۔

                شاہ ہارون گیلانی لمبے لمبے ڈگ بھرتے ہوئے قادری سرکار کے آگے جا ٹہرے۔

                قادری سرکار ایک نرم سجل مسکراہٹ کے ساتھ انہیں دیکھتے رہے ،چند لمحے دونوںدیکھتے رہے ایک دوسرے کی آنکھوںمیں، پھر میں نے دیکھاکہ قادری سرکار کے سامنے شاہ ہارون گیلانی کی نگاہیں جھک گئیں۔

                ” کیسے ہیں آپ سرکار۔!“ شاہ ہارون گیلانی نے مصافحے کے لئے ہاتھ بڑھاتے ہوئے پوچھا۔

                ”الحمد للہ۔!“ قادری سرکار نے مسکرا کے کہا۔” تشریف رکھئے۔۔۔!“ انہوں نے سامنے پڑے ہوئے مونڈہے کی جانب اشارہ کیا ، جو ان کے ایک نا دیدہ اشارے پر کسی مرید نے بڑی پھرتی سے لا کر یہاں رکھ دیاتھا۔

                ”کچھ گفت دشنید کے لئے حاضر ہو اتھا۔!“ شاہ ہارون گیلانی نے کہا اور اپنے ارد گرد دیکھا۔

                ” ہماری تو صرف شنید ہو گی !“ قادری سرکار نے معنی خیز لہجے میں کہا۔

                ” یہ کیا کہ رہے ہیں سرکار۔!“ دفعتاً جیسے شاہ ہارون گیلانی کے کر و فر کا ملمح اُتر گیا۔رعونت کاچھلکا تڑخ گیااور اندر سے غرض بہنے لگی۔

                 ” میں تو صرف دعا کے لئے حاضر ہوا ہوں۔“شاہ ہارون گیلانی نے کہا۔ ”علاقے میں ضمنی الیکشن ہو رہے ہیں۔ہمارے مخالف بھی آہستہ آہستہ طاقت پکڑ رہے ہیں۔لوگ ان کے ساتھ ہو رہے ہیں۔!“شاہ ہارون گیلانی نے بڑے تحمل سے درخواست گذاری ،مگر اس کے اندازسے یوں لگ رہا تھا کہ جیسے وہ ان لوگوں کوانسان نہیں بلی ،کتے سمجھ رہا تھا۔جو اس کی راہ میں آ کرراہ کھوٹی کر رہے تھے۔

                ” وہ طاقت نہیں پکڑ رہے۔“ قادری سرکار نے بڑی رسانیت سے کہا۔”وہ خلا کو بھر رہے ہیں جو تم لوگوں کی حماقت اور ناعاقبت اندیشی سے پیدا ہو رہا ہے۔“

                ” کیا مطلب سرکار میں سمجھا نہیں۔ !“ شاہ ہارون گیلانی نے بے اختیار کہا۔

                ” تم لوگوں سے صرف ووٹ کا، غرض کا، رشتہ رکھتے ہو۔ان کی پیداوار ،ان کی صلاحیتیں ،سب رہن رکھ لیتے ہو،مگر ان کے حقوق ، ان کے حالات پر توجہ نہیں دیتے۔یاد رکھو! معاشرے کے کچلے ہوئے، پسے ہوئے لوگ اگر اکھٹا ہو جائیں، تو پھر انقلاب کو کوئی نہیں روک سکتا۔

                ”سرکار یہ تو کتابی باتیںہیں۔“شاہ ہارون گیلانی نے کہا اور دھیمے سے ہنسا۔اس کی ہنسی میں رعونت اور صدیوں کا طمطراق تھا۔

                ”یہ کتابی باتیں نہیں حقائق ہیں۔ ذرا سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ والٰہ وسلم کی دعوت پر غور کرو، واحدانیت اور مساوات پر سب سے پہلے ایمان لانے والے ، دعوت پر لبیک کہنے والے امراءتھے یاعام ،مزدور، غلام۔“ قادری سرکار نے بہت ٹہرے ہوئے لہجے میں کہا۔” ایک طرف تم ضمنی الیکشن میں جیتنا چاہتے ہو،دعا کے لئے آئے ہو۔دوسری طرف تمہارے گماشتے لڑکیوں کو اٹھا لیتے ہیں۔ اجتماعی آبروریزی کرتے ہیں۔بد ترین ظلم کرتے ہیں۔بارہ سالہ طالب علم کو خدمت نہ کرنے پر شکاری کتوں سے نچواتے ہیں۔دوڑاتے ہیں اور ان کی چیخیں یہاں ،ہمارے کانوں میں گونجتی ہیں۔!“ قادری سرکار کا لہجہ بر ہم ہونے لگا۔

                ”پرسوں جس لڑکی کی تمہارے منیجر طارق نے اپنے تین ساتھیوں کے ساتھ اجتماعی آبرو ریزی کی ،جانتے ہو وہ کون تھی۔۔۔؟“

                شاہ ہارون گیلانی کا منہ حیرت کی شدت سے کھل گیا۔چہرے پر پسینے کے قطرے رونما ہو گئے۔سوالیہ نگاہیں قادری سرکار کے ہونٹوں پر تھم گئیں۔

                ” وہ بچی ہمارے مرید کی نہیں ،ہماری بیٹی تھی ۔ ہماری بیٹی ہے۔!“

                ایک لمحے کےلئے تو مجھے لگا کہ جیسے حیرت ،صدمے اور خوف سے شاہ ہارون گیلانی کا ہارٹ فیل ہوجائے گا۔

                ” جب تک پیر، اپنے مریدوں کو ،اپنی اولاد ، اپنی آل، اپنا کنبہ نہیں سمجھتے وہ پیر نہیں بن سکتے۔ تم کیا خدمت کرو گے ہماری؟۔ تم ایک باپ کے آگے اس کی بیٹی کی آبرو ریزی کے مقدمے میں مجرم بن کر آئے ہو۔ شاہ ہارون گیلانی۔ !“ قادری سرکار کے لہجے میں نجانے کیا تھاکہ شاہ ہارون گیلانی ہی نہیں ،ہم سب کانپ گئے۔ میرے لئے نرم دل ، شفیق، مہربان نگاہوں والے، میٹھی سجل مسکراہٹ لئے قادری سرکار کا یہ روپ اتنا انوکھا،اتنا نیا تھا کہ شائد مجھے حیرت بھی نہیں ہو رہی تھی۔

                ”سرکار۔! “شاہ ہارون گیلانی آہستگی سے بولا۔

                قادری سرکار چپ رہے۔

                ”سرکار۔“ شاہ ہارون گیلانی اٹھ کر ان کے قدموں میں بیٹھ گیا۔” مجھے معاف کر دیجئے۔!“

                ”حجاج بن یوسف نے صرف سند ھ سے ایک بیٹی کی پکار پر لشکر اسلام کو بھیج دیا تھا۔“قادری سرکار کا لہجہ انتہائی پر تاسف تھا ”اور اس آج اس مملکت ِاسلامیہ کے کونے،کونے سے بیٹیوں کی، مظلوموں کی ،چیخیں بلند ہو رہی ہیں اور تم لوگ خدا کے عذاب سے بے خبر ہو۔جو بہت جلد سب کو اپنی گرفت میں لینے والا ہے۔ اللہ سریع الحساب!۔“

                شاہ ہارون گیلانی اٹھا۔ سر کے اشارے سے اجازت طلب کی اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا باہر نکل گیا۔

                قادری سرکار نے گاﺅ تکیے سے ٹیک لگا کرآنکھیں موندھ لیں۔

                مجھے یوں لگا کہ جیسے وہ بہت تھک گئے ہوں۔ اچانک دو آنسو ،ان کی آنکھوں کے گوشوں سے نکلے اور نیچے ڈھلک گئے۔میری سمجھ میں نہیں آیا کہ اس لمحے وہ کس وجہ سے آبدیدہ ہوئے ہیں۔ مظلوم کی کراہ سے، حاکموں کی مجرمانہ لاپرواہی سے یا اس عذاب کے خوف سے جو معاشرے میں انصاف اور مساوات نہ ہونے کے باعث ہمیں گرفت میں لینے والا ہے۔

٭٭٭

                ”میں تم سے ملنا چاہتی ہوں۔ !“انجان نمبر سے آواز آئی۔ نمبر اجنبی تھا، مگر بولنے والی میری تنہایﺅں کی رفیق، میرے خوابوں کی رانی، میرے خیالوں کی بنت تھی۔جس کے ریشمی تصور سے دل و دماغ تقویت پاتے تھے۔

                روحی کی آواز ،میںلاکھوں آوازوں کے شور میں شناخت کر سکتا تھا۔

                ”کیوں۔؟“مجھے اپنی ہی آواز اجنبی لگی اور میری نظر دیوار گیر ریڈیم ڈائل والی گھڑی پر پڑی۔ رات کے ڈھائی بج رہے تھے۔

                ”تمہارا شکریہ ادا کرنا تھا۔“وہ دھیمے سے بولی۔

                ”شکریئے کی ضرورت نہیں ۔“میں نے کہامجھے اس لمحے خود اپنی آواز ، اپنا لہجہ، اپنا تاثر پرایا لگا۔

                ”تم نے میری ازدواجی زندگی تباہ ہونے سے بچا کرمجھے دوبارہ زندگی دی ہے۔!“ اس کی آواز گیلی ہو گئی آنسوﺅں نے اس کا حلق بھر دیاتھا۔

                جس کا گلو گیر ہونا بھی مجھے برداشت نہ تھا۔ اب رو رہی تھی اورمجھے سارے جذبے پرائے پرائے سے لگ رہے تھے۔

                ”میں تم سے ملنا نہیں چاہتا۔۔۔!“میں نے سکون سے کہا اور اس کا جواب سنے بغیر سوئچ آف کر دیا۔

                پتا نہیں کیوں میری نیند اڑ گئی تھی۔کچھ عجیب سی بے چینی مجھ پر طاری ہونے لگی تھی۔

                ” کیا یہ روحی کے بچھڑنے کی کسک ہے۔؟“ میں نے اپنے آپ سے پوچھا”کیا اس کی یاد ، اس کی آرزو ابھی بھی میرے اندر موجود ہے۔؟ “سوال در سوال اٹھ رہے تھے۔

                میں نے روحی کو تصور کی نگاہوں سے دیکھااور چونک گیا۔آج روحی کا تصور لمحے کے ہزارویںحصے کی طرح روشن نہیںتھا۔وہ جو آنکھیں بند کرتے ہی ،تنہا ہوتے ہی، میرے وجود پر ریشم کی طرح پھیل جاتی تھی۔

                وہ ریشمی روحی آج نہیں تھی ۔”آج کیوںمیرے دل میں اس کی شدت نہیں ؟“میں نے اپنے آپ سے پوچھا ۔اور روحی کے سراپے کو اجالنے کی کوشش کی۔

                مگر یہ کوشش بھی سعیءلاحا صل رہی۔

                میں نے شعوری طور پردوبارہ کوشش کی،روحی کی ستواں ناک،غزالی آنکھیں ،دراز خم دار پلکیں،صبیح رخساروں، نازک صراحی دار گردن ،رس سے بھرے گلابی ترشے لبوں کا، سرو قامتی،میدے اور گلاب سے گندہی رنگت کا ،لمبے ،اخروٹی بالوں کا ، مگر سوائے دھندلے سے خاکے کے کچھ نہ بنا۔

                ”یہ کیا ہوا۔؟“ دفعتاً مجھے یوں لگا جیسے میں اندر سے خالی ہو گیا ہوں۔مگر اس خالی پن کا احساس دکھ سے عاری تھا۔

                پھر اچانک جیسے روحی کا ہیولیٰ روشن ہونے لگا۔اس کے چہرے کا خدو خال واضح ہونے لگے۔

                ”تم آگئیں۔!“ میں نے گہری سانس بھر کے کہا۔

                ”ہاں میں آگئی۔“

                ” ہاںہم آگئے۔ !“ اچانک جیسے دو آوازیںایک جیسی ٹیون سے جنم لینے لگیں۔

                میں نے دیکھا ، روحی کا روشن ہیولیٰ ،قادری سرکار کے روشن ہیولے میں مدِ غم ہورہا تھااور چند ہی لمحوں میں قادری سرکار کا ہیولیٰ اپنی پوری تابانی سے روشن ہو گیا۔

                ” روحی کہاں گئی۔!“ بے ساختہ میرے منہ سے نکلا۔

                ” خود ہی تو دست بردار ہوئے ہو،تسلیم و رضا کا پیکر بن کر۔!“ وہ بولے۔

                ” میں کب دست بردار ہوا۔؟“

                ”جب اس کی ازدواجی زندگی بچانے کے لئے کتاب لکھی۔ اس کے بچوں کا احساس کیا۔ دوری کو تسلیم کیا ،تو پھر ترک کی منزل میں داخل ہو گئے!۔“

                ” ترک کی منزل۔!“ میری حیرت دیدنی تھی۔” یہ کیا ہوتی ہے۔؟“

                (جاری ہے)

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

ہم کہ ٹھہرے اجنبی…عاصمہ نورین

ہم کہ ٹھہرے اجنبی عاصمہ نورین "تم مجھے بہت اچھے لگنے لگ گئے ہو ہاں …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے