سر ورق / افسانہ / سسکی تحریر : بشرٰی دلدار ساہیوال ۔ پاکستان

سسکی تحریر : بشرٰی دلدار ساہیوال ۔ پاکستان

عالمی افسانہ میلہ
افسانہ نمبر 57
عنوان : سسکی
تحریر : بشرٰی دلدار
وہ دبے قدموں کمرے میں داخل ہوئی اور بہت آہستگی کے ساتھ جہازی ڈبل بیڈ کے ایک کونے پر سمٹ کر بیٹھ گئی ۔ سینے میں اٹکی ہوئی سسکی کو بہت آہستگی سے باہر نکالا اور تکیہ اٹھا کر اس کے نیچے ڈال دیا جہاں گزشتہ شب کی بے شمار سسکیاں پہلے سے موجود تھیں اور یوں کلبلا رہی تھیں کہ اس کا دل اچھل کر حلق میں آ گیا ۔بے اختیار اس نے تکیہ نیچے رکھ دیا اور دزدیدہ نگاہوں سے اپنے مجازی خدا کو دیکھا ۔ گہری نیند میں بھی اس کے ماتھے کے دو بل عدد 11 (گیارہ ) کی صورت موجود تھے اور جاگتے میں تو گیارہ سے ایک سو گیارہ کا نشان بن جاتا تھا ۔ صد شکر سوتے میں تو ماتھے کا ایک بل کم ہو جاتا ہے ۔
ایک اور مشقت طلب دن اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا لیکن رخصت ہونے سے پہلے ، صبا کی جھولی میں سسکیوں کے ان گنت جھنکتے سکے ڈال کر خود اپنے منہ پر کالی چادر اوڑھ کر گہری نیند میں ڈوبا ہوا تھا ۔رات بھی اس وقت اتنی سیاہ لگ رہی تھی جتنے اس کے نصیب ۔ نہیں ، شاید اس کے نصیب سے کچھ کم سیاہ تھی کیونکہ اس گہری رات کے دامن میں کچھ تارے ٹمٹما رہے تھے لیکن اس کا دامن تو خالی تھا ۔ لاشعوری طور پر وہ اپنا دامن گود میں پھیلا کر غور سے دیکھنے لگی ۔ اچانک دوپٹے کے پلو سے لگی گرہ پر نظر پڑی تو ہولے سے مسکرا دی ۔ وہی عورتوں والے کام ۔۔۔ خاص اور ضروری چیزوں کو پلو سے باندھ کر رکھنے والی عادت ۔ پھر من ہی من میں خود کو تسلی دی ” لو ، اگر دامن خالی ہے تو کیا ہوا ، میرے آنچل کے پلو میں تو خزانہ محفوظ ہے اور خزانہ بھی اتنی کثیر مقدار میں کہ مجھے آنچل کے چاروں پلوؤں سے باندھنا پڑا ۔” پھر کچھ سوچ کر اس نے اپنے خزانے کو اطمینان سے دیکھنے کا فیصلہ کیا ۔ سب سے بھاری پلو کو کھولا تو شبِ عروسی کے بھاری بھرکم غم بندھے تھے ۔ کمرے کی نیم تاریکی میں وہ پلو کھول کر آنکھوں کے قریب لا کر غور سے ان غموں کو دیکھنے کی کوشش کرنے لگی ۔ اس نے دیکھا کہ وہ کمرے میں دلہن بنی بیٹھی ہے اور کان دروازے کی آہٹ پر لگا رہے ہیں ۔ اچانک دروازہ کھلا اور اندر آنے والا ایسے داخل ہوا جیسے کوئی بچہ اپنی پسند کا کھلونا نہ ملنے پر دھپ دھپ کر کے چلتا ہے ۔ صبا کا دل اتھل پتھل ہو رہا تھا لیکن آنے والے کے لئے ایک نازک اور شرمیلی سی مسکان اس کے لبوں پر سج گئی ۔۔۔ اور یہی غضب ہوا ۔ جواب میں آنے والا دھاڑا ” میری زندگی ، میری خوشیوں کو آگ لگا کر تمہیں بہت خوشی ہو رہی ہے ناں ۔ تم نے مجھ سے میری محبت چھینی ہے اب تم ساری زندگی محبت کی بھیک مانگو گی ۔۔۔ ترسو گی ۔۔۔ گڑگڑاؤ گی ۔۔۔ لیکن تمہیں محبت نہیں ملے گی ۔ ” صبا نے سب شرم بالاۓ طاق رکھ کر کمرے میں آنے والے کو نظریں اٹھا کر حیرانی سے دیکھا ۔ پتہ نہیں کون تھا جو اس کے دولہے کی بجاۓ کمرے میں غلطی سے آ گیا تھا اور اب نہ جانے کیا اول فول بک رہا تھا لیکن حیرت کا ایک اور جھٹکا اس کا منتظر تھا جب اس نے اپنے دولہا کو غصے میں کف اڑاتے ہُوے دیکھا ” کیا تمہارے باپ کو بھی اسی وقت مرنا تھا ؟ میں امی کو کسی نہ کسی طریقے سے منا لیتا لیکن میری ماں کو اپنی یتیم بھتیجی کی محبت ستانے لگی اور تمہیں زبردستی میری زندگی میں ٹھونس دیا گیا ہے ۔ غور سے سن لو تم ! میرے دل میں صرف اور صرف سائرہ بستی ہے اور بہت جلد میں اسے اپنے گھر بھی لے آؤں گا ” وہ نجانے اور کیا چیخ چیخ کر بول رہا تھا لیکن صبا کا دماغ ماؤف ہونے لگا وہ پتا نہیں کیا کیا ارمان دل میں سجائے بیٹھی تھی اور یہاں اس کا مجازی خدا ان ارمانوں پر اپنے الفاظ کی تیز چھریاں چلا کر ان کا بے رحمی سے خون کر رھا تھا ۔ شادی کی پہلی ہی رات ، جب ہر طرف اس کے ارمانوں کے خون کے چھینٹے اڑ رہے تھے تو صبا نے بھی اپنی پہلی سسکی کا قتل کر ڈالا اور اپنے دل کو اس کا مدفن بنا دیا ۔ اس لمحے کے بعد اس کا معمول بن گیا کہ وہ اپنی سسکیوں کو واش روم کے سنک میں بہا دیتی یا گھر کے کونے کھدروں میں ڈال دیتی اور وہ اتنی محفوظ جگہ پر تھیں کہ آج تک اس کے گھر کے افراد کو کبھی دکھائی نہیں دیں تھیں . آہ ۔۔۔ یہ سب دیکھ کر صبا کے سینے میں دبی کچھ سسکیوں نے باہر نکلنے کو زور لگانا شروع کیا تو اس نے گھبرا کر جلدی سے پلو کو کٙس کر گرہ لگا کر سونے کا فیصلہ کیا لیکن کمرے کے خنک و نیم تاریک ماحول میں شوہر کے بلند خراٹوں نے اسے سونے کا ارادہ ترک کرنے پر اُکسایا ۔ پھر کچھ سوچ کر اس نے اپنے دوپٹے کے دوسرے پلو کو کھولا اور کھولتے ہی بد بو کے بھبھکے سے جلدی سے دوپٹے سے ناک ڈھانپ لیا ۔ تعفن زدہ سسرالی رویے جا بجا دکھائی دئیے۔ جن کی سڑاند ناقابل برداشت تھی اس کے باوجود صبا ان کو برداشت کرنے پر مجبور تھی کیونکہ اسے ہوش سنبھالتے ہی سب برداشت کرنے کا سبق رٹایا گیا تھا . اگر کبھی ان متعفن رویوں سے گھبرا کر اپنی بیوہ ماں کو کچھ بتاتی تو ماں اسے جھٹ "کمپرومائیز” کا سیرپ پلا دیتی ۔ ماں نے یہی وہ واحد چیز تھی جو جہیز میں اسے وافر مقدار میں دی تھی ۔ اب تو وہ اپنا علاج خود ہی کر لیتی تھی جب ان رویوں کی کرچیاں اس کو گھائل کرتیں وہ جھٹ سے زخموں پر "کمپرومائز” کا مرہم لگالیتی ۔ جب ان رویوں کی سڑاند ناک کو ڈھانپنے کے باوجود نتھنوں میں کسی اڑیل بیل کی طرح گُھسنے کی کوشش کرنے لگی تو صبا نے اس پلو کو بھی دوبارہ گرہ لگا دی ۔
لذتِ خود اذیتی سے مغلوب ہو کر اس نے اپنے آنچل کا تیسرا پلو بھی ایک ہی جھٹکے سے کھول ڈالا ۔ ارے ارے یہاں تو صرف "دھتکار” کی کلبل کلبل کرتی سنڈیاں تھیں ۔ میاں کو خوش کرنے اور اس کا دل جیتنے کی ہر کوشش کے جواب میں صرف دھتکار ملتی تو وہ دھتکار کی ان سنڈیوں کو خاموشی سے چن چن کر اپنے پلو میں باندھتی رہتی ۔ اس سے پہلے کہ صبا یہ پلو بھی لپیتی ، دو تین سنڈیاں اچھل کر اس کے پاؤں میں جا گریں اور نوچ نوچ کر اس کا ماس کھانے لگیں ۔ صبا کے دل میں دبی سسکی نے حدود سے بغاوت کرنے کو پل تولے ہی تھے کہ اس نے پاؤں کو جھٹک کر ان کو دور پھینک دیا اور اپنے لبوں پر شہادت کی انگلی رکھ کر سرگوشی کی ” ششش ۔۔۔ مجھے ڈسٹرب نہ کرو ” ۔ یہ کہتے ہی اس نے اب چوتھا پلو اپنی گود میں رکھا اور دھیرے دھیرے اسے کھولنے لگی لیکن یہ کیا ؟ گرہ کھلنے میں ہی نہیں آ رہی تھی ۔ جانے ایسی کیا قیمتی چیز تھی کہ اس نے اتنی کٙس کر گرہ لگائی تھی۔ کافی زور آزمائی کے بعد بالآخر گرہ کھل گئی اور کچھ زنگ آلود چیزیں نظر آئیں بہت غور کرنے پر سمجھ آیا کہ یہ اس کی اپنی خود داری ، انا اور عزتِ نفس تھیں جو اب بہت زنگ آلود ہو چکیں تھیں ۔ اس کے لبوں پر دھیرے سے استہزائی مسکراہٹ آ گئی . "بھلا شادی شدہ زندگی میں ان کی کیا وقعت ؟ یہ تو میں کب کی تیاگ چکی ہوں ۔” سر جھٹک کر اس نے اس پلو کو لپیٹ کر پھر سے گرہ لگا دی ۔ اپنے خزانوں کا تسلی سے جائزہ لینے کے بعد وہ خاموشی سے لیٹ گئی ۔ کمر بیڈ کے ساتھ لگتے ہی ہڈیاں یوں تڑخیں جیسے انہوں نے دن بھر کے کام کاج کے بعد آرام کرنے سے بغاوت کر دی ہو ۔ صبا سوچنے لگی کہ لگتا ہے رات بھی اس کی طرح بہت تھکی ہوئی ہے جو یوں آہستہ آہستہ گزر رہی ہے ۔ آنکھیں بند کیے ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے کہ اسے سرسراہٹ محسوس ہوئی ۔ ایک سانپ رینگتا ہوا آیا اور اس کے بائیں بازو سے لپٹ گیا ۔ دہشت سے اس نے آنکھیں بہت زور سے میچ لیں اور دم سادھ لیا ۔ اس کے باوجود سانپ کی سرسراہٹ بخوبی سنائی دے رہی تھی ۔ سانپ رینگتا ہوا اس کی گردن کے گرد لپٹ گیا اور آہستہ آہستہ گھیرا تنگ کرتا رہا صبا کو اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا ۔ گردن کے گرد چکر کاٹ کر سانپ اس کے سینے سے ہوتا ہوا پاؤں کی طرف جانے لگا ۔ اچانک اس نے اتنی زور سے ڈنگ مارا کہ صبا کے سینے میں دبی ہوئی سسکی نکل گئی ۔ اس سسکی کے آزاد ہوتے ہی ۔۔۔ تکیے کے نیچے چھپی ، بستر کی شکنوں میں دبی ، کچن کی کیبنٹس میں دھری اور پورے گھر کے کونوں کھدروں میں دبکی ہوئیں سب سسکیاں آزاد ہو گئیں اور اس کے اوپر سسکتی ہوئیں ایسے منڈلانے لگیں جیسے کسی کوے کے مرنے پر اس کے ہزاروں ساتھی آسمان پر شور مچاتے بے چینی سے منڈلانے لگتے ہیں ۔

- admin

admin

یہ بھی دیکھیں

آخر میں کہاں ہوں … احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت

عالمی افسانہ میلہ 2019 افسانہ نمبر67 آخر میں کہاں ہوں احمد نعیم مالیگاؤں مہاراشٹر (بھارت) …

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے