سر ورق / یاداشتیں / اردو کہانی کا سفر 16 ویں قسط اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر 16 ویں قسط اعجاز احمد نواب

اردو کہانی کا سفر 16 ویں قسط
تحریر اعجاز احمد نواب
✍️✍️✍️✍️✍️جب سے.. اردو کہانی کا سفر.. شروع ہوا ہے کچھ گڑ بڑ شروع ہو گئی ہے، فرینڈز ریکؤیسٹس کی تعداد میں اچانک اضافہ ہو گیا ہے 5000 دوستوں کی فہرست بھر چکی ہے روزانہ کی بنیاد پر صفائی کر کے دس سے بیس آُن دوستوں کو خدا حافظ کہتا ہوں، جن کی پروفائل میں صرف سیاسی پوسٹس یا سیلفیاں نظر آتی ہیں یا پھر عرصہ دراز سے کومے میں ہیں، اس کے علاوہ ایک مسئلہ ان باکس میں آنے والی ڈاک ہے، اور بے وجہ میسنجر کالز ہیں، جو خوامخوا طویل گفتگو کرنا چاہتے ہیں جب کہ میری کال کا اوسط دورانیہ 30سیکنڈ ہے، علاوہ ازیں بے شمار ایسے دوست جن کے ایک دو شعری یا افسانوی مجموعے سیلف فنانس کے تحت چھپے ہیں ، وہ بضد ہیں کہ ہمارا اور ہماری کتابوں کا تزکرہ اردو کہانی کا سفر میں لازمی کیا جائے، ایسے تمام دوستوں اور دوستیوں سے دست بستہ عرض ہے، کہ میں معزرت خواہ ہوں، آپ ابھی محنت جاری رکھیں، پیسے خرچ کر کتاب چھاپ کر مفت تقسیم کے بجائے صرف مختلف رسائل و جرائد میں زیادہ سے زیادہ چھپنے کی کوشش کریں، تاوقتیکہ قارئین آپ کی تحریریں کتابی شکل میں دیکھنے کا تقاضہ شروع کردیں،
خود کتاب شائع کرنا اتنا آسان ہوتا تو آج تمام معروف شاعر ومصنفین اپنی کتابیں خود شائع کر رہے ہوتے، ہاں کئی ایک نے کوشش کی بھی لیکن پھر آخر کار کسی پبلشر کے پاس چلے گئے، پبلی کیشنز پوری سائنس ہے، لائبریری سائنس پر بے شمار کتب بھی موجود ہیں، بہت کم ایسی مثال ملے گی کہ مصنف اپنی کتابوں کا خود ہی پبلشر ہو، اور کامیاب بھی ہو، میرے سامنے درجنوں ایسے نامی گرامی مصنفین ادیب و شعراء موجود ہیں، جنہوں نے خود اپنی کتابیں شائع کرنے کی کوشش کی، لیکن کام یاب نہ ہو پائے اور آخر کار کسی نہ کسی پبلی کیشنز ادارے کو اشاعت کا کام سونپنا پڑا،
معروف ڈائجسٹوں کے ان گنت مدیران بھی ہیں، جنہوں نے سمجھا کہ یہ ڈائجسٹ میری وجہ سے چل رہا ہے، اسی زعم میں اپنا ڈائجسٹ نکالا لیکن بات دو تین شماروں سے آگے نہ بڑھ پائی


ہمارے ہاں کسی بھی لکھنے والے کو تاریخی معلوماتی حوالہ جاتی اور نصابی کتابوں میں زندہ رہنے کے لئے چند غزلیں کچھ افسانے اور ایک آدھ مشکل ترین اردو والا ناول درکار ہوتا ہے اور بس….. اس کے علاوہ اگر آپ سو دوسو ناول لکھ ماریں لاکھوں قارئین آپ کو پسند کرتے ہوں، تو بھی……. آپ کی داستاں تک نہ ہو گی داستانوں میں… اس بات پر پھر کبھی لائٹ ماری جائے گی، چند روز پہلے… ایک پبلشر اشرف بک ایجنسی پر اپنے کاروباری سلسلے میں آئے، جب واپس جانے لگے، تو شدید بارش شروع ہوگئی، انہوں نے فیض آباد سکائی ویز بس اڈے جانا تھا، اتفاق سے میں عین اسی وقت اپنے کسی کام کے سلسلے میں”بلیو ایریا’ اسلام آباد کے لئے اپنی گاڑی میں نکل رہا تھا، لہذا اُن کو ساتھ بٹھا لیا کہ چلو راستے میں ڈراپ کرتا جاؤں گا،
مری روڈ پر ٹریفک کا اژدہام، بادلوں کی گرج اور بارش کی یلغار نے مل کر عجب طوفان بدتمیزی بپا کر رکھا تھا، دس منٹ کا فاصلہ آدھ گھنٹہ میں پار ہوا، خیر وہاں تک پہنچتے پہنچتے بارش آہستہ ہو گئی ، ابھی وہ صاحب گاڑی سے اتر کر الوداعی کلمات ادا کر ہی رہے تھے، کہ فٹ پاتھ سے ہٹ کر شیڈ کے نیچے ابر آلود بارشی ملگجے میں مجھے ایک جانا پہچانا پْررونق چہرہ دکھائی دیا، میں نے فوراً کرخت ہارن اور روشنیوں کے تیز ڈِپر سے متوجہ کیا، میری کوشش کامیاب رہی انہوں نے دیکھ لیا، اور پھر اگلے ہی لمحے وہ گاڑی میں تھے، آپ میں سے اکثر لوگ انہیں نہ جانتے ہوں گے، لیکن میری اْن سے شناسائی چھتیس برسوں پر محیط ہے، حسب عادت نہایت گرم جوشی اور کھلکھلاتے انداز میں ملے، انہیں میں نے بتا دیا کہ پہلے اسلام آباد جائیں گے، بولے جس طرح طبعیت کرے مسئلہ ہی کوئی نہیں……
امتیاز علی صاحب کم از کم. میرے لئے امتیازی حیثیت رکھتے ہیں، نرم گوئی اور عاجزی اِن کا طْرّہ امتیاز ہے، آج سے چونتیس برس قبل جب میں نے اپنے پبلی کیشنز ادارے کی بنیاد رکھی تو کتاب چھاپنے سے متعلق میری معلومات کوئی خاص نہ تھیں، تب یہی شخص تھا جس نے میری راہنمائی کی، ان کی ساری زندگی بھی قلم اور کتاب کے گرد گھومتی رہی ہے آپ 17دسمبر 1960 لاہور میں پیدا ہوئے، گریجویشن تک تعلیم حاصل کی،، آٹھویں جماعت میں تھے، جب ان کی پہلی تحریر ایک مضمون کی شکل میں روزنامہ نوائے وقت لاہور کے چلڈرن ایڈیشن میں… ولٹینا ترشکودا… کے نام سے چھپی، جو کہ خلا میں جانے والی دنیا کی پہلی (روسی) خلا بازخاتون ہیں،
اس کے بعد ایک عرصہ تک روزنامہ مشرق لاہور کے چلڈرن ایڈیشن جس کے انچارج غلام محی الدین نظر تھے میں کہانیاں لکھتے رہے، جہاں تحریروں کی درستی… انتظار حسین… کرتے تھے، امتیاز علی صاحب کو فی تحریر 25 روپے معاوضہ ملتا تھا، آپ کا بچوں کے لئے پہلا ناول.. موت کے مہنہ میں.. 1979 میں مکتبہ القریش سے چھپا جس کے مالک محمد حفیظ قریشی تھے اس ناول کا معاوضہ 150 روپے انہیں ملا، اس کے بعد یکے بعد دیگرے اسی ادارے سے ان کے بچوں کے ناول مردے کا خط، زندہ لاشیں، پتھر کی لاشیں وغیرہ چھپتے چلے گئے، تقریباً 80کے قریب بچوں کے ناول مکتبہ القریش سے چھپے، بعدازاں مکتبہ اقراء سے جلال انور صاحب نے ان کے جاسوس انکل احمد یار خان سیریز کے 100کے قریب ناول شائع کئے، … یہاں ایک چونکا دینے والی قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ جناب محترم امتیاز علی صاحب نے میرے ساتھ ایک ملاقات میں یہ دعوٰی کیا تھا جن دنوں وہ مکتبہ اقرا سے جاسوس انکل احمد یار خان سیریز لکھ رہے تھے انہی دنوں اے حمید صاحب اسی ادارے کے لئے عنبر ناگ ماریا کے واپسی سیریز لکھ رہے تھے ان دنوں اے حمید صاحب کو اچانک وائس آف امریکہ میں اچھی جاب آفر ہوئی اور وہ ملک سے باہر چلے گئے یوں عنبر ناگ ماریا کے کتابوں کی اشاعت میں تعطل آگیا، تو مکتبہ اقراء کے مالک جلال انور صاحب کی فرمائش پر عنبر ناگ ماریا کی واپسی کے غالباً 21نمبر سے 45نمبر تک کے 25ناول انہوں( امتیاز علی صاحب) نے لکھے تھے جن پر بطور مصنف اے حمید صاحب کا نام ہی آیا تھا، امتیاز صاحب نے پہلی باقاعدہ جاب روزنامہ مغربی پاکستان لاہور میں کی، جہاں وہ خواتین اور بچوں کے صفحات کے ایڈیشن انچارج تھے،اس کے بعد روزنامہ نوائے وقت کے لئے سنڈے میگزین میں بچوں کے صفحات کے انچارج کے طور پر جناب ضیا شاہد کی ماتحتی میں کام کیا،
معروف فلمی ہفت روزہ… اجالا بھی کافی عرصہ ایڈٹ کیا، امتیاز علی صاحب کو 24شماروں تک ماہنامہ بچوں کی دنیا کا مدیر رہنے کا اعزاز بھی حاصل ہے
اس کے بعد امتیاز علی صاحب کچھ عرصہ علیم پبلشرز کے ساتھ وابستہ رہے، جہاں ان کا کام معلوماتی کتب کی تالیف و تدوین تھا 50 کے لگ بھگ معلوماتی کتب ان کی صرف علیم پبلشرز لاہور سے شائع ہوئیں، علیم پبلشرز کے مالک علیم قریشی مکتبہ القریش والے حفیظ قریشی کے بڑے صاحبزادے تھے ، ان کے ہاتھوں میں رعشہ تھا، ہر وقت ان کی ٹیبل پر ایک پاکٹ ریڈیو دھرا رہتا جس پر چمڑے کا غلاف مڑا ہوا تھا، علیم پبلشرز کا دفتر اردو بازار لاہور میں قزافی مارکیٹ کی دوسری منزل پر تھا وہ زیادہ تر معلومات عامہ کی اور بچوں کی چھوٹی کہانیاں جن کی قیمت پچاس پیسے اور ایک روپیہ ہوتی شائع کرتے، علیم قریشی صاحب اب وفات پا چکے ہیں، ان کا مزید تعارف یہ ہے کہ وہ دور حاضر کے جانے پہچانے اشاعتی ادارے القریش پبلی کیشنز کی محمد علی صاحب کے بڑے بھائی تھے، محمد علی زیادہ تر ڈائجسٹوں کی خواتین مصنفین کے ناول شائع کرتے ہیں، تاہم انوار علیگی، انوار صدیقی اور ایم اے راحت کے ان گنت ناول بھی انہوں نے ہی شائع کیے ہیں
ہم بات کر رہے ہیں امتیاز علی صاحب کیَ علیم پبلشرز اور امتیاز علی کا ساتھ شاید تین برس پر محیط رہا، 1980 میں کرکٹ ورلڈ کپ کے موقع پر امتیاز علی نے علیم پبلشرز کے لئے ایک کتاب کا مسودہ تیار کیا، جس کا نام تھا، 200عظیم کرکٹرز، اس مسودے کے معاوضے پر دونوں کے درمیان کچھ اختلافات پیدا ہوگئے، جس کی بناء امتیاز صاحب نے علیم پبلشرز سے علیحدگی اختیار کر لی، اور پھر یہ کتاب نقش پبلی کیشنز سے شائع ہوئی، امتیاز علی صاحب کچھ عرصہ نقش پبلی کیشنز کے ساتھ وابستہ رہے، اور آخر کار آپ نے 1983 میں اپنے ذاتی پبلشنگ ادارے مکتبہ امتیاز کی بنیاد رکھی، آپ کی ساری زندگی محنت اور جدوجہد سے عبارت ہے ، مکتبہ امتیاز، نے سینکڑوں کتابیں شائع کیں، آپ کا شمار ان پبلشرز میں ہوتا ہے، جو ناشر ہونے کے ساتھ ساتھ منجھے ہوئے مصنف بھی ہیں آخر میں یہ بات کہنا ضروری سمجھتا ہوں کہ، میں امتیاز علی صاحب کا زیادہ احترام اس لئے بھی کرتا ہوں، کہ جب میں بحثیت پبلشر پہلی دو کتابیں شائع کرنے کی کوشش کر رہا تھا، تو اس وقت (1985میں) برادرم امتیاز علی نے میری انگلی تھام کر راہنمائی فرمائی تھی،… امتیاز علی صاحب.. انجمن تاجران اردو بازار لاہور کے سیکرٹری انفارمیشن ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ پبلشرز اینڈ بک سیلرز ایسوسی ایشن کے سیکرٹری انفارمیشن بھی ہیں
################# یہ آج سے تیس سال پرانی بات ہے، اعجاز رسول صاحب کی پرواز علی الصبح اسلام آباد کے بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اتری، جسے مقامی زبان میں چکلالہ ائرپورٹ کہا جاتا ہے، راولپنڈی سے دور والے قارئین کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ اسلام آباد ائر پورٹ مری روڈ سے صرف 3کلومیٹر تھا، تاہم اب نیا ائر پورٹ فتح جنگ راولپنڈی سے 30 کلومیٹر دور ہے، اور پنڈی اسلام آباد کے قارئین کی دلچسپی کے لیے کہنا چاہوں گا کہ اس زمانے میں ائر پورٹ سے مشرق کی سمت بحریہ ٹاؤن کا نام و نشان تک نہ تھا، اور نہ ایکسپریس وے پر کوئی نجی سوسائٹی تھی، ہاں سکیم تھری کی ابتدائی ڈویلپنگ ہو رہی تھی، عمار چوک اس وقت کسی دور افتادہ علاقے کا ٹی چوک محسوس ہوتا تھا اور ائر پورٹ سے ملحقہ راول روڈ، کا وجود سِرے سے موجود ہی نہ تھا،
میرے پاس سوزوکی ڈبہ تھا ایک پرانا سا، میرے ساتھ میرے دوست جاوید اقبال چٹھہ تھے، جو کاتب تھے اور کتابت کرتے تھے ان تعلق پنجاب کے ضلع گوجرانوالہ کی تحصیل وزیر آباد کے قصبہ علی پور چٹھہ کے گاؤں حضرت کیلیانوالا سے ہے، اس گاؤں کی خصوصیات یہ ہیں کہ یہاں کا ہر چوتھا مرد کاتب تھا، اور پاکستان میں سب سے زیادہ قرآن مجید اسی گاؤں کے کاتبوں کے ہاتھ سے لکھے ہیں، جاوید اقبال چٹھہ آج کل وزیراعظم سیکٹریٹ میں ہوتے ہیں اور ریٹائرمنٹ کے بالکل قریب ہیں،
✍️✍️✍️✍️✍️✍️✍️اعجاز رسول صاحب ائر پورٹ سے باہر آئے تو ہم نے ان کا پر تپاک خیر مقدم کیا، اور سوزوکی ڈبہ میں بٹھا کر ایرپورٹ روڈ سے گریسی لائن کے راستے چکلالہ روڈ پر آئے اعجاز رسول آج بڑے فریش اور بے تکلف دکھائی دے رہے تھے، کہنے لگے یار پہلے کہیں سے نہاری کا ناشتہ کرواؤ،، ہم انہیں بھابڑا بازار…………… نہاری والے کی دوکان پر لے گئے، (یہ وہی نہاری والے ہیں جو آجکل لال حویلی کے پاس اردو بازار چوک راولپنڈی میں نہاری کی دوکان کرتے ہیں) گرما گرم نہاری کے ساتھ گرم گرم تازہ نان( کلچے) سے سیر ہونے کے بعد ، برکت ٹی سٹال کوھاٹی بازار چوک سے انہیں کڑک چائے پلائی، اور یوں آٹھ ساڑھے آٹھ بجے کے قریب انہیں ایک اچھے ہوٹل میں کمرہ بک کروا کر دیا، اور واپس چل دئیے، یہ اعجاز رسول صاحب سے پہلی بےتکلفانہ اور مجموعی طور پر دوسری ملاقات تھی، اگلی صبح انہیں ہم ایمبیسی (اسلام آباد) لے کر گئے انہوں نے ویزہ لگوانا تھا، اب یہ یاد نہیں کہ کہاں کا…. بعد دوپہر واپسی ہوئی اور ہم نے انہیں ائر پورٹ ڈراپ کر دیا

،
✍️✍️✍️✍️✍️اس کے کافی عرصہ بعد اعجاز رسول پھر پنڈی آئے ان کابیٹا ساتھ تھا نام مجھے یاد نہیں ، البتہ وہ اس کو کاکا کہہ کر پکارتے تھے، اب کی بار اس کے ویزے کا معاملہ تھا، دوپہر کے بعد راولپنڈی واپس آئے تو کھانا کھانے کے بعد انہیں دفتر میں بٹھا دیا واپسی کی فلائٹ شام کو تھی، ابھی چند گھنٹے باقی تھے، مجھے کوئی کام تھا، میں نے عرض کی کہ آپ یہاں بیٹھیں چائے پیئں، اور باپ بیٹا باتیں کریں، میں گھنٹہ ڈیڑھ گھنٹے تک واپس آتا ہوں، تو اس موقعہ پر اعجاز رسول صاحب نے ایک تاریخی جملہ ادا کیا کہ، باپ بیٹا کیا باتیں کریں اور کتنی دیر باتیں کر سکتے ہیں،….. بظاہر تو یہ ایک عام سا جملہ تھا لیکن جانے کیوں اس وقت سے میرے ذہن میں اٹک گیا، پھر وقت کے ساتھ ساتھ مجھے ادراک ہوا کہ واقعی ماں بیٹی تو گھنٹوں ایک دوسرے کے ساتھ باتیں کر سکتی ہیں لیکن باپ(خصوصاً جوان) بیٹے کے ساتھ زیادہ دیر اور بے تکلفانہ گفتگو نہیں کرسکتا،
✍️✍️✍️✍️✍️چند سال بعد وہ پھر آئے اب کی بار انہوں نے مجھے راولپنڈی پہنچنے کے بعد فون کیا، اور کہا کہ میں پنڈی آیا ہوا ہوں اور پی سی ہوٹل( مال روڈ) پر ٹھہرا ہوں یہ شام سات بجے کا عمل تھا، کہنے لگے کہ ساتھ میں اہلیہ اور بیٹی( عنبرین اعجاز) ہے
پھر کہنے لگے یار آپ کہیں سے تکے کباب لے آئیں، اور ہاں آپ نے بھی کھانا یہاں آکر کھانا ہے، میں اور جاوید چٹھہ نے تکے کباب چٹنی اور روٹیوں کا بڑا سا پارسل بنوایا اور پرل کانٹینینٹل مال روڈ پہنچ گئے، اعجاز رسول ہمیں اتنی جلدی پہنچتا دیکھ کر بہت خوش ہوئے، تکے کبابوں کے دو حصے کر کے ایک حصہ زنانے میں بجھوا دیا، اعجاز صاحب نے ہمارے ساتھ کھایا، اور الحمد للہ کہہ کر بولے بہت مزہ آیا ، تم لوگوں کو اس لئے بلایا کہ وگرنہ مجھے پرہیزی کھانا…کھانا پڑتا پھر قدرے وقفہ سے بولے کل صبح ہمیں ٹیکسلا کے کھنڈرات دِکھانے ہیں..
اگلی صبح… میں ان کو اپنی آلٹو گاڑی میں لے کر ٹیکسلا کی سمت روانہ ہو گیا، ٹیکسلا راولپنڈی کی تحصیل ہے… اور پشاور کی جانب تقریباً 30 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے، یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ راولپنڈی کی تقریباً تمام تحصیلیں پاکستان بھر میں اپنی گو ناگوں خصوصیات کی بناء پر پہچانی جاتی ہیں،
✍️مثلاً تحصیل راولپنڈی… پاکستانی افواج کا صدر مقام ہے، ✍️تحصیل کہوٹہ.. ڈاکٹر عبدالقدیر خان جوہری لیبارٹری کی وجہ سے مشہور ہے ✍️تحصیل مری.. ملکہ کوہسار، پنجاب کا بلند ترین مقام پتریاٹہ.. اور پاکستان بھر میں سب سے زیادہ بارش والا مقام. ✍️گوجر خان.. سکھوں کے دور میں صدر مقام رہا ہے، کہتے ہیں کہ پاکستان میں سب سے زیادہ نشانِ حیدر اور فوجی اعزازات گوجر خان نے حاصل کیے ہیں ✍️اور ٹیکسلا.. پانچ ہزار سال پرانی گندھارا تہزیب کے کھنڈرات کی وجہ سے عالمی شہرت یافتہ ہے،، یہاں قدم قدم پر پرانی تہزیب کے آثار ہیں،
✍️✍️✍️✍️✍️مزید یہ کہ راولپنڈی پاکستان کا عبوری دارالحکومت رہا، قارئین کی دلچسپی کے لئے بتانا چاہوں گا کہ اسلام آباد نے راولپنڈی کی کوکھ سے جنم لیا ہے، پورے کا پورا اسلام آباد راولپنڈی کی حدود میں بنا تھا، جسے اسلام آباد کا نام دے دیا گیا، اس وقت بھی اسلام آباد کے ایک جانب مارگلہ کی پہاڑیاں اور تین اطراف راولپنڈی ہے، پاکستان کے پہلے وزیر اعظم لیاقت علی خان اور پہلی خاتون وزیراعظم بے نظیر بھٹو کو اسی شہر کے لیاقت باغ میں شہید کیا گیا، پیپلز پارٹی کے بانی اور چئیرمین ذوالفقار علی بھٹو جن کو پاکستان کا صدر اور وزیراعظم رہنے کا دوہرا اعزاز حاصل ہے، انہیں اسی شہر میں سپریم کورٹ ( موجودہ University Riphah ) میں پھانسی کی سزا سنائی گئی اور راولپنڈی جیل( موجودہ جناح پارک )
میں پھانسی دی گئی، سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کاتعارف بھی راولپنڈی( کی تحصیل مری) ہے پاکستان میں سب سے زیادہ قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہونے والے دو سیاستدان ہیں چوہدری نثار علی خان اور شیخ رشید احمد دونوں کا تعلق راولپنڈی سے ہے، ایشیا کی سب سے بڑی نجی رہائشی سوسائٹی بحریہ ٹاؤن اور ملک ریاض حسین بھی راولپنڈی کی پہچان ہیں
✍️✍️✍️✍️✍️بات ہو رہی تھی اعجاز رسول صاحب کی جو کہ سسپنس جاسوسی پاکیزہ سرگزشت ڈائجسٹوں کے مالک معراج رسول کے سگے بھائی تھے، اور اپنی فیملی کے ہمراہ میرے ساتھ ٹیکسلا جا رہے تھے، وہاں میں نے انہیں میوزیم سمیت بے شمار کھنڈرات دکھائے، ایک جگہ مہاتما بدھ کا سٹوپا ہے، جہاں کوئی ہزاروں سال پرانی عمارت ہے شاید اسے بْدھا یونیورسٹی کہا جاتا ہے (مجھے ٹھیک سے یاد نہیں) ستر اسی سیڑھیاں چڑھ کر اوپر جانا پڑتا ہے، وہاں جا کر اعجاز رسول صاحب کی اہلیہ کی ہمت جواب دے گئی اور انہوں نے اوپر جانے سے انکار کر دیا، تو اعجاز رسول صاحب بھی ان کے پاس ہی بیٹھ گئے، اور پھر میں نے محترمہ عنبرین اعجاز صاحبہ کو بدھا کا وہ سٹوپا گھمایا پھرایا اور واپس آگئے،
✍️✍️✍️✍️✍️ایک بار میں کراچی گیا( اس سے پہلے بھی گیا تھا) تو جاسوسی ڈائجسٹ کے آفس چلا گیا اعجاز رسول صاحب کو ملنے، آئی آئی چندریگر روڈ جہاں قریب سب رنگ کا آفس بھی تھا، قومی اخبار کے ساتھ ہی راستہ چند سیڑھیاں اوپر چڑھ کر جاتا تھا، یہ کوئی پرانی عمارت تھی، کافی چہل پہل اور رونق تھی، ریسیپشن پر سانولی فربہ کرخت تنک مزاج خاتون تھی میں نے اعجاز رسول صاحب کا پوچھا، تو گھور کر دیکھا، کہاں سے آئے ہیں پنڈی سے میں نے تحمل سے کہا نیوز ایجنٹ ہیں ہمارے؟؟ نہیں میں نے نفی میں سر ہلا دیا کتابیات پبلیکیشنز کا ڈسٹری بیوٹرز ہوں، اْدھر بیٹھ جاؤ انتظار کرو ابھی آئے نہیں،
✍️آدھ گھنٹہ گزر گیا لیکن انتظار ختم نہ ہوا تو میں کسمسانے اور اِدھر اُدھر دیکھنے لگا، اور اٹھ کر ٹہلنے اور تاکا جھانکی میں مصروف ہوگیا ، ایک کیبن میں کوئی بھلا مانس اکیلے پایا تو غڑاپ سے اندر، اپنا تعارف کروا کر اعجاز رسول صاحب کا پوچھا، تو انہوں نے بیٹھنے کا اشارہ کیا، اور خوش اخلاقی سے متوجہ ہوگئے، سمارٹ سے پان کھانے والے صاحب تھے، ان کے بتانے سے پتہ چلا کہ وہ اقلیم علیم ہیں، میرا شمار قارئین میں بھی ہوتا ہے، فوراً ان کے دو چارسلسلوں مفرور وغیرہ کے نام گنوائے تو گفتگو کا راستہ کھل گیا، اقلیم علیم اس ادارے کے جنرل ایڈیٹر ہیں، اور پھر وقت کا پتہ ہی نہ چلا، پتہ اس وقت لگا جب انٹر کام سے اقلیم صاحب کے ساتھ کسی نے بات کی، اور وہ اپنی نشست سے کھڑے ہو گئے اور آئیں میرے ساتھ کہہ کر چل پڑے
✍️وہ مجھے اعجاز رسول صاحب کے پاس لے کر پہنچ گئے، اعجاز رسول صاحب نے اپنی نشست سے کھڑے ہو کر گلے لگا کر عزت بخشی، اور اقلیم علیم صاحب، ہاتھ ملا کر رخصت ہو گئے، پھر جو چائے اور خوش گپیوں کا دور شروع ہوا تو گھڑی کی سوئیاں پر لگا کر اڑنے لگیں،ہر ڈائجسٹ ہر مصنف زیر بحث آیا، اعجاز رسول صاحب تو پورا انسائیکلوپیڈیا تھے اس موضوع پر، اے کاش کہ اس وقت سمارٹ فون ہوتا، میں باتوں کا وہ خزانہ ریکارڈ کرلیتا، اے بسائے آرزو کہ خاک شدہ، دوپہر کا پرتکلف کھانا انہوں نے کھلایا، اتنے میں ایک خوش لباس خوش گفتار صاحب آئے، جن کا تعارف اعجاز رسول صاحب نے.. انور فراز.. کہہ کر کروایا، یہ اس وقت سسپنس ڈائجسٹ کے مدیر تھے، ان سے چند جملوں کا علیک سلیک کی صورت تبادلہ ہوا، اور اس وقت سے لے کر آج تک دوبارہ انور فراز صاحب سے ملاقات نہ ہوئی، تاہم اس بات کے 25 برس بعد ان سے چند ماہ پیشتر کانفرس فون پر بات ہوئی، اس کانفرس فون میں حاصل پور سے نام ور رائٹر امجد جاوید، کراچی سے انور فراز اور راولپنڈی سے میں شامل تھا، اسی فون میں ہم نے بالمشافہ ملاقات کا عزم کیا ہے، دیکھیں کب ملاقات ہوتی ہے انور فراز صاحب سے…… یادش بخیر یہ ان وقتوں کی بات ہے جب ابھی جاسوسی ڈائجسٹ پبلی کیشنز کی تقسیم کاری کے حقوق ہمارے پاس نہ تھے، ہاں کتابیات پبلی کیشنز اور مکتبہ نفسیات کے ساتھ اسی ادارے کا ایک ڈائجسٹ ماہنامہ نفسیات ہمارے پاس آتے تھے، میرے کراچی جانے کے دو مقاصد تھے، پہلی بات میں اپنے اشاعتی ادارے نواب سنز پبلی کیشنز کی اُگرائی (بلز کی وصولی) اور کتابوں کے نئے آرڈرز کا حصول دوسرا اشرف بک ایجنسی کے کچھ کاروباری کام، قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب میں سسپنس کے آفس گیا معراج رسول صاحب بیرون ملک تھے، لہذا ان سے ملاقات نہ ہو پائی،
(جاری ہے)
تحریر اعجاز احمد نواب
مصنفین مدیران تاجرانِ کتب قارئین ناشرین ڈائجسٹوں اور ناولوں کی باتوں ملاقاتوں کی یہ طلسمِ ہوش رُبا، یہ ہزار داستان رنگارنگ، داستانِ طولانی ہنوز جاری ہے
قسط نمبر 16 میں ملئے اْن ایڈیٹر سے جن کو پاکستان میں شاید… سب سے زیادہ ڈائجسٹ( رسالے میگزین) کا مدیر رہنے کا اعزاز حاصل ہے، اردو، مطالعہ کتاب ڈائجسٹ کے فروغ میں حصہ ڈالنے کے لئے اردو کہانی کا سفر کی اس پوسٹ کو شیئر ضرور کر دیجئے گا، لائک اور کمنٹ کرنا نہ بھولئے… اعجاز احمد نواب کو اجازت دیجئے اللہ پاک آپ کا حامی و ناصر ہو ……. اللہ حافظ….

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

اردو کہانی کا سفر اعجاز احمد نواب  نمبر 14

اردو کہانی کا سفر اعجاز احمد نواب  نمبر 14 ہماری اماں بالکل ان پڑھ ہیں …

ایک تبصرہ

  1. Avatar

    محترم ، پبلشرز اور پبلی کیشنز کے داع میں آپکا بیان جزوی طور پہ تو درست ہوسکتا ہے یا کم ازکم پنجاب اور اسلام آباد کی حد تک مکمل طور پہ بھی درست ہوسکتا ہے لیکن سندھ خصوصاً کراچی کے حوالے سے بالکل درست نہیں کیونکہ یہاں پہ غیر نصابی مطالعے کا رجحان بیحد کم ہے اور اس صورتحال میں کتاب چھپوانا اور بیچنا نہایت مشکل کام ہے اور اس مشکل صورتحال کا بھرپور فائدہ پبلشرز نے اٹھایا ہے کہ جن کا یہاں پہ مکمل راج ہے اور سوائے ملکی سطح پہ گنے چنے مشہور مصنفین و شعراء کے ، باقی کو وہ ایک لاٹھی سے ہانکتے ہیں – اور کتاب چھپوانے والے مکمل طور پہ انکے رحم و کرم پہ ہوتے ہیں ۔۔
    ہمارے عام شاعروں کے شعری مجموعے تو قطعی طور پہ فروخت نہیں ہوتے اور کسی حد تک یہی معاملہ تحقیقی و ثقیل علمی کتب کے ساتھ بھی ہے لیکن تکیئے کے نیچے رکھی جانے والی کتب اور طنز و مزاح ، فکشن ، جاسوسی ادب ۔ اسپورٹس ، غیر پارلیمانی طبی مشوروں والی کتب ، خواتین کی دلچسپیوں والا مواد وغیرہ تو خاصا بک جاتا ہے لیکن انکے مصنفوں کو بھی اس کا فائدہ بقدر اشک بلبل ہی ہواتا ہے کیونکہ کتاب چھاپنے والا ناشر پرانے پرنٹنگ میٹریل سے کئی کئی ایڈیشن نکال کے چپ چاپ بیچتا رہتا ہے اور مصنف کو اسکی کتب سے بھرے اپنے شیلف دکھا کے انکی فروخت نہ ہونے کا بہانہ بناتا رہتا ہے –

    ایک بات آپکے گزشتہ ایک کالم کی بابت یہ عرض ہے کہ آپنے گیارہویں قسط میں اردو کی تاریخ کے حوالے سے اسکا ایک ماخذ آریائی زبان کے ایک لفظ آرد کو قرار دیا تھا جس پہ میں نے اس کالم کے آخر میں تبصرے کی جگہ پہ آپ سے اس حوالے کی بنیاد اورسند بتانے کو کہا تھا لیکن آپنے ابتک اسکا کوئی جواب ہی نہیں دیا کیونکہ اس ضمن میں ہوئی تحقیق کے حوالے سے میں نے جو بھی کچھ پڑھا ہے اس میں یہ بات کبھی نظر سے نہیں گزری لہٰذا میں ایک بار پھر آپ سے اس حوالے کی بابت اتفسار کررہا ہوں ، امید ہے کہ اس مرتبہ جواب ضرور دیں گے
    گے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے