سر ورق / ناول / شہر دل کے باسی نفیسہ سعید قسط نمبر 1

شہر دل کے باسی نفیسہ سعید قسط نمبر 1

حویلی کی گہما گہمی اپنے عروج پر تھی۔ دالان میں بچھی دریوں پرلڑکیاں، بالیاں جمع ہو کر زور و شور سے ڈھولک بجا رہی تھی۔ وقفہ وقفہ سے ان کی ہنسی کی آواز کو بجتی تالیوں کے ساتھ مل کر ایک عجیب سا سماں باندھ دیتی۔

بڑی اماں اپنے جھولے میں بیٹھی یہ سب بڑی دلچسپی اور اشتیاق سے دیکھنے کے ساتھ ساتھ اپنی بڑی نند ثریا بیگم سے بھی محو گفتگو تھی جبکہ پھوپھو الماس اپنی ہم عمر خواتین کے ساتھ دالان کے درمیان میں بچھی دری پر بیٹھی بری کے جوڑے ٹانکنے اور سنبھالنے میں دل و جان سے مگن تھی، آمنہ اور چچی زہرہ کچن میں پکتے مختلف پکوانوں کی نگرانی کرنے میں مصروف تھیں۔ میٹھے چاول اور پلا مچھلی کی سوندھی خوشبو پورے دالان میں پھیلی ہوئی تھی۔ ایسے میں کبھی کبھی مردانے سے آنے والے تیز گانوں اور سیٹیوں کی آواز سب کی توجہ کچھ دیر کیلئے ہی سہی اپنی طرف مبذول ضرور کروا لیتی، لیکن جلد ہی خواتین ان کی آوازوں کو نظر انداز کرکے اپنی اپنی خوش گپیوں میں مشغول ہو جاتیں۔

حویلی کی یہ رونق ابراہیم مگسی کے بڑے بیٹے اور جانشین علی شیر کی بدولت تھی جس کی آج رسم مہندی تھی۔ علی شیر نہ صرف ابراہیم مگسی کا بے حد لاڈلا بیٹا تھا، بلکہ اس حویلی میں منعقد ہونے والی یہ پہلی شادی کی تقریب تھی۔ اس لئے خاندان کا ہر فرد بے حد خوش تھا اور سب ہی اپنی اس خوشی کا اظہار بڑھ چڑھ کر رہے تھے۔ یہی وجہ تھی کہ تقریباً ہفتہ بھر سے ہی دور پار کے تمام رشتہ دار حویلی میں جمع تھے اور خوب رونق لگی ہوئی تھی، لیکن جانے کیوں خوش نما کا دھیان مردانے سے آنے والی ناچ گانے کی آوازوں میں ہی لگا ہوا تھا، اس سے رہا نہ گیا اور اس نے سورٹھ کا بازو کھینچ کر اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔

”سورٹھ….!“ خوشی نے دھیمے سے پکارا، گانا گاتی سورٹھ نے رک کر اس کی جانب دیکھا۔

”کیا بات ہے؟“ بات کرتے ہوئے بھی سورٹھ نے تیزی سے تالیاں بجانے کا عمل بھی جاری رکھا۔

”آﺅ تھوڑی دی کیلئے اوپر چھت پر چلیں۔“

”کیوں؟“ سورٹھ کے تالیاں بجاتے ہاتھ پل بھر کو تھمے اور اس نے حیرت سے دریافت کیا۔

”دیکھ کر آتے ہیں، مردانے میں کیا ہو رہا ہے۔“

”لو اس میں دیکھنے کیلئے چھت پر جانے کی کیا ضرورت ہے، سب کو پتا ہے کہ وہاں ناچنے والیاں آئی ہوئی ہیں اور ویسے بھی چھت سے دوسری طرف نہیں دیکھا جا سکتا۔“ سورٹھ نے بے پروائی سے جواب دے کر گانے میں شامل ہونے کی کوشش کی۔

”تمہیں نہیں آنا تو بے شک مت آﺅ، لیکن میں تو چھت پر جا رہی ہوں۔“ خوشی کہہ کر باہر کی جانب چل دی۔ اسے یقین تھا کہ سورٹھ اس کے پیچھے ضرور آئے گی اور ایسا ہی ہوا، ابھی وہ دالان کے دروازے تک ہی پہنچی تھی کہ سورٹھ آگئی۔

”رک جاﺅ خوشی! میں بھی چل رہی ہوں۔“ وہ خفگی سے کہتے ہوئے چل دی۔

”لیکن ایک بات بتا دوں، تمہارا چھت پر جانا بالکل بے کار ہے، کیونکہ چھت کی اونچی اونچی دیواروں سے حویلی کے اس پار دیکھنا نہ صرف مشکل بلکہ ناممکن ہے۔“ خوشی نے کوئی جواب نہ دیا۔ صرف کندھے اچکاتے ہوئے آگے کی جانب بڑھ گئی، سیڑھیوں پر مکمل تاریکی کا راج تھا۔ دونوں نہایت خاموشی سے سیڑھیاں طے کر کے اوپر کھلی چھت پر آگئیں، جہاں موجود بڑی بڑی دیو ہیکل دیواروں نے خوشی کو یکدم ہی مایوسی سے دوچار کر دیا۔ اس سے قبل اتنے سالوں میں اس نے کبھی ان دیواروں کی بلندی کو جانچا ہی نہ تھا۔ آج غور کیا تو اندازہ ہوا کہ حقیقت میں اس بلندی سے اس پار دیکھنا تقریباً ناممکن ہے۔

”خوامخواہ اتنی خواری کی، بھلا ان دیواروں سے اس پار بھی کچھ دیکھا جا سکتا ہے۔ چلو آﺅ واپس چلیں۔“

سورٹھ سیڑھیوں کی جانب واپس چل دی، کھلی چھت پر ناچ گانے کی آواز کے ساتھ ساتھ گھنگھروﺅں کی جھنکار اور تالیوں کا شور بھی کافی تیز سنائی دے رہے تھے، ایسے میں جب کوئی من چلا فائرنگ شروع کرتا تو شور کی آواز مزید بڑھ جاتی، خوشی کچھ دیر تو کھڑی دیکھتی رہی، لیکن جب دیکھا کہ کامیابی مشکل ہے تو نیچے جاتی سورٹھ کے پیچھے بھاگی اور آوازدی۔

”رک جاﺅ، میں بھی آرہی ہوں۔“ ابھی وہ دو ہی سیڑھیاں اتری ہوں گی کہ اچانک تیز گانوں کی آواز بند ہو گئی اور ساتھ ہی فائرنگ کی تیز آواز سے پوری چھت دہل گئی۔

”یہ کیا ہوا؟“ یکدم ہی خوشی نے گھبرا کر سورٹھ کا ہاتھ تھام لیا۔

”کچھ نہیں ہوا، کسی ناچنے والی کے پیچھے کوئی جھگڑا ہو گیا ہو گا۔ یہ تو حویلی والوں کا عام معمول ہے، تم چھوڑو، آﺅ نیچے چلیں۔“ سورٹھ اس کا ہاتھ تھام کر تیزی سے سیڑھیاں اتر گئی، لیکن جیسے ہی وہ دنوں بڑا سا صحن عبور کرکے دالان کے قریب پہنچیں اندرسے آنے والی تیز آوازیں سن کر وہیں تھم گئیں۔

QQQQ

”بند کرو، سب شور شرابا۔“ اچانک ہی ابراہیم مگسی، ان کے بھائی یاور مگسی اور علی شیر کے ساتھ چند اور مرد جن میں خوشی کا ماموں اور بڑے تایا کا بیٹا علی مگسی بھی شامل تھے۔ اندر داخل ہوئے، ان کی غصیلی آواز سنتے ہی لڑکیوں نے گھبرا کر ڈھولک تھاپ روک دی اور ایک دم اٹھ کھڑی ہوئیں۔

”اندر جاﺅ تم سب۔“ خوشی کے ماموں اللہ بخش نے لڑکیوں کی جانب دیکھ کر حکم دیا اور صرف ایک لمحہ لگا، سارا دالان لڑکیوں سے خالی ہو گیا، اب وہاں صرف چند خواتین کے سوا کوئی نہ تھا۔ لگتا ہی نہ تھا کہ چند لمحے قبل یہاں زندگی جاگ رہی تھی۔ پورے دالان پر موت کا سا سناٹا طاری تھا۔

”ابراہیم پتر! کیا بات ہے، خیریت تو ہے؟“ اماں بی نے انجانے اندیشوں میں گھرتے ہوئے سوال کیا، کیونکہ وہ جانتی تھیں کہ ایسے وقت میں جب تمام عورتیں حویلی میں اکٹھی ہوں، مرد کبھی بھی بنا اطلاع کئے اس طرف نہ آتے تھے اور آج ایک ساتھ اتنے مردوں کا زنان خانہ میں داخلہ کسی انہونی کی نشان دہی کر رہا تھا۔

”خوشی کہاں ہے؟“ ابراہیم مگسی نے ایک نظر اپنی ماں پر ڈالی اور پھر دالان کے داخلی دروازے کے قریب کھڑی آمنہ سے سوال کیا۔ قبرستان کے اس سناٹے میں ابھرنے والی ابراہیم کی آواز نے آمنہ کے دل کو اندر تک چیر کر رکھ دیا۔

”الٰہی خیر کرنا۔ میری معصوم بچی کی حفاظت کرنا۔“ آمنہ نے لرزتے دل سے بے ساختہ دعا کی، کیونکہ وہ جان چکی تھی کہ خوشی سے کوئی خطا سرزد ہو گئی ہے اور اپنا نام سنتے ہی دروازے کے باہر کھڑی خوشی اور سورٹھ وہیں منجمد ہو گئیں۔

”کیوں خیر تو ہے ابراہیم؟ کیا، کیا ہے خوشی نے، تم لوگ بتاتے کیوں نہیں ہو؟“

اماں بی نے ایک نظر گم صم کھڑی آمنہ پر ڈالی اور اپنے بھاری بھر کم وجود کو سنبھال کر بمشکل جھولے سے اٹھ کھڑی ہونے کی کوشش کی، قریب کھڑی وسائی نے تیزی سے آگے بڑھ کر انہیں اٹھنے میں مدد دینا چاہی کہ اچانک ہی علی شیر کی نظر اس پر پڑ گئی اور وہ غصہ سے دھاڑا۔

”تو یہاں کیوں کھڑی ہے؟ سنا نہیں تھا کہ سب لڑکیاں اندر جائیں۔“

وسائی جو شاید بڑی اماں کو پانی دینے کیلئے آئی تھی، علی شیر کی گرج دار آواز سنتے ہی کانپ اٹھی اور اس کے ہاتھ سے پانی کا گلاس کر گیا۔ پتیل کے گلاس کے فرش سے ٹکرانے کی آواز آمنہ کے خوابیدہ اعصاب پر ہتھوڑا بن کر برسی۔ وسائی خوفزدہ ہو کر اندر کی جانب بھاگی، بڑی اماں کانپتے جسم کے ساتھ اپنے بیٹے ابراہیم مگسی کے سامنے آکھڑی ہوئیں۔

”بتاتا کیوں نہیں ابراہیم! کیا، کیا ہے خوشی نے؟“

”اماں سائیں! خوشی کہاں ہے؟ اسے یہاں بلاﺅ۔“ ابراہیم کے چہرے پر پتھروں جیسی سختی تھی۔

”پتا نہیں ابھی تو یہیں تھی۔ اندر ہی ہو گی۔“ کسی انجانے اندیشے سے کانپتے دل کے ساتھ بمشکل آمنہ کے منہ سے نکلا اور اس نے دیوار کا سہارا لے لیا۔

اور باہر کھڑی خوشی کو یقین ہو گیا کہ روز حشر آچکا ہے اور اب بنا حساب کتاب دیئے اس کی گلو خلاصی ناممکن ہے، اس نے ایک نظر سورٹھ پر ڈالی جو دیوار سے ہی لگی تھر تھر کانپ رہی تھی اور آہستہ آہستہ چلتی دالان کے دروازے سے اندر داخل ہوئی، لیکن اپنے سامنے کھڑے افراد کے تیور دیکھ کر اس کے قدموں نے مزید آگے بڑھنے سے انکار کر دیا۔

”وہ رہی خوشی؟“ اس پر نظر پڑتے ہی پھوپھی الماس تیزی سے آگے بڑھیں اور اسے بازو سے تھام کر اپنے بھائی کے سامنے لاکھڑا کیا، ابراہیم مگسی کا کانپتا وجود ان کے غیض و غضب کو ظاہر کر رہا تھا۔ وہ خاموشی سے لب بھینچے اسے تکتے رہے۔

”جنید عباسی کو جانتی ہو؟“

علی شیر نے خوشی کے جھکے ہوئے سر پر ایک قہر آلود نظر ڈالتے ہوئے سوال کیا جبکہ اس سوال نے کمرے میں موجود تمام خواتین کے جسموں سے گویا جان ہی نکال دی، خوشی کیلئے اب کسی بھی بات سے انکار کرنا ناممکن تھا۔

”ہاں!“ اس کے کپکپاتے لبوں سے ہاں کا لفظ سنتے ہی علی شیر نے ایک زور دار تھپڑ اس کے منہ پر دے مارا، خوشی منہ کے بل فرش پر جا گری۔ اس کے ہونٹ کے کنارے سے خون کی باریک لکیر نکلی، خون کا ذائقہ اس کا حلق کو ترکرگیا۔

”دیکھا بابا سائیں! اس بے غیرت کو، یہ صلہ دیا ہے اس نے ہمارے لاڈ پیار کا، آج پوری برادری کے سامنے ہمیں منہ دکھانے کے قابل نہیں چھوڑا۔“

علی شیر نے اسے بالوں سے پکڑ کر زمین سے اٹھایا اور سیدھا کھڑا کرتے ہوئے بولا۔

اب کسی عورت میں اتنی جرا ¿ت نہ تھی کہ آگے بڑھ کر خوشی کو اس ظالم کے قہر سے بچانے کی کوشش کرتیں۔ سب کی سب اپنی جگہ پتھر کے مجسمے بن کر رہ گئیں۔

”بس بابا سائیں! اب کسی سوال و جواب کی ضرورت نہیں ہے، اسے مار کر اسی حویلی میں گاڑ دو تاکہ سب کو عبرت حاصل ہو کہ بے غیرتی اور بے شرمی کا انجام کیا ہوتا ہے۔“ کافی دیر سے خاموش تماشائی کی مانند کھڑا فلک شیر آگے بڑھا اور اپنے باپ سے مخاطب ہوتے ہوئے نفرت بھری نگاہ بہن پر ڈالی جبکہ علی شیر کے ہاتھوں کی گرفت اس کے بالوں پر مزید سخت ہو گئی۔ تکلیف کی شدت سے اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے، اس کا دوپتہ زمین پر گر گیا۔ وہ آج زندگی میں پہلی بار اپنے خاندان کے اتنے مردوں کے سامنے ننگے سر کھڑی تھی، جس کا احساس وہاں کسی کو نہ تھا۔

”خدا کےلئے کچھ ہمیں بھی تو پتا لگے کہ ہوا کیا ہے؟“

بالآخر بڑی اماں اپنی برداشت کھو بیٹھیں اور آگے بڑھ کر اپنے بیٹے کو جھنجھوڑ ڈالا۔

”یہ دیکھیں یہ کیا ہے؟“ ابراہیم نے جواب دینے کے بجائے اپنے ہاتھ میں پکڑا کاغذ بڑی اماں کے سامنے کردیا۔

”یہ نکاح نامہ ہے آپ کی اس لاڈلی پوتی کا۔“

یاور مگسی کے الفاظ تھے یا کوئی بم، آمنہ کو ایسا محسوس ہوا، جیسے زلزلہ آگیا ہو، پورے حویلی کے درو دیوار لفظ نکاح نامہ سے لرز اٹھے۔

”ہائے میرے اللہ سائیں!“ بڑی اماں دہل اٹھیں ”یہ کیا کہہ رہے ہو تم۔“ وہ اپنے سینے پر ہاتھ رکھے رکھے زمین پر بیٹھ گئیں۔ ان کی ٹانگوں سے جان نکل گئی، ان کا پورا جسم کپکپا اٹھا۔

”سچ کہہ رہا ہوں، ابھی باہر جنید عباسی اپنے باپ، بھائیوں کے ساتھ آیا تھا، ان کا مطالبہ تھا کہ خوشی کو ان کے حوالے کیا جائے، پولیس اور مجسٹریٹ بھی ان کے ہمراہ تھے۔ وہ علی شیر کے ساتھ ساتھ خوشی کی بھی رخصتی چاہتے تھے۔“

ابراہیم نے پھنکارتی ہوئی آواز میں ساری بات کی وضاحت کی۔

”وہ تو ایس پی ساتھ تھا، ورنہ ایک کو بھی زندہ واپس نہ جانے دیتا۔“

علی شیر نے غصہ سے دھاڑتے ہوئے کہا اور ساتھ ہی خوشی کے بالوں کو جھٹکا دے کر اس کی گردن، کمر تک لگا دی، تکلیف کی شدت سے اس کے منہ کراہ نکل گئی۔

”سجاول…. سجاول!“ ابراہیم نے دھاڑتے ہوئے پکارا اور اگلے ہی پل باہر کھڑا سجاول بھاگتا ہوا اندر داخل ہوا۔

”حاضر سائیں۔“ وہ نظریں جھکائے ابراہیم مگسی کے سامنے آکھڑا ہوا۔

”یہ بی بی کو لے جا کر پچھلی کوٹھڑی میں ڈالو، پہلے ذرا ہم اس جنید کو دیکھ لیں۔ پولیس لے کر ہمارے احاطے میں آنے کی جرا ¿ت کی ہے آج اس نے۔ پھر اس کو دیکھیں گے۔“ یہ کہہ کر ابراہیم باہر نکل گئے۔

”بھاگی…. بھاگی!“ علی شیر دھاڑا اور کانپتی ہوئی بھاگی اندر داخل ہوئی۔

”سجاول کے ساتھ جاﺅ اور اسے لے کر جا کر کوٹھڑی میں چھوڑ آﺅ۔“ اس نے خوشی کو دھکا دیتے ہوئے بھاگی کو حکم دیا۔ بھاگی نے تیزی سے آگے بڑھ کر خوشی کو تھام لیا اور وہ تقریباً گھسیٹتی ہوئی اس کے ساتھ چل دی۔ اس کے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت بالکل مفلوج ہو چکی تھی جبکہ اس کے پیچھے رہ جانے والوں کو پکا یقین ہو چلا تھا کہ آج کے بعد وہ اسے دوبارہ نہ دیکھ سکیں گے، کیونکہ یہی اس حویلی کی روایت رہی تھی۔

QQQQ

اس کال کوٹھڑی میں جانے اسے کتنے دن بیت چکے تھے۔ اب تو وہ دونوں کا حساب کتاب بھی بھول گئی تھی۔ بھاگی تینوں ٹائم کھانے کی ٹرے اندر سرکا جاتی تھی جو شروع شروع میں تو یوں ہی رکھی رہتی، کیونکہ اس کا دل ہی نہ چاہتا تھا کچھ کھانے کو، لیکن آہستہ آہستہ اس نے حالات سے سمجھوتا کر لیا اور تھوڑا بہت کھانے لگی۔ اسے حیرت تھی کہ وہ اب تک زندہ کیسے ہے؟ کیونکہ اپنے خاندان کی روایتوں سے وہ بخوبی واقف تھی، بہرحال اتنا تو وہ جان چکی تھی کہ اس کی موجودہ زندگی جنید عباسی کی مرہون منت ہے، ضرور اس کی پولیس رپورٹ کی بنا پر حویلی والے اسے زندہ رکھنے پر مجبور تھے، کیونکہ وہ خوشی پر یہ واضح کر چکا تھا کہ وہ اس کی رخصتی کیلئے پہلے کورٹ میں کیس کرے گا، پھر حویلی آئے گا۔ شاید یہی وجہ تھی کہ اسے مناسب حالات کے انتظار میں زندہ رکھا گیا تھا۔ ورنہ اب تک تو اسے مار کر حویلی کے کسی اندھے کنویں میں ڈال دیا جاتا اور باہر کسی کو پتا بھی نہ چلتا کہ اس کے ساتھ کیا ہوا ہے؟ اب اسے انتظار تھا آنے والے وقت کا، کیونکہ وہ جان نہ پا رہی تھی کہ وقت کا فیصلہ کیا ہو گا، لیکن اتنا ضرور تھا کہ ہر آنے والا دن اس مایوسی میںاضافہ کا سبب بن رہا تھا۔

QQQQ

”جلدی جلدی ناشتہ کر لو، بالاج آرہا ہے، تمہیں کالج چھوڑ دے گا۔“

امی نے کچن کی جانب جاتے ہوئے پلوشہ کو ہدایت کی جبکہ بالاج کے ساتھ کالج جانے کا سنتے ہی پلوشہ کا حلق اندر تک کڑوا ہو گیا۔

”افوہ امی! آپ سے کس نے کہا تھا کہ اس سے کہیں کہ مجھے کالج چھوڑ آئے۔ میں خود ہی پبلک ٹرانسپورٹ سے چلی جاتی۔ آخر دنیا کی لڑکیاں جاتی ہیں۔ اب آدھا گھنٹہ اس کا سڑا ہوا منہ دیکھوں۔“ اس نے کوفت زدہ ہو کر جواب دیا، لیکن اپنی ماں کے خوف سے آخری جملہ منہ ہی منہ میں بدبدایا تھا۔

”بری بات ہے پلوشہ! وہ تم سے بڑا ہے۔“

امی نے کچن کے دروازے پر رک کر تنبیہی نگاہوں سے اسے گھورا۔

”اب بڑے ہونے کا مطلب یہ تو نہیں ہے کہ بندہ ہر وقت انگارے ہی چباتا رہے۔“

”چلو جلدی باہر آﺅ، میں گاڑی نکال رہا ہوں۔“

اس سے قبل کہ وہ مزید تبصرہ کرتی، لاﺅنج کے دروازے پر بالاج کا سنجیدہ چہرہ نظر آیا، جسے دیکھتے ہی پلوشہ کا سانس حلق میں اٹک گیا۔ اس نے جلدی جلدی سلائس حلق سے اتارا اور پانی کا ایک بڑا سا گھونٹ بھر کر اپنا بیگ اٹھا کر باہر کی جانب دوڑ لگا دی، بالاج گاڑی باہر نکال چکا تھا۔ ٹراﺅزر کے ساتھ موجود جوگرز اس بات کی نشاندہی کر رہے تھے کہ وہ کچھ دیر قبل ہی واک سے واپس آیا ہے اور یقینا لبنیٰق جو پلوشہ کی وین کے نہ آنے کے سبب پریشان تھیں۔ انہیں بالاج کی شکل میں اپنی پریشانی کا حل نظر آگیا۔ سارے راستے وہ خاموشی سے باہر دیکھتی رہی اور بالاج بھی بنا کچھ کہے ڈرائیو کرتا رہا، یہاں تک کہ گاڑی اس کے کالج کی بلند و بالا عمارت کے سامنے جا رک گئی۔

”واپس وین میں آﺅ گی کہ میں لینے آﺅں؟“ اس کے دروازہ کھول کر باہر نکلنے سے قبل ہی بالاج نے پوچھ لیا، اس نے ایک نظر بالاج کی جانب دیکھا جو اسی کو دیکھا رہا تھا، ”میں کیا پوچھ رہا ہوں، واپس کیسے آﺅ گی؟“

”وین میں۔“ اس نے باہر نکل کر جواب دیا۔

”ایک منٹ، بات سنو میری۔“ اسے پیچھے سے بالاج کی آواز سنائی دی۔

”اللہ خیر کرے۔ اب جانے کیا ہو گیا؟“ وہ دل ہی دل میں گھبراتی ہوئی واپس پلٹی

”یہ تم کالج چادر اوڑھ کر کیوں نہیں آتیں؟“ جس بات کا خدشہ تھا وہ سامنے آہی گئی۔ اب اس کی سمجھ میں نہ آیا کہ کیا جواب دے۔

”میں نے چچی جان سے بھی کہا تھا اور تم سے بھی کئی بار کہا ہے، لیکن جانے کیوں تم پر کسی بات کا اثر ہی نہیں ہوتا۔ بہرحال اگر اب میں نے تمہیں بنا چادر کالج آتے دیکھا تو یاد رکھنا، وہ دن تمہارا کالج کا آخری دن ہو گا۔“

اس نے غصہ سے کہتے ہوئے پلوشہ کے خفت زدہ سرخ ہوتے چہرے پر ایک نظر ڈالی اور تیزی سے گاڑی نکالتا ہوا چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی پلوشہ کی جان میں جان آئی اور وہ جلدی جلدی سے کالج کا گیٹ عبور کرکے اندر داخل ہو گئی۔

QQQQ

وہ آج تک بالاج کے رویے کو نہ سمجھ پائی تھی، وہ اپنے ہم عمر لڑکوں سے قدرے مختلف طبیعت کا حامل تھا۔ اس کا کوئی دوست نہ تھا اور اگر تھا بھی تو وہ اسے گھر تک نہ لایا تھا۔ پلوشہ نے جب سے ہوش سنبھالا تھا، کبھی اسے رات گئے تک گھر سے باہر نہ دیکھا تھا۔ گھر میں اس کا رویہ سب کے ساتھ بہت ہی نپا تلا ہوتا۔ وہ پلوشہ کا تایا زاد تھا۔ پلوشہ کے ابو رحمان احمد تین بھائی تھے۔ سب سے چھوٹے وسیم احمد جو ڈاکٹر تھے اپنی بیوی بچوں کے ساتھ سعودی عرب کے شہر دمام میں تھے جبکہ رحمان صاحب سے بڑے بھائی اوپر والے فلور میں ہی رہتے تھے، ان کے دو ہی بچے تھے، بڑا بالاج اور پھر نمرہ جس کی شادی میٹرک کے فوراً بعد ہی ہو گئی تھی اور اب وہ دو سالہ بیٹے ارحم کی ماں تھی۔ بالاج کا رویہ اپنی بہن سے بھی بہت سخت ہوتا اور اسی بات پرپلوشہ ہمیشہ حیران ہوتی، کیونکہ اس کے دونوں چھوٹے بھائی اس سے بے حد محبت کرتے تھے۔ ایسے میں نمرہ اسے بے چاری سی لگتی جس کی پیدائش کے فوراً بعد تائی جی کا انتقال ہو گیا۔ اس کی پرورش بھی پلوشہ کی امی نے ہی کی، ذرا سا ہوش سنبھالتے ہی بالاج نے اس پر کڑی نگرانی شروع کر دی تھی۔ اسے کبھی کوئی دوست بنانے کی اجازت نہ تھی، وہ شروع سے ہی عبایا پہنتی تھی، حالانکہ وہ پڑھائی کی شوقین تھی، پھر بھی اسے مزید تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہ مل سکی اور اس مسئلہ پر ہمیشہ بالاج نے تایا جی کا ہی ساتھ دیا، یہاں تک کہ کبھی رحمان صاحب نے بھی انہیں سمجھانے کی کوشش نہ کی۔

کبھی کبھی تو پلوشہ کو ایسا محسوس ہوتا کہ تایا جی اور بالاج کسی خوف کا شکار ہیں اور یہ خوف ہی ہے جو نمرہ کی سخت نگرانی کا سبب ہے اور وہ خوف کیا تھا جس نے تایا جی اور بالاج کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا۔ آج تک پلوشہ نہ جان پائی تھی، لیکن اسے اتنا احساس ضرور تھا کہ کچھ نہ کچھ ایسا ضرور ہے جس کا علم صرف اسے اور نمرہ کو نہیں ہے باقی سب جانتے نہیں یا ہو سکتا ہے، نمرہ بھی جانتی ہو، بہر حال نمرہ کی موجودگی میں بالاج کا دھیان اس کی طرف تھا تو ضرور، لیکن اتنا نہ تھا جتنا نمرہ کی شادی کے بعد ہو گیا تھا۔ یقینا اگر اس کا بس چلتا تو وہ پلوشہ کو کبھی بھی کالج پڑھنے کی اجازت نہ دیتا۔ وہ تو رحمان صاحب کی وجہ سے خاموش رہا جو چاہتے تھے کہ پلوشہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرے۔

وہ ہمیشہ کالج وین سے آتی جاتی، اسے کبھی بھی پبلک ٹرانسپورٹ میں اکیلے سفر کی اجازت نہ تھی، یہاں تک کہ وہ اکیلی کبھی اپنی خالہ یا ماموں کے گھر بھی ایک رات نہ رہی تھی۔ وہ جب بھی ان کے گھر جاتی ہمیشہ اپنی امی کے ساتھ ہی جاتی اور پھر ان ہی کے ساتھ واپس آجاتی، یہاں تک کہ وہ کسی دوست کے گھر بھی نہ جاتی تھی، کیونکہ اس بات کی اسے اجازت نہ تھی۔ چونکہ وہ خود کسی کے گھر نہ جاتی تھی۔ اس لئے کبھی کوئی لڑکی بھی اس کے گھر نہ آئی تھی، یہی وجہ تھی کہ وہ شروع سے ہی نمرہ کے زیادہ قریب رہی۔

نمرہ اس سے تقریباً ڈیڑھ سال بڑی ہونے کے باعث اس سے سکول میں بھی ایک سال سینئر تھی۔ اس سب کے باوجود ان دونوں کی دوستی مثالی تھی۔ نمرہ کا شوہر حماد بھی ایک اچھا انسان تھا۔ وہ اپنی امی کے ساتھ اکثر اوقات ہی نمرہ سے ملنے جاتی تھی اور وہاں بھی اسے رات رکنے کی اجازت نہ تھی۔ اپنے گھر میں ہر سہولت میسر ہونے کے باوجود گھر والوں کی یہ احتیاط اور رویہ ہمیشہ اس کی سمجھ سے بالاتر رہا۔ کبھی کبھی تو اسے یہ سب کچھ بہت پراسرار سا لگتا تھا۔ خاص طور پر اس وقت جب بالاج کی نگرانی اس پر کڑی ہوتی۔ ایسے میں اسے خوامخواہ ہی الجھن ہونے لگتی اور اس کا دل اسے بغاوت پر اکساتا، یہی وجہ تھی کہ آج وہ جان بوجھ کر چادر کے بغیر کالج آئی تھی اور اس کا مقصد محص بالاج کو تنگ کرنا تھا، جس میں وہ خاصی حد تک کامیاب بھی ہو گئی تھی، لیکن اب پچھتا رہی تھی، کیونکہ اسے اندازہ ہو چکا تھا کہ بالاج بہت غصہ میں واپس گیا ہے اور یقینا واپسی میں اسے ایک تفتیشی عدالت کا سامنا کرنا پڑے گا، جس میں بالاج کے ساتھ اس کی امی بھی شامل ہوں گی۔ بہرحال اب تو جو ہونا تھا ہو چکا، کیونکہ گیا وقت واپس نہیں آتا۔

”اسے اللہ مجھ پر رحم کرنا، میں اس کھڑوس شخص کے ساتھ کیسے زندگی گزاروں گی؟“

ان ہی پریشان کن سوچوں میں گھری وہ اپنی کلاس کی جانب چل دی۔

QQQQ

اسے دو دن سے بخار تھا، یہی وجہ تھی کہ اس نے کھانا بالکل بھی نہ کھایا تھا، کھانے کی ٹرے جوں کی توں واپس جا رہی تھی۔ مایوسی نے اسے بری طرح جکڑ رکھا تھا۔ کبھی کبھی اسے ایسا محسوس ہوتا جیسے یہ کال کوٹھڑی اس کی قبر میں تبدیل ہونے والی ہے اس جیسی نفیس طبیعت کی حامل لڑکی کو آج کئی دن ہو گئے تھے لباس تبدیل کئے ہوئے، یہاں تک کہ اس نے منہ میں بھی نہ دھویا تھا۔ سر میں گنگھا کرنا تو دور کی بات اس وقت اگر کوئی اسے اس حال میں دیکھ لیتا تو یقین ہی نہ کرتا کہ یہ خوشنما ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ ساتھ اس کی ہمت جواب دیتی جا رہی تھی۔ ہر نیا دن اسے خاموش موت کی جانب دھکیل رہا تھا اور آج تو ویسے بھی صبح سے ہی اس کی طبیعت خراب تھی۔ وہ اٹھ کر کھڑی بھی نہ ہو پا رہی تھی اور ایسے میں جب وہ مایوسی کے گھپ اندھیرے میں ڈوبی بستر پر لیٹی سسکیاں لے رہی تھی کہ بیرونی دروازہ کھلنے کی آواز اس کے کانوں سے ٹکرائی۔ یقینا بھاگی آئی ہو گی۔ کھانا رکھنے، مجھے اس سے کہنا چاہئے کہ میرے لئے کوئی میڈیسن ہی لے آئے، شاید کسی کے دل میں رحم آجائے اور مجھے بخار کی کوئی دوا ہی نصیب ہو جائے۔ یہ ہی سوچ کر اس نے اپنے ٹوٹے بدن کے ساتھ بمشکل کروٹ لی اور باہر دروازے کی جانب دیکھا اور ملگجی روشنی میں اندر داخل ہونے والی شخصیت پر جیسے اس کی نظر پڑی۔

”بڑی اماں! آپ….“ خوشی کے مارے وہ بلک بلک کر رو پڑی۔

”ہاں میری بچی! یہ تو نے کیسا ظلم کیا اپنی ذات کے ساتھ۔ ہم تو تجھے بہت سمجھدار سمجھے تھے، ہمیں کیا پتا تھا کہ تو یہ بدنامی اور رسوائی کا طوق اپنے ساتھ ساتھ ہمارے گلوں میں بھی ڈال دے گی۔“

بڑی اماں نے اس کی چارپائی پر بیٹھ کر بڑے ہی تاسف سے کہا۔ بڑی اماں کے سرد رویے نے اس کی خوشی کو پل بھر میں کافور کر دیا اور اس کا سر شرمندگی سے جھک گیا۔

”دیکھ خوشی! تو اچھی طرح جانتی تھی، زریاب مگسی تیرا منگیتر تھا، تو اس کی ٹھیکرے کی منگ تھی، پھر تو نے ایسا بے حیائی والا کام کیوں کیا؟ کیوں اپنے دشمنوں کے ساتھ مل کر ہماری عزت کو سر بازار رسوا کیا۔ ہمارے سروں میں خاک ڈالی، بول خوشی! تو نے کیوں ایسا کیا، کیا تیری جوانی اتنی منہ زور ہو گئی تھی کہ تجھے اپنے پرائے کا احساس بھی بھول گیا۔ کیا تو اس حویلی کی روایات سے واقف نہ تھی جو تیرے قدم بہک گئے۔“

بڑی اماں مسلسل اسے لتاڑ رہی تھیں اور جواب میں وہ کچھ بھی بول نہ پا رہی تھی، آنسو مسلسل اس کی آنکھوں سے رواں تھے۔

”تو نے ہمیں خوب سزا دی اور اس لاڈ پیار کی جو ہم نے تجھ سے کیا۔ تیرے اس ایک غلط قدم نے حویلی کی ساری لڑکیوں پر کھلنے والے تعلیم کے دروازے بند کر دیئے، پر تجھے کیا! تو نے اپنی مرضی پوری کر لی نا۔“ بڑی اماں کے لہجہ میں قہر و غضب بول رہا تھا۔

”بڑی اماں! مجھے معاف کر دیں، پلیز بابا سائیں سے کہیں، صرف ایک دفعہ آکر میری بات سن لیں، خدا کیلئے بڑی اماں!“

اس کے اعصاب جواب دے گئے اور وہ بلک بلک کر رو پڑی۔ اس کا ذہن جس جذباتی توڑ پھوڑ کا شکار تھا، اس کی بنا پر اسے ایسا محسوس ہوا کہ اگر آج بڑی اماں یہاں سے واپس چلی گئیں تو دوبارہ شاید کسی اپنے کا چہرہ اسے دیکھنا نصیب نہ ہو۔

”میں نے تجھے کیا معاف کرنا ہے، تو، تو جانتی ہے میرے اختیار میں کچھ نہیں، ہاں اگر تو اپنے باپ اور بھائیوں کی بات مان لے تو شاید تیری جان بخشی ہو جائے، دیکھ خوشی! اگر تو اس زندان سے زندہ سلامت نکلنا چاہتی ہے تو وہ ہی کر جو تیرے وارث تجھ سے چاہتے ہیں۔“

”وہ مجھ سے کیا چاہتے ہیں بڑی اماں؟“

”اگر جنید عباسی سے طلاق حاصل کرنے کی صورت میں مجھے میری پچھلی زندگی واپس مل جائے تو بھی مجھے منظور ہے، یقینا اس سے زیادہ باپ، بھائیوں کا مطالبہ اور کیا ہو گا۔“ وہ دل ہی دل میں جنید عباسی سے طلاق کےلئے خود کو راضی کر چکی تھی۔

”یہ تو میں نہیں جانتی۔ بہرحال ابراہیم کا کہنا ہے کہ اگر تو ان کی بات مان لے تو بہت جلد رہائی تیرا مقدر بن سکتی ہے۔“

”میں ان کی ہر بات ماننے کیلئے تیار ہوں بڑی اماں! بس مجھے یہاں سے باہر نکالیں۔“ اس نے بے اختیار بڑی اماں کے ہاتھ تھام لئے۔ انہوں نے خوشی کو گلے لگا لیا۔

”نہ رو خوشی!“ بڑی اماں نے اپنا لرزتا ہاتھ اس کے سر پر رکھا۔

”دیکھ خوشی! میری بات دھیان سے سن۔“ انہوں نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے کہا۔

”تجھے آج رات کسی بھی وقت شہر جانا ہو گا۔ میری بچی تو نہیں جانتی جنید عباسی نے ہمیں کتنا ستایا ہوا ہے، وہ رات کو بھی مجسٹریٹ اور پولیس کے ساتھ حویلی آیا تھا۔ تجھے بازیاب کروانے۔ وہ کہتا ہے کہ ہم نے تجھے قتل کر دیا ہے۔ اس نے تیرے قتل کا مقدمہ تیرے باپ کے خلاف درج کروا دیا ہے۔ وہ تو حویلی کی تلاشی کے وارنٹ بھی لایا تھا، لیکن ایسے برے وقت میں تیرے باپ کے تعلقات کام آگئے اور اوپر سے آنے والے فون نے پولیس کو واپس جانے پر مجبور کر دیا، لیکن ہمیں یقین ہے، وہ بدبخت پھر آئے گا۔ پہلے ہی اس لڑکے نے ہمیں کہیں کا نہیں چھوڑا، سارے مرد تھانے، کچہریوں کے چکر لگا رہے ہیں، کل بھی تیرے بھائی علی شیر کی پیشی ہے۔ اسی لئے وہ شہر گیا ہوا ہے، اس کے دائر کئے ہوئے مقدموں نے ہماری پشتوں کی عزت کو مٹی میں رول دیا ہے۔ آج اگر وہ حکومت کے اعلیٰ عہدے پر پہنچ گیا ہے تو اس کا یہ مطلب تو نہ ہوا کہ شریفوں کی پگڑیاں اچھالتا پھرے اور ان کے گریبان پر ہاتھ ڈالے، لیکن کیا کریں ہم تو مجبور ہیں، خود اپنی اولاد کے ہاتھوں جن کی ناعاقبت اندیشی نے یہ خاک ہمارے سروں پر ڈالی۔“

بڑی اماں اتنے سارے انکشافات کرتے ہوئے ایک آہ سرد بھر کر اٹھ کھڑی ہوئیں اور ان کے انکشافات نے خوشی کو حیرت سے دو چار کر دیا، اس میں زندگی کی لہر سی دوڑ گئی۔

”جنید عباسی میری تلاش میں سر گرداں ہے، وہ مجھے بھولا نہیں۔“

یہ خیال ہی اس کیلئے روح آفریں تھا، اس خیال کے ساتھ ہی جنید کا دلکش سراپا اس کی نگاہوں کے سامنے لہرا کر اسے تقویت بھرا احساس بخش گیا، وہ تنہا نہ تھی، بلکہ اس اندھیری شاہراہ پر جنید اس کا منتظر کھڑا تھا۔

”بس اب تو شہر جا اور جس طرح تیرے باپ، بھائی کہیں ویسا ہی کر۔ کورٹ جا کر وہ ہی بیان دینا جو تجھ سے کہا جائے، کیونکہ اسی میں ہم سب کی بھلائی ہے، ورنہ تو جانتی ہے کہ اتنا خون خرابہ ہو گا کہ دھرتی لہو سے لالو لال ہو جائے گی، اچھا اب میں چلتی ہوں۔ تھوڑا بہت کھا کر تیاری پکڑ، بھاگی تیرے ساتھ ہی جائے گی۔“

بڑی اماں نے سرد مہری سے کہتے ہوئے اسے رنگین خیالات سے کھینچ کر حقیقت کے تپتے صحرا میں لاپھینکا اور فوراً ہی خاموشی سے باہر نکل گئیں، یہ جانے بغیر کہ وہ کس حال میں بیٹھی ہے۔ اس کا جسم بخار میں پھنک رہا تھا۔ وہ دو دن سے بھوکی تھی، لیکن بڑی اماں نے ایک بار بھی اس سے اس کا حال نہ پوچھا تھا اور صرف اپنا فیصلہ سنا کراسے عملدرآمد کا حکم دے کر چلتی بنی تھیں، اپنے گھر والوں کی اس قدر سنگ دلی اور بے حسی نے اس کے نازک دل کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کر دیا۔ وہ ٹوٹ کر بکھر گئی۔

”اے میرے اللہ پاک میری مدد فرما!“

وہ اللہ سے یہ دعا کرتے ہوئے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی۔ اس کا دل اپنے گھر والوں سے یکدم ہی اچاٹ ہو گیا اور دل میں بھری ان کی محبت کی جگہ نفرت نے لے لی، کیا انسان اتنے بھی ظالم ہو سکتے ہیں کہ اپنی انا، خود داری اور ظاہری جاہ و جلال کےلئے اپنے پیاروں کو قربان کر دیں۔

اس سوچ کے دل میں آتے ہی اس کا اعتماد دنیا کے تمام رشتوں سے اٹھ گیا۔

QQQQ

”ہیلو….“

پلوشہ نے سر اٹھا کر دیکھا، سامنے نہایت ہی خوبصورت اور طرح دار لڑکی کھڑی تھی۔

”میں یہاں بیٹھ سکتی ہوں تمہارے پاس؟“

”وائے ناٹ۔“ اس نے مسکرا کر جواب دیا، لڑکی دھپ سے اس کے سامنے ہی گھاس پر بیٹھ گئی۔

”مجھے سبرینہ کہتے ہیں اور تم؟“ لڑکی نے اس کی جانب اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے مسکرا کر تعارف کروایا۔

”پلوشہ احمد….“ پلوشہ کو جانے کیوں پہلی ہی نظر میں وہ لڑکی اچھی لگی تھی، ورنہ عام طور پر وہ کسی سے زیادہ گھلنے ملنے کی عادی نہ تھی۔

”اوہ تمہارا نام بھی تمہاری ہی طرح خوبصورت ہے۔“

سبرینہ نے مسلسل چیونگم چباتے ہوئے تبصرہ کیا جبکہ پلوشہ صرف مسکرا دی۔

”یہ تمہارے لئے۔“ اس نے اپنے یونیفارم کی جیب سے چیونگم نکال کر اس کی جانب بڑھائی۔

”تھینک یو….“

”کیا مصیبت ہے یار! کینٹین میں اتنا رش ہے کہ….“

تیزی سے بولتی ہوئی و ریشہ کی زبان کو بریک لگ گیا، جیسے ہی اس کی نگاہ پلوشہ کے قریب بیٹھی سبرینہ پر پڑی۔ اس سے قبل کہ وہ کچھ پوچھتی سبرینہ خود ہی بول پڑی۔

”ہیلو آئی ایم سبرینہ۔“ اور اپنا ہاتھ وریشہ کی جانب بڑھا دیا۔ ”ابھی کچھ دن قبل ہی میرے والد کا ٹرانسفر یہاں ہوا ہے، اس لئے آپ کے کالج میں نئی ہوں اور چاہوں گی کہ آپ دونوں مجھ سے دوستی کر لیں، اگر کوئی اعتراض نہ ہو تو۔“ اس نے مکمل وضاحت پیش کی۔

”نہیں یار! اس میں اعتراض والی کیا بات ہے؟“ پلوشہ کے جواب نے وریشہ کو حیرت زدہ کر دیا، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ پلوشہ دوستی کے معاملے میں خاصی محتاط طبیعت کی مالک تھی اور کسی بھی لڑکی سے کم ہی دوستی کرتی تھی، اس کی اور وریشہ کی دوستی تو سکول کے زمانے سے تھی۔ دونوں کے گھر بھی ایک ہی محلے میں تھے، جس کی بنا پر ان کی گھریلو واقفیت بھی تھی، وریشہ، بالاج احمد اور پلوشہ کے درمیان موجود رشتہ سے بھی واقف تھی اور اسے ہمیشہ یہ بات اچھی لگتی تھی کہ گھر میں اتنی پابندیوں کے باوجود بالاج نے کبھی ان دونوں کی دوستی پر اعتراض نہ کیا تھا، یہاں تک کہ اگر کبھی پلوشہ کو اس سے کوئی کام ہوتا تو بالاج بخوشی اس کے ساتھ وریشہ کے گھر بھی آجاتا، حالانکہ باہر ہی کھڑا رہتا اور پلوشہ جلدی جلدی کام لے کر چلی جاتی، ویسے بھی ان دونوں کے گھر کا ماحول بھی تقریباً ایک ہی جیسا تھا جس کی بنا پر انہیں کبھی کوئی مسئلہ پیش نہ آیا تھا، لیکن ان کے درمیان بیٹھی الٹراما ڈرن سی سبرینہ ان دونوں سے بالکل بھی میچ نہیں ہو رہی تھی۔

”یہ کولڈ ڈرنک تم لے لو، میں اور لے آتی ہوں۔“

وریشہ نے ایک کولڈ ڈرنک پلوشہ کو پکڑا کر دوسری سبرینہ کی جانب بڑھائی۔

”نہیں سوری یار! میں کولڈ ڈرنک نہیں پیوںگی، میرا گلا خراب ہے بس تمہارے ساتھ سموسے شیئر کر لوں گی! تم بیٹھ جاﺅ۔“

وہ بڑے مزے سے سامنے رکھی پلیٹ سے سموسہ اٹھا کر کھانے لگی۔ اسے دیکھ کر محسوس ہی نہ ہو رہا تھا کہ ان کی اس لڑکی سے پہلی ملاقات ہے، یقینا وہ ایک پر اعتماد اور خاصی فرینک سی لڑکی تھی۔ اس کی حرکت کا بغور جائزہ لیتے ہوئے وریشہ نے دل ہی دل میں یہ اعتراف کیا۔

QQQQ

نمرہ کی طبیعت پچھلے کچھ دنوں سے خراب تھی۔ لہٰذا حماد بھائی کی درخواست پر امی تقریباً روزانہ ہی دوپہر کے بعد اس کے گھر چلی جاتی تھیں اور رات واپسی میں حماد بھائی گھر چھوڑ جاتے۔ نمرہ کی ساس تو تھیں نہیں، دونوں نندیں بھی دوسرے شہر میں رہتی تھیں۔ یہ ہی وجہ تھی کہ گھر میں کام والی کے ہونے کے باوجود اسے اور ارحم کو دیکھنے کیلئے امی کو روز ہی جانا پڑتا، لیکن آج چونکہ اتوار تھا اور صبح سے ہی شبو کے ساتھ مل کر امی نے کپڑے دھونے کی مشین لگائی ہوئی تھی اور ابھی کچن کا کام بھی باقی تھا، ایسے میںحماد بھائی کے فون نے امی کو بوکھلا دیا، نمرہ کی طبیعت زیادہ خراب تھی آخر بہت سوچ کر وہ پلوشہ کی جانب آئیں جو مشین سے کپڑے نکال نکال کر شبو کو دے رہی تھی۔

”تم جلدی سے تیار ہو جاﺅ۔ میں بالاج کا پتا کرتی ہوں۔ تمہیں نمرہ کے گھر چھوڑ آئے۔ اس کی اپنی طبیعت بھی ٹھیک نہیں ہے اور ارحم بھی بہت تنگ کر رہا ہے۔“

یہ کہتے ہوئے وہ تیزی سے سیڑھیوں کی جانب بڑھ گئیں، تاکہ بالاج کو دیکھیں کہ وہ گھر پہ ہے یا نہیں جبکہ پلوشہ کا دل نمرہ اور ارحم سے ملنے کے تصور سے ہی کھل اٹھا۔

”یہ باقی کپڑے مشین سے تم خود نکال لو۔“

شبو کو کہہ کر اس نے قریب ہی رکھے تولیہ سے ہاتھ صاف کئے اور اندر کمرے کی جانب چل دی اور تقریباً پندرہ منٹ میں ہی تیار ہو کر وہ باہر آچکی تھی۔ اس نے جلدی سے کچن کی کیبنٹ کھول کر بسکٹ کے کچھ ڈبے اور چپس کے پیکٹ شاپر میں ڈالے، پھر فریج میں رکھا ہوا ابتہاج کا چاکلیٹ کا پیکٹ بھی نکال لیا۔

”خیر ہے۔ ابتہاج اور لے آئے گا۔“ ویسے بھی وہ تینوں بہن، بھائی ارحم سے بے حد محبت کرتے تھے۔ سارا سامان شاپر میں ڈال کر وہ جیسے ہی باہر نکلی نظر اوپر سے آتے بالاج پر پڑ گئی۔ بلیک کرتے شلوار میں وہ کہنیوں تک آستینیں فولڈ کئے بے حد سنجیدہ چہرے کے ساتھ بھی نظر لگ جانے کی حد تک اچھا لگ رہا تھا۔

”تیار ہو گئی ہو تو آجاﺅ۔“ پلوشہ سے کہتے ہوئے وہ لاﺅنج کے دروازے کی سمت بڑھ گیا۔

”ایک منٹ ٹھہرو بیٹا!“ امی، بالاج کو روک کر تیزی سے کچن کی جانب بڑھ گئیں، اس نے سامنے صوفے پر رکھی کالی چادر اٹھا کر اوڑھ لی۔

”یہ لے جاﺅ، اس میں نمرہ کےلئے سوپ ہے اور میں نے کھانا بھی پیک کر دیا ہے۔“

لبنیٰ نے اسے ہدایت کی، لیکن اس کے آگے بڑھنے سے قبل ہی بالاج نے ان کے ہاتھ سے شاپر تھام لیا اور باہر کی جانب چل دیا۔ وہ خاموشی سے اس کے پیچھے چلتی ہوئی باہر کھڑی گاڑی میں جا کر بیٹھ گئی۔

”تمہاری پڑھائی کیسی جا رہی ہے؟“ بالاج نے گاڑی اسٹارٹ کرتے ہی سوال کیا۔

”جی اچھی جا رہی ہے۔“ وہ آہستہ سے جواب دے کر باہر دیکھنے لگی۔

”اگر کبھی پڑھائی کے سلسلے میں کوئی مدد چاہئے ہو تو مجھے بتا دینا۔ میں یونیورسٹی سے آکر گھر ہی ہوتا ہوں۔“

”جی اچھا….“ اور پھر سارے راستے ان کے درمیان کوئی بات نہ ہوئی۔ تقریباً بیس منٹ بعد ہی نمرہ کا گھر آگیا۔ بالاج نے گاڑی سے باہر نکل کر گیٹ کی بیل بجائی۔ وہ خاموشی سے گیٹ کے پاس جا کر کھڑی ہو گئی۔ دروازہ نمرہ کی کل وقتی ملازمہ ناہید نے کھولا۔ وہ پلوشہ کو دیکھتے ہی کھل اٹھی۔

”شکر ہے باجی آپ آگئیں۔ ارحم نے تورو، رو کر پورا گھر سر پر اٹھا رکھا ہے۔“ پلوشہ بنا جواب دیئے اندر داخل ہو گئی۔ بالاج سارا سامان ناہید کو تھما کر باہر سے ہی چلاگیا۔

اندر داخل ہوتے ہی وہ نمرہ اور اس کے گھر کی حالت دیکھ کر حیران و پریشان ہی رہ گئی۔ لگتا ہی نہ تھا کہ یہ گھر نمرہ جیسی نفاست پسند لڑکی کا ہے۔ ارحم الگ گندہ میلا پھر رہا تھا۔ اسے یہاں آکر پتا چلا کہ نمرہ پریگننٹ تھی اور اس کی بے حد کمزوری کے باعث ڈاکٹرز نے اسے مکمل بیڈ ریسٹ بتایا تھا ایک تو کم عمری کی شادی اور پھر جلدی جلدی ہونے والی پریگننسی نے اس کی حالت ابتر کر رکھی تھی، اسے اپنی چھوٹی سی کزن پر یکدم ہی ڈھیروں ڈھیر پیار آگیا، جہاں نمرہ اور ارحم اسے دیکھ کربے حد خوش ہوئے وہاں حماد بھائی بھی مطمئن ہو گئے، پھر جلد ہی اس نے ناہید کے ساتھ مل کر سارا گھر سمیٹ دیا، ارحم کو نہلا دھلا کر صاف کپڑے پہنا دیئے اور فارغ ہو کر اس کے ساتھ کمپیوٹر گیم کھیلنے لگ گئی، سارا دن کیسے گزرا، اسے پتا ہی نہ چلا، وہ تو جب مغرب کے وقت بالاج اسے لینے آیا تو اندازہ ہوا کہ رات ہو چلی ہے۔ نمرہ اور حماد نے بہت کوشش کی کہ وہ رات ان کے گھر رہ جائے، کیونکہ کل کالج کی چھٹی تھی، لیکن بالاج نے سنتے ہی فی الفور انکار کر دیا جبکہ ارحم اس کے جانے کا سن کر پھر سے رونے لگا تھا۔

”کل میں صبح ہی چچی جان کو تمہارے پاس چھوڑ جاﺅں گا۔“ بالاج نے نمرہ کے بار بار ضد کرنے پر اسے حتمی انداز اختیار کرتے ہوئے سمجھایا۔

”چلو اب جلدی کرو، دیر ہو رہی ہے۔“ نمرہ کو سمجھانے کے ساتھ ساتھ وہ پلوشہ سے مخاطب ہوا جو نمرہ کے قریب ہی کھڑی دعا کر رہی تھی کہ بالاج مان جائے اور وہ ایک رات ارحم کے ساتھ گزار لے، کیونکہ اسے نمرہ اور ارحم کو دیکھ کر ترس آرہا تھا، لیکن بالاج کے باہر نکلتے ہی وہ بھی سب سے مل کر مرے مرے قدموں سے باہر جا کر گاڑی میں بیٹھ گئی، اسے حیرت تھی کہ سگی بہن کو اس حال میں دیکھ کر بھی یہ شخص کوئی سمجھوتہ کرنے کو تیار نہ تھا اور پھر واپسی کا سارا راستہ اسی سوچ میں کٹ گیا کہ وہ بالاج جیسے سخت مزاج اور انتہا پسند شخص کے ساتھ ساری زندگی کیسے گزارے گی۔

”میں تو شاید مر ہی جاﺅں گی، یہ تو مجھے کہیں جانے ہی نہ دیا کرے گا۔“ اس سوچ کے آتے ہی پلوشہ کو خود پر ترس آنے لگا۔

QQQQ

چھ، سات گھنٹوں کے مسلسل سفر کے بعد جیپ رک چکی تھی اور رات کے سناٹے میں جیپ کے تیز ہارن کی آواز سن کر انداہ ہو رہا تھا کہ منزل آچکی ہے، سارے راستہ بخار کی شدت کے سبب وہ حالت غنودگی میں رہی تھی اس کا سر بھاگی کی گود میں تھا جو نہایت ہی عزت و احترام اور پیار و محبت سے اپنی مالکن کے سر کو دباتی آئی تھی۔ جیپ رکے ہوئے دو منٹ سے زیادہ وقت ہو چکا تھا، جب گاڑی کا دروازہ کھلنے کی آواز کے ساتھ ہی سجاول کی آواز بھی سنائی دی۔

”چلو، بی بی جی کو لے کر باہر آجاﺅ۔“ وہ یقینا بھاگی سے مخاطب تھا، بھاگی نے بنا کوئی جواب دیئے اسے اٹھا کر بٹھایا، پھر اس کی چادر کو درست کرتے ہوئے پاﺅں میں چپل پہنائی اور پھر اسے تھامتے ہوئے نیچے اتر گئی، اس کا سر بری طرح چکرا رہا تھا اور پاﺅں زمین پر ٹک نہ رہے تھے۔ بھاگی کے سہارے تقریباً گھسیٹتی ہوئی وہ جیسے ہی اندر داخل ہوئی پہلی نگاہ سامنے کروفر کے ساتھ کھڑے بھائیوں پر پڑی۔ اس کے سگے بھائی علی شیر اور فلک شیر اس کے وجود سے قطعاً بے نیاز کھڑے تھے۔ بالکل ایسے جیسے اپنے سامنے کھڑی اس بدحال لڑکی سے ان کا کوئی واسطہ ہی نہ ہو۔

”راستہ میں کوئی مشکل تو پیش نہیں آئی؟“ فلک شیر نے یہ سوال یقینا سجاول سے کیا تھا۔

”نہیں چھوٹے سائیں! ہم بڑی احتیاط سے یہاں تک آئے ہیں۔“

”ٹھیک ہے۔ اب تم جاﺅ اور بھاگی! اسے اندر لے جا کر نہلا دھلا کر کپڑے تبدیل کرواﺅ اور پھر کچھ کھانے کو دو۔“

”چھوٹے سائیں! بی بی سائیں کو بہت بخار ہے جی۔ یہ تو کئی دنوں سے کچھ بھی نہیں کھا رہیں۔“ بالآخر بھاگی سے رہا نہ گیا اور وہ بول ہی پڑی۔

”ٹھیک ہے، ابھی صندل آتی ہے۔ وہ اسے کوئی دوا دے دے گی۔ تم اسے لے جاﺅ اندر۔“

وہی حقارت بھرا لہجہ اور وہ جو اپنے بھائیوں سے ہمدردی کی امید کر رہی تھی، اس بے نیازی پر اندر تک ٹوٹ گئی، اس بے نیازی نے اس کی روح کو چھلنی کر دیا وہ مردہ روح کے ساتھ ان کی جانب دیکھتی رہ گئی، علی شیر نے تو اس کے پاس سے گزرتے ہوئے اک نگاہ اس پر ڈالی بھی تھی وہ جو بے شک قہر آلود تھی، لیکن فلک شیر نے تو یہ بھی نہ کیا وہ جو اس کا سب سے پیارا بھائی تھا۔ اتنی اجنبیت سے اس کے پاس سے گزرتا ہوا چلا گیا کہ خوشی کا دل دکھ سے بھر گیا۔

”اتنے شدید ردعمل سے تو بہتر تھا کہ یہ مجھے مار ہی دیتے۔ میں کم از کم ان سب کی اتنی نفرت کا شکار تو نہ بنتی۔ کاش میرے باپ، بھائی ایک دفعہ مجھ سے کہتے کہ میں جنید عباسی سے طلاق لے لوں۔ میں تو وہ بھی کر گزرتی، لیکن یہ کیا انہوں نے تو مجھ زندہ درگور ہی کر ڈالا۔“

اس سوچ کے آتے ہی اس کے دل میں نفرت اور غصہ کی ایک نئی لہرا بھری تھی۔

”اے میرے پروردگار مجھے اپنے رحم و کرم کے صدقے ان ظالموں سے نجات دلا، بے شک میں نے جو کیا وہ غلط تھا، لیکن تو جانتا ہے میں گناہ گار نہیں ہوں، میرے مالک اگر میرے نصیب میں عبرتناک موت لکھ دی گئی ہے تو بھی وہ موت مجھے ان ظالموں کے ہاتھوں سے نہ عطا کرنا۔“

دل ہی دل میں یہ دعا کرتے ہوئے وہ پھوٹ پھوٹ کر رو دی اور اسے سنبھالتے سنبھالتے بھاگی اس کے ساتھ رو پڑی۔

QQQQ۔

ثناءاللہ مگسی کے تین بیٹے اور دو بیٹیاں تھیں۔ سب سے بڑا احمد مگسی، پھر ابراہیم مگسی اور سب سے چھوٹا یاور مگسی، احمد مگسی اپنے دو بیٹے چھوڑ کر جوانی میں ہی دشمنی کی نذر ہو گیا تھا جبکہ ابراہیم مگسی کی دو بیویوں سے ایک ہی بیٹی تھی خوشنما جبکہ بیٹے پانچ تھے، جن میں سے تین بیٹے بالترتیب علی شیر، فلک شیر اور علی مہران شیر آمنہ کے بطن سے تھے اور دس سالہ امیر حمزہ اور آٹھ سالہ اسامہ دوسری بیوی ماہ زیب کے بطن سے تھے۔ یاور مگسی کی صرف دو ہی بیٹیاں تھیں۔ بارہ سالہ سکھاں اور دس سالہ ماروی جنہیں خوشنما کے اٹھائے گئے قدم کے بعد سزا کے طور پر سکول سے اٹھا لیا گیا تھا اور ان پر تعلیم کے دروازے مکمل طور پر بند ہو گئے تھے۔ اس کے چچا یاور مگسی نے اپنے وارث کیلئے کچھ دن قبل ہی شادی کی تھی، وہ سب ایک حویلی میں رہتے تھے جس میں سب کے علیحدہ علیحدہ پورشنز بنے ہوئے تھے، لیکن داخلی گیٹ اور کچن ایک ہی تھا، سب کا کھانا ایک ہی کچن میں تیار ہوتا اور بڑی اماں کے ساتھ مل کر کھایا جاتا، کھانے کے وقت سارا خاندان بڑی اماں کے ساتھ اکٹھا ہو کر کھانا کھاتا۔

خوشی کی بڑی پھو پھو کا نکاح اس وقت قرآن پاک سے کر دیا گیا تھا، جب مہرو پانچ سال کی تھی اس کے بعد اس نے اپنی پھو پھو کو کبھی حویلی میں نہ دیکھا تھا، وہ حویلی کے پچھواڑے بنی کال کوٹھڑی میں تنہا قید تھیں، جہاں انہوں نے اپنی ایڑیاں رگڑ رگڑ کر تنہائی کا عذاب سہتے ہوئے اپنی جان، جان آفرین کے سپرد کر دی تھی جس کا احساس حویلی کے سخت گیر مردوں میں سے کسی کو بھی نہ ہوا تھا، یہاں تک کہ اس نے کبھی اپنی دادی، بڑی اماں کو بھی اپنی بیٹی کی یاد میں دکھی نہ دیکھا تھا، سوائے آمنہ کے کبھی اس نے اپنی پھوپھو کا ذکر کسی سے نہ سنا تھا، وہ حیران ہوتی تھی کہ یہ سب لوگ اتنے بے حس کیوں ہیں، جو اپنے سگوں کا دکھ بھی محسوس نہیں کرتے۔

چھوٹی پھوپھو الماس اپنے چچا کے گھر بیاہی ہوئی تھیں۔ ان کے بیٹے زریاب کا رشتہ بچپن سے ہی خوشنما سے طے تھا جبکہ بدلے میں سورٹھ اس کی ہونے والی بھابی اور فلک شیر کی منگ تھی۔ حویلی کے رواج کے مطابق لڑکیوں کو پڑھنے کی اجازت نہ تھی جبکہ خوشی تعلیم حاصل کرنے کی بے حد شوقین تھی۔ اس سلسلے میں زریاب اس کا مددگار ثابت ہوا، کیونکہ وہ حویلی کے دوسرے لوگوں سے مختلف تھا اور خود چاہتا تھا کہ اس کی بیوی تعلیم یافتہ ہو۔ اسی کے ایماءپر گاﺅں سے میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کے بعد خوشی نے قریبی قصبہ کے کالج سے انٹر کی تعلیم حاصل کی اور پھر زریاب کی خواہش پر قریبی شہر میں موجود یونیورسٹی میں ٹیکسٹائل ڈیزائننگ میں داخلہ لے لیا۔ زریاب اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلئے ابروڈ گیا ہوا تھا۔ لہٰذا خوشی کی شادی اس کی واپسی کے بعد متوقع تھی۔ زریاب کی چچا زاد صندل علی شیر کی بیوی تھی، جس کی شادی کے موقع پر حویلی میں وہ ناخوش گوار واقعہ پیش آیا، جس نے خوشی کو حویلی والوں سے دور کر دیا اور وہ اپنوں کی محبت کو ترستی رہ گئی۔ جنید عباسی خوشی کو یونیورسٹی میں ہی ملا تھا۔ پہلی بار ہی اسے دیکھ کر خوشی کے دل میں محبت کا دیا جل اٹھا تھا، لیکن چونکہ وہ اپنی خاندانی روایات سے واقف تھی، اس لئے اپنے دل پر جبر کرتے ہوئے اس سے بچنے کی کوشش کرتی رہی، لیکن کب تک رفتہ رفتہ اس کا دل بھی جنید کی محبت سے بھرتا چلا گیا اور ان ہی محبت بھرے دنوں میں جب اس کا انگ انگ جنید کی محبت کی پھوار سے بھیگ چلا تھا اس پر انکشاف ہوا کہ جنید کا تعلق ان کے مخالف اور دشمن قبیلے سے تھا۔ یہ جان کر خوشی نے چاہا کہ وہ پیچھے ہٹ جائے، لیکن جنید نے ایسا نہ ہونے دیا، وہ سی ایس ایس کا امتحان پاس کرکے حکومت کے اعلیٰ عہدے پر فائز ہو چکا تھا، وہ خوشی سے کسی طور پر بھی دستبردار ہونے کو تیار نہ تھا اور پھر محبت کے ہاتھوں پر مجبور ہو کر بنا نتیجہ کی پروا کئے خوشی نے جنید سے نکاح کر لیا، کیونکہ جنید کا کہنا تھا کہ اس عمل کے سوا کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے جو ان دونوں کو ایک کر سکے۔

حویلی والے کبھی کسی طور پر جنید کو قبول نہیں کر سکتے تھے، اسی لئے وہ کہتا تھا کہ مناسب وقت کو دیکھتے ہوئے وہ عدالت کے حکم کے مطابق خود حویلی آئے گا اپنے باپ اور بھائیوں کے ساتھ اور اسے عزت سے رخصت کروا کر لے جائے گا اور بس یہاں ہی وہ جذبات کے ہاتھوں مار کھا گیا، اسے حویلی والوں کی طاقت اور ظلم کی شدت کا اندازہ نہ تھا، اس کے تمام بہن، بھائیوں کی پرورش شہر میں ہی ہوئی تھی، کیونکہ اس کی والدہ کا تعلق شہر سے تھا۔ اس کا باپ صمد عباسی خود بھی ایک پڑھا لکھا انسان تھا، یہ ہی وجہ تھی اس نے ہمیشہ اپنی اولاد کو اپنے خاندانی مسائل سے دور رکھا اور نہ صرف خاندانی مسائل بلکہ وہ اپنے گاﺅں سے بھی دور رہے۔

اپنے گھر کے پرسکون ماحول کو دیکھتے ہوئے جنید نہیں جانتا تھا کہ بظاہر پڑھے لکھے یہ لوگ اپنی خاندانی روایات کےلئے سگے رشتوں کو بھی قربان کرنے سے دریغ نہیں کرتے اور جیسے ہی اس کا ادراک جنید کو ہوا، بہت دیر ہو چکی تھی، خوشی کو حویلی سے غائب کر دیا گیا تھا۔ جنید کا اثر و رسوخ بالکل کام نہ آرہا تھا۔ اسے لگتا تھا کہ خوشی کو مار کر حویلی میں ہی دفنا دیا گیا ہے، اسی خیال کے تحت اس نے کورٹ میں کیس دائر کر رکھا تھا۔ جہاں اس نے اپنا نکاح نامہ جمع کروا کر اپنی بیوی کی بازیابی کا مطالعہ کیا تھا، اس کی دائر کردہ درخواست کے مطابق عدالت نے علی شیر کو پابند کر دیا تھا کہ وہ جلد از جلد خوشی کو کورٹ میں پیش کرکے اس کا بیان قلمبند کروائے تاکہ عدالت کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو، اسی سبب اسے شہر لایا گیا تھا، اگر جنید یہ سب کچھ نہ کرتا تو یقینا خوشی کو پہلے ہی دن مار دیا جاتا، لیکن اس کا بھائی الیکشن لڑنے کی تیاری کر رہا تھا۔ اس لئے وہ لوگ اتنا بڑا سکینڈل افورڈ نہ کر سکتے تھے۔ جس کی بنا پر خوشی کو چند دن کی زندگی دان دے دی گئی تھی۔

وہ جان چکی تھی کہ اس کی زندگی کی مہلت عدالت میں دیئے جانے والے بیان تک محدود ہے جب وہ وہاں جا کر اپنے باپ، بھائیوں کے حق میں بیان دے دے گی۔ اسی وقت اسے دی گئی مہلت زندگی اس کے پیاروں کے ہاتھوں ہی ختم کر دی جائے گی اور اب اپنی زندگی بچانے کیلئے جو کچھ کرنا تھا اسے اکیلی ہی کو کرنا تھا۔

QQQQ

”تمہارے پاس موبائل نہیں ہے؟“ سبرینہ نے اچانک ہی موبائل پر اپنی رنگ ٹون چیک کرتے ہوئے اس سے سوال کیا۔

”نہیں کیونکہ مجھے کبھی اس کی ضرورت ہی نہیں پڑی۔“ پلوشہ نے اطمینان سے جواب دیا۔

”ویل ڈن یار! آج کے اس جدید دور میں تم جیسی لڑکی کا پایا جانا ایک حیرت انگیز بات ہے۔“

وہ سمجھی نہیں کہ یہ تعریف تھی یا اس پر طنز کیا گیا ہے۔

”اور یہ تم کالج کس کے ساتھ آئی تھی۔ تمہارا بھائی تھا کیا؟“

اپنے کام میں مصروف سبرینہ کا انداز قطعی سرسری سا تھا۔ وہ سمجھ گئی کہ یہ سوال یقینا بالاج کے سلسلے میں کیا کیا ہے کیونکہ وہ آج اسے اور وریشہ کو کالج ڈراپ کرکے گیا تھا۔

”ہاں!“ اس نے تھوڑا سا سوچا اور چاٹ کھاتے ہوئے اطمینان سے جواب دیا کیونکہ سبرینہ کے مزید کسی سوال سے بچنے کا واحد حل ایک ہاں تھی۔

”یار! بڑا ڈیشنگ بندہ تھا۔ میری اس سے بات ہی کروا دو۔ ذرا ہم بھی ایک دو ڈیٹ مار لیں تمہارے بھائی کے ساتھ۔“ سبرینہ نے بے باک قہقہہ لگاتے ہوئے کہا جبکہ اس کی بات سن کر وریشہ کے کانوں کی لویں تک سرخ پڑ گئیں۔

”ڈونٹ وری یار میں مذاق کر رہی ہوں سیریس مت ہو جانا۔“

پلوشہ کے کچھ بولنے سے قبل ہی اس نے خود ہی وضاحت بھی کر دی۔ ”چلو جلدی آﺅ اکنامکس کا پیریڈ شروع ہو گیا ہے، جانتی ہو اگر لیٹ ہو گئے تو مسز رضوی نے کلاس روم میں داخل نہیں ہونے دینا۔“

وریشہ جو کچھ دیر قبل ہی آئی تھی جانے کیا سوچ کر اس نے پلوشہ کو بازو سے تھام کر کھڑا کر دیا جبکہ وہ جانتی تھی کہ ان کا یہ پیریڈ فری ہے کیونکہ آج مسز رضوی کالج ہی نہیں آئی تھیں پھر بھی بنا کچھ پوچھے خاموشی سے اس کے ساتھ چل دی۔

”میرا تو یہ پیریڈ فری ہے۔ میں جمنازیم جا رہی ہوں۔ تم لوگوں کا اگر موڈ ہو تو فارغ ہو کر وہیں آجانا۔“ گراﺅنڈ کی سوکھی گھاس سے کھڑے ہوئے سبرینہ نے اپنے کپڑے جھاڑے اور بڑی لاپروائی سے کہتی ہوئی اپنا بیگ تھام کر جمنازیم کی سمت چل دی۔

”مجھے تو یہ لڑکی بالکل پسند نہیں ہے۔“ وریشہ نے بے لاگ تبصرہ کیا۔

”کیوں اچھی بھلی تو ہے۔ اتنی لونگ اور کیئرنگ۔ جانے کیوں تم اس سے اتنا چڑتی ہو۔“ پلوشہ کو اس کا تبصرہ پسند نہ آیا وریشہ نے ذرا کی ذرا رک کر پلوشہ کے چہرے پر ایک نظر ڈالی جہاں چھائی ناگواری واضح طور پر محسوس کی جا سکتی تھی، ویسے بھی پچھلے کچھ دنوں سے وہ نوٹ کر رہی تھی کہ پلوشہ کا رویہ اس سے خاصا فارمل ہوتا جا رہا ہے پہلے والی گرم جوشی اس کے درمیان سے تقریباً مفقود ہو چکی تھی۔ اب وہ عام طور پر وریشہ کے بجائے سبرینہ کے ساتھ کو زیادہ اہمیت دینے لگی تھی بلکہ اکثر ہی وہ اور سبرینہ وریشہ کو چھوڑ کر غائب ہو جاتیں یہاں تک کہ کینٹین جاتے ہوئے بھی اس سے پوچھنا گوارا نہ کرتیں۔

”سوچ لو جس دن بالاج بھائی نے اسے تمہارے ساتھ دیکھ لیا اس دن تمہاری خیر نہیں ہے۔“ وریشہ نے دل ہی دل میں سبرینہ کے بے باک حلیے کا تصور کرتے ہوئے کہا۔

”سارا دن کالج میں کلاسز بنک کرتی ہے۔ ٹخنوں سے اونچی شلوار ہوتی ہے گریبان کے سارے بٹن بند کرنے کا اکثر ہی محترمہ کو ہوش نہیں ہوتا۔ سارا دن موبائل کا ہینڈ فری اس کے کان میں ہوتا ہے جانے ایسی چیپ لڑکی تمہاری چوائس کب سے ہو گئی، مجھے تو حیرت ہے اور ہاں تم نے شاید نوٹ نہیں کیا، ہر روز ایک نئی گاڑی گیٹ پر اس کی منتظر ہوتی ہے ایسے جیسے باپ کسی ریاست کا شہنشاہ ہو۔“

وریشہ نے اپنی کئی دنوں کی بھڑاس نکالتے ہوئے کہا۔

”ایک تو تمہاری فطرت میں شک بہت سے بالکل بالاج کی طرح۔ تم شاید نہیں جانتیں۔ اس کا بھائی رینٹ۔ اے کار کا بزنس کرتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا گاڑیوں کا شو روم بھی ہے تو ظاہر ہے رنگ برنگی گاڑیاں تو اسے لینے آئیں گی ہی جس دن جو گاڑی فارغ ہوتی ہے، ڈرائیور یا بھائی اسے پک کرنے آجاتا ہے۔“

”ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو بہر حال مجھے اس سے کیا لینا دینا۔ میرا کام تو صرف تمہیں سمجھانا تھا سو میں نے سمجھا دیا۔ اب آگے تمہاری مرضی ہے جو دل چاہے کرو۔“

وریشہ کا موڈ واضح طور پر خراب ہو چکا تھا۔ اب وہ بنا رکے آگے بڑھ گئی پلوشہ نے اسے روکنے کی کوشش بھی نہ کی اور ایسا شاید اتنے سالوں میں ان کے درمیان پہلی بار ہوا تھا کہ وہ کسی دوسرے کی وجہ سے ایک دوسرے سے ناراض ہوئی تھیں۔

QQQQ

جاری ہے ۔۔۔۔۔۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

خون ریز امجد جاوید قسط نمبر9

خون ریز امجد جاوید قسط نمبر9 ” میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ انہوں نے کوئی …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے